هل سألت نفسك؟ من خلقك؟ ولماذا؟ وماذا بعد الموت؟

هل سألت نفسك؟ من خلقك؟ ولماذا؟ وماذا بعد الموت؟

كتاب: هل سألت نفسك ؟ من خلقك؟ ولماذا ؟ وماذا بعد الموت؟ كتاب مختصر يتحدث عن إجابة أسئلة الإنسان الوجودية ويحرك الفطرة بضرب بعض الأمثلة والحجج العقلية وبيان دلائل الإسلام بأسلوب مختصر.

Language: lang_ur
Prepared by: علمی کمیٹی برائے جمعیۃ خدمۃ المحتوى الإسلامی باللغات
Version: 2.0
Translations 49
Afrikanns Assamese Azerbaijani Bosnian +45
Attachments 7
PDF
Audio
Video
+3

کیا آپ نے اپنے آپ سے سوال کیا؟ آپ کو کس نے پیدا کیا؟ اور کیوں؟ اور موت کے بعد کیا ہوگا؟

علمی کمیٹی برائے جمعیۃ خدمۃ المحتوى الإسلامی باللغات

اے انسان! آپ کو کس نے پیدا کیا؟ اگر آپ اپنے جسم کو خوردبین کے نیچے دیکھیں تو آپ کو مہارت وباریکی اور اعجاز کی ایک دنیا نظر آئے گی، کیوں کہ آپ کے جسم کا ہر خلیہ اپنے اندر موروثی معلومات رکھتا ہے، جن کے کوڈز نہایت پیچیدہ ہیں۔ کیا آپ نے کبھی اپنے آپ سے یہ سوال کیا ہے کہ ان کوڈز کو کس نے لکھا؟ اور انہیں ان کے درست مقام پر کس نے رکھا؟

ہر بلند عمارت اور ہر سادہ گھر اپنے بنانے والے کی کہانی سناتا ہے؛ کیا یہ معقول بات ہے کہ یہ وسیع کائنات اپنی خوبصورتی، دقت وباریکی اور تفصیلی نظم وضبط کے ساتھ بغیر کسی بنانے والے کے وجود میں آگئی؟

اے انسان! جس طرح آپ کی عقل یہ قبول نہیں کرتی کہ بغیر کسی ڈیزائنر یا بنانے والے کے ایک بہترین ساخت کا اسمارٹ فون اچانک وجود میں آگیا، یا یہ کہ پیچیدہ آلات کا ایک جال بغیر کسی پروگرامر یا نگران کے ہم آہنگی اور درستگی کے ساتھ کام کر رہا ہے، اسی طرح عقل یہ بھی قبول نہیں کرتی کہ یہ عظیم کائنات، جس میں نظام، تخلیق، دقیق قوانین اور محکم سسٹم موجود ہیں، بغیر کسی خالق کے وجود میں آگئی؟

اس کائنات کا ہر حصہ، سب سے چھوٹے ذرہ سے لے کر سب سے بڑی کہکشاں تک، اپنے خالق کی عظمت پر دلالت کرتا ہے؛ عقل کے لیے یہ قبول کرنا ناممکن ہے کہ یہ دقیق نظام بے ترتیبی اور بد نظمی سے پیدا ہو گیا ہو۔ عقل یہ بھی قبول نہیں کرتی کہ یہ کائنات عدم سے وجود میں آئی ہو، یا یہ خوبصورت اور پیچیدہ نظام کسی اندھے اتفاق کا نتیجہ ہو!

