أسئلة وأجوبة عن شهر رمضان للصغار، ولا يستغني عنها الكبار

أسئلة وأجوبة عن شهر رمضان للصغار، ولا يستغني عنها الكبار

ماہِ رمضان سے متعلق چھوٹے بچوں کے لیے سوالات و جوابات، جو بڑوں کے لیے بھی ناگزیر ہیں

Language: lang_ur
Prepared by: جمعیۃ خدمۃ المحتوى الإسلامی باللغات
Version: 1.0
Translations 14
Amharic Bengali English Spanish +10
Attachments 7
PDF
Audio
Video
+3

ماہِ رمضان سے متعلق چھوٹے بچوں کے لیے سوالات و جوابات، جو بڑوں کے لیے بھی ناگزیر ہیں

جمعیۃ خدمۃ المحتوى الإسلامی باللغات

شروع اللہ کے نام سے جو بہت مہربان نہایت رحم والا ہے

مقدّمہ

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جس نے ماہِ رمضان کو بنایا اور اسے دیگر مہینوں اور دنوں کے مقابلے میں بے شمار فضیلتیں عطا کیں، اور ہم درود وسلام بھیجتے ہیں محمد بن عبد اللہﷺ پر، آپ کی آل اور صحابہ کرام پر۔ اما بعد:

یہ ماہِ رمضان سے متعلق چھوٹے بچوں کے لیے چند سوالات و جوابات ہیں جن سے بڑوں کے لیے بھی بے نیاز ہونا ممکن نہیں۔ اس میں رمضان المبارک کے واجبات، مستحبات اور مناسب اعمال کا ذکر ہے، مربی اس میں سے وہ سوالات اختیار کر سکتا ہے جو بچے کی عمر اور سمجھ کے لیے مناسب ہوں۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے بچوں کو چھوٹی عمر میں ہی روزہ رکھواتے تھے تاکہ وہ اس عبادت کے عادی بن جائیں۔

ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عاشوراء کی صبح مدینہ کے ارد گرد انصار کی بستیوں کی طرف یہ پیغام بھیجا: ''جس نے روزہ کی حالت میں صبح کی ہے، وہ اپنا روزہ پورا کرے، اور جس نے افتطار کی حالت میں صبح کی ہے، وہ اپنے دن کے باقی حصے کا روزہ پورا کرے''۔ اس کے بعد ہم خود روزہ رکھتے، اور اگر اللہ چاہتا تو اپنے چھوٹے بچوں کو بھی روزہ رکھواتے تھے، اور ہم (ان کے ہمراہ) مسجد جاتے تو ان کے لیے اون کا کھلونا (گڑیا) بنالیتے، جب ان میں سے کوئی افطار کے قریب کھانے کے لیے روتا تو ہم (اس کا دل بہلانے کے لیے) وہ (کھلونا) اسے دے دیتے۔ (صحیح بخاری : 1960، صحیح مسلم : 1136 اور یہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں)۔

اس حدیث میں اس بات کا ذکر ہے کہ صحابہ کرام اپنے بچوں کے لیے رنگین اون سے بنے ہوئے کھلونے تیار کرتے تھے، جب ان میں سے کوئی بچہ کھانے کے لیے روتا تو اسے وہ کھلونے دے دیتے تاکہ وہ ان سے دل بہلائے، یہاں تک کہ افطار کا وقت آ جائے؛ یہ سب بچوں کو عبادت کی ترغیب دینے اور ان کی تربیت کرنے کے لیے کیا جاتا تھا۔

یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اگر بچے پر روزے کی مشقت حد سے بڑھ جائے تو اسے اس بات پر اصرار نہ کیا جائے کہ وہ روزہ مکمل کرے، تاکہ یہ اس کے دل میں عبادت سے نفرت نہ پیدا کرے، یا اسے جھوٹ بولنے پر مجبور نہ کرے، یا بیماریوں میں اضافے کا سبب نہ بنے، کیونکہ وہ مکلف نہیں ہے۔ اس لیے اس بات کا خیال رکھنا چاہیے اور روزہ رکھنے کے معاملے میں اس کے ساتھ سختی نہیں کرنی چاہیے۔

اور اتمام فائدہ کے لیے ہم نے وہ مسائل بھی ذکر کر دیے ہیں جن کو جاننا بڑوں کے لیے ضروری ہے، اور چھوٹے بچوں کو تعلیم دیتے وقت ان سے اجتناب کرنا چاہیے، ہم نے ایسے مسائل کی نشاندہی قوسین میں "للكبار" (بڑوں کے لیے) لکھ کر کی ہے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو نفع بخش بنائے اور قبول فرمائے۔

سوالات و جوابات

ماہِ رمضان کیا ہے؟

ج- ماہِ رمضان سال کا سب سے بہترین مہینہ ہے، یہ قمری سال کا نواں مہینہ ہے، اور اس کا روزہ رکھنا اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن ہے۔

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“ (صحیح بخاری: 8، صحیح مسلم: 16)۔

کیا ماہِ رمضان کے روزے رکھنا واجب ہے؟

ج- جی ہاں، رمضان کے روزے رکھنا واجب ہے جو کہ دین اسلام کا ایک رکن ہے۔

اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ’’اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو‘‘۔ [البقرۃ : 183]۔

﴿كُتِبَ عَلَیۡكُمُ﴾، یعنی تم پر فرض کیا گیا ہے۔

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’جو شخص اس مہینہ کو پائے اسے روزه رکھنا چاہئے‘‘۔ [البقرۃ : 185]۔

روزہ کیا ہے؟

ج- ’روزہ‘ طلوع فجر سے غروب آفتاب تک نیت کے ساتھ کھانے پینے اور دیگر مفطرات سے باز رہ کر اللہ سبحانہ وتعالی کی عبادت کرنے کا نام ہے۔

اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ’’تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاه دھاگے سے ﻇاہر ہوجائے۔ پھر رات تک روزے کو پورا کرو‘‘۔ [البقرۃ : 187]۔

یعنی: رات بھر کھاتے پیتے رہو، یہاں تک کہ تم پر فجر صادق کا طلوع ہونا اور صبح کی سفیدی کا رات کی سیاہی سے الگ ہونا ظاہر ہوجائے، پھر طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب تک مفطرات سے پرہیز کرتے ہوئے روزہ مکمل کرو۔

ماہِ رمضان کے فضائل کیا ہیں؟

ج- اس کے بہت سے فضائل ہیں۔ جن میں سے چند یہ ہیں:

1- اس ماہ میں قرآن اتارا کیا گیا، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "ماہِ رمضان وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کو ہدایت کرنے والا ہے اور جس میں ہدایت کی اور حق وباطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں‘‘۔ [البقرۃ : 185]۔

