قاموس الکبائر کبیرہ گناہوں کی جامع لغت
اس کتاب میں اسلام کی نظر میں سنگین ترین کبیرہ گناہوں کی تفصیلی شرح بیان کی گئی ہے، جن میں اللہ کے ساتھ شرک، اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر جھوٹ باندھنا، بدعت، ریاکاری، نماز چھوڑنا، زنا کاری اور چوری جیسے گناہ شامل ہیں۔ اس کتاب کے اندر قرآن وسنت کے دلائل کی روشنی میں ان کبیرہ گناہوں کے دنیوی اور اخروی نقصانات کو بھی واضح کیا گیا ہے۔ نیز اس میں توبہ، تقویٰ اور عملِ صالح کے ذریعے ان گناہوں سے بچاؤ اور ان کے علاج کے طریقوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔
This PDF is generated automatically from the book's text; its layout may differ from the printed edition.
قاموس الکبائر
علمی کمیٹی برائے جمعیۃ خدمۃ المحتوى الإسلامی باللغات
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے
مقدمہ
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنے بندوں کو اپنا سیدھا راستہ دکھایا اور تقویٰ کو اپنے دردناک عذاب سے بچاؤ کا ایک مضبوط قلعہ بنایا۔ درود وسلام نازل ہو ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل اور تمام صحابہ کرام پر۔ اما بعد:
یقیناً دل کو اطمینان اور نفس کو سکون بخشنے والا ایک مہتم بالشان امر اسلام کی بلند پایہ تعلیمات پر غور و فکر کرنا اور اللہ کے اوامر ونواہی کو سمجھنا ہے۔ خاص طور پر ان عظیم اور کبیرہ گناہوں سے باز رہنا، فرد اور سماج پر جن کے سنگین خطرات اور برے اثرات کے سبب، اللہ نے اپنی کتابِ مبین میں ان سے خبردار کیا ہے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سنتِ مطہرہ میں ان سے آگاہ فرمایا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: "اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ برے عمل کرنے والوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے اور نیک کام کرنے والوں کو اچھا بدلہ عنایت فرمائے۔ ان لوگوں کو جو بڑے گناہوں سے بچتے ہیں اور بے حیائی سے بھی۔ سوائے کسی چھوٹے سے گناه کے۔ بے شک تیرا رب بہت کشاده مغفرت واﻻ ہے..." [النجم: 31- 32]
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو‘‘ [1]۔ [1] صحیح بخاری، حدیث نمبر: 2766، صحیح مسلم، حدیث نمبر: 89۔
کبیرہ گناہوں میں اللہ یا اس کے بندوں کے حقوق سے متعلق تمام بڑے گناہ شامل ہیں، جن میں ملوث ہونے سے شریعتِ مطہرہ نے خبردار کیا ہے اور دنیا وآخرت میں ان کے سنگین انجام کو بھی واضح فرما دیا ہے۔
جب کہ اللہ تعالی کی وسیع رحمت نے ہر توبہ کرنے والے کے لیے توبہ کا دروازہ کھول رکھا ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: "ہاں بے شک میں انہیں بخش دینے واﻻ ہوں، جو توبہ کریں، ایمان ﻻئیں اور نیک عمل کریں..." [طہ: 82]
اسی مقصد کے پیش نظر یہ کتاب تالیف کی گئی ہے، تاکہ قرآن وسنت کے نصوص کی روشنی میں گناہِ کبیرہ کی حقیقت اور اس کے اثرات کو واضح کیا جائے اور اس سے توبہ اور نجات کی راہ بھی بیان کی جائے۔
اس كام کو جمعية خدمة المحتوى الإسلامي باللغات کی علمی کمیٹی نے جمعية الدعوة وتوعية الجاليات بالربوة کے تعاون سے تیار کیا ہے، اس نافع علم کو پھیلانے کی حرص رکھتے ہوئے اور اس بات کا لحاظ کرتے ہوئے کہ یہ مواد غیر عربی داں حضرات کے لیے ترجمے کے مناسب ہو، اس یقین کے ساتھ کہ اسلام کا پیغام ہر ایک تک پہنچانا نہایت ضروری ہے۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ اس کوشش کو میزانِ حسنات میں شامل فرمائے اور اس کے ذریعے تمام انسانوں کو نفع پہنچائے۔
درود وسلام نازل ہو ہمارے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر۔
تمہید
ساری تعریفیں اللہ کے لیے لائق وسزاوار ہیں، جو تمام جہانوں کا رب ہے اور درود و سلام نازل ہو ہمارے نبی محمد ﷺ پر، آپ کى آل پر اور آپ کے تمام صحابہ پر۔ اما بعد:
بلاشبہ دنیا میں موجود تمام برائیوں کی اصل جڑ گناہ ہے۔ یہی ہر رسوائی، ذلت، خواری، نقصان اور تباہی وبربادی کا سبب ہے۔ چنانچہ آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کو جنت سے گناہوں ہی کے سبب ہی اتارا گیا، اللہ کی نافرمانی کے سبب ہی قومِ نوح کو طوفان سے ہلاک کیا گیا‘ نیز قومِ عاد پر آندھی اور قومِ ثمود پر چیخ کا عذاب بھی ان کے گناہوں اور اپنے رب کے رسولوں کو جھٹلانے کی پاداش میں نازل کیا گیا۔ غرض یہ کہ گناہ ہی ہر مصیبت کا سبب اور ہر آفت کی جڑ ہے۔ یہ بات ہر گناہ پر صادق آتی ہے، لیکن اس حوالے سے کبیرہ گناہوں کا اثر صغیرہ گناہوں سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔
کبیرہ اور صغیرہ گناہ کی تعریف:
کبیرہ گناہ: ہر وہ گناہ، جس پر کتاب اللہ یا سنتِ رسول اللہ ﷺ میں کوئی وعید، لعنت یا حد وارد ہوئی ہو یا جس کا فساد اس گناہ کے فساد جیسا یا اس سے بھی زیادہ ہو، جس پر وعید، حد یا لعنت وارد ہوئی ہو، یا جو دین کے معاملے میں اس کے مرتکب کی لا پرواہی پر دلالت کرے۔
جب کہ صغیرہ گناہ سے مراد ہر وہ گناہ ہے جو کبیرہ گناہ کی مذکورہ تعریف میں نہ آتا ہو۔ یعنی جس پر عذاب کی وعید نہ سنائی گئی ہو، جس کے ساتھ کوئی حد، لعنت یا وعید نہ جڑی ہو اور جس سے اس کے مرتکب کی طرف سے شریعت کے تئیں لا پرواہی ظاہر نہ ہوتی ہو۔
کبیرہ اور صغیرہ گناہ میں فرق :
1- کبیرہ وہ گناہ ہے جس کے ساتھ وعید، حد یا لعنت وغیرہ جڑی ہو اور صغیرہ وہ گناہ ہے جس کے ساتھ ان میں سے کچھ بھی نہ جڑا ہو۔
2۔ کبیرہ گناہ شریعت کے معاملے میں انسان کی لا پرواہی کو ظاہر کرتا ہے، جب کہ صغیرہ گناہ میں ایسا نہیں ہے۔
3- کبیرہ گناہوں کے مرتکب کو ان کی معافی کے لیے توبہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب کہ صغیرہ گناہ توبہ سے، کبیرہ گناہوں سے بچنے سے، انسان کو پہنچنے والی مصیبتوں سے یا نیک اعمال سے مٹا دیے جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچتے رہوگے، جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے، تو ہم تمہارے چھوٹے گناه دور کر دیں گے اور تمھیں عزت وبزرگی کی جگہ داخل کریں گے۔" [النساء: 31]، مزید فرمایا: "دن کے دونوں سروں میں نماز قائم کر اور رات کی کئی ساعتوں میں بھی۔ یقیناً نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔ یہ نصیحت ہے نصیحت پکڑنے والوں کے لیے۔" [ھود: 114]
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مسلمان کو جو بھی مصیبت پہنچتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کے گناہ معاف کر دیتا ہے، یہاں تک کہ اسے چبھنے والے ایک کانٹے کے بدلے میں بھی‘‘۔[2] [2] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 5649، صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2572
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”پانچوں نمازیں، ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک اپنے مابین سرزد ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے“ [3]۔ [3] صحیح مسلم، حدیث نمبر: 233۔
كبيره گناہوں کے دینی اور دنیوی خطرات اور نقصانات:
کبیرہ گناہوں کا ارتکاب دنیا اور آخرت میں بہت سے خطرات اور نقصانات کا باعث ہے۔ کچھ خطرات اور نقصانات کا یہاں ذکر کیا جا رہا ہے:
- کبیرہ گناہ اپنے مرتکب کو اس وعید کا سزاوار بنا دیتے ہیں کہ وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا؛ چنانچہ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: "رشتے ناتے کو توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔" [4] یعنی قطع رحمی کرنے والا۔ [4] صحیح بخاری، حدیث نمبر: 5984، صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2556
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: "جنت میں چغل خور داخل نہيں ہوگا۔" [5] اس حدیث میں وارد لفظ "نمام" کے معنی ہیں چغل خور۔ [5] صحیح بخاری، حدیث نمبر: 6056، صحیح مسلم، حدیث نمبر: 105
- کچھ کبیرہ گناہ عذابِ قبر کا سبب ہیں؛ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ نبی ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے، تو فرمایا: ”ان دونوں (قبر والوں) کو عذاب ہو رہا ہے اور یہ عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہو رہا ہے؛ ان میں سے ایک پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغل خوری کرتا پھرتا تھا“[6]۔ [6] صحیح بخاری، حدیث نمبر: 218، صحیح مسلم، حدیث نمبر: 292
- کبیرہ گناہ آخرت میں سخت عذاب کا ایک سبب ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے سخت عذاب ان لوگوں کو دیا جائے گا، جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی مشابہت کرتے ہیں“۔ [7] يضاهون: مشابہت کرنا۔ یہاں مراد تصویر بنانے والے ہیں۔ [7] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 5954، صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2107۔
- کبیرہ گناہ اللہ اور اس کے رسول کی لعنت کا سبب ہیں۔ چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: "اللہ کے نبی ﷺ نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے۔" [8] [8] صحیح بخاری، حدیث نمبر: 5885۔
اسی طرح عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: ’’اللہ کے رسول ﷺ نے سود کھانے والے اور کھلانے والے پر لعنت فرمائی ہے‘‘ [9]۔ [9] صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1597۔
- کبیرہ گناہ اعمال کے ضائع اور باطل ہونے کا سبب بنتے ہیں؛ چنانچہ بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے عصر کی نماز چھوڑ دی، یقینََا اس کے اعمال برباد ہو گئے۔‘‘ [10] [10] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 553۔
- کبیرہ گناہ شرعی حدود وتعزیرات کے نفاذ کا سبب بنتے ہیں، اگر گناہ ایسے ہوں کہ ان کی حدود مقرر ہوں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "چوری کرنے والے مرد اور اور چوری کرنے والی عورت کے ہاتھ کاٹ دیا کرو ۔ یہ بدلہ ہے اس کا جو انہوں نے کیا۔ عذاب، اللہ کی طرف سے اور اللہ تعالیٰ قوت وحکمت واﻻ ہے۔" (المائدۃ: 38)۔ اللہ تعالی کا مزید ارشاد ہے: "زناکار عورت ومرد میں سے ہر ایک کو سو سو کوڑے لگاؤ...۔" [النور: 2]، ایک اور جگہ ارشاد باری تعالی ہے: "جو لوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں، پھر چار گواه نہ پیش کرسکیں، تو انہیں اسی کوڑے لگاؤ اور کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کرو۔ یہ فاسق لوگ ہیں۔" [ النور : 4]
- کبیرہ گناہ نعمتوں کے زائل ہونے کا سبب ہیں۔ ارشادِ ربانی ہے: "یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کہ کسی قوم پر کوئی نعمت انعام فرما کر پھر بدل دے، جب تک کہ وه خود اپنی اس حالت کو نہ بدل دیں..." [الانفال: 53]
شیخ عبد الرحمن بن ناصر السعدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "﴿یہ﴾ عذاب جو اللہ تعالیٰ نے جھٹلانے والی امتوں پر نازل کیا اور ان سے ان کی نعمتیں اور آسائشیں زائل کر دیں، یہ ان کے گناہوں اور اپنی حالت کو خود بدلنے کی وجہ سے ہوا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ دستور نہیں کہ وہ کسی قوم کو عطا کردہ دین ودنیا کی کوئی نعمت بدل دے، بلکہ اگر وہ شکر گزاری کریں تو وہ اسے باقی رکھتا اور اس میں اضافہ فرماتا ہے، ﴿یہاں تک کہ وہ خود اپنی حالت کو بدل ڈالیں﴾۔ یعنی اطاعت کو چھوڑ کر نافرمانی کرنے لگیں، اللہ کی نعمت کی ناشکری کریں اور اسے کفر سے بدل دیں۔ تب اللہ بھی وہ نعمت ان سے سلب کر لیتا ہے اور ان کے حالات بدل دیتا ہے، جیسا کہ انہوں نے خود اپنی حالت کو بدل دیا تھا۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت، عدل اور اپنے بندوں پر احسان کار فرما ہے کہ انھیں ان کے ظلم ہی کی وجہ سے سزا سے دو چار کرتا ہے۔"[11] [11] تفسیر سعدی (ص : 324)۔
- کبیرہ گنا زمین میں فساد وبگاڑ کے ظہور کا سبب ہیں؛ کیونکہ فساد گناہوں کے سبب ہی ظاہر ہوتا ہے اور بدرجہ اولیٰ کبیرہ گناہوں کے سبب۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: "خشکی اور تری میں لوگوں کی بد اعمالیوں کے باعث فساد پھیل گیا۔ اس لیے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ تعالیٰ چکھا دے، (بہت) ممکن ہے کہ وه باز آجائیں." [ الروم : 41 ]
- کبیرہ گناہ علم سے محرومی کا سبب بنتے ہیں؛ کیونکہ علم ایک نور ہے، جسے اللہ تعالیٰ دل میں ڈالتا ہے اور معصیت اس نور کو بجھا دیتی ہے۔ جب امام شافعی رحمہ اللہ، امام مالک رحمہ اللہ کے روبرو بیٹھے اور انہیں کچھ پڑھ کر سنایا، تو وہ ان کی ذہانت کی فراوانی، ذکاوت کی تیزی اور کمالِ فہم کو دیکھ کر بہت متاثر ہوئے اور فرمایا: ""بے شک میں دیکھتا ہوں کہ اللہ نے تمہارے دل میں نور ڈال دیا ہے۔ چنانچہ اسے معصیت کی تاریکی سے مت بجھانا" [12]۔" [12] دیکھیں: مناقب الشافعي للبيهقي (1/ 104)۔
- کبیرہ گناہ اپنے مرتکب کے معاملات میں تنگی اور دشواری کا سبب بنتے ہیں۔ چنانچہ وہ جس کام کا بھی رخ کرتا ہے، اسے اپنے لیے ناممکن یا دشوار پاتا ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے کہ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے کام میں آسانی پیدا فرما دیتا ہے۔ لہذا جو شخص تقویٰ کو چھوڑ کر کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے، اللہ اس کے کام میں دشواری پیدا کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "جو نفیس چیزیں ان کے لئے حلال کی گئی تھیں، وه ہم نے ان پر حرام کردیں، ان کے ظلم کے باعث اور اللہ تعالیٰ کی راه سے اکثر لوگوں کو روکنے کے باعث۔ اور سود، جس سے منع کئے گئے تھے، اسے لینے کے باعث اور لوگوں کا مال ناحق مار کھانے کے باعث اور ان میں جو کفار ہیں، ہم نے ان کے لیے المناک عذاب مہیا کر رکھا ہے۔" (النساء : 160-161)
- کبیرہ گناہ اپنے مرتکب کے دل میں ایک تاریکی پیدا کر دیتا ہے، جسے وہ ایسے ہی محسوس کرتا ہے جیسے رات کی تاریکی کو محسوس کرتا ہے۔ چنانچہ گناہ کی تاریکی اس کے دل کے لیے ویسی ہی ہو جاتی ہے جیسی حسی تاریکی اس کی آنکھ کے لیے ہوتی ہے۔ کیونکہ اطاعت نور ہے اور گناہ تاریکی ہے، یہ تاریکی جتنی قوی ہوتی جاتی ہے، اس کی حیرانی وگمراہی اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ بدعتوں، گمراہیوں اور ہلاکت خیز امور میں واقع ہو جاتا ہے اور اسے اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ چنانچہ حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم لوگ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ اسی درمیان انھوں نے پوچھا: تم میں سے کس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فتنوں کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ کئی لوگوں نے جواب دیا : ہم نے سنا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : شاید تم لوگ اہل وعیال اور پڑوسی کا فتنہ سمجھ رہے ہو؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں! عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس طرح کے فتنوں کا کفارہ نماز، روزہ اور صدقہ بن جاتا ہے۔ تم میں سے کس نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اس فتنے کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے، جو سمندر کی لہروں کی طرح اٹھے گا؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہيں : اس پر سب لوگ خاموش رہ گئے۔ تب میں نے کہا : میں نے سنا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : شاباش! حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: «فتنے دلوں پر چٹائی کے ایک ایک تنکے کی مانند پیش ہوتے ہیں۔ چنانچہ جس دل میں یہ فتنے جاگزیں ہو جائیں، اس میں ایک سیاہ نکتہ پڑ جاتا ہے اور جس دل نے ان کو ٹھکرا دیا، اس میں ایک سفید نکتہ پڑ جاتا ہے، یہاں تک کہ دل دو طرح کے ہو جاتے ہیں: ایک سفید چکنے پتھر کی طرح، جسے کوئی فتنہ نقصان نہیں پہنچا سکتا جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں، اور دوسرا سیاہی مائل، اوندھے کوزے کی طرح، جو نہ نیکی کو پہچانتا ہے اور نہ برائی کا انکار کرتا ہے، سوائے اس کے جو اس کی خواہشِ نفس نے اسے پلا دیا ہو» [13]۔ [13] صحیح مسلم، حدیث نمبر : 144۔
- کبیرہ گناہ کی وجہ سے دشمنی اور بغض پیدا ہوتا ہے اور دشمن مسلط ہو جاتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اور جو اپنے آپ کو نصرانی کہتے ہیں، ہم نے ان سے بھی عہد وپیمان لیا۔ چنانچہ انہوں نے بھی اس کا بڑا حصہ فراموش کر دیا، جو انہیں نصیحت کی گئی تھی۔ تو ہم نے بھی ان کے درمیان آپسی بغض وعداوت ڈال دی، جو تا قیامت رہے گی اور جو کچھ یہ کرتے تھے عن قریب اللہ تعالیٰ انہیں سب بتا دے گا۔" [المائدۃ: 14]، چنانچہ جب لوگ اللہ کے بعض احکامات کو چھوڑ دیتے اور اس کی منع کردہ چیزوں کا ارتکاب کرتے ہیں، تو ان کے درمیان عداوت اور بغض پیدا ہو جاتا ہے اور ان پر دشمن مسلط ہو جاتے ہیں [14]۔ [14] دیکھیں: مجموع الفتاوى (3/ 421)۔
- کبیرہ گناہ معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتے ہیں، کیونکہ ان کی وجہ سے برے اخلاق، جیسے جھوٹ، بہتان تراشی، غیبت، چغل خوری، دھوکہ دہی، فریب، تکبر، فخر اور لوگوں کا ایک دوسرے کا مال ناحق کھانا جیسی برائیاں عام ہوجاتی ہیں۔ اسی طرح زندگی میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے اور لوگوں کے درمیان اذیت پھیل جاتی ہے جیسا کہ جادو وغیرہ میں ہوتا ہے۔ نیز بے حیائی کے کام جیسے زنا، لواطت، زنانہ پن اور مردوں اور عورتوں کا ایک دوسرے کی مشابہت اختیار کرنا بھی عام ہو جاتے ہیں۔[15] [15] دیکھیں: الداء والدواء لابن القيم (1/ 132)۔
مرتکبِ کبیرہ اور احادیثِ وعد ووعید کے بارے میں اہل سنت کا موقف:
اہل سنت کا موقف یہ ہے کہ کبیرہ گناہ کا مرتکب، جس کا گناہ شرک اور کفرِ اکبر سے کم تر ہو، وہ ایک ناقص الایمان مومن ہے۔ اس کے ایمان میں اس کے گناہ کے بقدر کمی آ جاتی ہے۔ چنانچہ اس سے نہ تو ایمان کا نام بالکلیہ سلب کیا جاتا ہے اور نہ ہی اسے علی الاطلاق مومن کہا جاتا ہے۔ وہ یا تو ناقص الایمان مومن ہے یا پھر اپنے ایمان کی وجہ سے مومن اور اپنے کبیرہ گناہ کی وجہ سے فاسق ہے۔ آخرت میں اس کا معاملہ اللہ کی مشیت کے تحت ہوگا؛ اگر اللہ چاہے تو اسے بخش دے گا اور بغیر کسی سابقہ عذاب کے جنت میں داخل فرما دے گا، اور اگر چاہے تو اس کے جرم کے بقدر اسے عذاب دے گا اور پھر (اس عذاب سے) نکال کر مومنوں کے ساتھ جنت میں داخل فرما دے گا۔ کبھی کبھی بندہ آخرت سے پہلے دنیا میں ہی کبیرہ گناہ سے پاک ہو جاتا ہے۔ یہ پاکی؛ سچی توبہ کے ذریعے، اس پر حد قائم کیے جانے سے، مصیبتوں کے ذریعے یا نیک اعمال کی کثرت سے حاصل ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ قیامت کے دن جب آئے گا تو اسے کسی عذاب کا سامنا نہیں ہوگا۔
رہی بات ان حدیثوں کی، جن میں مرتکبینِ کبائر کے لیے وعید آئی ہے، مثلا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ""کوئی زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تو مومن نہيں ہوتا، کوئی شراب پینے والا جب شراب پیتا ہے تو مومن نہيں ہوتا، کوئی چوری کرنے والا جب چوری کرتا ہے، تو مومن نہيں ہوتا۔""[16] تو ان احادیث سے مراد یہ ہے کہ اس سے کامل ایمان کی صفت زائل ہو جاتی ہے اور اسلام باقی رہتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ اس گناہ کو چھوڑ کر اس سے توبہ کر لیتا ہے تو اس کا ایمان دوبارہ لوٹ آتا ہے۔ چنانچہ ان کبیرہ گناہوں کے ارتکاب کی حالت میں صرف کامل ایمان کی نفی ہوتی ہے اور اصلِ ایمان باقی رہتا ہے؛ کیونکہ دیگر احادیث میں اس شخص کے لیے بھی جنت میں داخلے کا وعدہ آیا ہے جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو، گرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو۔ جیسا کہ ابو ذر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا اور اس نے مجھے خوش خبری دی کہ میری امت کا جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو وہ جنت میں جائے گا۔‘‘ میں نے پوچھا: اگرچہ وہ زنا کرے اور چوری کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اگرچہ وہ زنا اور چوری کرے۔‘‘ [17]۔ [16] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 2475، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 57۔ [17] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1237، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 94۔
کبیرہ گناہوں کا سد باب:
- معاشرے کے افراد میں گناہوں، بالخصوص کبیرہ گناہوں کی سنگینی کا شعور بیدار کرنا اور انھیں یہ سمجھانا کہ ان گناہوں کی وجہ سے پورا معاشرہ سزاؤں اور مصیبتوں کی لپیٹ میں آجاتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اور تم ایسے وبال سے بچو کہ جو خاص کر صرف ان ہی لوگوں پر واقع نہ ہو گا، جو تم میں سے ان گناہوں کے مرتکب ہوئے ہیں اور یہ جان رکھو کہ اللہ سخت سزا دینے واﻻ ہے۔" [الانفال: 25]۔
- شرعی علم حاصل کرنا نفس کو گناہوں سے روکتا ہے؛ کیونکہ جو شخص ان گناہوں پر مرتب ہونے والی سزاؤں سے واقف ہوتا ہے، اس کا نفس ان میں پڑنے سے باز رہتا ہے۔
- نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے ہوئے اہلِ فسق وفجور کو کبیرہ گناہوں سے روکنا اور ان پر ان کی سرزنش کرنا۔ چنانچہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کی حدود پر قائم رہنے والوں اور ان کی خلاف ورزی کرنے والوں کی مثال ایسے لوگوں کی سی ہے، جنہوں نے ایک کشتی میں جگہ کی تعیین کے لیے قرعہ اندازی کی، جس کے نتیجہ میں کچھ لوگوں نے کشتی کے اوپر والے حصے میں اور کچھ لوگوں نے نیچے والے حصے میں جگہ حاصل کی۔ جو لوگ نیچے والے حصے میں تھے، انہیں پانی لینے کے لیے اوپر والوں کے پاس سے گزرنا پڑتا۔ لہذا انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ ہم اپنے ہی حصہ میں ایک سوراخ کر لیں، تاکہ اوپر والوں کو ہم کوئی تکلیف نہ دیں ۔ اب اگر اوپر والے نیچے والوں کو من مانی کرنے دیں گے، تو سب کے سب ہلاک ہو جائیں گے اور اگر اوپر والے نیچے والوں کا ہاتھ پکڑلیں گے (اور انہیں ایسا نہیں کرنے دیں گے) تو یہ خود بھی بچ جائیں گے اور باقی لوگ بھی بچ جائیں گے۔" [18] [18] صحیح بخاری، حدیث نمبر: 2493۔
حدیث کے الفاظ «القَائِمِ عَلَى حُدُودِ اللَّهِ» کے معنی ہیں: اللہ تعالیٰ کے احکامات پر قائم رہنے والا، منہیات سے اجتناب کرنے والا، بھلائی کا حکم دینے والا اور برائی سے روکنے والا۔ «الوَاقِعِ فِيهَا» کے معنی ہیں: نیکی کو ترک کرنے والا اور برائی کا ارتکاب کرنے والا۔ «اسْتَهَمُوا» کے معنی ہيں: انہوں نے قرعہ اندازی کی، تاکہ ہر شخص اپنی جگہ حاصل کر سکے۔ «أَخَذُوا عَلَى أَيْدِيهِمْ» کے معنی ہیں: انہیں کشتی میں شگاف ڈالنے سے روکا۔
- خاندان کی طرف سے دی جانے والی درست ایمانی تربیت اور والدین کا اپنے بچوں کی نگرانی کرنا، خاص طور پر نوجوانی کے مرحلے میں، اس کے نتیجے میں صالح نوجوان کی ایک ایسی نسل پروان چڑھتی ہے، جو ایمانی رنگ میں رنگی ہوئی اور عمدہ اخلاق سے متصف ہوتی ہے۔
- گناہوں کا جائز متبادل فراہم کرنا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جتنی بھی چيزیں حرام کی ہیں ان کا حلال متبادل بھی رکھا ہے۔ مثلا زنا کا متبادل یہ ہے کہ نوجوانوں کی جلدی شادی کر دی جائے۔ چوری کا سدباب افراد کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کر کے، غیبت اور لوگوں کی عزت و آبرو اچھالنے کا سدباب فارغ اوقات کو اللہ تعالیٰ کی عبادت یا اس کے مشروع کردہ مباح امور میں صرف کر کے کیا جا سکتا ہے۔ یہی معاملہ ہر نافرمانی اور کبیرہ گناہ کا ہے۔
- نوجوانوں کی صلاحیتوں کو استعمال میں لانا اور انہیں دین ودنیا کے ان امور کی رہنمائی کرنا جو امت کے لیے نفع بخش ہوں، جیسے علمِ شرعی سیکھنا، اسلامی دعوت کی نشر واشاعت کرنا، اور دنیا کے فائدہ مند نظریاتی وعملی علوم جیسے طب، انجینئرنگ، تجارت وغیرہ حاصل کرنا، نیز بڑھئی اور لوہار کے کام جیسی مفید صنعتوں اور دستکاریوں کو سیکھنا۔ کیونکہ نفس اگر اطاعت میں مشغول نہ ہو تو معصیت میں مشغول ہو جاتا ہے۔