جس طرح عقلِ سلیم اور فطرتِ سلیمہ انسان کو کائنات کے خالق کے وجود پر ایمان لانے کی رہنمائی کرتی ہیں، اسی طرح یہ ہمیں اس خالق کی صفات اور اس کے ہم پر جو حقوق ہیں‘ ان پر غور وفکر کرنے کی دعوت دیتی ہیں۔

اس خالق کی صفات پر غور وفکر ہمارے لئے گہرے ادراک کے دروازے کھولتا ہے، جو اس کے کمال مطلق سے متصف ہونے اور ہر قسم کے نقص سے مبرّا ہونے کی ضرورت پر دلالت کرتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ خالق جمال وعظمت کی جملہ صفات متصف ہے، وہ پاک اللہ ہر چیز پر قادر ہے، ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے، اور جو کچھ بھی اس نے پیدا کیا اور مقدر کیا، اس میں حکمت ہے۔ یہ کمال محض ایک امکان نہیں بلکہ ایک عقلی ضرورت ہے، کیونکہ اس کی صفات میں کوئی بھی نقص تخلیق اور تدبیر میں خلل پیدا کرے گا، جو کہ اس کائنات میں موجود کمال کے مشاہدے کے خلاف ہے۔

جس طرح نقص سے پاک ہونا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ خالق اپنی مخلوقات سے مستغنی ہو، وہ کسی کا محتاج نہ ہو، بلکہ سب اپنے وجود اور بقا میں اس کے محتاج ہوں۔ اسی طرح وہ پاک پروردگار شریک اور اولاد سے بھی منزہ ہے، کیونکہ یہ دونوں نقص اور عجز کی علامتیں ہیں، اور اللہ عزوجل ان تمام چیزوں سے منزہ ہے۔

چنانچہ اگر اللہ ہی وہ عظیم خالق ہے جو کمال اور عظمت کی صفات سے متصف ہے، اور وہی ہے جس نے ہمیں اور اس کائنات کو عدم سے وجود بخشا، وہی اس میں موجود ہر چیز کا مالک ہے، وہی ہمیں رزق دیتا اور اپنی رحمت سے ہمیں گھیرے ہوئے ہے، اور وہی ہر چیز کا مدبر اور متصرف ہے؛ تو کیا ہم پر لازم نہیں کہ ہم اس کا شکر ادا کریں اور یہ تلاش کریں کہ ہم اس کی رضا کیسے حاصل کریں اور اس کا وہ حق کیسے ادا کریں جو ہم پر واجب ہے اور اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے کام کریں جس کے لیے ہمیں پیدا کیا گیا؟

کیا یہ منطقی بات ہے کہ اللہ ہمیں پیدا کرے اور پھر یہ نہ بتائے کہ وہ ہم سے کیا چاہتا ہے؟ ہم یہاں کیوں ہیں؟ دنیا میں ہمارے وجود کا مقصد اور ہدف کیا ہے؟ موت کے بعد ہمارے ساتھ کیا ہوگا؟

ذرا غور کریں، اگر کوئی انسان ایک شاندار محل تعمیر کرے اور اسے جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ کرے، پھر اچانک بغیر کسی وجہ کے اسے مکمل طور پر منہدم کر دے۔ کیا ہم ایسے انسان کو حکمت والا کہہ سکتے ہیں؟ کیا یہ واضح نہیں کہ یہ ایک بے کار اور بے مقصد عمل ہے جو کسی عقل مند کے شایان شان نہیں؟

اگر یہ عمل انسان کے حق میں ناقابل قبول ہے، تو ہم کیسے تصور کر سکتے ہیں کہ اللہ جو حکمت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے، اس نے اس خوبصورت کائنات کو اتنی مہارت اور درستگی کے ساتھ پیدا کیا اور پھر اسے بلا مقصد یا حکمت کے ختم کر دے؟!

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ایک عظیم حکمت کے تحت پیدا فرمایا، یعنی صرف اسی کی عبادت کے لئے جس کا کوئی شریک نہیں، انہیں اس دنیا میں آزمانے کے لئے پیدا کیا، اور ان کے لئے ایک وقت مقرر کیا جس میں انہیں قیامت کے دن اٹھایا جائے گا تاکہ ان کے اعمال کا حساب لیا جائے؛ چنانچہ جو شخص اللہ پر ایمان لایا اور اس کی دعوت کو قبول کیا، اس کے لئے جنت کی نعمتیں ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہے گا، اور جو حق سے روگردانی کرے گا، وہ جہنمیوں میں سے ہوگا۔

عبادت ہم پر واجب حق ہے کیونکہ یہ ہمارے وجود کا مقصد ہے، یہ اللہ کی ربوبیت اور الوہیت کا اعتراف اور شکر گزاری کا ثبوت ہے۔

آپ غور کریں کہ اللہ سبحانہ وتعالى وہی ہے جس نے آپ کو پیدا کیا‘ آپ کو سننے اور دیکھنے کی صلاحیت سے نوازا، اور آپ کو بے شمار نعمتوں سے گھیر لیا۔ وہی ہے جو آپ کی رگوں میں خون دوڑاتا ہے، آپ کو پانی اور ہوا فراہم کرتا ہے، اور آپ ہر لمحہ اس کے محتاج ہیں۔ اگر اس کی رحمت اور عنایت نہ ہوتی تو آپ ہلاک ہو جاتے اور آپ کی قوت ختم ہو جاتی۔ بلکہ وہی ہے جس نے آپ کے رزق کی ضمانت لی جبکہ آپ ماں کے پیٹ میں ایک بے بس جنین تھے اور اپنے معاملے میں کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے تھے۔

کیا یہ عظیم خالق اس بات کا مستحق نہیں کہ آپ اس کی عبادت اسی طرح کریں جیسے وہ چاہتا ہے، نہ کہ جیسے آپ چاہتے ہیں؟ غور کریں، اگر آپ اپنی ماں کو تحفہ دینا چاہیں، تو کیا آپ اپنی خواہش کے مطابق انتخاب کریں گے، یا آپ یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ وہ کیا پسند کرتی ہیں تاکہ آپ انہیں خوش کر سکیں؟ اسی طرح اللہ جل وعلا کی عبادت، یہ ہمارے خواہشات یا موروثی عادات کے مطابق نہیں ہونی چاہیے، بلکہ جیسا کہ اس نے چاہا ہے، اور جس طرح اس نے ہمیں حکم دیا ہے۔

عبادت خالصتاً اللہ تعالی وحدہ لا شریک کے لیے ہونی چاہیے، انسان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے خالق کے علاوہ کسی اور کی عبادت کرے۔ سب سے بڑا گناہ جو ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنے کا موجب بنتا ہے، وہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے۔ یعنی انسان اللہ کے علاوہ اس کی مخلوقات میں سے کسی کی عبادت کرے، جیسے بتوں، سورج، چاند، یا کسی بشر، حیوان یا نیک شخص کی عبادت کرنا۔ یہ سب شرک اور کفر کی اقسام ہیں، اور جو شخص اس حالت میں مر جائے، اس کا انجام ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ میں رہنا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء اور رسول بھیجے تاکہ ہمیں دنیا میں ہمارے وجود کے مقصد اور زندگی کے ہدف کے بارے میں بتائیں، تمام رسولوں کی ایک ہی دعوت تھی جو کہ اسلام کی دعوت تھی اور خالق وحده لا شريك لہ کی عبادت کی دعوت تھی۔ لیکن کچھ لوگوں نے سابقہ رسولوں کی لائی ہوئی تعلیمات میں تحریف اور تبدیلی کی، لہذا اللہ نے خاتم الرسل محمد ﷺ کو بھیجا اور ان پر انسانیت کے لیے آخری پیغام قرآن کریم نازل فرمایا، بہت سی عقلی اور سائنسی دلیلیں ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ قرآن اللہ کا کلام ہے، یہ واحد کتاب ہے جو تحریف اور تبدیلی سے محفوظ ہے، اللہ نے قرآن میں ہمیں بتایا ہے کہ وہ انسان سے اسلام کے علاوہ کوئی دین قبول نہیں کرے گا، اور تمام رسولوں کی دعوت ایک ہی تھی: خالق کی وحدانیت اور اس وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کی دعوت۔ اللہ نے قرآن میں ہمیں یہ بھی بتایا ہے کہ جنت اور ابدی نعمتیں مومنوں کے لیے ہوں گی، اور جو اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرے یا اسلام میں داخل ہونے سے انکار کرے، اس کے لیے آگ اور دردناک عذاب ہوگا۔

