شرح ألفاظ الأذان
اذان کے الفاظ کی تشریح
اذان کے الفاظ کی تشریح
جمعیۃ خدمۃ المحتوى الإسلامی باللغات کی علمی کمیٹی
اذان ایک ربانی پکار ہے جو مسلمان دن میں پانچ مرتبہ سنتا ہے، جو اسے اللہ کی عظمت یاد دلاتا اور خیر وبھلائی اور کامیابی وکامرانی کی دعوت دیتا ہے۔ یہ انسان اور اس کے خالق کے درمیان ایک لمحۂ وصال ہے، جس میں وہ دنیا کے شور وغل سے کٹ کر اپنے رب سے مناجات کرتا ہے۔
اذان میں بڑے بلند معانی پائے جاتے ہیں جو اللہ کی تعظیم سے شروع ہوتے ہیں اور نماز کی دعوت پر ختم ہوتے ہیں، جہاں مسلمان اپنا سکون پاتا ہے۔
:اذان کے کلمات
اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ
اللہ سب سے بڑا ہے۔
لفظ جلالہ "اللہ" کے معنی معبود کے ہیں، اور یہ خالق وپالنہار جل جلالہ کا نام ہے، تمام الٰہی نام اس کے تابع اور اس کی صفات ہیں۔ اللہ وہ واحد واحد ہے، جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا، اور وہی آسمانوں اور زمین کا خالق ہے۔
"الله أكبر" کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ہر چیز سے عظیم ہے، اور اس کی شان اور کمال کے لائق نہیں کہ اس کی طرف کوئی ایسی بات منسوب کی جائے جو اس کے جلال وکمال کے شایان شان نہ ہو۔
اللہ اکبر... یہ عبارت مسلمان کو یاد دلاتی ہے کہ اس زندگی میں کوئی چیز اسے اپنے خالق سے غافل نہ کرے، انسان کو اپنی زندگی اللہ کی مرضی اور شریعت کے مطابق گزارنی چاہیے، نہ کہ اپنی خواہشات اور شہوات کے مطابق، کیونکہ اللہ دنیا کی ہر چیز سے عظیم تر ہے۔
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔
یہ پہلی شہادت ہے، اور اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ کے لئے اقرار کیا جائے کہ وہ ہر چیز کا خالق، رب، مالک اور مدبر ہے، اور یہ کہ صرف اسی کی عبادت کی جانی چاہیے، اس کے سوا کسی کی نہیں، اور یہ کہ اللہ واحد کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، نہ اس کی کوئی اولاد ہے، نہ اس کا کوئی مثل ہے؛ لہذا عبادت اللہ کے سوا کسی اور کے لئے نہیں کی جائے گی اور نہ ہی اللہ کے سوا کسی کو پکارا جائے گا۔
یہ شہادت کائنات کی سب سے بڑی شہادت ہے، یہ تمام الہامی رسالتوں میں ایمان کی اصل بنیاد ہے۔ تمام انبیاء علیہم السلام، جیسے نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ سے لے کر محمد ﷺ تک، اپنی قوموں کو اس بات کے اقرار، قبول اور ایمان کی دعوت دیتے رہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔ یہی وہ کلمہ ہے جس کے لیے اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا، رسولوں کو بھیجا تاکہ اس کی تصدیق کریں، کتابیں نازل کیں تاکہ اس کی وضاحت کریں اور جنت کو ان لوگوں کے لیے انعام بنایا جو خالص دل سے اس پر ایمان لائیں۔
اسی کلمہ کی خاطر لوگ اپنی قبروں سے اٹھائے جائیں گے اور قیامت کے دن ان کا حساب ہوگا؛ پس جو شخص اس پر زندگی بسر کرے اور اسی پر اپنی زندگی کا خاتمہ کرے تو وہ عظیم کامیابی حاصل کرے گا، اور جس نے اس کا انکار کیا اور اسے زبان سے ادا نہ کیا تو وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنے کا مستحق ہوگا۔
أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ
میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
اس شہادت کا معنی یہ ہے کہ مسلمان یہ گواہی دے کہ اللہ نے محمد ﷺ کو آخری رسول اور لوگوں تک ان کے رب کا پیغام پہنچانے والا بنا کر بھیجا، مسلمان کو یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ کی عبادت اور اس کی رضا حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں سوائے اس کے کہ رسول ﷺ کی رسالت کی گواہی دی جائے، آپ کی پیروی اور اقتداء کی جائے اور اللہ کی عبادت اسی شریعت کے مطابق کی جائے جو رسول محمد ﷺ نے پہنچائی ہے۔
شہادت میں یہ شامل ہے کہ رسول ﷺ لوگوں کو توحید کی طرف واپس لانے کے لیے آئے، جیسے ان سے پہلے ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام نے کیا۔ وہ رب العالمین کے رسول ہیں، اسی راستے پر چلے جس کو تمام انبیاء نے اپنے رب کے پیغامات پہنچانے کے لیے اختیار کیا، لیکن آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔
حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ
آؤ نماز کی طرف۔
اے ایمان والو! اپنے رب کی عبادت کی طرف متوجہ ہو جاؤ، بے شک وہ بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے، وہ توبہ قبول کرتا ہے اور برائیوں کو معاف کر دیتا ہے۔
یہ مومنوں کے لئے پکار اور یاد دہانی ہے کہ ان کے رب کے سامنے نماز میں کھڑے ہونے کا وقت آ پہنچا ہے۔
حيَّ على الفلاح، حيَّ على الفلاح
آؤ کامیابی کی طرف
فلاح کا مطلب ہے دنیا وآخرت میں رضامندی، کامیابی وسلامتی اور نجات۔
اس کے معانی میں اللہ کی رضا کا حصول، جنت کی کامیابی اور جہنم سے نجات شامل ہیں؛ کیونکہ جو ایمان لایا اور نماز کا پابند رہا‘ وہ کامیاب ہوگیا، اور جو کامیاب ہوگیا وہ نجات پا گیا اور جنت کی ابدی زندگی سے سرفراز ہوا۔
اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ
اختتام تکبیر اور توحید کے ساتھ
اذان کا اختتام "الله أكبر" کے تکرار اور "لا إله إلا الله" کی تاکید کے ساتھ ہوتا ہے۔ ان دونوں جملوں میں پچھلے معانی کی تاکید آئی ہے اور انہی پر انسانی وجود کا دار ومدار ہے۔ یہ حقیقت کبھی نہیں بدل سکتی ہے، چاہے زمانہ کتنا ہی کیوں نہ گزر جائے اور واقعات ایک کے بعد ایک آتے رہیں، اور وہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہر چیز سے بڑا ہے، اللہ ہی برحق معبود ہے، صرف وہی عبادت کے لائق ہے اور اس کے سوا ہر کسی کی عبادت باطل ہے۔
خاتمہ: اذان محض نماز کے لیے ندا نہیں ہے، بلکہ یہ فلاح، کامیابی اور کامرانی کی پکار ہے، یہ وہ پیغام ہے جو مسجدوں میں روزانہ پانچ مرتبہ گونجتا ہے، تاکہ دلوں کو بیدار کرے اور ہمیں یاد دلائے کہ اللہ قریب ہے۔
اپنے دل کو ایمان کے لئے کھولیں اور کہیں: "أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا الله، وأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ الله"، آپ اللہ کی رحمت میں داخل ہو جائیں گے، دنیا میں سعادت اور آخرت میں نجات سے سرفراز ہوں گے اور قیامت کے دن مؤمنوں کی جماعت میں اٹھائے جائیں گے۔