مسلمان کو اپنے ایمان کی مسلسل خبر گیری کرنی چاہیے؛ کیونکہ ایمان دل میں اسی طرح بوسیدہ ہو جاتا ہے، جس طرح کپڑا بوسیدہ ہوتا ہے۔ اس لیے دل کی اصلاح کے لئے کثرت سے ایسے نیک اعمال کرنے چاہئے جو ایمان میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔
- مسلمان کو ہر اس چیز سے دور رہنا چاہیے، جو اسے گناہ کی دعوت دیتی ہو۔ خاص طور پر اس دور میں جبکہ سوشل میڈیا اور ایسی ویب سائٹس کا طوفان برپا ہے جو فحاشی، الحاد اور ہر اس چیز کو فروغ دیتی ہیں، جو اللہ کو ناراض کرتی ہے۔ ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے لیے شر کا کوئی دروازہ نہ کھولے، کیونکہ جو اسے کھولتا ہے، وہ اس میں داخل ہو جاتا ہے۔ نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ نے ایک مثال بیان کی ہے (جو کہ) صراط مستقیم (سیدھا راستہ) ہے، اس راستے کے دونوں طرف دو دیواریں ہیں، جن میں کھلے ہوئے دروازے ہیں، اور ان دروازوں پر پردے لٹکے ہوئے ہیں۔ راستے کے دروازے پر ایک پکارنے والا ہے جو کہتا ہے: اے لوگو! سب کے سب اس راستے میں داخل ہو جاؤ اور ادھر اُدھر نہ بھٹکو۔ اور ایک پکارنے والا راستے کے اوپر سے پکارتا ہے۔ چنانچہ جب کوئی ان دروازوں میں سے کسی کو کھولنا چاہتا ہے تو وہ (پکارنے والا) کہتا ہے: تیری خرابی ہو! اسے مت کھول، کیونکہ اگر تو نے اسے کھول دیا، تو تو اس میں داخل ہو جائے گا۔ صراط سے مراد اسلام ہے، دو دیواروں سے مراد اللہ کی حدود ہیں، کھلے ہوئے دروازوں سے مراد اللہ کی حرام کردہ چیزیں ہیں، اور وہ پکارنے والا جو راستے کے سرے پر ہے، وہ اللہ کی کتاب ہے، اور وہ پکارنے والا جو راستے کے اوپر سے (پکارتا) ہے، وہ ہر مسلمان کے دل میں اللہ کا واعظ (اور ناصح) ہے"۔ [19] [19] مسند احمد، حدیث نمبر : 17634۔
- حکام اور اہل حل وعقد حضرات کی ذمے داری ہے کہ وہ دین کی حفاظت کا فریضہ انجام دیں، جس میں امر بالمعروف، نہی عن المنکر، اس کا ازالہ اور حدود کا قیام وغیرہ شامل ہیں۔ چنانچہ معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے: ”کوئی ایسا بندہ، جسے اللہ کسی رعایا کا نگران بناتا ہے اور مرنے کے دن وہ اس حالت میں مرتا ہے کہ اپنی رعیت سے دھوکا کرکے جا رہا ہوتا ہے، تو اللہ اس پر جنت حرام کردیتا ہے“ [20]۔ ایک اور حدیث میں ارشاد نبوی ہے: "تم میں سے جو شخص کوئی غلط کام دیکھے، وہ اسے اپنے ہاتھ (قوت) سے بدل دے۔ اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنی زبان سے اس کی نکیر کرے۔ اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنے دل میں (اسے برا جانے) اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے"۔ [21] یہ مرتبہ دراصل صاحبِ قوت وغلبہ یا صاحبِ ولایت کے لیے ہے۔ [20] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 7150، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 142۔ مذکورہ الفاظ مسلم کے ہیں۔ [21] صحیح مسلم، حدیث نمبر : 49۔
اخیر میں اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں اور اعضاء وجوارح کو اپنی اطاعت پر قائم رکھے اور ہمیں تمام ظاہری وباطنی اور چھوٹے بڑے گناہوں سے محفوظ رکھے۔
کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرانا
اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی على الاطلاق سب سے بڑی مثال اور سب سے بڑا گناہ ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کی توحید کے منافی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "بے شک شرک بڑا بھاری ظلم ہے." [لقمان: 13] عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تو اللہ کا شریک بنائے، جب کہ اسی نے تجھے پیدا کیا ہے‘‘۔ [22] الند: یعنی شریک۔ [22] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 4477، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 86۔
شرک کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ جل وعلا کے ساتھ ربوبیت، عبادت یا اسماء وصفات میں کسی کو شریک یا ہمسر ٹھہرایا جائے، اور یہ کہ بندہ اللہ کے حقوق میں سے کوئی حق یا عبادت کی کوئی قسم غیر اللہ کے لیے انجام دے۔ لہذا ہر وہ عقیدہ، قول یا عمل جس کا شارع کی طرف سے مامور بہ ہونا ثابت ہو، اُسے صرف اللہ وحدہٗ کے لیے بجا لانا توحید، ایمان اور اخلاص ہے، اور اُسے اللہ کے علاوہ کسی اور کے لیے بجا لانا شرک اور کفر ہے۔
شرک میں مردوں کو پکارنا، ان سے ضرورت کی چیزیں مانگنا، ان کے لیے نذر ماننا اور ان سے مدد طلب کرنا، اسی طرح غیر اللہ کو سجدہ کرنا، غیر اللہ کے لیے ذبح کرنا اور ان جیسے دیگر امور داخل ہیں۔
شرک کی حرمت، اس کی شناعت اور اس کے عظیم جرم ہونے کے دلائل بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ کچھ دلائل ملاحظہ ہوں:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہت بڑا گناه اور بہتان باندھا۔" [النساء: 48] ایک اور مقام پر اللہ پاک نے فرمایا: "...یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے، اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے اور گنہگاروں کی مدد کرنے واﻻ کوئی نہیں ہوگا۔" [المائدۃ: 72] ایک اور جگہ فرمایا: "یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے (کے تمام نبیوں) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیاں کاروں میں سے ہوجائے گا۔ بلکہ تو اللہ ہی کی عبادت کر اور شکر کرنے والوں میں سے ہو جا۔" [الزمر: 65 - 66]۔
ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’کیا میں تمھیں سب سے بڑے گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟‘‘ آپ ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی۔ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! ضرور بتائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی جان کو قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا‘‘۔ [23] [23] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 4477، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 86۔
شرک کے بہت سے نقصانات ہیں۔ چند نقصانات ملاحظہ ہوں:
- شرک تمام اعمال کو برباد کر دیتا ہے، جیسا کہ فرمان الہی ہے: "...اور اگر فرضاً یہ حضرات بھی شرک کرتے تو جو کچھ یہ اعمال کرتے تھے وه سب اکارت ہوجاتے۔" [الانعام : 88]۔
- جو شخص شرک کی حالت میں مر جائے اور اس سے توبہ نہ کرے، وہ ہمیشہ ہمیش جہنم میں رہے گا۔ چنانچہ جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! واجب کر دینے والی دو چیزیں کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: "جو شخص اس حالت میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے تو وہ جنت میں جائے گا اور جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے تو وہ جہنم میں جائے گا۔" [24] [24] صحیح مسلم، حدیث نمبر : 93۔
- مشرک کا خون ومال معصوم نہیں ہے؛ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ جب وہ یہ سب کرنے لگیں گے تو مجھ سے اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو محفوظ کر لیں گے، سوائے اسلام کے حق کے، اور ان کا (باطنی) حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہوگا۔“ [25] [25] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 25، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 22۔
- مشرک کو دنیا میں جو مصیبتیں پیش آتی ہیں‘ ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے کوئی مدد اور سہارا نہیں ملتا، شیطان ہر طرف سے اس پر مسلط ہو جاتا ہے اور وہ بے چینی واضطراب، دائمی خوف اور مسلسل غم میں زندگی بسر کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالى ہے: "... سنو! اللہ کے ساتھ شریک کرنے واﻻ گویا آسمان سے گر پڑا، اب یا تو اسے پرندے اچک لے جائیں گے یا ہوا کسی دور دراز کی جگہ پھینک دے گی۔" [الحج: 31]۔
شیخ سعدی رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: "...یہی حال مشرک کا ہے؛ ایمان آسمان کی مانند ہے جو محفوظ اور بلند ہے۔ جو شخص ایمان کو چھوڑ دیتا ہے وہ آسمان سے گرنے والے کی طرح ہے، جو آفتوں اور مصیبتوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اسے پرندے اچک کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے ہیں۔ اسی طرح مشرک جب ایمان کا مضبوط بندھن چھوڑ دیتا ہے تو شیاطین اسے ہر طرف سے اچک لیتے ہیں، اسے پارہ پارہ کر دیتے ہیں اور اس کے دین ودنیا کو برباد کر دیتے ہیں" [26]۔ [26] تفسیر سعدی (ص : 538)۔
- مشرک کو نہ غسل دیا جائے گا، نہ کفن پہنایا جائے گا، نہ اس پر جنازہ کی نماز پڑھی جائے گی اور نہ ہی اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔
شرک سے بچاؤ کے ذرائع :
ایک مسلمان درج ذیل امور کے ذریعے خود کو شرک سے محفوظ رکھ سکتا ہے:
- توحید اور صحیح عقیدہ سیکھے اور اس کے تقاضے کے مطابق عمل کرے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "سو (اے نبی!) آپ یقین کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے..." [محمد : 19] امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَٱعۡلَمۡ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّه...﴾، یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس بات کا علم کہ اُس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، بذاتِ خود مطلوب ہے۔ اگرچہ صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے ساتھ صرف ایک اللہ کی عبادت بھی ضروری ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ یہ دونوں امور بذاتِ خود مطلوب ہیں: ایک یہ کہ رب تعالیٰ کو اس کے اسما وصفات، افعال اور احکام کے ذریعے پہچانا جائے، اور دوسرا یہ کہ ان کے موجبات اور تقاضوں کے مطابق اس کی عبادت کی جائے۔ چنانچہ جس طرح اس کی عبادت بذاتِ خود مطلوب ومقصود ہے، اسی طرح اس کا علم اور اس کی معرفت بھی (مطلوب ہے)۔ نیز علم بھی افضل ترین عبادات میں سے ہے۔ [27]۔ [27] مفتاح دار السعادة: (1/ 178)۔
- شرک اصغر سے اجتناب کیا جائے؛ جیسے تھوڑی سی ریاکاری، غیر اللہ کی قسم کھانا اور کسی کا دوسرے سے ان جیسے جملے کہنا: ”جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں“، ”یہ اللہ کی طرف سے اور آپ کی طرف سے ہے“، ”میں اللہ کے اور آپ کے سہارے ہوں“ اور ”میں نے اللہ پر اور آپ پر بھروسہ کیا“۔ کیونکہ شرکِ اصغر، شرکِ اکبر کی راہ ہموار کرتا ہے۔
- لوگوں میں پھیلی ہوئی شرک کی صورتوں اور اقسام کی معرفت، تاکہ اپنے آپ کو ان سے دور رکھے۔
- اللہ عزوجل سے دعا کرنا کہ وہ توحید پر ثابت قدم رکھے اور شرک سے محفوظ فرمائے۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں خبر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: "(ابراہیم کی یہ دعا بھی یاد کرو) جب انہوں نے کہا کہ اے میرے پروردگار! اس شہر کو امن واﻻ بنادے اور مجھے اور میری اوﻻد کو بت پرستی سے پناه دے۔" [ابراھیم: 35]، نیز رسول اللہ ﷺ اکثر فرمایا کرتے تھے: ”اے دلوں کو الٹنے پلٹنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔“ [28] [28] سنن ترمذی، حدیث نمبر : 2140۔
اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ گھڑنا۔
عام جھوٹ کبیرہ گناہوں میں سے ہے اور جھوٹ کی سب سے قبیح اور بدترین قسم اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر جھوٹ باندھنا ہے۔ سعدی فرماتے ہیں: "کوئی شخص اس سے بڑا ظالم اور مجرم نہیں جو اللہ پر جھوٹ بولے، اس طرح کہ وہ اللہ کی طرف کوئی ایسا قول یا حکم منسوب کرے جس سے اللہ تعالیٰ بری ہے۔ یہ شخص مخلوق میں سب سے بڑا ظالم اس لیے ہے کہ اس کے اس عمل میں جھوٹ بولنا اور دین کے اصول وفروع میں تبدیلی لانا شامل ہے، اور اس (جھوٹ) کو اللہ کی طرف منسوب کرنا ایک عظیم ترین فساد ہے۔"[29] [29] تفسیر سعدی (ص : 265)۔
جھوٹ کی اقسام میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کوئی اللہ کے کلام کی تفسیر اللہ کی مراد کے خلاف کرے۔ کیونکہ کلام سے مقصود اس کا معنی ہوتا ہے۔ لہذا جب کوئی کہتا ہے کہ اللہ نے اس سے یوں مراد لی ہے، تو وہ اللہ پر جھوٹ باندھنے والا اور اللہ عز و جل کے خلاف ایک ایسی بات کی گواہی دینے والا ہے جس کا اللہ نے ارادہ نہیں فرمایا۔ اسی طرح جب کوئی اللہ کے رسول ﷺ کی حدیث کی تشریح آپ ﷺ کی مراد کے خلاف کرے، تو وہ بھی جھوٹ بولنے والوں میں شامل ہے۔
اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ باندھنے کی حرمت اور اس کے قبیح و سنگین جرم ہونے کے دلائل بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ ان میں سے کچھ دلائل ملاحظہ ہوں:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "وه کہتے ہیں کہ اللہ اوﻻد رکھتا ہے۔ سبحان اللہ! وه تو کسی کا محتاج نہیں۔ اسی کی ملکیت ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ تمہارے پاس اس پر کوئی دلیل نہیں۔ کیا اللہ کے ذمے ایسی بات لگاتے ہو جس کا تم علم نہیں رکھتے؟ آپ کہہ دیجئے کہ جو لوگ اللہ پر جھوٹ افترا کرتے ہیں، وه کامیاب نہ ہوں گے۔ یہ دنیا میں تھوڑا سا عیش ہے، پھر ہمارے پاس ان کو آنا ہے، پھر ہم ان کو ان کے کفر کے بدلے سخت عذاب چکھائیں گے۔" [یونس : 68-70]
لہذا جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا اور یہ دعویٰ کیا کہ اللہ کی کوئی بیوی یا اولاد یا شریک ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے والا ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے: "اور جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے، آپ دیکھیں گے کہ قیامت کے دن ان کے چہرے سیاه ہوگئے ہوں گے۔ کیا تکبر کرنے والوں کاٹھکانا جہنم میں نہیں ہے؟" (الزمر: 60)۔
سمعانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اللہ پر جھوٹ باندھنے کے معنی یہ ہیں کہ انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی بیٹا یا شریک بنا لیا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ پر باندھا جانے والا ہر جھوٹ شامل ہے"۔ [30]۔ [30] تفسيرِ سمعانی (4/ 478)۔
ارشاد باری تعالی ہے: "اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پرجھوٹ باندھے؟ یہ لوگ اپنے پروردگار کے سامنے پیش کئے جائیں گے اور سارے گواه کہیں گے کہ یہ وه لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ باندھا تھا۔ خبردار ہو کہ اللہ کی لعنت ہے ظالموں پر۔" [ھود : 18]
ارشاد باری تعالی ہے: "کسی چیز کو اپنی زبان سے جھوٹ موٹ نہ کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ بہتان باندھ لو۔ سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ پر بہتان بازی کرنے والے کامیابی سے محروم ہی رہتے ہیں۔ انہیں بہت معمولی فائده ملتا ہے اور ان کے لئے ہی دردناک عذاب ہے۔" [النحل : 116-117]
ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس میں کوئی شک نہیں کہ حرام کو حلال یا حلال کو حرام ٹھہرانے کے لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ پر عمداً جھوٹ باندھنا سراسر کفر ہے“۔ [31] [31] الزواجر عن اقتراف الكبائر (1/ 162)۔
اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’بے شک مجھ پر جھوٹ بولنا کسی اور پر جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے۔ جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔‘‘ [32] [32] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1291، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 933۔
نووی کہتے ہیں: "اس میں آپ ﷺ پر جھوٹ باندھنے کی حرمت کی سنگینی بیان ہوئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ یہ ایک عظیم بے حیائی اور ہلاکت خیز کبیرہ گناہ ہے، لیکن اس جھوٹ کی وجہ سے کوئی شخص کافر نہیں ہوتا، اِلّا یہ کہ وہ اسے حلال سمجھ لے۔ علما کے مذاہب میں یہی مشہور قول ہے۔" [33]۔ [33] شرح مسلم (1/ 69)۔
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھنا جہنم میں داخل ہونے اور اس میں اپنا ٹھکانہ بنا لینے کا موجب ہے اور یہ ایک ایسا لازمی ٹھکانہ ہے کہ اس کا مکین اس سے کبھی جدا نہیں ہوگا"۔ [34] [34] مدارج السالكين (1/ 379)۔
اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ باندھنے کے بہت سے نقصانات ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
- اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا مشرکوں کا طریقہ ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: "کسی چیز کو اپنی زبان سے جھوٹ موٹ نہ کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ بہتان باندھ لو۔ سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ پر بہتان بازی کرنے والے کامیابی سے محروم ہی رہتے ہیں۔ انہیں بہت معمولی فائده ملتا ہے اور ان کے لئے ہی دردناک عذاب ہے۔" [النحل: 116- 117].
ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی راہ پر چلنے سے منع فرمایا ہے، جنھوں نے محض اپنی عقل سے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حامی جیسے نام رکھ کر چیزوں کو حلال وحرام ٹھہرا لیا تھا، اور اس طرح کی دیگر چیزوں سے بھی (منع فرمایا ہے) جنھیں انھوں نے اپنی جاہلیت میں ایجاد کرکے اپنا دین بنا لیا تھا"۔ [35] [35] تفسیر ابن کثیر (4/609)-
- اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر جھوٹ باندھنا الٰہی شریعت کو بدل دینے کا سبب ہے۔ یعنی اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام یا حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دینا ہے۔
- یہ بدعات اور (دین میں) نت نئی ایجادات کی جانب لے جاتا ہے۔ ابن کثیر فرماتے ہیں: "اور اس حکم میں –یعنی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَذَا حَلَالٌ وَهَذَا حَرَامٌ﴾ میں– ہر وہ شخص داخل ہے جو محض اپنی رائے اور خواہشِ نفس کی بنا پر ایسی بدعت ایجاد کرے جس کی اس کے پاس کوئی شرعی دلیل نہ ہو، اللہ کی حرام کردہ کسی چیز کو حلال کر لے یا اللہ کی مباح کردہ کسی چیز کو حرام ٹھہرا لے۔" [36] [36] تفسیر ابن کثیر (609/4)-
اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ باندھنے کے جرم سے بچنے کے درج ذیل طریقے ہیں:
- کچھ کہنے یا کرنے سے پہلے علم حاصل کرنا۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو لازم پکڑنا اور بدعت سے اجتناب کرنا۔ چنانچہ عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "تم میری سنت کو اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو لازم پکڑنا۔ اسے داڑھوں سے مضبوطی سے پکڑ لینا اور دین میں نئے نئے کام ایجاد کرنے سے بچنا، کیوں کہ (دین میں) ہر نو ایجاد کردہ چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے"۔ [37] [37] سنن ابو داود، حدیث نمبر : 4607۔
- سچائی کا اہتمام کرنا۔ چنانچہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم سچائی کو لازم پکڑو؛ بلاشبہ سچ نیکو کاری کا راستہ بتلاتا ہے اور نیکو کاری یقینًا جنت میں پہنچا دیتی ہے۔ انسان ہمیشہ سچ بولتا رہتا ہے اور سچ بولنے کا ہی ارادہ رکھتا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ عز وجل کے یہاں اسے صدیق (بہت سچا) لکھ دیا جاتا ہے۔ اور جھوٹ سے مکمل پرہیز کرو، کیوں کہ جھوٹ گناہ کا راستہ بتلاتا ہے، اور گناہ یقینًا جہنم میں پہنچا دیتا ہے۔ انسان ہمیشہ جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ بولنے کا ہی ارادہ رکھتا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ عز وجل کے یہاں اسے کذاب (بہت جھوٹا) لکھ دیا جاتا ہے۔" [38] [38] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 6094، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 2607۔
- دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کا جو انجام ہوتا ہے‘ اس پر غور وفکر کرنا۔
- ایسے علما کا وجود جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا دفاع اور ان کی جانب منسوب جھوٹ کا رد کریں۔
بدعت
دین میں بدعت ایجاد کرنا کبیرہ گنا ہے۔ شرک کے بعد ابلیس کو بدعت سے بڑھ کر کوئی ایسا گناہ محبوب نہیں، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جائے۔ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "شیطان بندے پر سات گھاٹیوں میں سے کسی ایک گھاٹی میں غلبہ پانا چاہتا ہے، جن میں سے ہر گھاٹی دوسری سے زیادہ کٹھن ہے۔ وہ مشکل گھاٹی سے نیچے والی گھاٹی کی طرف اسی وقت اترتا ہے، جب وہ بندے کو اس میں دبوچ نہ سکے:
پہلی گھاٹی: اللہ کا، اس کے دین کا، اس سے ملاقات کا، اس کے صفاتِ کمال کا اور ان تمام باتوں کا انکار جن کی خبر اس کے رسولوں نے دی ہے۔ اگر شیطان اس گھاٹی میں بندے پر قابو پا لے، تو اس کی دشمنی کی آگ ٹھنڈی پڑ جاتی ہے اور اسے سکون مل جاتا ہے۔ لیکن اگر بندہ ہدایت کی بصیرت کے ساتھ اس گھاٹی کو عبور کر لے، اس سے نجات پا جائے اور ایمان کا نور اس کے دل میں سلامت رہے، تو شیطان دوسری گھاٹی میں اس کی تاک میں رہتا ہے: یہ بدعت کی گھاٹی ہے۔ بدعت یا تو اس حق کے خلاف عقیدہ رکھنا ہے، جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو بھیجا اور جسے اپنی کتاب میں نازل فرمایا، یا پھر دین میں نو ایجاد کردہ ایسے طور طریقوں اور رسموں کے ذریعے عبادت کرنا ہے جن کی اللہ تعالیٰ نے اجازت نہیں دی اور جنھیں وہ قبول نہيں کرتا۔ [39] [39] مدارج السالكين (1/ 237)۔
بدعت کی حقیقت: دین میں ایجاد کردہ ایک خود ساختہ طریقہ جو شرعی طریقے کے مشابہ ہو اور اسے اختیار کرنے سے مقصود اللہ سبحانہ کی عبادت میں مبالغہ کرنا ہو۔ [40] [40] الاعتصام للشاطبی : 1/50۔
ممنوعہ بدعت وہ ہے، جس کا تعلق دینی امور سے ہو۔ جہاں تک دنیوی امور کا تعلق ہے، مثلاً لوگوں کا گاڑی، ہوائی جہاز، کمپیوٹر، ٹیلیفون اور ان جیسی دیگر اشیا کا ایجاد کرنا، تو یہ سب بدعت نہیں کہلاتے، اگرچہ لغوی اعتبار سے انھیں بدعت کہہ دیا جائے۔
دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ایک ایسی روشن شاہراہ پر چھوڑ گئے ہیں جس کی راتیں دن کی طرح روشن ہیں۔ اس سے وہی بھٹکتا ہے جس کی قسمت میں ہلاکت لکھی ہو۔ ہر خیر پر آپ نے ہمیں ابھارا اور ہر شر سے ہمیں خبردار کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ناقد کے لیے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی۔ اسی وجہ سے جس نے اللہ کے دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی اور جسے اس کے رسول نے مشروع نہیں کیا، اس میں کوئی خیر نہیں، بلکہ اسے اس کے کرنے والے کے منہ پر مار دیا جائے گا۔ لہذا ہر وہ کام جس پر نبی ﷺ، آپ کے خلفائے راشدین اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کاربند نہ تھے، اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا درست نہیں ہے۔ چنانچہ ہمیں اپنے لیے وہی پسند کرنا چاہیے جسے انھوں نے اپنے لیے پسند کیا، کیونکہ وہ اصحاب علم وبصیرت تھے۔
جان لیں کہ دین کے نام پر وجود میں آنے والی ہر بدعت حرام اور گمراہی ہے، ہر گمراہی اور گمراہ ہونے والوں کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اس کی حرمت کے بہت سے دلائل موجود ہیں۔ کچھ دلائل ملاحظہ ہوں:
اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب اور اپنے نبی کی سنت کے علاوہ کسی اور کی پیروی سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا: "تم لوگ اس کی اتباع کرو جو تمہارے رب کی طرف سے آئی ہے اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر من گھڑت سرپرستوں کی اتباع مت کرو۔ تم لوگ بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو۔" [الاعراف: 3].
