الإسلام والإلحاد وجها لوجه
الحاد سے اسلام کی طرف فرار
الحاد سے اسلام کی طرف فرار
سوال و جواب
بسم اللہ والحمد لله، والصلاة والسلام على رسول الله، وعلى آله وصحبه ومن والاہ، أما بعد:
یہ ”الحاد سے اسلام کی طرف فرار“ نامی ایک کتابچہ ہے۔
یہ کتابچہ "الحاد کی نوعیت" اور اس کے اشکالات کا بیان پیش کرتا ہے، اور کس طرح الحاد عقل اور فطرت کی بدیہی و یقینی حقائق سے متصادم ہے۔
اس کتابچہ میں خالق سبحانہ و تعالیٰ کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے کچھ دلائل پیش کیے گئے ہیں۔
چنانچہ ہم اللہ عز و جل کو عقل کے ذریعےجانتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"یا وہ کسی چیز کے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں، یا وہ (خود) پیدا کرنے والے ہیں؟" (سورۃ الطور: 35)
سورہ الطور
عقلی طور پر صرف تین امکانات ہیں جن کا کوئی چوتھا (امکان) نہیں ہے :
پہلا امکان: یہ کہ ہم بغیر کسی خالق کے پیدا ہوگئے ہیں (أم خُلقوا من غیر شیءٍ) ’’یا وہ کسی چیز کے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں؟‘‘ یہ ناممکن ہے، کیونکہ ہم بغیر کسی خالق کے کیسے پیدا ہوسکتے ہیں؟
دوسرا امکان: یہ کہ ہم نے اپنے آپ کو خود پیدا کرلیا ہے (أم ھم الخالقون) ’’یا وہ (خود) پیدا کرنے والے ہیں؟" اور یہ بھی ناممکن ہے، کیونکہ میں پیدا ہونے سے پہلے خود کو کیسے پیدا کر سکتا ہوں؟
لہٰذا عقلی طور پر صرف تیسرا امکان باقی رہتا ہے، جو کہ وہ ہے جس کے بارے میں مذکورہ بالا آیت خاموش ہے، کیونکہ وہ بالکل ظاہر (اور بدیہی امر) ہے اور وہ یہ کہ ہمارا ایک خالق ہے جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔
لہٰذا ہم اللہ تعالیٰ کو عقل کے ذریعے جانتے ہیں۔
اسی طرح ہم اللہ تعالیٰ کو فطرت کے ذریعے جانتے ہیں۔
ہم فطری طور پر جانتے ہیں کہ بتوں اور نیچر میں کائنات کو تخلیق کرنے کی طاقت نہیں ہے، نہ بیکٹیریا اور انسانوں کو پیدا کرنے کی، نہ انسانی جسم کے افعال کو اس طریقے سےکنٹرول کرنے کی، اور نہ ہی ذرے سے لے کر کہکشاں تک تخلیق میں مہارت حاصل ہے۔
چنانچہ وہ بت جن کی کفار پرستش کرتے ہیں اور وہ نیچر جس پر ملحد یقین رکھتا ہے، دونوں اپنے خالق کے محتاج ہیں۔
چنانچہ بت اور نیچر اپنے معاملات کے کچھ بھی مالک نہیں ہیں، وہ دونوں آپ کے اندر کے ہارمونز کو اتنی حیرت انگیز مقدار میں منضبط کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، اور نہ ہی ان میں جینیاتی کوڈ (ڈی این اے) ڈالنے کی صلاحیت ہے جو کہ ہر جاندار خلیے کے اندر موجود لاکھوں معلومات سے عبارت ہیں۔ ان کے اندر کچھ بھی تخلیق کرنے کی طاقت نہیں ہے، یہاں تک کہ خود کو وجود میں لانےکی بھی نہیں۔
لہٰذا یہ تسلیم کئے بغیر کوئی چارۂ کار نہیں کہ عجائبات سے بھری اس دنیا کا خالق ایک عظیم، سب کچھ جاننے والا، غالب، حکمت والا خالق ہے۔ اس کی ذات ہر عیب سے پاک ہے۔
اس کے بعد اس کتابچہ میں ملحدین کے شکوک و شبہات اور خالق کے وجود کے عقلی اور فطری دلائل کو مغالطہ آمیز استدلال کے ذریعہ ٹھکرانے کی ان کی کوششوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔
ملحدین کا ایک مشہور ترین مغالطہ یہ قول ہے کہ ’’کائنات کا ظہور محض اتفاق یا حادثہ‘‘ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ امکانات کے اصول کو نہیں سمجھتے یا نظر انداز کرتے ہیں۔ کیونکہ اتفاقیہ طور پر ظہور کی دو لازوال شرطیں ہیں۔
وہ دونوں شرطیں: زمان (وقت) اور مکان (جگہ) ہیں۔
چنانچہ اتفاق کے لیے ایک وقت (زمانہ) کا ہونا شرط ہے جس میں وہ اپنا اثر ڈال سکے۔
نیز اس کے لیے جسمانی اور مکانی وجود بھی ضروری ہے جس میں وہ اپنے اثر کو پیدا کر سکے۔
پھر ہم کائنات کی تخلیق میں اتفاق کے کردار کی بات کیسے کہہ سکتے ہیں، جب کہ ہماری کائنات لازماں و لامکاں سے آئی ہے، اور اس وجہ سے وہ محض اتفاق سے وجود میں نھیں آئی ہے۔
اس کے بعد اس کتابچہ میں دین کی ضرورت، دین کا مفہوم، رب العالمین کے سامنے سر تسلیم خم کرنے اور اس کی تابع داری کرنے کی ضرورت پر کچھ عقلی دلائل پیش کیے گئے ہیں۔ کیوں کہ اللہ کے آگے سر تسلیم خم کرنا اور طاعت وبندگی کے ساتھہ اس کی تابع داری کرنا ہی دین کی حقیقت ہے۔
آپ اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں، اور اپنے خالق و رازق اور اس ذات کی عبادت کرتے ہیں جو ہر منت، نعمت اور ہدایت کے ساتھ آپ پر احسان کرنے والا ہے۔
عبادت اللہ کا اپنے بندوں پر حق ہے، کیوں کہ اسی سبحانہ و تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا، ہمیں زندگی اور رزق دیا، ہمیں ہدایت عطا کی اور ہمارے پاس اپنے رسول بھیجے، تاکہ وہ ہمارا امتحان لے اور ہمیں آزمائے کہ ہم میں سے عمل کے اعتبار سے سب سے اچھا کون ہے۔ لہٰذا عبادت اللہ کا ہم پر حق ہے۔
"وہ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا، تاکہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے اور وہی سب پر غالب، بے حد بخشنے والا ہے۔۔" (2)
سورہ الملک
پھر، بعد کے مرحلے میں، اس کتابچہ کے اندر اسلام کے صحیح دین ہونے کے کچھ دلائل پیش کیے گئے ہیں اور اس حقیقت کو اجاگر کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں سے اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو قبول نہیں کرے گا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"اور جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرے، تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔" (85)۔
سورہ آل عمران
لھٰذا اسلام ہی وہ دین ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں کو بھیجا۔
اسلام کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ: اس میں اللہ کے آگے سر تسلیم خم کرنے اور صرف اکیلے اللہ کی عبادت کرنے کا مفہوم ہے۔
اسلام وہ کامل ترین شریعت ہے جو بندوں کو اللہ تعالیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔
اسلام وہ واحد دین ہے جو اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت دیتا ہے، وہ توحید جو تمام انبیاے کرام لے کر آئے۔
چنانچہ تمام انبیاے کرام عقیدۂ توحید پر تھے اگرچہ ان کی شریعتیں مختلف تھیں۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
"اور آپ سے پہلے ہم نے جو بھی رسول بھیجا اس کی طرف یہی وحی کرتے رہے کہ ’’میرے سوا کوئی معبود (برحق) نہیں۔ لہٰذا میری ہی عبادت کرو۔"(25)
سورہ الانبیاء
آج روئے زمین پر صرف اور صرف اسلام ہی اس عقیدۂ توحید پر باقی ہے، جب کہ دوسری تمام شریعتوں کے پیروکار کم یا زیادہ شرک میں ملوث ہیں۔ چنانچہ انبیاے کرام کی وفات کے بعد اور اس کے بعد کہ انہوں نے لوگوں کو توحید پر چھوڑا تھا، وقت گزرنے کے ساتھ لوگوں نے شرکیہ امور اپنا لیے اور آج انبیاے کرام کے لائے ہوئے خالص توحید پر اسلام کے علاوہ کوئی دین باقی نہیں ہے۔
پھر اس کتابچہ کا اختتام اس وضاحت کے ساتھ ہوتا ہے کہ انسان کیسے مسلمان ہوتا ہے؟ اسلام کا مفہوم کیا ہے؟ اور اسلام کیوں ضروری ہے؟
اسلام نے انسانی وجود سے متعلق ان تمام سوالوں کے جوابات دیے ہیں جو ہر انسان کے ذہن میں گردش کرتے رہتے ہیں: ہم کہاں سے آئے ہیں، ہم اس دنیا میں کیوں ہیں اور ہم کہاں جانے والے ہیں؟
اسلام نے ان سب کا جواب قرآن پاک کی ایک آیت میں دیا ہے، اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:
"اور مجھے کیا ہے کہ میں اس کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔" (22)
سورہ یٰسین
(مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں سارے سوالوں کے جوابات دیے گئے ہیں) میں کہاں سے آیا؟ اللہ نے مجھے پیدا کیا (الذي فطرني) ’’جس نے مجھے پیدا کیا۔‘‘
اور میں کہاں جانے والا ہوں؟ میں اللہ کے پاس جاؤں گا تاکہ مجھ سے میرے کام کا حساب لیا جائے۔
(وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ) ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔"
میں اس دنیا میں کیوں آیا ہوں؟ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے اور تاکہ میرا امتحان لیا جائے۔
میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کیوں کرتا ہوں؟ میرے لیے اس اللہ کی عبادت کرنا فطری بات ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، کیونکہ بندے اور اس کے رب کے درمیان تعلق کی یہ فطرت ہے کہ: بندہ اپنے رب اور خالق کی عبادت کرے۔
(وَمَا لِيَ لَا أَعْبُدُ الَّذِي فَطَرَنِي) "اور مجھے کیا ہے کہ میں اس کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا۔"
قرآن مجید کی اس ایک آیت میں تین اہم ترین سوالوں کے جواب جمع کر دیے گئے ہیں جن کے بارے میں لوگ حیران و پریشان رہتے ہیں۔
{وَمَا لِيَ لَا أَعْبُدُ الَّذِي فَطَرَنِي وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ}"اور مجھے کیا ہے کہ میں اس کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔" (22)
سورہ یٰسین
لھٰذا اسلام دنیا کے لیے اللہ کا شرع (قانون) ہے۔
اسلام کا مطلب یہ ہے کہ بندہ خود کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دے، چنانچہ اللہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے، طاعت و بندگی کے ساتھ اس کی تابع داری کرے اور اپنے خالق ومولا کا فرماں بردار ہو جائے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’اور جو شخص اپنا چہرہ اللہ کے سپرد کر دے اور وہ نیکی کرنے والا ہو، تو یقیناً اس نے مضبوط کڑے کو اچھی طرح پکڑ لیا اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کی طرف ہے۔‘‘ (22)
سورہ لقمان
اسلام کا مطلب ہے اپنی زندگی کے ہر چھوٹے بڑے کام میں اللہ کی بندگی، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"کہہ دے بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے، جو جہانوں کا رب ہے۔ (162)
اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں حکم ماننے والوں میں سب سے پہلا ہوں۔" (163)
سورہ الانعام
میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے: یعنی میں جو کچھ بھی کرتا ہوں اللہ کے لیے کرتا ہوں، چنانچہ میں اللہ کے لیے نماز پڑھتا ہوں، میں اللہ کے لیے اپنے والدین کی اطاعت کرتا ہوں، میں پڑھتا اور سیکھتا ہوں تاکہ اللہ کے لیے لوگوں کو فائدہ پہنچا سکوں اور میں اس لیے سوتا ہوں تاکہ اگلے دن وہ کام کرنے کے لیے توانائی حاصل کر سکوں جس کا اللہ نے مجھے حکم دیا ہے۔
یہ ہر کام میں اللہ کی بندگی ہے، اور یہ اللہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کے اہم ترین مظاہر اور نشانیوں میں سے ایک ہے۔
علمی بھوک... اس چیز کو جاننے کی بھوک جو ہمارے لیے سب سے اہم ہے، اسے صرف اسلام ہی مٹا سکتا ہے...
جبکہ الحاد کا حال(اس کے برعکس ہے) انسان کے لیے یہ جان لینا کافی نہیں کہ وہ مرنے کے لیے پیدا ہوا ہے۔
یہ کتابچہ الحاد کے پیدا کردہ اشکالات کے لیے ایک علمی و عقلی خوراک ہے، نیز اس میں اسلام کے صحیح ہونے کی چند دلیلیں پیش کی گئی ہیں۔
یہ علمی خوراک سوال و جواب کی شکل میں ہے۔
آئیے ہم اللہ کی برکت کے ساتھ اس کا آغاز کریں۔
(1)- الحاد کا کیا مطلب ہے؟
ج: الحاد کا مطلب ہے کہ کسی بھی غیبی طاقت پر یقین کرنے سے انکار کرنا۔
ملحد خالق، نبوتوں اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کا انکار کرتا ہے۔
(2)- آپ کو الحاد میں کیا برائی نظر آتی ہے؟
ج: الحاد کے لیے دینی ایمان سے کہیں زیادہ اعلیٰ ایمان کی ضرورت ہوتی ہے۔
لیکن یہ ایک ایسا ایمان ہے جس کی بنیاد فرضی مفروضوں اور غلط تصورات پر ہے، اس کے برعکس دینی ایمان کی بنیاد فطری بدیہیات اور حتمیات پر ہوتی ہے جن کا ہم اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں، نیز اس کی بنیاد عقلی مبادیات اور شرعی دلائل پر ہوتی ہے۔
ملحد بننے کے لیے آپ کو درج ذیل باتوں کا تصور کرنا ہوگا: أ- لا شے ایک دوسری لاشے سے آکر ملی اور وہ ایک عظیم شے بن گئی... وہ انتہائی حیرت انگیز چیزوں اور انتہائی درست معیارات اور اہم حدود کے ساتھ ایک حیرت انگیز کائنات بن گئی۔ ب- اتفاق نے وہ اہم حدود اور فزیکل مسلمات جنم دیے جن کے ساتھ کائنات سامنے آئی؛ جب کہ اتفاق کی دو شرطیں زمان اور مکان ہیں۔ لیکن ان کا دعویٰ ہےکہ کائنات بغیر زمان و مکان کے وجود میں آئی ہے، لھٰذا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ بغیر کسی اتفاق کے وجود میں آئی ہے! ج- بےترتیبی اور زمین کے ابتدائی ماحول نے زندگی کو وجود بخشا اور بیکٹیریا اور انسانوں کو پیدا کیا، جبکہ آج انسانی عقل تمام تر عروج و ترقی کے باوجود زندگی کی ادنی ترین صورت پیدا کرنے سے قاصر ہے۔ د- وہ تمام اخلاقی اقدار جنھیں ہم درست سمجھتے ہیں، اور جن میں سے زیادہ تر مادیت کے بالکل مخالف سمت میں جاتے ہیں (کیوں کہ حقیقی اخلاق دنیاوی مفاد کی سطح پر ایک مادی بوجھ اور نقصان کی نمائندگی کرتے ہیں) مادیت کی سوغات اور اس کی پیداوار ہیں۔ الحاد کی شروعات کرنے کے لیے آپ کو اس طرح کے عقلی ناممکنات پر یقین کرنا ہوگا۔
ھ۔ الحاد میں کوئی ایسی عقلی یا مادی دلیل نہیں ہے جو زمین کے تمام لوگوں کو فنا کے گھاٹ اتارنے سے روکتی ہو۔
لہٰذا مادی دنیا صحیح اور غلط کو تسلیم نہیں کرتی۔
پھر تو الحاد کی نظر میں زمین کے تمام لوگوں کو فنا کر دینا یا انہیں زندہ رکھنا برابر ہے۔
الحاد کی بنیاد بھی ایمان پر ہے، لیکن ایسا ایمان جو کسی علمی، یاعقلی، یا نقلی، یا اخلاقی ثبوت سے عاری ہے۔
س(3)- خالق کے وجود کی کیا دلیل ہے؟
ج: خالق کے وجود کی بہت سی دلیلیں ہیں، لیکن ہم دو دلیلوں کے ذکر پر اکتفا کر رہے ہیں:
1۔ وجود میں لانے کی دلیل
2۔ اہتمام اور مہارت کی دلیل
3- وجود میں لانے کی دلیل کا کیا مطلب ہے؟
ج: وجود میں لانے کی دلیل کا مطلب یہ ہے کہ:
ہر پیدا کی گئی چیز یعنی جو عدم سے وجود میں آئی ہے، اس کے لیے ایک پیدا کرنے والے یعنی موجد کا ہونا ضروری ہے۔
اس طرح ہمارے پاس خالق سبحانہ و تعالیٰ کے وجود کے ان گنت دلائل موجود ہیں۔
کائنات کا ہر ذرہ تخلیق کا ثبوت ہے۔ کیوں کہ ہر تخلیق شدہ چیز جو وجود میں آئی ہے وہ اپنے خالق و موجد کی دلیل ہے۔
جب آپ وجود پر غور کرتے ہیں، تو آپ پر واضح ہو جاتا ہے کہ یہ عارضی اور تغیر پذیر ہے، یہ دائمی یا ابدی نہیں ہے۔اس لیے یہ خود کفیل نہیں ہے۔ اس سے آپ کو اپنے ذہن میں قطعی طور پر یقین ہوجاتاہے کہ اس کا ایک خالق ہے، اور پھر آپ کی نگاہ محض دنیا کو دیکھتے ہی خالقِ کائنات کی طرف مبذول ہو جاتی ہے۔
اسی وجہ سے قرآن مجید میں کتنی ہی آیتیں ہیں جو کائنات اور ہمارے اردگرد موجود چیزوں کی طرف ہماری توجہ مبذول کراتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’آپ کہہ دیجیے کہ تم غور کرو کہ کیا کیا چیزیں آسمانوں میں اور زمین میں ہیں اور جو لوگ ایمان نہیں ﻻتے ان کو نشانیاں اور دھمکیاں کچھ فائده نہیں پہنچاتیں۔‘‘﴿101﴾
سورہ یونس
نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’اور کیا انھوں نے اپنے دلوں میں غور نہیں کیا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان جو کچھ ہے اسے پیدا نہیں کیا مگر حق اور ایک مقرر وقت کے ساتھ اور بے شک بہت سے لوگ یقیناً اپنے رب سے ملنے ہی کے منکر ہیں۔‘‘﴿8﴾
سورۃ الروم
ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’اور کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیا آسمانوں اور زمین کی عظیم الشان سلطنت میں اور کسی بھی ایسی چیز میں جو اللہ نے پیدا کی ہے۔‘‘﴿185﴾
سورۃ الاعراف
لھٰذا ہر تخلیق شدہ چیز خالق پر براہِ راست دلیل ہے!
5- اہتمام اور مہارت کے ساتھ پیدا کرنے کی دلیل کا کیا مطلب ہے؟
ج: اہتمام اور مہارت کے ساتھ پیدا کرنے کی دلیل کا مطلب یہ ہے کہ:
کائنات میں موجود ہر چیز، کوارکس (سب سے چھوٹا دریافت شدہ مادہ جو ایٹمی ڈھانچے بناتا ہے) سے لے کر کہکشاؤں تک، ایک حد تک عملی پیچیدگی رکھتی ہے۔
یعنی ہر چیز ایک مخصوص عمل اور معین کام انجام دیتی ہے۔
فطرت میں موجود ہر عملی پیچیدگی محض اس کے وجود کے اوپر ایک اضافی درجہ ہے۔
(چیزوں کا) وجود خود ایک درجہ ہے۔
اور موجود چیز کے اندر پایا جانے والا پیچیدہ نظام محض وجود کے اوپر ایک اضافی درجہ ہے۔
آپ کے آس پاس کی ہر چیز کو ایک معین کام انجام دینے کے لیےایک مخصوص انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے اردگرد ہر چیز ایک عملی پیچیدگی رکھتی ہے۔
عملی پیچیدگی چیزوں کی تخلیق کرنے اور وجود میں لانے کا ثبوت ہے۔
لھٰذا ایک ایجاد کرنے والے کا ہونا ضروری ہے۔
اس کی مثال ’’بلب‘‘ ہے: یہ ایک عملی پیچیدگی کی نمائندگی کرتا ہے۔
بجلی کا بلب ان چیزوں پر مشتمل ہوتا ہے:
1۔ فلیمنٹ(تنت)۔
2۔ لیڈ وائر: جو بجلی کو فلیمنٹ تک پہنچاتی ہے۔
3۔ غیر فعال گیس: جو فلیمنٹ کی حفاظت کرتی ہے، اس کے ساتھ یا بجلی کے ساتھ تعامل نھیں کرتی ہے۔
4۔ شیشہ: جو بلب کے اندر ہوا کو داخل ہونے یا غیر فعال گیس کو باہر نکلنے سے روکتا ہے، ورنہ تنت (فلیمنٹ) جل جائے گی۔
5۔ بلب کا پیندا (بیس): یہ بلب کو ہولڈر سے جوڑتا ہے اور برقی رو (کرنٹ) کے لیے راستے کا کام کرتا ہے۔
یہاں بجلی کا بلب ایک پیچیدہ نظام ہے جسے آسان نہیں بنایا جا سکتا، اس لیے یہ عقلی طور پر کمال کاریگری کو درشاتا ہے۔
جو شخص بجلی کے بلب سے کمال کاریگری کی نفی کرتا ہے یا اس کے اتفاقاً ظاہر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، اس سے اس کی دلیل مانگی جائے گی!
بجلی کا بلب بنانے والا بجلی کے معنی، اس کے راستوں، بلب کی افادیت اور تنت (بتی) کی حساسیت کو بخوبی جانتا ہے۔ لہٰذا بلب کا وجود براہِ راست اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس کا ایک ماہر بنانے والا ہے، ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ چونکہ شکل و انداز میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف بہت سے بلب موجود ہیں لہٰذا یہ ایسے ہی بےترتیب خود سے وجود میں آگئے ہیں!
اسی درجے کے عقلی استدلال کے ذریعہ ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ عملی طور پر پیچیدہ چیز جیسے کہ انسان کا ایک خالق اور بنانے والا ہے۔
بجلی کا بلب پانچ چیزوں سے مل کر بنا ہے...
