يومي الأول في الإسلام

يومي الأول في الإسلام

اسلام میں میرا پہلا دن

Language: lang_ur
Prepared by:
Version: 1.0
Translations 20
Amharic Bosnian English Spanish +16
Attachments 7
PDF
Audio
Video
+3

اسلام میں میرا پہلا دن

بسم الله الرحمن الرحيم

مقدمہ

تمام تعریفات اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہان والوں کے لیے رحمت بناکر مبعوث کیا‘ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں‘ وہ تنہا ہے‘ اس کا کوئی شریک نہیں‘ وہ تمام پہلے آنے والوں اور بعد میں آنے والوں کا پروردگار ہے‘ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں‘ وہ تمام نبیوں اور رسولوں کے خاتم ہیں‘ قیامت تک اللہ تعالی آپ پربکثرت درود وسلام نازل کرتا رہے‘ اما بعد:

تمام لوگ سعادت وخوش بختی کی تلاش میں ہیں‘ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ مال ودولت جمع کرنے سے سعادت حاصل ہوتی ہے‘ کچھ لوگ شہرت کی چمک دمک میں سعادت تلاش کرتے ہیں‘ جبکہ کچھ لوگ بلند وبالا مناصب کے حصول کو ہی سعادت وخوش بختی مانتے ہیں‘ یا دیگر دنیوی لطف ولذت کو سعادت کا ضامن سمجھتے ہیں‘ لیکن حقیقت اس بات پر گواہ ہے کہ ان چیزوں کو حاصل کرنے والے بہت سے لوگ اس سعادت سے بہرہ ور نہیں ہوسکے جس کی انہیں تلاش تھی۔

یہ سعادت اسی وقت ہمیں حاصل ہوسکتی ہے جب ہم اس دین حق کی ہدایت پا لیں جسے تمام انسانوں کے خالق نے ہمارے لیے منتخب فرمایا ہے‘ ہم اسے اپنے دین کے طور پر اپنا لیں اور اس کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے لگیں‘ یہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر ہم دنیا میں خوش بختی اور بہترین زندگی اور آخرت میں ہمیشگی کی سعادت حاصل کرسکتے ہیں‘ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

"جو بھی اپنے آپ کو خلوص کے ساتھ اللہ کے سامنے جھکا دے۔ بےشک اسے اس کا رب پورا بدلہ دے گا، ایسے لوگوں پر نہ تو کوئی خوف ہوگا، نہ غم اور اداسی"۔

[البقرة: 112]

نیز اللہ تعالی فرماتا ہے:

"جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن با ایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے"

سورۃ النحل: ۹۷

میرے عزیز بھائی! آپ اسلام میں داخل ہوتے ہیں تو اپنا قدم نور وہدایت اور سعادت ومسرت کی راہ پر لگا دیتے ہیں‘ اس لیے آپ کو یہ یقین رکھنا چاہئے کہ جس دن آپ اسلام لاتے ہیں وہ آپ کی زندگی کا کوئی عام دن نہیں ہوتا‘ بلکہ وہ آپ کی نئی ولادت کا دن ہوتا ہے!

چنانچہ اگر آپ اپنی ولادت کے دن مادر رحم کی تاریکی اور تنگی سے دنیا کی روشنی اور کشادگی کی طرف نکل آئے تھے‘ تو آج آپ کفر کی تاریکی سے ایمان کے نور کی طرف اور گمراہی کی تنگی سے ہدایت کی کشادگی کی طرف نکل رہے ہیں‘ اللہ تعالی فرماتا ہے:

”ایسا شخص جو پہلے مرده تھا پھر ہم نے اس کو زنده کردیا اور ہم نے اس کو ایک ایسا نور دے دیا کہ وه اس کو لئے ہوئے آدمیوں میں چلتا پھرتا ہے۔ کیا ایسا شخص اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو تاریکیوں سے نکل ہی نہیں پاتا؟۔“

[الأنعام: 122]

اسلام کے کشادہ آنگن میں آپ کا خیر مقدم اور خوش آمدید ہے‘ آپ کی خدمت میں یہ کتابچہ پیش کیا جا رہا ہے جو ایسے اہم امور اور عظیم اصول ومبادی پر مشتمل ہے جن سے آپ کو اپنے اسلام لانے کے پہلے دن ہی واقف ہوجانا چاہئے۔

تمہید

اسلام ہی دین برحق ہے

دین اسلام ہی وہ دین برحق ہے جسے اللہ تعالی نے تمام لوگوں کے لیے پسند فرمایا‘ یہی وہ دین ہے جس کے علاوہ کوئی اور دین اللہ کے نزدیک قابل قبول نہیں‘ اللہ تعالی فرماتا ہے:

"بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے"

[آل عمران: 19]

بڑى شان والے اور برتر اللہ کا فرمان ہے:

"جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وه آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا"۔

[آل عمران: 85]

جو شخص دین اسلام کو گلے لگاتا اور اسے مضبوطی سے تھام لیتا ہے وہ نور اور ہدایت کے راستے پر چل پڑتا ہے‘ جوکہ اس اللہ تک پہنچانے والا سیدھا اور بالکل واضح راستہ ہے جس نے انسان کو اس دنیا میں پیدا کیا اور وجود بخشا۔

دین اسلام کا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنی دنیاوی زندگی میں اچھی حالت میں‘ اطمینان اور سعادت کے ساتھ رہے‘ اسی طرح موت کے بعد آخرت کی زندگی میں بھی سعادت وکامرانی سے بہرہ ور ہو‘ بایں طور کہ اللہ تعالی اسے جنت میں داخل فرمائے اور وہ جنت کی دائمی نعمت سے لطف اندوز ہو۔

ہر انسان پر واجب ہے کہ وہ دین حق کی تلاش کرے جوکہ اسلام ہے‘ اس سے واقفیت حاصل کرے‘ اس پر ایمان لاتے ہوئے اسے گلے لگائے‘ اور اس کی تعلیمات اور احکام کی پاسداری کرے‘ تاکہ دنیا وآخرت کی بھلائی سے دامن مراد کو بھر سکے۔

اسلام میں انسان کیسے داخل ہوتا ہے؟

انسان جب یہ کلمہ (أشهد أن لا إله إلا الله، وأن محمدا رسول الله) (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں) صدق دل سے‘ یقین کے ساتھ اور اسہ کے معنی ومفہوم کو جانتے ہوئے‘ کہتا ہے‘ تو وہ اسلام میں داخل ہوجاتا ہے‘ چنانچہ جو شخص اس کلمہ کے معنی ومفہوم کو جانتے ہوئے‘ صداقت وراستی اور یقین کے ساتھ اور اس کے معنی ومفہوم کو تسلیم کرتے ہوئے اسے اپنی زبان سے ادا کرتا ہے‘ تو وہ اسلام میں داخل ہو جاتا ہے‘ پھر اس کے لیے یہ واجب ہوتا ہے کہ وہ اسلام کی دیگر تعلیمات کو سیکھے اور اپنی استطاعت کے مطابق ان پر عمل کرے‘ اس کے علم میں جس قدر اضافہ ہوگا اسی قدر اس کا ایمان بھی بڑھے گا اور اللہ تعالی کے نزدیک اس کے اجر وثواب میں اضافہ بھی ہوگا۔

شہادتین: (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں) کا معنی ومفہوم:

آپ ایمان ویقین اور صداقت وراستی کے ساتھ یہ کلمہ:(أشهد أن لا إله إلا الله، وأن محمدا رسول الله)(میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں) پڑھـتے ہى اسلام میں داخل ہوگئے، تو کیا آپ اس کلمہ کے حقیقی معنی سے واقف ہیں؟

لا الہ الا اللہ کی گواہی دینے کا معنی ہے: یہ عقیدہ رکھنا اور اقرار کرنا کہ ایک معبود کے سوا کوئی ایسا معبود نہیں جو تمام تر عبادت واطاعت کا مستحق ہو‘ اور وہ ہے اللہ پاک وبرتر کی ذات‘ جو اس کائنات کا خالق بھی ہے اور مدبر وکارساز بھی۔