اسلام کو دیگر مذاہب سے جو چیز ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ مسلمان ہی واحد قوم ہیں جو عقلی دلائل اور سائنسی حقائق پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، معتبر ذرائع علم پر انحصار کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کے لیے کہ آج ان کے پاس موجود قرآن کریم اللہ خالق کا کلام ہے، جو ہر قسم کی تبدیلی اور تحریف سے محفوظ ہے۔

قرآن کریم وہ کتاب ہے جو اللہ نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا، اور اس کے ذریعے انسانیت کو چیلنج کیا کہ وہ اس جیسی کتاب یا اس جیسی ایک سورت ہی لے آئیں، لیکن وہ ایسا کرنے سے قاصر رہے، اور یہ چیلنج آج تک قائم ہے، کوئی بھی اس کی بلاغت، فصاحت، اعجاز اور تشریع کی برابری نہیں کر سکا، عرصہ دراز گزرنے کے باوجود کوئی بھی اس جیسی حتى کہ اس کے قریب تر بھی کوئی چیز نہیں لا سکا۔ قرآنی اعجاز صرف اس کی زبان میں نہیں ہے جو فصاحت و بلاغت کی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے، بلکہ اس میں عقلی اور سائنسی دلائل بھی شامل ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ اگر قرآن کریم میں واضح دلائل موجود ہیں جو اس کے اللہ کا کلام ہونے کو ثابت کرتے ہیں، تو عقل و منطق کا تقاضا یہی ہے کہ اس پر ایمان لایا جائے اور اس میں جو کچھ آیا ہے اس کی پیروی کی جائے، بجائے اس کے کہ ان کتابوں پر انحصار کیا جائے جن میں انسانی مداخلت کی وجہ سے تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔

عقلِ سلیم ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتی ہے کہ خالقِ کائنات، جس نے کائنات کو تخلیق کیا اور اس کے نظام کو بہترین بنایا، اس کا کلام ہی حقیقت کو جاننے کا سب سے سچا ذریعہ ہے۔ جب ہم قرآن میں زبان کا یہ اعجاز، علمی حقائق، مکمل شریعتیں اور عرصہ دراز گزرنے کے باوجود ہر قسم کی تحریف سے اس کی حفاظت دیکھتے ہیں، تو اس بات کو تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔

لہذا، قرآن میں جو کچھ آیا ہے اس پر ایمان رکھنا نہ صرف ایک ایمانی انتخاب ہے بلکہ یہ حقائق کی تلاش کے منطق کے ساتھ ہم آہنگ ایک عقلی فیصلہ بھی ہے۔

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن کریم میں واضح فرمایا ہے کہ اس نے ہمیں بلاوجہ پیدا نہیں کیا بلکہ اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔

اللہ نے قرآن میں ہمیں بتایا ہے کہ یہ دنیاوی زندگی جس میں ہم رہ رہے ہیں محض ایک عارضی مرحلہ ہے جو جلد ختم ہو جائے گا، لیکن حقیقی و ابدی زندگی تو آخرت میں ہوگی جب مومن جنت میں داخل ہوں گے اور کافر جہنم میں جائیں گے۔