جب کہ انسان اپنے ہر خلیے میں 4 ارب اجزاء پر مشتمل ہوتا ہے۔
چار ارب اجزائے حرف سے ایک زندہ انسانی وجود کی کارکردگی کا نظام تشکیل پاتا ہے، جنھیں جینیاتی (موروثی) کوڈ، جینوم، یا ڈی این اے کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، اور یہ حروف آپ کے ہر خلیے کے مرکزے میں رہتے ہیں۔
اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ بلب کے پانچ اجزاء کا ایک بنانے والا ہے اور آپ کا کوئی بنانے والا (خالق) نہیں ہے، تو یہ آپ کا مسئلہ ہے۔
’’یا وہ کسی چیز کے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں، یا وہ (خود) پیدا کرنے والے ہیں؟‘‘ (35)
سورۃ الطور
آپ کے ارد گرد موجود ہر چیز میں ایک پیچیدہ نظام موجود ہے، نیچر سے تعلق رکھنے والی کوئی ایسی چیز نہیں جس کے اندر کارکردگی کا پیچیدہ نظام موجود نہ ہو، چاہے وہ ایک ذرہ ہو یا آسمانوں کا سلسلہ ہو یا انسانی جسم کا اندرونی نظام ہو۔
خلاصہ یہ کہ کائنات کی ہر چیز میں کام کرنے کا پیچیدہ نظام ہے اور ہر ذرہ اور ہر چھوٹے سے چھوٹے جسم میں کارکردگی کا ایک نظام موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’بے شک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے اور رات اور دن کے بدلنے میں اور ان کشتیوں میں جو سمندر میں وہ چیزیں لے کر چلتی ہیں جو لوگوں کو نفع دیتی ہیں اور اس پانی میں جو اللہ نے آسمان سے اتارا، پھر اس کے ساتھ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کردیا اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلا دیے اور ہواؤں کے بدلنے میں اور اس بادل میں جو آسمان و زمین کے درمیان مسخر کیا ہوا ہے، ان لوگوں کے لیے یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔‘‘﴿164﴾
سورة البقرة۔
قرآن مجید میں اس معنیٰ و مفہوم کی بہت سی آیات موجود ہیں۔
لیکن ان آیات سے وہی شخص نصیحت حاصل کرتا ہے جو اپنی عقل کو استعمال کرتا ہے۔
’’اور نصیحت قبول نہیں کرتے مگر جو عقلوں والے ہیں۔‘‘ [7]
سورہ آل عمران
جس نے اپنی عقل کو استعمال کیا اور وجود پر غور و فکر کیا (ایجاد کی دلیل) اور مخلوقات کے نظم و ضبط اور افعال پر غور و فکر کیا (اہتمام اور مہارت و پختگی کی دلیل)، تو وہ یقیناً عقلی طور پر خالق کے وجود کی صداقت کو تسلیم کر لے گا۔
س(6)- یہ کیوں نہیں ہو سکتا کہ انسان اور دیگر جاندار انتہائی سادہ ابتدائی چیزوں(قدیم مخلوق) سے پیدا ہوئے ہوں؟
ج: اس میں دو مشکلیں ہیں:
پہلی مشکل: یہ ہے کہ ایک قسم کے جاندار کے دوسری قسم میں منتقل ہونے کا کوئی ایک مشاہداتی ثبوت نہیں ہے، اس بڑی مفروضہ چھلانگ کو چھوڑ دیں کہ انسان کا وجود ابتدائی (قدیم) مخلوق سے ہوا ہے۔
لہٰذا ایک ملحد کیسے اس مفروضے پر یقین کر سکتا ہے جو کسی قسم کے براہ راست ثبوت سے خالی ہو، اور ہمارے دینی عقلی استدلال کا انکار کرے؟
دوسری مشکل: کم از کم جین سیٹ کے تصور (Minimum Gene Set Concept) کے مطابق، کوئی بھی جاندار خواہ کتنا ہی سادہ (معمولی) کیوں نہ ہو، 200 جین سے کم نہیں ہو سکتا۔
کم از کم جین سیٹ کا مطلب ہے: جینوں کی وہ کم سےکم تعداد جس کے بغیر کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا!
اگرکسی جاندار کے اندر جینوں کی تعداد کم از کم حد سے ایک جین بھی کم ہو جائے تو وہ ہرگز زندہ نہیں رہ سکتا۔
جین ایک معلوماتی فیتہ ہے جس میں بڑی تعداد میں جینیاتی کوڈ ہوتے ہیں جو معلومات کو خفیہ کرتے ہیں۔
جینوں کی ایک کم از کم تعداد ہوتی ہے جو زندہ رہنے کے لئے ضروری ہے: ان جینوں کا ایک گروپ توانائی کے لیے انکوڈ کرتا ہے - کیونکہ توانائی کے بغیر کسی جاندار کے لیے زندگی ممکن نہیں - جینوں کا ایک دوسرا گروپ خوراک کے لیے انکوڈ کرتا ہے، جب کہ دوسرے جین تولید کے لیے انکوڈ کرتے ہیں اور دوسرے (جین) زندگی کے بنیادی افعال کے لیے انکوڈ کرتے ہیں، وغیرہ۔
سائنسدانوں نے زندگی کے لیے ضروری جینوں کی کم از کم تعداد کا حساب لگایا ہے، اور یہ طے کیا ہے کہ وہ دو سو سے کم جین نہیں ہو سکتے۔
کریگ وینٹر انسٹی ٹیوٹ نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ جینوں کی کم از کم تعداد تین سو بیاسی (382) جینوں سے کم نہیں ہو سکتی۔ [1]
[۱] جے کریگ وینٹر انسٹی ٹیوٹ (JCVI) نے Global Transposon Mutagenesis کے ذریعہM. genitallum کے تمام ضروری جینوں کا پتہ لگانے کے لیے ایک مطالعہ کیا، نتیجہ کے طور پر انہوں نے پایا کہ 482 میں سے 382 پروٹین کو ڈنگ جین ضروری ہیں۔
سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ مائکوپلاسما (Mycoplasma)، جو کہ روئے زمین پر موجود سب سے چھوٹا جاندار ہے، میں (468) جین پائے جاتے ہیں۔
اگر سارا معاملہ صرف مادے کا ہوتا اور یہ دنیا صرف ایک مادی نظام ہوتی، تو ہمیں صفر جین سے آغاز کرنے کی ضرورت ہے، اگر ہم ہائیڈروجن سے انسان تک جانا چاہتے ہیں!
لیکن سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ صفر جین، یا ایک جین، یا یہاں تک کہ سو جین نامی کوئی چیز نہیں ہے۔۔ سائنس کہتی ہے: ہمیں کم از کم معلومات کا ایک بہت بڑا مجموعہ درکار ہے، ورنہ یہ جاندار شروع سے ہی ظاہر نہ ہوتا۔
لھٰذا نیچر میں کوئی بھی چیز بَدائی (قدیم) نہیں ہے (جو ابتدائی مرحلے سے گذرکر ارتقا کو پہنچی ہو)، بلکہ ہر نظام کا آغاز مستقل طور پر حیرت انگیز طریقے سے ہوا!
معلوماتی نظام میں یہ حیرانگی باقی رہے گی جو مخلوقات کے ظاہر ہونے سے پہلے ہی ان کو خفیہ(انکوڈ) کرتا ہے، یہ حیرانگی الحاد کے سامنے ہمیشہ سدِّ راہ اور تخلیق الٰہی کے منکروں کے سامنے راہ کاروڑا بنی رہے گی!
آپ کے جسم میں چار ارب خصوصی معلومات کے ٹکڑے ہیں - وہ معلومات جو آپ کے ہر خلیے کے نیوکلئس (مَرکَزَہ) کے اندر موجود ہیں - جن کا کام درست حیاتیاتی افعال پیدا کرنا ہے۔
ملحد یہ سوچتا تھا کہ ایسی مخلوقات ہیں جن کا آغاز صفر جین سے ہوا ہے، لیکن کم سے کم جین کے نظریے نے آکر ان کے خواب کو چکنا چور کر دیا۔
جاندار چیزوں کا ظہور پہلے ہی لمحے سے عملی طور پر پیچیدہ رہا ہے، ورنہ وہ شروع ہی میں ظاہر نہ ہوتیں۔
س(7)- اہتمام اور کمال و مہارت کے ساتھ تخلیق کی دلیل کی کیا مثالیں ہیں؟
ج: اس کی مثالیں بے شمار ہیں۔
اور ان کے لیے زمین بھر کے رجسٹر ناکافی ہیں۔ (اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:)
’’اور اگر واقعی ایسا ہو کہ زمین میں جو بھی درخت ہیں قلمیں ہوں اور سمندر اس کی سیاہی ہو، جس کے بعد سات سمندر اور ہوں، تو بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں گی، یقیناً اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والاہے۔‘‘ ﴿27﴾
سورہ لقمان
کائنات کا ہر ذرہ اہتمام پر دلالت کرتا ہے، اس حقیقت کا علم آج ہمیں ہو چکا یا کل ہم جان لیں گے۔
أ۔ انسولین (گلوکوز کو ہضم کرنے والا ہارمون) لبلبہ سے اسی مقدار میں خارج ہوتی ہے جس مقدار میں آپ نے چینی کھائی ہے۔
ب۔ دل کے خون کو پمپ کرنے کی طاقت محنت کے مطابق پٹھوں کو درکار توانائی کے برابر ہوتی ہے۔
ج۔ آپ کے معدے کے والوز؛ تاکہ کھانا آپ کے منہ میں واپس نہ آجائے اور آپ کو تکلیف ہو۔
د۔ (بول و براز کے) اخراج کے والوز؛ تاکہ آپ کے کپڑے ہر لمحے گندے نہ ہوں۔
ھ۔ آپ کی کھوپڑی کی ہڈیاں اس وقت تک فیوز نہیں ہوتیں جب تک کہ آپ اپنی ماں کے پیٹ سے محفوظ اور آسانی سے باہر نہ آجائیں، کیونکہ اگر وہ آپس میں مل جاتی ہیں، تو آپ اپنی ماں کے پیٹ سے اس وقت تک نہیں نکلیں گے جب تک کہ وہ ٹوٹ نہ جائیں۔ اور ان ہڈیوں کی نشوونما اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ آپ کے دماغ کی نشوونما مکمل نہ ہوجائے۔
و۔ آپ کے اعصاب کے تمام محور جو برقی سگنل منتقل کرتے ہیں ایک موصل تہہ سے ڈھکے ہوئے ہیں - جیسا کہ ہم اب بجلی کے تاروں کے ساتھ کرتے ہیں - تاکہ برقی سگنل بھٹک نہ جائے، یا گم نہ ہو جائے، یا آپ کے لیے تکلیف کا باعث نہ ہو۔
ز۔ الیکٹران نیوکلئس کے گرد ایک ہزار کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے گھومتا ہے، ورنہ یہ مثبت نیوکلئس کے ساتھ کشش کی قوت کی وجہ سے نیوکلئس کے اندر گر جاتا، اور کائنات شروع ہونے سے پہلے ہی منہدم ہو جاتی، اور یہ ایٹم کی تشکیل کے لیے مثالی رفتار ہے۔
ح۔ جب ہائیڈروجن کے دو ایٹم آپس میں ملتے ہیں تو ہائیڈروجن کی کمیت کا 0.007% توانائی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اگر یہ کمیت 0.007% کے بجائے 0.006% ہوتی، تو پروٹون نیوٹران کے ساتھ ہرگز نہیں ملتا اور پوری کائنات صرف ہائیڈروجن رہتی، اور باقی عناصر ظاہر نہیں ہوتے۔ اگر توانائی میں تبدیل شدہ کمیت 0.007% کے بجائے 0.008% ہوتی، تو ہم آہنگی (فیوژن) انتہائی تیز ہو جاتی، جس کے نتیجے میں کائنات سے ہائیڈروجن فوری طور پر غائب ہو جاتا، جس سے زندگی ناممکن ہو جاتی۔ اس لیے اس کی تعداد لازمی طور پر 0.006% اور 0.008% کے درمیان ہونی چاہیے۔
ط۔ الیکٹران ماس، نیوٹران ماس کے 0.2% کی نمائندگی کرتا ہے، اور یہی ایٹم کی تشکیل کے لیے معیاری کمیت ہے۔
ی۔ بیج سے انکھوا نکلنے کے بعد وہ روشنی کے منبع کی طرف بڑھتا ہے اور اس کی جڑ نیچے کی طرف جاتی ہے، انکھوے روشنی کے لیے انتہائی حساس ہوتے ہیں۔ وہ تمام معلومات جو انہیں اپنے کام کو انجام دینے کے لیے درکار ہوتی ہیں، بیج کے اندر انکوڈ ہوتی ہیں۔ کچھ ایسے ہارمونز بھی ہوتے ہیں جو پودے کے اوپری اور دائیں بائیں، نیز جڑوں کی طرف نشوونما کو کنٹرول کرتے ہیں، اور یہ سب بھی بیج کے اندر انکوڈ ہوتے ہیں۔
ک۔ جب آپ لذیذ پھل کھا رہے ہوتے ہیں اور پھر خشک اور بے ذائقہ بیج کو اپنے سے دور پھینک دیتے ہیں، تو آپ اس پھل کو اس کے جینوں کو منتقل کرنے کی اجازت دے رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ پھل آپ کو مزیدار ذائقہ دیتا ہے جبکہ یہ اپنے جینوں - اپنی زندگی کے اصل - کو ایک خشک، چکنے بیج کے دل میں مخفی رکھتا ہے جو آپ کے لیے پرکشش نہیں ہے۔ آپ جیسے ہی اس بیج کو زمین پر پھینکتے ہیں، مناسب حالات دستیاب ہوتے ہی یہ اپنی شاخوں، ٹہنیوں اور جڑوں کے ساتھ ایک پھل دار درخت بنانا شروع کر دیتی ہے۔یہ سب کچھ ان پودوں میں ہوتا ہے جنہیں کسی چیز کا ادراک نہیں ہوتا۔
ل۔ اس گونگے، بہرے پھل کے لیے معلومات کو کس نے مرتب کیا اور اس میں چینی کی مقدار کو منضبط کیا تاکہ وہ آپ کو پسند آئے؟
پھر: کس نے پھل کے بیج کو ناقابل قبول اور ناگوار بنایا، تاکہ آپ کو اس میں کوئی دلچسپی نہ ہو اور اسے پھینک دیں؟
پھر: کس نے بیج کو تمام تفصیلات اور افعال کے ساتھ ایک نیا پودا بنانے کے لیے کافی جینیاتی معلومات سے بھر دیا؟
م۔ حال ہی میں ہم پر یہ واضح ہو گیا ہے کہ: وہ انرشیا (جڑتا) یا عطالت (یعنی غیر فعالی، جمود، حالت سکون) جس میں ہم خوشیوں میں رہتے ہیں، وہ مجموعی طور پر کائنات کے بڑے پیمانے کی پیداوار ہے۔
انرشیا (جمود) کا کیا مطلب ہے؟
اگر آپ موٹر کار میں سوار ہوں اور اچانک کار رک جائے تو کیا ہوتا ہے؟
آپ آگے کی طرف ڈھکل جاتے ہیں! کیا ایسا نہیں ہے؟
انرشیا (جڑتا) یا عطالت کا یہی مطلب ہے۔
اگر ہماری دنیا کا انرشیا موجودہ پیمانے سے کم ہوتا تو ہوا کا معمولی ترین جھونکا چٹانوں کو حرکت دے سکتا تھا، اور اس طرح کی دنیا میں ہم ہر طرح کی چیزوں سے مسلسل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے!
اگر انرشیا موجودہ پیمانے سے زیادہ ہوتا تو ہم اپنی انگلیوں کو بھی حرکت دینے کے قابل نہ ہوتے۔[2]
[2] Nature's Destiny: How the Laws of Biology Reveal Purpose in the Universe, Michael Denton.
انرشیا یا عطالت کی قوت کا انحصار ماس پر ہے۔
وہ چیز جس نے ماہرین علم طبیعات کو حیران کر دیا وہ یہ ہے کہ آکاش گنگا کہکشاں، یعنی وہ کہکشاں جو ہمارے نظام شمسی پر مشتمل ہے، کی کمیت صرف 0.1 فی ملین کے حساب سے انرشیا کو کنٹرول کرنے میں حصہ لیتی ہے، جب کہ زمین کی کمیت صرف 0.001 فی ملین تک انرشیا کو کنٹرول کرتی ہے۔
لھٰذا مثالی انرشیا (جمود) جس کے اچھے نتائج پر ہم جیتے ہیں، اور جس کے ذریعے ہم اپنی تمام سرگرمیاں انجام دیتے ہیں، مجموعی طور پر کائنات کی کل توانائی کا نتیجہ ہے۔
’’اور ہم نے آسمان و زمین کو اور ان دونوں کے درمیان کی چیزوں کو بے کار پیدا نہیں کیا۔ یہ ان لوگوں کا گمان ہے جنھوں نے کفر کیا، سو ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا آگ کی صورت میں بڑی ہلاکت ہے۔‘‘[27]
سورہ ص
جیسے جیسے سائنس پھیلتی ہے، حکمت کے عجائبات اور تخلیق کی باریکیاں ظاہر ہوتی ہیں! [3]
[3] اس مسئلے پر مائیکل ڈینٹن نے اپنی کتاب: دی فیٹ آف نیچر میں تفصیل سے بحث کی ہے، اس کا ترجمہ شدہ ورژن دار الکاتب پبلی کیشنز نے جاری کیا ہے۔
ن۔ پھر آئیے آنکھ کی طرف چلتے ہیں:
وہ نعمت جو انمول ہے۔
’’کیا ہم نے اس کے لیے دو آنکھیں نہیں بنائیں؟‘‘﴿8﴾
سورہ البلد۔
آنکھ کا ریزولوشن پانچ سو چھہتر میگا پکسلز کے برابر ہے۔
آنکھ میں دنیا کا سب سے زیادہ صاف و شفاف عدسہ ہوتا ہے۔
ریٹینا میں فوٹو ریسیپٹر کا سائز آدھے مربع ملی میٹر سے زیادہ نہیں ہوتا اور یہ مختلف جہتوں کے دس ملین شیڈز میں فرق کرتا ہے، یہ ایک معجزہ اور حیرت انگیز الٰہی تخلیق ہے۔
جب آپ اپنے سامنے کسی چیز کو دیکھتے ہیں اور روشنی ریٹینا پر پڑتی ہے تو اس وقت کئی پیچیدہ کیمیائی عمل ہوتے ہیں جو بالآخر برقی کرنٹ پیدا کرتے ہیں۔ یہ کرنٹ آپ کی آنکھ کے ریٹینا سے آپ کے دماغ تک اعصابی تاروں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ دماغ یہاں اس برقی کرنٹ کی فریکوئنسی کو بینائی سے تعبیر کرتا ہے، گویا دماغ کے پاس پہلے سے ایک مکمل ڈکشنری موجود ہے جو اس تک پہنچنے والے برقی رو کو آپ کے سامنے موجود چیزوں کو دیکھنے کے عمل میں بدل دیتی ہے۔
یہ حیرت انگیز چیز ہے، اگر آپ اس میں غور و فکر کریں۔
تصور کریں: یہ دماغ ہڈیوں کے ایک تاریک صندوق کے اندر رہتا ہے - وہ تاریک صندوق کھوپڑی ہے-۔
اور آپ کے دماغ تک صرف برقی کرنٹ پہنچتے ہیں۔
تو دماغ اس کرنٹ کو دیکھنے کے طور پر کیسے تشریح کر تا ہے؟
وہ آپ کو دیکھنے کی صلاحیت کیسے دیتا ہے؟
یہ معجزہ ایک لمحے میں ہوتا ہے جیسے ہی آپ اپنی آنکھیں کھولیں اور دیکھیں!
سماعت کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔
جیسے ہی آواز کی لہریں آپ کے کان کے پردے میں داخل ہوتی ہیں، کان کا پردہ انہیں لہروں سے مکینیکل حرکت میں بدل دیتا ہے۔ پھر یہ مکینیکل حرکت درمیانی کان کی تین چھوٹی ہڈیوں کے ذریعے اندرونی کان میں منتقل ہوتی ہے، جو اسے برقی رو میں تبدیل کر دیتا ہے۔
یہ برقی رو اب اندرونی کان سے دماغ کی طرف جائے گا، تاکہ دماغ اس برقی رو کو آواز کے طور پر بیان کرنا شروع کر دے، تو آپ کو آواز سنائی دے!
یہ سب کچھ سیکنڈ کے ایک حصے سے بھی کم وقت میں ہوتا ہے، (اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے): ’’اور اللہ نے تمھیں تمھاری ماؤں کے پیٹوں سے اس حال میں نکالا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے اور اس نے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنا دیے، تاکہ تم شکر کرو۔‘‘﴿سورہ النحل: 78﴾۔
ذرا تصور کریں کہ آنکھ، کان، لمس، ذائقہ، بو اور جسم کے مختلف حصوں سے ہر لمحہ ہزاروں برقی سگنل دماغ تک پہنچتے ہیں، تاکہ وہ ان تمام سگنلز کے درمیان حیرت انگیز باریکی (درستگی) کے ساتھ فرق کرے۔
’’یہ ہے اللہ کی مخلوق، تو تم مجھے دکھاؤ کہ ان لوگوں نے جو اس کے سوا ہیں کیا پیدا کیا ہے؟ بلکہ ظالم لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔‘‘﴿11﴾
سورہ لقمان
’’(یہ) اس اللہ کی کاری گری (ہے)جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا۔ یقیناً وہ اس سے خوب باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔‘‘﴿88﴾
سورہ النمل
کون ہے جو اللہ کی نعمتوں میں سے صرف ایک نعمت کو بھی پوری طرح شمار کرسکے؟
آپ اپنے جسم کے ہر جوڑ اور ہر ہڈی پر غور کریں جو آپ کے لیے ضرورت کے مطابق حرکت کرنا آسان بناتا ہے۔
آپ ان ہموار جوڑوں پر غور کریں جو آپ کو ہڈیوں کے درمیان رگڑ یا کٹاؤ کے بغیر حرکت کرنے کی آسانی فراہم کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان جوڑوں میں مشینوں کے جوڑوں میں ڈالے جانے والے چکنا کرنے والے مادے کی طرح مائع جمع کر رکھا ہے!
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے بارے میں تامل کرتے ہوئے، ان کا شکر ادا کرتے ہوئے سوچیں اور غور و فکر کریں۔
اللہ کی نعمتیں بے شمار ہیں۔
’’کیا تم نے نہیں دیکھا کہ بے شک اللہ نے جو کچھ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے تمھاری خاطر مسخر کردیا اور تم پر اپنی کھلی اور چھپی نعمتیں پوری کردیں، اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اللہ کے بارے میں بغیر کسی علم اور بغیر کسی ہدایت اور بغیر کسی روشن کتاب کے جھگڑا کرتا ہے۔‘‘﴿20﴾
سورہ لقمان
س(8)- کچھ ملحدین اہتمام کی دلیل پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دنیا میں کچھ ایسی چیزیں ہیں جو مثالی نہیں ہیں، جیسے: بیماریاں اور زلزلے؟
ج: ملحد کے بقول کائنات کی کچھ چیزیں اہتمام و اتقان کے برخلاف نظر آتی ہیں، لیکن اس سے اہتمام و اتقان کے وجود کی نفی نہیں ہوتی ہے۔
ملحد یہ بات کہہ کر کائنات میں اہتمام و اتقان کے وجود کی تصدیق کرتا ہے۔
اس لیے کہ اگر اہتمام و اتقان کا سرے سے وجود ہی نہیں ہوتا تو ملحد کو ان چیزوں کا علم کیسے ہوتا جو اہتمام و اتقان کے برخلاف نظر آتی ہیں۔
کیوں کہ بغیر ڈیزائن کی دنیا میں آپ ڈیزائن کی خامی کے بارے میں کیسے بات کرسکتے ہیں؟
یہ جن چیزوں کو اہتمام و اتقان کے برخلاف کہہ رہے ہیں، یہ علم کی کمی یا چیزوں کی حکمت کو سمجھنے میں کوتاہی ہے۔
اہل ایمان یہ نہیں کہتے ہیں کہ کائنات اہتمام و اتقان کا ایسا نمونہ ہے کہ اس میں مصائب کا وجود ہی نہیں ہے، بلکہ وہ کہتے ہیں کہ کائنات اہتمام و اتقان کا نمونہ اس طور پر ہے کہ اس میں کوئی چیز بے مقصد واقع نہیں ہوتی ہے۔
ملحد کا موقف ویسے ہی ہے جیسے کوئی خلائی جہاز کے اتقان کی نفی اس وجہ سے کرتا ہے کہ اس میں پٹرولیم کی بڑی مقدار موجود ہے جس کی وجہ سے خلائی جہاز کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔[4]
[4] ”ظاھرۃ نقد الدین في الفلسفۃ الحدیثۃ“ یہ ڈاکٹر سلطان عمیری کا ڈاکٹریٹ کا مقالہ ہے۔
یہ دنیا ابدی یا ازلی ہونے کے لیے نہیں بنائی گئی ہے، اور ہمیں دیوتا بننے کے لیے نہیں بنایا گیا ہے؟
بلکہ ہم اس لیے بنائے گئے ہیں تاکہ خیر و شر کے ساتھ ہمیں آزمایا جائے۔
’’اور ہم تمھیں برائی اور بھلائی میں مبتلا کرتے ہیں، آزمانے کے لیے اور تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘﴿35﴾
سورہ الانبیاء
خیر و شر اور ہر آزمائش کے پیچھے حکمت اور مشیتِ الٰہی ہوتی ہے۔
س(9)- یہ مان لینے میں کیا رکاوٹ ہے کہ کوئی مادی سبب ہو جس نے کائنات کی تخلیق کی؟ مثال کے طور پر: کوئی اور تہذیب یا کوئی اور چیز؟ خاص طور پر ازلی معبود ہی کیوں؟
ج: ایک قاعدہ ہے جسے علمائے اسلام نے تقریبا ایک ہزار سال پہلے قائم کیا تھا، یہ قاعدہ کہتا ہے: ایک سے زیادہ فاعل کا تسلسل یقینی طور پر افعال کے عدم وقوع کا سبب بنتا ہے۔[5]
[5] ڈاکٹر سلیمان عمیری کا ڈاکٹریٹ کا مقالہ ”ظاھرۃ نقد الدین في الفلسفۃ الحدیثۃ“
ایک سے زائد فاعل کے تسلسل کا مطلب ہے ایک سے زائد خالق کا وجود۔ اور اس سوال میں ہمارے پاس ایک اور تہذیب ہے اور اس سے پہلے ایک تہذیب تھی جس نے اسے پیدا کیا اور ان سے پہلے ایک تہذیب تھی جس نے ان کو پیدا کیا اور اسی طرح یہ سلسلہ چل رہا ہے۔ تو یہ دراصل تخلیق کاروں کا تسلسل ہے۔
یہ تسلسل لازمی طور پر افعال کے وقوع پذیر نہ ہونے کی طرف لے جاتا ہے۔
افعال کے عدم وقوع سے مراد مخلوقات مثلاً کائنات اور انسان وغیرہ کا عدم ظہور ہے۔
لہٰذا ایک سے زائد فاعل کا تسلسل کائنات اور وجود کے عدم ظہور کی طرف لے جاتا ہے۔
اگر ایک تہذیب کا ظہور ایک دوسری تہذیب کے ظہور پر موقوف ہوتا جس نے اسے وجود بخشا اور دوسری تہذیب کا ظہور اس سے پہلے کی تہذیب پر موقوف ہوتا جس کے ذریعہ اس کا وجود ہوا، اسی طرح اوپر تک جس کی کوئی آخری حد نہیں ہے، تو نہ تو یہ موجودہ تہذیب، نہ اس سے پہلے کی تہذیب اور نہ ان دونوں سے پہلے کی تہذیب ظاہر ہوتی، نہ انسانی وجود ظاہر ہوتا اور نہ کوئی دوسری چیز۔
اس لئے کہ جو تہذیب اپنے ظہور کے لئے اپنے پہلے کی تہذیب پر موقوف ہو اور اسی ترتیب سے اوپر تک، تو اس کے نتیجہ میں کوئی بھی تہذیب ظاہر نہیں ہوگی اور کچھ بھی ظاہر نہیں ہوگا۔
لہٰذا ایک اولین اور ازلی خالق کا ہونا ضروری ہے جس نے سب کچھ پیدا کیا!