محمد رسول اللہ کی گواہی دینے کا معنی ہے: یہ عقیدہ رکھنا اور اقرار کرنا کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے آخری رسول ہیں جن کو اللہ نے تمام لوگوں کے لیے مبعوث فرمایا‘ اور ساتھ ہی اس کے تقاضے پر عمل کرنا‘ بایں طور کہ آپ نے جو حکم دیا اس کی تعمیل کی جائے‘ اور آپ نے جس چیز سے منع کیا اس سے باز رہا جائے اور آپ کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق ہی اللہ کی عبادت کی جائے۔

اسلام آپ کو مبارک ہو:

میرے عزیز بھائی! اسلام میں آپ کا پہلا دن مطلق طور پر آپ کی زندگی کا سب سے بہترین دن ہے‘ کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، آپ نے فرمایا:

"اسلام اپنے ماقبل کے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے"

(مسلم)،

یعنی: اسلام سے قبل آپ سے جو کفر‘ برائیاں‘ گناہ اور معاصی سر زد ہوئے‘ ان سب کو اسلام مٹا دیتا ہے‘ آپ مغفرت الہی کی بشارت قبول کریں‘ آج آپ گناہوں سے پاک وصاف ہو رہے ہیں اور آپ کی زندگی کا ایک سفید صفحہ کھل رہا ہے‘ تاکہ آپ اسی طرح پاک وصاف ہوجائیں جس طرح آپ کی ماں نے آپ کو جنا تھا‘ پھر ایک نئی زندگی کا آغاز کریں جو خیر وبھلائی سے معمور ہو‘ اور نور وسعادت اور فرحت ومسرت کی راہ پر چل پڑیں۔

نعمت اسلام کی خوشی:

وہ عظیم فرحت ومسرت جو اسلام میں داخل ہوتے ہوئے آپ نے محسوس کی‘ اسے پوری زندگی اپنے اندر لازماً باقی رکھیں‘ کیوں کہ ہدایت کی نعمت عظیم ترین نعمتوں اور ان بیش بہا احسانات میں سے ہے جن کے ذریعہ اللہ تعالی اپنے بندوں پر احسان کرتا ہے‘ یہ نعمت ہوا‘ پانی‘ کھانے اور پینے سے بڑی نعمت ہے‘ یہ مال ومنصب اور جاہ وحشمت سے بھی بڑھ کر ہے‘ بلکہ وہ مطلقاً سب سے بڑی نعمت ہے‘ تو بھلا ہم کیوں کر اس سے خوش نہ ہوں؟! اللہ تعالی کا فرمان ہے:

"آپ کہہ دیجئے کہ بس لوگوں کو اللہ کے اس انعام اور رحمت پر خوش ہونا چاہئے، وه اس سے بدرجہا بہتر ہے جس کو وه جمع کر رہے ہیں".

[يونس: 59]-

آپ اپنے اوپر اللہ کے اس فضل کو ضرور محسوس کریں کہ اس نے لاکھوں انسانوں میں سے آپ کو منتخب کیا کہ آپ اسلام میں داخل ہوں‘ فرمان باری تعالی ہے:

"جس شخص کو اللہ تعالیٰ راستہ پر ڈالنا چاہے اس کے سینہ کو اسلام کے لیے کشاده کر دیتا ہے"

(الانعام: 125)،

یہ ایسی عظیم اور بیش بہا نعمت ہے کہ اس کے لیے بہت زیادہ شکر کی ضرورت ہے‘ اس لیے آپ پر لازم ہے کہ کثرت سے اللہ تعالی کی حمد وثنا کریں‘ اس کا شکر بجا لائیں‘ اور اس کی تعریف وتوصیف بیان کریں کہ اس نے آپ کو صحیح دین کی رہنمائی فرمائی۔

چند بنیادی تعلیمات جنہیں جاننا ضروری ہے:

اگر آپ اسلام میں داخل ہوتے ہیں تو کچھ امور کا جاننا اور سیکھنا آپ کے لیے واجب ہوجاتا ہے‘ ان میں سے ان تین اہم سوالوں کا جواب بھی ہے جن کے بارے میں ہر انسان سے موت کے بعد سوال کیا جاتا ہے‘ اور ان سوالوں کا جواب ہی یہ طے کرتا ہے کہ اس کا ٹھکانہ کیا ہے‘ جنت یا جہنم‘ یہ تین سوالات حسب ذیل ہیں:

تمہارا رب کون ہے؟

تمہارا دین کیا ہے؟

تمہارا نبی کون ہے؟

پہلا سوال: تمہارا رب کون ہے؟

میرا رب اللہ ہے-

مسلمان یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اس کا رب اللہ ہے جس نے اس کائنات کو اور اس میں موجود تمام تر مخلوقات کو پیدا کیا اور انسان کی تخلیق بھی اسی نے کی ہے۔

اگر ہم اس عظیم کائنات‘ اس کی بڑی بڑی کہکشاؤں اور اس میں موجود کروڑوں سیاروں اور ستاروں پر غور وفکر کریں‘ اگر ہم اس روئے زمین میں غور وفکر کریں جس پر ہم زندگی گزارتے ہیں اور اس میں موجود وادیوں‘ پہاڑوں‘ خشکی‘ سمندروں اور نہروں پر غور کریں‘ سمندروں کی تہوں میں‘ ریگستانوں اور جنگلوں میں موجود کائنات کے عجائب پر غور کریں تو ہمارا غور وفکر ایک ایسے نتیجہ پر ہمیں پہنچائے گا جس سے کوئی راہ فرار نہیں‘ وہ یہ کہ ایک ایسے عظیم خالق کا وجود ناگزیر ہے جو خوب جاننے والا‘ بے پناہ قدرت والا اور بیش بہا حکمت والا ہے‘ جس نے اس کائنات کو وجود بخشا اور بغیر کسی سابقہ نمونہ کے اسے پیدا کیا‘ کسی ایسے معبود کے وجود کے بغیر ان تمام مخلوقات کا وجود میں آنا ممکن نہیں جس نے انہیں وجود بخشا‘ ان کے نظام کو منظم کیا‘ اور ایسی مہارت سے انہیں بنایا کہ عقلیں حیران رہ جائیں‘ بڑى شان والے اور برتر اللہ نے ہر عقلمند کے لیے اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:

’’کیا یہ لوگ بغیر کسی خالق کے پیدا ہو گئے ہیں، یا یہ خود اپنے خالق ہیں‘‘۔

[الطور:35]،

چنانچہ نہ اس کائنات نے اپنے آپ کو خود پیدا کیا ہے اور نہ ہی وہ کسی خالق کے بغیر از خود وجود میں آئی ہے‘ کیوں کہ عقل والوں کے نزدیک یہ ناممکن ہے!

اللہ ہی تمام تر عبادتوں کا تن تنہا مستحق ہے:

یہ رب ہی وہ معبود ہے جو تمام تر عبادتوں کا تن تنہا مستحق ہے‘ کیوںکہ اس کائنات کے تمام امور کی تخلیق اور تدبیر کرنے والا اور اس کی ہر مخلوق کو رزق بہم پہنچانے والا بھی وہی ہے‘ اسی نے تمام لوگوں کو پیدا کیا اور اس زمین پر انہیں وجود بخشا اور انہیں زندگی گزارنے کے وسائل مہیا کیے‘ فرمان باری تعالی ہے:

"یہ ہے اللہ تعالیٰ تمہارا رب! اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے، تو تم اسی کی عبادت کرو اور وه ہر چیز کا کارساز ہے"۔

[الأنعام: 102]۔

بنابریں ہر انسان پر واجب ہے کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرے اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے‘ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

’’اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کرو، جس نے تمہیں اور تم سے پہلے کے لوگوں کو پیدا کیا، یہی تمہارا بچاؤ ہے۔‘‘

[البقرة: 21]،

نیز اللہ سبحانہ کا فرمان ہے:

"اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ"۔

[سورۃ النساء: 36]۔

انبیائے کرام کا توحید باری تعالی کی دعوت دینا:

توحید کا معاملہ ممکل واضح ہے اس کے باوجود اللہ عز وجل نے اپنے فضل وکرم سے ہم پر رحم فرماتے ہوئے ہمیں پیدا کرکے یوں ہی زمین پر بھٹکتے ہوئے نہیں چھوڑ دیا‘ بلکہ ہمارے درمیان رسولوں کو مبعوث فرمایا‘ ان پر کتابیں نازل کیں‘ جن کے ذریعہ رسولوں نے ہمیں اللہ سے متعارف کرایا اور ہمیں اس کی رہنمائی فرمائی‘ اللہ تعالی فرماتا ہے:

"ہم نے ہی آپ کو حق دے کر خوشخبری سنانے واﻻ اور ڈر سنانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے اور کوئی امت ایسی نہیں ہوئی جس میں کوئی ڈر سنانے واﻻ نہ گزرا ہو"۔

(فاطر: 24)۔

بابا آدم علیہ السلام‘ تمام انبیائے کرام‘ جن میں نوح‘ ابراہیم‘ موسی‘ عیسی اور دیگر انبیاء بھی شامل ہیں‘ جن کی آخری کڑی ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں‘ وہ سب کے سب ایک عظیم اصول پر متفق تھے‘ وہ عظیم اصول ہے: لوگوں کو اللہ تعالی پر ایمان لانے‘ اس کو ایک جاننے اور تمام تر عبادتوں کو صرف اس کے لیے انجام دینے اور اس کے علاوہ تمام تر معبودوں سے دامن کش رہنے کی دعوت دینا خواہ وہ انسان کی شکل میں ہوں یا پتھر‘ درخت‘ ستاروں اور سیاروں وغیرہ کی شکل میں‘ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

”ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو۔“

[سورۃ النحل: 36]،

نیز اللہ جل وعلا کا فرمان ہے:

’’اور ہم نے آپ سے پہلے ایسا کوئی رسول نہیں بھیجا، جس کے پاس ہم نے یہ وحی نہ بھیجی ہو کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، پس میری ہی عبادت کیا کرو‘‘۔

[سورۃ الأنبياء: 25]۔

اللہ کے بعض اسماء وصفات:

اللہ تعالی کے بہت سے خوبصورت نام اور بلند وبالا صفات ہیں‘ جب ہم ان سے واقف ہوتے ہیں تو پاک وبرتر رب کے تئیں ہماری معرفت بڑھ جاتی ہے‘ ہمارے اندر اللہ کی محبت‘ خشیت اور اس کے فضل وکرم کی امید بڑھ جاتی ہے‘ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

"وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، بہترین نام اسی کے ہیں".

[طه:8]۔

اللہ کے ایسے اسمائے گرامی جو اس کی صفات پر دلالت کرتے ہیں ان کی تعداد بہت ہے‘ ان اسماء میں سے چند یہ ہیں:

الرحمن اور الرحیم (بہت رحمت والا اور نہایت مہربان): اللہ تعالی کا فرمان ہے:

"تم سب کا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وه بہت رحم کرنے واﻻ اور بڑا مہربان ہے"

[البقرة: 163]،

اللہ تعالی کشادہ اور عظیم رحمت والا ہے‘ جس کی رحمت ہر ایک چیز کو محیط اور تمام مخلوقات کو شامل ہے‘ دنیا میں اس کی رحمت ہر مخلوق کو حاصل ہے‘ جیسے جانور اور تمام انسان خواہ مسلمان ہو یا غیر مسلم‘ فرمان باری تعالی ہے:

"اور میری رحمت تمام اشیا پر محیط ہے"۔

[سورۃ الأعراف: 156]،

اللہ تعالی تمام انسانوں کو رزق بہم پہنچاتا ہے‘ انہیں صحت وتندرستی‘ اشیائے خورد ونوش اور اولاد وغیرہ سے نوازتا ہے‘ لیکن آخرت میں اس کی رحمت صرف اس کے مومن بندوں کو حاصل ہوگی‘ جو اس کے انبیاء ورسل کی پیروی کرتے ہیں‘ ان کے لیے ایسی کامل رحمت ہے جو انہیں ابدی سعادت تک پہنچائے گی۔

الخالق (پیدا کرنے والا): اللہ فرماتا ہے:

"اللہ ہی تمام چیزوں کا خالق ہے"۔

[سورہ الزمر: 62]،

وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام مخلوقات کو پیدا کیا‘ ذرہ سے لیکر کہکشاں تک اور جو مخلوق اس سے بھی بڑی ہے‘ سب اسی کی تخلیق کردہ ہیں‘ اس کی تخلیق حکمت‘ قدرت اور احسان پر مبنی ہے‘ اس لیے اللہ کی تخلیق میں آپ کو کوئی نقص اور کمی وکجی نظر نہیں آئے گی۔

الغفور (خوب معاف کرنے والا): وہی ہے جو سچے دل سے توبہ کرنے والے کے تمام گناہوں کو معاف کردیتا ہے‘ خواہ اس نے (ماضی میں) جو اعمال بھی کیے ہوں‘ بلکہ بسا اوقات اپنے فضل وکرم کی بنا پر بہت سی مخلوقات کو معاف فرما دیتا ہے‘ -سوائے اللہ کی عبادت میں شرک کے‘ اس گناہ کو بغیر توبہ کے معاف نہیں کرتا- اللہ نے اپنی مغفرت سے سرفراز ہونے کے لیے بندوں کے سامنے بہت سے اسباب ووسائل کھول کھول کر بیان کردیے ہیں‘ جیسے توبہ واستغفار‘ ایمان‘ عمل صالح اور مخلوق الہی کے ساتھ حسن سلوک‘ اللہ تعالی فرماتا ہے:

"ہاں بے شک میں انہیں بخش دینے واﻻ ہوں جو توبہ کریں، ایمان ﻻئیں، نیک عمل کریں اور راه راست پر بھی رہیں".

[النجم: 82].

الرزاق (رزق رساں): اللہ پاک وبرتر ہی وہ بادشاہ ہے جس کے ہاتھ میں ہر ایک چیز کی بادشاہت وملکیت ہے‘ وہ غنی وبے نیاز ہے‘ اس کا فضل واحسان ہے کہ وہ خوب نوازنے والا ہے‘ ہر مخلوق کی روزیاں اللہ نے اپنے ذمہ لیا ہے‘ فرمان باری تعالی ہے:

”میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں۔

نہ میں ان سے روزی چاہتا ہوں نہ میری یہ چاہت ہے کہ یہ مجھے کھلائیں۔

اللہ تعالیٰ تو خود ہی سب کا روزی رساں، توانائی والا اور زور آور ہے"۔

[ سورہ الذاريات: 56 - 58 ]۔

السلام: وہ ذات جو عظیم وبرتر ہے اور ہر قسم کے عیوب اور تمام تر صفات نقص سے پاک وصاف ہے‘ جس کی تمام تر صفات عظمت وکمال اور حسن وجمال پر مبنی ہیں ‘ جو یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے بندے اپنے قول وعمل کے ذریعہ سلام (امن وآشتی) کو عام کریں‘ اللہ تعالی فرماتا ہے:

’’وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، بادشاه، نہایت پاک، سب عیبوں سے صاف ہے۔‘‘

[الحشر: 23]۔

العلیم (ہر چیز کو جاننے والا): اللہ تعالی سننے والا‘ دیکھنے والا اور جاننے والا ہے‘ اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے‘ وہ ظاہر وپوشیدہ چیزوں اور دلوں کے راز سے بھی واقف ہے‘ وہ ہر اس امر کو جانتا ہے جو ماضی میں ہوا‘ حال میں ہو رہا ہے اور مستقبل میں ہونے والا ہے‘ وہ نگراں ونگہبان ہے جو بندوں کے تمام اعمال سے واقف ہے‘ اس سے نہ اطاعت گزاروں کی اطاعت مخفی ہے اور نہ گناہ گاروں کی معصیت‘ نہ کمزوروں کی حاجت اس سے پوشیدہ ہے اور نہ پکارنے والوں کی پکار‘ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے:

"بےشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کا جاننے واﻻ ہے"۔

[سورہ البقرۃ: 231]۔

وہ پاک اللہ دونوں جہان کا رب ہے‘ اس نے نہایت خوب بنائی جو چیز بھی بنائی‘ اس کائنات میں جو بھی حسن وجمال اور کمال نظر آتے ہیں وہ سب اللہ پاک کے کمال کے آثار میں سے ہیں:

دوسرا اصول: تمہارا دین کیا ہے؟

میرا دین اسلام ہے۔

اسلام کی تعریف: توحيد كو اپناتے ہوئے اللہ کے حضور سرِ تسلیم خم کردینا، اس کے حکم کی بجاآوری کرتے ہوئے اس کا تابع فرمان ہونا اور شرک سے بے زار ہونا۔

مسلمان وہ ہے جو دین اسلام میں داخل ہو‘ اپنے تمام معاملات اللہ کے سپرد کردے‘ اس کے وجود اور وحدانیت پر ایمان لائے‘ اس کے احکام واوامر کی بجا آوری کرے اور اس کی منہیات سے اجتناب کرے‘ اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے:

"باعتبار دین کے اس سے اچھا کون ہے؟ جو اپنے کو اللہ کے تابع کر دے اور ہو بھی نیکو کار، ساتھ ہی یکسوئی والے ابراہیم کے دین کی پیروی کر رہا ہو"۔

[النساء: 125]۔

نیز اللہ تعالی فرماتا ہے:

"اور اس سے زیاده اچھی بات واﻻ کون ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک کام کرے اور کہے کہ میں یقیناً مسلمانوں میں سے ہوں"۔

(فصلت:33)۔

دین اسلام کے بعض محاسن اور خوبیاں:

اسلام عدل وانصاف کا دین ہے: وہ قریبی واجنبی‘ دوست ودشمن اور مومن وکافر ہر ایک کے ساتھ عدل وانصاف کرنے کا حکم دیتا ہے‘ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

"اللہ تعالیٰ عدل کا، حکم دیتا ہے"۔

[النحل:90]۔

اللہ عز وجل منصف اور عادل حاکم ہے‘ اس کے پاس کسی پر ظلم نہیں ہوگا‘ اللہ تعالی روز قیامت کے بارے میں فرماتا ہے:

"آج ہر نفس کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے گا، آج (کسی قسم کا) ﻇلم نہیں، یقیناً اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب کرنے واﻻ ہے"۔

[غافر: 17]۔

اسلام دین رحمت ہے: فرمان باری تعالی ہے:

"اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔"

[الأنبياء: 107]۔

اور نبی کریم محمد صلى اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

(رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو، تو آسمان والا تم پر رحم کرے گا)۔

(سنن ابی داود)۔

اسلام محبت‘ اجتماعیت اور الفت کا دین ہے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے:

(تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے)۔

(صحیح بخاری)۔

اسلام آسانی پر مبنی دین ہے: اسلام کی تعلیمات میں جو آسانی اور بے مشقتی پائی جاتی ہے اسے ہر وہ شخص جانتا ہے جو اس کی تعلیمات سے واقف ہو‘ فرمان باری تعالی ہے:

”اللہ تعالی تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے اور تمہارے ساتھ دشواری نہیں چاہتا" [البقرة: 185]۔

نیز اللہ تعالی فرماتا ہے:

" اللہ تعالیٰ تم پر کسی قسم کی تنگی ڈالنا نہیں چاہتا"

[ المائدۃ: 6]۔

نیز اللہ تعالی فرماتا ہے:

"اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتا"

[البقرة: 286]۔

اسلام علم ومعرفت کا دین ہے: چنانچہ قرآن کی جو آیت سب سے پہلے نازل ہوئی وہ یہ ہے:

"پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا"۔

[العلق: 1]۔

اسلام ہر مسلمان مرد وعورت کو سیکھنے اور خوب سے خوب علم حاصل کرنے کی ترغیب دیتا ہے, اللہ تعالی فرماتا ہے:

’’اور آپ کہیئے کہ اے میرے رب بڑھادے میرے علم کو۔‘‘

[طه:114]۔

طالب کے لیے سب سے بلند درجات ہیں, اللہ پاک وبرتر کا فرمان ہے:

’’اللہ تم میں ایمان والوں کے اور ان کے جنہیں علم عطا ہوا ہے درجے بلند کرے گا۔‘‘

[المجادلة:11]۔

دین اسلام کی عالم گیریت:

اسلام ایک عالمی دین ہے‘ وہ روئے زمین کے کسی ایک گوشہ اور کسی ایک قوم کے لیے خاص نہیں اور نہ وہ صرف عربوں کا دین ہے‘ بلکہ وہ تمام لوگوں کا دین ہے‘ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

’’آپ کہہ دیجیے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں جو تمام آسمانوں اور زمین کا مالک اور بادشاہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، پس اللہ اور اس کے بھیجے ہوئے نبی امی پر ایمان لاؤ جو اللہ اور اس کے تمام کلام پر ایمان رکھتے ہیں اور اس (نبی) کی اتباع کرو تاکہ تم ہدایت پا سکو‘‘۔

[الأعراف: 158]۔

اسی طرح یہ دین صرف زمانہ ماضی کے ساتھ خاص نہیں‘ بلکہ وہ بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر روز قیامت تک کے لیے دین برحق ہے‘ اللہ تعالی فرماتا ہے:

’’اور جو کوئی اسلام کے سوا کسی اور دین کو تلاش کرے گا سو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، اور وہ شخص آخرت میں تباہ کاروں میں سے ہوگا۔‘‘

[سورہ آل عمران: 85]۔

دین اسلام کی جامعیت:

اسلام طرز حیات ہے‘ مسلم فرد کے لیے‘اسلامی معاشرہ کے لیے‘ امت مسلمہ کے لیے‘ تمام گوشوں اور ہر میدان میں‘ سیاست ہو یا معاشیات ہو یا سماجیات وغیرہ۔

اسلام عقیدہ اور شریعت سے عبارت ہے: چنانچہ یہ دین صحیح عقائد‘ عظیم عبادات‘ حکمت پر مبنی معاملات‘ حسن اخلاق اور منظم برتاؤ پر مشتمل ہے۔

اسلام کی تعلیمات اور احکام انسان کے لیے یہ ضابطہ مقرر کرتے ہیں کہ اس کے رب کے ساتھ‘ اس کی ذات کے ساتھ‘ دوسرے انسانوں کے ساتھ‘ یہاں تک کہ حیوانات وجمادات کے ساتھ اس کا تعلق کیسا ہونا چاہئے۔

اسلام کی تعلیمات ان تمام امور پر مشتمل ہیں جن کا تعلق روح اور جسم کی صالحیت اور درستگی سے ہے۔

مختصر یہ کہ: اسلام کے اندر لوگوں کے لیے دنیا وآخرت کی تمام تر سعادت وخوش بختی‘ صالحیت ودرستگی اور خیر وبھلائی موجود ہے۔

اسلامی عقیدہ کے اصول ومبادی (ایمان کے ارکان):

چھ امور پر ایمان لانے اور سچے دل سے ان کی تصدیق کرنے میں اسلامی عقیدہ کے اصول ومبادی پنہاں ہیں‘ ان امور کو (ایمان کے ارکان) سے موسوم کیا جاتا ہے‘ جوکہ یہ ہیں:

۱-اللہ تعالی پر ایمان لانا: یعنی اللہ کے وجود پر ایمان لانا اور اس بات پر کہ وہ تن نہا اس کائنات کا اور اس کے تمام تر مشتملات کا خالق ومالک اور مدبر ہے‘ وہی تمام تر عبادتوں کا تن تنہا مستحق ہے‘ اس کا کوئی شریک وساجھی نہیں‘ وہ جمال وکمال کی صفات سے متصف ہے‘ وہ کامل ہے اور ہر قسم کے عیب اور نقص سے پاک وصاف ہے‘ اور اس جیسی کوئی چیز نہیں۔

۲-فرشتوں پر ایمان لانا: فرشتے بھی اللہ تعالی کی مخلوق ہیں‘ اللہ نے انہیں اپنی عبادت‘ اپنے حکم کی مکمل بجا آوری اور انہیں جن اعمال کا مکلف بنایا گیا ہے‘ ان کی تنفیذ کے لیے پیدا فرمایا‘ ہم اجمالی طور پر ان تمام فرشتوں کے وجود پر ایمان لاتے ہیں‘ اور ان فرشتوں کے, جن کے بارے میں ہمیں وحی نے خبر دی ہے, اسماء وصفات اور اعمال پر تفصیلی طور پر ایمان رکھتے ہیں ‘ جیسے جبریل جن کو اللہ نے انبیاء ورسل کی طرف وحی دے کر بھیجا‘ میکائیل جن کو بارش برسانے اور ہریالی پر مکلف کیا گیا ہے‘ اسرافیل جن کو صور میں پھونک مارنے پر مکلف کیا گیا ہے‘ ملک الموت جن کو لوگوں کی روح قبض کرنے پر مکلف کیا گیا ہے اور مالک جو جہنم کے داروغہ ہیں۔

۳-کتابوں پر ایمان لانا: یعنی ان کتابوں پر جنہیں اللہ نے اپنی مخلوق پر رحم کرتے ہوئے ان کی ہدایت کے لیے اپنے رسولوں پر نازل فرمایا‘ تاکہ وہ دنیا وآخرت میں سعادت سے سرفراز ہوں‘ ہم ان کتابوں پر اجمالی طور پر ایمان رکھتے ہیں‘ اور جن کتابوں کے نام ہمیں وحی کے ذریعہ معلوم ہوئے‘ ان پر تفیصلی طور پر ایمان رکھتے ہیں‘ جیسے قرآن مجید جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا‘ انجیل جو عیسی علیہ السلام پر نازل ہوئى‘ توریت جو موسی علیہ السلام پر نازل ہوئى‘ زبور جو داود علیہ السلام پر نازل ہوئی اور آسمانی صحیفے جو ابراہیم علیہ السلام پر نازل ہوئے۔

رسولوں پر ایمان لانا: وہ بھی انسان ہی تھے لیکن اللہ تعالی نے ان کی طرف ہدایت کی باتیں وحی فرمائی اور انہیں لوگوں کی طرف مبعوث فرمایا تاکہ وہ ان تک اللہ کا دین پہنچائیں‘ سب سے پہلے رسول نوح علیہ السلام اور سب سے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں‘ یہ تمام رسول دین داری اور اخلاق مندی کے درجہ کمال پر فائز تھے‘ ان کی بعثت کا سب سے اہم مقصد تھا لوگوں کو اس بات کی دعوت دینا کہ تمام تر عبادتیں صرف ایک اللہ پاک وبرتر کے لیے انجام دیں‘ شرک اور اللہ کے علاوہ تمام معبودوں کی عبادت کو ترک کر دیں‘ خیر کے کام کریں اور برائی سے باز رہیں۔

ہم ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ تعالی نے انسانوں میں سے بہت سے رسول مبعوث فرمائے‘ بندوں پر ان کی خبروں کی تصدیق کرنا اور ان کے حکم کی پیروی اور اطاعت کرنا واجب قرار دیا‘ ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے کچھ رسول ایسے ہیں جن کے نام اور ان کی قوموں کے ساتھ ان کے واقعات کی خبر اللہ نے ہمیں دی ہے‘ جیسے: ادریس‘ نوح‘ ابراہیم‘ موسی‘ عیسی‘ ہود‘ صالح‘ اور شعیب‘ اور کچھ رسول ایسے بھی ہیں جن کے نام اللہ نے ہمیں نہیں بتائے‘ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

"یقیناً ہم آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے (واقعات) ہم آپ کو بیان کر چکے ہیں اور ان میں سے بعض کے (قصے) تو ہم نے آپ کو بیان ہی نہیں کیے اور کسی رسول کا یہ (مقدور) نہ تھا کہ کوئی معجزه اللہ کی اجازت کے بغیر ﻻ سکے۔ پھر جس وقت اللہ کا حکم آئےگا حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور اس جگہ اہل باطل خسارے میں ره جائیں گے"۔

[غافر: 78]۔

۵- آخرت کے دن پر ایمان لانا: اس سے مراد قیامت کا دن ہے جس دن اللہ تعالی لوگوں کو ان کے دنیاوی اعمال کا حساب وکتاب لینے اور جزا وسزا دینے کے لیے انہیں دوبازہ زندہ کر ے گا‘ لوگ دو فرقوں میں بٹ جائیں گے‘ مومن ہمیشہ ہمیش کے لیے جنت میں سکونت پزیر ہوں گے‘ اور کافر ہمیشہ ہمیش کے لیے جہنم میں داخل ہوں گے‘ جو شخص مومن تو ہوگا لیکن گناہوں کا مرتکب بھی ہوگا‘ اسے یا تو اللہ تعالی معاف فرمادے گا‘ یا ایک متعینہ مدت تک عذاب سے دوچار کرنے کے بعد جنت میں داخل کردے گا۔

تقدیر پر اس کے خیر وشر کے ساتھ ایمان لانا: مسلمان اس بات پر ایمان رکھتا ہے کہ جو ہو چکا ہے اور جو ہونے والا ہے سب اللہ تعالی کے علم میں ہے‘ اللہ نے تمام مخلوقات کی تقدیر لکھی‘ اس کا ارادہ کیا اور اسے وجود بخشا‘ چنانچہ اس کائنات میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ اس کے علم‘ کتابت‘ مشیت اور تخلیق کی وجہ سے ہوتا ہے‘ اگر وہ چیز خیر ہو تو وہ اللہ تعالی کی رحمت اور مہربانی ہے‘ اور اگر خیر نہ ہو تو اللہ تعالی کی جانب سے آزمائش یا سزا ہے‘ جو اللہ کی حکمت اور عدل کی بنا پر واقع ہوتی ہے‘ جس کی عظمت وکمال کا احاطہ انسان نہیں کر سکتا‘ جب انسان تقدیر پر اس کے خیر وشر کے ساتھ ایمان رکھتا ہے تو اس کے دل میں اطمینان اور روح میں راحت وسکون رہتا ہے‘ وہ اپنے تمام امور اللہ کے سپرد کردیتا ہے‘ کیوںکہ وہ جان رہا ہوتا ہے کہ ہر چیز ایک اللہ کے ہاتھ میں ہے‘ وہ جو چاہتا ہے وہ ہوتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا ہے۔

اسلام کے ارکان:

اسلام کے ارکان سے مراد اس کی وہ بنیادیں ہیں جن پر اس کی عمارت کھڑی ہوتی ہے‘ وہ ارکان پانچ ہیں جن پر عمل کرنا بندہ مسلم پر واجب ہے:

۱- یہ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں: یہ گواہی زبان سے دی جاتی ہے‘ دل سے اس کا اقرار کیا جاتا ہے کہ اللہ ہی تن تنہا معبود برحق ہے‘ اس کا کوئی شریک وساجھی نہیں اور محمد اللہ کے رسول اور اس کے مبلغ وداعی ہیں۔

۲- نماز قائم کرنا: بندہ مسلم پر واجب ہے کہ دن اور رات میں پانچ وقت کی نماز ادا کرے‘ ایسی نماز جو قیام‘ رکوع اور سجود سے عبارت ہے‘ اس سے اللہ تعالی کی تعظیم کی بجا آوری ہوتی ہے‘ ان نمازوں کے متعینہ اوقات ہیں جو اپنے ناموں سے موسوم ہیں‘ جوکہ یہ ہیں: فجر کی نماز‘ ظہر کی نماز‘ عصر کی نماز‘ مغرب کی نماز اور عشا کی نماز‘ نیز کچھ نمازیں اور بھی ہیں جو واجب نہیں ہیں۔

۳- زکاۃ ادا کرنا: بایں طور کہ جس مسلمان کے پاس مال ودولت ہو وہ اپنے مال میں سے ایک معمولی متعین مقدار نکالے اور اسے مستحق فقیروں‘ مسکینوں اور زکاۃ کے دیگر مصارف میں تقسیم کرے۔

4- رمضان کے روزے رکھنا: بایں طور کہ بندہ مسلم رمضان کے مہینہ میں اللہ کی عبادت کی نیت سے طلوعِ فجر سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے‘ جماع کرنے اور ان جیسے دیگر نواقض صیام سے باز رہے۔

۵- بیت اللہ الحرام کا حج کرنا: اس سے مراد یہ ہے کہ مسلمان مکہ مکرمہ کا سفر کرے تاکہ عبادت الہی کی نیت سے حج کے شعائر ادا کرے‘ خواہ زندگی میں ایک ہی دفعہ کیوں نہ ہو‘ بشرطیکہ اس کے پاس استطاعت ہو۔

اسلام میں عبادت:

عبادت کا مطلب ہے: اللہ تعالی کو ایک جاننا اور ان تمام ظاہری وباطنی اقوال واعمال کے ذریعہ اللہ کا تقرب حاصل کرنا جو اللہ کو محبوب اور پسندیدہ ہیں۔

اقوال کی مثال: قرآن کی تلاوت‘ دعا ومناجات‘ ذکر واذکار‘ نفع بخش علم کی تعلیم اور دوسروں کو نصیحت کرنا وغیرہ۔

اعمال کی مثال: طہارت‘ نماز‘ حج اور لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنے کی کوشش کرنا وغیرہ۔

ظاہری اعمال سے مراد: وہ اعمال ہیں جو عیاں ہوتے ہیں‘ دیکھے یا سنے جا سکتے ہیں‘ جیسے نماز‘ حج‘ قرآن کی تلاوت‘ دعوت الی اللہ اور صلہ رحمی۔

باطنی اعمال سے مراد وہ اعمال ہیں جو دل میں ہوتے ہیں‘ جیسے اللہ تعالی کی محبت‘ اس (کے اجر وثواب) کی امید‘ اس کا خوف‘ خشوع وخضوع‘ اور اللہ تعالی پر توکل۔

اسلام میں عبادت کی اہمیت:

اللہ تعالی کی عبادت ہی وہ مقصد ہے جس کی خاطر اللہ نے انسانوں کو پیدا فرمایا‘ فرمان باری تعالی ہے:

”میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں"۔

[سورۃ الذاریات: 56]۔

بڑی بڑی حکمتوں اور بہت سی ایسی مصلحتوں کے پیش نظر عبادت کو مشروع قرار دیا گیا ہے جو (عبادت کی وجہ سے) انسانوں کے نفوس اور ان کی زندگی میں برپا ہوتی ہیں‘ مثال کے طور پر عبادت کے فضائل میں سے ہے کہ وہ نفوس کو پاک وصاف کرتی اور انہیں انسانیت کے درجہ کمال تک پہنچا دیتی ہے۔

انسان کو عبادت کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے‘ چنانچہ جس طرح اس کے جسم کو کھانے پینے کی ضرورت ہوتی ہے‘ اسی طرح اس کی روح کو بھی یہ ضرورت ہوتی کہ وہ عبادت کے ذریعہ اللہ کی طرف متوجہ ہو‘ اس کا نفس اللہ کے ذکر اور اس کی عبادت کے بغیر مطمئن نہیں ہوتا‘ اور نہ اس کا دل اللہ تعالی کی قربت اور اس سے بہتر تعلق کے بغیر فرحت وسعادت اور شرح صدر محسوس کرتا ہے‘ جو لوگ حقیقت میں عبادت کرتے ہیں وہی لوگ سب سے زیادہ خوش بخت ہوتے ہیں‘ ان کے دل میں فرحت وانبساط سب سے زیادہ پایا جاتا ہے‘ چنانچہ جو شخص سعادت ومسرت حاصل کرنا چاہتا ہو اسے چاہیے کہ صرف اللہ کے لئے عبادت کی چوکھٹ کو لازم پکڑلے۔

اسلام میں عبادت کی جامعیت:

اسلام میں عبادت ان تمام نیک اعمال کو شامل ہے جو اللہ کو محبوب ہیں اور جن کے ذریعہ ہم اللہ عزیز وجل کی قربت حاصل کرسکتے ہیں‘ چنانچہ عبادت میں جو اعمال شامل ہیں وہ یہ ہیں:

عبادت کے شعائر: جیسے نماز‘ زکاۃ‘ روزے‘ حج‘ قرآن کی تلاوت‘ دعا اور ذکر الہی وغیرہ۔

اچھا برتاؤ: جیسے والدین کی فرمانبرداری‘ صلہ رحمی‘ بیوی اور بچوں کے ساتھ حسن سلوک‘ خرید وفروخت میں اچھا برتاؤ کرنا‘ سارے کام پختگی سے کرنا‘ پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا‘ مسکینوں کی مدد کرنا اور جانور کے ساتھ حسن سلوک روا رکھنا وغیرہ۔

اسی طرح عبادت میں اچھے اخلاق بھی شامل ہیں: جیسے سچ بولنا‘ امانت ادا کرنا‘ عہد وپیمان کو پورا کرنا‘ مسکرا کر ملنا‘ اچھی بات کہنا‘ حیا وشرم کرنا اور ان جیسے دیگر اخلاق کا مظاہرہ کرنا۔

معلوم ہوا کہ مسلمان ہر حال میں اللہ کی عبادت کرتا ہے‘ مسجد میں‘ گھر میں‘ کام کاج کے دوران‘ اور ہر جگہ وہ عبادت میں لگا رہتا ہے‘ غرضیکہ اس کی پوری زندگی اللہ تعالی کے لیے ہی ہوتی ہے‘ اللہ تعالی فرماتا ہے:

"آپ فرما دیجیے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کے لیے ہے، جو سارے جہان کا رب ہے"۔

[الأنعام: 162]۔

تیسرا اصول: تمہارا نبی کون ہے؟

میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم ہیں:

ہمارے نبی: محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم ہیں‘ آپ کا نسب نامہ اللہ کے نبی اسماعیل بن ابراہیم سے ملتا ہے، ان پر اور ہمارے نبی پرافضل ترین صلاةوسلام نازل ہو۔

اللہ نے آپ کو چالیس سال کی عمر میں مکہ مکرمہ کے اندر مبعوث فرمایا‘ آپ پر قرآن نازل کیا‘ چنانچہ آپ نے لوگوں کو توحید اور دین اسلام کی دعوت دی‘ لیکن آپ کی قوم نے آپ کو سخت ترین اذیت سے دوچار کیا‘ آپ کے صحابہ کو سزائیں دیں اور ان میں سے بعض کو قتل کردیا‘ تیرہ سال کے بعد آپ شہر یثرب کی طرف ہجرت کر گئے (بعد میں اس شہر کا نام مدینہ نبویہ پڑ گیا)‘ اس شہر میں آپ نے اسلامی حکومت قائم کی اور اسلامی معاشرہ کی داغ بیل ڈالی‘ یہاں آپ دس سال تک دعوت وارشاد اور تعلیم کا کام کرتے رہے‘ آپ نے اس مشن کو جاری رکھا یہاں تک کہ شریعت مکمل ہوگئی‘ اسلام اور دین درجہ کمال کو پہنچ گیا اور اللہ تعالی کا یہ فرمان نازل ہوا:

’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام بطور دین پسند کر لیا۔‘‘

[المائدة:3]۔

جب آپ کی آنکھوں کو یہ منظر دیکھ قرار پہنچ گیا کہ لوگ جوق در جوق اپنی مرضی اور پسند سے دین اسلام میں داخل ہو رہے ہیں تو اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی‘ جیسا کہ اللہ جل وعلا کا فرمان ہے:

"جب اللہ کی مدد اور فتح آپہنچے (۱)

اور آپ لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق داخل ہوتے دیکھ لیں (۲)

تو آپ اپنے پروردگار کی تسبیح وتحمید کیجئے اور اس سے استغفار کیجئے‘ بیشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے"

(سورۃ النصر:1-3)۔

نبی رحمت:

ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبی رحمت ہیں‘ آپ کی پوری سیرت میں رحمت ومہربانی کبھی آپ سے جدا نہیں ہوئی‘ آپ زندگی کے تمام مراحل اور ہر حالت میں رحمت ومہربانی کا مظاہرہ کرتے رہے‘ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے:

"اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔"

[سورۃ الأنبياء: 107]۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت کا ایک مظہر یہ ہے کہ آپ لوگوں کو ہدایت کی راہ پر لانے اور کفر وجہالت اور گمراہی کی تاریکیوں سے نکال کر انہیں ایمان‘ علم اور ہدایت کی روشنی کی طرف لانے کے سخت حریص اور خواہش مند تھے‘ چنانچہ جب آپ کی قوم ایمان نہ لائی تو قریب تھا کہ حزن وملال اور حسرت وافسوس کے مارے آپ جان ہلاک کر لیں‘ اللہ تعالی فرماتا ہے:

