أنا مسلم

أنا مسلم

میں مسلمان ہوں

Language: lang_ur
Prepared by: مسجد حرام اور مسجد نبوی میں دینی امور کی سربراہی کے ما تحت علمی کمیٹی
Version: 1.0
Translations 30
Amharic German English Spanish +26
Attachments 7
PDF
Audio
Video
+3

میں مسلمان ہوں

مسجد حرام اور مسجد نبوی میں دینی امور کی سربراہی کے ما تحت علمی کمیٹی

میں مسلمان ہوں، اس کا مطلب یہ ہے کہ میرا دین اسلام ہے۔

اسلام ایک عظیم اور مقدس کلمہ ہے جسے انبیاء علیہم السلام نے ابتدا سے انتہا تک ایک دوسرے سے وراثت میں لیا۔

یہ لفظ بڑے بلند معانی اور اعلى اقدار کا حامل ہے۔

اس کے معنی ہیں خالق کے آگے خود سپردگی، اس کی تابع داری اور فرماں برداری۔

اس کے معنی ہیں فرد اور سماج کے لئے سلامتی، شانتی، سعادت، امن و امان اور راحت واطمینان۔

یہی وجہ ہے کہ سلام اور اسلام کے الفاظ اسلامی شریعت میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے الفاظ میں شامل ہيں۔

چنانچہ سلام اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے،

مسلمانوں کی آپسی ملاقات کی دعا (سلام) ہی ہے۔

اہل جنت بھی آپس میں ملتے وقت ایک دوسرے کو سلام کریں گے‘

اور سچا مسلمان وہ ہے، جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔

اسلام تمام انسانوں کے لیے بھلائی کا دین ہے؛ یہ سب کو اپنے دامن میں جگہ دیتا ہے، اور یہی دنیا وآخرت میں ان کی سعادت کا راستہ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسلام آخری، ہمہ گیر، زندگی کے ہر گوشے کو شامل اور واضح مذہب بن کر سامنے آیا، جس کے دروازے سب کے لیے کھلے ہيں، جو رنگ و نسل کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں کرتا، بلکہ پورے انسانی سماج کو ایک نظر سے دیکھتا ہے۔

اسلام میں کسی کو کوئی تفوق و برتری حاصل ہے تو بس اس بنیاد پر کہ اس نے اسلام کی تعلیمات کو کس حد تک اپنی زندگی میں اتارا ہے۔

اسی لیے ہر سیدھی اور پاکیزہ فطرت اسے قبول کرتی ہے؛ کیونکہ یہ فطرت کے مطابق ہے۔

چنانچہ ہر انسان جب پیدا ہوتا ہے، تو اس کی فطرت میں خیر، عدل اور آزادی ہوتی ہے، وہ اپنے رب سے محبت کرنے والا اور اس بات کا اقراری ہوتا ہے کہ صرف اس کا رب ہی عبادت کا مستحق ہے اور یہ اس کے علاوہ کسى اور کا حق نہیں ہو سکتا ہے۔

کوئی بھی شخص اگر اس فطرت سے دور جاتا ہے، تو اس کا کوئى نہ کوئى سبب ہوتا ہے، جو اس کى اس فطرت میں تبدیلی پیدا کرتا ہے۔

انسانوں کے لئے اس دین کو ان کے خالق، رب اور معبود نے پسند کیا ہے۔

میرا دین اسلام مجھے یہ بتلاتا ہے کہ میں کچھ وقت تک اس دنیا میں زندہ رہوں گا، اور جب مر جاؤں گا تو ایک دوسری دنیا میں منتقل ہو جاؤں گا، وہ ہمیشہ باقی رہنے والی دنیا ہوگی، جس میں لوگوں کا ٹھکانہ یا تو جنت ہوگا یا جہنم۔