اگر یہ ایک لامحدود سلسلہ ہوتا اور سلسلہ کی ہر کڑی اس سے پہلے والے پر منحصر ہوتی، تو اس صورت میں نہ مخلوقات کا وجود ہوتا نہ تخلیق کا اور نہ موجودات کا، کیوں کہ فاعل کا وجود اس کے پہلے کے فاعل پر موقوف ہوگا اور اس کے پیشرو فاعل کا وجود ان دونوں کے پیشرو فاعل پر موقوف ہوگا اور اسی طرح اوپر تک، اور اس وجہ سے کچھ بھی موجود نہیں ہوگا۔
اس لیے اس سلسلہ کا ایک حد پر رکنا ضروری ہے۔
اور یہاں ہم پہلے خالق کے بارے میں یقین رکھتے ہیں جس سے پہلے کوئی چیز نہیں!
س(10)- ہم ان قوانین سے واقف ہیں جن کے تحت یہ کائنات چل رہی ہے اور ہم زلزلے کے اسباب کو بھی اچھی طرح جانتے ہیں، اس کے بعد بھی ہم خالق کے محتاج کیوں ہیں جبکہ ہم قوانین فطرت کو جان چکے ہیں؟
ج: ملحد یہ مانتا ہے کہ کائنات کی تخلیق اور اس کے ظہور کے لیے قوانین کافی ہیں، کچھ ملحدین ”کشش ثقل کے قانون“ پر اعتماد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہی قانون کائنات کے ظہور کے لیے کافی ہے، قطع نظر اس کے کہ ”کشش ثقل کے قانون“ کا نظریہ چند بنیادی سوالات کا سامنا کرنے سے بھی قاصر ہے مثلاً کشش کے قانون کا سرچشمہ کیا ہے؟ کس نے اس قانون کو بنایا ہے؟ اور کس نے اسے مداخلت اور اثر کو ظاہر کرنے کی صفت عطا کی ہے؟
ان اولین تسلیم شدہ حقائق سے قطع نظر کشش ثقل کا قانون بلیئرڈ کی گیند کو نھیں لڑھکا سکتا!
لہٰذا صرف قانون ہی کچھ نہیں کر سکتا ہے جب تک کسی چیز کا ظہور نہ ہو۔
چنانچہ کشش ثقل کا قانون بلیئرڈ گیند ہرگز نہیں بنائے گا، بلکہ اسے صرف اس صورت میں منتقل کرے گا جب وہ ظاہر ہو اور بلیئرڈ کی چھڑی (کیو) سے ماری جائے۔
کشش ثقل کا قانون کوئی مستقل چیز نہیں ہے، بلکہ ایک قدرتی واقعہ کی وضاحت ہے۔
کششِ ثقل کا قانون بلیئرڈ کی گیند کو بغیر اس طاقت کے حرکت نہیں دے گا جو بلیئرڈ کی اسٹک کو دبائے اور اسے حرکت دے۔ صرف اسی صورت میں بلئرڈ کی گیند حرکت کرتی ہے اور کششِ ثقل کے قانون کا اثر ظاہر ہوتا ہے۔
لیکن ملحد یہ سمجھتا ہے کہ کشش ثقل کے قانون کا وجود بلیئرڈ گیند اور بلیئرڈ کیو بنانے اور گیند کو لڑھکانے کے لیے کافی ہے!
اس کائنات کے ظہور کے سبب کے تعلق سے عقل اور منطق سے کون زیادہ قریب ہے: خالق یا قانون؟
اسی طرح، گاڑی کے انجن میں اندرونی دہن کے قوانین کار کے انجن کو تخلیق نہیں کریں گے۔
اگر ہم کار کے انجن میں اندرونی دہن کے قوانین کو شامل کر دیں، تب بھی انجن کام نہیں کرے گا، کیونکہ اس میں پٹرول ہونا چاہیے جو توانائی دیتا ہے، اور دہن کے لیے ایک چنگاری ہونی چاہیے، اور اس سے پہلے انجن کا ہونا ضروری ہے، اور صرف یہاں جاکر اندرونی دہن کے قوانین ظاہر ہوتے ہیں اور موٹر کام کرتا ہے!
عقل اس بات کو تسلیم نہیں کرتی ہے کہ اندرونی دہن کے قوانین انجن، دہن کے لیے چنگاری، پٹرول، ڈرائیور اور سڑک بنانے کے لیے کافی ہیں۔
کائنات کے ظہور کی وضاحت کے لیے قانون کو کافی سمجھنے کا خیال ایک ایسا خیال ہے جس کا تعلق ذہن سے بالکل نہیں۔
پھر اگر ہم اس خیال کو فرض کر لیں تو یہ ہمیں ایک سے زائد فاعل کے تسلسل کی طرف لے جائے گا جس کی وضاحت ہم گزشتہ سوال کے جواب کے تحت کر چکے ہیں، یہاں اور ہر جگہ یہی سوال پیدا ہوگا کہ اگر قانون کی وجہ سے چیزوں کا ظہور ہوا تو یہ قانون کہاں سے آیا، اسے کس نے وجود بخشا؟ اور اگر وہ دعوی کریں کہ یہ دوسرا قانون ہے، تو پھر ہم ایک سے زائد فاعل کے تسلسل میں داخل ہو جائیں گے جس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ کوئی قانون یا کوئی وجود ظاہر نہ ہو۔
س(11)- اسے مان لینے میں کیا رکاوٹ ہے کہ کائنات کا وجود اتفاقیہ ہوا؟
ج: کائنات کے وجود کو اتفاقیہ کہنا دراصل احتمالات کے اصول سے ناواقفیت کی دلیل ہے، اس لیے کہ اتفاق کے لیے دو لازمی شرطیں ہیں:
وہ دو شرطیں ہیں زمان و مکان کا پایا جانا۔
اتفاق کے لیے ایک وقت کا ہونا شرط ہے جس میں وہ اپنا اثر ظاہر کر تا ہے۔
نیز اس کے لیے جسمانی اور مکانی وجود بھی ضروری ہے جس میں وہ اپنے اثر کو پیدا کر سکے۔
پھر ہم کائنات کی تخلیق میں اتفاق کے کردار کی بات کیسے کہہ سکتے ہیں، جب کہ ہماری کائنات لازماں و لامکاں سے وجود میں آئی ہے؟
خود اتفاق کے ظہور سے پہلے اتفاق کا اثر کیسے ظاہر ہو سکتا ہے؟
اتفاق اپنے وجود سے پہلے اور اس کے لیے دو لازمی شرطوں زمان و مکان کے وجود سے پہلے کوئی اثر کیسے ظاہر کر سکتا ہے؟
س(12)- ہم اس ملحد کا رد کیسے کریں گے جو یہ کہتا ہے کہ کائنات ابدی ہے؟
ج: تھرموڈائنامکس کے دوسرے قانون (Second Law of Thermodynamics)کے مطابق کائنات ابدی نہیں ہو سکتی۔
یہ قانون کیا ہے؟ اسے ہم اس مثال سے سمجھ سکتے ہیں:اگر آپ کے پاس کمرہ کے اندر ایک پیالہ گرم پانی ہے، تو گرم پانی کی حرارت کمرہ کی فضا میں منتقل ہوتی رہتی ہے، یہاں تک کہ کمرہ کا درجۂ حرارت اور پیالہ میں رکھے ہوئے گرم پانی کا درجۂ حرارت یکساں ہو جاتا ہے۔ اسی کوتھرموڈائنامکس کا دوسرا قانون کہا جاتا ہے، جہاں توانائی اعلی سے ادنی کی طرف مسلسل منتقل ہوتی رہتی ہے۔
کائنات کی ہر چیز اس قانون کے دائرہ میں ہے اور کائنات کے ظہور کے بعد سے ہر لمحہ یہ قانون اپنا کام کر رہا ہے یہاں تک کہ کائنات کی ہر چیز کا درجۂ حرارت مساوی ہو جائے اور ہر چیز کا درجۂ حرارت مساوی ہوجانے کے بعد جو صورت حال پیش آئے گی اسے کائنات کی حرارتی موت (Thermal Death of Universe) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ لہٰذا اگر یہ کائنات ابدی ہوتی، تو یہ اب رک چکی ہوتی - حرارتی طور پر مردہ ہوتی - لیکن حقیقت میں کائنات اب زیادہ سے زیادہ اینٹروپی سے کم حالت میں ہے، اور ابھی تک حرارتی موت تک نہیں پہنچی ہے، اس لیے یہ ابدی نہیں ہے، بلکہ اس کا ایک ثابت شدہ آغاز ہے جس کے ساتھ زمان و مکان کا ظہور ہوا۔
اسی قانون کے مطابق یہ ثابت ہو چکا ہے کہ کائنات کا آغاز اینٹروپی کی کم سے کم سطح پر ہوا، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کائنات ایسی انوکھی شکل میں وجود میں آئی جس کی نظیر سابق میں موجود نہیں تھی۔
اس طرح یہ سائنسی قانون ایک طرف ہے، جب کہ الحاد مکمل طور پر دوسری طرف ہے۔
س(13)- سببیت کا قانون خالق پر کیوں لاگو نہیں ہوتا؟ دوسرے الفاظ میں: خالق کو کس نے پیدا کیا؟
ج: پہلا جواب یہ ہے کہ: خالق پر اس کی مخلوقات کے قوانین لاگو نہیں ہوتے، اور یہ ایک بدیہی بات ہے۔
ورنہ پھر ہم یہ کہیں گے کہ طباخ (باورچی) کو کس نے پکایا؟
اور تیلی (روغن گر) کو کس نے روغن کیا؟
یہ ایک بدیہی بات ہے کہ خالق ہی زمان و مکان کا موجد ہے، لہٰذا وہ قوانین اس پر لاگو نہیں ہوسکتے جنھیں اس نے خود بنایا ہے۔
دوسرا جواب: یہ بات صحیح ہے کہ ہر پیدا شدہ چیز کا ایک پیدا کرنے والا ہے؛ لیکن خالق سبحانہ و تعالیٰ (ہرگز ایسا نہیں):
’’اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔‘‘﴿11﴾
سورہ الشوریٰ
تیسرا جواب: خالق حادث (پیدا شدہ) نہیں ہے - بلکہ وہ ازلی وابدی ہے - پھر ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ خالق کو کس نے پیدا کیا؟
چوتھا جواب: خالق کا ازلی اور واجب الوجود ہونا ضروری ہے، ورنہ ہم ’’ایک سے زائد فاعل کے تسلسل، جو لازمی طور پر اعمال کے عدم وقوع کا باعث بنتا ہے‘‘ کے مسئلے میں داخل ہو جائیں گے۔ اسے ہم نے اوپر تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے، اس لیے خالق کا ازلی و ابدی اور اول واجب الوجود ہونا ضروری ہے۔
س(14)- کائنات بہت بڑی ہے، پھر ہم اپنے چھوٹے حجم کے ساتھ اس عظیم الشان کائنات میں مرکزی حیثیت کے حامل کیسے ہو سکتے ہیں؟
ج: ملحد بلا سوچے سمجھے مفروضے پیش کرتا ہے جو دلائل کا سامنا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ چونکہ کائنات بہت بڑی ہے لہٰذا انسان اس کائنات میں مرکزی حیثیت کا حامل نہیں ہو سکتا ہے!
یہ مفروضہ اس مقدمہ پر مبنی ہے: چونکہ کھیتوں کا دائرہ بہت وسیع ہے اور ان کا مالک ان کے مقابلے میں بہت چھوٹا ہے، لھٰذا: وہ ان کا مالک نہیں ہے!
لیکن یہاں معاملہ حجم کا بالکل نہیں ہے۔
اخلاق جس کا کوئی مادی حجم نہیں، سب سے عظیم اور سب سے حقیر انسان کے درمیان فرق کرنے کا سب سے بڑا معیار ہے۔
لھٰذا لوگوں کو ان کے اخلاق سے تولا جاتا ہے۔
حجموں کا معاملہ کوئی معیار نہیں ہے!
ہم اسے ایک مثال سے سمجھاتے ہیں: اگر ہمارا کوئی بادشاہ ہو جو اپنے بیٹے کے لیے کچھ وصیتیں کرے اور اس کے لئے کوئی دستاویز لکھ کر دیدے تو کوئی اعتراض کرنے والا آکر کیا یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ بادشاہ جو لاکھوں ایکڑ اور بے شمار وسیع اراضی کا مالک ہے وہ اپنے بیٹے کے معاملہ کو کیسے اہمیت دے سکتا ہے جس کا حجم اور وزن اس بادشاہ کی زمینوں اور ایکڑ کے دس لاکھویں حصے تک نہیں پہنچتا؟
اللہ تعالیٰ کے لئے تو سب سے اعلی مثال ہے۔
کیا یہ اعتراض اصلا معقول ہے؟
لھٰذا معاملہ حجم اور وزن کا نہیں ہے۔
پھر کیا یہ کائنات پن کے سر سے اربوں گنا چھوٹے نقطے سے شروع نھیں ہوئی جیسا کہ دنیا کا ہر ماہر طبیعیات مانتا ہے؟
لہٰذا حجم (سائز) ایک نسبی چیز ہے۔
پھر یہ سوال بھی ہے کہ ملحد کو اس سے کیا نقصان ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو چاہے اور جس کیفیت سے چاہے پیدا کرے؟
کیا معبود برحق کے پاس وسائل کی کمی ہے کہ وہ ضرورت کے مطابق خرچ کرے؟
اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے بلند و بالا ہے۔
لیکن کیا ہم واقعی اس کائنات میں مرکزی اہمیت کے حامل ہیں؟
اس کا جواب یہ ہے کہ: ہاں، اے انسان! تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے مکلف ہونے کی وجہ سے اس کائنات کا مرکز ہو۔
اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کو جس کام کا مکلف بنایا گیا ہے وہ دین کی پیروی ہے۔
دین وہ امانت ہے جسے تم نے اٹھا رکھا ہے، اور یہ سب سے بڑا امتحان ہے جسے انجام دینا تمہاری ذمہ داری ہے۔
اے انسانوں کی جماعت! تم سے اللہ تعالیٰ کی بندگی اختیار کرنے کا مطالبہ ہے، اسی کی وجہ سے تم اس کائنات میں مرکزی اہمیت کے حامل ہوگے،تم اپنی جسامت، اپنی طاقت اور اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے اس کائنات میں مرکزی اہمیت کے حامل نہیں ہو، بلکہ تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے مکلف بنائے جانے کی وجہ سے اس کائنات کا مرکزی کردار ہو۔
تم خیر کے کاموں کو انجام دینے اور شر کے کاموں سے دور رہنے پر قادر ہو... تم ایمان اور کفر میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے پر قادر ہو۔
اس تکلیفِ شرعی کا علم ہم سب کو ہے، چاہے ہم اسے مانیں یا نہ مانیں!
ملحد، مومن اور لاأدری (وہ گروہ جو کہتا ہے کہ اسے کچھ معلوم نہیں ہے) سب کو اس بات کا علم ہے کہ وہ مکلف ہے اور وہ تکلیف الٰہی کو محسوس کرتا ہے، اور وہ اخلاقی ضمیر کی چبھن سے دوچار ہے، اس کے اندرون سے مسلسل یہ آواز آتی رہتی ہے کہ: تم یہ کرو اور یہ نہ کرو...تم خیر کے کاموں کو انجام دو اور شر کے کاموں سے دور رہو، ہم میں سے ہر شخص خود کی حقیقت سے جانتا ہے کہ اسے دین کی پابندی کا حکم ہے!
ہم شرعی تکلیف کے اعتبار سے اس کائنات کا مرکز ہیں!
ہم اپنے ادراک و معرفت کے لحاظ سے بھی اس کائنات میں مرکزی اہمیت کے حامل ہیں، چنانچہ ہم اپنے وجود کی حقیقت اور اپنے اردگرد موجود کائنات کی حقیقت کا مکمل ادراک وشعور رکھتے ہیں، اور ہم اپنے وجود کے مفہوم کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
(اسی وجہ سے دین پر چلنے کا) ہمیں حکم دیا گیا ہے، (اس میں کوتاہی کرنے پر) ہمارا مواخذہ ہوگا، (دین و شریعت کو اختیار کرنے کے) ہم مکلف بنائے گئے ہیں، (اگر ہم نے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی تو )ہمارا محاسبہ ہوگا!
ہم وہ ہستی ہیں جسے یہ ادراک ہے کہ اسے اہتمام و اتقان کے ساتھ بنایا اور تیار کیا گیا ہے، ہم وہ ہستی ہیں جو تکلیف شرعی پر عمل کرنے یا اس کا انکار کرنے پر قادر ہے۔ ہمیں مکمل طور پر اختیار کی قدرت حاصل ہے، ہم قادر ہیں کہ ایمان و کفر میں سے جسے چاہیں اختیار کریں۔
لھٰذا ہم اس کائنات کے مرکز میں ہیں۔
’’بے شک ہم نے امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا، تو انھوں نے اسے اٹھانے سے انکار کردیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اسے اٹھا لیا، بلاشبہ وہ ہمیشہ سے بہت ظالم، بہت جاہل ہے۔‘‘﴿72﴾
سورہ الاحزاب
س(15)- کچھ ملحدین کہتے ہیں: کائنات میں بہت سارے سیارے موجود ہیں، لہٰذا امکانات کے نظریہ کے مطابق یہ بات فطری ہے کہ ان سیاروں کے درمیان کوئی ایسا سیارہ بھی ہوگا جو زندگی کے لیے موزوں ہوگا... کیا یہ استدلال صحیح ہے؟
ج: اتقان کی دلیل کی تنقید کے ساتھ بہت سے سیاروں کے وجود کا کیا تعلق ہے؟
یہ معاملہ خام مال کا نہیں ہے۔
میں سبزیوں، پھلوں اور جانوروں سے بھرے کسی جنگل میں ہوں، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جنگل کے بیچ میں اچانک میرے سامنے لذیذ پکے ہوئے کھانے کا برتن نمودار ہو جائے؛ لہٰذا یہ خام مال کا معاملہ نہیں ہے!
نیز دنیا کے صحراؤں میں ریت کے دستیاب ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ مجھے صحرا میں ہر جگہ میرے ارد گرد ریت سے بنے ڈیجیٹل پروسیسر اور الیکٹرانک چپس ملیں!
یہ خام مال کا معاملہ نہیں ہے، یہ کاریگری اور مہارت و پختگی کے ساتھ کسی چیز کو بنانے کا معاملہ ہے۔
بہت سارے سیاروں کا محض وجود ہی اس بات کے لیے کافی نہیں ہے کہ ان کے درمیان زمین جیسے کمالِ مہارت و پختگی کے ساتھ بنایا ہوا کوئی سیارہ نمودار ہو جائے۔
یہ اللہ تعالیٰ کی کاریگری، تخلیق اور مہارت و پختگی کے ساتھ کسی چیز کو بنانے کا معاملہ ہے۔
’’(یہ) اس اللہ کی کاری گری سے (ہے) جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا۔‘‘﴿88﴾
سورہ النمل
بہت سے دوسرے سیاروں کا وجود کسی بھی طرح اس بات کے لیے وجہ جواز نہیں ہے کہ زمینی سیارہ پر زندگی موجود ہے۔
دوسرے سیاروں کا وجود آپ کے اندر چار ارب حروف پر مشتمل ایک جینیاتی کوڈ کا جواز پیش نہیں کرتا، جو آپ کے اپنے وجود میں آنے سے پہلے آپ کے تمام افعال، اعضاء اور ہارمونز کو حیران کن طریقے سے کنٹرول کرتا ہے!
زندگی علم ہے، مادہ نہیں۔
اگر میں کسی ملحد کے ساتھ کسی سیارہ پر جاؤں اور وہاں ہمیں ایک پیچیدہ آلہ ہاتھ لگ جائے جو حیران کن درستگی کے ساتھ کام کرتا ہو، ااور یہاں تک کہ اگر ہم ابھی تک اس کے کام کو نہ سمجھ سکے ہوں،تو کیا اس ڈیوائس کے بنانے والے کا محض اس سیارہ کی جسامت کی وجہ سے انکار کیا جا سکتا ہے جس پر ہم موجود ہیں؟
جب ہم اس آلے کو دیکھتے ہیں تو عقلی بداہت مجھے اور ملحد کو طاقتور خالق کے اعتراف پر مجبور کرتی ہے۔
اور جو اس عقلی بداہت کا انکار کرتا ہے، جو خالق کا انکار کرتا ہے، اسی سے دلیل کا مطالبہ کیا جائے گا، ثابت کرنے والے سے نھیں!
اس دیدہ زیب اور خوبصورت کائنات میں ملحد ہی سے دلیل کا مطالبہ کیا جائے گا، مومن سے نھیں!
ایک مرتبہ اگنوسٹک ملحد کارل ساگان نے "Contact" کے نام سے ایک ناول لکھا، جس میں وہ بتاتا ہے کہ سائنس دان کس طرح ماورائے زمین کی ذہانت کی تلاش میں ہیں۔
اس افسانوی ناول میں سائنسدانوں نے بیرونی خلا سے آنے والے بنیادی نمبروں کی ایک طویل سیریز دریافت کی۔ چونکہ نمبروں کی یہ ابتدائی ترتیب ایک مخصوص ریاضیاتی قدر کو اجاگر کر رہی تھی، ایک ایسی قدر جو ایک قسم کے کنٹرول کی نشاندہی کرتی ہے، لہٰذا یہ ان کے لیے کافی عقلی ثبوت تھا کہ یہ پیغام کسی دوسری تہذیب سے آ رہا ہے جو ہم سے بات چیت کرنے کی کوشش کر رہی ہے!