"اگر یہ لوگ اس بات پر ایمان نہ ﻻئیں تو کیا آپ ان کے پیچھے اسی رنج میں اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے؟"

[الكهف: 6]۔

آپ کی رحمت کے معانی اس سے بھی ظاہر ہوتے ہیں کہ آپ مومنوں کی منفعت کے بڑے خواہش مند اور ان کے ساتھ بڑے شفیق ومہربان تھے‘ فرمان باری تعالی ہے:

”تمہارے پاس ایک ایسے رسول تشریف ﻻئے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں، جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے، جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں، ایمان والوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں۔“

[سوۃ التوبۃ: 128]۔

دین میں آسانی کرنے اور اپنی امت کو مشقت آمیز اور ناممکن امور کا مکلف نہ بنانے کی حرص بھی آپ کے اندر بہت موجود تھی‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: "(دین میں) آسانی کرو، سختی نہ کرو اور لوگوں کو خوشخبری سناؤ، انہیں (ڈرا ڈرا کر) متنفر نہ کرو" بخاری ومسلم نے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دل رحمت وشفقت سے معمور تھا‘ آپ عورتوں اور بچوں کے تئیں سب سے زیادہ رحم دل اور مہربان تھے‘ آپ کے ایک صحابی جوکہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں‘ وہ عرض کرتے ہیں: "میں نے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کسی کو اپنے اہل خانہ پر شفیق نہیں دیکھا" صحیح مسلم

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت ومہربانی انسانوں تک ہی نہیں محدود نہیں تھی‘ بلکہ حیوانوں پر بھی آپ مہربان تھے‘ چنانچہ آپ نے جانوروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی دعوت دی اور انہیں تکلیف پہنچانے سے منع فرمایا اور اپنے صحابہ سے بیان کیا کہ ایک بدکار عورت نے ایک کتے کو پانی پلایا تو اللہ نے اسے اپنی مغفرت سے نواز کرجنت میں داخل کردیا اور ایک عورت صرف اس وجہ سے جہنم میں داخل ہوئی کہ اس نے ایک بلی کو باندھ کر رکھا اور اسے کھانا پینا نہیں دیا یہاں تک کہ بلی مر گئی۔

آپ کی رسالت وپیغامبری تمام لوگوں کے لیے عام ہے:

سابقہ انبیاء ورسل علیہ الصلاۃ والسلام خاص اپنی قوموں کی طرف بھیجے جاتے تھے‘ لیکن ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت وپیغامبری ہر زمان ومکان میں پائے جانے والے تمام لوگوں کے لیے عام ہے۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

" ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبریاں سنانے واﻻ اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے"۔

[سبأ:28].

نیز اللہ تعالی نے فرمایا:

”آپ کہہ دیجیے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہوں“۔

[الأعراف: 158].

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

" پہلے نبی خاص اپنی قوم کے لیے مبعوث ہوا کرتا تھا، مگر میں تمام لوگوں کی طرف (رسول بنا کر) بھیجا گیا ہوں"

(صحیح بخاری).

چنانچہ آپ کی بعثت سے لے کر دور حاضر تک پیدا ہونے والے اور قیامت تک آنے والے تمام انسانوں پر واجب ہے کہ آپ کی اتباع کریں‘ آپ کی لائی ہوئی شریعت کی تصدیق کریں اور آپ کے دین میں داخل ہوں‘ کیوںکہ اللہ نے آپ کے ذریعہ آسمانی رسالت وپیغامبری کا سلسلہ ختم کردیا اور آپ کی اطاعت کو واجب قرار دیا‘ چنانچہ جو شخص آپ کی اطاعت کرے گا وہ دنیا میں سعادت سے بہرہ ور ہوگا اور آخرت میں جنت کا مکیں قرار پائے گا‘ اور جو شخص آپ کی نافرمانی کرے گا وہ دنیا میں شقاوت سے دوچار ہوگا اور آخرت میں جہنم میں داخل ہوگا‘ فرمان باری تعالی ہے:

"جو میری ہدایت کی پیروی کرے نہ تو وه بہکے گا نہ تکلیف میں پڑے گا [123]

جو میری یاد سے روگردانی کرے گا اس کی زندگی تنگی میں رہے گی، اور ہم اسے بروز قیامت اندھا کر کے اٹھائیں گے"۔

[طه: 123، 124].

اپنے گھر میں اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا برتاؤ:

انسان کا گھر ہی وہ جگہ ہے جہاں اس کا حسن اخلاق‘ کمال ادب اور اچھی معاشرت کا اثر ظاہر ہوتا ہے‘ جب انسان اپنی بیوی‘ یا بچوں‘ یا خادم کے ساتھ ہوتا ہے تو بغیر کسی تکلف کے اپنی فطرت کے مطابق تصرف اور برتاؤ کرتا ہے۔

جو شخص امت مسلمہ کے رسول وقائد اور معلم انسانیت -صلی اللہ علیہ وسلم- کے اس حال پر غور کرے گا جس حال میں آپ اپنے گھر میں ہوا کرتے تھے‘ تو وہ پائے گا کہ شریف الطبع انسان کو اپنے گھر میں‘ اپنے اہل خانہ اور آل واولاد کے ساتھ جس طرح رہنا چاہئے‘ اس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلى ترین مثال پیش کی۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا گیا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر میں ہوتے تو کیا کرتے تھے؟ انہوں نے عرض کیا:

(آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل خانہ کی خدمت میں مصروف رہتے اور جب نماز کا وقت آ جاتا تو آپ نماز کے لیے تشریف لے جاتے)۔

(صحیح مسلم)۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں اپنے اہل خانہ اور اپنی بیویوں کے لیے سب سے اچھے انسان تھے‘ حسن معاشرت‘ نرم رویہ اور اپنی بیویوں کی خواہشات اور جذبات کو جاننے کے باب میں آپ نے عظیم مثالیں پیش کیں‘ انہیں خوش کرنے کا کوئی بھی موقع آپ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے‘ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:

" ایک دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے حجرے کے دروازے پر کھڑا دیکھا جب کہ حبشہ کے کچھ لوگ مسجد میں کھیل رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر سے مجھے آڑ فراہم کررہے تھے دراں حال کہ میں ان کا کھیل دیکھ رہی تھی"

(صحیح بخاری وصحیح مسلم)۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹیوں سے محبت کرتے اور ان کا احترام کیا کرتے تھے‘ جب آپ کی بیٹی فاطمہ آپ کے پاس تشریف لاتی تو آپ اٹھ کر ان کا استقبال کرتے‘ ان کو بوسہ دیتے اور اپنی جگہ پر ان کو بٹھاتے‘ آپ اپنی بیٹیوں کی زیارت کرتے اور ان کی خبر گیری کیا کرتے تھے۔

آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنی امت کو یہ وصیت فرمائی کہ:

(عورتوں کے تعلق سے بھلائی کی وصیت قبول کرو)

(صحیح بخاری وصحیح مسلم)

ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اخلاق کریمہ:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں سے زیادہ اچھے اخلاق اور عمدہ آداب سے متصف تھے‘ اللہ تعالی نے آپ کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

"اور بے شک تو بہت بڑے (عمده) اخلاق پر ہے"۔

[القلم:4]۔

آپ اخلاق کے اس درجہ کمال پر فائز تھے جہاں تک آپ کے علاوہ کسی کی رسائی نہیں ہوسکی‘ بایں طور کہ آپ ہر قسم کے نقص سے پاک تھے‘ ہر خوبی میں کمال حاصل تھا‘ قرآن مجید ہی آپ کا اخلاق تھا‘ آپ قرآن سے ادب حاصل کرتے اور اسی کے ذریعہ لوگوں کو ادب سکھاتے‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمہ میں درج ذیل صفات بھی شامل ہیں:

آپ تمام لوگوں سے زیادہ حلیم وبردبار‘ عادل ومنصف‘ پاک دامن اور سخی وفیاض تھے۔

آپ سب سے زیاہ با حیا تھے۔

آپ کے اندر تواضع اور انکساری تھی‘ ہر کسی کی دعوت کو قبول کرتے‘ کم سے کمتر درجہ کا تحفہ بھی قبول کرلیتے اور اس کا بہتر بدلہ عنایت کرتے۔

بیماروں کی تیمار داری کرتے‘ جنازہ میں شامل ہوتے‘ فقیروں کے ساتھ بیٹھتے‘ مسکینوں کے ساتھ کھانا کھاتے‘ اصحاب فضیلت کا اکرام اور اخلاق مندوں کا احترام کرتے اور عزت وشرف والوں کے ساتھ گھل مل کر رہتے۔

آپ کے پاس جو بھی آتا آپ اس کی ضرورت پوری کرتے‘ آپ نہ بدزبان تھے اور نہ سخت دل اور نہ ہی برائی کا بدلہ برائی سے دیتے‘ بلکہ عفو ودرگزر سے کام لیتے‘ الا یہ کہ اللہ کی حرمتوں کو پامال کیا جاتا تو آپ اللہ کی خاطر غصہ کرتے‘ اپنی ذات کی خاطر نہیں۔

آپ کا اخلاق تھا کہ ملنے والے سے سلام کرنے میں پہل کرتے‘ اور جب اپنے کسی صحابی سے ملتے تو بڑھ کر مصافحہ کرتے۔

جو شخص آپ کی مجلس میں بیٹھتا آپ اس سے روبروہ ہوکر اس کی بات سنتے‘ اس سے بات کرتے اور اپنے عمدہ محاسن اور رہنمائی سے نوازتے۔

آپ تمام لوگوں سے بڑھ کر رحم دل اور ان میں سب سے بہتر تھے‘ سارے لوگوں سے زیادہ لوگوں کے لیے نفع بخش تھے۔

مزاح فرماتے لیکن حق کے سوا کچھ نہ بولتے‘ آپ بہت مسکرایا کرتے تھے‘ بغیر قہقہہ کے ہنستے‘ اپنی بیویوں کے ساتھ ریس لگاتے اور ان سے دل لگی کیا کرتے تھے۔

جو پیش کیا جاتا کھا لیتے‘ پیش کردہ کھانے کو واپس نہیں کرتے‘ کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالتے‘ اگر کھجور مل جاتی تو وہی کھا لیتے‘ گوشت ملتا تو بھی تناول کر لیتے‘ اگر گیہوں یا جو کی روٹی ملتی تو وہ بھی کھالیتے‘ اگر حلوی یا شہد ملتا تو وہ بھی تناول فرما لیتے‘ اگر بغیر روٹی کے صرف دودھ ملتا تو اسی پر اکتفا کرتے‘ اگر تربوز ملتا یا رطب کھجور ملتی تو اسے بھی تناول کر لیتے۔

جو ملتا پہن لیتے‘ کبھی چادر اوڑھ لیتے‘ کبھی اون کا جبہ زیب تن کرتے‘ غرضیکہ جو مباح لباس ملتا اسے زیب تن کرلیتے۔

جو سواری میسر ہوتی اسی پر سوار ہوجاتے‘ کبھی گھڑ سواری کر لیتے‘ کبھی اونٹ تو کبھی خچر اور کبھی گدہے کو سواری بنالیتے‘ یا پیدل ہی چل پڑتے۔

ہمہ وقت اللہ کی رضا کے لیے ہی کام کر رہے ہوتے‘ یا ایسے کام میں لگے ہوتے جس کا تعلق اپنے نفس کی اصلاح یا اہل خانہ کی اصلاح سے ہوتا۔

مذکورہ بالا اخلاق کے علاوہ بھی آپ کے عمدہ اخلاق اور بہترین سیرت کے بہت سے پہلو ہیں‘ اللہ تعالی آپ پر درود وسلام نازل فرمائے۔

خاتمہ:

اسلام ایک عظیم دین ہے‘ جو مسلمان شخص -بشرطیکہ اس کی تعلیمات کا پابند ہو- کے لیے دنیاوی زندگی میں راحت وسکون‘ پاکیزہ زندگی اور عمدہ حالت کو بروئے کار لاتا ہے اور آخرت کی زندگی میں اسے دائمی نعمت اور ابدی سعادت سے بہرہ ور کرتا ہے‘ اسی طرح جو مسلم معاشرہ اس کی تعلیمات پر کاربند ہوتا ہے‘ اسے عروج وترقی‘ آپسی اخوت وہمدردی اور امن وامان سے ہمکنار کرتا ہے۔

اسلام کی ہدایت پانے والے انسان! آپ کو یہ عظیم نعمت مبارک ہو‘ آپ اسلام کا عقیدہ‘ اس کی شریعت‘ اس کی تعلیمات واحکام‘ اور اخلاق وآداب کو سیکھیں‘ اس دین کو دل وجان سے تھام لیں‘ حسب استطاعت اپںی زندگی کے تمام شعبوں میں اس پر کاربند رہیں‘ آپ اپنے اوپر اسلام کا اثر نمایاں ہوتا ہوا دیکھیں گے‘ اور یہ بھی دیکھیں گے کہ (اسلام اپنے ماننے والے کو) کس طرح ایک نیک انسان میں بدل دیتا ہے‘ جو خود بھی خوش بخت اور شاداں وفرحاں ہوتا ہے اور اس کے ارد گرد کے لوگ بھی اس کی وجہ سے خوش وخرم رہتے ہیں‘ جیسے اس کے والدین‘ بیوی‘ بچے‘ رشتہ دار‘ پڑوسی اور دوست واحباب اور ہر وہ شخص جو اس مسلمان شخص کے ساتھ تعامل اور برتاؤ کرتا ہے جسے اللہ نے دین اسلام کو قبول کرنے کا اور اپنی رضا تک پہنچانے والے راستے پر چلنے کا اعزاز بخشا۔

یہ کتابچہ دینی احکام کو سیکھنے کا ابتدائی مرحلہ ہے‘ اسے پڑھنے کے بعد آپ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ آپ زیادہ سے زیادہ علم نافع حاصل کرنے‘ نیک اعمال انجام دینے‘ اپنے نفس کا تزکیہ اور دل کی اصلاح کرنے کی کوشش کریں‘ اسلام کے تعلق سے آپ کا علم جس قدر زیادہ ہوگا اور جس قدر آپ اپنے علم پر عمل پیرا ہوں گے اسی قدر اپنے عزیز وبرتر رب سے آپ کی قربت بھی بڑھے گی‘ آپ قرآن کریم پر توجہ مرکوز رکھیں‘ اسے سیکھیں‘ اس کی تلاوت کریں‘ اس کی آیتوں پر غور وفکر کریں‘ اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور سنت کا مطالعہ کریں‘ وہی آپ کے اسوہ ونمونہ ہیں جن کے نقش قدم پر آپ کو پوری زندگی چلنا ہے‘ وہی وہ تنہا انسان ہیں جن کے بارے میں اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ جو کچھ بھی وہ پیش کریں آپ اسے قبول کر لیں‘ اور آپ کے علاوہ جو انسان بھی ہے‘ خواہ وہ جس قدر بھی مقام ومرتبہ پر فائز ہو‘ اس کی وہی بات قبول کی جائے گی جو قرآن وسنت کے مطابق ہوگی اور جو بات ان کے مخالف ہوگی اسے رد کر دی جائے گی‘ دین کے معاملے میں لڑائی جھگڑا کرنے سے باز رہیں اور اپنے اسلامی بھائیوں سے نزاع اور اختلاف کرنے سے گریز کریں۔

ہم اللہ تعالی سے اپنے لیے اور آپ کے لیے توفیق اور دین پر ثابت قدم رہنے کی دعا کرتے ہیں‘ یہاں تک کہ ہم اس سے اس حال میں ملیں کہ وہ ہم سے راضی ہو۔ اور تمام تعریفات اللہ رب العالیمن کے لئے ہیں، اور درود و سلام ہو ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر، ان کی آل پر اور ان کے تمام ساتھیوں پر اور قیامت تک ان کی پیروی کرنے والوں تمام لوگوں پر۔