دوسری جگہ اللہ پاک نے فرمایا: "کیا ان لوگوں نے ایسے (اللہ کے) شریک (مقرر کر رکھے) ہیں جنہوں نے ایسے احکام دین مقرر کر دیے ہیں جو اللہ کے فرمائے ہوئے نہیں ہیں؟..." [الشوری: 21]
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ""جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی، جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ مردود ہے"۔ [41] [41] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 2697، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1718۔
- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: "امّابعد؛ سب سے اچھی بات کتاب اللہ ہے، سب سے بہتر طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے، بدترین امور (دین کے نام پر ایجاد کردہ) نت نئی بدعتیں ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے"۔ [42] [42] صحیح مسلم، حدیث نمبر : 867۔
حذیفہ بن اليمان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: "ہر وہ عبادت، جسے محمد ﷺ کے صحابہ نے نہ کیا ہو، اسے تم نہ کرنا، کیوں کہ پہلوں نے بعد والوں کے لیے کچھ کہنے کو نہیں چھوڑا۔ اس لیے، اے علما کی جماعت! تم اللہ سے ڈرو اور اپنے پیش رو کے نقشِ قدم پر چلو۔" [43] [43] الباعث على إنكار البدع والحوادث (ص: 16)۔
سفیان ثوری رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ”بدعت ابلیس کو گناہ سے زیادہ محبوب ہے۔ گناہ سے تو توبہ ہو جاتی ہے، مگر بدعت سے توبہ نہیں کی جاتی“ [44]۔ [44] اس روایت کو امام لالکائی نے ’’شرح اصول الاعتقاد‘‘ (ص : 238) میں نقل کیا ہے۔
بدعت کے متعدد نقصانات اور مفاسد ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
- روز اول سے آج تک دنیا بھر کے تجربات اور مشاہدات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسانی عقل اپنے مفادات کے تعین میں خود مختار نہیں ہے۔ اسی لیے ایک ایسی شریعت کا ہونا ناگزیر ہے، جس پر انسان چلے، جسے اس کے رب نے پیدا کیا ہے اور وہی اس کے نفع ونقصان کو سب سے بہتر جانتا ہے۔ لہذا جب وہ اپنے رب کی مرضی پر نہیں چلے گا، تو خود اپنا نقصان اور اپنی ہلاکت کا سامان کرے گا۔
- بدعتی خواہشِ نفس کی پیروی کرتا ہے؛ کیونکہ جب عقل شریعت کی پیروکار نہ ہو، تو اس کے پاس خواہشِ نفس اور شہوت کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندے داؤد علیہ السلام سے ارشاد فرماتا ہے: "اور اپنی نفسانی خواہش کی پیروی نہ کرو، ورنہ وه تمہیں اللہ کی راه سے بھٹکا دے گی۔ یقیناً جو لوگ اللہ کی راه سے بھٹک جاتے ہیں، ان کے لئے سخت عذاب ہے، اس لئے کہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا ہے۔" [ص : 26]۔
- شریعت اسلامیہ کامل شریعت ہے۔ اس میں کسی کمی بیشی کی گنجائش نہیں ہے؛ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: "...آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔" [المائدۃ : 3] لہذا جس نے دین میں کوئی بدعت ایجاد کی، اس نے دراصل یہ دعویٰ کیا کہ شریعت ناقص ہے اور نبی ﷺ نے وحی کا کچھ حصہ چھپا لیا ہے۔
- بدعتی شریعت سے عناد رکھتا اور اس کی مخالفت کرتا ہے؛ اس لیے کہ شارع نے عبادت کے لیے کچھ خاص طریقے اور کیفیات متعین فرما دی ہیں اور امر ونہی اور وعد و وعید کے ذریعے مخلوق کو انہی کا پابند بنایا ہے۔ یہ بھی بتا دیا ہے کہ خیر انہی میں مضمر ہے اور ان سے تجاوز کرنا سراپا شر ہے۔ کیونکہ اللہ جانتا ہے اور ہم نہیں جانتے اور اس نے اپنے رسول ﷺ کو رحمۃ للعالمین ہی بنا کر بھیجا ہے۔ جب کہ بدعتی ان ساری باتوں کو درکنار کرتا ہے۔ کیونکہ وہ یہ دعوی کرتا ہے کہ اللہ کی عبادت کے کچھ اور بھی طریقے ہيں۔ شارع کا کھنچا ہوا دائرہ حرف آخر نہيں ہے۔ گویا وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ شارع جانتا ہے اور ہم بھی جانتے ہیں۔ بلکہ بسا اوقات نئے طریقے رائج کر کے وہ یہ جتلانا چاہتا ہے کہ وہ کچھ ایسی باتیں بھی جانتا ہے جو شارع کو معلوم نہيں تھیں۔ یہ بات اگر سچ مچ بدعتی کے دل میں ہو، تو یہ شریعت اور شارع کے ساتھ کفر ہے۔ اور اگر دل میں نہ بھی ہو، تب بھی یہ کھلی گمراہی ہے۔
اس سے بچنے کے راستے:
اس سنگین کبیرہ گناہ سے بچنے کے لیے درج ذیل طریقے اپنائے جا سکتے ہیں:
- کتاب وسنت کو مضبوطی سے تھامنا اور اس کی زیادہ سے زیادہ لوگوں میں تبلیغ واشاعت کرنا۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: "اللہ تعالیٰ کی رسی کو سب مل کر مضبوط تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو..." [آل عمران: 103] اللہ کی رسی: اسلام، قرآن اور سنت۔
- عقیدے سے متعلق ان امور میں صرف کتاب وسنت پر اعتماد کیا جائے جن میں اجتہاد، استحسان اور قیاس کی کوئی گنجائش نہیں ہے، نیز متشابہات کی بحث میں نہ پڑا جائے؛ کیونکہ اس میں پڑنا ضلالت وبدعت کی علامت اور مسلمانوں پر آنے والی ہر بلا ومصیبت کا سبب ہے۔
- فرد اور معاشرے کی عملی زندگی میں سنت کی تطبیق۔ مطلب یہ کہ انسان سنت سے متعلق اپنے علم کو زندگی کے تمام شعبوں میں عملی طور پر نافذ کرے۔ سنت کی یہ تطبیق بدعت کو معاشرے میں ایک منکر اور ناپسندیدہ عمل بنا دیتی ہے، جس سے اس کے قبیح خد وخال اور بد نما صورت نمایاں ہو جاتی ہے اور وہ خود ہی اپنی قباحت اور اسلام ومسلمانوں کے لیے اپنے اندر پوشیدہ خطرے کو واضح کر دیتی ہے۔
- امر بالمعروف اور نہی عن المنكر؛ کیونکہ بدعتیں ابتدا میں چھوٹی ہوتی ہیں، پھر بڑی ہو جاتی ہیں، اسے کوئی ایک فرد ایجاد کرتا ہے اور جلد ہی خواہش پرست لوگ اس کے گرد جمع ہو جاتے ہیں۔ لہذا جب بھلائی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے معاشرے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں، تو وہ بدعتوں کا خاتمہ اور سنتوں کو زندہ کرتے ہیں۔
- دین کے خلاف ہونے والی تمام ظاہری اور خفیہ مہم کی تردید کرنا، بدعت کے مظاہر کو بے نقاب کرنا اور ان کے سدِّ باب اور خاتمہ کے لیے قرآن وسنت کی روشنی میں ان پر روشنی ڈالنا، نیز سنت کی حدود سے ہر قسم کے انحراف سے گریز کرنا، چاہے وہ کتنا ہی معمولی یا کم اثر کیوں نہ ہو۔
- عوام کو علم کے بغیر دینی معاملات میں بات کرنے سے روکنا اور ان کے عہدہ ومنصب سے قطع نظر، ان کی خلافِ شرع آرا کا اعتبار نہ کرنا۔
ریا ونمود
ریاکاری عمل کو ضائع کر دینے والا ایک کبیرہ گناہ ہے؛ کیونکہ یہ شرک کی اُن اقسام میں سے ہے، جن سے شریعت نے خبردار کیا ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "بلاشبہ مجھے تم پر جس چیز کا خوف سب سے زیادہ ہے، وہ شرک اصغر ہے۔" صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! شرک اصغر کیا ہے؟ آپ نے جواب دیا: "ریاکاری..." [45]. [45] مسند احمد : 23630۔
ریا کا مطلب یہ ہے کہ بندہ کوئی عمل کرتے وقت صرف اللہ کی رضا کو پیش نظر نہ رکھے، خواہ صرف لوگوں کے لیے کرے یا پھر عمل تو اللہ کے لیے ہو اور اس کے ساتھ لوگوں کی توجہ بھی مقصود ہو۔ یہ دونوں ہی صورتیں ریا ہیں۔
رِیا بسا اوقات اصلِ ایمان میں ہوتا ہے، جو کفر اور نفاق ہے اور کبھی ایسے اعمال میں ہوتا ہے جو اصلِ ایمان میں داخل نہیں ہیں۔ ایسی صورت میں یہ شرکِ اصغر ہے۔
دلائل:
ریا کی حرمت کے بہت سے دلائل موجود ہیں۔ کچھ دلائل ملاحظہ ہوں:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "اے ایمان والو! اپنی خیرات کو احسان جتا کر اور ایذا پہنچا کر برباد نہ کرو! اس شخص کی طرح، جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرے اور نہ اللہ پر ایمان رکھے نہ قیامت پر..." [البقرۃ: 264]۔
ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالی ہے: "بے شک منافق اللہ سے چالبازیاں کر رہے ہیں اور وه انہیں اس چالبازی کا بدلہ دینے واﻻ ہے اور جب نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو بڑی کاہلی کی حالت میں کھڑے ہوتے ہیں، صرف لوگوں کو دکھاتے ہیں..." [النساء: 142]
ایک اور جگہ میں اللہ تعالی نے فرمایا: "... تو جسے بھی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہئے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے۔" [الکھف: 110] یعنی: وہ اپنے عمل میں نہ کسی کو شریک ٹھہرائے اور نہ ریاکاری کرے۔
ایک اور مقام پر اللہ پاک فرماتا ہے: "ان نمازیوں کے لئے افسوس (اور ویل نامی جہنم کی جگہ) ہے۔ جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔ جو ریاکاری کرتے ہیں۔" [الماعون: 4 - 6]
نقصانات:
ریاکاری کے نقصانات:
- ریاکاری اگر اصلِ ایمان میں ہو، تو یہ ہمیشہ ہمیش کے لیے جہنم میں جانے کا سبب ہے، کیونکہ اس صورت میں یہ کفر اور نفاق ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اور جب ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی ایمان والے ہیں اور جب اپنے بڑوں کے پاس جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں۔ ہم تو ان سے صرف مذاق کرتے ہیں۔" [البقرۃ : 14]۔ ایک اور مقام پر اللہ پاک نے فرمایا : "منافق تو یقیناً جہنم کے سب سے نیچے کے طبقہ میں جائیں گے۔ ناممکن ہے کہ تو ان کا کوئی مددگار پالے۔" [النساء: 145]
- ریاکاری انسان کے اعمال کی بربادی کا سبب بنتی ہے۔ چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: میں تمام شرکاء میں شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں۔ جو کوئی ایسا عمل کرے، جس میں میرے ساتھ کسی دوسرے کو بھی شریک کرے، میں اس کو اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں۔‘‘ [46]۔ [46] صحیح مسلم، حدیث نمبر : 2985۔
ریاکار کو آخرت میں اپنے ان اعمال کا کوئی اجر وثواب نہیں ملے گا، جو اس نے لوگوں کو دکھانے کے لیے انجام دیے۔ چنانچہ محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ""بلاشبہ مجھے تم پر جس چیز کا خوف سب سے زیادہ ہے، وہ شرک اصغر ہے۔" صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! شرک اصغر کیا ہے؟ آپ نے جواب دیا: "ریا کاری ۔ جب لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا تو اللہ عز و جل قیامت کے دن اس طرح کے لوگوں سے کہے گا: ان لوگوں کے پاس جاؤ، جن کو دکھانے کے لیے تم دنیا میں عمل کرتے تھے۔ دیکھو، کیا تم ان کے یہاں بدلہ پاتے ہو؟" [47] [47] مسند احمد: 23630
- ریا کاری جہنم میں جانے کا سبب ہے۔ چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بے شک قیامت کے دن جن لوگوں کا سب سے پہلے فیصلہ کیا جائے گا، ان میں ایک وہ شخص ہوگا جو شہید کیا گیا تھا۔ اسے (اللہ کی بارگاہ میں) لایا جائے گا، اللہ اسے اپنی نعمتیں یاد کرائے گا اور وہ انہیں پہچان لے گا۔ اللہ فرمائے گا: تو نے ان (نعمتوں) کے بدلے کیا عمل کیا؟ وہ عرض کرے گا: میں نے تیری راہ میں قتال کیا، یہاں تک کہ شہید کر دیا گیا۔ اللہ فرمائے گا: تو نے جھوٹ کہا، بلکہ تو نے تو اس لیے قتال کیا تھا کہ تجھے بہادر کہا جائے، اور وہ (دنیا میں) کہا جا چکا۔ پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا، چنانچہ اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ اور دوسرا وہ شخص ہوگا جس نے علم سیکھا اور سکھایا اور قرآن پڑھا۔ اسے لایا جائے گا، اللہ اسے اپنی نعمتیں یاد کرائے گا اور وہ انہیں پہچان لے گا۔ اللہ فرمائے گا: تو نے ان کے بدلے کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں نے علم سیکھا، اسے سکھایا اور تیری خاطر قرآن پڑھا۔ اللہ فرمائے گا: تو نے جھوٹ کہا، بلکہ تو نے علم اس لیے سیکھا تھا کہ تجھے عالم کہا جائے، اور قرآن اس لیے پڑھا کہ تجھے قاری کہا جائے، اور وہ (دنیا میں) کہا جا چکا۔ پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا، چنانچہ اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ اور تیسرا وہ شخص ہوگا جسے اللہ نے (رزق میں) کشادگی دی تھی اور اسے ہر قسم کے مال سے نوازا تھا۔ اسے لایا جائے گا، اللہ اسے اپنی نعمتیں یاد کرائے گا اور وہ انہیں پہچان لے گا۔ اللہ فرمائے گا: تو نے ان کے بدلے کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں نے کوئی ایسی راہ نہیں چھوڑی جس میں خرچ کرنا تجھے پسند ہو، مگر اس میں تیری خاطر خرچ کیا۔ اللہ فرمائے گا: تو نے جھوٹ کہا، بلکہ ایسا تو نے اس لیے کیا تھا کہ تجھے بڑا سخی کہا جائے، اور وہ (دنیا میں) کہا جا چکا۔ پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا، تو اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا‘‘۔ [48] [48] صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1905۔
- ریاکاری قیامت کے دن تمام مخلوقات کے سامنے رسوائی کا سبب ہے۔ چنانچہ جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص لوگوں کو سنانے کے لیے عمل کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیب دوسروں کو سنائے گا، اور جو شخص دکھاوے کے لیے عمل کرے گا، اللہ اس کی اصلیت سب کو دکھائے گا۔‘‘ [49] حدیث کے الفاظ 'يُرَائِي اللَّهُ بِهِ' کے معنی ہیں: قیامت کے دن اس کے بارے میں ندا لگائی جائے گی کہ وہ لوگوں کو سنانے والا اور دکھاوا کرنے والا تھا۔ [49] صحیح بخاری، حدیث نمبر: 6499۔
اس سے بچنے کے راستے:
ریا کاری سے بچنے کے درج ذیل طریقے ہیں:
- بندہ اپنے دل میں اس بات کا یقین رکھے کہ اللہ اس کے باطن سے واقف ہے اور اس کے سینے کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا: "کیا وه نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے دل کا بھید اور ان کی سرگوشی سب معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ غیب کی تمام باتوں سے خبردار ہے۔" [التوبۃ: 78]
- اس بات کو ذہن میں رکھے کہ اللہ تعالیٰ بندے کی نگرانی فرما رہا ہے۔ یہی ’احسان‘ کا وہ مقام ہے جس کا ذکر نبی ﷺ نے حدیثِ جبریل میں فرمایا۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ’’تم اللہ تعالیٰ کی عبادت اس انداز سے کرو کہ تم اسے دیکھ رہے ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو (دل میں یہ احساس جاگزیں ہو کہ) وہ تمہیں دیکھ رہا ہے‘‘ [50]۔ [50] صحیح مسلم، حدیث نمبر: 97
- اپنے تمام اقوال واعمال میں اخلاص پیدا کرے اور ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا طلب کرے۔
- یہ یقین رکھے کہ لوگ اس کے نفع ونقصان کے مالک نہیں ہیں۔ جب وہ خالص اللہ کے لیے کوئی عمل کرتا ہے تو اللہ اس سے راضی ہوجاتا ہے اور اس سے محبت کرنے لگتا ہے، چنانچہ اسے لوگوں میں مقبولیت عطا کر دی جاتی ہے اور لوگ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ اسے لوگوں کو دکھانے کے لیے کام کرنے کی ضرورت نہيں ہے۔ چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "بے شک اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام کو بلا کر فرماتا ہے: میں فلاں سے محبت کرتا ہوں، تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ جبریل اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر آسمان میں ندا لگاتے ہوئے کہتے ہیں: بے شک اللہ تعالیٰ فلاں سے محبت کرتا ہے، تم بھی اس سے محبت کرو۔ تو آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ پھر اس کے لیے زمین میں مقبولیت رکھ دی جاتی ہے۔ اور جب وہ کسی بندے سے نفرت کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام کو بلا کر فرماتا ہے: میں فلاں سے نفرت کرتا ہوں، تم بھی اس سے نفرت کرو۔ چنانچہ جبریل بھی اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں، پھر آسمان والوں میں ندا لگاتے ہوئے کہتے ہیں: بے شک اللہ تعالیٰ فلاں سے نفرت کرتا ہے، تم بھی اس سے نفرت کرو۔ تو وہ بھی اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں، پھر اس کے لیے زمین میں نفرت رکھ دی جاتی ہے۔" [51] [51] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 3209، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 2637۔
- ریاکاری سے اللہ کی پناہ مانگنا۔ ایک حدیث میں نبی ﷺ کا فرمان ہے: "اے لوگو، اس شرک سے بچو؛ کیونکہ یہ چیونٹی کی آہٹ سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے۔" اس پر ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم اس سے کیسے بچیں، جبکہ یہ چیونٹی کی آہٹ سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "کہو: اے اللہ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں کہ ہم جانتے بوجھتے تیرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائیں، اور اس گناہ کی تجھ سے معافی مانگتے ہیں جسے ہم نہیں جانتے۔" [52]" [52] مسند احمد : 19606
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنی دعاؤں میں کہا کرتے تھے: ""اے اللہ! میرے تمام عمل کو صالح بنا دے، اسے خالص اپنی رضا کے لیے کر دے، اور اس میں کسی کا کوئی حصہ نہ رکھ۔" [53] علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اللہ سے یوں دعا کرتے تھے: ""اے اللہ! میرے دل کو نفاق سے، میرے سینے کو کینہ سے اور میرے اعمال کو ریاکاری سے پاک کر دے۔" [54]" [54] مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث نمبر: 2951۔ [53] مجموع فتاوى ابن تیمیہ: (1/99)۔
- ریا کاری سے نجات کے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنا۔ اللہ تعالی نے مومنوں کے بارے میں فرمایا: "ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔" [الفاتحۃ : 5]۔
- عبادت کو مخفی رکھنا اور اسے ظاہر نہ کرنا؛ سوائے ان عبادتوں کے جنہیں ظاہر کرنا مشروع ہے۔ جیسے اذان، باجماعت نماز اور ان جیسی دیگر عبادتیں، جنہیں چھپانا نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی مشروع۔
نماز چھوڑنا
اسلام میں نماز کا ایک بلند مقام ہے۔ یہ دین کا ستون اور شہادتین کے بعد پہلی عبادت ہے۔ چنانچہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور بے شک محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، خانہ کعبہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“ [55] [55] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 8، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 21
نماز ترک کرنا ایک عظیم ترین گناہ ہے اور اسے چھوڑنے والے پر کفر کا اندیشہ ہے۔ چنانچہ جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”بے شک آدمی اور شرک وکفر کے درمیان (فاصلہ مٹانے والا عمل) نماز کا ترک کرنا ہے۔“ [56] [56] صحیح مسلم، حدیث نمبر : 134۔
دلائل:
نماز چھوڑنے کی حرمت اور اس کی شناعت وسنگینیِ جرم کے بہت سے دلائل موجود ہیں، جن میں سے چند ملاحظہ ہو:
اللہ پاک کا فرمان ہے: "پھر ان کے بعد ایسے ناخلف پیدا ہوئے کہ انہوں نے نماز ضائع کردی اور نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے، سو ان کا نقصان ان کے آگے آئے گا۔" [مریم: 59] یعنی: ان کے آگے بڑا سخت اور دوہرا عذاب ہوگا۔ مفسرین ذکر کرتے ہیں کہ اضاعتِ صلاۃ سے مراد یا تو اسے کلی طور پر ترک کر دینا ہے یا پھر اسے اس کے اوقات سے مؤخر کرنا ہے۔ [57] [57] دیکھیں: تفسیر ابن کثیر: (5/ 243)۔
ارشاد باری تعالی ہے: "تمہیں دوزخ میں کس چیز نے ڈاﻻ؟ وه جواب دیں گے کہ ہم نمازی نہ تھے۔" [المدثر: 42-43] معلوم ہوا کہ نماز ترک کرنا جہنم میں داخل ہونے کا سبب ہے۔ اللہ ہمیں اس سے بچائے۔
اللہ تعالی کا مزید ارشاد ہے: "ان نمازیوں کے لئے افسوس (اور ویل نامی جہنم کی جگہ) ہے۔ جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔" [الماعون: 4 - 5]
شیخ سعدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’﴿ان نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے﴾ یعنی جو پابندی کے ساتھ نماز تو قائم کرتے ہیں، لیکن وہ ﴿اپنی نماز سے غافل ہیں﴾، یعنی اسے ضائع کر دیتے ہیں، اسے وقت سے مؤخر کر دیتے اور اس کے ارکان کو فوت کر دیتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ کے حکم کو اہمیت نہیں دی، جس کی وجہ سے انہوں نے نماز کو ضائع کیا، جو کہ اہم ترین اطاعت اور افضل ترین عبادت ہے۔‘‘[58] [58] تفسیر سعدی (ص : 935)۔
بریدہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہمارے اور ان (کافروں) کے درمیان فرق نماز کا ہے۔ جس نے نماز چھوڑدی، اس نے کفر کیا۔“ [59] [59] سنن ترمذی، حدیث نمبر: 261۔
شقیق بن عبد اللہ رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: ""محمد ﷺ کے صحابہ نماز کے سوا کسی عمل کے ترک کرنے کو کفر نہیں سمجھتے تھے۔" [60] [60] سنن ترمذی، حدیث نمبر : 2622۔
اضرار
نماز ترک کرنے کے بہت سے نقصانات ہیں۔ چند نقصانات یہ ہیں:
- اسلام کے ظاہری شعائر میں سے ایک عظیم شعار کا ضیاع۔
- نماز ترک کرنے والے کے تئیں کفر میں واقع ہونے کا اندیشہ ہے۔ اللہ کی پناہ۔ فقہا کا اس میں اختلاف ہے کہ کیا وہ کافر ہے اور اس پر کفار کے احکام جاری ہوں گے یا وہ کبیرہ گناہ کا مرتکب ہے؟
- بے نمازی کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ مِسوَر بن مَخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اس رات عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے جس رات آپ کو خنجر مارا گیا تھا اور انھیں نمازِ فجر کے لیے بیدار کیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں، اسلام میں اس شخص کا کوئی حصہ نہیں جو نماز ترک کر دے“۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس حالت میں نماز پڑھی کہ ان کے زخم سے خون بہہ رہا تھا۔[61] يثعب دمًا: خون کا بہنا اور پھوٹ کر نکلنا۔ [61] موطأ مالک : 51
امام باجی رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’عمر رضی اللہ عنہ کے قول: ’’اسلام میں اس شخص کا کوئی حصہ نہیں، جس نے نماز چھوڑدی‘‘ کا مطلب ہے کہ اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں اور اس کے اعمال قبول نہیں کیے جاتے؛ کیونکہ نماز تمام اسلامی اعمال میں سب سے پہلے قبول ہونے والا اور سب سے بلند مرتبہ عمل ہے۔ چنانچہ جس نے نماز ترک کردی، دیگر تمام اسلامی اعمال میں اس کا حصہ باطل ہو گیا، وہ ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا پاتا اور نہ ہی ان میں اس کا کوئی حصہ رہتا ہے‘‘۔[62] [62] المنتقى شرح الموطأ (1/ 86)-
- نماز چھوڑنا قیامت کے دن ناکامی اور خسارے کا باعث ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”بلا شبہ قیامت کے دن بندے کے اعمال میں سے سب سے پہلے اس کی نماز کا حساب ہو گا۔ اگر اس کی نماز صحیح رہی، تو پھر وہ کامیاب ہو گیا اور نجات پاگیا۔ لیکن اگر نماز کا معاملہ بگڑ گیا، تو پھر وہ نا کام ونامراد ہوگیا“۔ [63] [63] سنن ترمذی، حدیث نمبر : 413۔
عون بن عبد اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یقیناً بندے کو جب اس کی قبر میں داخل کیا جاتا ہے تو سب سے پہلی چیز جس کے بارے میں اس سے سوال ہوتا ہے، وہ نماز ہے۔ چنانچہ اگر نماز درست نکلی تو اس کے دیگر اعمال کو دیکھا جائے گا اور اگر وہ درست نہ نکلی تو اس کے بعد اس کے کسی عمل کو نہیں دیکھا جائے گا۔" [64] [64] الكبائر للذهبي (ص: 20)۔
`- جو شخص ایک نماز بھی ترک کرتا ہے، اللہ اس پر غضب ناک ہوتا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جو شخص جان بوجھ کر ایک نماز چھوڑ دے، وہ اللہ تعالی سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضب ناک ہوگا“ [65]۔ [65] الكبائر للذهبي (ص: 20)۔