دلچسپ بات یہ ہے کہ کارل ساگان ایک مشہور اگنوسٹک ملحد ہے، لیکن اس کی عقل یہ تسلیم کر تی ہے کہ ایک چھوٹے سے پیغام میں موجود پیچیدگی اور ترتیب ایجاد و اتقان کی دلیل کا ثبوت ہے!
بنیادی نمبروں کا محض ایک سلسلہ ایک عظیم الشان تہذیب کے وجود کو قطعیت کے ساتھ ثابت کر رہا ہے؛ تو پھر چار ارب حروف جو انسانی خلیے کے اندر موجود ہیں، اور اگر ان میں سے ایک حرف بھی ادھر ادھر ہو جائے تو کوئی تباہی واقع ہو سکتی ہے، اس تمام مہارت و پختگی کو غیر منطقی ملحدانہ بہلاوے کی نذر کیسے کیا جا سکتا ہے؟
یہ ذرا بھی عقل و دانش کی بات نہیں ہے کہ دھوکے اور بہلاوے کا سہارا لیا جائے تاکہ اس کائنات کے وجود کی وہ تفسیر انسانوں کے سامنے نہ آسکے جو اس کے خالق کے وجود پر دلالت کرتی ہے۔
"آپ کہہ دیجئے کہ تم غور کرو کہ کیا کیا چیزیں آسمانوں میں اور زمین میں ہیں اور جو لوگ ایمان نہیں ﻻتے ان کو نشانیاں اور دھمکیاں کچھ فائده نہیں پہنچاتیں۔"﴿101﴾
سورہ یونس
س(16)- ایک سے زیادہ ابدی خالق کیوں نہیں ہو سکتا؟
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اگر ان دونوں (آسمان وزمین) میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہوتے تو وہ دونوں ضرور بگڑ جاتے۔‘‘ [22]
سورہ الانبیاء
اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کے وجود کا مطلب ہے تعدد إلٰہ اور تعدد إلٰہ محتاجی کو مستلزم ہے۔
(اگر ایک سے زیادہ معبود ہوں گے تو ہر معبود ایک حد تک محتاجی کا شکار ہوگا) اور خالق کی محتاجی کی وجہ سے کائنات کا عدم تحفظ لازم آتا ہے، اوراس عدم تحفظ کی وجہ سے کائنات تہس نہس بھی ہو سکتی ہے... یہ کائنات کی خرابی کا باعث ہے۔
اگر معبود محتاج ہو تو کائنات کی بقا کی کوئی ضمانت نہیں ہے!
’’اگر ان دونوں میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہوتے تو وہ دونوں ضرور بگڑ جاتے۔ سو پاک ہے اللہ جو عرش کا رب ہے، ان چیزوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔‘‘﴿22﴾
سورہ الانبیاء
باری تعالیٰ ضرورتمندی اور محتاجی سے پاک ہے، اس کی ذات غنی اور قیوم ہے۔
مزید یہ کہ اگر زمین و آسمان میں دو یا دو سے زیادہ معبود ہوتے تو عقلی اعتبار سے دونوں کے درمیان موافقت و ہم آہنگی کے بجائے تعارض و ٹکراؤ کا زیادہ امکان ہوتا، اس لیے کہ ایک سے زیادہ معبود کا مطلب ہے ایک سے زیادہ مشیئت و ارادہ اور متعدد ارادے کا مطلب ہے ہر معبود کی محتاجی، اس سے آسمانوں اور زمین کا فساد و بگاڑ لازم آتا ہے۔
انسانی فطرت کا یہ قطعی فیصلہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے۔ اگر علم طبیعات کا کوئی ماہر یا ایک عام انسان اس کائنات میں غور و فکر کرے گا تو وہ اس کے لیے صرف ایک خالق کا تصور کرے گا، (اسے ہر جگہ ایک خالق کی جلوہ گری نظر آئے گی،) یہی فطرت انسانی ہے۔
س(17)- دین کیوں ضروری ہے؟
ج: سخت ترین ملحد بھی یہ مانتا ہے کہ سچ جھوٹ سے بہتر ہے، کیا ایسا نہیں ہے؟
سخت ترین ملحد بھی یہ مانتا ہے کہ امانتداری خیانت سے بہتر ہے، کیا ایسا نہیں ہے؟
یہ صدق و کذب اور امانت و خیانت ہماری اس دنیا کی اصطلاحات نہیں ہیں اور ہماری اس مادی دنیا میں ان کے معانی اور مقتضیات کاجواز پیش کرنے والی کوئی چیز نہیں ہے۔
تو پھر صدق کا کیا معنی ہے؟
امانت کسے کہتے ہیں؟
اگر ہم ایٹم کی گہرائیوں کا تجزیہ کریں تو کیا ہم وہاں صدق یا کذب کا مفہوم تلاش کر پائیں گے؟
اگر ہم کہکشاؤں کی طبیعیات یا ہارمونز کی کیمسٹری کا مشاہدہ کریں تو کیا ہمیں وہاں امانت یا خیانت کا معنی و مفہوم ملے گا؟
یہ (صدق و کذب اور امانت و خیانت) اس مادی دنیا کی اصطلاحات نہیں ہیں۔
لیکن یہ حقیقت پر مبنی اصطلاحات ہیں۔
بلکہ یہ عظیم ترین چیزوں میں سے ہیں۔
انسان کی قدر و قیمت اس کے اخلاق پر مبنی ہے، نہ کہ اس کے جسمانی سائز، یا اس کے ایٹموں کی تعداد یا اس کے خلیوں کی طاقت کی سطح پر۔
انسان کی قدر و قیمت اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ذمہ داری کو ادا کرنے میں ہے۔
اس قدر و قیمت میں انسان کے ساتھ اس مادی دنیا کی کوئی چیز شریک نہیں ہے۔
دنیا میں کوئی اچھا آدمی ہے اور کوئی برا آدمی۔
لیکن کوئی نیک پہاڑ اور کوئی برا پہاڑ نہیں ہے۔
ہمیں کوئی امانتدار سیارہ یا غدار سیارہ نظر نہیں آتا۔
صرف انسان ہی ہے جس کا تعلق قدر و قیمت، مقصد اور وجود سے ہے۔
صرف انسان اور جن کو اس بات کا ادراک ہے کہ وہ مکلف ہیں۔
اخلاق کے معنی کو محسوس کرنا ہم میں سے ہر ایک کے اندر الٰہی تکلیف کی فطرت کا صرف ایک حصہ ہے۔
انسان کو سمجھنے کے لیے دین ضروری ہے۔
وہ صرف دین ہے جو اخلاق کے معنی کا جواز پیش کرتا ہے، اور یہ کیوں موجود ہے، اور ہمیں اس پر عمل کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے۔
واحد چیز جو اخلاق کو اس کا رنگ دیتی ہے وہ دین ہے۔
لھٰذا اخلاق کو صرف تکلیف الٰہی کے دائرہ میں سمجھا جا سکتا ہے۔
اخلاق انسانی فطرت کا حصہ کیوں ہے، اسے صرف دین کے ذریعہ جاننا ممکن ہے۔
دین ہی کے ذریعہ ہم یہ جانتے ہیں کہ ہمارا مقصد وجود کیا ہے؟ اور اسی کے ذریعہ ہمیں یہ علم ہوتا ہے کہ ہم جن اخلاق پر عمل کرنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں، خواہ ہم ان پر عمل نہ کریں، وہ تکلیف الٰہی کا حصہ ہیں۔
لہٰذا دین انسانی ضرورت ہے۔
دین کے ذریعے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہم یہاں کیوں ہیں؟
اور موت کے بعد کیا ہوگا؟
اور ہمیں اپنے وجود کا مطلب سمجھ میں آتا ہے
اور ہم جانتے ہیں کہ اس وجود میں ہم سے کیا مطلوب ہے؟
لہٰذا انسان کی سب سے اہم فکر کو جاننے کے لیے دین ضروری ہے۔
لہٰذا دین کے بغیر یہ دنیا مکمل اندھے پن اور مکمل معدومیت کا نمونہ ہوگی۔
ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: دنیا و آخرت میں سعادت و کامرانی کی راہ کی نشاندہی صرف رسولوں کے ذریعہ ہی ممکن ہے، تفصیلی طور پر اس بات کا علم کہ کون سی چیز اچھی اور پاکیزہ اور کون سی چیز بری اور خبیث ہے صرف رسولوں کے واسطے سے ہی ممکن ہے۔ اور یقینی طور پر اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی صرف رسولوں کے ذریعے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔[6]
[6] زاد المعاد 1 ص68
پوری دنیا تاریک اور لعنت زدہ ہے سوائے اس کے جس پر دین کا سورج اور رسالت کا سورج طلوع ہوا ہو، جیسا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔[7]
[7] مجموع الفتاوی:19/93،94.
دین کے بغیر زندگی کا مقصد، خیر کا مطلب اور اس کی قدر و قیمت سمجھ میں نہیں آسکتی ہے۔
رسولوں کی رسالتوں کے بغیر یہ دنیا خوفناک حد تک ناکارہ اور بےمقصد نظر آئے گی۔
جب دین نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا ہے اور انسان نبوتوں کا منکر ہو جاتا ہے، اس وقت انسان بقول کارل ساگان اس ارضی سیارہ کا کچڑا بن کر رہ جاتا ہے اور بقول سارتر اس وقت انسان کیڑے مکوڑے کی طرح بےقیمت ہو جاتا ہے۔[8]
[8] ویڈیو ماخذ: The Shores of the Cosmic Ocean (قسط 1) ہمارے وجود کا کچھ حصہ جانتا ہے کہ ہم یہیں سے آئے ہیں، ہم واپسی کے خواہش مند ہیں اور ہم ایسا کر سکتے ہیں، کیونکہ کائنات بھی ہمارے اندر ہے، ہم ستاروں کے سامان سے بنے ہیں، ہم کائنات کے لئے خود کو جاننے کا ایک طریقہ ہیں۔ (یہ ویڈیو چھ منٹ چار سکنڈ کی ہے)۔ انسان کے کیڑے مکوڑے ہونے کا ذکر سارتر نے اپنی ناول متلی (Nausea) میں کیا ہے۔
مشہور ماہر علم طبیعیات اسٹیفن ہاکنگ کے بقول انسان کیمیائی تل چھٹ ہو جاتا ہے یا زیادہ واضح الفاظ میں کیمیائی میل کچیل (Chemical Scum) ہو جاتاہے۔[9]
[9] : Reality on the Rocks کے عنوان سے Ken Campbell کے انٹرویو سے ماخوذ، بحوالہ Beyond our ken, 1995
نبوت وجود انسانی کی اولین دھڑکن ہے، نبوت کے بغیر بے حد حیرت انگیز ایجادات اور انتہائی خوشگوار خواہشات دہشت میں بدل جاتی ہیں!
دین کے بغیر پوری دنیا اپنی تمام تر خوبصورتی کے ساتھ ڈراؤنے ہیولے میں تبدیل ہو کر رہ جائے گی۔
اگر آپ کسی ملحد سے وجود انسانی سے متعلق کوئی سوال کریں، مثلاً: ہم یہاں اس دنیا میں کیوں ہیں یا مرنے کے بعد کیا ہوگا؟
تو آپ کے سوال کو یا تو مغالطہ آمیز استدلال کے ذریعہ غلط رخ پر ڈال دے گا یا پھر بالکل خاموشی اختیار کرے گا۔
لھٰذا انسان کو سمجھنے اور اخلاقی اقدار کی ضرورت کو سمجھنے کے لیے دین ایک فطری تقاضا ہے۔ نیز وجود کے معنی اور وجود کے مقصد کو جاننے اور اللہ کی بندگی کے حصول کے لیے - وہ بندگی جس سے نجات حاصل ہو - دین از حد ضروری ہے۔
س(18)- اس بات کو ماننے میں کیا رکاوٹ ہے کہ یہ اخلاق انسانی دماغ یا معاشرے کی پیداوار ہیں؟
ج: انسانی دماغ بالکل ان ہی مادی اجزاء سے تشکیل پاتا ہے جو اس مادی دنیا میں موجود ہیں۔
دماغ چاہے جس قدر پیچیدہ ہو یا مادی ترکیبات کتنی ہی پیچیدہ کیوں نہ ہوں، صفر کا مجموعہ صفر ہی پیدا کرے گا۔
جب مادہ اچھائی یا برائی کو پہچاننے کی صلاحیت نہیں رکھتا، تو وہی حال دماغ کا بھی ہے!
ہاں ہم ملحد سے پوچھتے ہیں: اگر پوری مادی دنیا اخلاقی طور پر غیر جانبدار تھی اور نہ اچھائی اور برائی کو جانتی تھی، تو اچھائی اور برائی کا تصور کیسے پیدا ہوا؟
اور دوسرا سوال: دماغ کو زمین کے تمام انسانوں کو فنا کرنے سے کیا چیز روکتی ہے؟
نچلے درجے کی انسانی نسلوں کو جانوروں کے پنجڑے میں بند کر دینے میں دماغی رکاوٹ کیا ہے؟
دماغ کو بیماروں، معذوروں، کمزوروں اور کمتر نسلوں کو ختم کرنے سے کیا چیز روکتی ہے، جیسا کہ نازیوں کے قدرتی انتخاب کے منصوبے - ایکشن T4 پروجیکٹ - میں ہوا؟ [10]
[10] https://en.wikipedia.org/wiki/Aktion_T4
مادی دماغ ان سوالوں کا جواب صحیح یا غلط کی شکل میں دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے (یعنی سوالوں کو صحیح یا غلط قرار دینے کی اسے قدرت نہیں ہے)۔
اخلاقی اعتبار سے دماغ مکمل طور پر غیرجانبدار ہے، کیوں کہ وہ ان ہی ایٹموں سے بنا ہےجن سے زمین بنی ہے۔
لہٰذا دماغ اور اخلاق کا آپس میں قریب کا یا دور کا کوئی رشتہ نہیں ہے۔
جہاں تک اس خیال کا تعلق ہے کہ معاشرہ کے ذریعے اخلاق کا وجود ہوا، تو یہ ایک عجیب و غریب خیال ہے، کیوں کہ اخلاق کا تعلق انسان سے ہے، نہ کہ معاشرہ سے۔
نیز یہ بات بھی ہے کہ معاشرہ مادے کے ان ہی اجزاء میں سے ایک ہے، اس لیے صفر کا مجموعہ ایک بار پھر صفر ہی پیدا کرے گا، تو پھر معاشرہ نے اخلاق کو کیسے پیدا کیا، جن کا مادی دنیا سے سرے سے تعلق ہی نہیں؟
اگر اس بات کو صحیح مان لیا جائے اور ہم یہ تسلیم کر لیں کہ اخلاق معاشرے کی پیداوار ہے،تو یہاں نازی دوسروں کو ختم کرنے میں حق بجانب ہوگا کیونکہ معاشرہ اسے درست سمجھتا تھا۔
جب دنیا نے نازی کے خلاف مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا تو یہ فیصلہ اس حقیقت پر مبنی تھا کہ اخلاق مطلق ہیں نہ کہ معاشرے کی پیداوار۔ بصورت دیگر، وہ نازی کے خلاف مقدمہ چلانے کے قابل نہ ہوتے اور انہیں یہ احساس نہ ہوتا کہ نازی شروع سے غلطی پر تھا۔
لہٰذا اخلاق معاشرے سے الگ ایک مستقل چیز ہے۔ اس لیے جو چیز صحیح ہے، وہ اچھے اور برے دونوں طرح کے معاشرے کی نگاہ میں صحیح ہے۔
اور جو چیز غلط ہے وہ نیک و بد دونوں طرح کے معاشرے کی نظر میں غلط ہے۔
اخلاق کا ایک مفہوم ہے جو دماغ اور معاشرے سے بالاتر ہے۔
س(19)- روئے زمین کی تہذیبوں میں ایک سے زیادہ معبود پائے جاتے ہیں، پھر متعین طور پر اللہ ہی پر ایمان کیوں ضروری ہے؟
ج: روئے زمین کے تمام ادیان میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں پایا جاتا ہے۔
دیگر ادیان کے ساتھ ہمارا اختلاف یہ ہے کہ ان کے ماننے والوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کچھ چھوٹے معبود بنا لیے ہیں، مثلاً عیسائیت میں یسوع اور روح القدس اور ہندومت میں وشنو، شیو اور برہما... وغیرہ۔
تمام مذاہب ایک اور واحد اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کے نزدیک وہی اللہ تعالیٰ موجودات کا خالق ہے۔
لیکن وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبود بناتے ہیں۔
بلکہ مشرکین جن بتوں کو پوجتے تھے انہیں وہ اصل معبود نہیں سمجھتے تھے، وہ مشرکین بھی یہ تسلیم کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا خالق ہے، وہ لوگ اپنے بتوں کو اپنے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان واسطہ بناتے تھے۔
’’اور یقیناً اگر تو ان سے پوچھے کہ کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور سورج اور چاند کو مسخر کیا تو ضرور ہی کہیں گے کہ اللہ نے، پھر کہاں بہکائے جارہے ہیں۔‘‘﴿61﴾
سورہ العنکبوت
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”بتوں کے پجاریوں کے بارے میں جس نے یہ خیال کیا کہ یہ بت پرست ان بتوں کے تعلق سے یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ دنیا کے خالق ہیں، یا یہ کہ وہ بارش برساتے ہیں، یا یہ کہ وہ پودے اگاتے ہیں، یا یہ کہ وہ جانور پیدا کرتے ہیں وغیرہ، تو وہ حقیقت سے ناواقف ہے، بلکہ بت پرستوں کا اپنے بتوں سے اسی طرح کا مقصد تھا جیسا کہ مشرکین کا مقصد قبروں سے ہوتا ہے۔‘‘[11]
[11] مجموع الفتاویٰ 1/359
ول ڈیورانٹ کا کہنا ہے کہ بت پرست ہندو مت کی اصل اخیر میں ایک اللہ پر ایمان کی طرف لوٹتی ہے۔ وہ ہندؤں کے معبودوں کے بارے میں کہتا ہے: ”ہندؤں کے یہ ہزاروں معبودان ویسے ہی ہیں جیسے عیسائی گرجا گھر ہزاروں مقدسین کی تقدیس کے قائل ہیں، کسی ہندو کے ذہن میں ایک لمحہ کے لیے بھی یہ بات نہیں آتی ہے کہ ان بے شمار دیوتاؤں کو حاکمیت اعلیٰ حاصل ہے“۔[12]
[12] قصۃ الحضارۃ 3/209، مؤلفہ: ول ڈیورانٹ
ہندوستان پر برطانوی قبضے کے دوران ہندوستان میں برطانوی حکومت کو پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ: ’’تحقیق سے کمیٹی نے جو عمومی نتیجہ اخذ کیا ہے وہ یہ ہے کہ ہندوستانیوں کی بھاری اکثریت ایک خدائے بزرگ و برتر پر پختہ یقین رکھتی ہے۔“[13]
[13] مرجع سابق۔
لہٰذا روئے زمین کے تمام مذاہب میں اللہ ایک ہے۔
’’اور ہمارا معبود اور تمھارا معبود ایک ہے۔‘‘﴿46﴾
سورہ العنکبوت
سارے بت اور خود ساختہ معبود اللہ تعالیٰ تک رسائی کے لئے کفریہ واسطے ہیں۔
’’اور وہ لوگ جنھوں نے اس کے سوا اور حمایتی بنارکھے ہیں (وہ کہتے ہیں) ہم ان کی عبادت نہیں کرتے مگر اس لیے کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں۔‘‘۔﴿3﴾
سورہ الزمر
س(20)- اگرانسان کوئی ایسا کام کرے جس کی اسے ضرورت نہ ہو، تو یہ لغو ہے! اور اللہ تعالیٰ کو ہماری ضرورت نہیں ہے تو پھر اس نے ہمیں کیوں پیدا کیا؟
ج: یہ نظریہ کہ ضرورت کے بالمقابل بےکار و عبث یے، ایک گھٹیا نظریہ ہے!
درحقیقت ضرورت کے بالمقابل حکمت ہے، نہ کہ بےکار و عبث۔
ایک اچھی شہرت رکھنے والا دولتمند ڈاکٹر کبھی لوگوں کا علاج کرتا ہے جب کہ اسے ان سے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ وہ ان کا علاج خود ان کے فائدہ کے لیے کرتا ہے۔ اور یہاں ہم اس کے اس عمل کو لغو نہیں کہتے!
کسی عمل کے پیچھے کار فرما حکمت اور عظیم مقصد ضرورت / عبث و لغو کے گرد نہیں گھومتا!
کبھی کوئی تیراک کسی بچہ پر ترس کھا کر اسے ڈوبنے سے بچا لیتا ہے، پھر وہ اس بچہ کو چھوڑ دیتا ہے اور بچے کے والدین کی تعریف کا انتظار کیے بغیر چلا جاتا ہے۔ یہاں تیراک کے عمل کو ضرورت یا عبث کے خانے میں نہیں رکھا جا سکتا ہے، بلکہ اسے ایک شریفانہ عمل، نیک مقصد اور اچھے کردار کے زمرے میں رکھا جائے گا!
لہٰذا ضرورت اور عبث کے درمیان کوئی تلازم نہیں ہے![14]
[14] ڈاکٹر سلیمان عمیری کا ڈاکٹریٹ کا مقالہ: ”ظاھرۃ نقد الدین في الفلسفۃ الحدیثۃ“
صحیح مسلم میں منقول حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، آدمی اور جنات سب ایسے ہو جائیں جیسے تمہارا سب سے بڑا پرہیزگار شخص، تو میری سلطنت میں کچھ افزائش نہ ہو گی اور اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، آدمی اور جنات سب ایسے ہو جائیں جیسے تمہارا سب سے بڑا بدکار شخص، تو میری سلطنت میں سے کچھ کم نہ ہو گا۔ اے میرے بندو! یہ تو تمہارے ہی اعمال ہیں جن کو تمہارے لیے شمار کرتارہتا ہو ں، پھر تم کو ان اعمال کا پورا بدلہ دوں گا، سو جو شخص بہتر بدلہ پائے تو چاہیے کہ اللہ کا شکر کرے اور جو اس کے علاوہ کچھ اور پائے وہ صرف اپنے آپ کو ملامت کرے۔"[15]
[15] صحيح مسلم، حدیث نمبر:2577۔
اللہ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔
ہماری ساری کوششیں، تگ و دو اور سرگرمیاں صرف ہماری اپنی ذات کے لیے ہیں۔
"اور جو شخص کوشش کرتا ہے تو وہ اپنے ہی لیے کوشش کرتا ہے، یقیناً اللہ تو سارے جہانوں سے بہت بے پروا ہے۔"﴿6﴾
سورہ العنکبوت
ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوقات میں حکمت رکھتا ہے، خواہ ہم اس سے ناواقف ہوں، اور مریض کی ڈاکٹر کی حکمت سے ناواقفیت کا مطلب یہ نہیں کہ ڈاکٹر کے فیصلے لغو و عبث ہیں۔
حکمت الٰہی کے علم کے لیے حکمت کی تمام جہتوں کو سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ ان میں سے کچھ کو سمجھنا کافی ہے!
ہمارے لیے یہ جان لینا کافی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے مکلف کئے گئے ہیں، اور ہم یہ جان لیں کہ ہر چیز میں حکمت الٰہی موجود ہے۔ عمومی اور اجمالی طور پر ہمارے لیے اتنا جان لینا کافی ہے، ورنہ ہم اس شخص کی طرح ہو جائیں گے جو ہر اس چیز کا انکار کرتا ہے جو اس کی سمجھ میں نہیں آتی۔ (بلکہ انہوں نے اس چیز کو جھٹلا دیا جس کے علم کا انہوں نے احاطہ نہیں کیا، حالانکہ اس کی اصل حقیقت ابھی ان کے پاس نہیں آئی تھی۔) ﴿39﴾ سورہ يونس.
