Skip to content

جس (اللہ) نے انسان کو دو پاؤں پر چلایا ہے، کیا وہ اسے قیامت کے دن منہ کے بل چلانے پر قادر نہیں ہے؟

قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:

ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک آدمی نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! کافر قیامت کے دن اپنے چہرے کے بل کیسے چلائے جائیں گے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس (اللہ) نے انسان کو دو پاؤں پر چلایا ہے، کیا وہ اسے قیامت کے دن منہ کے بل چلانے پر قادر نہیں ہے؟‘‘ حضرت قتادہ نے کہا: یقینا ہمارے رب کی عزت کی قسم! (وہ اس پر قادر ہے)۔

حَدَّثَنَا ‌أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ كَيْفَ يُحْشَرُ الْكَافِرُ عَلَى وَجْهِهِ؟ قَالَ: «أَلَيْسَ الَّذِي أَمْشَاهُ عَلَى الرِّجْلَيْنِ فِي الدُّنْيَا قَادِرًا عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟» قَالَ قَتَادَةُ: بَلَى وَعِزَّةِ رَبِّنَا.

متفق علیہ
حديث صحيح
شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کافر کو قیامت کے دن چہرے کے بل کیسے چلایا جائے گا؟! تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ذات جس نے اسے دنیا میں دو پاؤں پر چلایا، کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ قیامت کے دن اسے چہرے کے بل چلائے؟! یقینا اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے۔

کلمات کے معانی

...:

حدیث کے بعض فوائد

قیامت کے دن کافر کی رسوائی ظاہر ہوگی اور وہ منہ کے بل چلے گا۔

حوالہ جات
مزید (6)

صحیح بخاری (8/ 109) (6523).

صحیح مسلم (4/ 2161) (2806).

الإفصاح عن معاني الصحاح (5/200).

فتح الباري (11/382).

عمدة القاري شرح صحيح البخاري (23/ 105).

البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج (43/ 454).