2- اس میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔

3- اس میں جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔

4- اس میں شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے، چنانچہ وہ مسلمانوں کو فتنے میں ڈالنے میں اس طرح کامیاب نہیں ہو پاتے جیسے دوسرے ایام میں ہوتے ہیں۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں‘‘۔ (صحیح بخاری : 3277، صحیح مسلم : 1079)۔

5- اس میں شبِ قدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے اس رات میں قیام کرے (اسے عظیم اجر ملے گا)۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’شبِ قدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے‘‘۔ [القدر : 3]۔

6- اللہ نے اس مہینے کو روزے کی فرضیت کے ساتھ خاص کیا جو کہ اللہ تعالیٰ سے قریب کرنے والا عظیم ترین اور جلیل القدر عمل ہے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’اللہ عزوجل فرماتا ہے: ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے، سوائے روزے کے، وہ صرف میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے، روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے‘‘۔ (صحیح بخاری : 1904، صحیح مسلم : 1151)۔

’’روزے دار کے منہ کی بدلی ہوئی بو" یعنی: اس کے منہ کی بو کا تبدیل ہونا۔

7- جو شخص خالصتاً اللہ کے لیے رمضان کے روزے رکھے اور اس میں قیام (عبادت) کرے، اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ایمان کے ساتھ اور اجر وثواب کے حصول کی نیت سے رمضان کا روزہ رکھا، اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے‘‘۔ (صحیح بخاری : 38، صحیح مسلم : 760)۔

جب کہ ایک اور حدیث میں ہے: ”جس نے ایمان کے ساتھ اور اجر وثواب کے حصول کی نیت سے رمضان کا قیام کیا اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے‘‘۔ (صحیح بخاری : 37، صحیح مسلم : 759)۔

ایماناً یعنی: اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہوئے، اور اس بات پر ایمان رکھتے ہوئے کہ یہ اللہ پاک کی طرف سے فرض ہے۔

’احتساباً‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب کی طلب میں، نہ کہ ریاکاری میں یا کوئی اور مقصد سے جو اخلاص کے منافی ہو۔

8- رمضان میں عمرہ کرنے کا ثواب حج کے برابر ہے۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’رمضان میں کیا گیا عمرہ حج کے برابر ہے۔ یا (آپ ﷺ نے فرمایا کہ) میرے ساتھ کئے گئے حج کے برابر ہے‘‘۔ (صحیح بخاری : 1863، صحیح مسلم : 1256)۔

’’تَقْضِي حَجَّةً‘‘ یعنی : اس کا ثواب حج کے ثواب کے برابر ہے۔

9- جو شخص کسی روزے دار کو افطار کرائے، اسے روزے دار کے برابر ثواب ملے گا۔

زید بن خالد الجھنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’جس نے کسی روزے دار کو افطار کرایا، اسے روزے دار کے برابر ثواب ملے گا اور روزے دار کے اجر وثواب میں کوئی کمی نہ ہو گی‘‘۔ (سنن ترمذی : 807، سنن ابن ماجہ : 1746)۔

10- اللہ تعالیٰ ہر رات کچھ لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے۔

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالی ہر افطار کے وقت کچھ لوگوں کو (جہنم سے) آزاد کرتا ہے، اور یہ ہر رات ہوتا ہے‘‘۔ (سنن ابن ماجہ : 1643)۔

11- رمضان کے روزے رمضان سے پہلے کے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ فرمایا کرتے تھے: ’’پانچوں نمازیں، ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک اپنے مابین سرزد ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے‘‘۔ (صحیح مسلم : 233)۔

کبیرہ گناہوں کی معافی کے لیے توبہ ضروری ہے۔

عمومی طور پر نصوص سے ثابت ہوتا ہے کہ رمضان کا مہینہ عبادت، نیکی، سخاوت، رحمت، مغفرت اور جہنم سے آزادی کا مہینہ ہے۔

روزے کے فضائل کیا ہیں؟

ج- روزے کے فضائل میں سے کچھ حسبِ ذیل ہیں:

1- اللہ تعالیٰ اس عمل پر خاص انعام و اکرام فرماتا ہے جو اسے دیگر اعمال سے ممتاز کرتا ہے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے، سوائے روزے کے کہ وہ صرف میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا"۔ (صحیح بخاری: 1904، صحیح مسلم: 1151)۔

2- روزہ ڈھال ہے، یعنی: آگ سے بچاؤ اور حفاظت کا ذریعہ ہے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’روزہ ڈھال ہے‘‘۔ (صحیح بخاری: 1904، صحیح مسلم: 1151)۔

3-روزہ دار کے منہ کی بو - جو کہ منہ کی ناپسندیدہ بو ہوتی ہے - اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے‘‘۔ (صحیح بخاری: 1894، صحیح مسلم: 1151)۔

4- روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک افطار کے وقت اور دوسری خوشی اس وقت حاصل ہوگی، جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا‘‘۔ (صحیح بخاری: 1904، صحیح مسلم: 1151)۔

5- جنت میں ایک دروازہ ہے جس سے صرف روزے دار داخل ہوں گے۔

سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے۔ روزِ قیامت اس سے صرف روزے دار داخل ہوں گے۔ ان کے سوا اس سے کوئی اور داخل نہیں ہو گا۔ کہا جائے گا: روزے دار کہاں ہیں؟ تو وہ کھڑے ہوں گے (اور اس سے داخل ہو جائیں گے)، ان کے علاوہ اس سے کوئی اور داخل نہیں ہوگا۔ جب وہ داخل ہو جائیں گے تو اسے بند کر دیا جائے گا۔ چنانچہ کوئی اور اس سے داخل نہیں ہوگا‘‘۔ (صحیح بخاری: 1896، صحیح مسلم: 1152)۔

6- روزے دار کی دعا رد نہیں کی جاتی۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تین لوگوں کی دعا رد نہیں کی جاتی ہے؛ - ان میں سے- روزہ دار کی دعا جب تک افطار نہ کر لے‘‘۔ (سنن ترمذی : 3598)۔

روزے کی حکمت اور فائدہ کیا ہے؟

ج- روزے کی بہت ساری حکمتیں اور بڑے فوائد ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:

1- اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ عظیم حکمتوں میں سے ایک یہ ہے کہ یہ تقوی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، اور تقوی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اوامر کو بجالایا جائے اور اس کے نواہی سے اجتناب کیا جائے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو‘‘۔ [البقرۃ : ۱۸۳]۔

2- روزہ انسان کو صبر کا عادی بناتا ہے جو کہ تمام امور کی بنیاد ہے، اور صبر کی تین قسمیں ہیں: اللہ کی اطاعت پر صبر یہاں تک کہ اسے ادا کرے، اللہ کی معصیت سے گریز کرنے پر صبر یہاں تک کہ اسے چھوڑ دے، اور تقدیر پر صبر۔

3- رمضان کے روزے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس سے اللہ عز و جل کی عبادت کا اظہار پورے معاشرے میں ہوتا ہے، چنانچہ آپ دیکھتے ہیں کہ مشرق سے مغرب تک تمام مسلمان اس مہینے کے روزے رکھنے میں یکجا ہوتے ہیں۔

