جس اونٹ کی گردن میں بھی تانت کا ہار (گنڈا) یا ہار ہو اسے کاٹ دیا جائے۔
ابو بشیر انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوۓ کہتے ہیں کہ:
وہ کسی سفر میں اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب لوگ اپنی آرام گاہوں میں تھے تو آپ ﷺ نے یہ اعلان کرنے کے لیے ایک قاصد بھیجا کہ: جس اونٹ کی گردن میں بھی تانت کا ہار (گنڈا) یا ہار ہو اسے کاٹ دیا جائے۔
أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، قَالَ: فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا -وَالنَّاسُ فِي مَبِيتِهِمْ-: «لَا يَبْقَيَنَّ فِي رَقَبَةِ بَعِيرٍ قِلَادَةٌ مِنْ وَتَرٍ أَوْ قِلَادَةٌ إِلَّا قُطِعَتْ».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کسی سفر میں تھے اور لوگ اپنے سونے کی جگہوں میں، جہاں ان کو رات گزارنی تھی، موجود تھے۔ اسی درمیان آپ نے ایک شخص کو اس حکم کے ساتھ بھیجا کہ لوگ اپنے اونٹوں کے گلوں میں باندھی گئی چیزوں کو کاٹ دیں۔ چاہے وہ چیزیں کمان کی تانت کی شکل میں ہوں یا گھنٹی کی شکل میں ہوں یا جوتے وغیرہ کی شکل میں۔ ایسا اس لیے کہ لوگ یہ چیزیں نظر بد لگنے کے ڈر سے باندھا کرتے تھے، لہذا ان کو کاٹ دینے کا حکم دیا۔ کیوں کہ یہ چیزیں کچھ فائدہ نہيں دیتیں۔ نفع اور نقصان کا مالک صرف اللہ ہے۔ اس میں اس کا کوئی شریک نہيں ہے۔
وتر: مفرد أوتار، وهو ما يشد به القوس كانت العرب تعلقه تتقي به العين.
قلادة: ما يعلق في رقبة البعير وغيره، كالجرس والنعل، بنية دفع العين.
نفع کے حصول اور ضرر سے بچنے کے لیے کمان کے تانت اور قلائد وغیرہ کو باندھنا حرام ہے، کیوں کہ یہ شرک ہے۔
اونٹ کے گلے میں تانت کے علاوہ کسی اور چیز کا پٹہ اور ہار اگر زینت، جانور کو کھینچنے اور اسے باندھنے کے لیے لگایا جائے، تو اس میں کوئی حرج نہيں ہے۔
حسب استطاعت منکر کا انکار ضروری ہے۔
دل کا تعلق بس اللہ سے ہونا چاہیے۔ کسی اور سے نہيں۔
مزید (8)
صحیح بخاری (4/ 59) (3005).
صحیح مسلم (3/ 1672) (2115).
القول المفيد على كتاب التوحيد.
لابن عثيمين (1/ 179).
الملخص في شرح كتاب التوحيد.
لصالح الفوزان (ص77).
الجديد في شرح كتاب التوحيد.
لمحمد القرعاوي (ص89).