Skip to content

"قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی، جب تک وقت اتنا سکڑ نہ جائے

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

"قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی، جب تک وقت اتنا سکڑ نہ جائے کہ سال مہینے کی طرح ہو جائے، مہینہ ہفتے کی طرح ہو جائے، ہفتہ دن کی طرح ہو جائے، دن گھنٹے کی طرح ہو جائے اور گھنٹہ کھجور کے پتے کو جلنے میں لگنے والے وقت کی طرح ہو جائے۔"

«لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَقَارَبَ الزَّمَانُ، فَتَكُونَ السَّنَةُ كَالشَّهْرِ، وَيَكُونَ الشَّهْرُ كَالْجُمُعَةِ، وَتَكُونَ الْجُمُعَةُ كَالْيَوْمِ، وَيَكُونَ الْيَوْمُ كَالسَّاعَةِ، وَتَكُونَ السَّاعَةُ كَاحْتِرَاقِ السَّعَفَةِ الْخُوصَةُ».

اسے احمد نے روایت کیا ہے
حديث صحيح
شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ وقت سکڑ جائے گا۔ چنانچہ سال مہینے کی طرح گزر جائے گا، مہینہ ہفتے کی طرح بیت جائے گا، ہفتہ دن کی طرح چلا جائے گا، دن ایک گھنٹے کی طرح اڑن چھو ہوجائے گا، اور گھنٹہ اتنی تیزی کے ساتھ گزر جائے گا کہ اس میں بس اتنا ہی وقت لگے گا، جتنا وقت کھجور کے پتے کو جلنے میں لگتا ہے۔

کلمات کے معانی

...:

حدیث کے بعض فوائد

قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی وقت کی برکت کا اٹھا لیا جانا اور اس کا تیزی سے گزر جانا ہے۔

حوالہ جات
مزید (5)

مُسنَد احمد (16/ 550) (10943).

معالم السنن (4/341).

فتح الباري (13/16).

شرح سنن أبي داود لابن رسلان (16/678).

تحفة الأحوذي (6/514).