- نبی ﷺ کو بے نمازیوں سے قتال کا حکم دیا گیا ہے۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ جب وہ یہ کرلیں گے تو مجھ سے اپنی جان اور مال محفوظ کرلیں گے سوائے اسلام کے حق کے، اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہوگا۔“ [66] [66] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 25، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 22۔
- اس نور سے محرومی جس کے بارے میں نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: "نماز نور ہے"۔ [67] [67] صحیح مسلم، حدیث نمبر : 223۔
- نماز چھوڑنا مسلم معاشرے میں بے حیائی اور برائیوں کو عام کرتا ہے؛ کیوں کہ مسلمانوں کا نماز کی پابندی کرنا انہیں اور معاشرے کو بے حیائی اور برائی سے روکتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "...اور نماز قائم کریں، یقیناً نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے..." [العنكبوت: 45]
اس سے بچنے کے راستے:
اس کبیرہ گناہ سے بچنے کے درج ذیل طریقے ہیں:
- اس بات کی معرفت حاصل کرنا کہ اسلام میں نماز کی بڑی قدر ومنزلت ہے اور قرآن وسنت کی روشنی میں اس کا علم حاصل کرنا۔
- نبی ﷺ کی نماز کا طریقہ سیکھنا۔ چنانچہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم اسی طرح نماز پڑھو، جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔“ [67] [67] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 631، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 674۔
- مسجد میں مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ فرض نمازوں کی ادائیگی کی پابندی کرنا اور کسی چیز کو وقت پر نماز سے غافل کرنے کا سبب نہ بننے دینا۔ اللہ تعالی نے فرمایا: "اے مسلمانو! تمہارے مال اور تمہاری اوﻻد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دیں اور جو ایسا کریں وه بڑے ہی زیاں کار لوگ ہیں۔" [المنافقون: 9] ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "مفسرین کی ایک جماعت کا قول ہے کہ اس آیت میں ذکر اللہ سے مراد پنجگانہ نمازیں ہیں۔ چنانچہ جو شخص اپنے مال، مثلاً اپنی خرید وفروخت، اپنے پیشے یا اپنی اولاد میں مشغول ہو کر، نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنے سے غافل رہا، وہ خسارہ پانے والوں میں سے ہے"۔ [68] [68] الزواجر عن اقتراف الكبائر (1/ 220)۔
- برے دوستوں اور نمازیں ضائع کرنے والے گناہ گاروں سے دور رہنا۔
- بچوں کو کم عمری ہی سے نماز کا عادی بنانا۔ عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب تمہارے بچے سات سال کے ہو جائیں تو انہیں نماز پڑھنے کا حکم دو اور جب وہ دس سال کے ہوجائیں تو نماز میں غفلت پر انہیں مارو۔"[69]۔ [69] سنن ابو داود، حدیث نمبر: 495۔
- کثرت سے نفل نمازیں پڑھنا؛ کیونکہ یہ فرائض میں رہ جانے والی کمیوں کو پورا کرتی ہیں۔ چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”بے شک قیامت کے دن بندے کے تمام اعمال میں سب سے پہلے اس کی نماز کا حساب ہو گا؛ اگر نماز درست ہوئی تو بندہ کامیاب اور سرخ رو ہو گیا اور اگر نماز خراب ہوئی تو وہ ناکام و نامراد ہو گیا۔ اگر اس کے فرائض میں کچھ کمی رہی، تو اللہ عز وجل فرمائے گا: دیکھو، کیا میرے بندے کے پاس کچھ نوافل ہیں کہ ان کے ذریعے فرائض کی کمی کو پورا کر دیا جائے؟ پھر اس کے سارے اعمال کا حساب اسی طریقے پر ہو گا۔“ [70] [70] سنن ترمذی، حدیث نمبر : 413۔
- نماز کی ادائیگی پر حاصل ہونے والے عظیم اجر وثواب کو جاننا کہ یہ مسلمان کا محبوب ترین عمل ہے جسے وہ اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے ادا کرتا ہے اور یہ وہ وسیلہ ہے جس کے ذریعے بندہ اپنے خالق سے جڑتا، اسے پکارتا اور اس سے مدد طلب کرتا ہے۔
- نماز کو اول وقت میں ادا کرنے کی ضرورت پر حریص اور متنبہ رہنا اور اس کام میں مددگار وسائل کو استعمال کرنا، جیسے الارم لگانا، کسی دوست سے یاد دہانی کروانا یا ایسی چیز کی مدد لینا جس میں نماز کے اوقات پوری باریکی کے ساتھ درج ہوں وغیرہ۔
زکوٰۃ نہ دینا
زکوٰۃ اسلام کا ایک رکن اور واجب صدقہ ہے جو مالدار سے لے کر فقیر کو دیا جاتا ہے اور اسے ادا نہ کرنا ان کبیرہ گناہوں میں سے ہے جن کے مرتکب سے اللہ تعالیٰ نے ایمان کی نفی کی ہے، انہیں طرح طرح کی وعیدیں سنائی ہیں اور زندگی میں اور موت کے بعد شدید عذاب کی دھمکی دی ہے، جس میں دنیا کی ہلاکت اور آخرت کی بدبختی اور خسارہ شامل ہے۔ لہذا زکوٰۃ نہ دینا اس شخص پر وبال ہے جو زکوۃ نہيں دیتا اور اس معاشرے پر بھی جو اس کے اس کام سے راضی ہے اور اس کی اس بد عملی کی نکیر نہیں کرتا۔
جو شخص زکوٰۃ کی فرضیت کا انکار کرتے ہوئے زکوٰۃ نہ دے؛ اس کے کافر ہونے اور ملتِ اسلامیہ سے خارج ہو جانے میں کوئی شک نہیں۔ البتہ جو بخیلی اور کنجوسی کی وجہ سے زکوٰۃ نہیں دیتا، اس کا یہ عمل بہت بڑا اور سنگین گناہ ہے۔ کیوں کہ آیات واحادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ زکوٰۃ نہ دینا ان کبیرہ گناہوں میں سے ہے، جن پر اللہ تعالی نے دنیوی اور اخروی سزائیں متعین فرمائی ہیں۔
دلائل:
کتاب وسنت کے اندر زکوٰۃ نہ دینے والوں کو ڈرانے والے بہت سے نصوص موجود ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
اللہ تعالی کا فرمان ہے: "۔۔۔ اور جو لوگ سونے چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں اور اللہ کی راه میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خبر پہنچا دیجیے۔ جس دن اس خزانے کو آتش دوزخ میں تپایا جائے گا، پھر اس سے ان کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (اور ان سے کہا جائے گا) یہ ہے جسے تم نے اپنے لیے خزانہ بنا کر رکھا تھا۔ پس اپنے خزانوں کا مزه چکھو۔" [التوبة: 35-34]
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مال سے نوازا اور اس نے اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کی تو قیامت کے دن اس (مال) کو اس کے لیے ایک زہریلے سانپ کی شکل میں تبدیل کر دیا جائے گا، جس کی آنکھ کے اوپر دو سیاہ نقطے ہوں گے، اسے اس کے گلے میں طوق کی طرح ڈال دیا جائے گا، پھر وہ اس کے دونوں جبڑوں کو پکڑ کر کہے گا: "میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں"۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھا: ”جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کچھ دے رکھا ہے، وہ اس میں اپنی کنجوسی کو اپنے لیے بہتر خیال نہ کریں، بلکہ وہ ان کے لیے نہایت بدتر ہے۔ عن قریب قیامت والے دن وہ اپنی کنجوسی کی چیز کے طوق ڈالے جائیں گے۔ آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے اور جو کچھ تم کر رہے ہو، اس سے اللہ تعالیٰ آگاه ہے“۔[71] [ آل عمران: 180]۔ [71] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1403۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”جو بھی سونا یا چاندی والا شخص اپنے اس مال کا حق (زکوٰۃ) ادا نہیں کرتا، اس کے لیے قیامت کے دن آگ کی تختیاں تیار کی جائیں گی؛ اور انھیں جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر ان سے اس کے پہلو، اس کی پیشانی اور پشت کو داغا جائے گا۔ جب جب تختیاں ٹھنڈی ہو جائیں گی، انھیں دوبارہ گرمایا جائے گا۔ یہ عذاب ایک ایسے دن میں ہوگا، جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہوگی۔ (یہ سلسلہ جاری رہے گا) یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا، اور (عذاب میں گرفتار شخص) جنت یا جہنم کی جانب اپنا راستہ دیکھ لے گا۔“ [72] [72] صحیح مسلم، حدیث نمبر : 987۔
نبی ﷺ کی وفات کے بعد زکاۃ کے منکرین کے ساتھ صدیقِ اکبر ابوبکر رضی اللہ عنہ کا طرزِ عمل یہ تھا کہ آپ نے ان سے اس وقت تک قتال کیا، جب تک انہوں نے توبہ نہ کر لی اور اپنے اموال کی زکاۃ ادا نہ کر دی۔ چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: جب نبی ﷺ کی وفات ہو گئی اور ابو بکر رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے اور عرب کے بعض قبائل مرتد ہو گئے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابو بکر! آپ لوگوں سے کیسے لڑیں گے جب کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جہاد کروں یہاں تک کہ وہ ’لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ‘ کا اقرار کرلیں۔ جس نے ’لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ‘ کا اقرار کر لیا، اس نے اپنے مال اور اپنی جان کو سوائے حقِ اسلام کے، مجھ سے محفوظ کر لیا اور اس کا حساب اللہ کے سپرد ہے؟‘‘ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں ان لوگوں سے ضرور جہاد کروں گا، جو نماز اور زکاۃ کے درمیان فرق کریں گے، اس لیے کہ زکاۃ مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر یہ مجھ سے بکری کا ایک بچہ بھی (بکری کا وہ مادہ بچہ جس کی عمر ایک سال نہ ہوئی ہو) روکیں گے، جو وہ رسول اللہ ﷺ کو ادا کیا کرتے تھے، تو میں اس کے روکنے پر بھی ان سے جہاد کروں گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! زیادہ دیر نہیں ہوئی کہ مجھے یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے جہاد کے لیے ابو بکر رضی اللہ عنہ کا سینہ کھول دیا ہے اور میں نے جان لیا کہ یہی حق ہے۔ [73] [73] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1399 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 20۔
نقصانات:
زکاۃ نہ دینے کے کچھ نقصانات اس طرح ہیں:
- زکوٰۃ نہ دینا مشرکوں کے اوصاف میں سے ہے۔ زکوٰۃ نہ دینے والا انہی کی طرح ہے اور جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "۔۔۔ اور ان مشرکوں کے لیے (بڑی ہی) خرابی ہے جو زکوٰة نہیں دیتے۔۔۔۔" [ فصلت: 6-7]۔
- زکوٰۃ میں بخیلی نفاق کی علامت اور سبب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا: "۔۔۔اور برے دل سے ہی خرچ کرتے ہیں۔" [ التوبة: 54]
- زکوۃ نہ دینے کی وجہ سے قحط سالی کی آزمائش آتی ہے۔ چنانچہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”...اور جب بھی وہ اپنے اموال کی زکاۃ روک لیتے ہیں تو آسمان سے بارش روک لی جاتی ہے، اور اگر چوپائے نہ ہوتے تو ان پر کبھی بارش نہ برستی“ [74]۔ [74] سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر : 4019۔
- یہ ہلاکت اور بربادی کے مختلف اسباب کے ذریعے مال کی بربادی اور زوال کا سبب بنتا ہے۔
- زکاۃ نہ دینے سے معاشرے میں فقیروں اور مال داروں کے درمیان بغض وعداوت پھیلتی ہے۔
بچنے کے راستے:
اس کبیرہ گناہ کے ارتکاب سے بچنے کے بعض طریقے یہ ہیں:
- مسلمان کو یہ جاننا چاہیے کہ مال اللہ ہی کا دیا ہوا ہے اور یہ اسی کا فضل وکرم ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ اسی نے دیا ہے اور جو دیا ہے وہ اسی کا ہے۔ اسی نے محتاجوں کو زکوۃ دینے کا حکم دیا ہے۔ آپ اس مال کے محض ایک جانشین ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو آپ کو دے اور چاہے تو نہ دے۔
- زکوۃ ادا کرنے والا اس کی ادائیگی کی فضیلت اور اسے روکنے کی سزا کو پیش نظر رکھے۔ جب وہ جان لے گا کہ اللہ تعالیٰ اسے اس کا بدلہ دے گا اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے، اللہ اس صدقہ کو اس کے لیے پروان چڑھاتا اور بڑھاتا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ احد پہاڑ کی مانند ہو جاتا ہے، اور اسے ادا کرنے والے کو اللہ نے یہ خوش خبری دی ہے کہ اس پر دنیا میں کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ آخرت میں غمگین ہوگا، تو وہ اس کی طرف لپکے گا اور نیکیوں میں سبقت کرے گا۔ اسی طرح جب وہ جان لے گا کہ زکوۃ نہ دینے کی کیا سزا ہے، تو وہ اللہ کے دنیوی اور اخروی عذاب سے ڈرے گا اور اللہ تعالیٰ کے ثواب کی امید اور اس کے عذاب کے خوف سے اُس کے حکم کی تعمیل کرے گا۔
- بخیلی سے اللہ تعالی کی پناہ مانگنا۔ رسول اللہ ﷺ اس سے پناہ مانگنے کا حکم دیا کرتے تھے۔ مصعب بن سعد سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ پانچ چیزوں کا حکم دیا کرتے تھے اور انہیں نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے تھے کہ آپ ﷺ بھی ان کا حکم دیا کرتے تھے: ’’اے اللہ! یقیناً میں بخیلی، بزدلی اور اس بات سے تیری پناہ میں آتا ہوں کہ عمر کے ناکارہ ترین حصے کی طرف لوٹایا جاؤں، دنیا کے فتنے اور عذابِ قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘[75] [75] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 6365۔
زناکاری:
زنا ایک بہت بڑا گناہِ کبیرہ ہے، جو دینی اور اخلاقی بگاڑ کی علامت ہے۔ اس کا نقصان یہ ہے یہ معاشرے اور قوموں کو کمزوری، بگاڑ اور زوال سے دوچار کرتی ہے۔ نبی ﷺ نے بتایا کہ زنا کا عام اور رائج ہو جانا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا، جہالت عام ہو جائے گی، شراب پی جانے لگے گی اور زنا رائج ہوجائے گے۔" [76] [76] صحیح بخاری، حدیث نمبر: 80 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2671۔
دلائل:
زنا کی حرمت، اس کی شناعت اور اس کے جرمِ عظیم ہونے کی بہت سی دلیلیں موجود ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "خبردار زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا، کیوں کہ وه بڑی بےحیائی ہے اور بہت ہی بری راه ہے۔" (الإسراء : 32)۔
ایک اور جگہ فرمایا: "زناکار عورت و مرد میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ۔ ان پر اللہ کی شریعت کی حد جاری کرتے ہوئے تمہیں ہرگز ترس نہ کھانا چاہیے، اگر تمہیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہو۔ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت موجود ہونی چاہیے۔" [النور : 2]۔
نیز فرمان باری تعالیٰ ہے: "اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے منع کردیا ہو وه بجز حق کے قتل نہیں کرتے، نہ وه زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو کوئی یہ کام کرے وه اپنے اوپر سخت وبال ﻻئے گا۔ اسے قیامت کے دن دوہرا عذاب کیا جائے گا اور وه ذلت و خواری کے ساتھ ہمیشہ اسی میں رہے گا۔ سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان ﻻئیں اور نیک کام کریں۔ ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دیتا ہے، اللہ بخشنے واﻻ مہربانی کرنے واﻻ ہے۔" [الفرقان: 68-70]
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "کوئی زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تو مومن نہيں ہوتا۔" [77] [77] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 2475 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 100۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : میں نے نبی ﷺ سے دریافت کیا کہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کہ تو اللہ کا شریک بنائے، حالانکہ اسی نے تجھے پیدا کیا ہے“۔ میں نے عرض کیا: بے شک یہ تو بہت بڑا گناہ ہے۔ پھر میں نے پوچھا کہ اس کے بعد کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور یہ کہ تو اپنے بچے کو اس ڈر سے قتل کر دے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گا“۔ میں نے پوچھا کہ اس کے بعد کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے“۔ [78] [78] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 4477 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 86۔
اور عبادة بن الصامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’مجھ سے (یہ احکام) لے لو، مجھ سے لے لو۔کنوارے مرد اور کنواری عورت کے زنا کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے، اور شادی شدہ مرد وعورت کے زنا کی سزا سو کوڑے اور رجم (سنگسار کرنا) ہے۔‘‘ [79]۔ [79] صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1690۔
زنا کی تمام قسمیں حرام اور کبیرہ گناہوں میں سے ہیں، لیکن زنا کی بعض قسمیں اللہ کے نزدیک، دوسری قسموں سے بڑھ کر غضب اور ناراضگی کا باعث ہیں۔ چنانچہ زنا کی سنگین ترین اور اللہ کے نزدیک سب سے مبغوض اقسام یہ ہیں:
- محارم سے زنا: برا بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: "میری اپنے چچا سے ملاقات ہوئی. ان کے ساتھ ایک جھنڈا تھا۔ میں نے ان سے دریافت کیا: آپ کہاں جا رہے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کے پاس بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کر لیا ہے، آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں اور اس کا مال ضبط کر لوں"۔ [80] [80] سنن ابو داود، حدیث نمبر : 4457۔
- پڑوسی کی بیوی سے زنا: مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے, انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے زنا کے بارے میں پوچھا؟ انہوں نے جواب دیا: زنا حرام ہے، اسے اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کسی مرد کا دس عورتوں سے زنا کرنا اس سے ہلکا ہے کہ وہ اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے‘‘۔ [81] [81] امام بخاری نے اسے الأدب المفرد میں روایت کیا ہے، حدیث نمبر : 103۔
- جہاد میں نکلے ہوئے مجاہدوں کی بیویوں سے زنا کرنا: سلیمان بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’مجاہدین کی عورتوں کی حرمت پیچھے رہ جانے والوں پر ان کی ماؤں کی حرمت کی طرح ہے۔ پیچھے رہ جانے والوں میں سے جو شخص کسی مجاہد کے گھر والوں کا نگران بن کر ان کے بارے میں خیانت کرے، اسے قیامت کے دن اس مجاہد کے سامنے کھڑا کیا جائے گا اور پھر وہ اس کے عمل میں سے جتنا چاہے گا لے لے گا۔ لہذا تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘ [82]۔ [82] صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1897۔
- عمر دراز مردوں کا زنا: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تین ایسے لوگ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ کلام فرمائے گا، نہ انھیں (گناہوں سے) پاک کرے گا، نہ ان کی طرف (رحمت کی نظر سے) دیکھے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا: بوڑھا زانی، جھوٹا بادشاہ اور تکبر کرنے والا فقیر۔‘‘ [83] [83] صحیح مسلم، حدیث نمبر : 172۔
اس کے نقصانات:
زنا کے بہت سے نقصانات ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں :
- زنا میں مبتلا ہونے کی حالت میں بندے سے ایمان اٹھ جاتا ہے۔ پھر جب وہ توبہ کرلیتا ہے تو ایمان لوٹ آتا ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جب آدمی زنا کرتا ہے تو ایمان اس سے نکل جاتا ہے اور اس پر ایک سائبان کی طرح ہو جاتا ہے۔ پھر جب وہ اس (گناہ) سے رک جاتا ہے تو ایمان اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔“ [84] [84] سنن ابو داود، حدیث نمبر : 4690۔
- زنا اللہ تعالیٰ کے غضب، اس کی ناراضگی اور اس کے عذاب کا باعث بنتا ہے۔
- اس کی وجہ سے دنیا میں شرعی سزا لازم ہوتی ہے۔ اگر شادی شدہ ہو تو اسے موت تک سنگسار کیا جائے گا اور اگر کنوارا ہو تو سو کوڑے مارے جائیں گے۔
- زنا سے نسب خلط ملط ہوجاتے ہیں، خاندان بکھر جاتے ہیں، ان کے مابین وحشت پیدا ہوتی ہے اور معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے۔
- ایسی بیماریوں کا ظہور جو سابقہ زمانوں میں موجود نہیں تھیں، مثلاً ایڈز کا مرض۔
- زنا، حیا اور امانت کو زائل کر دیتا ہے۔
بچنے کے راستے:
جرمِ زنا کے ارتکاب سے بچنے کے کچھ طریقے یہ ہیں:
- نکاح، زنا سے بچنے کے قوی ترین اسباب میں سے ایک ہے۔ جو شخص نکاح کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ وہ روزے رکھے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو نکاح کرنے کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کر لے، کیونکہ یہ نظر کو نیچی رکھنے اور شرم گاہ کو محفوظ رکھنے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے، اور جو اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اسے روزے رکھنے چاہییں، کیونکہ روزہ اس کی شہوت کو ختم کر دیتا ہے۔“ [85] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1905 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1400۔
- اعضا وجوارح کو محفوظ رکھنا اور نگاہ نیچی رکھنا، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: "مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہی ان کے لئے پاکیزگی ہے، لوگ جو کچھ کریں اللہ تعالیٰ سب سے خبردار ہے۔ مسلمان عورتوں سے کہو کہ وه بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں..." [النور : 30-31] اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”یقیناً اللہ نے ابن آدم پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا ہے، وہ اسے لا محالہ پائے گا۔ چنانچہ آنکھ کا زنا دیکھنا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے، نفس تمنا اور خواہش کرتا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب۔“ [86] [86] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 6612 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 2657۔
- اجنبی عورت کے ساتھ خلوت میں نہ رہنا۔ چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی اختیار نہ کرے، الا یہ کہ اس کے ساتھ کوئی محرم ہو۔“ [87] [87] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 3006 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1341۔
- مسلمان عورت کا اس پردے کا اہتمام کرنا جس کا اللہ نے سورہ نور اور سورہ احزاب میں حکم دیا ہے اور ایسی بے پردگی سے اجتناب کرنا جس سے شریعت نے منع کیا ہے۔
- فحش ویب سائٹس میں داخل ہونے یا برے مرد وزن دوستوں سے رابطہ رکھنے سے گریز کرنا۔
- توبہ کی ترغیب اپنی تین شرطوں کے ساتھ (زنا کو ترک کرنا - اس پر نادم ہونا - اسے دوبارہ نہ کرنے کا عزم کرنا)، اللہ تعالی نے رحمٰن کے بندوں کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا: "نہ وه زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو کوئی یہ کام کرے وه اپنے اوپر سخت وبال ﻻئے گا۔ اسے قیامت کے دن دوہرا عذاب دیا جائے گا اور وه ذلت وخواری کے ساتھ ہمیشہ اسی میں رہے گا۔ سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان ﻻئیں اور نیک کام کریں، ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دیتا ہے، اللہ بخشنے واﻻ مہربانی کرنے واﻻ ہے۔" [الفرقان: 68-70]
چوری کرنا
چوری کبیرہ گناہوں میں سے ایک ایسا گناہ ہے جو انسان کی امانت اور دین داری میں خلل ڈالتا ہے۔ اللہ تعالی نے اس پر حد کو واجب ٹھہرایا ہے، جو کہ تمام شرطوں کے پائے جانے پر ہاتھ کاٹنا ہے۔ اس کبیرہ گناہ کے ارتکاب کے وقت اس کے مرتکب سے ایمان کی نفی کی ہے اور اس پر لعنت کو واجب قرار دیا ہے۔
کچھ اور بھی گناہ ہیں، جن کا یک گونہ تعلق چوری سے ہے، اگرچہ ان کا حکم الگ ہو۔ جیسے اچک لینا، لوٹ لینا اور پاکٹ مار لینا۔ ان قبیح افعال میں سے ہر ایک کا اپنا حکم اور اپنی سزا ہے۔
دلائل:
چوری کی حرمت، اس کی شناعت اور اس کے جُرم کی سنگینی کے بہت سے دلائل موجود ہیں، جن میں سے چند یہ ہيں:
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "چوری کرنے والے مرد اورچوری کرنے والی عورت کے ہاتھ کاٹ دیا کرو۔ یہ بدلہ ہے اس کا جو انہوں نے کیا۔ عذاب، اللہ کی طرف سے اور اللہ تعالیٰ قوت وحکمت واﻻ ہے۔" (المائدۃ: 38)۔
امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’اللہ نے لوگوں کا مال چرانے پر ہاتھ کاٹنے کی عبرت ناک سزا مقرر فرمائی ہے اور اللہ چور سے اپنے انتقام لینے میں غالب اور اُس حکم کو واجب ٹھہرانے میں حکیم ہے‘‘۔ [88] [88] الکبائر للذھبی (ص: 97)۔
نیز ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "زناکار جب زنا کر رہا ہوتا ہے تو وہ اس وقت مومن نہیں ہوتا اور جب چوری کر رہا ہوتا ہے تو اس وقت بھی مومن نہیں ہوتا۔"[89] [89] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 2475 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 75۔
مزید ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کی لعنت ہو چور پر، وہ انڈا چراتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے اور رسی چراتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے۔‘‘ [90]۔ [90] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 6810 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1687۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "ایک چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ قیمت کی چیز چرانے پر ہاتھ کاٹا جائے گا" [91]۔ [91] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 6789 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1684۔
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں غزوۂ فتح کے موقع پر ایک عورت نے چوری کر لی، تو اس کی قوم کے لوگ گھبرا کر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس سفارش کروانے کے لیے پہنچے۔ چنانچہ جب اسامہ نے اس عورت کے بارے میں آپ ﷺ سے گفتگو کی، تو رسول اللہ ﷺ کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کیا تم اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں مجھ سے بات کر رہے ہو؟‘‘ اسامہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے لیے مغفرت کی دعا فرمائیے۔ پھر جب شام ہوئی تو رسول اللہ ﷺ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے لائق حمد وثنا بیان کی، پھر فرمایا: ’’اما بعد! تم سے پہلے لوگوں کو اسی چیز نے ہلاک کیا کہ جب ان میں کوئی معزز آدمی چوری کر لیتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد قائم کر دیتے تھے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر محمد (ﷺ) کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کے بارے میں حکم صادر فرمایا اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ اس کے بعد اس نے سچی توبہ کی اور شادی کر لی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: "اس کے بعد وہ (میرے پاس) آیا کرتی تھیں اور میں ان کی ضرورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا کرتی تھی۔"[92] [92] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 4304 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1688۔
ہاتھ کاٹنے کی یہ سخت سزا دوسروں کے مال پر زیادتی کرنے کی وجہ سے مقرر ہے۔ یہ سزا دوسروں کو اس جرم سے باز رکھنے کے ساتھ ساتھ اس شخص کے لیے بھی باعثِ عبرت ہے، جو لوگوں کا مال چرانے کا خیال دل میں لاتا ہے۔ یہ چور کے لیے گناہ سے پاکی، معاشرے میں امن وسکون کے قیام اور لوگوں کے اموال کی حفاظت کا ذریعہ بھی ہے۔
نقصانات:
چوری کے بہت سے نقصانات ہیں، جن میں سے کچھ یہ ہیں:
- چوری کمالِ ایمان کے منافی ہے، جیسا کہ سابقہ حدیث میں آیا ہے: ’’چوری کرنے والا جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا‘‘۔
- چور اگر توبہ نہ کرے تو دنیاوی رسوائی کے ساتھ اس کے لیے آخرت میں بھی عذاب کی وعید آئی ہے۔
- یہ چور کے ہاتھ کاٹے جانے کا سبب ہے۔
- چور کو دعا کی قبولیت سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ’’رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کا ذکر فرمایا جو لمبا سفر کرتا ہے، جس کے بال پراگندہ اور وہ غبار آلود ہوتا ہے، وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر پکارتا ہے ’یا رب! یا رب!‘، جب کہ اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام اور اس کا لباس حرام ہے، اور اس کی پرورش حرام سے ہوئی ہے، تو اس کی دعا کیسے قبول کی جا سکتی ہے؟‘‘ [93]۔ [93] صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1015۔
- یہ نفس کی ذلت اور بے غیرتی کی دلیل ہے۔
- لوگ چور پر کسی بھی چیز کے بارے میں بھروسہ نہیں کرتے، خواہ وہ کتنی ہی حقیر کیوں نہ ہو۔
اس سے بچنے کے راستے:
چوری کے گناہ سے بچنے کے درج ذیل طریقے ہیں:
- چور کا ہاتھ کاٹ کر چوری کی حد نافذ کرنا، یہ معاشرے میں چوری کے سد باب کا ایک انتہائی مؤثر ذریعہ ہے۔
- امانت کی حفاظت کی ترغیب اور چوری وغیرہ جیسی خیانت سے ترہیب۔
- حلال روزی سے پورے خاندان کو ملنے والی برکت کو یاد کرنا اور چوری کی نحوست اور اس کے برے اثرات کو یاد کرنا۔
- بچوں کو عفت وپاک دامنی کی تربیت دینا، انھیں دوسروں کے حقوق اور املاک پر دست درازی سے روکنا، اور ان کی بنیادی ضروریات پوری کرنا تاکہ شیطان انھیں چوری کے لیے نہ ورغلائے‘ نیز انھیں برے دوستوں سے دور رکھنا جو ان کے سامنے اس طرح کے برے کاموں کو مزین کرکے پیش کرتے ہیں۔
- حرام کی بجائے حلال رزق اور اس کے ذرائع پر اکتفا کرنا، اس کے لیے کوشش کرنا اور اللہ عز و جل سے دعا کرنا۔ اسی ضمن میں نبی ﷺ سے یہ حدیث وارد ہے: ’’اے اللہ ! تو مجھے اپنی حلال چیزوں کے ساتھ اپنی حرام چیزوں سے کافی ہوجا اور مجھے اپنے فضل سے نواز کر، اپنے ماسوا سے بے نیاز کردے۔‘‘ [94] [94] سنن ترمذی، حدیث نمبر : 3563۔
شراب نوشی
شراب ان ناپاک چیزوں میں سے ہے، جنہیں شریعت نے حرام قرار دیا ہے۔ شریعت نے اسے استعمال کرنے، بنانے، بیچنے، اٹھانے، پلانے یا کسی بھی طرح اس میں شریک ہونے والے تمام لوگوں پر لعنت بھیجی ہے۔ شراب نوشی ان بڑے گناہوں میں سے ہے، جو انسان کو آخرت میں سخت وعید سے دوچار کرتے ہیں اور دنیا میں برے انجام تک پہنچاتے ہیں۔
نبی ﷺ نے بتایا کہ شراب نوشی کا رائج اور عام ہو جانا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔ چنانچہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "قیامت کی نشانیوں میں علم کا اٹھا لیا جانا، جہالت کا غالب ہو جانا، شراب پیا جانا اور زنا کا عام ہونا شامل ہيں"۔ [95] [95] صحیح بخاری، حدیث نمبر: 80 اور صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2671۔
شراب کے حکم میں ہر وہ چیز داخل ہے جو نشہ آور ہو اور عقل کو غائب کر دے، جیسے ہر قسم کی منشیات اور گانجا وغیرہ۔ یہ ساری چیزيں حرام ہیں اور ان میں سے کسی بھی چیز کا استعمال جائز نہیں ہے۔ چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ہر نشہ آور چیز 'خمر' (شراب) ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ جس نے دنیا میں شراب پی اور توبہ کیے بنا اس کی لت لے کر مر گیا، وہ آخرت میں اسے پینے سے محروم رہے گا"۔ [96] [96] صحیح مسلم، حدیث نمبر : 2003۔
دلائل:
شراب نوشی کی حرمت، اس کی قباحت اور اس کے سنگین جرم ہونے کی بہت سی دلیلیں موجود ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے پانسے کے تیر، یہ سب گندی باتیں، شیطانی کام ہیں۔ ان سے بالکل الگ رہو، تاکہ تم فلاح یاب ہو۔ شیطان تو چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تمہارے آپس میں عداوت اور بغض واقع کرا دے اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے اور نماز سے تم کو باز رکھے، سو اب بھی باز آجاؤ۔" [المائدۃ: 90- 91]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: "جس دن شراب حرام کی گئی، میں ابو طلحہ کے گھر میں لوگوں کو پلا رہا تھا کہ اسی درمیان ایک منادی نے ندا دی۔ ابو طلحہ نے کہا: باہر جا کر دیکھو۔ چنانچہ میں باہر نکلا تو ایک منادی یہ اعلان کر رہا تھا: سن لو! شراب حرام کر دی گئی ہے۔ اس پر ابو طلحہ نے مجھ سے کہا: باہر جاؤ اور اسے بہا دو۔ چنانچہ میں نے اسے بہا دیا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے مدینے کی گلیوں میں شراب بہنے لگی۔" [97] [97] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 2464 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1980۔
اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "کوئی زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تو مومن نہيں ہوتا اور کوئی شراب پینے والا جب شراب پیتا ہے تو وہ مومن نہيں ہوتا۔" [98] [98] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 2475 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 100۔
نیز عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ نے شراب پر، اس کے پینے والے پر، اس کے پلانے والے پر، اس کے بیچنے والے پر، اس کے خریدنے والے پر، اس کے نچوڑنے والے پر، اس کے نچڑوانے والے پر، اس کے اٹھانے والے پر اور اس پر جس کے لیے یہ اٹھا کر لائی جائے، لعنت فرمائی ہے‘‘۔[99] [99] سنن ابو داود، حدیث نمبر : 3674۔
اور ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے خلیل ﷺ نے مجھے وصیت فرمائی: "شراب نہ پیو، کیونکہ یہ ہر برائی کی کنجی ہے"۔ [100] [100] سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر : 3371۔
نیز ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "شراب کا عادی جنت میں داخل نہیں ہوگا۔" [101] سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر : 3376۔
نقصانات:
اس گناہ کبیرہ کے نتیجے میں جو سزائيں مرتب ہوتی ہیں اور خطرات سامنے آتے ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں:
- جس نے شراب پی، اس کی نماز چالیس دن تک قبول نہیں کی جائے گی۔ چنانچہ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے شراب پی، چالیس دن اس کی نماز قبول نہیں ہوگی۔ اگر وہ توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلے گا، اور اگر وہ دوبارہ (یہ گناہ) کرے تو چالیس دن اس کی نماز قبول نہیں ہوگی۔ پھر اگر وہ توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلے گا، اگر وہ پھر (تیسری بار یہ گناہ) کرے تو چالیس دن اس کی نماز قبول نہیں ہوگی۔ پھر اگر وہ توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلے گا اور اگر وہ چوتھی بار یہی گناہ کرے تو چالیس دن اس کی نماز قبول نہیں ہوگی اور اس کے بعد اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول نہیں کرے گا اور اسے نہرِِ خَبال سے پلائے گا‘‘۔ پوچھا گیا: اے ابو عبدالرحمٰن! یہ نہرِ خَبال کیا ہے؟ فرمایا: ’’یہ جہنمیوں کی پیپ کی ایک نہر ہے‘‘۔[102] [102] سنن ترمذی، حدیث نمبر : 1862۔
- اگر شراب پینے والا توبہ کیے بغیر مر جائے تو آخرت میں جنت کی شراب سے محروم رہے گا۔ چنانچہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے دنیا میں شراب پی اور اس سے توبہ نہیں کی، وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا۔“ [103] [103] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 5575 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 2003۔
- شراب نوشی مسلمانوں کے درمیان دشمنی اور بغض پیدا کرتی ہے اور بہت سے خاندانوں کو تباہ وبرباد کر دیتی ہے۔ چنانچہ طلاق اور بچوں کے بکھرنے کے بہت سے واقعات شراب نوشی کی لت کی وجہ سے سامنے آتے ہیں۔ جو شخص شراب پیتا ہے اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے، تو وہ بے شعور ہو جاتا ہے اور بسا اوقات ایسے تباہ کن گناہوں کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے، جن سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ شراب تمام برائیوں کی جڑ اور ہر شر کی کنجی ہے۔
- شراب، شرابی کے مال کو نقصان دہ اور بے فائدہ چیزوں میں ضائع کرتی ہے، جب کہ انسان سے اس کے مال کے بارے میں سوال کیا جائے گا کہ اُسے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا۔ چنانچہ ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قیامت کے دن کسی شخص کے قدم اس وقت تک اپنی جگہ سے نہیں ہٹیں گے، جب تک اس کی عمر کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اسے کس چیز میں فنا کیا، اس کے علم کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اس سے کیا کیا، اس کے مال کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اسے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا اور اس کے جسم کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اسے کہاں کھپایا۔" [104] [104] سنن ترمذی، حدیث نمبر : 2417۔
- شراب، مسرت اور خوشی لانے کی بجائے غموں میں مزید اضافہ کرتی ہے اور مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ اگر اس سے کوئی خوشی حاصل ہوتی بھی ہے تو وہ ایک جعلی، کھوٹی خوشی اور جھوٹا سرور ہوتا ہے، جو بہت جلد زائل ہو جاتا ہے اور اس کے بعد طویل عرصے تک ندامت، حسرت اور رنج وغم باقی رہتا ہے۔
- نشہ آور چیز کا استعمال بہت سے حسی اور معنوی نقصانات کا باعث بنتا ہے۔ اس کا بس یہی ایک نقصان کافی ہے کہ یہ اس عقل کو زائل کر دیتی ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا۔
بچنے کے راستے:
شراب کے استعمال اور اس کی عادت سے بچنے کے درج ذیل طریقے ہیں:
- اللہ کے امر ونہی کا احترام کرنا، فوری طور پر حکم بجا لانا اور منہیات سے رک جانا۔ اس لیے کہ جب انسان اللہ تعالیٰ کی اس کامل رحمت اور حکمت پر ایمان لے آتا ہے، جو اس کی تخلیق، تقدیر، امر اور نہی میں کارفرما ہے، تو وہ اپنے رب کی تمام تعلیمات اور احکامات پر راضی ہو جاتا ہے، انہیں بخوشی قبول کرتا ہے اور بغیر کسی اکتاہٹ یا پس وپیش کے ان کی تعمیل کے لیے کوشاں ہو جاتا ہے۔
- نشہ آور اشیا کے استعمال سے پیدا ہونے والے برے نتائج، شرمناک حرکات، ذلت ورسوائی اور شرمندگی وندامت کا علم۔
- بدلاؤ لانے کا عزم وارادہ۔ چنانچہ اس کے لیے پختہ عزم اور بھرپور کوشش لازم ہے۔
- برے دوستوں سے دور رہنا اور نیک وصالح لوگوں کی صحبت اختیار کرنا۔ ان شاء اللہ اسے سے بہت مدد ملے گی۔
- شراب یا نشہ آور اشیا کے عادی افراد کے علاج کے لیے بعض طبی طریقے بھی موجود ہیں۔ لہٰذا ان سے استفادہ کرنے کے لیے ڈاکٹروں اور خصوصی مراکز سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
سود
سود عظیم ترین گناہوں میں سے ایک کبیرہ گناہ ہے۔ یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔ سود، سودخور کو دنیا و آخرت میں شدید نقصانات سے دوچار کرتا ہے۔ یہ معاشی زندگی کو برباد اور فرد وسماج دونوں کو متاثر کرتا ہے۔
’ربا‘ سے مراد قرض میں مدت کے عوض مطلق اضافہ ہے۔ ان دو چیزوں کے تبادلے میں اضافہ بھی سود ہے، جن میں ’ربا‘ جاری ہوتا ہے، جسے ’ربا الفضل‘ کہا جاتا ہے۔ رہا ربا النسیئۃ، تو اس سے مراد ہر ایسی دو اجناس کی خرید و فروخت میں قبضہ وملکیت کی تاخیر ہے، جو ربا الفضل کی علت میں یکساں ہوں۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "سونا سونا کے عوض، چاندی چاندی کے عوض، گندم گندم کے عوض، جو جو کے عوض، کھجور کھجور کے عوض، نمک نمک کے عوض، برابر برابر، نقد بہ نقد (فروخت کیا جائے)۔ چنانچہ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ طلب کیا، اس نے سود کا معاملہ کیا، (اس گناہ میں) لینے والا اور دینے والا برابر ہیں۔" [105] [105] صحیح بخاری، حدیث نمبر: 2177 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1584۔
سود کے معاملات اور اس کی صورتیں بہت زیادہ ہیں۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ انہیں پہچانے، ان سے بچے اور کوئی بھی لین دین اس کا شرعی حکم معلوم کیے بغیر نہ کرے۔
دلائل:
سود سے خبردار کرنے کے لیے کتاب وسنت میں بہت سے نصوص وارد ہوئے ہیں، جن میں سے چند یہ ہيں:
اللہ تعالی کا فرمان ہے: "سود خور لوگ نہ کھڑے ہوں گے مگر اسی طرح جس طرح وہ کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان چھو کر خبطی بنا دے۔ یہ اس لیے کہ یہ کہا کرتے تھے کہ تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔ جو شخص اپنے پاس آئی ہوئی اللہ تعالیٰ کی نصیحت سن کر رک گیا، اس کے لیے وہ ہے جو گزرا اور اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہے، اور جو پھر دوبارہ ﴿حرام کی طرف﴾ لوٹا، وہ جہنمی ہے۔ ایسے لوگ ہمیشہ ہی اس میں رہیں گے۔" [البقرۃ: 275]
اللہ تعالی کا مزید ارشاد ہے: "اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے وہ چھوڑ دو، اگر تم سچ مچ ایمان والے ہو۔ اور اگر ایسا نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑنے کے لئے تیار ہو جاؤ..." [البقرۃ: 278- 279]
ایک اور مقام پر اللہ پاک کا ارشاد ہے: "اے ایمان والو! بڑھا چڑھا کر سود نہ کھاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو، تاکہ تمہیں نجات ملے۔" [آل عمران: 130]
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”سات ہلاک کرنے والی چيزوں سے بچو۔“ صحابہ کرام نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! وہ کيا ہيں؟ آپﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، کسی ایسی جان کو ناحق قتل کرنا جسے اللہ نے حرام کیا ہے، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، لڑائی کے موقع پر پیٹھ پھیر کر بھاگنا اور بھولی بھالی پاک دامن مومنہ عورتوں پر تہمت لگانا۔“ [106] [106] صحیح بخاری، حدیث نمبر: 2766 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر: 89۔
سمرة بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں كہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمايا: ’’آج رات میرے پاس دو آدمی آئے جو مجھے ایک مقدس سرزمین کی طرف لے گئے۔ ہم چلے یہاں تک کہ خون کی ایک نہر پر پہنچے جس میں ایک آدمی کھڑا تھا، اور نہر کے کنارے پر ایک دوسرا آدمی تھا جس کے سامنے پتھر رکھے تھے۔ نہر والا آدمی جب بھی باہر نکلنے کا ارادہ کرتا تو (کنارے والا) آدمی اس کے منہ میں ایک پتھر مار دیتا اور اسے وہیں لوٹا دیتا جہاں وہ تھا۔ چنانچہ جب بھی وہ نکلنے کے لیے آتا تو وہ اس کے منہ میں پتھر مار دیتا اور وہ اپنی پہلی جگہ پر لوٹ جاتا۔ میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ تو اس نے کہا: جسے آپ نے نہر میں دیکھا، یہ سود خور ہے‘‘۔[107] [107] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 2085 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2275۔
نقصانات:
سودی لین دین کے بہت سے نقصانات ہیں۔ جن میں سے چند یہ ہیں:
- سود کھانے والے کو آخرت میں سخت وعید اور دردناک عذاب کی سزا سنائی گئی ہے۔ ساتھ ہی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے اس سے جنگ کا اعلان فرمایا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "اور اگر ایسا نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑنے کے لئے تیار ہو جاؤ..." [البقرۃ: 279]
- سود خور رسول اللہ ﷺ کی لعنت کا مستحق ہے۔ چنانچہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ’’اللہ کے رسولﷺ نے سود کھانے والے، کھلانے والے، اس کے لکھنے والے اور اس کے دونوں گواہوں پر لعنت کی ہے اور فرمایا: یہ سب (گناہ میں) برابر ہیں‘‘۔ [108] [108] صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1598۔
- یہ باطل طریقے سے لوگوں کے مال کھانے کا ایک طریقہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اے ایمان والو! اپنے آپس کے مال ناجائز طریقہ سے مت کھاؤ، مگر یہ کہ تمہاری آپس کی رضا مندی سے خرید وفروخت ہو..." [النساء: 29] امام طبری کے بقول اس کے معنی ہيں: "تم ایک دوسرے کا مال سود، جوئے اور دیگر ان چیزوں کے ذریعے نہ کھاؤ جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے، سوائے اس کے کہ وہ تجارت ہو" [109]۔ [109] تفسیر الطبری (625/ 6)۔
- سود سے حاصل کردہ مال کی برکت ختم کر دی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقہ کو بڑھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی ناشکرے اور گنہگار سے محبت نہیں کرتا۔" [البقرۃ: 276]۔ شیخ ناصر سعدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "﴿يمحق الله الربا﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اسے اور اس کی برکت کو ذات اور وصف دونوں اعتبار سے ختم کر دیتا ہے۔ چنانچہ یہ اس (مال) میں آفات نازل ہونے اور اس سے برکت ختم ہو جانے کا سبب بنتا ہے۔ اگر اس میں سے خرچ کیا جائے تو اس پر کوئی اجر نہیں ملے گا، بلکہ وہ اس کے لیے جہنم کا توشہ بنے گا۔" [110]۔ [110] تفسیر سعدی (ص : 117)۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص بھی سود کے ذریعے زیادہ مال حاصل کرتا ہے، اس کا انجام قلّت ہی ہوتا ہے‘‘۔ [111] [111] سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: 2279۔
- سود دلوں میں بغض وعداوت پیدا کرتا اور دلوں سے رحمت وشفقت ختم کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے اخوت دم توڑ دیتی ہے اور معاشرے کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔
- سود ایک معاشرتی جرم ہے، جو معاشرے میں پھیل جائے، تو اسے تباہ اور اس کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔
بچنے کے راستے:
سودی معاملات سے بچنے کے درج ذیل طریقے ہيں:
- اپنے آپ کو پکا سچا مومن بنانا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اے ایمان والو! بڑھا چڑھا کر سود نہ کھاؤ..." [آل عمران: 130] یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان ہی اس امر کی تعمیل اور اس نہی سے اجتناب کا سبب اور موجب ہے۔ کیونکہ ایمان ان تمام باتوں کی کامل تصدیق کا نام ہے جن کی تصدیق واجب ہے، اور جن سے اعضا وجوارح کے اعمال لازم آتے ہیں۔ [112] [112] دیکھیں: تفسیر سعدی (ص : 148)۔
- تقوی اختیار کرنا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اے ایمان والو! بڑھا چڑھا کر سود نہ کھاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو، تاکہ تمہیں نجات ملے۔" [آل عمران : 130]
- اللہ کی رحمت حاصل کرنے کی حرص۔ اللہ تعالیٰ نے سود سے منع کرنے کے بعد ارشاد فرمایا: "اور اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔" [آل عمران : 132]
- موت اور قیامت کے دن کی ہولناکیوں کو یاد کرنا۔ اللہ تعالی نے سود کی آیتوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: "اور اس دن سے ڈرو جس میں تم سب اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جاؤگے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔" [البقرۃ: 281]
- جہنم کا خوف۔ اللہ تعالیٰ نے سود سے منع کرنے کے بعد فرمایا: "اور اس آگ سے ڈرو، جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔" [آل عمران: 131]۔
- شرعی احکام سیکھنا، جن میں بیع وشرا اور سود کے احکام بھی شامل ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ہمارے بازار میں صرف وہی کاروبار کر سکتا ہے، جس کے پاس دین کا علم ہو۔“ [113]۔ ایک دوسری روایت میں ہے: "ورنہ وہ سود کھائے گا، خواہ وہ چاہے یا نہ چاہے۔" [114] [113] سنن ترمذی، حدیث نمبر : 487۔ [114] الترغيب والترهيب للأصبهاني: (810)