4- عبادت اور اطاعت کی عادت ڈالنا، خصوصاً روزے کی۔

5- اللہ تعالیٰ کی خاطر چیزوں کو ترک کرنے کی عادت ڈالنا۔

6- روزے دار اللہ کی نعمتوں کو محسوس کرتا ہے، جن میں کھانے اور پینے کی نعمت بھی شامل ہے۔

7- روزہ، روزے دار کو کمزوروں، تنگ دستوں اور مسکینوں کے احوال کا احساس دلاتا ہے اور ان کے تئیں شفقت پیدا کرتا ہے؛ کیوں کہ وہ بھوک کی تکلیف کو محسوس کرتا ہے۔

8- روزہ شیطان کی تاثیر اور وسوسے کو کمزور کرتا ہے۔

9- روزہ اخلاص اور اللہ کی نگرانی کی تربیت دیتا ہے، کیوں کہ کوئی بھی شخص روزے دار کو کھانے یا پینے سے نہیں روک سکتا سوائے اللہ تعالیٰ کی نگرانی کے۔

10- روزہ بدن کو صحت اور قوت عطا کرتا ہے، جیسا کہ اطباء کے نزدیک مسلَّم ہے۔

روزے کو فاسد کرنے والی چیزیں کیا ہیں؟

ج- 1- رمضان کے دن میں دانستہ کھانا یا پینا؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’پھر رات تک اپنے روزے کو پورا کرو‘‘۔ [البقرة : 187]۔

جو شخص بھول کر کھا پی لے تو اس کا روزہ صحیح ہے، اور اگر اسے یاد آجائے یا یاد دلایا جائے کہ وہ روزے سے ہے تو فوراً رک جانا ضروری ہے؛ کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص روزہ کی حالت میں بھول کر کھا پی لیا ہو تو اسے اپنا روزہ پورا کرنا چاہیے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کھلایا پلایا ہے‘‘۔ (صحیح بخاری: 1933، صحیح مسلم: 1155)۔

2- عمداً قے کرنا، یعنی معدہ میں جو کچھ کھانا یا پانی ہے اسے جان بوجھ کر منہ کے ذریعے باہر نکالنا، لیکن اگر کسی کو بلا اختیار قے آ جاۓ تو اس سے اس کے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ''جسے قے آ جاۓ اس پر قضا نہیں ہے اور جو عمدًا قے کرے اس پر قضا واجب ہے''۔ (سنن ترمذی : 720)۔

''اسے قے آ گئی'' یعنی: اس پر غالب آ گئی اور غیر اختیاری طور پر خارج ہو گئی۔

3- ارتداد اور کفر، کیوں کہ یہ عبادت کے منافی ہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اگر تو نے شرک کیا تو بلاشبہ تیرا عمل ضائع ہوجائے گا‘‘۔ [الزمر : 65]۔

4- پچھنا لگوانا (سینگی لگوانا)، یعنی جِلد سے خون نکالنا۔

کیوں کہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے: ''پچھنا (سینگی) لگانے اور لگوانے والا روزہ کھولنے والا ہوگیا''۔ (سنن ابو داؤد : 2367)۔

اور حجامہ کی طرح: خون کا عطیہ دینا بھی ہے۔

لیکن زخم، دانت نکالنے یا نکسیر پھوٹنے کی وجہ سے خون نکلنے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا؛ کیوں کہ یہ پچھنا لگوانے کے زمرے میں نہیں آتا اور نہ ہی اس کے معنی میں ہے۔

5- ((بڑوں کے لیے))۔ جماع (ہمبستری) یا استمناء (مشت زنی) سے روزہ باطل ہو جاتا ہے۔

6- ((بڑوں کے لیے))۔ حیض ونفاس کا خون آنا، جب عورت کو حیض یا نفاس کا خون نظر آئے تو وہ روزہ توڑ دے گی، اور اس پر قضا واجب ہوگی؛ کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عورت کے بارے میں فرمایا: ’’...کیا ایسا نہیں ہے کہ عورت جب حائضہ ہو جاتی ہے، تو وہ (حالت حیض) میں نہ نماز پرھ سکتی ہے اور نہ روزہ رکھ سکتی ہے“۔ (صحیح بخاری : 304)۔

7- جو کھانے اور پینے کے ہم معنی (قائم مقام) ہو : جیسے کہ طاقت کا انجکشن یا خوراکی انجکشن۔

روزے کے مستحبات کیا ہیں؟

ج- روزے دار کے لیے مستحب اور سنت ہے کہ وہ اپنے روزے میں درج ذیل امور کا خیال رکھے:

1- سحری کرنا: کیوں کہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے: ’’سحری کھایا کرو، اس لیے کہ سحری میں برکت ہوتی ہے‘‘۔ (صحیح بخاری : 1923، صحیح مسلم : 1095)۔

سحری زیادہ یا کم کسی بھی مقدار میں کھانے سے ہو جاتی ہے، چاہے ایک گھونٹ پانی ہی کیوں نہ ہو۔ اور سحری کا وقت آدھی رات سے فجر کے طلوع ہونے تک ہے۔

2- سحری کرنے میں تاخیر کرنا: زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، وہ کہتے ہیں: ’’ہم نے رسول الله ﷺ کے ساتھ سحری کی، پھر ہم نماز کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ میں نے پوچھا: ان دونوں کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟ انہوں نے کہا: پچاس آیتیں پڑھنے کے بقدر‘‘۔ (صحیح بخاری: 575، صحیح مسلم: 1097)۔

’’پچاس آیتیں" یعنی سحری اور اذان فجر کے درمیان پچاس آیتیں پڑھنے کے بقدر وقت۔ اس میں سحری کو فجر سے قبل تک مؤخر کرنے کی ترغیب ہے۔

3- افطار میں جلدی کرنا: جب روزے دار کو غروبِ شمس کا یقین ہوجائے تو افطار میں جلدی کرنا مستحب ہے۔

سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگ تب تک بھلائی پر رہیں گے جب تک وہ افطار میں جلدی کریں گے“۔ (صحیح بخاری : 1957، صحیح مسلم: 1098)۔

4- تر کھجوروں سے افطار کرنا : اگر یہ میسر نہ ہوں تو خشک کھجوروں سے، اور اگر یہ بھی میسر نہ ہوں تو پانی کے چند گھونٹ سے افطار کر لینا چاہیے۔

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز (مغرب) ادا کرنے سے پہلے چند تر کھجوروں سے روزہ افطار کرتے تھے۔ اگر تر کھجوریں نہ ہوتیں، تو چند خشک کھجوروں سے اور اگر خشک کھجوریں بھی میسر نہ ہوتیں، تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے‘‘۔ (سنن ابو داؤد : 2356)۔

