Skip to content

نبی کریم ﷺ کو ایک سورت ختم ہوکر دوسری سورت شروع ہونے کا علم اس وقت تک نہ ہوتا، جب تک آپ پر «بسم الله الرحمن الرحيم» نہ اترتی۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:

نبی کریم ﷺ کو ایک سورت ختم ہوکر دوسری سورت شروع ہونے کا علم اس وقت تک نہ ہوتا، جب تک آپ پر «بسم الله الرحمن الرحيم» نہ اترتی۔

كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَليهِ وَسَلَّمَ لا يَعْرِفُ فَصْلَ السُّورةِ حَتَّى تَنْزِلَ عَليْهِ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ}.

اسے ابو داود نے روایت کیا ہے
حديث صحيح
شرح

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنمہا بتا رہے ہیں کہ قرآن کریم کی سورتیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اترتیں اور آپ کو یہ پتہ نہیں چلتا کہ ایک سورت ختم ہوکر دوسری سورت کہاں ختم ہو رہی ہے، یہاں تک کہ (بسم اللہ الرحمن الرحیم) نازل ہوتی، جس سے آپ سمجھ جاتے کہ سابقہ سورت ختم ہوگئی ہے اور ایک نئی سورت شروع ہونے والی ہے۔

کلمات کے معانی

...:

حدیث کے بعض فوائد

بسم اللہ کے ذریعہ دو سورتوں کے درمیان فاصلہ ڈالا جاتا ہے سوائے سورہ انفال اور سورہ توبہ کے۔

حوالہ جات
مزید (4)

سننِ ابو داود (2/ 91) (788).

شرح سنن أبي داود للعباد (102/ 15).

التنوير شرح الجامع الصغير (8/503).

عون المعبود (2/353).