میرا دین اسلام مجھے کچھ باتوں کا حکم دیتا ہے اور کچھ باتوں سے روکتا ہے۔

جب میں اس کے احکام پر عمل کروں گا اور اس کی منع کردہ چیزوں سے باز رہوں گا تو دنیا وآخرت میں فلاح یاب ہوجاؤں گا۔

اس کے برخلاف جب ان اوامر ونواہی میں کوتاہی کروں گا، تو اپنی کوتاہی کے بقدر دنیا وآخرت کی بدبختی سے دو چار ہوں گا۔

سب سے بڑی چیز، جس کا اسلام نے مجھے حکم دیا ہے، وہ اللہ کو ایک جاننا اور ماننا (یعنی توحید) ہے۔

چنانچہ میں گواہی دیتا ہوں اور پختہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ اللہ ہی میرا خالق اور معبود ہے۔

میں صرف اسی کی عبادت کرتا ہوں؛ اس کی محبت سے سرشار ہوکر، اس کی سزا سے ڈرتے ہوئے، اس کے ثواب کی امید میں اور اس پر بھروسہ کرتے ہوئے۔

اس توحید کا مطلب ہے: اللہ کی وحدانیت اور اس کے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت کی گواہی دینا۔

چنانچہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم سب سے آخری نبی ہیں، اللہ نے آپ کو سارے جہان کے لیے رحمت بنا کر بھیجا، آپ پر نبوت ورسالت کا سلسلہ ختم کر دیا، چنانجہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

آپ ایک ایسا دین لے کر آئے جو سب کے لئے عام اور ہر زمانہ، ہر جگہ اور ہر قوم کے لیے قابل عمل ہے۔

میرا دین مجھ کو فرشتوں اور تمام رسولوں پر ایمان رکھنے کا قطعی حکم دیتا ہے، رسولوں میں نوح، ابراہیم، موسی، عیسی اور محمد -علیہم السلام- سر فہرست ہیں۔

میرا دین مجھ کو رسولوں پر نازل ہونے والی آسمانی کتابوں پر ایمان رکھنے اور ان میں سب سے آخری اور سب سے عظیم کتاب قرآن کریم کى اتباع کرنے کا حکم دیتا ہے۔

میرا دین مجھے آخرت کے دن پر ایمان رکھنے کا حکم دیتا ہے، جس دن لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔

میرا دین مجھے تقدیر پر ایمان رکھنے، اس زندگی میں حاصل ہونے والی ہر بھلائی اور برائی سے راضی رہنے اور نجات کے اسباب اپنانے میں جد وجہد کرنے کا حکم دیتا ہے۔

تقدیر پر ایمان مجھے راحت، اطمینان، صبر اور فوت ہونے والی چیز پر افسوس نہ کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔

کیوں کہ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ جو مجھے حاصل ہو گیا، وہ میری رسائی سے باہر نہیں جا سکتا تھا اور جو میری رسائی سے باہر جا چکا وہ مجھے حاصل نہیں ہو سکتا تھا۔

ہر چیز اللہ نے مقدر اور لکھ رکھی ہے۔ میرا کام صرف اسباب کو اختیار کرنا اور اس کے بعد جو نتیجہ سامنے آئے اسے بخوشی قبول کر لینا ہے۔

اسلام مجھے ایسے نیک کاموں کا حکم دیتا ہے جو میری روح کو پاک کر دیں اور ایسے اخلاق کا حکم دیتا ہے جن سے میرا رب خوش ہو، میرے نفس کو پاکیزگی حاصل ہو، جو میرے دل کو خوشی دیں، میرے سینے کو کشادہ کریں، میرے راستے کو روشن کریں اور مجھے سماج کا ایک نفع بخش حصہ بنا دیں۔

ان میں سب سے عظیم ترین اعمال اللہ کو ایک جاننا اور ماننا، دن ورات میں پانچ وقت کی نمازیں قائم کرنا، مال کی زکاۃ دینا، سال بھر میں ایک مہینے یعنی رمضان کا روزہ رکھنا اور استطاعت ہونے پر مکہ میں موجود اللہ کے مقدس گھر کعبہ کا حج کرنا ہے۔