«چند گھونٹ پیا» یعنی : تین دفعہ پیا۔

اگر کوئی شخص ایسی جگہ ہو جہاں افطار کا وقت ہو جائے اور اسے افطار کے لیے کچھ نہ ملے، تو وہ دل میں افطار کی نیت کرلے، اور یہی اس کے لیے کافی ہے۔

5- افطار کے وقت اور دورانِ روزہ دعا کرنا۔

کیوں کہ نبیﷺ کا ارشاد ہے: ’’تین لوگوں کی دعا رد نہیں کی جاتی: امام عادل، روزہ دار جب افطار کرے، اور مظلوم کی دعا‘‘۔ (سنن ترمذی : 3598)۔

6- زیادہ سے زیادہ صدقہ کرنا، قرآن کی تلاوت کرنا، روزے داروں کو افطار کرانا، اور دیگر نیکی کے کام کرنا۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ’’رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ سخی انسان تھے اور آپ سب سے زیادہ سخی رمضان میں ہوتے تھے، جب جبریل علیہ السلام آپ سے ملاقات کرتے تھے، اور جبریل علیہ السلام آپ سے رمضان کی ہر رات میں ملتے تھے اور قرآن کا دور کراتے تھے، تو اس وقت رسول اللہ ﷺ خیر کے کاموں میں تیز ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوتے تھے‘‘۔ (صحیح بخاری : 6، صحیح مسلم : 2308)۔

7- رات کی نماز میں محنت کرنا: خصوصاً رمضان کے آخری عشرے میں۔

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ’’نبی ﷺ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو کمر کس لیتے، شب بیداری کرتے اور اپنے گھر والوں کو بھی بیدار کرتے‘‘۔ (صحیح بخاری : 2024، صحیح مسلم : 1174)۔

’’جب آخری عشرہ شروع ہوتا" یعنی رمضان کا آخری عشرہ۔

’’کمر کس لیتے‘‘ اس کا مطلب ہے عبادت کے لیے خود کو تیار کرنا اور معمول سے بڑھ کر اس میں محنت کرنا۔

’’شب بیداری کرتے‘‘ یعنی نماز اور دیگر عبادات میں جاگ کر رات کو گزارا۔

”اپنے اہل خانہ کو جگاتے“ یعنی: انھیں رات کی نماز کے لیے جگایا۔

8- عمرہ کرنا:

کیوں کہ نبیﷺ کا ارشاد ہے: ’’جب رمضان آئے تو عمرہ کرو، کیوں کہ اس میں کیا گیا عمرہ حج کے برابر ہے‘‘۔ (صحیح بخاری : 1782، صحیح مسلم : 1256)۔

9- اگر کوئی برا بھلا کہے تو یہ کہنا کہ "میں روزے سے ہوں"، لوگوں سے حسن کلامی سے پیش آنا اور بری بات نہ کرنا؛

کیوں کہ نبیﷺ کا ارشاد ہے: ’’جب تم میں سے کوئی شخص روزے کی حالت میں صبح کرے تو فحش باتیں نہ کرے اور نہ ہی جہالت و نادانی کا کام کرے۔ اگر اسے کوئی گالی دے یا اس سے لڑے تو کہہ دے کہ میں تو روزے دار ہوں، میں تو روزے دار ہوں‘‘۔ (صحیح بخاری : 1904، صحیح مسلم : 1151)۔

’’فحش گوئی نہ کرے‘‘ یعنی کوئی فحش بات نہ کرے۔

«جہالت اور نادانی کا کام نہ کرے» جہالت: حکمت کے خلاف اور قول وفعل میں درستگی کے خلاف۔

10- روزے دار کے لیے مستحب ہے کہ جب افطار کرے تو یہ دعا پڑھے: ’’پیاس چلی گئی اور رگیں تر ہوگئیں اور اگر اللہ نے چاہا تو اجر ثابت ہو گیا‘‘۔ (سنن ابو داؤد : 2357)۔

روزے میں مکروہ امور کون سے ہیں؟

ج- روزے دار کے لیے کچھ امور مکروہ ہیں جو اس کے روزے کے فاسد ہونے یا اجر کے کم ہونے کا سبب بن سکتے ہیں، اور وہ یہ ہیں:

1- کلی اور ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ سے کام لینا۔

یہ اس لیے کہ کہیں پانی اس کے پیٹ میں نہ چلا جائے؛ کیوں کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’ناک میں پانی اچھی طرح پہنچاؤ، الا یہ کہ تم روزے دار ہو‘‘۔ (سنن ابو داؤد : 2366)۔

2- بلغم یا لعاب کو نگلنا، جو انسان تھوکتا ہے؛ کیونکہ یہ پیٹ تک پہنچتا ہے اور اس سے قوت حاصل ہوتی ہے، اس کے علاوہ یہ عمل کراہت اور نقصان کا باعث بنتا ہے۔

3- بلا وجہ کھانے کا ذائقہ چکھنا: اگر کسی ضرورت کے تحت ہو - جیسے کہ باورچی کو نمک وغیرہ چکھنے کی ضرورت ہو - تو کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ اس کا کچھ حصہ حلق تک نہ پہنچے۔

4- دن کے وقت زیادہ سونا اور وقت ضائع کرنا، فضول باتیں کرنا اور بے فائدہ کاموں میں مشغول رہنا، جب کہ دن کے وقت کو عبادات میں استعمال کرنا چاہیے۔

5- ((بڑوں کے لیے)) بوسہ لینا، جس شخص کی شہوت بھڑک سکتی ہو اور وہ اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکتا ہو، اس کے لیے روزے کی حالت میں بیوی کو بوسہ دینا مکروہ ہے، کیوں کہ یہ شہوت کو بھڑکانے کا سبب بن سکتا ہے جو کہ انزال یا جماع کی صورت میں روزہ فاسد ہونے کا باعث بن سکتا ہے، البتہ اگر اسے اپنے روزے کے فاسد ہونے کا خوف نہ ہو تو بوسہ دینے میں کوئی حرج نہیں۔

6- ((للكبار))، جماع کے بارے میں سوچنا یا ایسی باتیں کرنا جو شہوت کو بھڑکائے۔

بغیر کسی شرعی عذر کے رمضان میں روزہ چھوڑنے کا حکم؟

ج- اگر کسی مسلمان نے بغیر کسی عذر کے رمضان کا کوئی روزہ چھوڑ دیا، تو اس پر واجب ہے کہ اللہ سے سچی توبہ کرے اور اس سے مغفرت طلب کرے، کیوں کہ یہ بہت بڑا جرم اور بڑا منکر ہے۔ توبہ اور استغفار کے ساتھ اس پر یہ بھی لازم ہے کہ جتنے روزے چھوڑے ہیں، رمضان کے بعد اتنے روزوں کی قضا کرے۔

کن لوگوں کو رمضان کے دنوں میں روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے اور ان پر کیا لازم ہے؟

ج- پہلی حالت: جو شخص کسی ایسے مرض میں مبتلا ہو جس کے ساتھ روزہ رکھنا ممکن نہ ہو، یا مسافر ہو یا حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت ہو، چاہے انہیں اپنی ذات کا خطرہ ہو یا اپنے بچے کا، یا دیگر کوئی عذر ہو جو روزہ چھوڑنے کی اجازت دیتا ہو، تو ایسے افراد کے لیے روزہ چھوڑنا جائز ہے، اور رمضان کے بعد ان روزوں کی قضا واجب ہے؛ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ’’جو بیمار ہو یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہیے‘‘۔ [البقرۃ : 184]۔

یعنی: تم میں سے جو شخص ایسی بیماری میں مبتلا ہو جس میں روزہ رکھنا مشکل ہو یا کوئی مسافر ہو تو وہ افطار کر سکتا ہے، پھر ان چھوڑے ہوئے روزوں کی بعد میں قضا کر لے۔

دوسری حالت: اگر کسی کی بیماری ایسی ہو کہ اس کا شفا پانا ممکن نہ ہو بلکہ وہ دائمی ہو، اور اسی طرح وہ بزرگ جو روزہ رکھنے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں، تو ان پر قضا لازم نہیں ہے کیوں کہ وہ اس کے کرنے سے عاجز ہیں، لیکن ان پر ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلانا لازم ہے، یعنی ہر دن کے بدلے میں نصف صاع کھانا۔ اور ایک صاع تقریباً 3 کلو کے برابر ہوتا ہے۔

کیوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اور جو لوگ بمشقت طاقت رکھنے والے ہیں وہ فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا دیں‘‘۔ [البقرة : 184]۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’یہ آیت منسوخ نہیں ہے، اس سے مراد بہت بوڑھا مرد یا انتہائی بوڑھی عورت ہے جو روزے کی طاقت نہ رکھتے ہوں۔ انھیں چاہیے کہ وہ ہر روزے کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں‘‘۔ (صحیح بخاری : 4505)۔

روزے کی قضا کب کرے؟ اور اگر قضا میں تاخیر ہو جائے یہاں تک کہ دوسرا رمضان آ جائے، تو اس کا کیا حکم ہے؟

ج- جس نے رمضان میں کسی شرعی عذر کی بنا پر روزہ چھوڑا ہو، اسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں اس کی قضا کرنی چاہیے: ’’جو بیمار ہو یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہیے“۔ [البقرۃ : 185]۔

اور اس پر واجب ہے کہ وہ اسی سال کے اندر قضا کر لے، اسے دوسرے رمضان کے بعد تک مؤخر نہ کرے؛ کیوں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے: ''مجھ پر رمضان کی قضا ہوتی تھی اور میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مصروفیت کی وجہ سے صرف شعبان ہی میں قضا کر پاتی تھی''۔ (صحیح بخاری: 1950، صحیح مسلم: 1146)۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول: «میں صرف شعبان ہی میں قضا کر پاتی تھی» سے یہ دلیل ملتی ہے کہ روزے کی قضا دوسرے رمضان کے داخل ہونے سے پہلے ضروری ہے۔

لیکن اگر کوئی قضا کو دوسرے رمضان کے بعد تک مؤخر کر دے تو اسے اللہ سے استغفار کرنا چاہیے، توبہ کرنی چاہیے، اپنے کیے پر نادم ہونا چاہیے، اور روزہ کی قضا کرنی چاہیے؛ کیوں کہ قضا تاخیر سے ساقط نہیں ہوتی، لہٰذا وہ اس دن کی قضا کرے گا چاہے دوسرے رمضان کے بعد ہی کیوں نہ ہو۔

فرض روزے کے آداب کیا ہیں؟

ج- ہم ان میں سے چند آداب ذکر کرتے ہیں، اور یہ آداب ہر وقت مطلوب ہوتے ہیں؛ لیکن ماہ رمضان میں اور روزے دار کے لیے ان کی اہمیت اور تاکید بڑھ جاتی ہے:

1- عبادات اور واجبات کی پابندی کرنا، جن میں وقت پر اور باجماعت نماز کی ادائیگی شامل ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’یقیناً نماز مومنوں پر مقرره وقتوں پر فرض ہے‘‘۔ [النساء : 103]۔

2- روزے دار کو چاہیے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حرام کردہ تمام چیزوں سے اجتناب کرے، ان میں جھوٹ، غیبت، چغل خوری، دھوکہ دہی، موسیقی سننا اور دیگر گناہ و معاصی شامل ہیں۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اگر کوئی شخص جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا (روزہ رکھ کر بھی) نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے‘‘۔ (صحیح بخاری : 1903)۔

’الزُّور‘ یعنی : جھوٹ، حق سے انحراف اور باطل پر عمل کرنا۔

اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں" یعنی اللہ تعالیٰ اس کے روزے کی طرف توجہ نہیں دیتا اور نہ ہی اسے قبول کرتا ہے، اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے روزہ چھوڑنے کا حکم دیا جاتا ہے، بلکہ اس کا مطلب جھوٹ بولنے سے بچنے کی تنبیہ ہے۔

وہ کون سے امور ہیں جو روزے دار کے لیے مباح ہیں؟

ج- اہلِ علم نے کئی ایسے امور ذکر کیے ہیں جو مباح ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں:

1- غسل کرنا اور پانی سے ٹھنڈک حاصل کرنا۔

2- مسواک کا استعمال کرنا۔

3- بغیر مبالغہ کے کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا۔

4- جانچ کے لیے تھوڑا سا خون نکالنا۔

5- آنکھ اور کان میں قطرہ ڈالنا۔

6- علاج کے لیے دی جانے والی غیر غذائی انجیکشن۔

7- ضرورت کے وقت کھانے کا ذائقہ چکھنا، بشرطیکہ اسے نگلنے کے بجائے بعد میں اسے تھوک دے۔

8- خوشبو لگانا اور خوشبو سونگھنا۔

9- آنکھ میں سرمہ لگانا۔

رمضان میں قیام اللیل (تراویح) کی فضیلت کیا ہے؟

ج: قیامِ رمضان، جو کہ تراویح کی نماز کے نام سے معروف ہے، اس کی بہت بڑی فضیلت ہے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ایمان کے ساتھ اور اجر و ثواب کے حصول کی نیت سے رمضان کا قیام کیا، اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے‘‘۔ (صحیح بخاری : 37، صحیح مسلم : 759)۔

"إِيمَانًا" یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہوئے اور اس یقین کے ساتھ کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض کیا گیا ہے۔

’احتساباً‘ یعنی اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب کی طلب میں، نہ کہ ریاکاری یا کسی اور نیت کے ساتھ جو اخلاص کے منافی ہو۔

