Skip to content

حیا ایمان کا حصہ ہے

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں :

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو اپنے بھائی کو حیا کے بارے میں سمجھاتے ہوئے سنا، تو فرمایا : "حیا ایمان کا حصہ ہے۔"

سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ، فَقَالَ: «الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ».

متفق علیہ
حديث صحيح
شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو اپنے بھائی کو زیادہ حیا نہ کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے سنا تو اس کے سامنے یہ واضح کر دیا کہ حیا ایمان کا حصہ ہے اور حیا سے انسان کا بھلا ہی ہوتا ہے۔ حیا ایک ایسی صفت ہے، جو انسان کو اچھا کام کرنے اور برے کام سے بچنے پر آمادہ کرتی ہے۔

کلمات کے معانی

...:

حدیث کے بعض فوائد

جو اچھے کام سے روکے، اسے حیا نہیں، بلکہ خجالت، عاجزی، کم زوری اور بزدلی کہيں گے۔

اللہ سے حیا کا مطلب ہے اس کے احکام کی تعمیل کرنا اور اس کی منع کی ہوئی چیزوں سے دور رہنا۔

لوگوں سے حیا کا مطلب ہے ان کا احترام کرنا، ان کو ان کا مناسب مقام دینا اور ان چیزوں سے دور رہنا جن کو عادۃ برا سمجھا جاتا ہے۔

حوالہ جات
مزید (10)

صحیح بخاری (1/ 14) (24).

صحیح مسلم (1/ 63) (36).

توضيح الأحكام من بلوغ المرام.

للبسام (7/ 489).

منحة العلام في شرح بلوغ المرام.

لعبد الله الفوزان (10/ 330).

فتح ذي الجلال والإكرام.

لابن عثيمين (6/ 427).

سبل السلام بشرح بلوغ المرام.

للصنعاني (2/ 689).