اللہ تعالیٰ حکیم ہے اور اس نے ہمیں حکمت کے تحت پیدا کیا ہے۔
صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کے لائق ہے۔
اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی بھی عبادت کا مستحق نہیں ہے، کیونکہ وہی خالق ہے جس نے ہمیں عدم سے وجود میں لایا،ارشاد الٰہی ہے:
’’اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمھیں پیدا کیا اور ان لوگوں کو بھی جو تم سے پہلے تھے، تاکہ تم بچ جاؤ۔‘‘﴿21﴾
سورہ البقرة
اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت کے راستہ پر گامزن کیا ہے، (زندگی کا) آئین (شریعت) اسی کا عطا کردہ ہے، (خیر و شر پر مشتمل) تقدیر اسی کی ہے، حکم دینے اور روکنے کا اختیار صرف اسی کے پاس ہے۔
’’سن لو! پیدا کرنا اور حکم دینا اسی کا کام ہے۔‘‘﴿54﴾
سورہ الاعراف
اللہ تعالیٰ صرف خالق ہی نہیں ہے، بلکہ وہ حاکم بھی ہے اور ہم اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔
عبادت بندوں پر اللہ تعالیٰ کا حق ہے، کیونکہ اسی نے ہمیں پیدا کیا، ہمیں زندگی بخشی، ہمیں رزق دیا، ہماری رہنمائی کی اور ہمارے پاس اپنے رسول بھیجےتاکہ وہ ہمیں آزمائے اور ہمارا امتحان لے کہ ہم میں سب سے اچھا عمل کرنے والا کون ہے۔ لہٰذا عبادت ہم پر اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔
’’وہ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا، تاکہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے اور وہی سب پر غالب، بے حد بخشنے والا ہے۔‘‘ (2)
سورہ الملک
ہماری دنیا اور آخرت کی زندگی صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت ہی سے درست رہ سکتی ہے اور ہمارے اخلاق صرف اسی سے سنور سکتے ہیں۔ کیوں کہ عبادت بے حیائی اور برائیوں سے روکتی ہے اور اس کے ذریعے لوگوں کی دنیا کی اصلاح ہوتی ہے۔ ہمارے رب کا ارشاد ہے:
’’اور نماز قائم کر، بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔‘‘﴿45﴾
سورہ العنکبوت
ہم عبادت کے ذریعہ ہی جنت پانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا یہ آخرت میں نجات کا ذریعہ اور دنیا میں اچھی زندگی گزارنے کا وسیلہ ہے۔
عبادت ہمارے لیے اور ہماری اپنی بھلائی کے لیے ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے تئیں ہم پر واجب ہے، کیوں کہ وہ ہمارا خالق ہے۔ اس کا فائدہ ہمیں ہی پہنچتا ہے اور اس میں کوتاہی کا نقصان صرف ہمیں پہنچتا ہے۔
جنت بہت قیمتی ہے، اس لیے جو جنت کا خواہشمند ہوتا ہے وہ اس کے حصول کے لیے عمل کرتا ہے، ہم اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں... ہمیں اس کی عبادت کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ وہ ہم سے اور اپنی تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے۔
س(21)- ہم اللہ تعالیٰ کو کیسے جانتے ہیں؟
ج: ہم اللہ کو بہت سے طریقوں سے جانتے ہیں، جن میں سے ہم یہاں صرف چار کا ذکر کریں گے:
پہلا طریقہ: ہم اللہ کو صحیح فطرت کے ذریعے جانتے ہیں۔
انسان اپنی فطرت (سلیمہ) سےجانتا ہے کہ اس کا ایک خالق ہے۔ آپ اپنی فطرت سلیم کے ذریعے جانتے ہیں کہ آپ کا ایک خالق ہے جس نے آپ کو اس شکل و ہیئت، ان اعضائے جسمانی، اس خلقت اور اس حیرت انگیز کاریگری و مہارت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔
نیز انسان اپنی فطرت سے جانتا ہے کہ اسے عبادت کے ذریعے اپنے خالق کی طرف رجوع کرنا ہے، اور وہ اپنی فطرت سے یہ بھی جانتا ہے کہ اسے ہر وقت اپنے خالق کی ضرورت ہے اور اللہ کی ضرورت کا یہ احساس مصیبتوں میں بڑھ جاتا ہے۔
اللہ کو جاننے کی فطرت تمام انسانوں میں فطری طور پر موجود ہے۔ یہ وہ فطرت ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’پس تو ایک طرف کا ہو کر اپنا چہرہ دین کے لیے سیدھا رکھ، اللہ کی اس فطرت کے مطابق، جس پر اس نے سب لوگوں کو پیدا کیا، اللہ کی پیدائش کو کسی طرح بدلنا ( جائز) نہیں، یہی سیدھا دین ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘۔[30]
سورہ الروم
اللہ نے فرمایا:
’’اور جب تیرے رب نے آدم کے بیٹوں سے ان کی پشتوں میں سے ان کی اولاد کو نکالا اور انھیں خود ان کی جانوں پر گواہ بنایا، کیا میں واقعی تمھارا رب نہیں ہوں؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، ہم نے شہادت دی۔ (ایسا نہ ہو) کہ تم قیامت کے دن کہو بے شک ہم اس سے غافل تھے۔‘‘﴿172﴾
سورہ الاعراف
چنانچہ ہماری تخلیق سے پہلے، ہماری فطرت ایسی بنائی گئی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کو پہچانیں اور اس کی عبادت کریں۔ (اسی کی وضاحت آیت کے اس ٹکرے میں کی گئی ہے:)
’’اور انھیں خود ان کی جانوں پر گواہ بنایا، کیا میں واقعی تمھارا رب نہیں ہوں؟ انھوں نے کہا کیوں نہیں، ہم نے شہادت دی۔‘‘
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں فرمایا جس کی صحت پر اتفاق ہے:
’’ہر ایک بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔‘‘[16]
[16] صحيح مسلم، حدیث نمبر: 2658۔
ہم سب اسی فطرت پر پیدا ہوئے ہیں، اور یہ فطرت ہر اس شخص کے لیے جو حق کا متلاشی ہے اس بات کے لیے کافی ہےکہ وہ اس کے ذریعے حق کا پتا لگائے اور جب اس کے لیے یہ حق واضح ہو جائے تو اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔
اس فطرت کا انکار کفر کے لحاظ سے سخت ترین شخص بھی نہیں کر سکتا، خاص طور پر مشکل اوقات میں۔ کیوں کہ تمام لوگ مشکلات میں اللہ کا سہارا لیتے ہیں اور ان سب چیزوں کو بھول جاتے ہیں جن کو وہ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں۔
’’اور جب تمھیں سمندر میں تکلیف پہنچتی ہے تو اس کے سوا تم جنھیں پکارتے ہو گم ہوجاتے ہیں، پھر جب وہ تمھیں بچا کر خشکی کی طرف لے آتا ہے، تو تم منہ پھیر لیتے ہو اور انسان ہمیشہ سے بہت ناشکرا ہے۔‘‘﴿67﴾
سورہ الإسراء.
انسان جب سخت تکلیف میں ہوتا ہے اور اسے ہلاکت کا احساس ہونے لگتا ہے، تو اس وقت وہ صرف اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے، اور اپنی تمام شرکیات کو بھول جاتا ہے۔ مصیبت کے وقت اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنے کا محرک وہ فطرت سلیمہ ہے جو ہر انسان کے اندر موجود ہوتی ہے۔
امریکہ کا ایک صدر - آئزن ہاور - جو دوسری جنگ عظیم میں امریکی افواج کا کمانڈر تھا، یہ مشاہدہ کرنے کے بعد کہ کس طرح انتہائی خطرے کے وقت افواج فطرت کی طرف لوٹتی ہیں، کہتا ہے: ’’خندقوں میں کوئی ملحد نہیں ہے۔‘‘[17]
[17] https://en.wikipedia.org/wiki/There_are_no_atheists_in_foxholes
جنگ کے دوران خندق میں اللہ کا انکار کرنے والا کوئی نہیں ہوتا، سب اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں۔ یہی اس فطرت کی سچائی ہے جسے تمام بنی نوع انسان مصیبت کے وقت تسلیم کرتے ہیں۔
اللہ کو جاننے کا دوسرا طریقہ عقل ہے: ہم اللہ کو عقل سے جانتے ہیں۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے:
’’یا وہ کسی چیز کے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں، یا وہ (خود) پیدا کرنے والے ہیں؟‘‘ (35)
سورہ الطور
اگر مذکورہ بالا قرآنی آیت کے بارے میں عقلی طور پر غور و فکر کیا جائے تو تین امکانات سامنے آتے ہیں، اس کے علاوہ چوتھے امکان کی کوئی گنجائش نہیں ہے:
پہلا امکان: ہم بغیر کسی خالق کے پیدا ہوگئے ہیں (أم خُلقوا من غیر شیءٍ) ’’یا وہ کسی چیز کے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں؟‘‘ یہ ناممکن ہے، کیونکہ ہم خالق کے بغیر کیسے پیدا ہوسکتے ہیں؟
دوسرا امکان: ہم نے اپنے آپ کو خود پیدا کرلیا ہے (أم ھم الخالقون) ’’یا وہ (خود) پیدا کرنے والے ہیں؟" اور یہ بھی ناممکن ہے، کیونکہ میں پیدا ہونے سے پہلے خود کو کیسے پیدا کر سکتا ہوں؟
لہٰذا عقلی طور پر صرف تیسرا امکان باقی رہتا ہے، جو کہ وہ ہے جس کے بارے میں مذکورہ بالا آیت خاموش ہے، کیونکہ وہ بالکل ظاہر (اور بدیہی امر) ہے اور وہ یہ کہ ہمارا ایک خالق ہے جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔
لہٰذا ہم اللہ تعالیٰ کو عقل کے ذریعے جانتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کو جاننے کا تیسرا طریقہ: اللہ کی مخلوقات میں غور و فکر ہے۔
جب ہم اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور و فکر کرتے ہیں تو اللہ عز و جل کی عظمت واضح ہو کر ہمارے سامنے آتی ہے
’’آپ کہہ دیجئے کہ تم غور کرو کہ کیا کیا چیزیں آسمانوں میں اور زمین میں ہیں۔‘‘ (101)
سورہ یونس
جتنا زیادہ ہم اللہ کی تخلیق کی باریکیوں اور حیرت انگیز کمالات پر غور کرتے ہیں، اتنا ہی اس کے بارے میں ہمارے علم و معرفت میں اضافہ ہوتا ہے۔
یہ وہی ہے جس کا ہم نے ایجاد کی دلیل اور اہتمام و اتقان کی دلیل کے تحت پہلے تذکرہ کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کو جاننے کا چوتھا طریقہ رسولوں کے ذریعے ہے:
یہ اللہ تعالیٰ کو جاننے کا سب سے بڑا طریقہ ہے، یعنی ہم اللہ کو اس کے رسولوں اور نبیوں کے ذریعے جانیں۔ کیونکہ رسولوں نے اللہ کے بارے میں بتایا اور اس کی صفات کے بارے میں بتایا اور اس کی ذات کے بارے میں بتایا۔ انبیاء کے ذریعے ہم نے اللہ کو اس کے ناموں اور صفات سے پہچانا، اور ہم نے یہ جانا کہ اللہ کی عبادت کیسے کرنی ہے اور اس کا قرب کیسے حاصل کرنا ہے، اور ہم نے یہ جانا کہ حساب (قیامت) کے دن اللہ کے عذاب سے کیسے بچنا ہے۔ رسولوں نے لوگوں کو اللہ کی عبادت کی طرف بلایا، دوسرے الفاظ میں: رسولوں نے لوگوں کو ان کی اس فطرت سلیمہ کی طرف لوٹنے کی دعوت دی جس پر ان کی تخلیق ہوئی اور یہ کہ وہ اللہ کے حکم کے مطابق اس کی عبادت کریں۔
رسولوں نے لوگوں کی راہ حق اور نجات کی طرف رہنمائی کی۔
’’ایسے رسول جو خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے تھے، تاکہ لوگوں کے پاس رسولوں کے بعد اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت نہ رہ جائے اور اللہ ہمیشہ سے سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔‘‘﴿165﴾
سورہ النساء
ان انبیاء اور رسولوں کے اللہ تعالیٰ کے بارے میں خبر دینے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے معجزات کے ذریعہ ان کی تائید کر نے کے بعد کسی کے لیے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پر حجت باقی نہیں رہے گی۔
اللہ عز و جل نے آپ کو وہ فطرت عطا کی ہے جس کے ذریعہ آپ اپنے خالق کو پہچان سکتے ہیں، اس نے آپ کو عقل دی ہے اور مخلوقات کے اندر غور و فکر کرنے کی صلاحیت سے نوازا ہے، اس نے آپ کی رہنمائی کے لیے رسولوں کو مبعوث کیا، اس کے بعد آپ کے لیے اللہ تعالیٰ کے پاس کوئی حجت باقی نہیں رہی۔
س(22)- دنیا میں بہت سے مذاہب ہیں تو پھر اسلام ہی کیوں؟
ج: اسلام دیگر ادیان کے درمیان صرف ایک دین نہیں ہے۔
اسلام اپنے عقیدہ میں عہد قدیم کے تمام انبیاء کے عقیدہ کی موافقت کرتا ہے۔
اسلام راہ حق سے منحرف ہو جانے والے مذاہب کے راستے کی اصلاح ہے کرتا ہے اور عہد قدیم کے انبیاء کے توحیدی عقیدے کی بحالی ہے۔
ارشاد ربانی ہے:
’’اس نے تمھارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا جس کا تاکیدی حکم اس نے نوح کو دیا اور جس کی وحی ہم نے تیری طرف کی اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا، یہ کہ اس دین کو قائم رکھو اور اس میں جدا جدا نہ ہوجاؤ۔ مشرکوں پر وہ بات بھاری ہے جس کی طرف تو انھیں بلاتا ہے، اللہ اپنی طرف چن لیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اپنی طرف راستہ اسے دیتا ہے جو رجوع کرے۔‘‘ [الشورى:13].
سورہ الشوریٰ
لہٰذا اسلام دیگر ادیان کی طرح ایک دین نہیں ہے بلکہ وہ تمام ادیان کی اصل ہے۔
س(23)- اسلام کیا ہے؟
ج: اسلام اللہ تعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور اس کی اطاعت کرنے کا نام ہے۔
اللہ جلّ شانہ نے فرمایا:
’’اور دین کے لحاظ سے اس سے بہتر کون ہے جس نے اپنا چہرہ اللہ کے لیے تابع کردیا، جب کہ وہ نیکی کرنے والا ہو اور اس نے ابراہیم کی ملت کی پیروی کی، جو ایک (اللہ کی) طرف ہوجانے والا تھا اور اللہ نے ابراہیم کو خاص دوست بنا لیا۔‘‘﴿125﴾
سورہ النساء
”أسلم وجھہ للہ“ کا مطلب ہے: اس نے اللہ تعالیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا اور اس کا مطیع و فرمانبردار ہوگیا۔ یہ دین کے لحاظ سے لوگوں میں سب سے بہتر ہے۔
ایک اور جگہ اللہ تعالی نے فرمایا:
’’سو تمھارا معبود ایک معبود ہے تو اسی کے فرمانبردار ہوجاؤ اور عاجزی کرنے والوں کو خوش خبری سنادے۔‘‘﴿34﴾
سورہ الحج
’’تو اسی کے فرمانبردار ہوجاؤ۔‘‘ کا معنی یہ ہے کہ اس کے فیصلے کے آگے سر تسلیم خم کر دو۔
ان آیات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے سامنے مکمل خود سپردگی، اس کی مکمل اطاعت و فرمانبرداری اور راضی و خوش ہو کر اس کی عطا کردہ شریعت و منہج کی پیروی، یہی اسلام کا جوہر اور اس کی حقیقت ہے۔
لہٰذا اسلام کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے فیصلوں اور قوانین کے آگے سرتسلیم خم کرنا۔
اسلام تمام انسانوں کے لیے اللہ کا دین ہے۔ ارشاد باری ہے:
’’بے شک دین اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔‘‘(19)
سورہ آل عمران
اسلام وہ دین ہے کہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا دین اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل قبول نہیں ہے۔
’’اور جو اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرے تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔‘‘ (85)۔
سورہ آل عمران
اسلام ہی وہ دین ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء و رسل کو مبعوث کیا۔ لھٰذا تمام انبیاء کا دین ایک ہی ہے اور وہ اسلام ہے۔ تمام انبیاء عقیدۂ توحید کے ساتھ مبعوث ہوئے، اگرچہ ان کی شریعتیں مختلف تھیں۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے:
’’اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ بے شک حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔‘‘(25)
سورہ الانبیاء
اس توحید پر اسلام کے سوا کوئی دین باقی نہیں رہا۔
اسلام آج روئے زمین پر واحد توحیدی مذہب ہے۔
جب کہ دوسری شریعتوں سے وابستہ تمام افراد کم یا زیادہ شرک میں ملوث ہیں۔ چنانچہ انبیاء کی وفات کے بعد جنھوں نے لوگوں کو عقیدۂ توحید پر چھوڑا تھا، لوگوں نے وقت کے ساتھ شرکیات کو اختیار کر لیا اور آج حالت یہ ہے کہ انبیاء کے لائے ہوئے خالص عقیدۂ توحید پر اسلام کے سوا کوئی بھی دین باقی نہیں ہے۔
س(24)- کیا اسلام کے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب ہے جن کا جواب دینے میں انسانی عقلیں حیران و پریشان ہیں: ہم کہاں سے آئے ہیں؟ ہم یہاں اس دنیا میں کیوں ہیں؟ اور ہمارا انجام کیا ہے؟
ج: اسلام نے ان تمام سوالوں کا جواب قرآن کریم کی ایک آیت میں دیا ہے، رب سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’اور مجھے کیا ہے کہ میں اس کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ (22)
سورہ یٰسین
(مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں سارے سوالات کے جوابات دیے گئے ہیں) میں کہاں سے آیا ہوں؟ اللہ نے مجھے پیدا کیا ہے(الَّذِي فَطَرَنِي).
میں کہاں جاؤں گا؟ میں اللہ تعالیٰ کے پاس جاؤں گا تاکہ میرے اعمال کا حساب لیا جائے(وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ)۔
میں اس دنیا میں کیوں آیا ہوں؟ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کے لیے اور تاکہ میری آزمائش کی جائے۔
میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کیوں کروں؟ یہ فطری بات ہے کہ میں اس اللہ کی عبادت کروں جس نے مجھے پیدا کیا، کیونکہ بندے اور اس کے رب کے درمیان تعلق کی نوعیت یہی ہے کہ بندہ اپنے رب اور اپنے خالق کی عبادت کرے۔
(وَمَا لِيَ لَا أَعْبُدُ الَّذِي فَطَرَنِي)’’اور مجھے کیا ہے کہ میں اس کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا۔‘‘
قرآن مجید کی اس ایک آیت میں ان تین اہم سوالوں کے جوابات موجود ہیں جنہیں جاننے کے لیے انسان حیران و پریشان رہتا ہے۔
’’اور مجھے کیا ہے کہ میں اس کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ (22)
سورہ یٰسین
س (۲۵)- آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں؟
ج: معجزاتی شواہد کی کثرت تواتر معنوی اور مکمل یقین کی نشاندہی کرتی ہے۔
ارسطو اپنے مجموعی کاموں کی وجہ سے ایک فلسفی ہے، نہ کہ اپنے کہے گئے کسی جملے یا اپنے کئے گئے کسی فلسفیانہ تجزیے کی وجہ سے۔
بقراط اپنے تمام طبی منصوبوں کی وجہ سے ایک معالج ہے، نہ کہ اپنی ایک سرجری کی وجہ سے۔
اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول معجزاتی شواہد کی کثرت معنوی تواتر اور اس بات کا مکمل یقین فراہم کرتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبی ہیں۔
جب آپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر غور کریں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سخت عداوت رکھنے والوں نے آپ کو صادق وامین کہا جس کی وجہ سے آپ نبوت ملنے سے قبل ہی اپنے معاشرہ میں ایک سچے انسان کی حیثیت سے مشہور ہوگئے تھے، آپ کے دشمنوں نے بھی آپ پر کذب بیانی یا گناہ میں ملوث ہونے کا الزام نہیں لگایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم غیب کی باتوں کی خبر دیا کرتے تھے اور وہ ہوبہو واقع ہوتی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اول دن سے جس عقیدہ کی دعوت دی وہ تمام انبیائے کرام کے عقیدہ کے موافق تھا، سینکڑوں سال قبل انبیائے کرام نے اپنی قوم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی بشارت دی تھی، ان باتوں سے تواتر کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا ثبوت ملتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے صحیح ہونے کا مکمل یقین حاصل ہوتا ہے۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے سب سے بڑے معجزے یعنی قرآن کریم کے بارے میں کیا خیال ہے؟
وہ قرآن جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے زبان وبیان کے ماہرین کو چیلنج کیا کہ وہ اس جیسا قرآن یا اس کی ایک سورت جیسی کوئی سورت لے کر آئیں، تو انہوں نے ایسا نہیں کیا۔
اللہ عزوجل کا فرمان ہے:
’’تم نے ایسا نہ کیا اور نہ کبھی کرو گے‘‘(24)
سورہ البقرة۔
تو انہوں نے ایسا نہیں کیا،اور نہ ہی کر سکتے تھے۔
قرآن مجید اب بھی مشرکوں کے اہل بلاغت وفصاحت کو چیلنج کرتا ہے،اور اس سب میں وہ اس کی مخالفت کرنے سے کتراتے ہیں، اور اس جیسا لانے سے گریزاں ہیں۔
ڈاکٹر عبداللہ دراز رحمہ اللہ کہتے ہیں: کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خوف نہیں تھا کہ یہ چیلنج ان کے ادبی جذبے کو بھڑکا دے گا؟
لہذا، وہ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں جب کہ وہ سب محتاط رہنے والے ہوں; اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کیا کریں گے اگر ان کے بلیغوں کا ایک گروہ باہم یہ عہد وپیمان کرلے کہ وہ ایسا کلام پیش کریں گے جو قرآن سے بلند ہو، اگرچہ کچھ پہلوؤں ہی میں کیوں نہ ہو!
