Skip to content
سورتوں کی فہرست /

القِيَامة

القِيَامة is chapter ٧٥ of the Quran and has ٤٠ verses. This page presents it in full in the Uthmani script, with a verse-by-verse translation of its meaning.

40 آیات سورت نمبر ٧٥
آیت پر جائیں
الترجمة الأردية - محمد جوناكرهي
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

لَآ أُقۡسِمُ بِيَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ

میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی.

Explanation & meanings · ١
  1. لا اقسم میں لا زائد ہے جو عربی زبان کا ایک اسلوب ہے جیسے ”مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ“ (الاعراف: 12) اور ”لِئَلَّا يَعْلَمَ أَهْلُ الْكِتَابِ“ (الحدید: 29) اور دیگر بہت سے مقامات میں ہے بعض کہتے ہیں کہ قسم سے پہلے کفار کے کلام کا رد ہے وہ کہتے تھے مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں۔لا کے زیعے سے کہا گیا ، جس طرح کہتے ہو معاملہ اس طرح نہیں ہے میں قیامت کے دن کی قسم کھاتا ہوں، قیامت کے دن کی قسم کھانے کا مقصد اس کی اہمیت اور عظمت کو واضح کرنا ہے۔

وَلَآ أُقۡسِمُ بِٱلنَّفۡسِ ٱللَّوَّامَةِ

اور قسم کھاتا ہوں اس نفس کی جو ملامت کرنے واﻻ ہو.

Explanation & meanings · ١
  1. یعنی بھلائی پر بھی کرتا ہے کہ زیادہ کیوں نہیں کی۔ اور برائی پر بھی، کہ اس سے باز کیوں نہیں آتا؟ دنیا میں بھی جن کے ضمیر بیدار ہوتے ہیں ان کے نفس انہیں ملامت کرتے ہیں، تاہم آخرت میں تو سب کے ہی نفس ملامت کریں گے۔

أَيَحۡسَبُ ٱلۡإِنسَٰنُ أَلَّن نَّجۡمَعَ عِظَامَهُۥ

کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع کریں گے ہی نہیں.

Explanation & meanings · ١
  1. یہ جواب قسم ہے انسان سے مراد یہاں کافر اور بےدین انسان ہے جو قیامت کو نہیں مانتا۔ اس کا گمان غلط ہے، اللہ تعالٰی یقینا انسانوں کے اجزا کو جمع فرمائے گا یہاں ہڈیوں کا بطور خاص ذکر ہے، اس لیئے کہ ہڈیاں ہی پیدائش کا اصل ڈھانچہ اور قالب ہیں۔

بَلَىٰ قَٰدِرِينَ عَلَىٰٓ أَن نُّسَوِّيَ بَنَانَهُۥ

ہاں ضرور کریں گے ہم تو قادر ہیں کہ اس کی پور پور تک درست کردیں.

Explanation & meanings · ١
  1. بَنَان (پور پور) جوڑوں، ناخن، لطیف رگوں اور باریک ہڈیوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جب یہ باریک اور لطیف چیزیں ہم بالکل صحیح صحیح جوڑ دیں گے تو بڑے حصے کو جوڑ دینا ہمارے لئے کیا مشکل ہوگا۔

بَلۡ يُرِيدُ ٱلۡإِنسَٰنُ لِيَفۡجُرَ أَمَامَهُۥ

بلکہ انسان تو چاہتا ہے کہ آگے آگے نافرمانیاں کرتا جائے.

Explanation & meanings · ١
  1. یعنی اس امید پر نافرمانی اور حق کا انکار کرتا ہے کہ کون سی قیامت آنی ہے۔