خالق، جس نے ہمیں عدم سے وجود بخشا، یقیناً اس بات پر قادر ہے کہ ہمیں موت کے بعد دوبارہ زندگی عطا کرے۔ ہم اپنے اردگرد کائنات میں اللہ کی نشانیوں میں اللہ کی لامحدود قدرت کا واضح ثبوت دیکھتے ہیں کہ وہ مردہ چیزوں کو زندہ کرتا ہے۔ جیسے اللہ سبز درخت سے آگ نکالتا ہے، خشک زمین سے کھیتی اور پھل پیدا کرتا ہے اور ماں کے پیٹ میں نطفے سے جنین کو تخلیق کرتا ہے، اسی طرح وہ سبحانہ و تعالیٰ مردوں کو زندہ کرنے اور انہیں ان کی قبروں سے قیامت کے دن جزا کے لیے اٹھانے پر قادر ہے، بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور یہ ظلم ونا انصافی ہوگی کہ ظالم اور مظلوم کی زندگی بغیر حساب یا جزا کے ختم ہو جائے۔

انسان یہ سوال کر سکتا ہے کہ اسلام ہی کیوں اور کوئی دوسرا دین کیوں نہیں؟

انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز کرنے والی سب سے بڑی چیز ’عقل‘ ہے، اور اس کی ذمہ داری غور وفکر اور حقائق کی تلاش ہے۔

اسلام ایک ایسا دین ہے جو عقل سلیم اور فطرت سلیمہ سے ہم آہنگ ہے، یہ وجود کے بڑے بڑے سوالات کے لیے منطقی جوابات فراہم کرتا ہے: ہم یہاں کیوں ہیں؟ ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ اور موت کے بعد ہمارا انجام کیا ہوگا؟

اسلام کی بنیاد خالق کی عبادت کو خالص کرنے اور ”لا الہ الا اللہ“ کی شہادت دینے پر ہے، یہ پہلی شہادت ہے، اور اسلام میں یہی ایمان کی اصل ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ واحد کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں۔

اس شہادت میں شامل ہے:

توحید: یعنی اس بات پر ایمان رکھنا کہ اللہ تعالی ہی عبادت کے لائق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ اس کا کوئی ہم مثل۔

شرک سے براءت: یعنی تمام انسانی ساختہ بتوں اور معبودوں کا انکار کرنا۔

اسلام کی نظر میں تمام انبیاء کرام پر ایمان لانا واجب ہے، چنانچہ مسلمان جیسا کہ اللہ نے قرآن میں بتایا ہے، اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، وہ اللہ کا بیٹا نہیں ہیں، کیونکہ اللہ عظیم ہے، اور یہ اس کی شان کے لائق نہیں کہ اس کی بیوی یا بیٹا ہو، وہ ان دونوں سے اور ہر چیز سے بے نیاز ہے۔ اللہ نے ہمیں قرآن میں یہ خبر دی ہے کہ عیسی علیہ السلام نبی تھے، اللہ نے ان کو بہت سے معجزات سے نوازا تھا، اور اللہ نے ان کو اپنی قوم کی طرف اس لیے مبعوث کیا کہ وہ انہیں صرف ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دیں، جس کا کوئی شریک نہیں۔ اللہ نے ہمیں یہ بھی خبر دی ہے کہ عیسی علیہ السلام نے لوگوں سے یہ نہیں کہا کہ وہ ان کی عبادت کریں، بلکہ وہ خود اپنے خالق کی عبادت کرتے تھے۔ چنانچہ اگر آپ عیسی علیہ السلام پر اس حقیقت کے ساتھ ایمان لانا چاہتے ہیں جو اللہ کو پسند ہے، تو آپ کو اسلام میں داخل ہونا ہوگا۔

اللہ نے ہمیں قرآن میں یہ خبر دی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو صرف اللہ کی عبادت کا حکم دیا اور انہیں شرک سے خبردار کیا۔

کیا یہ عقل مندی ہے کہ عقلمند انسان اپنے جیسی مخلوق کی عبادت کرے جو بھوک پیاس کا شکار ہوتی ہے اور اپنے لیے موت یا نقصان کو دور کرنے کی طاقت نہیں رکھتی؟! اے انسان! تم عیسیٰ ابن مریم کی عبادت کیسے کرتے ہو، حالانکہ وہ ایک بشر تھے جو کھانے پینے کے محتاج تھے اور اپنے خالق کی طرف نماز میں متوجہ ہوتے تھے؟! کیا عقل یہ تصور کر سکتی ہے کہ معبود خود اپنے لیے نماز پڑھتا ہو؟! کیا اللہ وہ ذات نہیں جو عظمت سے متصف ہے، اپنے کمال میں منفرد ہے، ہر قسم کے شبیہ اور مثل سے منزہ ہے، اور کائنات کی ہر چیز اس کی قدرت اور سلطنت کے ما تحت ہے؟ یہ کیسے عقل میں آ سکتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کا خالق ایک بچے کی صورت میں پیدا ہو اور پھر خود کو مخلوق کے حوالے کر دے کہ وہ اسے سولی پر چڑھائیں؟ جو سولی پر چڑھائے جاتے اور قتل کیے جاتے ہیں وہ فانی انسان ہیں، جبکہ خالق وہ ہے جو زندہ ہے اور کبھی نہیں مرتا، قیوم ہے جسے اونگھ آتی ہے نہ نیند۔ کیا اس کی عظمت وجلال کے کمال کا تقاضا نہیں کہ وہ ایسی باتوں سے منزہ ہو؟

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیں بتایا ہے کہ تمام رسول ایک ہی پیغام کے ساتھ آئے، جو ان کی قوموں کو صرف ایک اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کی دعوت دینا تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ، کچھ لوگوں نے اس ابدی پیغام میں تحریف کی، اور انبیاء کے لائے ہوئے توحید کے نور کو مٹا دیا، چنانچہ اللہ نے آخری رسول محمد ﷺ کو بھیجا اور ان پر قرآن کریم نازل کیا تاکہ وہ توحید کے پیغام کو جو تمام رسولوں نے پہلے لایا تھا، دوبارہ زندہ کریں۔

اخیر میں ہم آپ سے کہتے ہیں اے انسان:

اسلام دین عقل وفطرت ہے، اور یہ وہ واحد دین ہے جسے عظیم خالق نے انسانیت کے لیے مشروع کیا ہے؛ ہر عقلمند انسان پر واجب ہے کہ وہ اسلام میں داخل ہونے میں جلدی کرے، یعنی اللہ کو اپنا رب، اسلام کو اپنا دین اور محمد صلى اللہ علیہ وسلم کو اپنا رسول تسلیم کرے، یہ ایسا معاملہ ہے جس میں انسان کو کوئی اختیار نہیں، کیونکہ اللہ تعالی قیامت کے دن اس سے سوال کرے گا کہ اس نے رسولوں کی دعوت کا کیا جواب دیا، اگر وہ مومن ہوگا تو اسے عظیم کامیابی نصیب ہوگی اور اگر وہ کافر ہوگا تو اسے واضح خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اگر آپ دنیا میں حقیقی خوشی اور آخرت میں کامیابی کی تلاش میں ہیں، تو جان لیں کہ آپ کی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ اسلام میں داخل ہونا ہے۔ اس کے لیے آپ کو صرف یہ کلمات صدقِ دل سے ایمان ویقین کے ساتھ کہنا ہوگا: "أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمدًا رسول الله"، پھر اپنے دین کو سیکھنا شروع کریں اور شہادتین کے تقاضوں کے مطابق اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائیں اور ارکانِ اسلام کی پابندی کریں۔

ابھی یہ کلمات پڑھیں اور تردد نہ کریں؛ کیونکہ موت اچانک آسکتی ہے، اتنے اہم فیصلے کو مؤخر نہ کریں، شیطان کو موقع نہ دیں کہ وہ آپ کو بھلائی سے روک سکے، بہادر بنیں، اور روشنی اور ہدایت کی طرف اپنا سفر شروع کریں۔

ابھی فیصلہ کریں، اور ایک نئی زندگی کا آغاز کریں جو سکون ورضا سے بھرپور ہو۔

"میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں"۔