پھر اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے نفس نے اپنے زمانے کے لوگوں پر یہ حکم صادر کرنے پر آمادہ کیا، تو آپ اسے آنے والی نسلوں پر کیسے صادر کر سکتے ہیں؟
در حقیقت یہ ایک ایسے جوکھم کا کام ہے جسے ایک آدمی جو اپنی قدر جانتا ہے، وہ اس کی طرف اس وقت تک قدم نہ بڑھائے گا جب تک کہ اس کے دونوں ہاتھ قضا وقدر کے اتار چڑھا اور آسمان سے ملنے والی خبروں سے بھرے نہ ہوں۔ اس طرح اس نے ساری دنیا کے سامنے یہ چیلنج پیش کیا اور قدرت کا یہی حتمی فیصلہ ہو گیا۔ لہذا جس شخص نے بھی اس کی مخالفت کی وہ ہر وقت اور ہر زمانے میں واضح نااہلی اور صریح ناکامی سے دوچار ہوا۔۔[18]
[18] النبأ العظیم، ص: 44-45، تالیف: دکتور عبد اللہ دراز رحمہ اللہ
ان مشرکین نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کے لیے لشکر جمع کرنا اور جماعتیں اکٹھا کرنا، قرآن کی مخالفت اور چیلنج کو قبول کرنے سے زیادہ آسان ہے۔ مشرکین کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی سب سے بڑی کوشش جو ہوسکتی ہے وہ یہی تھی۔
’’اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، اس قرآن کو مت سنو اور اس میں شور کرو، تاکہ تم غالب رہو۔‘‘﴿26﴾
سورہ فصلت
چنانچہ تمام عرب اور وہ قومیں جن تک یہ چیلنج پہنچایا گیا، (آج تک) کوئی ایسی چیز نہیں لا سکیں جس سے ملحدوں کو تسلی ہو اور وہ اس سے دوسروں کو تسلی دے سکیں۔
آلوسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "ان میں سے کسی نے آج تک ایک لفظ بھی نہیں کہا، اور نہ کسی موصوف یا صفت کا اظہار کیا۔“
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے، کہتے ہیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورہ الطور کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت پر پہنچے:
’’یا وہ کسی چیز کے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں، یا وہ (خود) پیدا کرنے والے ہیں؟‘‘ (35)
’’یا انھوں نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا ہے؟ بلکہ وہ یقین نہیں کرتے۔‘‘(36)
’’یا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں، یا وہی حکم چلانے والے ہیں؟‘‘ ﴿37﴾
سورہ الطور
وہ فرماتے ہیں : ’’میرا دل قریب تھا کہ اڑ جائے۔‘‘[19]
[19] صحیح بخاری، حدیث نمبر: (8554)
یقینا قرآن کی آیات میں حیرت انگیز اسرار و رموز ہیں جو انسانوں کے دلوں تک پہنچتے ہیں اور انہیں متأثر کرتے ہیں۔۔
ذرا غور کیجیے کہ مشرکین مکہ کی عورتیں قرآن میں اتنی کشش محسوس کرتی تھیں اورا س کے الفاظ ومعانی سے اس قدر متأثر ہوتی تھیں کہ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ قرآن کی تلاوت کرتے تھے تو ان کے گھر کے آس پاس ان عورتوں کا قرآن سننے کے لیے ہجوم ہوجاتا تھا، اس سے قریش کے مرد گھبرا جاتے تھے۔[20]
[20] صحیح بخاری، حدیث نمبر: (3905)
اس لیے عرب وفود نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ نہ تو خود قرآن سنیں گے اور نہ اپنے گھر والوں کو سننے دیں گے، کیونکہ ان کے کفر پر برقرار رہنے کا یہی واحد راستہ ہے۔
قرآن کریم کے عجائبات میں سے وہ بھی ہے (اور اس کے عجائبات لامتناہی ہیں) جسے ڈاکٹر عبداللہ دراز رحمہ اللہ نے مختلف اوقات میں قرآنی آیات کے نزول کے مسئلے میں ذکر کیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی کتابت پر مامور صحابہ کرام سے فرماتے تھے کہ ان آیات کو فلاں سورت کی فلاں آیت کے بعد لکھو، آپ مختلف آیات مختلف مقامات پر لکھنے کا حکم دیتے تھے، پھر اخیر میں ہر سورت ایک مستقل عمارت کی شکل میں سامنے آتی تھی، عبداللہ دراز رحمہ اللہ کے الفاظ میں: ”قرآن کے نزول کے وقت دوسرے موضوعات کے مقابلہ میں کچھ قرآنی موضوعات بکثرت سامنے آرہے تھے اور وہ بتدریج مستقل یونٹوں کی شکل اختیار کرتے تھے جب کہ ان میں کچھ دوسری ایسی آیات جوڑ دی جاتی تھیں جو بعد میں نازل ہوتی تھیں، کچھ آیتوں کو یہاں جوڑا جاتا اور دوسری آیتوں کو دوسری جگہ داخل کیاجاتا تھا، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے آیتوں کی یہ ترتیب قائم کی جاتی تھی، جو اس ترتیب کو روح القدس (جبرئیل علیہ السلام) سے سیکھتے تھے۔۔
اگر ہم قرآن کریم کی آیات کے نزول کی ان گنت تاریخوں کو مدنظر رکھیں اور ہم دیکھیں کہ یہ نزول عام طور پر خاص حالات اور مواقع سے منسلک تھا، تو یہ ہمیں اس وقت کے بارے میں پوچھنے پر مجبور کرتا ہے جب ہر سورت کو ایک آزاد اکائی کی شکل میں ترتیب دینے کا عمل رونما ہوا۔
گویا قرآن ایک قدیم عمارت کے الگ الگ اور نمبر شدہ ٹکڑے تھے، جسے اسی سابقہ شکل میں دوسری جگہ دوبارہ تعمیر کرنا مقصود تھا۔ ورنہ بہت سی سورتوں کے حوالے سے ایک ہی وقت میں اس فوری اور منظم ترتیب کی کیا تفسیر کی جا سکتی ہے؟
مستقبل میں پیش آنے والے واقعات، ان کے تشریعی تقاضے اوران کے لیے مطلوبہ حل کے بارے میں اس طرح کا منصوبہ تیار کرتے وقت انسان کیا تاریخی ضمانت حاصل کر سکتا ہے؟ چہ جائے کہ اس لسانی شکل کے بارے میں جس میں ان حلوں کو پیش کیا جانا چاہیے اور دیگر سورتوں کے بجائے اسی سورت کے ساتھ ان کی اسلوبی مطابقت کے بارے میں (کوئی ضمانت حاصل کر سکے)؟
کیا (اس تفصیل پر غور کرنے سے) ہم اس نتیجے پر نہیں پہنچتے کہ اس منصوبے کی تکمیل اور مطلوبہ شکل میں اس کے مکمل ہونے کے لیے ایک عظیم خالق کی مداخلت کی ضرورت ہے، جواس مطلوبہ (قرآنی) ترتیب کو قائم کرنے کی قدرت رکھتا ہو؟[21]
[21] مدخل إلی القرآن الکریم، تالیف: دکتور عبداللہ دراز
قرآن مجید ایک مستقل معجزہ ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی صداقت کو ثابت کرتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں پر ظاہر ہوئے ان کی تعداد ایک ہزار سے بھی زیادہ ہے۔ اور ان کے ظہور کا زمانہ قریب ہی ہے اور ان کے ناقلین سب سے زیادہ سچے اور سب سے زیادہ نیک لوگ ہیں۔
جن راویوں نے یہ معجزات ہم تک پہنچائے ہیں وہ معمولی سی معمولی چیزوں میں بھی جھوٹ بولنا جائز نہیں سمجھتے تھے، پھر وہ آپ ﷺ پر جھوٹ کیسے بول سکتے ہیں؟ جب کہ نبی اکرم ﷺ کی تنبیہ کے مطابق وہ یہ اچھی طرح جانتے تھے کہ جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے گا وہ جہنم میں جائے گا۔
اور آپ ﷺ کے کچھ معجزات تو ایسے ہیں جنہیں آپ کے ارد گرد رہنے والے ہزارہا صحابہ کرام نے دیکھا ہے اور بعض کو دسیوں صحابہ نے روایت کیا ہے، لہذا یہ سب کے سب ان کو نقل کرنے میں جھوٹ پر جمع کیسے ہوسکتے ہیں؟
آپ ﷺ کے وہ معجزات جن کو رونما ہوتے ہوئے صحابہ کی ایک بڑی جماعت نے مشاہدہ کیا ہے ان میں بطور مثال: درخت کے تنے کے کراہنے کی حدیث ہے، جو ایک مشہور متواتر حدیث ہے۔ دراصل نبی اکرم ﷺ کھجور کے ایک تنے پر کھڑے ہوکر خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا کرتے تھے، لیکن جب آپ کے لیے منبر بنایا گیا اور آپ اُس پر چڑھ کر خطبہ دینے لگے، تو یہ تَنَہ آپ کی محبت میں سرشار ہوکر بچوں کی طرح رونے لگا اور برابر روتا ہی رہا، یہاں تک آپ ﷺ نے اسے گلے لگا لیا تو وہ چُپ ہوگیا۔
اس حدیث کو صحابہ میں سے انس بن مالک، جابر بن عبد اللہ، عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن عمر، اُبَی بن کعب، ابو سعید خدری، سہل بن سعد، عائشہ بنت ابو بکر اور ام سلمہ رضی اللہ عنھم اجمعین نے روایت کیا ہے۔
کیا صحابہ کی یہ تعداد اس طرح کی روایت بیان کرنے میں جھوٹ پر متفق ہوسکتی ہے؟
بلکہ بعض معجزات کا مشاہدہ تو ہزاروں صحابہ نے کیا ہے، مثلا آپ ﷺ کی مبارک انگلیوں کے درمیان سے پانی کا جاری ہونا جس سے ڈیڑھ ہزار صحابہ نے وضو کیا اور اپنی پیاس بجھائی، یہ حدیث بھی متواتر ہے اور صحیح بخاری ومسلم میں موجود ہے۔
اسی طرح ایک عظیم لشکر کو کھانا کھلانے کے لیے کھانا (خوراک) کی تھوڑی مقدار میں اضافہ کرنا، اسے بھی صحابہ نے تواتر کے ساتھ روایت کیا ہے اور تنہا امام بخاری رحمہ اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے کھانے میں اضافے کے معجزات کا ذکر اپنی صحیح میں پانچ مقامات پر کیا ہے۔[22]
[22] بخاری (1217)، بخاری (2618)، بخاری (3578)، بخاری (4101)، بخاری (6452)۔ یہ سب مختلف واقعات ہیں اور یہ صرف بخاری میں ہے!
لہٰذا جب آپ ﷺ کی نبوت کی صداقت پر دلیلیں اور معجزات ثابت شدہ اور بھر پور ہیں تو ایک عاقل انسان ان سب کو کیسے جھٹلا سکتا ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کی چند اور مثالیں یہ ہیں:
ایک رات نبی اکرم ﷺ نے خبر دی کہ آج کی رات زور کی آندھی چلے گی اور لوگوں کو کھڑے ہونے سے منع فرمایا۔ لیکن ایک آدمی کھڑا ہوا تو ہوا اسے اڑا لے گئی اور ایک دور دراز جگہ پر پھینک دیا۔[23]
[23] صحيح مسلم، حدیث نمبر:3319۔
اور نبی اکرم ﷺ نے نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دی جس دن ان کا انتقال ہوا تھا اور (ان پر غائبانہ نماز جنازہ ادا کرتے ہوئے )چار تکبیریں کہیں۔[24]
[24] صحيح بخاری، حدیث نمبر: 1333۔
اسی طرح آپ ﷺ نے عمر، عثمان، علی، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنھم اجمعین کے متعلق پہلے ہی پیشین گوئی کردی تھی کہ یہ لوگ عام لوگوں کی طرح فطری موت نہیں مریں گے بلکہ انہیں شہادت نصیب ہوگی۔
چنانچہ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ ؛ ابو بکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنھم کے ہمراہ پہاڑ پر چڑھے تو چٹان ہل گئی، تب آپ ﷺ نے پہاڑ سے فرمایا: تھم جا! تیرے اوپر نبی یا صِدّیق یا شہید کے علاوہ کوئی نہیں۔[25]
[25] صحيح مسلم، حدیث نمبر:2417۔
یعنی آپ ﷺ نے اپنے آپ کو نبی، ابو بکر رضی اللہ عنہ کو صِدّیق اور باقی لوگوں کو شہید قرار دیا، اور آپ نے جیسی خبر دی تھی بالکل ویسا ہی ہوا۔
مزید برآں 150 احادیث ایسی ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے دعا کی اور وہ اسی وقت قبول ہوگئیں،جب کہ لوگ اس کا مشاہدہ کر رہے تھے۔[26]
[26] ان احادیث کو سعید بن عبد القادر باشنفر نے اپنی کتاب ’’دلائل النبوہ‘‘ میں جمع کردیا ہے اور یہ کتاب دار ابن حزم کی مطبوعات میں سے ہے۔
اور جب اہل مکہ نے رسول اللہ ﷺ سے یہ مطالبہ کیا کہ آپ انہیں کوئی نشانی دکھائیں تو آپﷺ نے انہیں چاند کے دو ٹکڑے کرکے دکھائے یہاں تک کہ انہوں نے حرا پہاڑ کو ان دونوں ٹکڑوں کے درمیان دیکھا، یہ حدیث بھی متواتر ہے اور اعلی درجے کی صحیح حدیث ہے۔
نیز نبی اکرم ﷺ بڑی بڑی مجالس جیسے جمعہ اور عیدین میں سورہ قمر کی تلاوت کیا کرتے تھے جس میں معجزہ شق قمر کابیان ہے، تاکہ یہ معجزات حاضرین کے گوش گزار کئے جائیں، نیز اسے آپ ﷺ اپنی نبوت کی صداقت پر دلیل بنایا کرتے تھے۔
نبی اکرم ﷺ نے اس بات کی بھی خبر دی ہے کہ آدم علیہ السلام زندہ مخلوقات میں سب سے آخری مخلوق ہیں :’’ اللہ نے بروز جمعہ حضرت آدم علیہ السلام کو عصر کے بعد سب مخلوقات کے آخر میں پیدا کیا۔‘‘[27]
[27] صحيح الجامع، 8188۔
یہ سائنسی حقیقت اب ثابت ہو چکی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ آدم علیہ السلام آخری مخلوق ہیں جو پودوں اور جانوروں کے ظہور کے بعد زمین پر ظاہر ہوئے؟
اللہ تعالٰی کے اس فرمان پر غور کیجیے:
’’اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا، پھر ہم نے رات کی نشانی کو مٹادیا اور دن کی نشانی کو روشن بنایا۔‘‘﴿12﴾
سورہ الإسراء.
’’پھر ہم نے رات کی نشانی کو مٹادیا‘‘: یعنی چاند جو کہ رات کی نشانی ہے، پہلے روشن تھا پھر اس کی (ذاتی) روشی ختم کردی گئی۔
اس آیت کریمہ کی بالکل یہی تفسیر صحابہ نے بھی بیان کی ہے، چنانچہ امام ابن کثیر اپنی تفسیر میں روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں: ’’چاند پہلے سورج کی مانند ہی روشن تھا اور یہی رات کی نشانی ہے، پھر اس کی روشنی ختم کردی گئی۔‘‘
حیرت انگیز یہ ہے کہ آج سائنس بھی اسی نتیجے تک پہنچی ہے۔ چنانچہ ناسا نے اپنی سرکاری ویب سائٹ اور سرکاری چینل پر شائع کیا ہے: چاند کی زندگی کا پہلا دور، جس میں وہ روشن اور چمکدار تھا۔[28]
[28] http://www.nasa.gov/mission_pages/LRO/news/vid-tour.html https://www.youtube.com/watch?v=UIKmSQqp8wY
لہذا فقط اس ایک آدمی ﷺ کی بتلائی ہوئی نشانیوں، غیبی خبروں، اور لا محدود آسامانی وزمینی اسرارو رموز کا واقع ہونا، تواتر کے ساتھ ثابت ہے، نیز اُسی پر قرآن کا نزول ہوا، وہ بھی اسی چیز کی دعوت لے کر مبعوث ہوا جسے سابقہ انبیا لے کر آئے تھے، ،اسے اللہ کی تائید حاصل تھی اور اُسے تب تک موت نہیں آئی جب تک یہ شریعت کامل ومکمل نہیں ہوگئی۔
لہذا قطعی طور پر اس بات کا اعتراف کرنا کہ وہ ایک نبی ہے، یہی عقل کی رہنمائی ہے!
کیونکہ آپ ﷺ کے غیب سے متعلق معجزات ایک ہزار سے زیادہ ہیں۔
اور ان معجزات کو نقل کرنے والے اس کے صحابہ ہیں جو اس کے بعد روئے زمین پر سب سے سچے اور سب سے زیادہ نیک لوگ ہیں۔
اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کبار صحابہ نے ان معجزات کا مشاہدہ کرنے سے پہلے ہی اسلام قبول کرلیا تھا۔ انہوں نے اس لیے اسلام قبول کرلیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ نبی اکرم ﷺ سچے ہیں اور آپ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔
کبار صحابہ کا یہ رویہ دراصل ایک عقلمندانہ اور حکیمانہ رویہ ہے کیونکہ نبی ﷺ کی صداقت آپ کی نبوت کے اثبات کے لیے کافی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبوت کا مدعی شخص یا تو سب سے سچا شخص ہوگا کیونکہ وہ نبی ہے اور نبی لوگوں میں سب سے زیادہ سچا ہوتا ہے۔
یا پھر وہ لوگوں میں سب سے جھوٹا شخص ہوگا کیونکہ وہ سب سے عظیم امر میں جھوٹ گھڑ رہا ہے۔
سب سے سچا آدمی سب سے زیادہ جھوٹ بولنے والے کے ساتھ نہیں ملتا سوائے اس کے جو سب سے زیادہ جاہل ہے۔[29]
[29] ثبوت النبوات عقلًا ونقلًا، ابن تيمية، دار ابن الجوزي، ص573، اور اسی کا ہم معنی قول اسی کتاب میں ملاحظہ کریں: ص318.
لہٰذا ایک عقلمند کے لیے سب سے سچے اور سب سے جھوٹے شخص میں فرق کرنا کتنا آسان ہے۔
اور مشرکوں نے نبی ﷺ کی بعثت کے پہلے ہی دن سے یہ اعتراف کرلیا تھا کہ آپ ﷺ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، انہوں نے آپ ﷺ سے کہا تھا : ’’ہم نے آپ کو کبھی جھوٹا نہیں پایا۔‘‘[30]
[30] صحيح بخاری، حدیث نمبر: 4971۔
اور جب ہرقل نے ابو سفیان سے سوال کیا جب وہ مسلمان نہیں تھے: ’’کیا اس کے اس دعوائے نبوت سے پہلے تم اس پر جھوٹ بولنے کا الزام لگاتے تھے؟‘‘
تو ابو سفیان نے جواب دیا: ’’نہیں۔‘‘
ہرقل نے کہا: ’’جو شخص آدمیوں کے ساتھ دروغ گوئی سے بچے وہ اللہ کے بارے میں جھوٹ کیسے بول سکتا ہے۔‘‘
پھر ہرقل نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہا: اگر میں اس کے پاس ہوتا تو اس کے پاؤں دھوتا۔‘‘[31]
[31] صحيح البخاري، حدیث نمبر: 7۔
لہٰذا کافر نبی اکرم ﷺ کی پوری زندگی میں ایک بھی جھوٹ کو ظاہر کرنے سے قاصر رہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے ان کے کفر کی مذمت کی ہے، حالانکہ وہ آپ کی بعثت سے پہلے ہی آپ ﷺ کی اس حالت سے واقف تھے۔ فرمان باری ہے:
’’یا انھوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا تو وہ اس کا انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ ﴿69﴾
سورہ المؤمنون
لھٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت اور آپ کی سیرت اس بات کی مستقل دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبی ہیں۔
صلى الله عليه وسلم۔
جب آپ ﷺ کی نبوت کی صداقت پر دلیلیں اتنی معروف اور قوی ہیں، تو ایک عقلمند انسان ان سب باتوں کا انکار کیسے کر سکتا ہے؟
س(26)- مجھے کیسے معلوم ہوگا کہ مجھے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے؟
ج: آپ اپنے آپ پر غور کریں، آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ آپ آزمائے جا رہے ہیں۔ کیا آپ کے اندر یہ احساس موجود نہیں ہے کہ صحیح کام کرو اور جو کام غلط ہے اسے نہ کرو؟
اگر آپ کے سامنے پیسہ ہے اور اس کا مالک اس پر دھیان نہیں دے رہا ہے، تو آپ کے دل میں یہ خیال پیدا ہوگا کہ اس مال کو لے لو اور اس سے فائدہ اٹھاؤ، اور اس کے بالمقابل ضمیر کی ایک دوسری آواز بھی سنائی دے گی کہ ایسا نہ کرو، اس لیے کہ یہ حرام اور جرم ہے۔
اس طرح آپ زندگی کے ہر موڑ پر ایک امتحان سے گزر رہے ہوتے ہیں۔
یہ شعور - کہ یہ کام کرو اور یہ کام نہ کرو - آپ کے اندر موجود ہوتا ہے کیوں کہ آپ عملی طور پر آزمائش وامتحان کے مرحلے سے گزر رہے ہوتے ہیں، آپ بے کار نہیں چھوڑے گئے ہیں... آپ یوں ہی کوئی بے وقعت چیز نہیں ہیں۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے:
’’بلاشبہ ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، خواہ وہ شکر کرنے والا بنے اور خواہ ناشکرا۔‘‘ ﴿3﴾
سورہ الانسان
انسان کے اندر 'کرو اور نہ کرو' کا احساس ہمیشہ موجود ہوتا ہے: لھٰذا وہ اپنی زندگی کے ہر حال میں یا تو شکر گزار ہے یا ناشکرا ہے۔
بلکہ انسان کی زندگی کے ہر قدم پر انسان کے لیے ممکن ہے کہ نیکی کرے یا برائی کرے، چاہے وہ مسجد میں جائے یا تفریح میں مشغول ہو۔
اللہ عزوجل کا فرمان ہے:
’’اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں۔‘‘ [56]
سورہ الذاریات
ہر قدم پر آپ کو اللہ کی بندگی یا اس کی نافرمانی کی شکل نظر آتی ہے۔
جسے اللہ کے حکم پر چلنے کی توفیق ملی وہ نجات پاگیا اور جس نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی وہ راہ صواب سے دور ہو گیا۔
اختیار کرنے کی اس صلاحیت کا تقاضا ہے کہ انسان کے ہر کام کا حساب لیا جائے۔
لھٰذا ہماری تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ ہمارا امتحان لیاجائے اور ہمیں آزمائش سے گزارا جائے، اور یہی وہ مقصد ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے رسول بھیجے اور کتابیں نازل کیں۔
’’اور بلاشبہ یقیناً ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔‘‘ [36]
سورہ النحل
اور موت کے ساتھ امتحان ختم ہونے کے بعد، ہم اللہ کی طرف لوٹ جائیں گے: {وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ} ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔‘‘(یس:22)
"اور یہ کہ بے شک تیرے رب ہی کی طرف آخر پہنچنا ہے۔‘‘﴿42﴾
سورہ النجم
’’یقیناً تیرے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے۔‘‘﴿8﴾
سورہ العلق
لھٰذا ہم اللہ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تاکہ ہم اپنے کیے کا حساب لیے جائیں۔
"اور یہ کہ بے شک اس کی کوشش عنقریب دیکھی جائے گی۔‘‘﴿40﴾
’’پھر اسے پورا پورا بدلہ دیاجائے گا۔‘‘﴿41﴾
سورہ النجم
آپ نے جو عمل کیا ہے عنقریب اسے دیکھا جائے گا اور آپ سے اس کا حساب لیا جائے گا۔
’’تو جو شخص ایک ذرہ برابر نیکی کرے گا اسے دیکھ لے گا۔‘‘﴿7﴾
’’اور جو شخص ایک ذرہ برابر برائی کرے گا اسے دیکھ لے گا۔‘‘﴿8﴾
سورہ الزلزلہ
س(27)- کیا اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا کافی ہے اور انبیاء کا انکار کیاجاسکتا ہے؟
جواب : نہیں۔