میرے دین نے مجھے دل کو خوشی اور سکون بخشنے والے جو کام سکھائے ہیں ان میں سے ایک اہم ترین کام کثرت سے قرآن کی تلاوت ہے، قرآن اللہ کا کلام اور روئے زمین کا سب سے سچا، خوبصورت، عظیم اور شان دار کلام ہے، جو اولین وآخرین کے تمام علوم کو شامل ہے۔

اسے پڑھنے یا سننے سے دل کو سکون، راحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے، چاہے پڑھنے اور سننے والے کو عربی نہ بھی آتی ہو یا وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو۔

دل کو اطمینان اور سکون بخشنے والی ایک اہم ترین چیز اللہ کے حضور کثرت سے دعا کرنا، اس سے لو لگانا اور اس سے ہر چھوٹی بڑی چیز مانگنا بھی ہے۔

اللہ ہر اس بندے کی دعا قبول کرتا ہے، جو اسے پکارے اور اخلاص کے ساتھ اس کی عبادت کرے۔

دل کو اطمینان اور سکون بخشنے والی ایک اور اہم چیز کثرت سے اللہ عز وجل کا ذکر کرنا ہے۔

میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اللہ کے ذکر کا طریقہ اور ذکر کے سب سے افضل الفاظ بھی سکھائے ہیں۔

ان اذکار میں وہ چار جملے بھی شامل ہیں، جو قرآن کے بعد سب سے افضل کلام ہیں، وہ چار جملے یہ ہیں: "سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر"۔ (میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں، ساری تعریف اللہ ہی کے لئے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور اللہ سب سے بڑا ہے۔)

اسی طرح ذکر کے بہترین الفاظ میں یہ کلمات بھی داخل ہيں: "أستغفر الله، ولا حول ولا قوة إلا بالله۔" (میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، اللہ کے بغیر نہ انسان کے پاس گناہ سے بچنے کی قوت ہے، نہ نیکی کے کام کرنے کی طاقت۔)

یہ کلمات بڑے حیرت انگیز انداز میں دل کو اطمینان اور قلب کو سکون عطا کرتے ہیں۔

اسلام مجھے حکم دیتا ہے کہ میں اعلی اقدار کا حامل بنوں اور ان تمام چیزوں سے گریز کروں جو مجھے میری انسانیت اور وقار سے نیچے لے آئیں۔

اسی طرح میں اپنی عقل اور جسم کے اعضا کا استعمال دین اور دنیا کے لیے نفع بخش کاموں میں کروں۔

اسلام مجھے رحمت، حسن اخلاق، اچھے برتاؤ اور اپنے گفتار وکردار کے ذریعے جہاں تک ہو سکے لوگوں کا بھلا کرنے کا حکم دیتا ہے۔

مخلوق کے حقوق میں مجھے سب سے زیادہ والدین کا حق ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، میرا دین مجھے ان کی فرماں برداری کرنے، ان کے ساتھ بہتر سلوک کرنے، ان کو خوشی کا بھر پور خیال رکھنے اور ان کو فائدہ پہنچانے کا حکم دیتا ہے، خاص طور سے اس وقت جب دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں۔

یہی وجہ ہے کہ اسلامی معاشروں میں ماں اور باپ کو اپنی اولاد کی طرف سے عزت واحترام اور خدمت کے اعلیٰ مقام پر دیکھا جاتا ہے۔

والدین کی عمر جیسے جیسے بڑھتی جائے، یادونوں بیمار ہوتے جائیں یا طاقت کھوتے جائیں، ویسے ویسے اولاد کا حسن سلوک بڑھتا جائے۔

میرے دین نے مجھے سکھایا ہے کہ خواتین بڑی عزت واحترام کی مستحق ہیں اور ان کے بڑے حقوق ہیں۔

اسلام کی نظر میں خواتین مردوں ہی کی طرح ہیں۔ سب سے اچھا انسان وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے لیے سب سے اچھا ہو۔

ایک مسلمان عورت کو بچپن میں رضاعت، دیکھ بھال اور اچھی تربیت کا حق حاصل ہے، اس وقت وہ اپنے والدین اور بھائیوں کی آنکھ کی ٹھنڈک اور دل کا سکون ہوتی ہے۔

جب بڑی ہوتی ہے تو عزت واحترام کی حق دار ہوتی ہے، اس کا ولی اس پر غیرت کرتا ہے، اس کی دیکھ بھال کرتا اور اس کا پورا خیال رکھتا ہے۔

اسے یہ گوارا نہیں ہوتا کہ کوئی اس پر دست درازی کرے، اس کے ساتھ بد زبانی سے پیش آئے اور اس کی جانب بری نظر سے دیکھے۔

جب عورت کی شادی ہوتی ہے تو اللہ کے کلمے اور اس کے مضبوط عہد وپیمان کے ساتھ اس کا عقد نکاح ہوتا ہے۔

چنانچہ وہ شوہر کے گھر میں معزز رفیق حیات کے طور پر زندگی گزارتی ہے۔

شوہر کی یہ ذمے داری ہوتی ہے کہ اس کا احترام کرے، اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے اور اسے کوئی تکلیف نہ دے۔

اگر وہ ماں ہوتی ہے تو اس کی فرماں برداری اللہ تعالی کے حق کے ساتھ جڑی ہوئى ہوتى ہے، اور اس کی نافرمانی اور اس کے ساتھ بد سلوکى اللہ کے ساتھ شرک اور روئے زمیں پر فساد کے ساتھ جڑی ہوئى ہوتى ہے۔

اگر وہ بہن ہوتى ہے تو اس کے ساتھ صلہ رحمی‘ اس کی عزت وتکریم‘ اور اس پر غیرت کرنے کا مسلمان کو حکم دیا گیا ہے۔

اگر وہ خالہ ہوتی ہے تو حسن سلوک اور صلہ رحمی کے معاملے میں ماں کے برابر ہوتی ہے۔

اگر وہ دادی نانی یا گھر کی بزرگ ہوتی ہے تو بال بچوں اور پوتے پوتیوٍں بلکہ تمام رشتے داروں کی نظر میں اس کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ نہ اس کی کوئی فرمائش ٹھکرائی جاتی ہے اور نہ اس کی کسی رائے کو کمتر سمجھا جاتا ہے۔

جب وہ کسی رشتے ناطے کے دائرے میں نہیں آتی، تو اسے اسلام کے عام حقوق حاصل ہوتے ہیں‘ مثلاً اسے کوئی تکلیف نہ دی جائے اور اس سے نگاہ پست رکھی جائر۔ نیز اس طرح کے دیگر حقوق بھی اسے حاصل ہوتے ہیں۔

مسلم معاشرے نے ہمیشہ ان حقوق کا بھر پور خیال رکھا جس کی وجہ سے اس میں عورت کو احترام و وقار کا ایسا مرتبہ حاصل رہا جس کی نظیر غیر مسلم معاشروں میں نہیں ملتی۔

مزید برآں اسلام میں عورت کو جائیداد رکھنے، کرایے پر دینے، خرید وفروخت کرنے اور سارے عقود کے اختیارات دیے گئے ہیں، اسے تعلیم حاصل کرنے، تعلیم دینے اور وہ سارے کام کرنے کا حق دیا گیا ہے جو اس کے دین سے متصادم نہ ہوں۔

بلکہ علم کا ایک حصہ تو ایسا بھی ہے، جسے حاصل کرنا فرض عین ہے، اسے چھوڑنے والا گناہ گار ہوگا، خواہ مرد ہو یا عورت۔