- رزق اور اس کے ذرائع میں حرام کی بجائے حلال پر اکتفا کرنا اور اللہ عزوجل سے دعا کرنا۔ حدیث میں آیا ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرمایا کرتے تھے: ’’اے اللہ ! تو مجھے اپنی حلال کردہ چیزوں کے ساتھ اپنی حرام کردہ چیزوں سے کافی ہوجا اور مجھے اپنے فضل کے ذریعہ، اپنے ماسوا سے بے نیاز کردے۔‘‘ [115] [115] سنن ترمذی، حدیث نمبر : 3563۔
والدین کی نافرمانی
والدین کی نافرمانی کبیرہ گناہ اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کے بعد سب سے زیادہ خطرناک گناہ ہے؛ اسی لیے اللہ نے ایک سے زائد آیتوں میں اپنے حق اور والدین کے حق کو ایک ساتھ بیان فرمایا ہے۔ ان میں سے ایک آیت یہ ہے: "اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو...۔" [النساء : 36] نیز اللہ پاک وبرتر کا فرمان ہے: ” ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے بارے میں نصیحت کی ہے، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے پیٹ میں اٹھائے رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو برس میں ہے، کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر، (تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔“ [لقمان : 14]
والدین کی نافرمانی کا مطلب یہ ہے کہ انسان سے کوئی ایسا قول یا فعل سرزد ہو جس سے اس کے والدین کو تکلیف پہنچے یا ان کے ساتھ حسنِ سلوک ترک کر دیا جائے۔ والدین کی حکم عدولی بھی اس میں داخل ہے، الا یہ کہ وہ شرک یا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم دیں، تو ان دونوں صورتوں میں ان کی اطاعت نہیں کی جائے گی؛ کیونکہ خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت نہیں کی جا سکتی۔ البتہ ان کے ساتھ نرمی اور حسن سلوک کا معاملہ کیا جائے گا۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: "اور اگر وه دونوں تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ شریک کرے جس کا تجھے علم نہ ہو تو تو ان کا کہنا نہ ماننا۔ ہاں دنیا میں ان کے ساتھ اچھی طرح بسر کرنا..." [لقمان: 15]
کعب احبار رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ والدین کی نافرمانی کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: "جب اس کے ماں باپ اسے قسم دیں تو وہ ان کی قسم پوری نہ کرے، جب وہ اسے کسی بات کا حکم دیں تو وہ ان کی اطاعت نہ کرے، جب وہ اس سے کوئی چیز مانگیں تو وہ انہیں نہ دے اور جب وہ اسے امین بنائیں تو وہ ان کے ساتھ خیانت کرے۔" [116]۔ [116] الكبائر للذهبي: (ص: 41)۔
دلائل:
والدین کی نافرمانی کی حرمت، شناعت اور اس کے سنگین جرم ہونے کی بہت سی دلیلیں ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا یہ دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب واحترام سے بات چیت کرنا۔ اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار! ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے۔" [الاسراء: 23-24]۔
ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’کیا میں تمہیں سب سے بڑا کبیرہ گناہ نہ بتاؤں؟‘‘ ہم نے عرض کیا : کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! (ضرور بتائیے)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا، یا جھوٹی بات کہنا۔‘‘ [117] [117] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 2654، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 87۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: "اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی جان کو (ناحق) قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔" [118] [118] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 2653، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 144۔
اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "بے شک اللہ تعالی نے تم پر ماؤں کی نافرمانی حرام کی ہے..." [119]۔ [119] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 2408، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 593۔
نقصانات:
والدین کی نافرمانی کے بہت سے نقصانات ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
- والدین کی نافرمانی بندے کے لیے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی نظرِ رحمت سے اور جنت میں داخلے سے محرومی کا سبب ہے۔ چنانچہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تین قسم کے لوگ ایسے ہیں کہ اللہ عز وجل قیامت کے دن ان کی طرف نہیں دیکھے گا: ماں باپ کا نافرمان، مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورت اور دیوث۔ اور تین طرح کے لوگ جنت میں داخل نہیں ہو پائیں گے: ماں باپ کا نافرمان، شراب نوشی کا عادی اور دے کر احسان جتلانے والا۔" [120] [120] سنن نسائی، حدیث نمبر: 2562۔
- والدین کا نافرمان اللہ سبحانہ کی نعمت اور اپنے والدین کے احسان کا منکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "... کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر، (تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔" [لقمان : 14]
- والدین کی نافرمانی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے اسباب میں سے ہے۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ انہوں نے فرمایا: "رب کی خوشنودی والد کی رضا مندی میں ہے اور رب کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے۔" [121] [121] امام بخاری نے اسے الأدب المفرد میں روایت کیا ہے، حدیث نمبر : 2۔
- والدین کی نافرمانی خاندان میں بکھراؤ کا باعث بنتی ہے اور نتیجتاً پورے معاشرے میں بھی انتشار پیدا ہوتا ہے۔ جو شخص والدین کی فرمانبرداری نہیں کرتا، اس کی اولاد بھی اس کی فرمانبرداری نہیں کرتی اور نہ ہی وہ اپنے پڑوسیوں اور معاشرے کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرتا ہے۔
بچنے کے راستے:
والدین کی نافرمانی سے بچنے کے درج ذیل طریقے ہیں:
- والدین کو معمولی سی تکلیف دینے سے بھی اجتناب کرنا۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: "ان کے آگے اف تک نہ کہنا۔" یہ اذیت کا ادنیٰ ترین درجہ ہے، جس کے ذریعے اس سے بڑی چیزوں کی تنبیہ کی گئی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ان دونوں کو معمولی سی بھی اذیت نہ پہنچاؤ۔ "نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا۔" یعنی نہ انہیں جھڑکو اور نہ ان سے سخت کلامی کرو۔ "ان کے ساتھ ادب واحترام سے بات چیت کرنا"۔ ایسے الفاظ استعمال کرنا جو وہ پسند کرتے ہوں، ادب اور نرمی کے ساتھ ایسا عمدہ ونرم کلام کرنا جو ان کے دلوں کو بھلا لگے اور جس سے ان کے نفوس کو اطمینان حاصل ہو۔ یہ طرزِ عمل حالات، عادات اور زمانوں کے اختلاف کے ساتھ ساتھ مختلف ہوسکتا ہے۔ [122] [122] دیکھیں: تفسیر سعدی (ص : 5)۔
- یہ جاننا کہ والدین ہی سب سے زیادہ حسنِ سلوک اور اچھے برتاؤ کے حق دار ہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ فرمایا: ”تیری ماں“۔ پوچھا: پھر کون؟ فرمایا: ”پھر تیری ماں“۔ پوچھا: پھر کون؟ فرمایا: ”پھر تیری ماں“۔ پوچھا: پھر کون؟ فرمایا: ”پھر تیرا باپ“۔ [123] [123] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 5971، صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2548۔
- انسان اپنے والدین کے ساتھ کتنا ہی اچھا سلوک کیوں نہ کر لے، وہ ان کے حق کا بدلہ نہیں چکا سکتا۔ ان کا حق اس کے تمام تر حسن سلوک سے بڑھ کر ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’کوئی بھی بچہ اپنے والد کا بدلہ نہیں چکا سکتا، الا یہ کہ وہ اسے غلام پائے اور خرید کر آزاد کر دے‘‘۔ [124] یعنی کوئی بھی بچہ اپنے والد کا بدلہ نہیں چکا سکتا اور نہ ہی اس کے احسان کا بدلہ دے سکتا ہے، الّا یہ کہ اگر وہ اپنے والد کو کسی کا غلام پائے اور اسے خرید کر آزاد کر دے۔ [124] صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1510۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اپنی ماں کو اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے کعبہ کا طواف کرا رہا ہے۔ اس شخص نے کہا: ’’اے ابن عمر! کیا آپ سمجھتے ہیں کہ میں نے اس (کی خدمت) کا حق ادا کردیا؟‘‘ آپ نے فرمایا: ’’نہیں، اس کی زچگی کی تکلیفوں میں سے ایک تکلیف کا بھی نہیں، لیکن تم نے بہت اچھا کیا اور اللہ تعالیٰ تھوڑے عمل پر بھی بہت اجر سے نوازتا ہے‘‘۔ [125] [125] دیکھیں: الكبائر للذہبی (ص: 42)۔
- والدین کی رضا جوئی کے لیے نفس سے جدوجہد کرنا بھی اللہ کی راہ میں جہاد کی ایک قسم ہے۔ چنانچہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ایک شخص نبی ﷺ کے پاس جہاد کی اجازت لینے آیا، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر انھی دونوں کی خدمت میں جہاد کرو“۔ [126] [126] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 3004، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 2549۔
- آدمی اپنے مخالف کے والدین کو گالی دینے سے بچے؛ کیونکہ یہ چیز اس کے مخالف کو اس کے والدین کو گالی دینے پر اکساتی ہے۔ چنانچہ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ بھی ایک عظیم ترین کبرہ گناہ ہے کہ آدمی اپنے والدین پر لعنت کرے۔“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! کوئی شخص اپنے والدین پر کیسے لعنت کرتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کسی کے باپ کو گالی دے گا، تو وہ بھی اس کے باپ کو گالی دے گا اور وہ کسی کی ماں کو گالی دے گا، تو وہ بھی اس کی ماں کو گالی دے گا“۔ [127] [127] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 5973، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 90۔
- اس بات کی کوشش کرنا کہ والدین کو رنجیدہ نہ ہونے دیا جائے۔ چنانچہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: میں ہجرت پر آپ سے بیعت کرنے آیا ہوں اور اپنے والدین کو روتا ہوا چھوڑ آیا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ان کے پاس لوٹ جاؤ اور جس طرح تم نے انہیں رلایا ہے، اسی طرح انہیں ہنساؤ۔‘‘ [128] [128] سنن ابو داود، حدیث نمبر: 2528۔
- بچوں کو بچپن ہی سے والدین کی فرماں برداری کی تعلیم دینا۔
قطع رحمی
قطع رحمی، رشتے داروں کے ساتھ بدسلوکی یا ان کے حقوق کی ادائیگی سے پہلو تہی کرنا۔ یہ ان خسارہ پانے والوں کی صفت ہے جو اس رشتہ کو توڑتے ہیں جسے اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے۔ بلکہ یہ ایک جرم اور کبیرہ گناہ ہے اور ایسا جرم صرف وہی شخص کرتا ہے جس کا دل سخت ہوگیا ہو، جس کی مروت ختم ہوگئی ہو اور جس میں ذمہ داری کا احساس مٹ چکا ہو۔
ارحام سے مراد والد اور والدہ دونوں کی طرف کے رشتے دار ہیں۔ جب کہ قطع رحمی ان سے ترکِ تعلق کرنے، حسبِ استطاعت ان کی زیارت سے اعراض کرنے، ان کی خوشیوں میں شریک نہ ہونے اور ان کے غموں میں ان کی غم خواری نہ کرنے سے ہوتی ہے۔ اسی طرح قطع رحمی یہ بھی ہے کہ ایسی خصوصی عطیات اور نوازشات میں دوسروں کو ان پر ترجیح دی جائے، جن کے وہ دوسروں سے زیادہ حق دار ہیں۔
دلائل:
قطع رحمی کی حرمت کی بہت سی دلیلیں موجود ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
اللہ تعالٰی فرماتا ہے: "اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کر دو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو۔ یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی پھٹکار ہے اور جن کی سماعت اور آنکھوں کی روشنی چھین لی ہے۔" [محمد: 22- 23]
ایک اور مقام پر اللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے: "اور جو اللہ کے عہد کو اس کی مضبوطی کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جن چیزوں کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے انہیں توڑتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، ان کے لیے لعنتیں ہیں اور ان کے لیے برا گھر ہے۔" [الرعد : 25]۔
"...اور جن چیزوں کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے انہیں توڑتے ہیں...۔"
یعنی: رشتہ توڑتے ہیں، جسے اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے [129]۔ [129] تفسیر طبری: (514/ 13)۔
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: "رشتے ناتے کو کاٹنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔" [130]. یعنی رشتہ توڑنے والا (جنت سے محروم رہے گا)۔ [130] صحیح مسلم، حدیث نمبر : 5984۔
اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا، چنانچہ جب وہ اس سے فارغ ہوا تو رحم کھڑا ہو گیا اور اس نے رحمٰن کے حَقْو (تہبند باندھنے کی جگہ) کو پکڑ لیا۔ تو اللہ نے فرمایا : ٹھہرو۔ رحم نے عرض کیا: یہ قطع رحمی سے تیری پناہ مانگنے والے کا مقام ہے۔ اللہ نے فرمایا: کیا تو اس پر راضی نہیں کہ جو تجھے جوڑے میں اسے جوڑوں، اور جو تجھے کاٹے میں اسے کاٹ دوں؟ رحم نے عرض کیا: کیوں نہیں، اے میرے رب! فرمایا: یہ تیرے لیے ہے۔“ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم چاہو تو پڑھو: {فَهَلۡ عَسَيۡتُمۡ إِن تَوَلَّيۡتُمۡ أَن تُفۡسِدُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَتُقَطِّعُوٓاْ أَرۡحَامَكُمۡ} (اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کر دو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو۔) [محمد : 22] [131] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 4830، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 2554۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’رحم عرش سے لٹکی ہوئی ہے اور کہتی ہے: جو مجھے ملائے، اللہ اسے ملائے اور جو مجھے کاٹے، اسے اللہ تعالیٰ کاٹے۔‘‘ [132] [132] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 5989، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 2555۔
نقصانات:
اس کبیرہ گناہ کے کچھ نقصانات اور سزائيں یہ ہیں:
- قرآن کریم میں قطع رحمی کرنے والے کی لعنت آئی ہے، جیسا کہ سابقہ آیتوں میں مذکور ہے۔
- اللہ تعالیٰ نے فاسق اور خاسر لوگوں کی ایک صفت یہ بھی بتائی ہے کہ وہ ان تعلقات کو توڑتے ہیں جنہیں اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "جو لوگ اللہ تعالیٰ کے مضبوط عہد کو توڑ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کے جوڑنے کا حکم دیا ہے، انہیں کاٹتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔" [البقرۃ: 27]
- قطع رحمی کرنے والے کو اس کی سزا دنیا میں جلد دے دی جاتی ہے اور آخرت میں جو سزا اس کے لیے ذخیرہ کی گئی ہے وہ اس کے علاوہ ہے۔ چنانچہ ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ظلم وزیادتی اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی گناہ اس لائق نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کے مرتکب کو دنیا میں جلد سزا دے، ساتھ ہی اس کے لئے اخروی سزا بھی ذخیرہ رکھے۔" [133] [133] سنن ابو داود، حدیث نمبر: 4902۔
- قطع رحمی کی ایک عظیم ترین سزا یہ ہے کہ ایسا کرنے والا جنت سے محروم رہے گا۔ چنانچہ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "رشتے ناطے کو کاٹنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔" [134] [134] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 5984، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 2556۔
- رشتہ ناطہ کاٹنے والے کا کوئی عمل بلند نہیں کیا جاتا اور نہ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے۔ چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا: "بے شک بنی آدم کے اعمال ہر جمعرات کی شام اللہ تبارک وتعالیٰ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں، لیکن رشتہ توڑنے والے کا کوئی عمل قبول نہیں کیا جاتا۔" [135]۔ [135] مسند احمد: 10272۔
اس سے بچنے کے طریقے:
اس کبیرہ گناہ کے خطرات سے بچنے کے درج ذیل طریقے ہیں:
- مسلمان صلہ رحمی کی فضیلت یاد رکھے، یہ اسے صلہ رحمی پر کاربند رہنے پر آمادہ کرے گی۔ صلہ رحمی کی فضیلت پر مبنی ایک حدیث انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جس میں وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جسے یہ بات پسند ہو کہ اس کی روزی میں فراخی ہو یا اس کی عمر دراز کر دی جائے، اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے“ [136]۔ [136] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 2067، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 2557۔
- بدسلوکی کا بدلہ احسان سے اور قطع تعلقی کا جواب صلہ رحمی سے دینا۔ چنانچہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”رشتہ جوڑنے والا وہ نہیں جو بدلے میں رشتہ جوڑے، بلکہ رشتہ جوڑنے والا وہ ہے کہ جب اس سے ناتا توڑا جائے تو وہ اسے جوڑے“۔ [137] [137] صحیح بخاری، حدیث نمبر: 5991۔
- معذرت قبول کرنا اور برائی سے درگزر کرنا انبیا ومرسلین علیہم السلام کا شیوہ رہا ہے۔ اس کی مثال یوسف علیہ السلام ہیں کہ اپنے بھائیوں کی زیادتیوں کے باوجود انہوں نے ان کے ساتھ عفو ودرگزر سے کام لیا، تاکہ ان کے مابین محبت کا رشتہ قائم رہے۔
- رشتہ داروں کے لیے ان سے کسی بدلے کی امید کے بغیر جان ومال کی قربانی پیش کرنا، ان پر احسان جتلانے اور ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالنے سے گریز کرنا، ان کے ساتھ تواضع اور حسن سلوک سے پیش آنا، ان کی غلطیوں اور لغزشوں پر صبر اور درگزر سے کام لینا، ان کے تئیں حسن ظن رکھنا اور ان کی زیادہ ملامت اور سرزنش نہ کرنا۔
- رشتے داروں کو آپس میں جمع کرنے کی حرص رکھنا۔ مثلا انہیں تقریبات اور دعوتوں میں مدعو کرنا، ان سے ملاقات کرنا اور فون کے ذریعے ان سے رابطے میں رہنا۔
- بچوں کو صلہ رحمی کی اہمیت کا عادی بنانا اور انھیں اس کی تربیت دینا، تاکہ وہ بڑے ہو کر اسی راستے پر چلیں اور اس پر عمل کریں۔
- خاندانی مسائل کو باہمی مشورے اور نرمی سے حل کرنا، بالخصوص میراث کے معاملات کو۔
- رشتے داروں کے ساتھ ایسے تکلف سے گریز کرنا جو قطع رحمی کا سبب بنے۔
کہانت، عرافہ وشعبدہ بازی اور ستاروں کی گردش دیکھ کر غیب کی بات بتانے والوں اور ایسے دیگر منکرات میں ملوث لوگوں کے پاس جانے (کا حکم)۔
کہانت، عرافہ وشعبدہ بازی اور ستاروں کی گردش دیکھ کرغیب کی بات بتانا عظیم گناہ ہیں، جن سے عقیدہ میں خلل پیدا ہوتا ہے؛ کیونکہ ایسا کرنے والا شخص یا تو علمِ غیب کا دعویٰ کرتا ہے یا پھر معاملات کو ستاروں سے منسوب کرتا ہے اور یہ سب توحید کے منافی ہے۔
کاہن وہ ہے جو مستقبل کے غیبی امور کے بارے میں بات کرے۔ کچھ لوگوں کے مطابق کاہن وہ ہے جو دلوں کا حال بتائے۔
عرّاف وہ شخص ہے، جو بعض ایسے قرائن کی بنا پر غیبی امور جاننے کا دعوی کرتا ہے, جن کے ذریعہ چوری شدہ یا کھوئے ہوئے سامان وغیرہ کی جگہ معلوم کرتا ہے۔
جب کہ نجومی وہ شخص ہے جو علمِ تنجیم وتاثیر کا استعمال کرتا ہے۔ چنانچہ وہ مثلاً کہتا ہے: جب فلاں ستارہ طلوع ہو اور فلاں ستارے سے مل جائے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا اور ایسا ہوگا، یا جب فلاں شخص کے ہاں فلاں برج میں کوئی بچہ پیدا ہو تو اسے امیری وغریبی یا سعادت وشقاوت حاصل ہوگی۔ یہ لوگ ستاروں کی حرکت سے زمین اور اس میں بسنے والے لوگوں کے احوال کا پتہ لگاتے ہیں۔ [138] [138] دیکھیں: تیسیر العزیز الحمید (ص351)۔
اس میں وہ شخص بھی شامل ہے جو غیبیات کی خبر دیتا ہو، غیبی امور جاننے کا دعویٰ کرتا ہو یا برجوں کے ذریعے، ریت پر لکیریں کھینچ کر، کنکریوں سے، پیالی میں دیکھ کر، ہاتھ پڑھ کر یا ان جیسے دیگر طریقوں سے غیبی امور کا پتہ لگاتا ہو۔ جو شخص مذکورہ وسائل یا ان کے علاوہ کسی اور وسیلے سے علمِ غیب کا دعویٰ کرے، وہ جھوٹا اور کافر ہے۔ [139] [139] دیکھیں: عقيدة التوحيد، از شیخ صالح الفوزان، ص 97۔
اس بات سے خبر دار رہنا واجب ہے کہ کاہنوں، نجومیوں اور ان جیسے دیگر فریب کاروں کے پاس جانا ان عظیم گناہوں میں سے ہے جن سے خبردار کیا گیا ہے۔ اس میں مبتلا ہونے سے دینی ودنیاوی امور میں بہت سے مفاسد مرتب ہوتے ہیں۔
اس کی دلیلیں:
شرعی دلائل سے کہانت، عرافت، تنجیم اور ان منکرات میں ملوث لوگوں کے پاس جانے کی حرمت ثابت ہے۔ چند دلیلیں یہ ہیں:
اللہ تعالی کا فرمان ہے: "بے سند باتیں کرنے والے غارت کر دیے گئے۔ جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ پوچھتے ہیں کہ روزِ جزا کب ہوگا؟" [الذاریات : 10-12]
یعنی ایسے کاہنوں پر لعنت ہو، جو جھوٹ اور باطل کی قیاس آرائی کرتے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ’’وہی کاہن ہیں۔‘‘ [140] [140] دیکھیں: تفسیر طبری: (21/ 492)۔
زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم حدیبیہ کے سال رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، تو ایک رات ہم پر بارش ہوئی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی اور اس کے بعد ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟“ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندوں نے اس حال میں صبح کی کہ کچھ مجھ پر ایمان لانے والے تھے اور کچھ میرے ساتھ کفر کرنے والے۔ جس نے یہ کہا کہ ہم پر اللہ کی رحمت، اللہ کے رزق اور اللہ کے فضل سے بارش ہوئی ہے، وہ مجھ پر ایمان لانے والا اور ستارے کا منکر ہے اور جس نے کہا کہ ہم پر فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے، وہ ستارے پر ایمان لانے والا اور میرے ساتھ کفر کرنے والا ہے۔“ [141] [141] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 4147، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 71۔
اس حدیث کی رو سے بندوں کی دو قسمیں ہیں:
پہلی قسم: اللہ عز وجل پر ایمان رکھنے والا، جو اس نعمت کو اللہ کی طرف منسوب کرتا ہے، اس پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے، یہ تسلیم کرتا ہے کہ یہ اللہ ہی کی طرف سے ہے اور اس پر اللہ کی حمد وثنا کرتا ہے۔
دوسری قسم: اللہ کے ساتھ کفر کرنے والا۔ ان کافروں کی دو قسمیں ہیں:
پہلی قسم: ایسا شخص جو کفرِ اصغر کا مرتکب ہو، جیسے کوئی یہ کہے کہ ہم پر فلاں نچھتر یا ستارے کے سبب بارش ہوئی اور یہ عقیدہ رکھے کہ نچھتر اور ستارہ بارش کا سبب ہیں۔ اس کا یہ کفر، کفرِ اصغر ہے؛ کیونکہ اس نے شرک اور (ستارے کی) خود مختاری کا عقیدہ نہیں رکھا، بلکہ اس نے اس چیز کو سبب بنایا جو (حقیقتاً) سبب نہیں ہے اور نعمت کو غیر اللہ کی طرف منسوب کیا۔ اس کا یہ قول كافروں کے اقوال میں سے ہے اور یہ اللہ عز وجل کے ساتھ کفرِ اصغر ہے۔
دوسری قسم: کفرِ اکبر کا مرتکب، جو یہ عقیدہ رکھے کہ بارش ستاروں اور سیاروں کا ایک اثر ہے نیز یہ کہ وہی بارش برساتے ہیں اور جب اس کی پرستش کرنے والے ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو وہ ایک خاص حرکت کرتے اور ان کی دعا کے جواب میں بارش نازل کرتے ہیں۔ یہ بالاجماع کفرِ اکبر ہے؛ کیونکہ یہ اللہ عز وجل کے علاوہ کسی اور کے لیے ربوبیت اور الوہیت کا عقیدہ رکھنا ہے۔ [142] [142] دیکھیں: التمهيد لشرح كتاب التوحيد، از شيخ صالح آل شيخ (صفحہ: 356)۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس نے علم نجوم کا کوئی حصہ سیکھا تو اس نے جادو کا ایک حصہ سیکھا۔ وہ جتنا زیادہ علمِ نجوم سیکھے گا اتنا ہی زیادہ جادو سیکھے گا۔" [143] یعنی کوئی شخص جتنا زیادہ علمِ نجوم سیکھتا جائے گا، وہ جادو میں اتنا ہی زیادہ ملوث ہوتا جائے گا اور نتیجتاً اس کے گناہ میں بھی اتنا ہی اضافہ ہوتا جائے گا۔ [143] سنن ابو داود، حدیث نمبر : 3905۔
اور ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت، فاحشہ کی اجرت اور کاہن کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔ [144] حُلْوانُ الکاھن: کاہن کی کہانت کی اجرت۔ [144] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 2237، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1567۔
نیز معاویہ بن حکم سُلَمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں قریب ہی زمانۂ جاہلیت سے نکلا ہوں، اللہ تعالی نے ہمیں اسلام سے سرفراز کیا اور ہم میں سے کچھ لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تم ان کے پاس مت جانا۔‘‘ [145] [145] صحیح مسلم، حدیث نمبر : 537۔
ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا بعض ازواج مطہرات سے روایت کرتی ہیں، جنہوں نے نبی ﷺ سے روایت کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو کسی عرّاف (غیبی امور کا دعوی کرنے والے) کے پاس آئے اور اس سے کسی چیز کے متعلق پوچھے، تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں کی جائے گی“۔ [146] [146] صحیح مسلم، حدیث نمبر : 2230۔
نیز ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’جس شخص نے حائضہ عورت سے جماع کیا یا عورت کی دبر کا استعمال کیا یا کاہن کے پاس گیا تو اُس شخص نے نبی ﷺ پر جو دین اُترا اُس کا انکار کیا‘‘۔ [147] [147] سنن ترمذی، حدیث نمبر : 135۔
قرطبی رحمہ اللہ کاہنوں کے بارے میں فرماتے ہیں: ”حِسبہ کے ذمہ دار (یعنی بازاروں اور آدابِ عامہ کی نگرانی کرنے والوں) پر واجب ہے کہ وہ انہیں بازاروں میں نہ رہنے ديں، ان پر سخت ترین نکیر کریں اور کسی کو بھی اس مقصد کے لیے ان کے پاس نہ آنے دیں"۔ [148] [148] المفهم لما أشكل من تلخيص مسلم (5/ 633)۔
اس کے نقصانات:
کہانت، عرافہ، تنجیم اور ان منکرات میں ملوث افراد کے پاس جانے کے نقصانات:
- مذکورہ بالا افراد طاغوت کے زمرے میں آتے ہيں اور ان کے پاس جانا طاغوت کو فیصل بنانے کے زمرے میں آتا ہے۔ یاد رہے کہ طاغوت ہر وہ چیز ہے جس کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا، جن کا دعویٰ تو یہ ہے کہ جو کچھ آپ پر اور جو کچھ آپ سے پہلے اتارا گیا ہے اس پر ان کا ایمان ہے، لیکن وه اپنے فیصلے غیر اللہ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں؟ حاﻻں کہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ شیطان کا انکار کریں۔ شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ انہیں بہکا کر دور ڈال دے۔" [النساء: 60] طبری نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت دو شخص کے بارے میں نازل ہوئی: ایک انصاری اور ایک یہودی، جن کے مابین کسی حق کے بارے میں جھگڑا تھا۔ چنانچہ وہ اللہ کے نبی ﷺ کو چھوڑ کر مدینہ کے ایک کاہن کے پاس فیصلہ کروانے چلے گئے، تو اللہ عز وجل نے ان کے اس عمل کو ناپسند فرمایا۔ [149] [149] تفسیر طبری (7/ 191)
- یہ اہلِ جاہلیت اولیٰ کے افعال میں سے ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: "جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ طاغوت جن سے لوگ فیصلے کرواتے تھے، ان میں سے ایک قبیلہ جہینہ میں تھا، ایک قبیلہ اسلم میں اور ہر قبیلے میں ایک ایک تھا۔ یہ وہ کاہن تھے، جن پر شیطان اترتے تھے...‘‘ اور عکرمہ رحمہ اللہ کا قول ہے: ’’جِبتْ حبشی زبان میں شیطان کو اور طاغوت کاہن کو کہتے ہیں‘‘۔ [150] [150] صحیح بخاری: (6/ 45)۔
- یہ انسانوں کا، دیگر انسانوں اور جنوں کے ذریعے فتنے میں مبتلا ہونا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں: کچھ لوگوں نے نبی ﷺ سے کاہنوں کے بارے میں پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کچھ نہیں ہیں۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ کوئی ایسی بات بتاتے ہیں جو سچ نکل آتی ہے۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا: ”یہ وہ سچی بات ہے جس کو جنّی اچک لیتا ہے اور اپنے دوست کے کان میں مرغی کے کڑکڑانے کی طرح ڈال دیتا ہے، پھر وہ اس میں سو سے زیادہ جھوٹ ملا دیتے ہیں“۔ [151] [151] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 7561، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 2228۔
یعنی کاہن اپنے شیطان دوست کی بتائی ہوئی اس ایک بات میں سو جھوٹ ملا دیتا ہے یا پھر شیطان خود ہی آسمان سے چوری چھپی سنی ہوئی اپنی اس ایک بات میں سو جھوٹ ملا دیتا ہے اور پھر یہ سب کچھ اپنے انسانی دوست (کاہن) کو بتا دیتا ہے۔ یوں عام انسان اس کاہن کے ذریعے اور یہ دونوں اپنے شیطان دوست کے ذریعے فتنے میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور اس کی لائی ہوئی سچی جھوٹی تمام باتوں کو قبول کر لیتے ہیں، کیونکہ وہ آسمان سے لائی گئی خبر کے معاملے میں کبھی کبھی سچے بھی نکل جاتے ہیں۔ [152]۔ [152] دیکھیں: تیسیر العزیز الحمید: (ص223)۔
- جو شخص عراف کے پاس جائے اور اُس سے غیب کی بات پوچھے، تو چالیس راتوں تک اُس کی نماز قبول نہیں ہوتی، جیسا کہ سابقہ حدیث میں وارد ہوا ہے۔
اس سے بچنے کے طریقے:
کہانت، عرافہ اور تنجیم وغیرہ سے بچنے کے درج ذیل طریقے ہیں:
- اس بات کا کامل یقین کہ اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔ اللہ تعالی نے فرمایا: "کہہ دیجیے کہ آسمانوں والوں میں سے اور زمین والوں میں سے سوائے اللہ کے کوئی غیب نہیں جانتا..." [النمل : 65] ایک اور جگہ اللہ پاک نے فرمایا: "اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام نام سکھا کر ان چیزوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا کہ اگر تم سچے ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ۔ ان سب نے کہا: اے اللہ! تیری ذات پاک ہے، ہمیں تو صرف اتنا ہی علم ہے جتنا تونے ہمیں سکھا رکھا ہے۔ پورے علم وحکمت واﻻ تو تو ہی ہے۔" [البقرۃ: 31-32] یہاں ہم دیکھتے ہيں کہ فرشتوں کے پاس اپنی عاجزی کا اقرار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ صرف اتنا ہی جانتے ہیں جتنا اللہ نے انہیں سکھایا ہے۔ چنانچہ انہوں نے کہا: "تیری ذات پاک ہے۔ ہم اتنا ہی جانتے ہيں، جتنا تونے ہمیں سکھایا ہے۔۔۔" اس طرح یہ آیت ہر اس نجومی کاہن کے قول کے جھوٹ ہونے کی واضح ترین دلیل اور حجت ہے، جس نے کسی طرح کے غیب جاننے کا دعوی کیا۔ [153] [153] تفسیر طبری (جلد: 1، صفحات: 527-528)۔
- اللہ تعالیٰ کی سچی عبودیت کا پیکر بننا اور طاغوت کا انکار کرنا۔ جس نے علمِ غیب کا دعویٰ کیا یا معاملات کو ستاروں کی طرف منسوب کیا اور انہیں بذاتِ خود مؤثر مانا، اس نے سرکشی کی، حد سے تجاوز کیا، کفر کیا اور خود طاغوت بن گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "...اس لیے جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے معبودوں کا انکار کرکے اللہ تعالیٰ پر ایمان ﻻئے اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا، جو کبھی نہ ٹوٹے گا اور اللہ تعالیٰ سننے واﻻ، جاننے واﻻ ہے۔" [البقرۃ: 256] سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ”طاغوت سے مراد کاہن ہے“ [154]۔ [154] تفسیر طبری: (4/557)۔
- توحید سیکھنا، اس کی تعلیم دینا، توحید کے مخالف امور کو جاننا، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینا اور ان شیطانی اعمال کے مرتکبین پر شرعی سزائیں نافذ کرنا۔
مجسمہ سازی:
مجسمے بنانا ان کبیرہ گناہوں میں سے ہے جن سے شریعت نے خبردار کیا ہے، ایسا کرنے والوں پر لعنت کی ہے اور انہیں سخت عذاب کی وعید سنائی ہے۔ یہ بتوں کی پرستش اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کے سب سے بڑے اسباب میں سے ہے۔
مجسمہ سازی کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بندہ اللہ کی پیدا کردہ ذی روح مخلوقات کے مشابہ کوئی صورت بنائے۔ خواہ وہ پتھر، مٹی، لوہے، تانبے یا ان کے علاوہ دیگر اشیا سے بنائی گئی ہو۔
علماء کا مجسمہ بنانے اور انہیں رکھنے کی حرمت پر اجماع ہے۔ [155] [155] دیکھیں: فتح الباری (10/ 391)۔
نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’اس بات پر اجماع ہے کہ ہر سایہ دار چیز ممنوع ہے اور اسے تبدیل کر دینا واجب ہے۔ قاضی کہتے ہیں: البتہ اس سے وہ رخصت مستثنی ہے، جو چھوٹی بچیوں کے لیے گڑیوں سے کھیلنے کے بارے میں وارد ہوئی ہے۔‘‘ [156] [156] شرح مسلم: (14/82)۔
دلائل:
تصویر کشی اور مجسمہ سازی کی ممانعت سے متعلق احادیث میں بہت سے نصوص وارد ہوئے ہیں۔ جن میں سے چند یہ ہیں:
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: ’’بے شک جو لوگ یہ تصویریں بناتے ہیں، انھیں روزِ قیامت عذاب دیا جائے گا اور اُن سے کہا جائے گا کہ جو تم نے بنایا اس میں جان ڈالو۔‘‘ [157]۔ [157] صحیح بخاری، حدیث نمبر: 5607، صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2108۔
مسلم بن صبیح فرماتے ہیں: ہم مسروق کے ساتھ یسار بن نمیر کے گھر میں تھے، تو انہوں نے ان کے گھر میں کچھ مجسمے دیکھے اور فرمایا: میں نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عذاب تصویر بنانے والوں کو ہوگا‘‘۔ [158] [158] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 5950، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 2109۔
ابو زرعہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مروان کے گھر میں داخل ہوا تو انہوں نے اس میں کچھ تصویریں دیکھیں تو فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: "اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو میری طرح پیدا کرنے کی کوشش کرے؟ انہیں چاہیے کہ ایک ذرہ پیدا کریں، ایک دانہ پیدا کریں یا ایک جَو پیدا کر کے دکھائیں۔" [159]۔ [159] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 7559، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 2111۔
سعید بن ابو الحسن فرماتے ہیں: میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں ایک ایسا شخص ہوں جس کا ذریعۂ معاش دستکاری ہے اور میں یہ تصویریں بناتا ہوں۔ اس پر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں تم سے صرف وہی حدیث بیان کروں گا جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے۔ میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’جس نے کوئی تصویر بنائی، تو اللہ اسے عذاب دے گا یہاں تک کہ وہ اس میں روح پھونک دے، اور وہ اس میں کبھی بھی روح نہیں پھونک سکے گا‘‘۔ یہ سن کر وہ شخص شدت سے کانپ اٹھا (یعنی اس کا سانس پھول گیا، سینہ تنگ ہوگیا، وہ دہشت اور خوف سے بھر گیا) اور اس کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ اس پر عبداللہ بن عباس نے فرمایا: افسوس! اگر تمہیں بنانا ہی ہے تو ان درختوں کی اور ہر اس چیز کی تصویر بناؤ، جس میں روح نہ ہو۔ [160] [160] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 2225 ، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 2110۔
ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں کوئی کتا یا تصویر ہو"۔ [161] امام بخاری نے فرمایا: اس سے مراد وہ مجسمے ہیں جن میں روح ہو۔ [161] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 4002، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 2106۔
اور ابو الہیاج الاسدی سے روایت ہے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: "کیا میں تمہیں اس مشن پر نہ بھیجوں، جس پر مجھے رسول اللہﷺ نے بھیجا تھا؟ (وہ یہ ہے کہ) کوئی بھی مجسمہ ملے تو اسے مٹا دینا اور کوئی بھی اونچی قبر ملے تو اسے زمین کے برابر کر دینا۔" [162] [162] صحیح مسلم، حدیث نمبر : 969۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "انہیں دو مجسموں کو مٹا دینے کا حکم دیا گیا: ایک میت کی شكل پر بنائی گئی تصویر اور دوسرا قبر پر بنایا گیا اونچا مجسمہ، کیونکہ شرک ان دونوں ہی سے شروع ہوتا ہے۔" [163] [163] مجموع الفتاوى (17/462)۔
نقصانات:
مجسمہ سازی کے بہت سے نقصانات ہیں۔ جن میں سے چند یہ ہیں:
- یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کا ایک سبب ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فرمان: "اور کہا انہوں نے کہ ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو (چھوڑنا)"۔ [نوح: 23] کے بارے میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہيں: ”یہ قومِ نوح کے نیک آدمیوں کے نام ہیں۔ جب وہ فوت ہو گئے تو شیطان نے ان کی قوم کے دل میں یہ بات ڈالی کہ جن مجلسوں میں وہ بیٹھا کرتے تھے وہاں ان کے مجسمے نصب کر دو اور انہیں ان کے ناموں سے موسوم کر دو۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن اُن کی عبادت نہیں کی جاتی تھی۔ یہاں تک کہ جب وہ لوگ بھی فوت ہو گئے اور (اصل) علم بھلا دیا گیا تو ان کی عبادت کی جانے لگی۔“ [164]۔ [164] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 4920۔
- یہ اللہ تعالی کی ایک عظیم ترین صفت یعنی صفتِ تخلیق میں اس کی ہم سری کا دعوی ہے۔
- یہ قیامت کے دن بندے پر اللہ تعالیٰ کی غضبناکی کا سبب ہے۔ تصویر بنانے والے اللہ کے نزدیک بدترین لوگ ہیں۔ اُمُّ المؤمنین عائشہ -رضی اللہ عنہا- سے روایت ہے کہ اُمِّ حبیبہ اور اُمِّ سلمہ -رضی اللہ عنہما- نے حبشہ میں ایک کنیسہ دیکھا تھا، جس میں تصویریں تھیں، پھر ان دونوں نے اس کا تذکرہ نبی ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’وہ ایسے لوگ تھے کہ اگر اُن میں سے کوئی نیک آدمی مر جاتا، تو اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے اور اس میں وہ تصویریں بناتے۔ یہ لوگ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک ساری مخلوقات میں سب سے بدترین مخلوق ہوں گے۔‘‘ [165] [165] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 427، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 528۔
- اس کی وجہ سے ایسا کرنے والا نبی ﷺ کی لعنت کا مستحق ٹھہرتا ہے، چنانچہ ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ہے: ’’اللہ کے رسولﷺ نے تصویر بنانے والے پر لعنت فرمائی۔‘‘ [166] [166] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 2238۔
- یہ قیامت کے دن سخت عذاب کا سبب ہے، جیسا کہ احادیث میں گزر چکا ہے۔
- فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر یا مجسمہ ہو، جیسا کہ سابقہ حدیث میں گزر چکا ہے۔
- یہ نصاریٰ اور دیگر کافروں کی مشابہت اختیار کرنا ہے۔
اس سے بچنے کے راستے:
اس کبیرہ گناہ سے بچنے کے درج ذیل طریقے ہیں:
- بندہ یاد رکھے کہ قیامت کے دن اس کے اوپر اللہ کا غضب ہوگا اور اسے اس مجسمے میں روح پھونکنے کا حکم دیا جائے گا، جو اس سے قطعا نہیں ہو سکے گا۔ وہ یہ بھی یاد رکھے کہ اس پر اس کے نبی کی لعنت ثابت ہو جاتی ہے۔
- اگر اس نے مجسمہ سازی کو اپنا پیشہ بنا رکھا ہے، تو اسے یاد رکھنا چاہیے کہ جس نے اللہ کی خاطر کوئی چیز چھوڑ دی، اللہ تعالیٰ اسے دنیا وآخرت میں اس سے بہتر بدلہ عطا فرمائے گا۔ کیونکہ جب وہ اللہ کی خاطر یہ کام چھوڑ دے گا تو اللہ تعالیٰ اسے ایسی جگہ سے حلال رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوگا۔
اسے یاد رکھنا چاہیے کہ حرام کمائی کی وجہ سے دعائیں قبول نہیں ہوتیں اور اولاد نیکی وشرافت سے محروم ہو جاتی ہیں۔
اگر کوئی شخص یہ کام محض تفریح یا مشغلے کے طور پر کرتا ہے، تو اس کے لیے زیادہ مناسب یہی ہے کہ وہ اسے اللہ تعالیٰ کی خاطر چھوڑ دے اور اس کے بدلے میں اللہ کی حلال کردہ دنیاوی زینتوں میں سے کچھ اور اختیار کر لے۔ پھر بھی اگر وہ مجسمہ سازی پر مصر ہو تو اسے چاہیے کہ وہ بے جان چیزوں کے مجسمے بنائے، جیسے درخت، عمارتیں اور جمادات۔
- اربابِ اقتدار مثلاً سرکار، ذمہ دار ادارے اور ہر آدمی اپنے گھر میں مجسموں کو دور کرے اور انہیں توڑے۔
لواطت
لواطت یعنی مردوں کی دبر میں صحبت کرنا کبیرہ گناہ ہے۔ یہ دراصل اس فطرتِ سلیمہ کو مسخ کرنا ہے، جس پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا فرمایا۔ یہ اخلاق کو تباہ، مردانگی کو ختم اور نسل کو منقطع کر دیتی ہے، معاشرے میں بگاڑ پیدا کرتی اور اللہ تعالیٰ کے غضب اور سخت عذاب کو واجب ٹھہراتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قومِ لوط کے بارے میں فرمایا: "پھر جب ہمارا حکم آپہنچا، ہم نے اس بستی کو زیر وزبر کر دیا؛ اوپر کا حصہ نیچے کر دیا اور ان پر کنکریلے پتھر برسائے جو تہ بہ تہ تھے۔ تیرے رب کی طرف سے نشان دار تھے اور وه ان ظالموں سے کچھ بھی دور نہ تھے۔" [ھود : 82-83]
دلائل:
لواطت کی حرمت، اس کی شناعت اور اس کے عظیم جرم ہونے کی بہت سی دلیلیں موجود ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
اللہ تعالیٰ نے لوط علیہ السلام کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا: "کیا تم جہان والوں میں سے مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو؟ اور تمہاری جن عورتوں کو اللہ تعالیٰ نے تمہارا جوڑا بنایا ہے ان کو چھوڑ دیتے ہو ، بلکہ تم ہو ہی حد سے گزر جانے والے۔" [الشعراء : 165-166] ﴿عَادُونَ﴾ یعنی: تم اپنے رب کی حلال کردہ شرمگاہوں سے ان کی طرف تجاوز کرتے ہو جو اس نے تم پر حرام کی ہیں۔ [167] [167] تفسیر طبری: 630/ 17
ایک اور مقام پر اللہ پاک نے فرمایا: "اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو بھیجا، جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسا فحش کام کرتے ہو، جس کو تم سے پہلے کسی نے دنیا جہان والوں میں سے نہیں کیا؟ تم مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو عورتوں کو چھوڑ کر، بلکہ تم تو حد ہی سے گزر گئے ہو۔" (الاعراف: 80-81)۔
اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جسے تم لوگ دیکھو کہ وہ قومِ لوط والا فعل کر رہا ہے تو فاعل [کرنے والے] اور مفعول [کروانے والے] دونوں کو قتل کردو‘‘۔ [168] [168] سنن ابو داود، حدیث نمبر : 4462۔
اور جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ""مجھے اپنی امت کے بارے میں جس چیز کا سب سے زیادہ خوف ہے، وہ قوم لوط والا عمل ہے۔" [169]" [169] سنن ترمذی، حدیث نمبر : 1457۔
نقصانات:
لواطت کے بہت سے نقصانات ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
- اس کے مرتکب کے لیے آخرت میں سخت وعید ہے۔
- حلال نکاح کی کمی اور بے نکاحی کا رواج۔
- نسل کو کم یا مکمل طور پر منقطع کر دینا۔ اس سے زندگی وجود میں لانے والا پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ لواطت میں ملوث آدمی اس شخص کی طرح ہے، جو ایسی زمین میں بیج بوئے، جو زراعت کے لائق نہ ہو۔
"لواطت فاعل اور مفعول (دونوں) میں رنج وغم اور نفرت پیدا کرتی ہے۔" [170]
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: [170] زاد المعاد (4/ 241 - 242) مع اختصار۔
- یہ چہرے کو سیاہ اور سینے کو تاریک کر دیتی اور دل کے نور کو مٹا دیتی ہے۔
- اس سے فاعل اور مفعول کے مابین لازمی طور پر نفرت، شدید بغض ونفرت اور قطع تعلقی پیدا ہو جاتی ہے۔
- یہ فاعل اور مفعول دونوں کے اندر ایسا بگاڑ پیدا کر دیتی ہے کہ اس کے بعد اصلاح کی امید تقریباً ختم ہو جاتی ہے، سوائے اس کے کہ اللہ سچی توبہ کی توفیق عطا فرما دے۔
- یہ نعمتوں کے زوال اور عذاب کے نزول کا ایک بہت بڑا سبب ہے۔
- یہ حیا کو مکمل طور پر ختم کر دیتی ہے، جب کہ حیا ہی دلوں کی زندگی ہے۔ جب دل حیا سے محروم ہو جاتا ہے، تو وہ برائی کو اچھا اور اچھائی کو برا سمجھنے لگتا ہے، اور ایسے میں بگاڑ اپنی جڑ جما لیتی ہے۔
- یہ ایسی ڈھٹائی اور جرأت کو جنم دیتی ہے جو کسی اور چیز سے پیدا نہیں ہوتی۔
- یہ ایڈز جیسی بیماریوں کو جنم دیتی ہے، جو گزشتہ زمانوں میں موجود نہيں تھیں۔
- یہ عورتوں کے مابین ہم جنس پرستی یا زنا کا باعث بنتی ہے، کیونکہ جب مرد مردوں پر اکتفا کرنے لگیں گے تو عورتیں بھی عورتوں سے اکتفا کرنے لگیں گی یا پھر عورت اپنی شہوت پوری کرنے کے لیے اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور کی طرف رجوع کرے گی۔
اس سے بچنے کے راستے:
لواطت کے جرم سے بچنے کے درج ذیل طریقے ہیں:
- نکاح، لواطت سے بچنے کا ایک مضبوط ترین ذریعہ ہے۔ جو شخص نکاح کی طاقت نہ رکھتا ہو، اسے روزہ رکھنا چاہیے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "جو نکاح کرنے کی طاقت رکھتا ہو، وہ نکاح کر لے۔ کیوں کہ نکاح نظر کو نیچا رکھنے اور شرم گاہ کو (بُرائی سے) محفوظ رکھنے کا محفوظ ترين ذریعہ ہے اور اگر کسی میں نکاح کرنے کی طاقت نہ ہو، تو اسے چاہیے کہ روزے رکھے۔ کیوں کہ روزہ اس کی شہوت کو ختم کر دیتا ہے۔" [171] [171] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1905، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1400۔
- مرد کا دوسرے مرد کی شرم گاہ کی طرف نہ دیکھنا۔ چنانچہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک مرد دوسرے مرد کی شرم گاہ کی طرف نہ دیکھے اور نہ کوئی عورت دوسری عورت کی شرم گاہ کی طرف دیکھے۔ نہ کوئی مرد کسی مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے اور نہ کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں لیٹے۔“ [172] [172] صحیح مسلم، حدیث نمبر : 338۔
- فحش ویب سائٹس میں داخل ہونے اور برے دوستوں (مرد وخواتین) سے میل جول رکھنے سے بچنا۔
- بچے جب دس سال کے ہو جائیں، خواہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں، تو ان کے بستر الگ کر دینا۔ چنانچہ عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب تمہارے بچے سات سال کے ہو جائیں تو انہیں نماز پڑھنے کا حکم دو اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو نماز میں غفلت پر انہیں مارو اور ان کے بستر بھی الگ الگ کر دو۔" [173]۔ [173] سنن ابو داود، حدیث نمبر : 495۔
- اس کبیرہ گناہ کے دنیوی اور اخروی انجام سے خوف دلانا۔
- صحیح عقیدے کو افراد اور معاشروں کے نفوس میں راسخ کرنے، اس کی بنیادوں کو مستحکم کرنا اور ہمیشہ اس کی نگرانی کرنا۔ کیونکہ اکثر اوقات اخلاقی بے راہ روی، عقیدے میں خلل ہی کا نتیجہ ہوتا ہے۔
بغیر کسی شرعی عذر کے رمضان کا کوئی روزہ چھوڑنا
اللہ تعالی نے مومنوں پر ماہ رمضان کے روزے فرض کیے ہیں۔ ارشاد فرمایا: "اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔" [البقرۃ: 183]
ماہِ رمضان کے روزے اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن ہیں۔ چنانچہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور بے شک محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“ [174] [174] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 8، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 16۔
جس نے بغیر کسی عذر کے جان بوجھ کر ماہِ رمضان یا اس کے کسی دن کا روزہ چھوڑا، اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی، دین کے ایک رکن کی خلاف ورزی کی اور کبیرہ گناہوں میں سے ایک بڑے گناہ کا ارتکاب کیا۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "مومنوں کے نزدیک یہ بات طے شدہ ہے کہ جو شخص بغیر کسی بیماری اور عذر کے رمضان کا روزہ چھوڑ دے؛ تو وہ زانی، ناجائز ٹیکس وصول کرنے والے اور شراب کے عادی سے بھی بدتر ہے، بلکہ اس کے اسلام میں شک کیا جاتا ہے اور اس کے بارے میں الحاد اور بے دینی کا گمان کیا جاتا ہے۔" [175]۔ [175] دیکھیں: فيض القدير (4/ 311)۔
دلائل:
بغیر کسی عذر کے رمضان کا کوئی روزہ چھوڑنے کی حرمت، شناعت اور اس کے جرمِ عظیم ہونے کی بہت سے دلیلیں موجود ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس دو آدمی (فرشتے) آئے اور مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔ وہاں کچھ لوگ اپنی ایڑیوں کے بل لٹکے ہوئے تھے، ان کی باچھیں پھٹی ہوئی تھیں اور ان کی باچھوں سے خون بہہ رہا تھا۔ میں نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ اس نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جو افطار کا وقت ہونے سے پہلے ہی افطار کر لیتے تھے‘‘۔ [176] [176] سنن کبری از نسائی: (3273)، مع اختصار۔
متعدد آثار بھی وارد ہوئے ہیں، جو یہ بتاتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم رمضان میں بغیر کسی عذر کے روزہ توڑنے والے کو سزا دیتے تھے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک بوڑھے شخص کو لایا گیا، جس نے رمضان میں شراب پی تھی، تو انھوں نے کہا: "نتھنوں کی آواز! نتھنوں کی آواز! –یہ گدھے کے نتھنے سے نکلنے والی آواز ہے– اور ہمارے بچے روزے سے ہیں –یعنی ہمارے چھوٹے بچے روزے سے ہیں اور تُو نے روزہ نہیں رکھا-، پھر اسے اسّی کوڑے مارے اور شام بھیج دیا۔"
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک شخص لایا گیا، جس نے رمضان میں شراب پی تھی۔ لہذا انہوں نے اسے اسّی کوڑے مارے اور پھر اگلے دن بیس کوڑے مارے اور فرمایا: ”ہم نے تمہیں مزید بیس کوڑے اللہ کے خلاف تمہاری جرأت اور رمضان میں روزہ توڑنے کی وجہ سے مارے۔“
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ’’جس نے جان بوجھ کر رمضان کا ایک روزہ توڑا، وہ ساری عمر بھی روزہ رکھے تو اس کی قضا نہیں کر سکتا۔‘‘
اور ابنِ مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: ”جس نے بغیر کسی رخصت کے رمضان میں ایک دن کا روزہ نہیں رکھا تو عمر بھر کا روزہ بھی اس کی تلافی نہیں کر سکتا، خواہ وہ اسے رکھ بھی لے۔“[177] [177] دیکھیں: المحلی لابن حزم (4/ 311)۔
نقصانات:
بغیر کسی عذر کے رمضان میں روزہ چھوڑنے کے بہت سے نقصانات ہیں۔ جن میں سے چند یہ ہیں:
- اسلام کا ایک رکن ترک کرنا۔
- اللہ تعالیٰ کے اوامر کی توہین کرنا۔
- اللہ تعالیٰ کے فرض کی مخالفت کی جرأت اور لوگوں کے سامنے اعلانیہ روزہ توڑنا۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عدمِ معافی کا موجب ہے۔ اس طرح کی جرأت کرنے والے شخص کے روزہ توڑنے کا علم بھی صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے، جب وہ خود اپنے قول یا فعل سے اس کا اظہار کرے۔ چنانچہ ابو ہریرہ رضی الله عنه روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: "میری تمام امت معاف کردی جائے گی سوائے اعلانیہ گناہ کرنے والوں کے"[178]۔ [178] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 6069، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 2990۔
- دوسرے لوگوں کی حوصلہ افزائی کہ وہ ایسا گناہ کریں، جس پر اللہ تعالیٰ نے عذاب کی وعید سناتے ہوئے فرمایا: "جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہیں۔ اللہ سب کچھ جانتا ہے اور تم کچھ بھی نہیں جانتے۔" [النور: 19]۔
اس سے بچنے کے راستے:
ماہِ رمضان میں بغیر کسی شرعی عذر کے روزہ چھوڑنے سے بچنے کے درج ذیل طریقے ہیں:
- بچوں کو چھوٹی عمر سے روزہ رکھنے کا عادی بنانا۔ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں: نبی ﷺ نے عاشورا کی صبح انصار کی بستیوں میں یہ اعلان کروایا: ’’جس نے روزہ نہیں رکھا، وہ دن کا باقی حصہ (روزے کی حالت میں) پورا کرے اور جس نے روزہ رکھا ہے، وہ اپنا روزہ مکمل کرے۔‘‘ اس کے بعد ہم خود یہ روزہ رکھتے اور اپنے بچوں کو بھی روزہ رکھواتے تھے۔ ہم ان کے لیے اون کا کھلونا بنا لیتے، پھر جب ان میں سے کوئی کھانے کے لیے روتا تو ہم اسے وہی کھلونا دے دیتے، یہاں تک کہ افطار کا وقت ہو جاتا۔[179] [179] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1960، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1136۔
- نفس کو صبر کا عادی بنانا۔ چنانچہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "جو شخص صبر کرنے کی کوشش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے صبر دے دیتا ہے"۔ [180] [180] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1960، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1136۔
- نفس کو روزے پر اللہ تعالیٰ کے ہاں ملنے والے عظیم ثواب کی ترغیب دلانا۔ چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے، سوائے روزے کے کہ وہ صرف میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا‘‘ [181]۔ [181] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1904، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1151۔
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے۔ قیامت کے دن اس سے صرف روزے دار داخل ہوں گے۔ ان کے سوا اس سے کوئی اور داخل نہیں ہو گا۔ کہا جائے گا: روزے دار کہاں ہیں؟ چنانچہ وہ کھڑے ہوں گے (اور اس سے داخل ہو جائیں گے)۔ ان کے علاوہ اس سے کوئی اور داخل نہیں ہوگا۔ جب وہ داخل ہو جائیں گے تو اسے بند کر دیا جائے گا۔ چنانچہ کوئی اور اس سے داخل نہیں ہوگا‘‘۔ [182] [182] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 1896، صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1152۔
مذاق اڑانا اور استہزا کرنا
کسی مسلمان کا اپنے مسلمان بھائی کا مذاق اڑانا اور اس سے تمسخر کرنا کبیرہ گناہ اور کفار ومنافقین کی صفات میں سے ہے۔ اس کا ارتکاب کرنے والے کے لیے سخت عذاب کی وعید آئی ہے۔ اس بڑے گناہ کی سنگینی اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب استہزا اللہ کے نیک بندوں کا کیا جائے۔
اپنے بھائی کا مذاق اڑانے کی مختلف صورتیں ہیں۔ مثلاً: اسے حقیر سمجھنا اور اس کی توہین کرنا، اس کے عیوب اور خامیوں کو اس لیے بیان کرنا کہ اس پر ہنسا جائے، کسی کے قول یا فعل کی نقل اتارنا یا توہین آمیز اشارہ کرنا، کسی سے بولنے میں کوئی غلطی ہو جائے تو اس پر ہنس دینا، کسی کے کام کی ہنسی اڑانا یا کسی کی بدصورتی یا کسی ایسی بات پر ہنسنا، جس سے اس کی توہین ہوتی ہو۔
دلائل:
کسی مسلمان کا مذاق اڑانے کی حرمت کے دلائل:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "کافروں کے لئے دنیا کی زندگی خوب زینت دار کی گئی ہے۔ وه ایمان والوں کا استہزا کرتے ہیں۔ حاﻻنکہ پرہیزگار لوگ قیامت کے دن ان سے اعلیٰ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بے حساب روزی دیتا ہے۔" [البقرۃ: 212]
شیخ ناصر السعدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اللہ تعالی نے بتایا کہ جن لوگوں نے اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسولوں کا انکار کیا اور اس کی شریعت کی اطاعت نہیں کی، ان کے لیے دنیا کی زندگی خوب زینت دار کر دی گئی ہے۔ چنانچہ اسے ان کی نگاہوں اور دلوں میں سجا دیا گیا، لہذا وہ اسی پر راضی ہوگئے اور اسی پر مطمئن ہو بیٹھے اور ان کی تمام خواہشات، ارادے اور اعمال اسی دنیا کے لیے ہوکر رہ گئے۔ لہٰذا وہ اسی کی طرف متوجہ ہوئے اور اسے حاصل کرنے کے لیے جُٹ گئے، انھوں نے اسی کو اہمیت دی اور ان لوگوں کو بھی بڑا جانا جو ان کے اس عمل میں شریک تھے۔ انھوں نے ایمان والوں کو حقیر جانا، ان کا مذاق اڑایا اور کہا: ’’کیا ہمارے درمیان یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے احسان فرمایا ہے؟‘‘ [183]۔ [183] تفسیر سعدی (ص : 95)۔
حالاں کہ یہ ان کی کم عقلی اور کوتاہ نظری کی دلیل ہے۔ کیونکہ دنیا آزمائش اور امتحان کا گھر ہے اور اس میں اہلِ ایمان اور کفار دونوں ہی مشقت سے دوچار ہوں گے۔ بلکہ مؤمن کو دنیا میں جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے، تو وہ صبر کرتا ہے اور اللہ سے ثواب کی امید رکھتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ اس کے ایمان اور صبر کی بدولت اس کی تکلیف میں ایسی تخفیف فرما دیتا ہے، جو کسی دوسرے کو حاصل نہیں ہوتی۔
جب کہ اصل زندگی اور انسان کا حقیقی سرمایہ تو آخرت کا گھر ہے، جسے ہمیشہ باقی رہنا ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "حاﻻں کہ پرہیزگار لوگ قیامت کے دن ان سے اعلیٰ ہوں گے۔" لہذا متقی لوگ بلند ترین درجات میں، طرح طرح کی نعمتوں، مسرتوں اور شادمانی سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے اور کفار ان کے نیچے پست ترین درکات میں، قسم قسم کے عذاب، رسوائی اور کبھی نہ ختم ہونے والی دائمی بدبختی میں مبتلا ہوں گے۔ معلوم ہوا کہ اس آیت میں مومنوں کے لیے تسلی اور کافروں کے لیے وعید ہے۔
اور اللہ پاک کا فرمان ہے: "جو لوگ ان مسلمانوں پر طعنہ زنی کرتے ہیں جو دل کھول کر خیرات کرتے ہیں اور ان لوگوں پر جنہیں سوائے اپنی محنت مزدوری کے اور کچھ میسر ہی نہیں، پس یہ ان کا مذاق اڑاتے ہیں، اللہ بھی ان سے تمسخر کرتا ہے اور انہی کے لئے دردناک عذاب ہے۔" [التوبۃ: 79]
ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ منافقوں کی صفات میں سے ہے کہ ان کی عیب جوئی اور طعنہ زنی سے کسی بھی حال میں کوئی محفوظ نہیں رہتا۔ یہاں تک کہ صدقہ دینے والے بھی ان سے نہیں بچ پاتے۔ اگر کوئی شخص زیادہ مال لے کر آئے تو کہتے ہیں کہ یہ ریاکار ہے۔ جب کہ اگر کوئی شخص اپنی ہمت واستطاعت کے مطابق کوئی معمولی چیز لائے تو کہتے ہیں: ’’یقیناً اللہ تعالیٰ اِس کے صدقے سے بے نیاز ہے‘‘۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿فَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ سَخِرَ اللَّهُ مِنْهُمْ﴾، دراصل مومنوں کے ساتھ ان کی بدسلوکی اور استہزا کا بدلہ ہے۔ کیونکہ جزا عمل ہی کی جنس سے ہوتی ہے۔ چنانچہ اللہ نے دنیا میں مومنوں کی نصرت کرتے ہوئے منافقوں کے ساتھ تمسخر کا معاملہ کیا اور آخرت میں تو ان کے لیے دردناک عذاب تیار کر ہی رکھا ہے"۔ [184] [184] تفسير ابن كثير (4/ 184) تبدیلی اور اختصار کے ساتھ-
ایک اور موقع پر اللہ پاک نے فرمایا: "میرے بندوں کی ایک جماعت تھی، جو برابر یہی کہتی رہی کہ اے ہمارے پروردگار! ہم ایمان ﻻچکے ہیں، لہذا تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔ تو سب مہربانوں سے زیاده مہربان ہے۔ (لیکن) تم انہیں مذاق میں ہی اڑاتے رہے، یہاں تک کہ (اس مشغلے نے) تم کو میری یاد (بھی) بھلا دی اور تم ان سے مذاق ہی کرتے رہے۔ میں نے آج انہیں ان کے اس صبر کا بدلہ دے دیا ہے کہ وه خاطر خواه اپنی مراد کو پہنچ چکے ہیں۔" [المومنون : 109-111]۔
اللہ تعالی کا مزید ارشاد ہے : "اے ایمان والو! مرد دوسرے مردوں کا مذاق نہ اڑائیں۔ ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں۔ ممکن ہے یہ ان سے بہتر ہوں۔ اور آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ اور نہ کسی کو برے لقب دو۔ ایمان کے بعد فسق برا نام ہے، اور جو توبہ نہ کریں وہی ظالم لوگ ہیں۔" (الحجرات : 11)۔
نیز فرمان باری تعالی ہے : "گنہگار لوگ ایمان والوں کی ہنسی اڑایا کرتے تھے۔ اور ان کے پاس سے گزرتے ہوئے آپس میں آنکھ کے اشارے کرتے تھے۔ اور جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے تو دل لگیاں کرتے تھے۔ اور جب انہیں دیکھتے تو کہتے کہ یقیناً یہ لوگ گمراه (بے راه) ہیں۔ یہ ان پر پاسبان بنا کر تو نہیں بھیجے گئے۔ پس آج ایمان والے ان کافروں پر ہنسیں گے۔ مسہریوں پر بیٹھے دیکھ رہے ہوں گے۔ کہ اب ان منکروں نے جیسا یہ کرتے تھے پورا پورا بدلہ پالیا۔ [المطففین : 29-36]
شیخ سعدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ گنہگار لوگ دنیا میں ایمان والوں کا مذاق اڑاتے، ان سے استہزا کرتے اور ان کی ہنسی اڑاتے تھے اور جب وہ (ایمان والے) ان کے پاس سے گزرتے تو حقارت اور تذلیل کے طور پر آپس میں آنکھوں سے اشارے کرتے تھے۔ اس کے باوجود وہ خود مطمئن رہتے تھے، اور ان کے دل میں خوف کا خیال تک نہ آتا تھا۔ {اور جب وہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹتے} خواہ صبح ہو یا شام، {تو خوش گپیاں کرتے ہوئے لوٹتے تھے}، یعنی نہایت خوش و خرم اور مسرور ہوکر۔ یہ سب سے بڑا دھوکا اور خود فریبی ہے کہ انہوں نے انتہائی بدعملی کے ساتھ دنیوی بے فکری میں مبتلا ہے۔ گویا ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نوشتہ یا عہد نامہ آ گیا ہو کہ وہ اہلِ سعادت ہیں۔ انہوں نے خود ہی اپنے حق میں فیصلہ کرلیا کہ وہی ہدایت یافتہ ہیں اور مومن گمراہ ہیں۔ یہ دراصل اللہ پر بہتان اور بغیر علم کے اس کے بارے میں بات کہنے کی جسارت ہے۔
آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا أُرْسِلُوا عَلَيْهِمْ حَافِظِينَ﴾، یعنی انہیں مومنوں پر ان کے اعمال کی حفاظت کرنے والا وکیل بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ وہ انہیں گمراہ ٹھہرانے کے درپے ہو جائیں۔ ان کا یہ رویہ محض ہٹ دھرمی، عناد اور ایک کھیل ہے جس کی کوئی سند یا دلیل نہیں۔ اسی لیے آخرت میں ان کی جزا بھی ان کے عمل ہی کی جنس سے ہوگی۔ اللہ تعالى نے فرمایا: ﴿فَالْيَوْمَ﴾ یعنی روزِ قیامت ﴿الَّذِينَ آمَنُوا مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُونَ﴾ ایمان والے کافروں پر ہنسیں گے، جب وہ انہیں عذاب کی سختیوں میں تڑپتے ہوئے دیکھیں گے، جو کچھ وہ افترا پردازی کیا کرتے تھے وہ زائل ہوچکا ہوگا، اور ایمان والے کمال راحت واطمینان میں ہوں گے۔ ﴿عَلَى الأرَائِكِ﴾ یعنی آراستہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ﴿يَنْظَرُونَ﴾ ان نعمتوں کو دیکھ رہے ہوں گے جو اللہ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں، اور اپنے رب کریم کے چہرے کا دیدار کررہے ہوں گے۔ [185] [185] تفسیر سعدی (ص : 916)۔
﴿هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ﴾ یعنی کیا انہیں ان کے اپنے عمل جیسا ہی بدلہ دیا گیا؟ جس طرح یہ دنیا میں اہل ایمان پر ہنستے تھے اور انہیں گمراہی کا طعنہ دیتے تھے، آخرت میں اہل ایمان ان پر ہنسیں گے اور انہیں اس عذاب اور سزا میں مبتلا دیکھیں گے جو گمراہی اور بے راہ روی کی سزا ہے۔ ہاں، انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا عین عدل اور حکمت ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وه بیان کرتے ہیں: میرے اور میرے ایک بھائی کے درمیان کچھ تلخ کلامی ہوگئی۔ چوں کہ ان کی والدہ عجمی تھیں، لہذا میں نے انھیں ان کی والدہ کی نسبت سے عار دلا دی۔ انہوں نے نبی ﷺ سے میری شکایت کی اور اس کے بعد میں نبی ﷺ سے ملا، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اے ابو ذر! بے شک تم ایسے آدمی ہو کہ تمھارے اندر (ابھی تک) جاہلیت (کا اثر باقی) ہے‘‘۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جو شخص لوگوں کو برا بھلا کہتا ہے تو لوگ (جواباً) اس کے ماں باپ کو بھی برا بھلا کہتے ہیں۔ آپ ﷺ نے (پھر) فرمایا: ’’اے ابو ذر! بے شک تم ایسے آدمی ہو کہ تمھارے اندر (ابھی تک) جاہلیت (کا اثر باقی) ہے...‘‘ [186]۔ [186] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 30 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر : 1661۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم نہ کرے، اس کو بے سہارا نہ چھوڑے اور اس کو حقیر نہ سمجھے۔ تقویٰ یہاں ہے۔ آپ ﷺ نے یہ الفاظ اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ فرمائے۔ کسی بھی آدمی کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔ ہر مسلمان کا خون، اس کا مال اور اس کی عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔“ [187] [187] صحیح مسلم، حدیث نمبر : 2564۔
نقصانات:
مسلمان کا مذاق اڑانے کے نقصانات:
- یہ اللہ تعالی کی نافرمانی اور ایک کبیرہ گناہ ہے۔
- اس فعل کا مرتکب فاسق ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں اس کی گواہی بھی مردود ہو جاتی ہے۔ امام قرطبی نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بعد لکھا ہے: "اے ایمان والو! مرد دوسرے مردوں کا مذاق نہ اڑائیں۔ ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں..." اس آیت تک: "...ایمان کے بعد فسق برا نام ہے...۔" [الحجرات : 11] اور اس کے بعد لکھا ہے : ”ایک قول یہ ہے کہ جس نے اپنے بھائی کو برا لقب دیا یا اس کا مذاق اڑایا، وہ فاسق ہے“ [188]۔ [188] تفسیر قرطبی (16/328)۔
- یہ کافروں اور منافقوں کا شیوہ ہے- کیونکہ ہر دور میں اہل ایمان کا استہزا کرنا ان کا وطیرہ رہا ہے۔
- اس کی وجہ سے استہزاء کرنے والا اسی شخص میں مشغول ہو جاتا ہے جس کا وہ مذاق اڑا رہا ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ عبادت اور ذکر واذکار کو بھی بھول جاتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "(لیکن) تم انہیں مذاق میں ہی اڑاتے رہے یہاں تک کہ (اس مشغلے نے) تم کو میری یاد (بھی) بھلا دی..." [المؤمنون : 110]۔
- یہ اکثر حرام غیبت کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ لہذا یہ غیبت میں پڑنے کا ایک یقینی ذریعہ ہے۔ کیونکہ مذاق اڑانے والا اکثر دوسروں کا مذاق ان کے پیٹھ پیچھے ہی اڑاتا ہے۔
- اکثر استہزا اور مذاق لوگوں کو حقیر جاننے کا نتیجہ ہوتا ہے اور یہ اُس مذموم تکبر میں داخل ہے جس کے مرتکب کو دردناک عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ چنانچہ صحیح حدیث میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہو گا“۔ ایک شخص نے عرض کیا: ”انسان چاہتا ہے کہ اس کا لباس اچھا ہو اور اس کے جوتے اچھے ہوں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند فرماتا ہے۔ تکبر حق بات کو جھٹلانا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا ہے“ [189]۔ 'بطر الحق' : اپنے آپ کو برتری اور فوقیت دیتے ہوئے حق کو رد کرنا اور اس کا انکار کرنا۔ 'غمط الناس': لوگوں کو حقیر سمجھنا۔ [189] صحیح مسلم، حدیث نمبر: 91۔
- یہ معاشرے کے افراد کے درمیان دشمنی اور بغض پھیلانے کا ایک بڑا سبب ہے۔ بسا اوقات یہ آپسی لڑائی جھگڑے کا بھی سبب بن جاتا ہے۔
- اس میں بعض دفعہ اللہ کی خلقت کا مذاق پایا جاتا ہے۔ خاص طور پر جب کوئی شخص کسی دوسرے کا اس کی خلقت سے متعلق کسی چیز، جیسے اس کی صورت، آواز یا رنگ کی وجہ سے مذاق اڑائے۔
- مذاق اڑانا، مذاق اڑانے والے کے وقار کو زائل کر دیتا اور اسے بے مروت بنا دیتا ہے۔
اس سے بچنے کے طریقے:
اس سے بچنے کے درج ذیل طریقے ہیں:
- اللہ عز وجل کی خشیت اور اس کی نافرمانی کے نتیجے میں اس کی پکڑ کا خوف۔
- انسان کو چاہیے کہ وہ خود کو ایسے امور میں مشغول رکھے جو اس کے لیے دین ودنیا میں مفید ہوں، تاکہ اسے اپنے بھائیوں کی عیب جوئی میں پڑنے کا موقع ہی نہ ملے۔
- تکبر اور لوگوں کی تحقیر کو ترک کر دینا۔ کیونکہ جو لوگ دوسروں کا مذاق اڑاتے ہیں، ان میں سے اکثر کو اس کام پر ان کا تکبر اور دوسروں کی تحقیر کا جذبہ ہی اکساتا ہے۔
- بری صحبت کو ترک کر دینا جو بسا اوقات اس برائی کا سبب بنتی ہے۔ کیونکہ بروں کی مجلسیں لوگوں کا مذاق اڑانے سے خالی نہیں ہوتیں، جسے وہ تفریح اور ہنسی مذاق کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں۔
- یہ علم رکھے کہ اسے جو بھی نعمتیں حاصل ہیں وہ اللہ کی طرف سے ہیں، اور اللہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ نعمتیں اس سے سلب کر لے اور اسے اس شخص سے بھی بدتر حالت میں مبتلا کر دے جس کا وہ مذاق اڑا رہا ہے۔
- جب انسان کسی کو اپنے بھائیوں کا مذاق اڑاتے دیکھے تو اسے منع کرے اور اس کے اس فعل میں اس کا ساتھ نہ دے؛ تاکہ وہ اس معاملے میں مزید آگے نہ بڑھے۔
Related books
All books
فضائلِ اسلام11 زبانیںفضائلِ اسلام
امام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ باب: اسلام کا وجوب ... اور ارشادِ باری تعالٰی : {جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وه آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا۔} [1] (سورۂ آل عمران: 85)۔ اور یہ فرمان الہی: {اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے، جو مستقیم ہے، سو اس راه پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وه راہیں تم کو اللہ کی راه سے جدا کردیں گی۔} [2] (سورۂ انعام: 153)۔ [2] سورہ انعام آیت: 153۔ [1] سورۂ آل عمران آیت: 185۔ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’سُبُل‘ سے مراد ’بدعات اور شبہات‘ ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا : "جس نے…
اسلام کا مختصر تعارف قرآن کریم اور سنت نبوی کی روشنی میں71 زبانیںاسلام کا مختصر تعارف قرآن کریم اور سنت نبوی کی روشنی میں
اسلام یہ اسلام کے مختصر تعارف پر مشتمل ایک انتہائی اہم کتاب ہے جو اسلام کے اصول وتعلیمات اور محاسن کو اس کے اصلی مصادر یعنی قرآن کریم اور سنت نبوی کے سرچشمہ سے کشید کر کے واضح انداز میں پیش کرتی ہے،اس کتاب کے مخاطبین احوال و ظروف اور زبان و بولی کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود ہر مکلف مسلم و غیر مسلم افراد ہیں۔ یہ قرآن کریم اور سنت نبوی سے ماخوذ دلائل سے آراستہ نسحہ ہے۔ 1- اسلام دنیا کے تمام لوگوں کے نام اللہ کا آخری و ابدی پیغام ہے۔ اسلام دنیا کے تمام لوگوں کے نام اللہ تعالی کا پیغام ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبریاں سنانے واﻻ اور ڈرانے واﻻ…
عام مسلمانوں کے لیے اہم اسباق40 زبانیںعام مسلمانوں کے لیے اہم اسباق
کتاب ”عام مسلمانوں کے لیے اہم اسباق“ شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ کا ایک مختصر مگر نہایت نافع رسالہ ہے، جسے امام موصوف نے عام مسلمانوں کے لیے علمی زادِ راہ کے طور پر تصنیف فرمایا۔ اس میں دین کے اصول وارکان، یعنی توحید، ایمان اور اسلام سے لے کر طہارت ونماز کے احکام، آدابِ اسلام، اور شرک ومعاصی کے خطرات کو آسان وواضح اسلوب میں، کتاب و سنت کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے، تاکہ ہر مسلمان کے لیے صحیح عقیدہ اور درست عبادت کو سمجھنا آسان ہو جائے۔
مذہب اسلام کا ایک مختصر تعارف قرآن کریم اور سنت نبوی کی روشنی میں59 زبانیںمذہب اسلام کا ایک مختصر تعارف قرآن کریم اور سنت نبوی کی روشنی میں
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے۔ اسلام دلائل سے خالی نسخہ (1) (1) ہر مسئلے پر قرآن کریم اور سنت نبوی کے دلائل سے آراستہ و پیراستہ، اس رسالے کا ایک دوسرا نسخہ بھی درج ذیل سائٹ پر موجود ہے: http://islamhouse.com/ar/books/2830071 یہ اسلام کے مختصر تعارف پر مشتمل، ایک انتہائی اہم رسالہ ہے جو اسلام کے اصول و تعلیمات اور محاسن کو اس کے اصلی مصادر یعنی قرآن کریم اور سنت نبوی کے سرچشمہ سے کشید کر کے واضح انداز میں پیش کرتا ہے۔ اس رسالے کے مخاطبین، احوال و ظروف اور زبان و بولی کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود، ہر زمان و مکان کے تمام مکلف مسلم و غیر مسلم…