رسالة موجزة إلى ملحد
هذه رسالة مختصرة إلى ملحد فيها ذكر بعض الدلائل العقلية والأسئلة المنطقية التي تحرك فطرة الملحد وتدعوه لاتباع الحق والدخول في الإسلام
ملحد کے نام ایک مختصر پیغام
علمی کمیٹی برائے جمعیۃ خدمۃ المحتوى الإسلامی باللغات
ہم ایک حیرت انگیز کائنات میں زندگی گزار رہے ہیں، جس کا نظام نہایت دقیق قوانین کے تحت چل رہا ہے، جو حیرت انگیز ہم آہنگی اور ایسا باریک نظم ونسق نمایاں کرتا ہے کہ انسان حیران رہ جائے۔
جوں جوں انسان قوانینِ کائنات کو گہرائی سے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، اسی قدر ایک سوال ابھر کر سامنے آتا ہے جس کا جواب علمِ طبیعیات کے پاس نہیں: ان قوانین کا منبع کیا ہے؟ اور یہ اصلاً کیوں موجود ہیں؟
میں اس لیے نہیں لکھ رہا ہوں کہ کوئی تیار شدہ جواب پیش کروں؛ بلکہ اس لیے کہ دینی یا فکری پس منظر سے قطعِ نظر آپ کے ساتھ ایک منطقی سوال ساجھا کروں جوغور کرنے کے قابل ہے۔
کیا یہ معقول اور منطقی بات ہے کہ یہ قوانین عدم سے وجود میں آجائیں؟ کہ نظام بغیر کسی ارادے کے وجود میں آجائے؟ کہ شعور ایسے مادّے سے پیدا ہو جو عقل سے خالی ہو؟
آئیے ابتدا ہی اس سوال سے کریں جو بہ یک وقت سب سے واضح بھی ہے اور سب سے گہرا بھی:
کیا عدم کسی چیز کو وجود میں لا سکتا ہے؟
کیا یہ معقول بات ہے کہ آپ کہیں: یہ خوبصورت کائنات، اس دقیق نظام اور اپنے قوانین کے مابین اس مضبوط ہم آہنگی کے ساتھ، لا شیء سے، اور بغیر کسی سبب کے وجود میں آگئی؟
انسان کی عقلِ سلیم اسے بالکلیہ رد کرتی ہے؛ کیوں کہ ہم اپنی زندگی میں یہ نہیں دیکھتے کہ کوئی چیز عدم سے وجود میں آ جائے۔
میرے ساتھ آپ بھی اپنی ذات میں غور کیجیے: کس نے آپ کو ایک حقیر نطفہ سے پیدا کیا اور آپ کو سننے اور دیکھنے والا (انسان) بنایا؟
آپ کے جسم کو اس باریک کاریگری کے ساتھ کس نے پیدا کیا؟ کس نے آپ کو سننے والا کان، دیکھنے والی آنکھ اور پرکھنے اور غور وفکر کرنے والی عقل عطا کی ؟
جب آپ ماں کے شکم میں ایک بے بس جنین تھے توکون تھا جو آپ کی کسی تدبیر اور طاقت کے بغیر آپ کو روزی دیتا تھا، آپ کی ماں کے خون سے آپ کو غذا پہنچاتا تھا، اور آپ کی نشو ونما اور زندگی کے لیے درکار ہر چیز مہیا کرتا تھا؟
کیا آپ نے اپنے لیے یہ خود کیا ہے؟ یا بے حس و بے شعور فطرت نے یہ سب کیا؟
طبیعت نہ عقل رکھتی ہے، نہ ارادہ، نہ مشیت۔ وہ ایسا نظام کیسے پیدا کر سکتی ہے جو عظیم ترین کمپیوٹر سے بھی کہیں زیادہ پیچیدہ ہو؟ وہ شعور، ادراک اور جذبات کو کیسے پیدا کر سکتی ہے؟
فطرت کس طرح ایک ماں کے دل میں اپنے بچے کے لیے طبعی محبت ڈال سکتی ہے؟ یا آپ کے دل کو ایسا بنا سکتی ہے کہ وہ ظلم کو دیکھ کر تنگ ہوجائے، اور انصاف کو دیکھ کر کھل اٹھے؟
یہ اعلیٰ معانی ومفاہیم ہمارے اندر کس نے پیدا کیے؟ اخلاقی اقدار کہاں سے آئے؟ ضمیر کہاں سے آیا؟
یقیناً تمہارے گرد وپیش کی ہر ایک چیز خالق کے وجود پر پکار پکار کر دلالت کرتی ہے۔
آسمان کی طرف دیکھئے: کس نے اسے بغیر ستون کے بلند کیا؟
سورج پر غور کیجیے: کس نے اتنی باریکی سے اس کی راہ مقرر کی جو کبھی نہیں بدلتی؟
اپنے دل پر غور کیجیے: آپ کی اجازت کے بغیر تادم حیات اسے پیہم دھڑکاتا رہنے والا کون ہے؟
کیا یہ سب کچھ محض اتفاق سے وجود میں آیا؟ اور کیا اتفاق اسی نظام کے تحت اربوں مرتبہ اپنے آپ کو دہرا سکتا ہے؟
کیا آپ یہ یقین کرتے ہیں کہ ایک نہایت دقیق کتاب، جیسے لغت یا علمی انسائیکلوپیڈیا، پرنٹر کے دھماکے کے نتیجے میں اچانک سے رونما ہوگیا؟
پھر آپ یہ کیسے مان لیتے ہیں کہ یہ کائنات، جو تمام کتابوں سے عظیم تر ہے، ایک اندھے دھماکے سے ظہور پذیر ہوگئی؟
اسلام آپ کو عقل کو معطّل کرنے کی دعوت نہیں دیتا؛ بلکہ اس کے استعمال کی دعوت دیتا ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ”کیا اللہ تعالیٰ کے بارے میں تمہیں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا بنانے واﻻ ہے؟“ [ابراھیم: 10]
کیا یہ معقول بات ہے کہ جس نے ہر چیز کو پیدا کیا، اس کے وجود پر شک کیا جائے؟
نیز فرمانِ الہی ہے: "اور خود تمہاری جانوں میں (بھی نشانیاں ہیں)، تو کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟" [الذاریات: 21]
یہ آپ کے لیے دعوت ہے کہ اپنے جسم وروح پر غور و فکر کریں، تاکہ آپ اپنے سامنے (خالق کی) دلیل دیکھ سکیں۔
پھر آپ قرآن مجید پر غور کیجیے، جو نزول کے اعتبار سے اللہ کی آخری کتاب ہے۔
وہ قرآن جو چودہ سو برس سے بھی پہلے نازل ہوا، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو یہ چیلینج دیا کہ وہ اس جیسا کلام لے آئیں، مگر وہ نہ لا سکے۔
یہ وہ کتاب ہے جس نے عقیدہ، احکامِ شریعت، قصّے، علم اور زبان کو ایسے اسلوب میں جمع کر دیا جس کی کوئی نظیر نہیں۔
ایسی اُمتوں کی خبر دی جو فنا ہو گئیں، ایسے واقعات کی خبر دی جو نگاہوں سے اوجھل ہوگئے اور ایسی دریافتوں کی خبر دی جن کا انکشاف صدیوں بعد ہوا، مثلا جنین کی نشوونما، بادلوں کی تشکیل، زمین کے طبقات، اور سیاروں کی گردش کی باریکی۔
پھر نبی محمد ﷺ کی سیرت پر غور کریں۔۔۔ ایک ایسا شخص جو تہذیب کے مراکز سے دور ایک صحرا میں پلا بڑھا، جو پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے، اور جنہوں نے کسی انسان سے علم حاصل نہیں کیا، پھر انہوں نے انسانیت کے لیے ایک ایسا لازوال پیغام پیش کیا، جو عقلوں کو منور کرتا ہے، نفوس کا تزکیہ کرتا ہے، اور تاریخ کے دھارے میں ایک عظیم انقلاب برپا کرتا ہے۔
چند کلمات کے ذریعے جو غار میں آپ پر نازل ہوئے، آپ نے انسانیت کو انسانوں اور پتھروں کی پرستش سے نکال کر خالقِ کائنات کی توحید اور عدل، رحمت اور عزت جیسے اقدار کی طرف لایا۔
یہ کون سی قوت ہے جس نے عالَم کو بدل ڈالا، دلوں کو چھو لیا، اور جس کی بازگشت صدیاں گزرنے کے باوجود اب بھی بلند سے بلند تر ہوتی چلی جا رہی ہے؟
اے وہ شخص جو اس تحریر کو پڑھ رہا ہے: آپ کا رب آپ کی کسی چیز کا محتاج نہیں، بلکہ آپ ہی اُس کے محتاج ہیں۔
وہی ہے جس نے آپ کو پیدا کیا، وہی آپ کو روزی دیتا ہے، آپ کی حفاظت کرتا ہے، اور اسی نے آپ کو مہلت دی ہے؛ تاکہ آپ غور وفکر کریں اور (اپنے خالق کی طرف) لوٹ آئیں۔
وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا، جو شخص صدق واخلاص کے ساتھ اس کی طرف لوٹ آئے؛ اسے قبول کرتا ہے، اسے بخش دیتا ہے، اور اس کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے۔
میں تم پر کچھ بھی مسلط نہیں کر رہا ہوں، لیکن میں تم سے گزارش کرتا ہوں کہ اپنے دل کو سچائی کا ایک موقع دو۔
غصہ اور باطنی شور وغوغا سے اپنے آپ کو علاحدہ کرلو اور ایک لمحے کے لیے غور کرو:
اگر میں غلط ہوں تو کیا ہوگا؟
اگر کوئی معبود موجود ہو، موت کے بعد کی زندگی اور جنت و جہنم بھی موجود ہوں، تو کیا ہوگا؟
کیا آپ اُس وقت نادم ہوں گے، جب شرمندگی کسی کام نہیں آئے گی؟
صدقِ دل سے حقیقت کی طرف قدم بڑھائیں، اور قرآنِ کریم کے ساتھ اپنا سفر شروع کریں... عین ممکن ہے کہ آپ کو اس میں وہ جوابات مل جائیں جو اب تک آپ سے اوجھل تھے، اور وہ نور بھی جس کی آپ کمی محسوس کرتے تھے۔
قرآن کریم کے معانی کا ترجمہ