اسلام میں عورتوں کے حق میں بھی وہ سارے حقوق اور احکام آئے ہیں، جو مردوں کے حق میں آئے ہیں، صرف ان حقوق اور احکام کو چھوڑ کر جو دونوں اصناف میں سے کسی ایک صنف کی فطرت سے مطابقت رکھنے کی وجہ سے اس کے ساتھ خاص ہیں، جن کی تفصیل ان کی خاص جگہوں پر دیکھی جا سکتی ہے۔

میرا دین مجھے اپنے بھائیوں، بہنوں، چچاؤں، پھوپھیوں، ماموؤں، خالاؤں اور تمام رشتے داروں سے محبت رکھنے کا حکم دیتا ہے، نیز مجھے اپنی بیوی، بچوں اور پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیتا ہے۔

میرا دین مجھے علم حاصل کرنے کا حکم اور ہر اس چیز کی ترغیب دیتا ہے جس سے میری عقل، اخلاق اور غور وفکر کی صلاحیت کو جلا ملے۔

وہ مجھے حیا، بردباری، سخاوت، بہادری، حکمت، سنجیدگی، صبر، امانت داری، تواضع، پاک دامنی، صفائی ستھرائی، وفاداری، لوگوں کا بھلا چاہنے، روزی کمانے کی کوشش کرنے، غریبوں پر رحم کرنے، مریضوں کی عیادت کرنے، وعدہ پورا کرنے، خوش کلامی کرنے، گرم جوشى کے ساتھ لوگوں سے ملنے اور جہاں تک ہو سکے ان کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرنے کا حکم دیتا ہے۔

جب کہ اس مقابلے میں میرا دین مجھے جہالت سے دور رہنے کی تعلیم دیتا ہے اور کفر، الحاد، نافرمانی، بے حیائی، زنا، فرقہ پسندی، گھمنڈ، حسد، کینہ، بد گمانی، بد فالی، حزن وملال، جھوٹ، نا امیدی، کنجوسی، سستی، بزدلی، بے کاری، غصہ، طیش، حماقت، لوگوں کے ساتھ بد سلوکی، بلا فائدہ بولتے رہنے، راز فاش کرنے، خیانت، وعدہ خلافی، والدین کی نافرمانی، رشتہ ناطہ توڑنے، بچوں کے تئیں لاپرواہى برتنے اور پڑوسی اور عام لوگوں کو تکلیف دینے سے منع کرتا ہے۔

اسلام مجھے شراب پینے، نشہ آور اشیا کا استعمال کرنے، جوا کھیلنے، چوری کرنے، دھوکہ دینے، دہشت پھیلانے، جاسوسی کرنے اور لوگوں کی ٹوہ میں لگے رہنے سے بھی روکتا ہے۔

میرا دین اسلام میرے مال کو تحفظ فراہم کرتا ہے، اس سے امن وشانتی کو رواج ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے امانت داری کا حکم دیا ہے، امانت دار لوگوں کی تعریف کی ہے، ان سے دنیا میں خوش حال زندگی اور آخرت میں دخولِ جنت کا وعدہ کیا ہے، اس کے بالمقابل چوری کو حرام قرار دیا ہے اور چوری کرنے والے کو دنیا وآخرت میں سزا کی وعید سنائی ہے۔

میرا دین جان کو تحفظ فراہم کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس نے ناحق کسی کا قتل کرنے اور دوسروں پر کسی بھی طرح کی زیادتى کرنے کو حرام قرار دیا ہے خواہ وہ لفظی طور پر ہی کیوں نہ ہو ۔

بلکہ انسان کے خود اپنے نفس پر زیادتى کرنے کو بھی حرام قرار دیا ہے، اس نے انسان کو اس بات کی اجازت نہیں دی ہے کہ وہ اپنی عقل کو خراب کرے، اپنی صحت کو برباد کرے یا خود کشی کرکے اپنی جان لے لے۔

میرا دین اسلام آزادیوں کو تحفظ فراہم کرتا اور ان کو حدود میں رکھتا ہے۔

اسلام میں انسان سوچنے سمجھنے، خریدنے بیچنے، تجارت کرنے اور نقل وحرکت کرنے میں آزاد ہے، وہ کھانے پینے، پہننے اوڑھنے اور سننے کے معاملے میں بھی آزاد ہے، جب تک کہ وہ کوئی حرام کام نہ کرے جس کا نقصان خود اس کو یا کسی دوسرے کو اٹھانا پڑے۔

میرا دین آزادیوں کو حدود میں رکھتا ہے، وہ کسی کو دوسرے پر دست درازی کی اجازت نہيں دیتا اور نہ اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ ایسی حرام لذتوں کو اختیار کرے جو اس کے مال، سعادت اور انسانیت کو برباد کردے۔

اگر آپ ان لوگوں کو دیکھیں جنھوں نے خود کو ہر بندھن سے آزاد کر لیا ہے اور دین وعقل کی بندشوں کی پرواہ کیے بغیر خواہشات نفس کے پیچھے بے لگام بھاگ رہے ہیں، تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ وہ نہایت ہی بد بختی اور تنگی کی زندگی جی رہے ہیں۔ ان میں کئی لوگ زندگی کی بے قراری سے تنگ آکر خود کشی تک کا ارادہ کر نے لگتے ہیں۔

میرا دین مجھے کھانے، پینے، سونے اور لوگوں سے بات کرنے سے متعلق بہترین آداب سکھاتا ہے۔

میرا دین مجھ کو خرید وفروخت اور حقوق کے مطالبہ کے وقت نرمی اور کشادہ دلی سے کام لینے کی تعلیم دیتا ہے۔

میرا دین مجھ کو دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے تئیں رواداری کی تعلیم دیتا ہے، چناں چہ نہ میں ان پر ظلم کرتا ہوں اور ان کے ساتھ بد سلوکی کرتا ہوں‘ بلکہ ان کے ساتھ بھلائی کرتا ہوں اور ان تک بھلائی پہنچنے کی تمنا رکھتا ہوں۔

مسلمانوں کی تاریخ گواہ ہے کہ انھوں نے مخالفین کے ساتھ جس رواداری کا مظاہرہ کیا ہے اس کی مثال ان سے پہلے کسی قوم میں نہیں ملتی۔

مسلمان مختلف مذاہب کے متبعین کے ساتھ رہتے آئے ہیں اور الگ الگ مذاہب کے لوگ ان کے زیر حکمرانی رہ چکے ہیں، انھوں نے سب کے ساتھ اعلی انسانى اخلاق وبرتاؤ کا مظاہرہ کیا ہے۔

مختصر یہ کہ اسلام نے مجھے آداب کے نازک پہلوؤں، لین دین کے بہترین طریقوں، اور اخلاقِ حسنہ کی ایسی تعلیم دی ہے جس سے میری زندگی پاکیزہ اور میری خوشی مکمل ہو جاتی ہے۔

اور اس نے مجھے ہر اس چیز سے منع کیا ہے جو میری زندگی کو مکدر کرے، یا جو معاشرتی ڈھانچے، جان، عقل، مال، عزت یا آبرو کو نقصان پہنچائے۔

میں ان تعلیمات پر جتنا عمل کروں گا میرى خوشی اتنى ہى بڑھتـی جائے گی،

اور ان پر عمل کرنے کے معاملے میں جتنی میں کوتاہی کروں گا، اسی قدر میری خوشی وسعادت بھی کم ہوتی جائے گی۔

جو کچھ میں نے بتایا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں معصوم ہوں، غلطی نہیں کرتا اور مجھ سے کوتاہی نہیں ہوتی، میرا دین میری بشری طبیعت اور کبھی کبھار مجھ سے سرزد ہونے والی غلطی اور کوتاہی کا بھی دھیان رکھتا ہے، چنانچہ اس نے میرے لیے توبہ، استغفار اور اللہ کی جانب لوٹنے کا راستہ کھلا رکھا ہے۔ توبہ میرے گناہوں کے آثار مٹاتی ہے اور میرے رب کے نزدیک میرا مقام بڑھاتی ہے۔

