Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 16 کارڈ

فلٹر ہٹائیں
”چار خصلتیں جس شخص میں ہوں گی وہ (مکمل) منافق ہو گا۔ جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو گی، اس میں نفاق کی ایک خصلت ہو گی، جب تک وہ اسے چھوڑ نہیں دیتا: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، جب جھگڑا کرے تو گالی گلوج کرے اور جب عہد کرے تو بد عہدی کرے۔“
صحیح اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے
"لوگوں کے اندر پائی جانے والی دو باتیں کفر کی باتیں ہیں : حسب و نسب پر طعنہ کسنا اور میت پر نوحہ کرنا۔"
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو بکریوں کے دو ریوڑوں کے درمیان بھاگی پھرتی ہے؛ کبھی بھاگ کر اس ریوڑ کی طرف جاتی ہے اور کبھی دوسرے ریوڑ کى طرف جاتی ہے"۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
''بے شک آدمی اور شرک و کفر کے درمیان (فاصلہ مٹانے والا عمل) نماز کا ترک کرنا ہے''۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
”اے اللہ! میری قبر کو بت نہ بنانا۔ ان لوگوں پر اللہ کا شدید غضب نازل ہو، جنھوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا“۔
صحیح اسے احمد نے روایت کیا ہے
"چار خصلتیں جس شخص کے اندر ہوں گی، وہ خالص منافق ہوگا۔ جس کے اندر ان میں سے ایک خصلت ہوگی، اس کے اندر نفاق کی ایک خصلت ہوگی، جب تک کہ اسے چھوڑ نہ دے : جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب معاہدہ کرے تو دھوکہ دے دے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب جھگڑے تو بد زبانی کرے۔"
صحیح متفق علیہ
”ہمارے اور ان (کافروں) کے درمیان جو عہد و میثاق ہے، وہ نماز ہے۔ جس نے نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا“
صحیح اسے ترمذی‘ نسائی‘ ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
"بدشگونی شرک ہے، بدشگونی شرک ہے، بدشگونی شرک ہے۔ -آپ نے یہ بات تین بار کہی-" ویسے ہم میں سے ہر شخص کے دل میں اس طرح کی بات آتی ہے، لیکن اللہ عز و جل توکل کے ذریعے اسے ختم کر دیتا ہے۔
صحیح اسے ابوداود، ترمذی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے