”میری تمام امت معاف کردی جائے گی سوائے اعلانیہ گناہ کرنے والوں کے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا :
”میری تمام امت معاف کردی جائے گی سوائے اعلانیہ گناہ کرنے والوں کے۔ اور اعلانیہ گناہ کرنے میں یہ بھی شامل ہے کہ کوئی شخص رات کو کسی گناہ کا ارتکاب کرے اور اس کی صبح اس حال میں ہو کہ الله نے اس کے گناہ پر پردہ ڈالے رکھا ہو اور وہ (کسی سے) کہے کہ اے فلاں! میں نے کل رات یہ یہ کام کیا ہے۔ جب کہ اس کی رات اس حال میں گزری تھی کہ اللہ نے اس کے گناہ پر پردہ ڈالے رکھا تھا، لیکن صبح ہوتے ہی وہ خود اپنے بارے میں اللہ کے پردے کو کھولنے لگا“۔
«كُلُّ أُمَّتِي مُعَافًى إِلَّا المُجَاهِرِينَ، وَإِنَّ مِنَ المُجَاهَرَةِ أَنْ يَعْمَلَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ عَمَلًا، ثُمَّ يُصْبِحَ وَقَدْ سَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَيَقُولَ: يَا فُلاَنُ، عَمِلْتُ البَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا، وَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ، وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللَّهِ عَنْهُ».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اس بات کی امید رہتی ہے کہ اللہ گناہ کرنے والے مسلمان کے ساتھ عفو و درگزر کا معاملہ کرے۔ لیکن ایسا فخر اور بے شرمی کے ساتھ گناہ کرنے والے کے ساتھ نہیں ہوتا۔ وہ شخص عفو و درگزر کا حق دار نہیں ہے، جو رات میں گناہ کرتا ہو اور صبح لوگوں کو بتاتا پھرتا ہو کہ اس نے گزشتہ رات فلاں گناہ کیا ہے، جب کہ اللہ نے اس کے گناہ پر پردہ ڈال رکھا تھا۔ پوری رات اللہ نے پردہ ڈالے رکھا اور صبح ہوتے ہی اس نے اسے تار تار کر دیا۔
...:
اللہ کی جانب سے پردہ پوشی کے بعد گناہ کا اعلان کرنے کی مذمت۔
گناہ کا اعلان کرنا ایک طرح سے اہل ایمان کے درمیان برائی عام کرنا ہے۔
اللہ جس کی دنیا میں پردہ پوشی فرمائے گا، آخرت میں بھی اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ یہ دراصل بندوں پر اللہ کے بے پایاں فضل و کرم کی ایک مثال ہے۔
جس سے کوئی گناہ ہو جائے، وہ اپنے گناہ کو چھپائے اور اللہ کے سامنے توبہ کرے۔
گناہ کا اعلان کرنے والے بڑے گناہ کے حق دار ہیں، جو جان بوجھ کر گناہ کا اعلان کرتے پھرتے ہیں اور خود کو اللہ کے عفو و درگزر سے محروم کر لیتے ہيں۔
مزید (10)
صحیح بخاری (8/ 20) (6069).
صحیح مسلم (4/ 2291) (2990).
شرح رياض الصالحين.
لابن عثيمين (3/ 15).
منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري.
لحمزة قاسم (5/ 251).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين.
لسليم الهلالي (1/ 329).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين.
مجموعة من الباحثين (1/ 255).
کتابوں میں مذکور
5 کتابیںمزید (4)
- الحقيقة المُبْهِرَة في العلاقة بين الإسلام والإنسان(كل أمتي مُعَافىً إلّا المجاهرين، وإنّ من المجاهرة أن يعمل الرجل بالليل عملاً ، ثم يصبح وقد ستره الله عليه، فيقول: يا فلان عملت البارحة كذا وكذا، وقد بات يستره ربه، ويصبح يكشف ستر الله عنه)[162].
- الله -جل جلاله- أنيس المحبين وملاذ القاصدين«كُلُّ أُمَّتِي مُعَافـًى إِلَّا المُجَاهِرِينَ، وَإِنَّ مِنَ المُجَاهَرَةِ: أَنْ يَعْمَلَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ عَمَلًا، ثُمَّ يُصْبِحَ وَقَدْ سَتَرَهُ اللهُ عَلَيْهِ، فَيَقُوْلُ: يَا فُلاَنُ! عَمِلْتُ البَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا، وَقَدْ بَا
- ترجمة المقاطع المرئية - مشروع هدايات 1(كل أُمتي معافى إلا المجاهرين)
- قاموس الكبائر موسوعة الكبائر - المجموعة الأولى«كُلُّ أُمَّتِي مُعَافى إِلَّا المُجَاهِرِيْنَ» [178].