Skip to content
سورتوں کی فہرست /

الإنسَان

الإنسَان is chapter ٧٦ of the Quran and has ٣١ verses. This page presents it in full in the Uthmani script, with a verse-by-verse translation of its meaning.

31 آیات سورت نمبر ٧٦
آیت پر جائیں
الترجمة الأردية - محمد جوناكرهي
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

هَلۡ أَتَىٰ عَلَى ٱلۡإِنسَٰنِ حِينٞ مِّنَ ٱلدَّهۡرِ لَمۡ يَكُن شَيۡـٔٗا مَّذۡكُورًا

یقیناً گزرا ہے انسان پر ایک وقت زمانے میں جب کہ یہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا.

Explanation & meanings · ١
  1. ھل بمعنی قد ہے جیسا کہ ترجمے سے واضح ہے ،الانسان سے مراد 'بعض کے نزدیک ابو البشیر یعنی انسان اول حضرت آدم ہیں اور حِیْن (ایک وقت) سے مراد، روح پھونکے جانے سے پہلے کا زمانہ ہے، جو چالیس سال ہے اور اکثر مفسرین کے نزدیک الانسان کا لفظ بطور جنس کے استعمال ہوا ہے اور حِیْن، سے مراد حمل یعنی رحم مادر کی مدت ہے جس میں وہ قابل ذکر چیز نہیں ہوتا۔ اس میں گویا انسان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایک پیکر حسن و جمال کی صورت میں جب باہر آتا ہے تو رب کے سامنے اکڑتا اور اتراتا ہے، اسے اپنی حیثیت یاد رکھنی چاہیے کہ میں تو وہی ہوں جب میں عالم نیست میں تھا، تو مجھے کون جانتا تھا؟

إِنَّا خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ مِن نُّطۡفَةٍ أَمۡشَاجٖ نَّبۡتَلِيهِ فَجَعَلۡنَٰهُ سَمِيعَۢا بَصِيرًا

بیشک ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے امتحان کے لیے پیدا کیا اور اس کو سنتا دیکھتا بنایا.

Explanation & meanings · ١
  1. ملے جلے مطلب، مرد اور عورت دونوں کے پانی کا ملنا پھر ان کا مختلف اطوار سے گزرنا ہے۔ پیدا کرنے کا مقصد انسان کی آزمائش ہے۔ «لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلا» (الملک:6)

إِنَّا هَدَيۡنَٰهُ ٱلسَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرٗا وَإِمَّا كَفُورًا

ہم نے اسے راه دکھائی اب خواه وه شکر گزار بنے خواه ناشکرا.

Explanation & meanings · ١
  1. یعنی مذکورہ قوتوں اور صلاحیتوں کے علاوہ ہم نے خود بھی انبیاء علیہ السلام، اپنی کتابوں اور داعیان حق کے ذریعے سے صحیح راستے کو بیان اور واضح کردیا ہے اب یہ اس کی مرضی ہے کہ اطاعت الہی کا راستہ اختیار کر کے شکر گزار بندہ بن جائے یا معصیت کا راستہ اختیار کر کے اس کا ناشکرا بن جائے۔ جیسے ایک حدیث میں نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا: «كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُوبِقُهَا أَوْ مُعْتِقُهَا»، (صحیح مسلم، کتاب الطهارة، باب فضل الوضوء) ”ہر شخص اپنے نفس کی خریدو فروخت کرتا ہے، پس اسے ہلاک کرتا ہے یا اسے آزاد کرالیتا ہے“۔ یعنی اپنے عمل و کسب کے ذریعے سے ہلاک یا آزاد کرالیتا ہے، اگر شر کمائے گا تو اپنے نفس کو ہلاک اور خیر کمائے گا تو نفس کو آزاد کرالے گا۔

إِنَّآ أَعۡتَدۡنَا لِلۡكَٰفِرِينَ سَلَٰسِلَاْ وَأَغۡلَٰلٗا وَسَعِيرًا

یقیناً ہم نے کافروں کے لیے زنجیریں اور طوق اور شعلوں والی آگ تیار کر رکھی ہے.

Explanation & meanings · ١
  1. یہ اللہ کی دی ہوئی آزادی کے غلط استعمال کا نتیجہ ہے۔

إِنَّ ٱلۡأَبۡرَارَ يَشۡرَبُونَ مِن كَأۡسٖ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا

بیشک نیک لوگ وه جام پئیں گے جس کی آمیزش کافور کی ہے.

Explanation & meanings · ١
  1. اشقیا کے مقابلے میں یہ سعدا کا ذکر ہے، کأس اس جام کو کہتے ہیں جو بھرا ہوا ہو اور چھلک رہا ہو کافور ٹھنڈی اور ایک مخصوص خوشبو کی حامل ہوتی ہے۔ اس کی آمیزش سے شراب کا ذائقہ دو آتشہ اور اس کی خوشبو مشام جان کو معطر کرنے والی ہو جائے گی۔