دین اسلام کی ساری تعلیمات، چاہے ان کا تعلق عقائد سے ہو، اخلاق سے ہو، آداب سے ہو یا معاملات سے، ان کا مصدر قرآن کریم اور سنت مطہرہ ہیں۔

اخیر میں پورے یقین کے ساتھ میں کہتا ہوں کہ اگر کسی بھی جگہ کے رہنے والے کسی انسان نے دین اسلام کی تعلیمات کا منصفانہ نظر سے اور غیر جانب دار ہوکر مطالعہ کیا، تو وہ اسے گلے لگائے بنا نہیں رہ سکے گا، لیکن مصیبت یہ ہے کہ اس کے صاف شفاف چہرے کو جھوٹے پروپگنڈوں کے ذریعہ یا اس کی نسبت رکھنے والے بعض ایسے لوگوں کے اعمال کے ذریعہ بد نما بنانے کی کوشش کی جاتی ہے جو اس پر عمل ہی نہيں کرتے۔

اگر کسی نے اس کی حقیقت کو اسی طرح دیکھ لیا، جیسا وہ سچ مچ ہے یا اس پر کما حقہ عمل کرنے والوں کے احوال دیکھ لیے، تو اسے قبول کرنے میں کوئی دریغ نہیں کرے گا۔

اس کے سامنے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی کہ اسلام انسان کی فلاح وبہبود، امن وسلامتی کے قیام اور عدل واحسان کو عام کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

جہاں تک اسلام کی نسبت رکھنے والے بعض لوگوں کے انحرافات کا تعلق ہے، خواہ وہ کم ہوں یا زیادہ، تو انھیں اسلام کے کھاتے میں ڈالنا یا ان کی وجہ سے اسلام کو معتوب کرنا کسی بھی حال میں جائز نہیں ہے، بلکہ اسلام ان سے بری ہے۔

اس انحراف کے ذمے دار وہ منحرفین خود ہيں، کیوں کہ اسلام نے ان کو اس کا حکم نہیں دیا ہے، بلکہ اسلام نے انہیں اپنی تعلمیات کى خلاف ورزى سے روکا ہے اور اس پر انہیں سخت تنبیہ کى ہے۔

مزید برآں انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ کسی مذہب کی سچائی کو جاننے کے لیے ان لوگوں کی حالات کا مطالعہ کیا جائے جو کما حقہ اس پر عمل کرتے ہیں اور اس کے اوامر واحکام کو اپنے اوپر اور دوسروں پر بھی نافذ کرتے ہیں، اگر اسلام کے بارے میں یہ طرز عمل اپنایا جائے تو اس سے غیروں کے دلوں میں اس دین اور اس کے ماننے والوں کے تئیں عقیدت واحترام کا جذبہ پیدا ہوگا۔

چناں چہ اسلام نے ہدایت اور تربیت کا کوئی چھوٹا یا بڑا پہلو نہیں چھوڑا جس پر اس نے عمل کرنے کی ترغیب نہ دی ہو، اور نہ ہی کوئی برائی یا فساد ایسا چھوڑا جس سے اس نے ہمیں خبردار نہ کیا ہو، اور اس کے راستے سے ہمیں روکا نہ ہو۔

یہی وجہ ہے کہ اسلام کی قدر کرنے والے اور اس کے شعائر کی پابندی کرنے والے سب سے خوش بخت، با ادب، خوش اخلاق اور خوش اوصاف لوگ تھے، اس کی گواہی اپنے اور پرائے اور موافق ومخالف سب دیتے ہیں۔

صرف ایسے مسلمانوں کے حالات دیکھ (کر فیصلہ کرنا) جو اپنے دین پر عمل کرنے کے معاملے میں کوتاہ ہیں اور راہ مستقیم سے بھٹکے ہوئے ہیں‘ بڑی نا انصافی اور ظلم کی بات ہوگی۔