اللہ تعالیٰ کے وجود پر ایمان لانا جب کہ انبیاء پر ایمان نہ لانا انسان کے مسلمان ہونے کے لیے کافی نہیں ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے خالق، رازق اور مدبر ہونے پر ایمان لائیں، پھر آپ اس کی وحی کا انکار کردیں اور اس کے رسولوں کو نہ مانیں؟
یہ سب سے بڑا کفر ہے۔
بلکہ اس سے بڑا جرم والا کوئی نہیں جو اللہ تعالیٰ کی وحی کو ٹھکرا دے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کریں اور کہتے ہیں ہم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور چاہتے ہیں کہ اس کے درمیان کوئی راستہ اختیار کریں۔‘‘[150]
’’یہی لوگ حقیقی کافر ہیں اور ہم نے کافروں کے لیے رسوا کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘﴿151﴾
سورہ النساء
لہٰذا جو شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہے اور انبیاء کا انکار کرتا ہے, وہ یقیناً کافر ہے۔
جس نے بھی اللہ کے نبیوں میں سے کسی نبی کا انکار کیا، تو وہ اللہ کے ساتھ کفر کرنے والا ہے، کیوں کہ اس نے اللہ کی وحی کا انکار کیا۔ اسی وجہ سے اہل کتاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا انکار کرنے کی وجہ سے کافر ہیں۔
’’بے شک وہ لوگ جنھوں نے اہل کتاب اور مشرکین میں سے کفر کیا، جہنم کی آگ میں ہوں گے، اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، یہی لوگ مخلوق میں سب سے برے ہیں۔‘‘﴿8﴾
سورہ البینہ
ان کافروں کے داخل جہنم ہونے کی اللہ تعالیٰ کی وعید حق ہے، {فَحَقَّ وَعِيدِ} ’’تو میرے عذاب کا وعدہ ثابت ہوگیا۔‘‘ (سورہ ق: 5)
محض یہ اقرار کر لینا کہ اللہ ہی خالق، رازق، زندگی دینے والا اور موت دینے والا ہے، اسلام نہیں ہے اور نہ نجات ممکن ہے، بلکہ اس کے رسولوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔
لہٰذا انبیاء کے انکار کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے وجود پر ایمان کافی نہیں ہے اور (اس سے) بندے کو قیامت کے دن اللہ کے پاس کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔
اگر اللہ تعالیٰ کے وجود پر ایمان کافی ہوتا، تو اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو مبعوث نہیں کرتا اور نہ اپنی کتابیں نازل کرتا، کیوں کہ تمام انسان اپنی فطرت سے اللہ تعالیٰ کو پہچانتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ جس نے آپ کو پیدا کیا، ہدایت دی اور رزق عطا کیا، وہی تنہااس بات کامستحق ہے کہ آپ اس کی اسی طرح عبادت کریں جیساکہ اس نےاپنے نبیوں اور رسولوں کے واسطے سے مشروع کیا ہے۔
س(28)- کیاکافر کو اللہ کی طرف سے اس کے نیک اعمال کا اجر ملے گا؟
ج: نیک عمل کرنا انسانی فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے، اس لیے آپ دیکھتے ہیں کہ کوئی بھی شخص نیک عمل کرسکتا ہے، خواہ وہ کافر ہو یا مشرک، لہٰذا ہر شخص اس فطرت کی وجہ سے عمل صالح کرتا ہے جس کے ساتھ وہ پیدا ہوا ہے۔
لیکن کسی بھی نیک عمل کی قبولیت کے لیے شرط یہ ہے کہ اسے اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے یعنی اللہ تعالیٰ سے اجروثواب کے حصول کے لیے کوئی نیک عمل کیاجائے۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے والا شخص جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی عبادت کرتا ہے، ہم اسے کہتے ہیں: تم ان لوگوں کے پاس جاؤ جنہیں تم نے اپنے نیک کاموں میں اللہ کے ساتھ شریک کیا ہے اور ان سے اپنا اجر حاصل کرو۔ کیوں کہ تم نے اپنے نیک اعمال سے صرف اللہ کی رضا کی امید نہیں رکھی تھی۔
کسی ایسے انسان کا تصور کیجیے جس کے گھر والوں نے اس پر مال خرچ کرکے اس کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ ایک طاقتور نوجوان ہوگیا، پھر وہ دوسروں کے پاس ان کی خدمت کرنے چلا گیا۔ کیا اسے یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنے گھر والوں سے آکر کہے: مجھے دوسروں کی خدمت کرنے کی اجرت دو؟
اسے تو ان لوگوں کے پاس جانا چاہیے جن کی اس نے خدمت کی ہے تاکہ ان سے اپنی اجرت حاصل کرے۔
اللہ تعالیٰ کے لیے تو سب سے اعلی مثال ہے۔
اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، تمہیں رزق دیا، اور تمہیں ہر نعمت سے نوازا، پھر تم اس کی عبادت چھوڑ کر اس سے اپنے کام کا اجر لینا چاہتے ہو؟ یہ کیسے ممکن ہے؟
اللہ عزوجل کا فرمان ہے:
>>اور ہم اس کی طرف آئیں گے جو انھوں نے کوئی بھی عمل کیا ہوگا تو اسے بکھرا ہوا غبار بنا دیں گے۔‘‘﴿23﴾
سورۃ الفرقان
اللہ نے فرمایا:
’’اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ان کے اعمال کسی چٹیل میدان میں ایک سراب کی طرح ہیں، جسے پیاسا پانی خیال کرتا ہے، یہاں تک کہ جب اس کے پاس آتا ہے تو اسے کچھ بھی نہیں پاتا۔‘‘﴿39﴾
سورۃ النور
کفر کا ارتکاب کرنے والے اپنے عمل پر ثواب کا استحقاق نہیں رکھتے ہیں، اگرچہ انہوں نے نیک عمل ہی کیوں نہ کیا ہو، اس لیے کہ وہ کافر ہیں، انہوں نے اپنے نیک عمل کے ذریعہ اپنے رب سے اجروثواب پانے کا ارادہ ہی نہیں کیا اور نہ اپنے نیک عمل کے ذریعہ اپنے خالق کی رضا چاہی۔
معاملہ صرف نیک عمل کرنے کا نہیں ہے، کیونکہ بہت سارے نیک اعمال کو انجام دینا ہماری فطرت بنا دی گئی ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ آپ یہ نیک عمل کیوں کرتے ہیں اور کس کے لیے کرتے ہیں؟ کیا آپ اسے اپنے ذاتی مفاد کے لیے کرتے ہیں یا دکھاوے کے لیے کرتے ہیں یا اللہ کے سوا کسی اور کے لیے کرتے ہیں؟
ان میں سے کوئی بھی نیک عمل اللہ کی راہ میں نہیں ہے اور اس سے عمل صالح کے اس ثواب کی توقع نہیں ہے جو اللہ سے کی جاتی ہے۔
س(29)- اگر اسلام دین حق ہے تو شکوک و شبہات کیوں؟
ج: شبہ دین کا ایک ایسا مسئلہ ہے جسے مسلمان سمجھ نہیں پاتا، اور یہ اس کے لیے الجھن کا باعث ہو سکتا ہے جب تک کہ اسے اس کا جواب نہ مل جائے۔
یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہے کہ دین کے بعض ثانوی مسائل میں کچھ مبہم امور ہوں تاکہ جو باطل کا خواہاں ہو وہ ان مشتبہ امور کی وجہ سے اپنے رب کی اطاعت سے دور رہے۔
اللہ عزوجل کا فرمان ہے:
"وہی اللہ تعالیٰ ہے جس نے تجھ پر کتاب اتاری جس میں واضح مضبوط آیتیں ہیں جو اصل کتاب ہیں اوربعض متشابہ آیتیں ہیں۔ پس جن کے دلوں میں کجی ہے وه تواس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں، فتنے کی طلب اور ان کی مراد کی جستجو کے لئے، حاﻻنکہ ان کے حقیقی مراد کو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا اور پختہ ومضبوط علم والے یہی کہتے ہیں کہ ہم تو ان پر ایمان ﻻچکے، یہ ہمارے رب کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو صرف عقلمند حاصل کرتے ہیں۔" ﴿8﴾
سورہ آل عمران
”فأما الذین في قلوبھم زیغ فیتبعون ما تشابہ منہ“ کا مطلب یہ ہے کہ جس کے دل میں کجی ہے وہ فتنہ کی تلاش میں اور اللہ سے دور ہوجانے کے لیے اس طرح کے شبہات کی پیروی کرے گا۔
اللہ نے اپنی حکمت سے یہ چاہا ہے کہ لوگوں میں ایمان اور کفر دونوں ہو۔
’’پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور تم میں سے کوئی ایمان دار ہے۔‘‘﴿2﴾
سورہ التغابن
کفر کا خواہاں ہی ان شبہات سے وابستگی رکھتا ہے اور ان شبہات کے چکر میں پڑ کر اپنے دین، اپنی نماز اور اپنے ایمان سے غافل ہوجاتا ہے۔
مومن مضبوط اور ثابت شدہ دلائل کی اتباع کرتا ہے جنہیں (ام الکتاب) سے تعبیر کیا گیا ہے اور جو دین ورسالت کی صحت کو اجاگر کرتے ہیں، اگر دین میں کوئی چیز اسے سمجھ نہیں آئی، تو وہ اس کے بارے میں دریافت کرتا ہے، لیکن اس کی وجہ سے وہ اپنے دین اور اپنے ایمان سے غافل نہیں ہوتا ہے۔
جس کے دل میں نفاق کی بیماری ہوتی ہے وہی اس چیز کی وجہ سے اپنے دین سے دور ہوجاتا ہے جس کی وہ سمجھ نہیں رکھتا۔
اور تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جو کفر کرنے والے ہیں کہیں اللہ نے اس کے ساتھ مثال دینے سے کیا ارادہ کیا ہے؟ اسی طرح اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔‘‘﴿31﴾
سورہ المدثر
شبہات کے پائے جانے کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ اس کی وجہ سے اہل علم اور اللہ کے دین کی گہری بصیرت رکھنے والے عام لوگوں سے ممتاز ہوجاتے ہیں، آپ دیکھیں گے کہ عالم مشتبہ امور کے جواب سے واقف ہوجاتا ہے اور اس کی وجہ سے اس عامی انسان سے ممتاز ہوجاتا ہے جس نے دین کو نہیں پڑھا اور نہ دین کا گہرا علم اس کے پاس ہے، اس طرح اللہ تعالیٰ اہل علم کے درجات بلند کرتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ حق بہت واضح اور روشن ہے لیکن متشابہ (شبہات) کا ہونا بھی ضروری ہے، کیونکہ اس سے مومن اور غیر مومن کی پہچان ہوتی ہے۔
انسانوں کے تعلق سے اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ اس کو مکلف بنایا گیا ہے، مکلف بنائے جانے میں اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ کچھ حکمتوں کو پردۂ خفا میں رکھا گیا ہے، کامیاب انسان وہ ہے جس نے مخفی اور باریک امور پر اپنے علم کی روشنی میں استدلال کیا اور ناکام و نامراد وہ ہے جو اپنی ناواقفیت کو حجاب بنا لیتا ہے جو اسے علم کی روشنی میں استدلال کرنے سے محروم کردیتا ہے۔
س(30)- اللہ تعالیٰ نے برائی کیوں پیدا کی؟ یا دوسرے الفاظ میں: ایک مسلمان "برائی کے مخمصے" کا کیا جواب دے گا؟
ج: برائی کا فتنہ پوری تاریخ میں الحاد کا تقریباً سب سے بڑا سبب ہے۔
’’اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اللہ کی عبادت ایک کنارے پر کرتا ہے، پھر اگر اسے کوئی بھلائی پہنچ جائے تو اس کے ساتھ مطمئن ہوجاتا ہے اور اگر اسے کوئی آزمائش آپہنچے تو اپنے منہ پر الٹا پھر جاتا ہے۔ اس نے دنیا اور آخرت کا نقصان اٹھایا، یہی تو صریح خسارہ ہے۔‘‘﴿11﴾
سورہ الحج
کچھ ایسے لوگ ہیں جو کسی فتنہ یا آزمائش یا مصیبت نازل ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا انکار کر بیٹھتے ہیں۔
یہاں کوئی ملحد سوال کرسکتا ہے: بنیادی طور پر برائی کا وجود کیوں ہے؟
اس کا سادہ سا جواب یہ ہے: کیوں کہ ہمیں مکلف بنایا گیا ہے۔
برائی کا وجود اس لیے ہے کہ ہم ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں ہمارا امتحان چل رہا ہے۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
’’اور ہم تمھیں برائی اور بھلائی میں مبتلا کرتے ہیں، آزمانے کے لیے۔‘‘﴿35﴾
سورہ الانبیاء
خیروشرکا وجود اس لیے ہے کہ آپ مکلف ہیں اور مکلف ہونا آپ کے وجود کا مقصد ہے۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے:
’’وہ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا، تاکہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے اور وہی سب پر غالب، بے حد بخشنے والا ہے۔‘‘(2)
سورہ الملک
برائی کا وجود اور فتنوں و آزمائشوں کا وجود بذات خود مسئلہ دین کے صحیح ہونے اور الحاد کی غلطی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
اگر ہم مادی دنیا کے بچے ہوتے، تو ہم نہ اچھائی سمجھتے اور نہ ہی برائی۔
اگر پوری کائنات بے معنی ہوتی تو ہمیں کبھی پتہ نہیں چل پاتا کہ یہ کائنات بے معنی ہے۔[32] کیونکہ ملحدانہ نظریہ کے مطابق، ہم سخت مادی تقاضوں میں چلتے ہیں، اور فطرت کے قوانین ہم پر لاگو ہوتے ہیں۔ اس تناظر میں، ہم نہ برائی کے جوہر کو سمجھیں گے اور نہ ہی لفظ 'برائی' کے معنی کو۔
[32] C.S. Lewis
تو کیا سب سے زیادہ ترقی یافتہ جانور برائی کے مخمصے کو سمجھتا ہے؟
برائی کو سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس مادہ پرست دنیا کے بچے نہیں ہیں، اور یہ کہ ہم برائی کے وجود کا ادراک ڈارون کے مادیت پسند مقدمے کے علاوہ کسی اور مقدمے سے حاصل کرتے ہیں۔
ہمارا تعلق ایک آسمانی مقدمے سے ہے، نہ کہ کسی زمینی، مادیت پرست ملحدانہ طرز سے، اور یہی اس بات کی واحد تفسیر (وضاحت) ہے کہ ہم برائی کو کیوں سمجھتے ہیں۔
جب ہم مکلف بنائے گئے ہیں تو یہ بات فطری ہے کہ ہمارے لیے فتنے اور آزمائشیں ہوں گی اور یہ بھی فطری بات ہے کہ مکلف ہونے کی وجہ سے ہم برائی کو سمجھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو مکلف بنایا ہے اور اسے ارادہ کی آزادی عطا کی ہے اس کا فطری تقاضا یہ ہے کہ شر اور کچھ درد والم کا وجود ہوگا اور بندہ کو معصیت کا ارتکاب کرنے کی قدرت حاصل ہوگی۔
شر، آزمائش ، مصائب اور خواہشات کے وجود کی وجہ سے نیک انسان کی سب سے اچھی چیز اور برے انسان کی سب سے بری چیز سامنے آتی ہے۔
ملحدین کا معاملہ عجیب وغریب ہے کہ جب وہ شر کے وجود کی وجہ سے خالق کے وجود کا انکار کرتے ہیں تو یہ تجزیہ استعمال کرتے ہیں:
1۔ اگر باپ خیر پسند ہے اور وہ اپنے بیٹے کے لیے خیر کو پسند کرتا ہے تو اس نے جرثومے کا خاتمہ کرنے والا دردناک انجکشن اپنے بیٹے کو دیے جانے کی اجازت کیوں دی؟
(۲) انجکشن لگنے سے بیٹے کو تکلیف ہوتی ہے۔
(۳) لہٰذا باپ کا وجود نہیں ہے۔[33]
[33] أسس غائبۃ، تالیف: م۔ أحمدحسن، شائع کردہ: مرکز دلائل (معمولی تصرف کے ساتھ)
تو کیا یہ کوئی عقلی نتیجہ ہے؟
پھر یہ فطری بات ہے کہ ہم نیکی اور بدی میں الٰہی حکمت کی تمام باریکیوں کو نہیں سمجھتے۔
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ خضر کے اعمال کی حکمت ظاہر کی ہے، اگرچہ وہ بظاہر قابل مذمت اور ناگوار اعمال ہیں، لیکن ان میں بہت زیادہ خیر شامل ہے۔ قرآن میں موسیٰ اور خضر کا قصہ یونہی بطور حکایت بیان نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اس میں غوروفکر کی دعوت دی گئی ہے تاکہ انسانوں کو اپنی کوتاہ فہمی اور حکم لگانے میں جلد بازی کی عادت کا احساس ہو۔
برائی کے معاملے میں ایک عجیب بات یہ ہے کہ: اگر دنیا میں برائی نہ ہوتی تو آپ اس جگہ کو نہ چھوڑتے جہاں آپ کی پیدائش ہوئی!
اور نہ کوئی تہذیب موجود ہوتی، نہ شہر، نہ کارخانے اور نہ گھر تعمیر ہوتے، نہ لوگوں کو کام کی ضرورت ہوتی اور نہ ہی لوگ کسی بیماری سے لڑنے، یا کسی مسئلے کو حل کرنے، یا راحت طلبی کے لیے کوئی آئیڈیا ایجاد کرنے کے بارے میں سوچتے!
اور نہ کسی انسان کو اپنی جائے پیدائش سے دوسری جگہ منتقل ہونے کی ضرورت پیش آتی۔
کیونکہ نہ کوئی شر ہوتا، نہ کوئی پریشانی ہوتی، نہ کوئی مصیبت ہوتی، نہ کوئی تھکاوٹ ہوتی اور نہ مسائل ہوتے جن کا آپ حل تلاش کرتے۔
پھر کیوں محنت کریں، دیر تک جاگیں، سوچیں اور کام کریں؟
لھٰذا اس دنیا میں شر کا جود ایک لازمی ضرورت ہے!
لہٰذا اس پر غور کریں!
اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہیں، کیوں کہ آپ ایک مکلف مخلوق ہیں۔
بہت سے لوگ مصیبت اور برائی میں مبتلا ہوتے ہیں، تو وہ اللہ کی طرف لوٹتے ہیں اور صالحین میں سے ہو جاتے ہیں۔ پس بہت پاک ہے اللہ جو سب سے بڑا ہے اور سب تعریفیں اسی کے لیے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی تمام تقدیروں میں حکمت اور بھلائی ہے۔
ایک مسلمان کو اللہ تعالیٰ کی ہر طرح کی تقدیر پر ایمان لانا ضروری ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’’اگر تمہارے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور تم اسے اللہ کی راہ میں خرچ کردو، تو اللہ تعالیٰ اسے اس وقت تک قبول نہیں کرے گا جب تک کہ تم تقدیر پر ایمان نہ لاؤ گے، تم یہ جان لو کہ جو کچھ تمہیں پہنچا ہے وہ کسی حال میں تم سے فوت نہیں ہوسکتا تھا اور جو کچھ تم پر نہیں ہوا وہ تمھیں نہیں پہنچ سکتا تھا، اور یہ کہ جو شخص اس کے علاوہ کسی اور عقیدہ پر مر گیا، وہ جہنم میں جائے گا۔“[34]
[34] صحیح سنن ابی داؤد (4699)
اللہ تعالیٰ کی تقدیریں، چاہے اچھی ہوں یا بری، ایک مسلمان کے لیے ان سے راضی رہنا ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ کی تمام تقدیریں اچھی ہیں، خواہ ان میں سے کچھ میں ظاہری طور پر برائی، یا تکلیف، یا ضرر ہی کیوں نہ ہو، لیکن آخر کار وہ بڑی بھلائی اور وسیع الٰہی حکمت پر مشتمل ہوتی ہیں۔
س(31)- کیا ماضی میں زمین پر ہونے والی مذہبی جنگیں مذہب کی وجہ سے ہوئیں؟
ج: انسانیت ہزاروں سالوں سے توحید کے قوانین کے ساتھ اور چار ہزار سال سے تین عظیم ابراہیمی قوانین (شریعتوں) کے ساتھ زندگی بسر کر رہی ہے، اس طویل عرصہ میں دین کبھی نسل انسانی کے لیے کوئی خطرہ نہیں رہا ہے، بلکہ اس نے انسانیت کے لیے اعلیٰ ترین اخلاقی اقدار پیش کی ہیں جن پر مومن اور ملحد دونوں متفق ہیں۔ نیز اس نے مستند (حقیقی) تہذیبیں قائم کیں، بلکہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ روئے زمین پر موجود ہر بھلائی ان نبوتوں کے اثرات سے ہے! دین نے ہزاروں مسائل کا حل پیش کرکے عدالتوں کا بوجھ کم کیا ہے اور ان سب سے بڑھ کر یہ کہ دین نے روئے زمین پر انسانی وجود کے مقصد کے لیے علم، سلوک اور اقدار کی بنیاد رکھی! جن ممالک نے توحید پر مبنی شریعتوں کو حرزجان بنایا وہاں آج تک ثقافتی تنوع موجود ہے جس کی وجہ سے مخالف شریعتوں کے حاملین کو بھی وہاں پر امن طور پر جینے کا حق حاصل ہے۔ ان ممالک نے توحیدی قوانین کے بموجب اپنے مخالفین کو بھی تحفظ فراہم کیا ہے، جبکہ دوسری طرف پچھلی ایک صدی میں جب کچھ ممالک الحاد سے قریب ہوئے، تو اس کے نتیجہ میں ساری انسانیت ہلاکت کے دہانے پر پہنچ گئی!اب دوبارہ ملحدین ہمیں یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دین انسانیت کے لیے خطرہ ہے! حالاںکہ حقیقت یہ ہے کہ انسانی تاریخ ابھی تک الحاد سے زیادہ خطرناک طریقہ کار نہیں جانتی۔ سابق سوویت یونین میں ملحد لینن کے ہاتھوں کو لاج کا قتل عام، نازی جرمنی میں نسلی اقلیتوں کا صفایا، کمبوڈیا کی ایک چوتھائی آبادی کا ملحد پول پوٹ Pol Pot کے ہاتھوں خالی ہونا، ملحد ماؤ زیڈونگMao Zedong کے ہاتھوں عظیم ثقافتی انقلاب میں 52 ملین چینیوں کا قتل، اور پورپ میں عسکریت پسند ملحدوں کی تنظیم League of Militant Atheistsکا ظہور جس نے سرکاری طور پر بیالیس ہزار دینی اداروں (گرجا گھروں اور مساجد) کو بند کردیا اور دسیوں ہزار دیندار لوگوں کو قتل کیا، یہ سب الحاد ہی کی دین ہے اور الحاد کے ظہور کے فطری نتائج ہیں۔[35] پہلی اور دوسری عالمی جنگیں ملحدانہ جنگیں تھیں، جو انسانی نسلوں کے ملحدانہ تصورات اور نسلی پاکیزگی کے لیے جدوجہد کرنے کے نظریات کے تحت چلتی تھیں۔ اس کے نتیجہ میں دنیا کی کل آبادی کے ۵٪ موت کے گھاٹ اتار دیے گئے، ان عالمی جنگوں نے فاتح اور مفتوح دونوں کو ترقی کی دوڑ میں ایک تہائی صدی پیچھے کردیا، فلاسفہ نے پیرس کے وسط میں ایک پیشاب خانہ تعمیر کرایا تھا جو انسانی تہذیب کے خاتمے کا استعارہ تھا، الحادی معرکہ آرائیوں نے اپنے پیچھے ایٹمی اسلحے کے ایسے خطرناک ذخیرے چھوڑے جو تمام بنی نوع انسان کو کئی مرتبہ ہلاک کرنے کے لئے کافی ہیں۔ بیسویں صدی کی جنگوں کا ایک سادہ سا مطالعہ بتاتا ہے کہ الحاد کتنا برا ہے۔ الحاد نے اپنے پیچھے یہ نظریہ بھی چھوڑا ہے کہ آئندہ کسی بھی معرکہ میں تمام بنی نوع انسان کے خاتمہ کا نظریہ ابھی بھی موجود ہے۔ یہی دنیا کے لیے الحاد کی متوقع دین ہے۔
[35] - https://en.wikipedia.org/wiki/League_of_Militant_Atheists
س(32)- مسلمان اپنے توحیدی دین سے وابستگی کے باوجود پسماندگی کا شکار کیوں ہیں، جبکہ مغربی دنیا اس قدر ترقی یافتہ ہے؟
ج: یہ تہذیب کا سوال ہے!
اور اس سوال کا سامنا کرنے میں انبیاء علیہم السلام کو کتنی ہی تکلیفیں اٹھانی پڑیں۔
اور اس کی وجہ سے (انبیاء کے) کتنے ہی پیروکار ان سے دور ہوگئے۔
تہذیب کا سوال تمام زمانوں میں قوموں کے کفر کی اصل وجہ رہی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’اور جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ان لوگوں سے کہتے ہیں جو ایمان لائے کہ دونوں گروہوں میں سے کون مقام میں بہتر اور مجلس کے اعتبار سے زیادہ اچھا ہے؟‘‘﴿73﴾
سورہ مریم
یہ ہمیشہ سے کافروں کا وطیرہ رہا ہے کہ جب ان کے سامنے دین کے صحیح ہونے سے متعلق دلائل وبراہین والی آیات تلاوت کی جاتی ہے، تو وہ لوگ کافر قوموں کی پیش قدمی کو بطور دلیل پیش کرنے لگتے ہیں۔
(أی الفریقین خیر مقاما وأحسن ندیا) ’’دونوں گروہوں میں سے کون مقام میں بہتر اور مجلس کے اعتبار سے زیادہ اچھا ہے؟‘‘
محقق ابراہیم السکران حفظہ اللہ کہتے ہیں: یہ ایک تاریخی قانون اور کائنات کے اندر جاری معمول ہے کہ انبیاء کے دور سے لےکر آج تک کے تمام مبلغین جو اللہ تعالیٰ کے پیغام کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں، انہیں اپنے سے برتر ’’مادی طاقتوں‘‘ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ مادی طاقتیں لوگوں کو وحی الٰہی کی اتباع سے روکتی ہیں۔
آپ انبیاء کے تجربات پر نظر ڈالیں، آپ کو معلوم ہو گا کہ ان میں سے تقریباً سبھی "وحی الٰہی" کے داعی اور "مادی طاقت" کے فتنہ کے درمیان کشمکش کا ایک بولتا ہوا مجسمہ ہیں۔ آپ یہ بھی دیکھیں گے کہ مادی فتنے کا جادو لوگوں کے سر چڑھ کر بولتا ہے، ان کی عقلوں پر حاوی ہوتا ہے اور انھیں وحی الٰہی کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے روکتا ہے، آپ یہ بھی دیکھیں گے کہ دین کے لیے کام کرنے والے عام لوگوں کے مادی ظہور میں مبتلا ہونے کی وجہ سے دو طرح کی تلخیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ چنانچہ سب سے پہلے رسول نوح علیہ السلام کی قوم نے ان سے پوری مادی بے تکلفی کے ساتھ کہا:
’’اور ہم تجھے نہیں دیکھتے کہ ان لوگوں کے سوا کسی نے تیری پیروی کی ہو جو ہمارے سب سے رذیل ہیں۔‘‘﴿27﴾
سورہ ھود
پھر جیسے ہی اللہ کے نبی موسیٰ علیہ السلام کا ظہور ہوتا ہے، وحی کے سامنے ایک بار پھر شہری طاقت کے ظلم اور استکبار کا سلسلہ دہرایا جانے لگتا ہے۔
’’اور موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب! بے شک تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں بہت سی زینت اور اموال عطا کیے ہیں، اے ہمارے رب! تاکہ وہ تیرے راستے سے گمراہ کریں۔‘‘﴿88﴾
سورہ یونس
ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ صورت حال کوئی نئی نہیں تھی، آپ کی نبوت اور آپ پر نازل ہونے والی وحی کے منکرین آپ کی مادی کمزوری کو آپ کی دعوت سے اعراض کا سبب قرار دیتے تھے۔
’’کہتے ہیں یہ قرآن دو شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نہ نازل کیا گیا۔‘‘﴿31﴾
سورہ الزخرف
ابراہیم سکران کی بات ختم ہوئی۔
ہر دور میں اور نبوت و رسالت کی پوری تاریخ میں کافر کی مادی طاقت انسانوں کے لیے فتنہ و آزمائش کا سب سے بڑا سبب رہی ہے۔
حالانکہ ترقی اور سچائی کے درمیان اصلا کوئی تعلق نہیں ہے۔
درحقیقت مادی ترقی اور پسماندگی کا اس سے کوئی تعلق نہیں کہ کون حق پر ہے اور کون باطل پر۔
کسی انسان کے علم و فضل اور صالحیت سے آراستہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ ترقی یافتہ اور مہذب بھی ہو۔
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے والا ہوتا ہے، لیکن وہ ایک معمولی اور محتاج انسان ہوتا ہے اور کبھی اس کے برعکس ہوتا ہے۔
بہت سی قومیں تہذیبی اعتبار سے ترقی یافتہ تھیں، لیکن اللہ کے دین و شریعت اور اس کی نازل کردہ وحی سے سب سے زیادہ دور تھیں۔
’’اور کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے۔ وہ ان سے قوت میں زیادہ سخت تھے اور انھوں نے زمین کو پھاڑا اور اسے آباد کیا اس سے زیادہ جو انھوں نے اسے آباد کیا ہے۔‘‘ ﴿9﴾
سورہ الروم
اس سے معلوم ہوا کہ مادی ترقی اور مال و اسباب کی کثرت صاحب حق کے خلاف معیار نہیں ہے۔
’’پھر جب ان کے رسول ان کے پاس واضح دلیلیں لے کر آئے تو وہ اس پر پھول گئے جو ان کے پاس کچھ علم تھا اور انھیں اس چیز نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔‘‘﴿83﴾
سورہ غافر
مطلب یہ کہ مادی ترقی نہ تو اپنے آپ میں قابل تعریف ہے نہ لائق مذمت ہے، بلکہ قابل تعریف بس اسی قدر ہے جتنا اس کا وحی الٰہی سے تزکیہ ہو جائے، جس قدر اس میں دین کی تنفیذ ہو، دین کے معاملہ میں آپ اس سے جس قدر فائدہ حاصل کریں اور جس قدر آپ اللہ کی خاطر اسے لوگوں کے فائدے اور بہتری کے لیے استعمال کریں۔
یہی مطلوبہ ترقی ہے۔
انسانوں کے درمیان فضیلت وبرتری کا حقیقی معیار ان کی مادی ترقی میں نہیں ہے، بلکہ تقوی اور عمل صالح کے ذریعے تفوق وبرتری میں ہے۔ مادی ترقی کو فقط وسیلہ کی حیثیت حاصل ہے، مقصد کی نہیں...مادی ترقی اللہ کی خاطر لوگوں کی خدمت کرنے اور انھیں فائدہ پہنچانے کاوسیلہ و ذریعہ ہے۔
لہٰذا یہ ایسی مادی ترقی ہوگی جس کا تزکیہ وحی الٰہی کے ذریعہ کیا گیا ہوگا، اور یہ واحد مطلوبہ مادی ترقی ہے۔
یہی زمین پر حقیقی جانشینی ہے: اللہ تعالیٰ کی بندگی کی جانشینی، اور زندگی کے تمام پہلوؤں کے لیے ایمانی تزکیہ (ایمان کی پاکیزگی) کی جانشینی۔
’’وہ لوگ کہ اگر ہم انھیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ دیں گے اور اچھے کام کا حکم دیں گے اور برے کام سے روکیں گے، اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے قبضہ میں ہے۔‘‘﴿41﴾
سورہ الحج
آپ یہ بات جان لیں کہ اگر مسلمان اپنی دینی ذمہ داریوں کو ادا کرے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا میں تمام بھلائیوں، سعادت و ترقی، اور آخرت میں نجات اور درجات کی بلندی کے اسباب آسان کر دے گا۔
’’اللہ نے ان لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، وعدہ کیا ہے کہ وہ انھیں زمین میں ضرور ہی جانشین بنائے گا، جس طرح ان لوگوں کو جانشین بنایا جو ان سے پہلے تھے اور ان کے لیے ان کے اس دین کو ضرور ہی اقتدار دے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے اور ہر صورت انھیں ان کے خوف کے بعد بدل کرامن دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے، میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں گے۔‘‘﴿55﴾
سورہ النور
جب مسلمانوں نے اپنی زندگی میں دین کو نافذ کیا تو وہ دین و دنیا دونوں کے امام و پیشوا تھے۔
اسلام نے ان کے ہاتھوں ایک ایسی تہذیب متعارف کروائی جو بارہ سو سال پر محیط ہے، یہ سب سے طویل انسانی تہذیب ہےجواس عرصے تک بغیر کسی توقف و انقطاع کے جاری رہی۔
اسلام نے اسلامی تہذیب کو پروان چڑھایا۔
اس طرح اسلام وہ واحد دین ہے جس نے ایک تہذیب قائم کی۔
جبکہ دیگر ادیان کو (اس وقت کی موجود) تہذیبوں نے اپنایا۔
آپ دیکھیں گے کہ عیسائیت کو مغربی تہذیب نے اپنایا اور ہندومت کو ہندوستانی تہذیب نے اپنایا۔
البتہ واحد مذہب جس نے تہذیب قائم کی وہ ہے: اسلام۔
جب مسلمانوں کو اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کا احساس تھا،تو انہوں نے مادی اور روحانی طور پر دنیا کی قیادت کی۔
1453ء میں جب اسلام قسطنطنیہ میں داخل ہوا، تو یورپ میں تاریک قرون وسطیٰ کا خاتمہ ہوا۔
تاریک دور کے خاتمے کی تاریخ 1453ء ہے،اور یہی وہ سال ہے جب اسلام یورپ میں داخل ہوا۔
جیسے ہی اسلام یورپ کے قلب میں داخل ہوا، اس میں علم کی روشنی چمکی۔
لائبریری آف کانگریس میں، لائبریری کے مرکزی ہال کی چھت پر دائرے کندہ ہیں جو مغربی تہذیب کی ترقی کے ذرائع کی نشاندہی کرتے ہیں، اور اسلام وہ واحد دین ہے جس کا ذکر سات دائروں میں ہے۔
اسلام وہاں مذکور تنہا وہ دین ہے، جس کا تعلق قدرتی علوم سے ہے۔
ISLAM: PHYSICS (اسلام: فزکس)
جب کہ باقی دائروں کا تعلق ملکوں کے ناموں سے ہے اور جو کچھ ان ممالک نے پیش کیا وہ ادبی، یا فنی یا لسانی ترقی ہے!
تاہم اسلام نے سائنس کو متعارف کرایا اور سات سو سال تک دنیا میں سائنس کی بین الاقوامی زبان عربی تھی۔۔[36]
[36]https://www.telegraph.co.uk/news/science/science-news/3323462/Science-Islams-forgotten-geniuses.html
جب مسلمان اپنی دینی حالت کو درست کر لیں گے تو ان کی دنیا بھی درست ہو جائے گی۔
س (33)- اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ثمرات کیا ہیں؟
ج: انسان کی یہ فطرت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے بغیر نہ تو وہ اپنی ذات کو جان سکتا ہے، نہ اس کی روح کو اطمینان حاصل ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے دل کی وحشت کو تسکین ملتی ہے۔
’’وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے اطمینان پاتے ہیں۔ سن لو! اللہ کی یاد ہی سے دل اطمینان پاتے ہیں۔‘‘﴿28﴾
سورہ الرعد
عبادت کرنے سے دل کو سکون ملتا ہے۔
’’اور بلاشبہ یقیناً ہم جانتے ہیں کہ بے شک تیرا سینہ اس سے تنگ ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیں۔‘‘﴿97﴾
’’پس اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوجا۔‘‘﴿98﴾
’’اور اپنے رب کی عبادت کر۔‘‘
سورہ الحجر
اپنے رب کی عبادت کریں: تاکہ آپ کے دل کو سکون ملے۔
یہی وجہ ہے کہ خشوع و خضوع اور تدبر کے ساتھ ادا کی گئی دو رکعتیں انسانی روح میں وہ کام کرتی ہیں جو گھنٹوں کی نفسیاتی تسکین کی نشستیں نہیں کرتیں۔
عبادت میں انسانی نفس کی تسکین ہے۔ اور جو شخص ذکر الٰہی سے دور ہوتا ہے اس کا سینہ تنگ ہوجاتا ہے۔ اس لیے آپ اسے ہمیشہ دنیا کے لیے تڑپتے ہوئے پاتے ہیں، نہ تو وہ سیر ہوتا ہے اور نہ ہی اسے اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
’’اور جس نے میری نصیحت سے منہ پھیرا تو بے شک اس کے لیے تنگ گزران ہے۔‘‘﴿124﴾
سورہ طه
انسان چاہے جس قدر رزق میں کشادگی کی حالت میں ہو، لیکن ایمان کے بغیر وہ تنگی کی زندگی جیتا ہے اور نامعلوم کے ساتھ ایک جنونی اور نہ ختم ہونے والی دوڑ میں رہتا ہے، لہذا آپ اسے ہمیشہ بے چین و پریشان دیکھتے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”جو شخص دنیا کی فکر میں رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے اس کے معاملات کو منتشر کر دیتا ہے، اس کے فقر و محتاجی کو اس کے سامنے لا دیتا ہے اور اسے دنیا اتنی ہی حاصل ہوتی ہے جو اس کے لئے مقدر کر دی گئی ہے۔ اورجس کی نیت طلب آخرت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کے معاملات کو یکجا کر دیتا ہے، اس کے دل میں استغنا(بےنیازی) پیدا کردیتا ہے اور اس کے پاس دنیا ذلیل ہو کر آتی ہے۔“[37]
[37] صحیح سنن ترمذی، حدیث نمبر: (2465)
عبادت مسلمان کو دنیا کے سامنے جھکنے سے بچاتی ہے اور اسے آزادی عطا کرتی ہے۔
اسی لیے وہ مسلمان جو حقیقی معنوں میں اللہ کی عبادت کرتا ہے، وہ انسان ہے جو زندگی کے مفہوم کو سمجھتا ہے، دنیا کی قدر و قیمت کو سمجھتا ہے، اس دنیا میں اپنے وجود کے مقصد کو سمجھتا ہے، اور یہ سمجھتا ہے کہ وہ اس دنیا میں آزمائش کے لیے آیا ہے اور اس مقصد کے لیے کہ وہ اپنے رب کی کما حقہ عبادت کرے، اس لیے نہیں ہے کہ وہ بے کار طور پر بے چینی و پریشانی میں زندگی گزارے، ہمارے رب سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’وہ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا، تاکہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے۔‘‘﴿2﴾
سورہ الملک
34- اللہ عزوجل کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے مظاہر کیا ہیں؟ یا دوسرے الفاظ میں: آپ کو کیسے پتہ چلے گا کہ آپ مکمل طور پر اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والے ہیں؟
جواب: اللہ تعالیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی چار نشانیاں ہیں اور وہ یہ ہیں:
اولاََ: اپنی زندگی کے ہر چھوٹے بڑے معاملے میں اللہ کی بندگی کرنا، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"اور آپ فرما دیجیے کہ بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے، جو جہانوں کا رب ہے۔" (162)
’’اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں حکم ماننے والوں میں سب سے پہلا ہوں۔‘‘ (163)
سورہ الانعام
میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے: یعنی میں جو کچھ بھی کرتا ہوں وہ اللہ کے لیے ہے، میں اللہ ہی کے لیے نماز پڑھتا ہوں، اللہ ہی کے لیے اپنے والدین کی اطاعت کرتا ہوں، میں پڑھتا اور سیکھتا ہوں تاکہ اللہ کے لیے لوگوں کو فائدہ پہنچا سکوں،اور میں سوتا بھی اسی لیے ہوں تاکہ اگلے دن اللہ کے احکام کی بجا آوری کے لیے میرے جسم میں توانائی برقرار رہے۔
ہر کام میں اللہ کی بندگی کا مطلب یہی ہے، اور یہ اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا پہلا مظہر اور نشانی ہے۔
اللہ کے سامنے مکمل طور پر سر تسلیم خم کرنے کی دوسری نشانی: اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا حکم دیا ہے اس کو بجا لانا،اور جس چیز سے منع فرمایا ہے اس سے بچنا، فرمان باری ہے:
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا اور اس کے رسول کا حکم مانو اور اس سے منہ نہ پھیرو، جب کہ تم سن رہے ہو۔‘‘﴿20﴾
سورہ الانفال
ایک دوسری جگہ اللہ نے ارشاد فرمایا:
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ۔" [208]۔
سورہ البقرة
’’فِي السِّلْمِ ‘‘ یعنی: اسلام میں۔
’’ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً‘‘: یعنی اللہ نے جس چیز کا حکم دیا ہے اس کی تعمیل کرو اور جس سے منع کیا ہے اس سے باز رہو۔
اللہ نے مجھے جس چیز کا حکم دیا ہے‘ وہ میں کروں...جس چیز سے منع کیا ہے‘ اس سے باز رہوں، یہی مکمل طور پر اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنا اور اس کی تابعداری کرنا ہے۔
اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی تیسری نشانی یہ ہے کہ: ہم اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کو تسلیم کریں، لھٰذا ہم اس کی شریعت سے راضی ہوں اور اسے قبول کریں۔
ہم ہر الہی قانون کو قبول کریں اور کسی چیز کا انکار نہ کریں، مثال کے طور پر، اللہ کی طرف سے مقرر کردہ سزائیں۔ بلکہ ہمارے لیے اللہ کے قانون سے راضی ہونا ضروری ہے، کیوں کہ اللہ جانتا ہے کہ اس کی مخلوق کی اصلاح کس چیز سے ہوسکتی ہے، وہ بخوبی جانتا ہے کہ یہ سزائیں معاشرے کو پاک کرتی ہیں: ’’کیا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا ہے اور وہی تو ہے جو نہایت باریک بین ہے، کامل خبر رکھنے والا ہے۔‘‘[سورہ الملک:14]
اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا:
’’اور اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کون ہے؟‘‘﴿50﴾
سورہ المائدۃ
لہذا اللہ ہی جانتا ہے کہ لوگوں کے لیے ان کی دنیا اور آخرت میں کون سی چیز بہتر ہے۔
اللہ کی شریعت کا نفاذ لوگوں کو پاکیزہ بناتا ہے اور انہیں امن وامان والی زندگی عطا کرتا ہے۔
ایک شخص جو اللہ پر اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کردہ شریعت پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتا تھا‘ وہ کسی معاملہ میں فیصلہ کرانے کے لیے کعب بن اشرف یہودی کے پاس گیا‘ اور اس ڈر سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں گیا کہ کہیں آپ ایسا فیصلہ نہ کردیں جو اسے پسند نہ ہو۔ چنانچہ وہ اپنے من پسند فیصلہ کی امید میں یہودی کے پاس چلا گیا‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
"کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا، جن کا دعویٰ تو یہ ہے کہ جو کچھ آپ پر اور جو کچھ آپ سے پہلے اتارا گیا ہے، اس پر ان کا ایمان ہے، لیکن وه اپنے فیصلے غیر اللہ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں، حاﻻنکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ شیطان کا انکار کریں اور شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ انہیں بہکا کر دور ڈال دے۔‘‘﴿60﴾
سورہ النساء
اگر آپ اللہ کی تابع داری کرنے والے مسلمان ہیں، تو آپ کے لیے ضروری ہے اللہ کی شریعت کو لازم پکڑیں اور اللہ کے فیصلہ کو قبول کریں‘ خواہ وہ آپ کی خواہش کے برخلاف ہی کیوں نہ ہو‘ ایسا نہ ہو کہ اللہ کی شریعت کو چھوڑ کر کسی یہودی کے پاس چلے جائیں کہ وہ آپ کے کیس میں ایسا فیصلہ کرے جس سے آپ خوش ہوجائیں۔
اللہ تعالیٰ نے اگلی آیتوں میں ارشاد فرمایا:
’’اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس لیے کہ اللہ کے حکم سے اس کی فرماں برداری کی جائے۔‘‘﴿64﴾ سورة النساء.
اللہ نے رسولوں کو اس لیے نہیں بھیجا کہ ہم ان کو چھوڑ کر ان کے علاوہ دوسروں کا فیصلہ تلاش کریں۔
پھر اللہ نے اس واقعہ اور اس جیسے دیگر واقعات سے حاصل ہونے والے سبق کو ایک اہم آیت کے ساتھ ختم کیا ہے جو کسی بھی معاملے کے فیصلے کو اللہ کی شریعت کی طرف لے جانے کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہے۔ ہمارے رب العزت نے فرمایا:
’’پس نہیں! تیرے رب کی قسم ہے! وہ مومن نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ تجھے اس میں فیصلہ کرنے والا مان لیں جو ان کے درمیان جھگڑا پڑجائے، پھر اپنے دلوں میں اس سے کوئی تنگی محسوس نہ کریں جو تو فیصلہ کرے اور (اسے) پوری طرح تسلیم کرلیں۔‘‘﴿سورة النساء:65﴾
لہذا اللہ کی شریعت کے سامنے مکمل طور پر سر تسلیم خم کرنا واجب ہے کیونکہ اللہ کی شریعت کے سامنے سر تسلیم خم کرنا اسلام کے تابع ہونے کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے!
جہاں تک اللہ رب العزت کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی چوتھی نشانی کی بات ہے، تو وہ ہے: اللہ کی تقدیر کے آگے سر تسلیم خم کرنا۔ کیوں کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے ساتھ مقدر کی ہے، اور اسی لیے مسلمان اللہ کی تمام تقدیروں میں اس کے سامنے سر تسلیم خم کردیتا ہے…چاہے معاملہ خیر کا ہو یا شر کا۔
اگر ایک مسلمان کو کوئی خوشی پہنچتی ہے تو وہ شکر بجا لاتا ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے۔
اگر اللہ تعالی آپ کو کھانا‘ یا اچھا رزق‘ یا خوبصورت گھر‘ یا پڑھائی میں کامیابی‘ یا جسمانی صحت یا اچھے اہل خانہ سے نوازے، تو آپ کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
اگر کسی مسلمان کو بیماری، یا غربت، یا خوف، یا رنج و غم جیسی کوئی مصیبت پہنچ جائے،تو اسے اس مصیبت پر صبر کرنا چاہیے اور اللہ سے مدد مانگنی چاہیے۔ اپنے پاک پروردگار کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والے فرمانبردار مسلمان کا یہی رویہ ہوتا ہے۔
لہذا ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے ہوتی ہے: صحت و بیماری، امیری و غریبی… ہر چیز اس کی تقدیر اور حکمت کے مطابق ہوتی ہے، اور مسلمان کو تقدیر پر قناعت کرنی چاہیے کیونکہ اللہ ہی اس کا تعین کرنے والا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک (مقرره) اندازے کے ساتھ پیدا کیا ہے۔‘‘[49]
سورۃ القمر
ایک اور جگہ اللہ تعالی فرماتا ہے :
’’کہہ دے ہمیں ہرگز کوئی نقصان نہ پہنچے گا مگر جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا۔‘‘﴿51﴾
سورۃ التوبہ
ہمیں صرف وہی پہنچے گا جو اللہ نے ہمارے لیے مقدر کیا ہے۔
نیز عزیز وبرتر پروردگار نے فرمایا:
’’اور کسی جان کے لیے کبھی ممکن نہیں کہ اللہ کے حکم کے بغیر مر جائے۔‘‘﴿145﴾
سورۃ آل عمران
موت کے اوقات اللہ نے لکھ رکھے ہیں۔
کائنات میں وقوع پذیر ہونے والی ہر چیز، دنیا میں ہر ذرے کی نقل وحرکت اور ہر واقعہ جو رونما ہوتا ہے، وہ سب کچھ اللہ کے علم، اس کی مشیت‘ اس کی تقدیر، اس کی حکمت اور اس کی قدرت کے ساتھ ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا، پھر اس کا ٹھیک ٹھیک اندازہ مقرر کیا۔‘‘﴿2﴾
سورۃ الفرقان
چنانچہ اللہ پاک نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور ہر چیز کا مناسب اندازہ مقرر کیا۔ جو اس نے چاہا وہ ہوا اور جو اس نے نہیں چاہا وہ نہیں ہوا۔
لہذا ایک مسلمان ہونے کے ناطے، مجھ پر لازم ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی تمام تقدیروں کو قبول کروں۔
اس طرح ایک انسان اللہ کےسامنے سر تسلیم خم کرنے والا ہو جاتا ہے۔
آخری سوال! میں اسلام میں کیسے داخل ہوں؟
اسلام تمام انسانوں کے لیے اللہ کا دین ہے۔ ارشاد باری ہے:
’’بے شک اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔‘‘﴿19﴾
سورۃ آل عمران
چنانچہ اسلام وہ واحد دین جس کے علاوہ اللہ کوئی دین قبول نہیں کرےگا۔
’’اور جو اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرے، تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔‘‘ (85)۔
سورۃ آل عمران
اس لیے ہر انسان پر اسلام قبول کرناواجب ہے۔
کیوں کہ اسلام ہی میں جہنم سے نجات اور اللہ کی رضا اور جنت کا حصول ممکن ہے۔
اسلام میں داخل ہونا عظیم ترین نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے، بلکہ یہ آپ کے وجود میں سب سے بڑی اور اہم چیز ہے۔
اسلام اپنی حقیقت میں عقل وفطرت کی طرف واپسی ہے۔
اسلام میں داخل ہونا بہت آسان کام ہے، اس کے لیے رسومات یا رسمی امور کی ضرورت نہیں ہے۔ بس ایک شخص کو یہ کہہ کر دو شہادتیں ادا کرنی ہوں گی: أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدًا رسول الله ( یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں)۔
اس طرح وہ مسلمان ہو گیا۔
پھر وہ اسلام پر عمل کرنا شروع کردے گا۔
آخر میں میری یہ وصیت ہے کہ ہر انسان اپنی زبان میں اسلام ہاوس ویب سائٹ کو بار بار وِزٹ کرے، تاکہ ایک نیا مسلمان اسلام پر عمل کرنے کا طریقہ سیکھ سکے۔
ويب سائٹ لنک: https://islamhouse.com