اور اس بات کا خاص اہتمام کرے کہ تراویح کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھے یہاں تک کہ امام اس سے فارغ ہوجائے؛ تاکہ پوری رات قیام اللیل کرنے کا ثواب حاصل ہو، کیوں کہ نبیﷺ کا فرمان ہے: ’’جس نے امام کے ساتھ قیام کیا، یہاں تک کہ وہ نماز مکمل کرلے، تو اس کے لیے رات بھر کا قیام لکھا جائے گا‘‘۔ (سنن ترمذی : 806)۔

رمضان کے آخری عشرے اور لیلۃ القدر میں کون سے اعمال مستحب ہیں؟

ج- نبی ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں جتنی محنت کرتے تھے، اتنی کسی اور دنوں میں نہیں کرتے تھے، اور ان ایام میں لیلۃ القدر کی تلاش میں رہتے تھے۔ ہم چند ایسے اعمال کا ذکر کرتے ہیں جو ان راتوں میں کرنا مستحب ہے:

1- ان راتوں میں کثرت سے عبادات میں محنت کرنا۔

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ’’جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو نبی ﷺ کمر کس لیتے، شب بیداری کرتے اور اپنے گھر والوں کو بھی بیدار کرتے‘‘۔ (صحیح بخاری : 2024، صحیح مسلم : 1174)۔

اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول "کمر کس لیتے" کا مطلب یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ عبادت کے لیے پوری طرح تیار ہو جاتے اور معمول سے بڑھ کر عبادت میں محنت کرتے۔

عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے: ’’رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں جتنی محنت اور کوشش کرتے تھے اتنی دوسرے دنوں میں نہیں کرتے تھے‘‘۔ (صحیح مسلم : 1175)۔

شب قدر رمضان کے آخری عشرے میں ہوتی ہے، لہٰذا مسلمان کو چاہیے کہ وہ آخری عشرے کی تمام راتوں کا اہتمام کرے تاکہ شب قدر کو پا سکے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو‘‘۔ (صحیح بخاری : 2021)۔

2- شبِ قدر میں قیام (عبادت) کرنا۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’جس نے شبِ قدر میں حالتِ ایمان کے ساتھ ثواب کی غرض سے قیام کیا اُس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں‘‘۔ (صحیح بخاری : 1901، صحیح مسلم : 760)۔

3- مسجد میں اعتکاف کرنا۔

عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: ’’نبی ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے‘‘۔ (صحیح بخاری : 2033، صحیح مسلم : 1172)۔

اعتکاف: مسجد میں عبادت کے لیے گوشہ نشینی اختیار کرنا، مخلوق کے ساتھ مشغولیت سے کنارہ کشی کرنا، دنیاوی امور سے دل کو فارغ کرنا، اور صرف اور صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہونا۔

سورۃ القدر کی تلاوت کریں اور اس کی تفسیر بیان کریں۔

ج- شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے۔ ’’یقیناً ہم نے اُسے شب قدر میں نازل فرمایا۔ تو کیا سمجھا کہ شبِ قدر کیا ہے؟ شبِ قدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اُس (میں ہر کام) کے سر انجام دینے کو اپنے رب کے حکم سے فرشتے اور روح (جبرائیل) اترتے ہیں۔ یہ رات سراسر سلامتی کی ہوتی ہے اور فجر کے طلوع ہونے تک (رہتی ہے)‘‘۔ [القدر: 1-5]۔

اس کی تفسیر:

’’یقیناً ہم نے اُسے شبِ قدر میں نازل فرمایا‘‘۔ [القدر: 1]۔ یقینًا ہم نے قرآن کو ایک ہی دفعہ میں (مکمل طور پر) آسمانِ دنیا پر اتارا، جیسے کہ ہم نے نبی ﷺ پر اس کا نزول ماہ رمضان کی شب قدر میں شروع کیا۔

’’تو کیا سمجھا کہ شب قدر کیا ہے؟‘‘۔ [القدر: 2]۔ اے نبی! کیا آپ جانتے ہیں کہ اس رات میں کتنی خیرات وبرکات پنہاں ہیں؟

’’شبِ قدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے‘‘۔ [القدر: 3]۔ یہ رات انتہائی خیر وبرکت والی رات ہے، جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے اس رات میں قیام کرے، اس کے لیے یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یہ ایک مبارک رات ہے، اس میں نیک عمل کرنا ایک ہزار مہینوں کے عمل سے بہتر ہے۔

’’اُس (میں ہر کام) کے سر انجام دینے کو اپنے رب کے حکم سے فرشتے اور روح (جبرائیل) اترتے ہیں‘‘۔ [القدر: 4]۔ اس رات میں فرشتے اور جبرائیل علیہ السلام اپنے پاک رب کے حکم سے ہر اس کام کو سر انجام دینے کے لیے اترتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اس سال کے لیے مقدر کر دیا ہے خواہ رزق کا معاملہ ہو یا موت کا یا ولادت کا یا کوئی اور۔

’’یہ رات سراسر سلامتی کی ہوتی ہے اور فجر کے طلوع ہونے تک (رہتی ہے)‘‘۔ [القدر : 5]۔ یہ مبارک رات اپنے آغاز سے لے کر فجر کے طلوع ہونے تک سراسر خیر و برکت والی ہوتی ہے۔

زکوۃ الفطر (صدقۂ فطر) کیا ہے اور اس کا حکم کیا ہے؟

ج- یہ وہ زکوۃ ہے جو اسلام نے رمضان کے اختتام پر عید الفطر کے موقع پر فرض کیا ہے۔

زکاۃ الفطر ہر مسلمان پر واجب ہے، چاہے وہ بڑا ہو یا چھوٹا، مرد ہو یا عورت۔ مسلمان اپنے اور اپنے زیر کفالت افراد جیسے بیوی اور بچوں کی طرف سے زکاۃ الفطر نکالتا ہے۔

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ’’اللہ کے رسول ﷺ نے ہر مسلمان مرد، عورت، چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام پر صدقۂ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو فرض کیا ہے‘‘۔ (صحیح بخاری : 1503، صحیح مسلم : 984)۔

زکوۃ الفطر اہلِ بلد کی خوراک جیسے چاول وغیرہ سے نکالی جائے، اس کو نکالنے کا افضل وقت عید کی صبح نمازِ عید سے قبل ہے، اور اس سے ایک یا دو دن پہلے بھی نکالنا جائز ہے۔ اس کی مقدار تقریباً 3 کلو ہے۔

صدقۂ فطر کے وجوب کی حکمت کیا ہے؟

ج- اس کی چند حکمتیں یہ ہیں :

1- روزے دار کو لغو باتوں اور فحش گوئی سے پاک کرنا جو اس کے روزے میں واقع ہو سکتا ہے۔

2- عید کے دن فقیروں اور مسکینوں کو سوال سے بے نیاز کرنا اور ان کو خوشی پہنچانا؛ تاکہ عید کا دن معاشرے کے تمام طبقات کے لیے خوشی اور مسرت کا دن ہو، جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: ''اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ دار کو لغو باتوں اور فحش گوئی سے پاک کرنے اور مساکین کے کھانے کا انتظام کرنے کی غرض سے صدقۂ فطر فرض کیا ہے''۔ (سنن ابو داؤد : 1609)۔

3- اس میں اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرنا شامل ہے کہ اس نے بندے کو رمضان کے روزے اور قیام مکمل کرنے کی توفیق دی اور اس بابرکت مہینے میں جو نیک اعمال ممکن ہو سکے، وہ انجام دینے کی سعادت بخشی۔

4- اس کے مستحقین کو مقررہ وقت پر ادا کرنے سے بڑا اجر وثواب حاصل ہوتا ہے۔

عید کی سنتیں کیا ہیں؟

ج- اسلام میں عید اللہ کے فضل ورحمت پر خوشی کے اظہار کا ایک مظہر ہے، اور عید کے دن مسلمان جن سنتوں پر عمل کرتے ہیں، وہ درج ذیل ہیں:

1- عید کی نماز کے لیے نکلنے سے پہلے غسل کرنا۔

"الموطأ" وغیرہ میں صحیح روایت ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عید الفطر کے دن عیدگاہ جانے سے پہلے غسل کیا کرتے تھے۔ (موطّأ امام مالک : 1/ 177)۔

2- عید الفطر کی نماز کے لیے نکلنے سے پہلے کھانا، یعنی نماز کے لیے جانے سے پہلے چند کھجوریں کھا لینا، انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم عید الفطر کے دن جب تک چند کھجوریں تناول نہ فرمالیتے نماز کے لیے نہیں نکلتے تھے اور آپ طاق عدد میں کھجوریں کھاتے تھے‘‘۔ (صحیح بخاری : 953)۔

3- عید کے دن تکبیر کہنا۔

عید الفطر میں تکبیر کا وقت عید کی رات سے شروع ہوتا ہے، یعنی رمضان کی آخری رات کے مغرب سے، اور نماز عید کے لیے امام کے داخل ہونے تک جاری رہتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ’’وه چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کر لو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو اور اس کا شکر کرو‘‘۔ [البقرۃ : 185]۔

4- مبارکباد دینا: عید کے آداب میں سے ایک ادب، لوگوں کا آپس میں ایک دوسرے کو اچھے طریقہ سے مبارکباد دینا ہے، جس کے الفاظ کچھ بھی ہو سکتے ہیں، جیسے کہ بعض لوگ ایک دوسرے سے کہتے ہیں: "تقبل الله منا ومنكم" (اللہ ہم سے اور آپ سے قبول فرمائے) یا "عید مبارک"، اور اس طرح کی مباح تہنئت كے دیگر الفاظ۔

جُبیر بن نفیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: نبی ﷺ کے صحابہ جب عید کے دن آپس میں ملتے تو ایک دوسرے سے کہتے: "تُقُبِّل منا ومنك" (اللہ ہماری اور تمہاری عبادات قبول فرمائے)۔ (فتح الباری : 2/ 446، امام محاملی نے اس کو روایت کیا ہے اور امام ابن حجر نے کہا: اس کی سند حسن ہے)۔

5- عیدین کے موقع پر اچھا لباس پہننا اور زینت اختیار کرنا۔

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: ’’یا رسول اللہ، میں نے عطارد کو دیکھا کہ وہ دیباج کا جوڑا بیچ رہا ہے، اگر آپ اسے خرید لیں اور وفود کے استقبال اور عید کے موقع پر پہن لیں؟‘‘۔ (صحیح بخاری : 948، صحیح مسلم : 2068)۔

اور نافع سے مروی ہے: ابن عمر رضی اللہ عنہما عیدین کے موقع پر اپنے بہترین کپڑے پہنتے تھے۔ (السنن الکبرى للبیہقی : 6143)۔

6- نمازِ عید کے لیے ایک راستے سے جانا اور دوسرے راستے سے واپس آنا۔

جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: ’’جب عید کا دن ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم راستہ بدل لیتے‘‘۔ (صحیح بخاری : 986)۔

شوال کے چھ روزے رکھنے کی فضیلت کیا ہے؟

ج- رمضان کے فرض روزوں کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنا مستحب ہے، اور اس میں فضلِ عظیم اور بہت بڑا اجر و ثواب ہے؛ کیونکہ جو شخص یہ روزے رکھے گا، اس کے لیے پورے سال کے روزوں کا ثواب لکھا جائے گا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے رمضان کے روزے رکھے، اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ پورے سال کے روزے رکھنے کی مانند ہے‘‘۔ (صحیح مسلم : 1164)۔

رمضان نے ہمیں کیا سکھایا، اور رمضان کے بعد ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

ج- ہم اس سوال کے جواب پر بات ختم کرتے ہیں۔ روزہ اسلام کے عظیم ترین تربیتی ذرائع میں سے ایک ہے، جس سے اہلِ اسلام تربیت پاتے ہیں، اور یہ دین کے ارکان اور اس کی عظیم بنیادوں میں سے ایک ہے۔ یہاں چند اسباق اور حکمتیں بیان کی جا رہی ہیں جو بندہ رمضان کے مہینے میں روزے کی اس درسگاہ سے سیکھتا ہے، تاکہ رمضان کے بعد بھی ان پر عمل جاری رکھے۔

پہلا سبق:

ماہ رمضان نے ہمیں صبر سکھایا جو کہ عظیم ترین عبادات اور قربات میں سے ہے، جب بندہ کھانے اور پینے سے رک کر صبر کرتا ہے، تو وہ صبر کے اس بہترین اخلاق کا عادی بن جاتا ہے جو تمام بھلائیوں کا مجموعہ ہے، یہ صبرِ طاعت (اللہ کی اطاعت پر صبر)، صبرِ معصیت (گناہ سے رکنے پر صبر)، اور صبرِ اقدار (تقدیر کے تکلیف دہ فیصلوں پر صبر) کو شامل ہے؛ اللہ تعالیٰ نے صبر کی فضیلت کے بارے میں فرمایا: "صبر کرنے والوں ہی کو اُن کا پورا پورا بے شمار اجر دیا جاتا ہے"۔ [الزمر : 10]۔

دوسرا سبق:

ماہِ رمضان نے ہمیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے احکام اور نواہی کے آگے سر تسلیم خم کرنا سکھایا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اور (دیکھو) کسی مومن مرد وعورت کو اللہ اور اُس کے رسول کا فیصلے کے بعد اپنے کسی امر کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا، (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی جو بھی نافرمانی کرے، وه صریح گمراہی میں پڑے گا‘‘۔ [الأحزاب : 36]۔

تیسرا سبق:

ماہ رمضان نے ہمیں اللہ تعالی کے لیے اپنی زبان، اعضاء اور خواہشات کو قابو میں رکھ کر تقویٰ اختیار کرنا سکھایا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو‘‘۔ [البقرۃ : 183]۔

اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ عز و جل فرماتا ہے: روزہ میرے ہی لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، بندہ (روزے دار) میری خاطر اپنی خواہشات اور کھانا پینا چھوڑتا ہے، اور روزہ ڈھال ہے"۔ (صحیح بخاری : 7492، صحیح مسلم : 1151)۔

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ کو کوئی ضرورت نہیں ہے کہ یہ شخص اپنا کھانا پینا چھوڑے‘‘۔ (صحیح بخاری : 1903)۔

چوتھا سبق:

ماہ رمضان نے ہمیں عبادت اور اس کی حلاوت سکھائی؛ تاکہ ہم رمضان کے بعد بھی قیام، روزہ اور قرآن کی تلاوت جاری رکھ سکیں۔

روزے کے متعلق آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: ”جس نے ایمان کے ساتھ اور اجر و ثواب کے حصول کی نیت سے رمضان کا روزہ رکھا، اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے‘‘۔ (صحیح بخاری : 38، صحیح مسلم : 760)۔

اور قیام کی فضیلت کے متعلق آپ علیہ الصلاۃ و السلام نے فرمایا: ”جس نے ایمان کے ساتھ اور اجر وثواب کے حصول کی نیت سے رمضان کا قیام کیا اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے‘‘۔ (صحیح بخاری : 37، صحیح مسلم : 759)۔

نیز قرآن پڑھنے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں آیا ہے کہ آپ ’’سب سے زیادہ سخی رمضان میں ہوا کرتے تھے، جب جبریل علیہ السلام آپ سے ملاقات کرتے۔ جبریل علیہ السلام آپ سے رمضان کی ہر رات میں ملتے تھے اور قرآن کا دور کراتے تھے‘‘۔ (صحیح بخاری : 6، صحیح مسلم : 2308)۔

لہذا بندہ ان عبادات کو جاری رکھے، جیسے روزہ، قیام اللیل اور قرآن کی تلاوت وغیرہ، اگرچہ رمضان کی طرح نہ ہو۔

پانچواں سبق :

ماہِ رمضان نے ہمیں اللہ کی نگرانی (مراقبہ) سکھایا اور احسان کے درجے کا درس دیا، اور احسان یہ ہے کہ ہم اللہ کی عبادت اس طرح کریں گویا ہم اسے دیکھ رہے ہیں، اگرچہ ہم اسے نہ دیکھ سکیں تو وہ ہمیں دیکھ رہا ہے، کیوں کہ روزے دار اپنے آپ کو اللہ تعالی کی نگرانی کی تربیت دیتا ہے، اپنی خواہشات کو چھوڑ دیتا ہے، حالانکہ وہ ان پر قدرت رکھتا ہے، لیکن وہ جانتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: ’’اور جہاں کہیں تم ہو وه تمھارے ساتھ ہے اور جو تم کر رہے ہو اللہ دیکھ رہا ہے‘‘۔ [الحدید : 4]۔

چھٹا سبق:

ماہِ رمضان نے ہمیں یہ سکھایا کہ ہمارا دین آسان ہے، اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں کرتا، چنانچہ جو شخص روزہ رکھنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ روزہ رکھے، اور جو نہ رکھ سکے وہ روزہ چھوڑ دے اور بعد میں اس کی قضا کرے یا کفارہ ادا کرے، یہ اس کی حالت پر منحصر ہے؛ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے اسے روزه رکھنا چاہیے، ہاں، جو بیمار ہو یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا اراده تمھارے ساتھ آسانی کا ہے، سختی کا نہیں، وه چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کرلو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو اور اس کا شکر کرو‘‘۔ [البقرۃ : 185]۔

ساتواں سبق:

ماہِ رمضان نے ہمیں صدقہ و خیرات کرنے اور فقراء و مساکین کے ساتھ احسان کرنے اور ان کے احساسات کو سمجھنے کا درس دیا؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں سب سے زیادہ سخی ہوا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری : 6، صحیح مسلم : 2308)۔

اور جب بندہ بھوک کی تکلیف کو محسوس کرتا ہے، تو اس سے اس کے دل میں فقیروں کے ساتھ ہمدردی اور مدد کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، اور یہ تقویٰ کی خصوصیات میں سے ہے۔

آٹھواں سبق:

ماہِ رمضان نے ہمیں اللہ تعالیٰ کی وسیع مغفرت، رحمت اور فضل کا درس دیا، یہ مہینہ پورے کا پورا رحمت، مغفرت اور جہنم سے آزادی کا مہینہ ہے، اور اس میں شبِ قدر ہے جو ہزار مہینے سے بہتر ہے، یعنی اسی (80) سال اور چار مہینوں سے بھی زیادہ عبادت کے برابر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’تو کیا سمجھا کہ شبِ قدر کیا ہے؟ شبِ قدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اُس (میں ہر کام) کے سر انجام دینے کو اپنے رب کے حکم سے فرشتے اور روح (جبرائیل) اترتے ہیں۔ یہ رات سراسر سلامتی کی ہوتی ہے اور فجر کے طلوع ہونے تک (ہوتی ہے)‘‘۔ [القدر : 5-2]۔

اسباق کا اختتام:

رمضان کے بعد ہمیں کیا کرنا چاہیے؟! اللہ تعالیٰ رمضان کا بھی رب ہے اور تمام مہینوں اور دنوں کا بھی رب ہے، لہذا بندے کو ایک اصل پر قائم رہنا چاہیے چاہے حالات اور دن کیسے بھی بدل جائیں، اور وہ اصل اللہ عز وجل کا تقویٰ ہے۔

خاتمہ

آخر میں، میں مفید مراجع اور مصادر کی طرف اشارہ کرتا ہوں، اور جو شخص اس موضوع کو مزید گہرائی سے جاننا چاہے اور روزے کے مسائل سیکھنا چاہے، تو وہ ان مآخذ سے رجوع کر سکتا ہے۔

کتاب "رسالتان موجزتان في الزكاة والصيام" شيخ عبد العزيز بن باز رحمہ الله۔

کتاب "مجالس شهر رمضان" شیخ محمد بن صالح العثیمین۔

کتاب "مجالس شہر رمضان المبارک"، اور اس کے بعد : "اتحاف أھل الایمان بدروس شھر رمضان" شیخ صالح بن فوزان الفوزان۔

کتاب ’’عقود الجمان في دروس شهر رمضان‘‘ شیخ سعد بن ترکی الخثلان۔

کتاب : دروس ماہ رمضان للشیخ محمد بن شامی شيبة۔

اے اللہ! تو بڑا معاف کرنے والا اور مہربان ہے، عفو ودرگزر کو پسند کرتا ہے، اس لیے ہمیں معاف کر دے۔ درود و سلام ہو ہمارے سردار محمد ﷺ اور آپ کے جملہ آل و اصحاب پر۔