Skip to content

”جس نے دوسرے کا نقصان کیا، اللہ اس کا نقصان کرے گا اور جس نے دوسرے کو مشقت میں ڈالا، اللہ اسے مشقت میں ڈالے گا“۔

ابو صرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :

”جس نے دوسرے کا نقصان کیا، اللہ اس کا نقصان کرے گا اور جس نے دوسرے کو مشقت میں ڈالا، اللہ اسے مشقت میں ڈالے گا“۔

«مَنْ ضَارَّ ضَارَّ اللهُ بِهِ، وَمَنْ شَاقَّ شَقَّ اللهُ عَلَيْهِ».

اسے ابوداود، ترمذی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
حديث حسن
شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی مسلمان کو نقصان پہنچانے اور اسے کسی بھی طرح مشقت میں ڈالنے سے خبردار کیا ہے۔ خواہ نقصان اور مشقت کا تعلق اس کی جان سے ہو، یا مال سے ہو یا اہل و عیال سے۔ آپ نے بتایا ہے کہ ایسا کرنے والے کو اللہ اسی نوعیت کا بدلہ دے گا، جس نوعیت کا اس کا عمل ہے۔

کلمات کے معانی

...:

حدیث کے بعض فوائد

مسلمان کو نقصان پہنچانا اور اسے مشقت میں ڈالنا حرام ہے۔

اللہ اپنے بندوں کے لیے انتقام لیتا ہے۔

حوالہ جات
مزید (12)

سننِ ابو داود (5/ 477) (3635).

سننِ ترمذی (3/ 495) (1940).

سننِ ابن ماجہ (3/ 432) (2342).

مُسنَد احمد (25/ 34) (15755).

مساوئ الأخلاق.

للخرائطي (ص: 274) (583).

توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام.

للبسام (7/ 445).

فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام.

لابن عثيمين (6/ 396).

منحة العلام في شرح بلوغ المرام.

لعبد الله الفوزان (10/ 261).