عربي - Arabic English Qafár af - Afar Afrikaans - Afrikanns Akan Shqip - Albanian አማርኛ - Amharic Հայերեն - Armenian অসমীয়া - Assamese Azərbaycanca - Azerbaijani Bamanankan - Bambara Bassa Bemba বাংলা - Bengali Bosanski - Bosnian Български - Bulgarian မြန်မာဘာသာ - Burmese Bisaya - Cebuano Cham Нохчий - Chechen chiCheŵa - Chewa 中文 - Chinese Адыгэбзэ - Circassian Hrvatski - Croatian Česky - Czech Dagbani Dansk - Danish فارسی دری - Dari Dendi ދިވެހި ބަސް - Dhivehi Nederlands - Dutch إستوني - Estonian Suomi - Finnish Français - French Fulfulde - Fula ქართული - Georgian Deutsch - German Ελληνικά - Greek ગુજરાતી - Gujrati Kreyòl ayisyen - Haitian Creole Hausa हिन्दी - Hindi Magyar - Hungarian Igbo Indonesia - Indonesian Italiano - Italian 日本語 - Japanese Jóola - Jola ಕನ್ನಡ - Kannada Қазақша - Kazakh ភាសាខ្មែរ - Khmer Kikuyu Ikinyarwanda - Kinyarwanda Ikirundi - Kirundi 한국어 - Korean كوردی سۆرانی - kurdish كوردي kurmancî - Kurmanji Kyrgyz ລາວ - Lao latviešu - Latvian Lingala lietuvių - Lithuanian Luganda Македонски - Macedonian Maguindanaon Malagasy - Malagasy Bahasa Melayu - Malay മലയാളം - Malayalam Mandinka मराठी - Marathi Mõõré - Moore नेपाली - Nepali أنكو - NKo Norwegian ଓଡ଼ିଆ - Odia oromoo - Oromo پښتو - Pashto فارسی - Persian Polski - Polish Portuguese ਪੰਜਾਬੀ - Punjabi Română - Romanian Русский - Russian Српски - Serbian Shona සිංහල - Sinhala Slovenščina - Slovenian Soomaaliga - Somali Soninke Sesotho - Sotho Español - Spanish Kiswahili - Swahili Svenska - Swedish Tagalog Тоҷикӣ - Tajik தமிழ் - Tamil తెలుగు - Telugu ไทย - Thai ትግረኛ - Tigrinya Türkçe - Turkish Ukrainian اردو - Urdu ئۇيغۇرچە - Uyghur Ўзбек - Uzbek Việt Nam - Vietnamese Wolof Yao Yorùbá - Yoruba Zarma زولو - Zulu
576 احادیث
احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا
زمرہ جات
حدیث کا درجہ
تخریج
راوی
”بے شک اللہ تعالیٰ کو غیرت آتی ہے اور بے شک مؤمن کو بھی غیرت آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو غیرت اس بات پر آتی ہے کہ بندہ وہ کام کرے، جسے اللہ نے اس پر حرام کیا ہے“۔
صحیح متفق علیہ
ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک آدمی نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! کافر قیامت کے دن اپنے چہرے کے بل کیسے چلائے جائیں گے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس (اللہ) نے انسان کو دو پاؤں پر چلایا ہے، کیا وہ اسے قیامت کے دن منہ کے بل چلانے پر قادر نہیں ہے؟‘‘ حضرت قتادہ نے کہا: یقینا ہمارے رب کی عزت کی قسم! (وہ اس پر قادر ہے)۔
صحیح متفق علیہ
میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا : "اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا : اے ابن آدم! جب تک تو مجھے پکارتا رہے گا اور مجھ سے امید رکھے گا، میں تیرے گناہوں کو بخشتا رہوں گا، چاہے وہ جتنے بھی ہوں، میں اس کی پرواہ نہيں کروں گا۔ اے ابن آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کے بلندی کے برابر ہو جائيں، پھر تو مجھ سے بخشش طلب کرے، تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہيں ہے۔ اے ابن آدم! اگر تو میرے پاس زمین کے برابر گناہ لے کر اس حال میں آئے کہ تونے کسی کو میرا شریک نہ ٹھہرایا ہو، تو میں تیرے پاس زمین کے برابر بخشش لے کر آؤں گا۔"
حَسَنْ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے
"بے شک اللہ تعالیٰ کسی مؤمن کے ساتھ ایک نیکی کے معاملے میں بھی ظلم نہیں فرماتا۔ اس کے بدلے اسے دنیا میں بھی دیا جاتا ہے اور آخرت میں بھی اس کی جزا دی جاتی ہے۔ رہا کافر، تو اسے نیکیوں کے بدلے میں، جو اس نے دنیا میں اللہ کے لیے کی ہوتی ہیں، اسی دنیا میں کھلا (پلا) دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ جب وہ آخرت میں پہنچتا ہے تو اس کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں ہوتی، جس کی اسے جزا دی جائے"۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
نبی ﷺ جب مسجد میں تشریف لے جاتے، تو فرماتے : ”أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ“۔ (میں اللہ عظیم کی، جود وسخا والے اس کے چہرے کی اور اس کی قدیم بادشاہت کی پناہ چاہتا ہوں، مردود شیطان سے)۔ (عقبہ نے) کہا: کیا بس اتنا ہی؟ میں نے کہا: ہاں۔ انہوں نے (حدیث مکمل کرتے ہوئے) کہا: جب مسجد میں داخل ہونے والا آدمی یہ دعا پڑھ لیتا ہے، تو شیطان کہتا ہے کہ اب وہ میرے شر سے دن بھر کے لیے محفوظ ہو گیا۔
حَسَنْ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے کہا : ’’اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : جس شخص نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی، میرا اس کے ساتھ اعلان جنگ ہے۔ میرا بندہ جن چیزوں سے مجھ سے قریب ہوتا ہے، ان میں سب سے محبوب وہ چیزیں ہیں، جو میں نے اس پر فرض قراردی ہیں۔ میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، تو پھر (اس کے نتیجے میں) مَیں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پیر بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے کسی چیز کا سوال کرتا ہے تو میں اسے ضرور دیتا ہوں، اگر وہ کسی چیز سے میری پناہ چاہتا ہے تو میں اسے پناہ ضرور دیتا ہوں اور کسی چیز کے کرنے میں مجھے اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا تردد مومن کی روح قبض کرنے پر ہوتا ہے، جو موت کو ناپسند کرتا ہے اور مجھے اسے کسى ناگوار خاطر چیز میں ڈالنا ناپسند ہوتا ہے‘‘۔
صحیح اسے بخاری نے روایت کیا ہے
”اللہ تبارک و تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا: اے اہل جنت! جنتی جواب دیں گے : ہم حاضر ہیں اے ہمارے رب! تمام تر بھلائی تیرے ہی ہاتھوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا: کیا اب تم لوگ خوش ہو؟ وہ کہیں گے: بھلا ہم راضی کیوں نہ ہوں، جب کہ تو نے ہمیں وہ سب کچھ دے دیا ہے، جو اپنی مخلوق میں سے کسی آدمی کو نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں تمہیں اس سے بھی بہتر چیز دوں گا۔ جنتی کہیں گے: اے رب! اس سے بہتر اور کیا چیز ہوگی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اب میں تمہارے اوپر اپنی رضا مندی کو نازل کروں گا، پھر اس کے بعد کبھی بھى تم پر ناراض نہیں ہوں گا"۔
صحیح متفق علیہ
”اللہ تمھارے جسموں اور تمھاری شکلوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمھارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے“۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے