Skip to content

”ابن آدم نے مجھے جھٹلایا۔ حالاں کہ اسے یہ زیب نہیں دیتا۔ اس نے مجھے گالی دی۔ حالاں کہ اسے یہ زیب نہیں دیتا۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں :

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "اللہ تعالی نے کہا : ”ابن آدم نے مجھے جھٹلایا۔ حالاں کہ اسے یہ زیب نہیں دیتا۔ اس نے مجھے گالی دی۔ حالاں کہ اسے یہ زیب نہیں دیتا۔ جہاں تک اس کا مجھے جھٹلانے کی بات ہے، تو یہ دراصل اس کا یہ کہنا ہے کہ میں نے جس طرح اسے پہلی بار پیدا کیا ہے، اس طرح اسے دوبارہ پیدا نہیں کروں گا۔ حالاں کہ میرے لیے اسے پہلی بار پیدا کرنا دوسری بار پیدا کرنے سے آسان نہیں ہے۔ جب کہ اس کا مجھے گالی دینا اس کا یہ کہنا ہے کہ اللہ نے اپنا بیٹا بنا رکھا ہے۔ حالاں کہ میں ایک ہوں۔ بے نیاز ہوں۔ نہ میری کوئی اولاد ہے اور نہ میں کسی کی اولاد ہوں۔ کوئی میرا ہم سر بھی نہیں ہے۔"

عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «قَالَ اللَّهُ: كَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، وَشَتَمَنِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، فَأَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ فَقَوْلُهُ: لَنْ يُعِيدَنِي، كَمَا بَدَأَنِي، وَلَيْسَ أَوَّلُ الخَلْقِ بِأَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ إِعَادَتِهِ، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ فَقَوْلُهُ: اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا وَأَنَا الأَحَدُ الصَّمَدُ، لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لِي كُفْؤًا أَحَدٌ».

اسے بخاری نے روایت کیا ہے
حديث صحيح
شرح

اس حدیث قدسی میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہيں کہ اللہ عز و جل نے کفار و مشرکین کے بارے میں بتایا کہ وہ اسے جھٹلاتے ہیں اور کمیوں، عیوب اور نامناسب باتوں سے متصف کرتے ہيں, جو کہ ان کے لئے قطعا مناسب نہیں ہے۔ جہاں تک ان کے ذریعے اللہ کو جھٹلائے جانے کی بات ہے، تو یہ دراصل ان کا یہ زعم ہے کہ اللہ موت کے بعد ان کو دوبارہ زندہ نہیں کرے گا، جس طرح پہلی بار عدم سے وجود بخشا تھا۔ اللہ نے ان کا رد کرتے ہوئے کہا کہ جس نے ان کو عدم سے وجود بخشا، وہ ان کو دوبارہ پیدا کر سکتا ہے۔ بلکہ یہ کام اس کے لیے کہیں زیادہ آسان ہے۔ گرچہ (اگر حقیقت کى رو سے دیکھا جائے) تواللہ کے لئے پہلی بار اور دوبارہ پیدا کرنا دونوں برابر ہیں, کیوں کہ وہ ہر چيز پر قادر ہے۔ جب کہ ان کے گالی دینے سے مراد ان کا یہ کہنا ہے کہ اللہ کی اولاد ہے۔ اللہ نے ان کا رد کرتے ہوئے کہا کہ اللہ اکیلا، اپنے ناموں، صفات اور افعال کے اندر ہر طرح کے کمال کی حامل واحد ہستی، ہر نقص و عیب سے پاک اور بے نیاز ہے کہ سب اس کے محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔ وہ کسی کا والد نہيں، کسی کی اولاد نہيں، کوئی اس کا ہم سر اور مثیل و نظیر بھی نہيں ہے۔

کلمات کے معانی

...:

حدیث کے بعض فوائد

اللہ کے کمال قدرت کا اثبات۔

موت کے بعد دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے جانے کا اثبات۔

دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کرنے یا اللہ کی اولاد ہونے کا دعوی کرنے والے کا کفر۔

اللہ کا کوئی مثیل و نظیر نہيں ہے۔

اللہ کا وسیع حلم وبردباری اور کافروں کو مہلت دینا کہ شاید توبہ کرلیں اور اس کے در پر لوٹ آئيں۔

حوالہ جات
مزید (7)

صحیح بخاری (6/ 180) (4974).

عمدة القاري شرح صحيح البخاري.

لمحمود بدر الدين العينى (20/ 9).

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح.

لعلي القاري (1/ 94).

القواعد المثلى في صفات الله وأسمائه الحسنى.

لابن عثيمين (ص26).