الإسلام دين رسل الله

الإسلام دين رسل الله

رسالة لطبفة توضح أن الإسلام هو الاستسلام لله خالق الكون والانقياد له محبة وتعظيماً، وهو دين جميع الأنبياء، يقوم على الإيمان بالله، ورسله، وملائكته، وكتبه، واليوم الآخر، والقدر خيره وشره. ويدعو إلى عبادة الله وحده، ويرى أن عيسى عبد الله ورسوله وليس ابن الله.

Language: lang_ur
Prepared by:
Version: 2.0
Translations 80
Afrikanns Akan Amharic Assamese +76
Attachments 7
PDF
Audio
Video
+3

اسلام، اللہ کے تمام رسولوں کا دین ہے

اسلام کا مطلب ہے کہ اللہ جو پوری کائنات کا خالق اور مدبر ہے اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنا، محبت اور تعظیم کے ساتھ اس کی تابعداری کرنا۔ اسلام کی بنیاد ہی اس بات پر ہے کہ اللہ پر ایمان لایا جائے، یہ تسلیم کیا جائے کہ وہی تن تنہا خالق ہے اور اس کے سوا سب کے سب مخلوق ہیں، وہی تمام تر عبادتوں کا تنہا مستحق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کے بہت سے خوب صورت نام اور بلند وبالا صفات ہیں، اس کے لیے کمالِ مطلق ہے جس میں کوئی کمی نہیں، نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ کسی نے اس کو جنا، نہ کوئی اس کا ہم سر ہے اور نہ کوئی اس کا نظیر، وہ اپنی کسی مخلوق میں حلول اور سرایت نہیں کرتا۔

اسلام ہی اللہ کا وہ دین ہے جس کے سوا اللہ لوگوں سے کوئی اور دین قبول نہیں کرتا، یہی وہ دین ہے جس کے ساتھ انبیاء علیہم السلام مبعوث کیے گئے۔

اسلام کی بنیادی تعلیمات میں یہ شامل ہے کہ تمام رسولوں پر ایمان لا یا جائے، اور اس بات پر بھی کہ اللہ نے رسولوں کو اس لیے مبعوث کیا تاکہ وہ اللہ کے احکام بندوں تک پہنچا دیں، ان پر اللہ نے کتابیں نازل فرمائی، سب سے آخری نبی محمد ﷺ تھے، اللہ نے آپ کو ایسی آخری الہی شریعت کے ساتھ مبعوث فرمایا جس نے ما قبل کے تمام رسولوں کی شریعتوں کو منسوخ کردیا، اللہ نے بڑی بڑی نشانیوں کے ذریعہ آپ کی تائید کی، جن میں سب سے بڑی نشانی قرآن ہے، جو کہ رب العالمین کا کلام ہے، یہ انسانی تاریخ کی سب سے عظیم کتاب ہے، یہ کتاب اپنے مضمون، الفاظ اور ترتیب میں معجزہ ہے، اس کتاب میں ایسے حق کی ہدایت موجود ہے جو دنیا وآخرت کی سعادت سے بہرہ ور کرتا ہے، وہ آج تک اسی عربی زبان میں محفوظ ہے جس میں وہ نازل ہوئی، اس میں ایک حرف کی بھی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔

اسلام کی بنیادی تعلیمات میں فرشتوں پر اور آخرت کے دن پر ایمان لانا شامل ہے، آخرت کے دن اللہ تعالی تمام لوگوں کو زندہ کرکے ان کى قبروں سے اٹھائے گا تاکہ انہیں ان کے اعمال کا بدلہ دے، چنانچہ جس نے ایمان کی حالت میں نیک اعمال کیا ہوگا اس کے لیے جنت میں دائمی نعمت ہوگی، اور جس نے کفر کے ساتھ برے اعمال کیے ہوں گے اس کے لیے جہنم کا درد ناک عذاب ہوگا، اسلام کی بنیادی تعلیمات میں یہ بھی کہ اللہ نے اچھی بری جو بھی تقدیر مقدر کی ہے اس پر ایمان لایا جائے۔

مسلمان اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور وہ اللہ کا بیٹا نہیں ہیں، کیوں کہ اللہ عظیم ہے، یہ نا ممکن ہے کہ اس کی بیوی اور بیٹا ہو، لیکن اللہ نے ہمیں قرآن میں یہ خبر دی ہے کہ عیسی علیہ السلام نبی تھے، اللہ نے ان کو بہت سے معجزات سے نوازا تھا، اللہ نے ان کو اپنی قوم کی طرف اس لیے مبعوث کیا کہ وہ انہیں صرف ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دیں، جس کا کوئی شریک نہیں، اللہ نے ہمیں یہ بھی خبر دی ہے کہ عیسی علیہ السلام نے لوگوں سے یہ نہیں کہا کہ وہ ان کی عبادت کریں، بلکہ وہ اپنے خالق کی عبادت کرتے تھے۔

اسلام ایک ایسا دین ہے جو فطرت سلیمہ اور عقل سلیم سے ہم آہنگ ہے اور صاف ستھرے نفوس کے حاملین اسے قبول کرتے ہیں، عظیم خالق وپروردگار نے اسے اپنی مخلوق کے لیے مشروع کیا ہے، وہ تمام لوگوں کے لیے خیر وسعادت کا حامل دین ہے، نہ کسی نسل کو دوسری نسل پر فوقیت دیتا ہے اور نہ کسی رنگ کو دوسرے رنگ پر، تمام لوگ اس دین میں برابر ہیں، اسلام میں کسی کو کسی دوسرے پر فوقیت نہیں سوائے نیک عمل کی بنیاد پر۔

ہر عقلمند انسان پر واجب ہے کہ اللہ کو اپنا رب، اسلام کو اپنا دین اور محمد صلى اللہ علیہ وسلم کو اپنا رب تسلیم کرے، یہ ایسا معاملہ ہے جس میں انسان کو کوئی اختیار نہیں، کیوں کہ اللہ تعالی قیامت کے دن اس سے سوال کرے گا کہ اس نے رسولوں کی دعوت کا کیا جواب دیا، اگر وہ مومن ہوگا تو اسے عظیم کامیابی نصیب ہوگی اور اگر وہ کافر ہوگا تو اسے واضح خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

جو شخص دین اسلام قبول کرنا چاہے، اسے چاہیے کہ اپنی زبان سے (أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدًا رسول الله) پڑھے، اس کے معنی ومفہوم کو سمجھتے ہوئے اور اس پر ایمان لاتے ہوئے، اس طرح وہ مسلمان ہو جائے گا، اس کے بعد دین کی باقی تعلیمات دھیرے دھیرے سیکھتا رہے، تاکہ اللہ نے اس پر جو کجھ واجب کیا ہے، اس پر عمل کر سکے۔

مزید معلومات کے لیے وزٹ کریں: