عنوان: نصابِ تعلیم، علمِ فقہ، درجہ (پنجم)۔
مختصر تعارف: اس علمی مواد کو مملکت سعودی عرب میں طلبہ کے لیے مقرر کردہ تعلیمی نصاب کی تہذیب اور اختصار سمجھا جا سکتا ہے۔ اسے کئی درجات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس مواد میں علمِ فقہ کے مطالعہ سے متعلق حصہ بھی شامل ہے، جو بارہ (12) درجات میں منقسم ہے۔ پانچویں درجے میں شامل اہم ترین موضوعات اور مسائل درج ذیل ہیں: پانی کی قسمیں، ان کے احکام اور ہر قسم کی مثالیں۔ موزوں پر مسح کے احکام اور تیمم کے طریقے کا بیان۔ نماز کے تفصیلی طریقے، اس میں مکروہ افعال اور ان اوقات کا بیان جن میں نماز پڑھنا منع ہے۔ سجدۂ سہو کے احکام کا بیان۔
This PDF is generated automatically from the book's text; its layout may differ from the printed edition.
عنوان: نصابِ تعلیم، علمِ فقہ، درجہ (پنجم)۔
مختصر تعارف: اس علمی مواد کو مملکت سعودی عرب میں طلبہ کے لیے مقرر کردہ تعلیمی نصاب کی تہذیب اور اختصار سمجھا جا سکتا ہے۔ اسے کئی درجات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس مواد میں علمِ فقہ کے مطالعہ سے متعلق حصہ بھی شامل ہے، جو بارہ (12) درجات میں منقسم ہے۔ پانچویں درجے میں شامل اہم ترین موضوعات اور مسائل درج ذیل ہیں:
پانی کی قسمیں، ان کے احکام اور ہر قسم کی مثالیں۔
موزوں پر مسح کے احکام اور تیمم کے طریقے کا بیان۔
نماز کے تفصیلی طریقے، اس میں مکروہ افعال اور ان اوقات کا بیان جن میں نماز پڑھنا منع ہے۔
سجدۂ سہو کے احکام کا بیان۔
امامت کے احکام، باجماعت نماز کا حکم، اور معذوروں کی نماز۔
پانچواں درجہ
پہلا سبق [1]
[1] استاد کے لیے: استاد پانی کی اقسام کے بارے میں گفتگو کی تمہید یہ بیان کرتے ہوئے باندھے کہ نماز وغیرہ کے درست ہونے کے لیے طہارت شرط ہے، اور یہ کہ طہارت سے دو چیزیں مقصود ہیں: پہلی: حدث کو دور کرنا، اور حدث: جسم کی ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جو نماز وغیرہ سے روکتی ہے۔ دوسری: نجاست کو دور کرنا، خواہ وہ بدن پر ہو، یا کپڑے پر، یا جگہ پر۔ پھر اس کے بعد یہ واضح کرے کہ یہ طہارت پانی سے حاصل ہوتی ہے، اور اس پانی کی دو قسمیں ہیں۔
پانی کی قسمیں
پانی کی دو قسمیں ہیں:
پہلی قسم: پاک پانی، اور یہ وہ پانی ہے جو اپنی اس حالت پر باقی رہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا ہے، جیسے: چشموں، سمندروں، نہروں، بارش اور کنوؤں وغیرہ کا پانی۔
اس کا حکم: اس سے طہارت حاصل کرنا صحیح ہے۔
دوسری قسم: ناپاک پانی، یہ وہ پانی ہے جس کا رنگ، ذائقہ یا بو کسی نجاست کی وجہ سے بدل گیا ہو، خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ۔
اس کا حکم: اس سے طہارت حاصل کرنا درست نہیں، اور پینے، کھانے یا کسی اور چیز میں اس کا استعمال حرام ہے۔
اس پانی کا حکم جس میں کوئی پاک چیز مل جائے:
اگر پانی میں کوئی پاک چیز مل جائے، جیسے زعفران، چائے، صابن، سیاہی اور مٹی، اور اس کی وجہ سے پانی تبدیل ہو جائے، لیکن وہ کسی دوسری چیز میں تبدیل نہ ہوا ہو، تو وہ اپنی پاکی پر باقی رہتا ہے۔
البتہ اگر پانی کسی دوسری چیز میں تبدیل ہو جائے، جیسے کہ وہ سیاہی، چائے یا کیچڑ بن جائے، تو اس سے طہارت حاصل کرنا صحیح نہیں ہے؛ کیوں کہ اسے پانی نہیں کہا جاتا۔
سوالات:
س1: پانی کی قسمیں بیان کریں، اور ہر قسم کا کیا حکم ہے؟
سوال 2 : صحیح جواب کو چنیں اور اس کے نیچے خط کھینچیں:
1- اگر پانی میں کوئی پاک چیز گر جائے اور اسے سیاہی میں تبدیل کر دے، تو:
(اس سے طہارت حاصل کرنا درست نہیں - وہ اپنی طہارت پر باقی رہتا ہے - وہ ناپاک ہو جاتا ہے)۔
2- سمندر کا پانی کہلاتا ہے:
(پاک پانی - ناپاک پانی)۔
س3: خالی جگہ کو پر کریں:
ناپاک پانی وہ ہے: ............................ ............................
ناپاک پانی سے پاکی حاصل کرنا............................ ۔
ناپاک پانی: ............................ ............................ حرام ہے۔
دوسرا سبق [2]
[2] معلم کے لیے: - جب تک موزہ اپنے اندر موجود سوراخوں کے باوجود "موزہ" کہلانے سے خارج نہ ہو، تب تک وہ ستر (ڈھانپنے) کی صفت سے خارج نہیں ہوتا۔ - یہ واضح کریں کہ مدت ختم ہونے، موزے یا جراب یا ان میں سے کسی ایک کو اتارنے، یا حدثِ اکبر واقع ہونے سے مسح باطل ہو جاتا ہے۔ - دینِ اسلام کی رواداری اور آسانی کی طرف توجہ دلائیں۔ - استاد طلبہ کے سامنے مسح کرنے کا عملی طریقہ دکھائے، پھر اس کے بعد طلبہ سے بھی اس کی عملی مشق کروائے۔
موزوں پر مسح
آپ پہلے جان چکے ہیں کہ وضو کے فرائض میں سے ہے: دونوں پاؤں کو ٹخنوں تک دھونا، لیکن مسلمان کو سردی یا کسی اور وجہ سے - موزوں یا جرابوں سے - اپنے دونوں پاؤں کو ڈھانپ کر رکھنے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ تو کیا جب بھی وہ وضو کرنا چاہے، اس پر موزے یا جرابیں اتارنا لازم ہے؟
جواب: اس پر یہ لازم نہیں ہے، كيوں کہ یہ اللہ کی اپنے بندوں پر رحمت اور آسانی کا مظہر ہی ہے کہ اس نے ان کے لیے پاؤں دھونے کے بجائے موزوں اور ان جیسی چیزوں پر مسح کرنا جائز قرار دیا ہے۔
اس پر بلال رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ نبی ﷺ نے دونوں موزوں پر مسح فرمایا [3]۔ [3] صحیح مسلم، کتاب الطہارة، باب: المسح على الناصية والعمامة، حدیث نمبر (275)۔
خف: پاؤں میں پہنے جانے والے چمڑے وغیرہ کے موزے۔
'جورب' سے مراد روئی وغیرہ کے موزے ہیں، جو پیروں میں پہنے جاتے ہیں، اور جنہیں عربی میں 'شُرّاب' کہا جاتا ہے۔
مسح کی شرطیں:
مسح کی کچھ شرطیں ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
1- موزہ یا جراب کسی پاک چیز سے بنا ہو۔
2- موزہ یا جراب مباح ہو، لہذا حرام موزہ پر مسح کرنا جائز نہیں، جیسے غصب کیا ہوا، چوری کیا ہوا یا مَردوں کے لیے ریشم سے بنا ہوا موزہ۔
3- موزے یا جراب سے پاؤں ٹخنوں تک ڈھک جائیں۔
4- مکمل طہارت کے بعد موزے یا جرابیں پہنی ہوں۔
مسح کی مدت:
مسح کی مدت مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ہے، اور مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں ہیں۔
مسح کی مدت کی ابتدا اور انتہا:
حدث کے بعد موزوں پر پہلی بار مسح کرنے سے مدت شروع ہوتی ہے، مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات مکمل ہونے پر، اور مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں مکمل ہونے پر ختم ہوتی ہے۔
اس کی مثال یہ ہے: اگر کوئی شخص ہفتے کے دن ظہر کی نماز کے لیے وضو کرے اور موزے یا جرابیں پہنے، پھر اس کے بعد اس کا وضو ٹوٹ جائے، اور جب وہ اسی دن عصر کی نماز کے لیے وضو کرے تو موزوں یا جرابوں پر مسح کرے، تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ دوسرے دن اسی وقت تک مسح کرے، اور وہ اتوار کے دن کی عصر ہے۔ چنانچہ اگر وہ عصر کی نماز کے لیے وضو کرنا چاہے تو وہ موزے یا جرابیں اتارے اور اپنے پاؤں دھوئے۔
مسح کا طریقہ :
وضو کرنے والا اپنے ہاتھوں کو پانی سے بھگوئے، پھر ان سے پیروں کی انگلیوں کی جگہ سے پنڈلی تک اپنے موزوں پر ایک مرتبہ مسح کرے، دائیں ہاتھ سے دائیں پیر کا، اور بائیں ہاتھ سے بائیں پیر کا۔ ایڑی یا موزے یا جراب کے نچلے حصے کا مسح کرنا مشروع نہیں ہے۔
سوالات:
س1: موزوں پر مسح کرنے کا کیا حکم ہے؟ دلیل کے ساتھ ذکر کریں۔
سوال 2: صحیح جملہ میں (صحیح)، یا غلط جملہ میں (غلط) لکھ کر جواب دیں اور غلطی کی تصحیح کریں:
1- موزوں پر مسح کی شرائط میں سے یہ ہے کہ وہ چمڑے کے بنے ہوں۔
2- موزوں پر مسح کی مدت کی شروعات حدث کے بعد کیے جانے والے پہلے مسح سے ہوتی ہے۔
3- مدت ختم ہو جانے کے بعد موزوں پر مسح کرنا درست ہے۔
س3: کالم (الف) کی عبارتوں کو کالم (ب) میں ان کے مناسب الفاظ سے ملائیں:
کالم (الف)
1- مقیم کے لیے مسح کی مدت
2- مسافر کے لیے مسح کی مدت
3- کسی شخص نے جراب چوری کی، پھر اسے پہن کر اس پر مسح کیا۔
4- خالد نے بے وضو ہونے کی حالت میں موزہ پہنا، پھر اس پر مسح کیا۔
کالم (ب)
- تین دن اور تین راتیں
- اس پر مسح کرنا درست نہیں ہے؛ کیونکہ اس نے اسے بغیر طہارت کے پہنا ہے۔
- اس پر مسح کرنا درست نہیں ہے؛ کیونکہ موزہ مباح نہیں ہے۔
- ایک دن اور ایک رات
- اس کی کوئی مدت متعین نہیں ہے۔
س4: موزوں پر مسح کرنے کا طریقہ کیا ہے؟
سوال 5: ایک شخص نے مغرب کی نماز کے بعد جرابیں پہنیں، پھر وضو ٹوٹنے کے بعد عشاء کی نماز کے لیے وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا، وہ اوقات بیان کریں جن میں اس کے بعد اس کے لیے موزوں پر مسح کرنا صحیح ہے؟
دوسرا سبق [4]
[4] اس شخص کو بھی پانی نہ ملنے والے پر قیاس کیا جائے گا جس کے پاس پانی تو ہو، لیکن پانی کم ہونے کی وجہ سے اگر وہ اس سے وضو کر لے تو اسے پیاس کا خوف ہو، یا بجلی کٹ جائے اور اس کے پاس پانی کے ٹینک سے پانی نکالنے کا کوئی ذریعہ نہ ہو۔ - استاد طلبہ کے سامنے تیمم کا طریقہ عملی طور پر بیان کرے، پھر ان سے بھی اس کا عملی مشق کروائے۔
تیمم
جب مسلمان نماز پڑھنا چاہے تو اس پر واجب ہے کہ وہ پانی سے وضو کرے؛ کیوں کہ طہارت صحتِ نماز کے لیے شرط ہے، لیکن اگر اسے پانی نہ مل سکے، یا اس کے پاس پانی تو ہو لیکن بیمار ہونے کی وجہ سے اس سے وضو نہ کر سکتا ہو، یا اسے زخم ہوں، یا شدید سردی ہو جس کی وجہ سے وہ پانی استعمال نہ کر سکتا ہو، تو وہ تیمم کرے گا، چناں چہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ...پانی نہ ملے تو تم پاک مٹی سے تیمم کرلو، اسے اپنے چہروں پر اور ہاتھوں پر مل لو... [المائدۃ: 6]
تیمم کی تعریف:
تیمم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی نیت سے، ایک مخصوص طریقے کے مطابق، پاک مٹی کے ذریعے چہرے اور دونوں ہاتھوں پر مسح کیا جائے۔
تیمم کا طریقہ:
دل میں نیت کرے، پھر (بسم اللہ) کہے، پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک بار مٹی پر مارے، پھر اپنے ہاتھوں سے اپنے چہرے کا مسح کرے، پھر اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی سے دائیں ہتھیلی کی پشت کا مسح کرے، اور اپنے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی سے بائیں ہتھیلی کی پشت کا مسح کرے۔
تیمم کی شرطیں:
1- نیت کرنا۔
2- پانی کے استعمال پر قدرت نہ ہونا؛ خواہ پانی موجود نہ ہونے کی وجہ سے ہو، یا پانی استعمال کرنے سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔
3- مٹی پاک ہو۔
4- مٹی مباح ہو۔
تیمم کو توڑنے والی چیزیں:
1- پانی کا مل جانا، اگرچہ نماز کے دوران ہی کیوں نہ ہو، نہ کہ اس کے بعد، یا پانی کے استعمال پر قدرت حاصل ہو جانا۔
2- وضو کو باطل کرنے والی چیزوں سے تیمم بھی باطل ہو جاتا ہے۔ ان میں سے کچھ یہ ہیں:
أ- پیشاب یا پاخانے کے راستے سے نکلنے والی چیز، جیسے پیشاب، پاخانہ یا ہوا۔
ب- نیند اور اس کے مشابہ حالتیں جیسے بے ہوشی۔
ج- اونٹ کا گوشت کھانا۔
سوالات:
س1: تیمم کی تعریف کیا ہے؟
س2: خالی جگہ کو پر کریں:
دو حالتیں ہیں جن میں تیمم جائز ہے، وہ یہ ہیں:
1-............................ ............................ ............................ ............................
2-............................ ............................ ............................ ............................
ب- تیمم کی شراطیں یہ ہیں:
1-............................ ............................ ............................ ............................
2- ............................ ............................ ............................ ............................
3-............................ ............................ ............................ ............................
4-............................ ............................ ............................ ............................
سوال 3 : کیا نیچے دیے گئے حالات میں تیمم کرنا جائز ہے یا پانی سے وضو کرنا ضروری ہے :
الف- ایک شخص اپنے شہر میں ہو اور اسے اپنے گھر میں پانی نہ مل سکے۔
ب- ایک شخص صحرا میں گیا اور نماز کا وقت ہو گیا، اور اس کے پاس صرف اتنا ہی پانی ہے جو اس کے کھانے پینے کے لیے کافی ہو۔
ج- ایک شخص سمندر کے کنارے بیٹھا ہے اور نماز کا وقت ہو گیا، لیکن اس کے پاس پانی نہیں ہے، اور آبادی اس سے بہت دور ہے۔
س4: تیمم کا طریقہ اور اسے باطل کر دینے والی چیزیں بیان کریں۔
تیسرا سبق [5]
[5] استاد کے لیے ہدایات: - استاد طلبہ کو نماز کی رغبت اور شوق دلائے، نماز چھوڑنے سے ڈرائے، اور انہیں نماز ترک کرنے کے خطرے اور اس کے سنگین نتائج سے آگاہ کرے۔ - ان پر کفر کی شناعت واضح کر دے، اور یہ کہ کافر اگر کفر کی حالت میں مر جائے تو اس کا انجام جہنم ہے، اور وہ کبھی جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے : (بے شک جو لوگ اہل کتاب میں کافر ہوئے اور مشرکین سب دوزخ کی آگ میں (جائیں گے) جہاں وه ہمیشہ رہیں گے۔ یہ لوگ بدترین خلائق ہیں۔) [البينۃ: 6].
نماز
تعریف:
مخصوص اقوال اور افعال کے ذریعے اللہ تعالی کی عبادت کرنا، جو تکبیر سے شروع اور سلام پر ختم ہوتی ہے۔
نماز کا مقام ومرتبہ:
اسلام میں نماز کا ایک بلند اور اعلیٰ مقام ومرتبہ ہے۔ یہ شہادتین کے بعد اسلام کا دوسرا رکن اور دین کا ستون ہے۔ نماز ترک کرنے والے کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں۔ اس کی اہمیت اور عظیم مقام کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اسے آسمان میں اسراء ومعراج کی رات رسول اللہ ﷺ پر فرض کیا۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور بے شک محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، خانہ کعبہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔" [6] [6] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 8، صحیح مسلم (1/45)، حدیث نمبر : 16، اور مسند احمد (2/120)، حدیث نمبر : 6011۔ مذکورہ الفاظ احمد کے ہیں۔
نماز کا حکم:
نماز ایک فریضہ ہے جسے اللہ نے اپنے بندوں پر فرض کیا ہے، اور جس نے جان بوجھ کر سستی اور کاہلی کے باعث اسے ترک کیا، تو اس نے کفر کیا، اور اگر وہ توبہ نہ کرے تو اسے قتل کر دیا جائے گا، اس کی دلیل نبی ﷺ کا یہ فرمان ہے: ”ہمارے اور ان (کافروں) کے درمیان فرق نماز کا ہے، تو جس نے نماز چھوڑدی اس نے کفر کیا۔“ [7] "[7] جامع ترمذی، کتاب الإيمان، باب: ما جاء في ترك الصلاة (5/13)، حدیث نمبر: (2621)، اور امام ترمذی نے کہا: "حسن صحیح غریب"۔
نماز کن لوگوں پر واجب ہے :
نماز عاقل و بالغ مسلمان پر فرض ہے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ البتہ چھوٹا بچہ جب سات سال کی عمر کو پہنچ جائے، تو اسے بطور مشق نماز پڑھنے کا حکم دیا جائے گا، تاکہ وہ اس سے مانوس ہو جائے اور اس کا عادی بن جائے، اور بالغ ہونے پر اسے نہ چھوڑے۔ اور جب وہ دس سال کا ہو جائے، تو اسے نماز (نہ پڑھنے) پر مارا جائے گا، اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ""جب تمہارے بچے سات سال کے ہو جائیں تو انہیں نماز پڑھنے کا حکم دو اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو نماز میں غفلت پر انہیں مارو اور ان کے بستر بھی الگ الگ کر دو۔" [8]۔" [8] اسے ابو داؤد نے کتاب الصلاۃ، باب: متى يُؤمَر الغُلامُ بِالصَّلاة میں عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده کی سند سے حدیث نمبر (495) کے تحت روایت کیا ہے، ترمذی نے ابواب الصلاۃ، باب: ما جاء متى يُؤْمَر الصَّبيُّ بالصَّلاة میں حدیث نمبر (407) کے تحت، دارمی نے اپنی سنن میں کتاب الصلاۃ، باب: متى يُؤمَر الصَّبيُّ بالصَّلاةِ میں حدیث نمبر (407) کے تحت، دارقطنی نے کتاب الصلاۃ، باب: الأمْرُ بِتَعلِيمِ الصَّلوات والضَّربِ عليها، وحَدّ العَوْرَةِ التي يجب سَترها (1/ 230) میں، حاکم نے المستدرک میں کتاب الصلاۃ، باب: في مَواقِيت الصَّلاة (1/ 197) میں، اور بیہقی نے کتاب الصلاۃ، باب: عَوْرَة الرَّجُل (2/ 229) میں روایت کیا ہے۔
سوالات:
س1: اسلام میں نماز کا مقام بیان کریں۔
س2: درج ذیل جملے کو مکمل کریں:
نماز کا حکم: ............................ اور جو شخص جان بوجھ کر سستی اور کاہلی کے باعث اسے ترک کر دے تو وہ ............................ اور اگر وہ توبہ نہ کرے تو اسے ............................
سوال 3 : مندرجہ ذیل امور کی دلیل پیش کریں:
1- نماز اسلام کا دوسرا رکن ہے۔
2- نماز چھوڑنا کفر ہے۔
س4: صحیح جواب کا انتخاب کریں اور اس کے نیچے لکیر کھینچیں:
1- نماز ان پر فرض ہے:
(مسلمان اور کافر - صرف بالغ مسلمان - عاقل وبالغ مسلمان)۔
2- رسول ﷺ پر نماز فرض کی گئی:
(سنہ 1ھ - شبِ معراج - سنہ 9ھ)۔
س5: بچے کو نماز پڑھنے کا حکم کب دیا جائے، اور نماز چھوڑنے پر اسے کب مارا جائے، دلیل کے ساتھ ذکر کریں؟
چوتھا سبق [9]
[9] استاد کے لیے ہدایات: - طلبہ کو نماز کے لیے جلدی آنے کی ترغیب دی جائے، اور اس کی فضیلت بیان کی جائے۔ - طلبہ کو ان بعض رویوں سے متنبہ کیا جائے جو نماز کے لیے چل کر جانے کے آداب کے منافی ہیں، جیسے راستے میں دیر تک کھڑے رہنا، اور ساتھیوں کے ساتھ بے فائدہ گفتگو کرنا۔ - مسجد میں فضول حرکتوں سے منع کیا جائے، اور مساجد میں ہونے والی ایسی بے مقصد حرکتوں کی مثالیں بھی بیان کی جائیں۔ - رکعت پانے کے لیے جلدی کرنے سے روکا جائے۔
نماز کی طرف چل کر جانے اور اس کا انتظار کرنے کے آداب
نماز کی طرف چل کر جانے کے آداب:
ایک مسلمان کو نماز کے لیے نکلتے وقت شرعی آداب کی رعایت کرنی چاہیے، جن میں سے چند یہ ہیں:
1- وہ وضوء کرکے نماز کے لئے نکلے۔
2- جب وہ گھر سے نکلے -اگرچہ نماز کی غرض سے نہ نکلا ہو- تو یہ دعا پڑھے: (اللہ کے نام سے، میں نے اللہ پر بھروسہ کیا۔ اللہ کی مدد کے بغیر نہ کسی چیز سے بچنے کی طاقت ہے، نہ کچھ کرنے کی قوت۔) [10] [10] سنن ابو داود : (5/328)، حدیث نمبر : (5095)، اور سنن ترمذی : (5/490)، حدیث نمبر : (3426)۔
3- نماز کے لیے سکون اور وقار کے ساتھ جائے [11]، کیوں کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: ’’جب تم اقامت کی آواز سنو تو سکون واطمینان کے ساتھ چلو۔ پھر جتنی نماز تمھیں ملے پڑھ لو اور جو رہ جائے اسے پورا کرلو۔‘‘ [12] [11] السکینہ: حرکات میں ٹھہراؤ اور عبث سے اجتناب۔ وقار: ظاہری ہیئت میں ہوتا ہے، جیسے نگاہ نیچی رکھنا، آواز پست رکھنا، اور ادھر ادھر کم دیکھنا۔ [12] اسے بخاری نے کتاب الجمعة، باب: المشي إلى الجمعة، حدیث نمبر: (908) میں اور مسلم نے کتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب: استحباب إتيان الصلاة بوقار وسكينة، حدیث نمبر: (602) میں روایت کیا ہے۔
4- مسجد میں داخل ہوتے وقت اپنا دایاں پاؤں آگے رکھے اور اس سے نکلتے وقت اپنا بایاں پاؤں، اور وہ دعا پڑھے جو ابو حمید یا ابو اسید رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آئی ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو کہے: اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے، اور جب نکلے تو کہے: اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں‘‘۔ [13] [13] صحیح مسلم، كتاب صَلاة المسافِرين وقصرها، باب: ما يقول إذا دَخَلَ المسجِد (1/494)، حدیث نمبر (713)۔
نماز کے انتظار کے آداب :
مسلمان کے لیے مشروع ہے کہ وہ مسجد میں داخل ہونے کے بعد شرعی آداب کی رعایت کرے، جن میں سے چند یہ ہیں:
1- جب مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت ادا کرے، اور اسے تحیۃ المسجد کہا جاتا ہے۔
2- مسجد میں قبلہ کی طرف رخ کر کے بیٹھے، اور اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں نہ ڈالے اور نہ انگلیاں چٹخائے۔
3- مسجد میں عبادت میں مشغول رہے، جیسے نماز، تلاوت اور ذکر ۔
4- فضول حرکتیں نہ کرے اور نمازیوں کو تکلیف نہ پہنچائے؛ کیونکہ مسلمان جب مسجد میں ہوتا ہے تو وہ اس وقت تک نماز ہی میں ہوتا ہے جب تک کہ وہ نماز کا انتظار کرتا ہے، چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بندہ اس وقت تک نماز ہی میں رہتا ہے جب تک کہ وہ مسجد میں نماز کا انتظار کرتا ہے، اور فرشتے کہتے ہیں کہ اے اللہ! اس کو بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم کر، یہاں تک کہ وہ چلا جائے یا اس کا وضوء ٹوٹ جائے‘‘ [14]۔ [14] اس حدیث کو بخاری نے كتاب الصلاة، باب: الصلاة في مسجد السوق، حدیث نمبر: (477) میں اور مسلم نے كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب: فضل صلاة الجماعة وانتظار الصلاة(1/459)، حدیث نمبر: (649) میں روایت کیا ہے اور مذکورہ الفاظ مسلم کے روایت کردہ ہیں۔
سوالات:
س1: نماز کے لیے نکلتے وقت مسلمان کے لیے جن آداب کی رعایت کرنا مشروع ہے، ان میں سے تین آداب ذکر کریں۔
س2: ایسے تین آداب ذکر کریں جن کی رعایت کرنا نماز کا انتظار کرتے وقت مسلمان کے لیے مشروع ہے؟
س3: نماز کی طرف جانے میں جلدی نہ کرنے کی کوئی دلیل حدیث سے ذکر کریں؟
س4: خالی جگہوں کو پر کریں:
أ- مسلمان کے لیے سنت ہے کہ وہ مسجد میں داخل ہوتے وقت ............................ آگے رکھے، اور اس سے نکلتے وقت ............................۔
ب- اسلام نے جن آداب کی تعلیم دی ہے، ان میں سے یہ بھی ہے کہ مسلمان گھر سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھے: ............................ ............................ ............................
ج- مسجد میں عبادتوں میں مشغول رہنا چاہیے جیسے ............................ ............................
د- مسلمان کے لیے سنت ہے کہ مسجد میں داخل ہوتے وقت ............................ ............................ اور مسجد سے نکلتے وقت ............................ ............................ پڑھے۔
پانچواں سبق [15]
[15] استاد کے لیے: استاد نماز کا طریقہ بیان کرتے وقت طلبہ کو درج ذیل مسائل کی طرف توجہ دلائے: - مقتدی قراءت بآوازِ بلند نہیں کرے گا، نہ جہری نماز میں اور نہ ہی سری نماز میں، البتہ اس پر قراءت کے الفاظ زبان سے ادا کرنا واجب ہے، اور قراءت کرتے وقت زبان اور ہونٹوں کو حرکت دیے بغیر محض دل ہی دل میں پڑھ لینا کافی نہیں ہے۔ - سینے پر ہاتھ باندھنے کی کیفیت یہ ہے کہ دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کی ہتھیلی، کلائی اور بازو پر رکھے۔ - دعائے استفتاح کی تفسیر یہ ہے: (سُبْحانَك اللَّهمَّ) یعنی: اے اللہ! میں تجھے ہر اس بات سے پاک قرار دیتا ہوں جو تیرے شایانِ شان نہیں، (وبحمدِك) یعنی: ایسی پاکی بیان کرتا ہوں جو تیری حمد کے ساتھ مربوط ہو، (وتَبارَك اسمُك) یعنی: تیری برکتیں بہت زیادہ ہیں، (وتَعالى جَدُّك) یعنی: تیری شان بلند اور عظمت والی ہے، (ولا إله غيرُك) یعنی: تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ - ہاتھوں کو کندھوں کے برابر یا کانوں کے بالمقابل اٹھانے کی کیفیت: اپنے دونوں ہاتھوں کو اس طرح اٹھائے کہ انگلیاں آپس میں ملی ہوئی اور سیدھی ہوں، اور ہتھیلیوں کا رخ قبلہ کی جانب ہو۔ مَنکِب (کندھے) سے مراد: شانے کے سرے اور بازو کے ملنے کا جوڑ ہے۔ - (آمِين) کا معنی: اے اللہ! قبول فرما۔ - تورُّک کا معنی بیان کرے، اور وہ یہ ہے کہ دائیں پاؤں کو اس طرح کھڑا کر کے بیٹھنا کہ اس کی انگلیاں قبلہ رخ ہوں، اور بائیں پاؤں کو دائیں پنڈلی کے نیچے رکھ کر اسے دائیں جانب سے باہر نکال دینا، اور بائیں سرین پر زور دیتے ہوئے مقعد کے بل (زمین پر) بیٹھنا۔ - استاد نماز کا عملی طریقہ بیان کرنے کے لیے ایک درس مختص کرے۔
نماز کا طریقہ
پہلی رکعت
نمازی قبلہ یعنی کعبہ کی طرف رخ کر کے کھڑا ہو۔
پھر (اللہ اکبر) کہتے ہوئے تکبیر تحریمہ کہے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر یا کانوں کے برابر اٹھائے۔
پھر دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھے، اور دونوں ہاتھوں کو سینے کے اوپر رکھے، اور سجدہ کی جگہ کی طرف دیکھے۔
پھر دعائے استفتاح پڑھے اور وہ یہ ہے: ”اے اللہ! تو پاک ہے، تیری ہی تعریف ہے، تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان سب سے اونچی ہے اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔“
پھر آہستہ سے: ’أعوذُ بِاللهِ مِن الشَّيطانِ الرَّجِيم، بِسمِ اللهِ الرَّحمنِ الرَّحِيمِ‘ کہے، پھر سورۂ فاتحہ پڑھے، اور اس کے بعد: (آمین) کہے، پھر کوئی سورت یا کسی سورت کا کچھ حصہ پڑھے۔
سورہ فاتحہ اور سورت سری نمازوں میں پست آواز سے، اور جہری نمازوں میں بلند آواز سے پڑھے۔ سری نمازیں: (ظہر اور عصر)۔ جہری نمازیں: (مغرب، عشاء اور فجر)۔
پھر اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے ہوئے اور (اللہ اکبر) کہتے ہوئے رکوع کرے، اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں پر اس طرح رکھے کہ انگلیاں پھیلی ہوئی ہوں جیسے انہیں پکڑے ہوئے ہو، اپنی پیٹھ اور سر کو برابر رکھے اور رکوع میں تین مرتبہ (سُبْحانَ ربي العَظِيم) کہے۔
پھر اگر امام یا منفرد ہو تو (سمع اللهُ لِمَن حَمِدَه) کہتے ہوئے اپنا سر اور دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر سب کہیں: (رَبَّنا ولك الحمد، حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُباركًا فيه، مِلْءَ السَّمواتِ ومِلْءَ الأَرْضِ، ومِلْءَ ما بَيْنَهما، ومِلْءَ ما شِئْتَ مِن شَيْءٍ بَعْد)۔ البتہ مقتدی سر اٹھاتے وقت (رَبَّنا ولك الحمد) کہے، پھر جب سیدھے طور پر کھڑا ہو جائے، تو اپنے دونوں ہاتھ سینے پر رکھتے ہوئے کہے: حَمْدًا كَثِيرًا ...
پھر (اللہ اکبر) کہتے ہوئے سجدہ کرے، اور سجدے میں تین مرتبہ (سُبْحانَ ربي الأَعْلى) پڑھے۔ اس کا سجدہ سات اعضا پر ہو، جوکہ یہ ہیں: (پیشانی ناک سمیت - دونوں ہتھیلیاں - دونوں گھٹنے - پیروں کے کنارے)۔
پھر 'اللہ اکبر' کہتے ہوئے سر اٹھائے، اور بائیں پیر کو بچھا کر اس پر بیٹھے، اور دایاں پیر کھڑا رکھے، انگلیوں کو قبلہ رخ رکھے، دونوں ہاتھ رانوں اور گھٹنوں پر رکھے، اور یہ دعا پڑھے: ( اے اللہ! مجھے اپنی مغفرت‘ رحمت‘ عافیت‘ ہدایت اور رزق سے نواز اور میرے ہی کسر کو دور کردے)۔
پھر (اللہ اکبر) کہتے ہوئے دوسرا سجدہ کرے اور اس میں بھی وہی سب کرے جو پہلے سجدہ میں کیا تھا۔
دوسری رکعت
پھر ''اللہ اکبر'' کہتے ہوئے سر اٹھائے اور دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہو جائے، اور اس میں اسی طرح کرے جس طرح پہلی رکعت میں کیا تھا، مگر اس میں دعائے استفتاح نہ پڑھے۔
پہلا تشہد
جب دوسری رکعت سے فارغ ہو تو پہلے تشہد کے لیے بیٹھے، بائیں پیر کو بچھا کر اس پر بیٹھے اور دائیں پیر کو کھڑا رکھے، اور ان دونوں پیروں کی انگلیوں کو قبلہ رخ رکھے، دایاں ہاتھ دائیں ران پر رکھے، اور چھوٹی اور چوتھی دو انگلیوں کو سمیٹ لے، اور انگوٹھے کو درمیانی انگلی سے ملا کر حلقہ بنائے، اور تشہد کے وقت شہادت کی انگلی سے اشارہ کرے، اور بائیں ہاتھ کو بائیں ران اور گھٹنے پر رکھے، اور تشہد پڑھے، جو یہ کہ ہے:
"تمام قولی، فعلی اور مالی عبادات اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلامتی، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔"
تیسری اور چوتھی رکعت
اگر نماز دو رکعت سے زیادہ کی ہو، تو پہلے تشہد کے بعد تکبیر کہتے ہوئے کھڑا ہو جائے، اور اپنے ہاتھوں کو کندھوں یا کانوں کے برابر اٹھائے، پھر آہستہ سورہ فاتحہ پڑھے، اور پچھلی دو رکعتوں کی طرح اسے مکمل کرے۔
آخری تشہد
جب آخری رکعت سے فارغ ہو جائے تو آخری تشہد کے لیے بیٹھے، اور اس کے لیے سنت یہ ہے کہ تورک کی حالت میں بیٹھے، چنانچہ تشہد پڑھے، پھر نبی ﷺ پر درودِ ابراہیمی پڑھے اور کہے: "اے اللہ! محمد پر اور آل محمد پر رحمت نازل فرما، جیسے تو نے ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر رحمت نازل کی ہے۔ بے شک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔ محمد پر اور آل محمد پر برکت نازل فرما، جیسے تو نے ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر برکت نازل کی ہے۔ بے شک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔"
پھر آخری تشہد کے لیے بیٹھے اور کہے: "”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنہ سے، اور مسیح دجال کے فتنہ سے۔“"
دو سلام پھیرنا
پھر اپنے دائیں اور بائیں ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ“ کہتے ہوئے سلام پھیرے۔
سوالات:
س1: درج ذیل عبارتوں کو مکمل کریں:
أ- نمازی سات اعضا پر سجدہ کرے، اور وہ اعضاء یہ ہیں: پیشانی ناک کے ساتھ ............................ اور ............................ اور ............................
ب- دعائے استفتاح یہ ہے: .......... ............................ ............................ ............................ ............................ ............................ ............................ ............................ ولا إلَه غيرُك۔
س2: کالم (الف) میں موجود عبارتوں کا نمبر کالم (ب) میں ان کی مناسب عبارتوں کے سامنے لکھیں:
کالم (الف)
1- نمازی قبلہ کی طرف رخ کر کے کھڑا ہو، اور وہ ہے:
2- سِری نمازیں یہ ہیں:
3- نمازی رکوع میں یہ دعا پڑھے:
4- جہری نمازیں یہ ہیں:
5- نمازی سجدہ میں یہ دعا پڑھے:
6- نمازی دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھ کر یہ دعا پڑھے:
کالم (ب)
ظہر اور عصر۔
سُبْحانَ ربي الأعلى.
سُبْحانَ ربي العَظِيم.
ربِّ اغْفِرْ لي.
کعبہ
مغرب، عشاء اور فجر۔
اے ہمارے رب! تمام تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں
س۳: صحیح جواب میں (صحیح)، یا غلط جواب میں (غلط) لکھ کر جواب دیں اور غلطی کو درست کریں:
1- نمازی سجدے کی جگہ پر نظر رکھے۔
2- نمازی دوسری رکعت میں بھی دعائے استفتاح پڑھے۔
3- تشہدِ اول کے دوران نمازی بائیں پیر کو بچھائے اور دائیں پیر کو کھڑا رکھے۔
س4: بیان کریں کہ نمازی درج ذیل اذکار کب پڑھے:
(آمین)
سُبْحان ربي العَظِيم
سُبْحان ربي الأعلى
ربَّنا ولك الحمْد
ربِّ اغْفِر لي
اللَّهم صَلِّ على محمَّد وعلى آلِ محمَّد ...
چھٹا سبق [16]
[16] استاد کے لیے: - اس کے علاوہ بھی بہت سے قولی، فعلی اور عملی سنتیں ہیں جن کا یہاں اوپر ذکر نہیں کیا گیا۔ استاد کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان سے بھی واقف ہو، تاکہ طلبہ کے سامنے نماز کا عملی طریقہ بتاتے وقت ان سنتوں کا بھی اہتمام کرے۔ - استاد طلبہ کو قولی اور فعلی سنتوں پر عمل کرنے کی اہمیت سمجھائے، اور واضح کرے کہ سنتوں کی پابندی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کی علامت ہے۔
نماز کی سنتیں
نماز میں کچھ ایسے اقوال و افعال مشروع ہیں جنہیں جان بوجھ کر یا بھول چوک میں چھوڑ دینے سے نماز باطل نہیں ہوتی، لیکن نمازی کو چاہیے کہ ان کا اہتمام کرے تاکہ اس کا ثواب بڑھ جائے، ان کی دو قسمیں ہیں:
پہلی قسم : قولی سنتیں۔ جیسے :
1- دعائے استفتاح، اور وہ یہ ہے: (سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالى جَدُّكَ، وَلَا إِلٰهَ غَيْرُكَ)۔
2- پہلی رکعت میں قراءت سے پہلے (أَعوذُ بِاللهِ مِن الشَّيطانِ الرَّجِيم) کہنا۔
3- سورہ فاتحہ کے شروع میں اور ہر سورت کے شروع میں (بِسم اللهِ الرَّحمن الرَّحيم) پڑھنا۔
4- سورہ فاتحہ کے بعد "آمین" کہنا۔
5- ہر نماز کی پہلی اور دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد کوئی سورت یا سورت کا کچھ حصہ پڑھنا۔
6- آخری تشہد کے دوران نبی ﷺ پر درود بھیجنے کے بعد دعا کرنا۔
دوسری قسم: فعلی سنتیں۔ جیسے:
1- دونوں ہاتھوں کو کندھوں یا کانوں کے برابر اٹھانا، اور یہ چار جگہوں پر ہے: (تکبیرِ تحریمہ کے وقت)، (رکوع کے وقت)، (رکوع سے اٹھتے وقت)، اور (تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہونے کے بعد)۔
2- حالتِ قیام میں، دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھ کر دونوں کو سینہ کے اوپر رکھنا۔
3- سجدے کی جگہ پر نظر رکھنا۔
4- دونوں سجدوں کے درمیان اور پہلے تشہدِ میں افتراش کرنا، یعنی بائیں پیر کو بچھا کر اس پر بیٹھے، اور دائیں پیر کو کھڑا رکھے، اور اس کی انگلیوں کو موڑ کر قبلہ رخ رکھے۔
5- رکوع کے دوران انگلیاں کھول کر دونوں ہاتھوں کو دونوں گھٹنوں پر رکھنا۔
6- نمازی اپنے سامنے لاٹھی وغیرہ بطورِ سترہ رکھے، اگر کوئی چیز نہ ملے تو چاند کی شکل میں ایک لکیر کھینچ لے اور اس کی طرف نماز ادا کرے۔
7- اپنے سامنے سے گزرنے والے کو روکے۔
سوالات:
س1: نماز کی تین قولی سنتیں اور تین فعلی سنتیں بیان کریں۔
س2: رفع یدین کرنا نماز میں چار جگہوں پر سنت فعلیہ ہے۔ انہیں ذکر کریں۔
سوال 3 : مندرجہ ذیل میں قولی سنت اور فعلی سنت کے درمیان فرق کریں :
ا- بسم اللہ پڑھنا۔
ب- حالتِ قیام میں دونوں ہاتھوں کو سینے پر رکھنا۔
ج- آمین کہنا۔
د- نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو روکنا۔
سوال 4 : مندرجہ ذیل امور کا طریقہ بیان کریں:
أ- رفع یدین کا طریقہ: ............................ ............................ ............................
ب- رکوع کے دوران دونوں ہاتھوں کو رکھنے کا طریقہ: ............................ ............................
ج- افتراش کا طریقہ: ............................ ............................ ............................
ساتواں سبق [17]
[17] معلم کے لیے: - مناسب ہے کہ استاد ان مکروہ افعال کی ممانعت کے بارے میں وارد بعض نصوص کا ذکر کرے۔ - استاد طلبہ کے سامنے ان افعال میں سے ان باتوں کو واضح کرے جن کی عملی وضاحت کی ضرورت ہو۔
نماز میں مکروہ افعال
مسلمان اللہ تعالی کا یہ فرمان پڑھتا ہے: یقیناً ایمان والوں نے فلاح حاصل کرلی۔ جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں۔ [المؤمنون: 1-2]۔
اس لیے وہ اپنی نماز کی پابندی کرے، اسے اس کے ارکان، واجبات اور شرائط کے ساتھ مکمل طور پر ادا کرے، اور کوئی ایسا کام نہ کرے جو نماز کے منافی ہو، جیسے بات چیت، حرکت یا ہنسی؛ کیوں کہ وہ اللہ کے ثواب کی امید رکھتا ہے اور اس کے عذاب سے ڈرتا ہے۔ کچھ ایسے افعال ہیں جنہیں نماز کے دوران انجام دینا نمازی کے لیے مکروہ ہے۔ ایسے افعال نماز کے حسن و کمال کے منافی ہیں اور نماز کے اجر و ثواب میں کمی کا باعث بنتے ہیں۔ ان میں سے بعض یہ ہیں:
1- بغیر کسی ضرورت کے اپنے چہرے یا سینے کو ادھر ادھر گھمانا، چنانچہ اگر وہ پورے بدن کے ساتھ پِھر جائے تو اس کی نماز باطل ہو جائے گی۔
2- آسمان کی طرف نگاہ اٹھانا۔
3- بغیر ضرورت کے آنکھیں بند کرنا۔
4- ناک اور منہ کو ڈھانکنا۔
5- سجدہ کے دوران بازوؤں کو بچھانا۔
6- فضول کام کرنا، جیسے بلا ضرورت حرکت کرنا، اور ہاتھ، پاؤں، کپڑے، رومال یا گھڑی سے کھیلنا، اگر یہ فضول کام زیادہ ہوجائے تو اس سے نماز باطل ہوجاتی ہے۔
7- انگلیوں کو ایک دوسرے میں ڈالنا اور انہیں چٹخانا۔
8- ایسی حالت میں نماز شروع کرنا جس میں خشوع متاثر ہو، مثلاً پیشاب، پاخانے یا ہوا کے خارج ہونے کا شدید تقاضا ہو، یا بہت زیادہ بھوک یا شدید پیاس لگی ہو، یا کھانا سامنے موجود ہو اور اسے کھانے کی شدید خواہش ہو۔
سوالات:
س1: نماز کے چار مکروہ اعمال بیان کریں۔
س2 : نماز میں نیچے دیے گئے کام کرنے کا حکم بیان کیجیے :
1- ناک اور منہ کو ڈھانکنا۔
2- اپنے پورے جسم کے ساتھ مڑنا۔
3- سجدے کی جگہ پر نظر رکھنا۔
4- انگلیاں چٹخانا۔
سوال 3 : مندرجہ ذیل امور کی مثالیں دیں:
1- نماز میں فضول کام کرنا: ............................ ............................ ............................
2- نماز میں خشوع سے روکنے والی چیزیں: ............................ ............................ ............................
آٹھواں سبق [18]
[18] استاد کے لیے: - استاد واضح کرے کہ انسان بھول چوک سے پاک نہیں ہے؛ کیوں کہ یہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے، اور رسول ﷺ سے بھی نماز میں سہو ہوا ہے، اور آپ ﷺ نے فرمایا: "میں بھی تمہاری طرح ایک انسان ہوں، جس طرح تم بھولتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں، چنانچہ جب تم میں کسی سے بھول چوک ہوجائے، تو وہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کر لے۔" - سجدۂ سہو کی مشروعیت کی حکمت واضح کرے، جوکہ یہ ہے: 1- نماز میں واقع ہونے والی کمی کو پورا کرنا۔ 2- شیطان کو ذلیل کرنا۔ 3- رحمن کو راضی کرنا۔
سجدۂ سہو
سجدۂ سہو: یہ دو سجدے ہیں جو نمازی نماز کے آخر میں، نماز میں اس سے سہو ہو جانے پر کرتا ہے۔
سہو سے مراد بھولنا ہے۔
سجدۂ سہو تین اسباب کے لیے مشروع ہے، وہ یہ ہیں:
اول : نماز میں اضافہ :
مثلاً: اگر کوئی شخص ظہر کی نماز پانچ رکعت پڑھے، یا تین سجدے کرے۔
اگر نمازی ایسا جان بوجھ کر کرے تو اس کی نماز باطل ہو جائے گی، اور اگر بھول کر کرے تو سلام پھیرنے سے پہلے سہو کے دو سجدے کرے گا، اس کی دلیل ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب آدمی زیادتی یا کمی کردے، تو وہ دو سجدے کرے۔“ [19] [19] صحیح مسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، حدیث نمبر: 572۔
دوم : نماز میں کمی :
جیسے: تشہد اول کے لیے بیٹھنا چھوڑ دے، یا رکوع یا سجدے میں تسبیح چھوڑ دے، اگر نمازی جان بوجھ کر ایسا کرے تو اس کی نماز باطل ہوجاتی ہے، اور اگر بھول جائے تو سلام پھیرنے سے پہلے سجدۂ سہو کرے۔
تیسرا: شک:
مثلاً: اگر کوئی شخص عصر کی نماز پڑھے اور اسے اپنی رکعت میں شک ہو جائے کہ یہ تیسری ہے یا چوتھی، تو وہ اسے تیسری شمار کرے، اور سلام پھیرنے سے پہلے سجدۂ سہو کرے۔
سوالات:
س1: نماز میں سجدہ سہو سے کیا مراد ہے؟
سوال 2 : نماز میں سجدۂ سہو تین اسباب کی بنا پر مشروع ہے، انہیں ذکر کریں۔
س3: دونوں کالم کی عبارتوں کو آپس میں ملائیں:
کالم (الف)
1- کسی شخص نے جان بوجھ کر مغرب کی چار رکعتیں پڑھیں۔
2- کوئی شخص پہلے تشہد کے لیے بیٹھنا بھول گیا۔
کالم (ب)
وہ سجدۂ سہو کرے گا
اس کی نماز باطل ہوجائے گی۔
اس پر کچھ نہيں ہے۔
س4: اگر نمازی کو مغرب کی نماز میں شک ہو جائے کہ دو رکعتیں پڑھی ہیں یا تین، تو کیا حکم ہے؟
نواں سبق:
نمازِ با جماعت
نمازِ با جماعت کا حکم:
مردوں پر نماز با جماعت فرض ہے، خواہ وہ حضر میں ہوں یا سفر میں، اور اس کے دلیلیں درج ذیل ہیں:
1- اللہ تعالی کا فرمان ہے: اور نمازوں کو قائم کرو اور زکوٰة دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ [البقرۃ : 43]۔ یہ آیت جماعت کے وجوب کی صریح دلیل ہے، کیوں کہ اس میں تنہا نہیں بلکہ رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور یہ جماعت کے بغیر ممکن نہیں۔
2۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک نابینا شخص آیا اور عرض کیا: "اے الله كے رسول! میرے پاس کوئی آدمی نہيں ہے، جو مجھے مسجد تک لے آیا کرے، اس نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ اسے اس بات کی رخصت دی جائے کہ وہ اپنے گھر میں نماز پڑھ لیا کرے، تو آپ ﷺ نے اجازت دے دی، جب وہ جانے لگا تو آپ ﷺ نے اسے واپس بلا کر پوچھا: ”کیا تو نماز کی اذان سنتا ہے؟“، اس نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر اس کا جواب دے (یعنی جماعت کے ساتھ مسجد میں نماز ادا کر)“ [20]۔" [20] صحیح مسلم: باب: يجب إتيان المسجد على من سمع النداء (1/452)، حدیث نمبر: 653۔
3- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ""بلاشبہ منافقوں پر سب سے بھاری نماز عشاء اور فجر کی نماز ہے۔ اگر وہ جان لیں کہ ان دونوں میں کیا (ثواب) ہے تو وہ ضرور ان کے لیے آئیں، خواہ انہیں گھٹنوں کے بل چل کر ہی آنا پڑے۔ میں نے ارادہ کیا ہے کہ نماز کھڑی کرنے کا حکم دے دوں۔ جب وہ کھڑی ہو جائے تو کسی کو لوگوں کو نماز پڑھانے کو کہہ دوں اور پھر اپنے ساتھ ایسے لوگوں کو لے کر جن کے پاس لکڑیوں کے گٹھے ہوں، ان لوگوں کے یہاں جاؤں، جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے اور ان کے گھروں کو آگ لگا کر ان کو بھی گھر سمیت جلا دوں۔"" [21] [21] اس حدیث کو امام بخاری نے كتاب التمني، باب: إخراج الخصوم وأهل الريب من البيوت بعد المعرفة، حدیث نمبر: (7224) میں اور امام مسلم نے كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب: فضل صلاة الجماعة، وبيان التشديد في التخلف عنها، حدیث نمبر: (651) میں روایت کیا ہے۔
نمازِ با جماعت کی فضیلت:
نمازِ با جماعت کی بڑی فضیلت ہے جس پر نبی ﷺ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے: "باجماعت نماز اکیلے نماز پڑھنے سے ستائیس (27) درجے زیادہ افضل ہے" [22]۔ [22] صحیح بخاری، حدیث نمبر : 645 اور صحیح مسلم (1/450)، حدیث نمبر : 650۔
جماعت کی کم سے کم تعداد دو ہوتی ہے۔
کتنی رکعت ملنے سے جماعت مل جاتی ہے: اگر امام کے ساتھ ایک رکعت مل جائے تو جماعت مل جاتی ہے۔
کس چیز کے ملنے سے رکعت مل جاتی ہے:
رکوع کے ملنے سے رکعت مل جاتی ہے، چنانچہ جو شخص نماز کے لیے آئے اور امام رکوع کی حالت میں ہو تو وہ کھڑے کھڑے تکبیر تحریمہ پڑھے، پھر رکوع کے لیے تکبیر کہے اور رکوع میں چلا جائے۔
اور اگر وہ رکوع سے اٹھنے کے بعد آئے، تو امام کے ساتھ نماز میں شامل ہو جائے، اور اس کے کھڑے ہونے کا انتظار نہ کرے، لیکن وہ اس رکعت کو اپنی نماز میں شمار نہ کرے۔
اقامتِ نماز کے بعد نفل نماز:
جب جماعت کھڑی ہوجائے، تو اس وقت نفل نماز شروع کرنا جائز نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص نفل نماز پڑھ رہا ہو اور جماعت کھڑی ہوجائے، تو اگر وہ دوسرے رکوع سے فارغ ہوچکا ہو، تو جلدی سے پوری کر لے، ورنہ اسے توڑ دے۔
سوالات:
س1: نماز باجماعت کا کیا حکم ہے؟
س2: صحیح جواب پر دائرہ بنائیں:
الف- جماعت کی اقل تعداد (تین - دو - چار)۔
ب- باجماعت پڑھی گئی نماز اکیلے پڑھی گئی نماز سے (21 درجہ - 29 درجہ - 27 درجہ) افضل ہے۔
ج- جماعت (تکبیر تحریمہ ملنے - امام کے ساتھ ایک رکعت ملنے - امام کے ساتھ سلام ملنے) سے مل جاتی ہے۔
س3: جو شخص امام کے رکوع سے اٹھنے کے بعد نماز کے لیے آئے تو وہ کیا کرے؟
س4: درج ذیل مسائل کا حکم بیان کریں:
أ- فرض نماز کی اقامت کے بعد نفلی نماز شروع کرنا۔
ب- اگر فرض نماز کی اقامت ہو جائے، اور آپ نفلی نماز پڑھ رہے ہوں۔
دسواں سبق [23]
[23] لغت میں امی وہ شخص ہے جو لکھنا نہ جانتا ہو۔ اور فقہاء کی اصطلاح میں اس سے مراد وہ شخص ہے جسے سورۃ الفاتحہ کی تلاوت صحیح طریقے سے نہ آتی ہو، یعنی: اسے وہ یاد نہ ہو، یا وہ کسی حرف کو دوسرے حرف سے بدل دیتا ہو، جیسے کوئی شخص راء کو لام سے بدل دے، یا اس میں ایسی غلطی کرے جو معنی کو بدل دے، جیسے کوئی شخص (أَنْعَمْتَ) کو تاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھے۔ - استاد اس سبق سے استفادہ کرتے ہوئے طلبہ کو علمِ نافع کے حصول، اعمالِ صالحہ کی بجا آوری، اور نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی ترغیب دے۔
امام کے احکام
امامت کا زیادہ حق دار:
اول: بالترتیب امامت کے سب سے زیادہ حق دار یہ ہیں:
1- اللہ کی کتاب کو سب سے اچھا پڑھنے والا، یعنی: سب سے عمدہ قراءت کرنے والا۔
2- پھر سنت کا زیادہ علم رکھنے والا، یعنی: نبی ﷺ کی احادیث کا زیادہ علم رکھنے والا اور دین کے احکام کو جاننے والا۔
3- پھر جو عمر میں بڑا ہو۔
دوم: گھر کا مالک اپنے گھر میں، اور اسی طرح مسجد کا مقرر امام دوسروں سے زیادہ حق دار ہے، بشرطیکہ وہ امامت کا اہل ہو، چاہے اس سے افضل شخص ہی کیوں نہ موجود ہو۔
سوم: صاحبِ اقتدار اور صاحبِ سلطنت دوسروں سے زیادہ امامت کے اہل ہیں، اس کی دلیل ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’لوگوں کی امامت وہ کرے جو اللہ کی کتاب (قرآن) کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہو۔ اگر قرأت میں سب برابر ہوں تو جو سنت کا سب سے بڑا عالم ہو۔ اگر سنت میں سب برابر ہوں تو جس نے سب سے پہلے ہجرت کی ہو۔ اگر ہجرت میں سب برابر ہوں تو جس نے اسلام پہلے قبول کیا ہو۔ کوئی شخص کسی اور شخص کے دائرۂ اقتدار میں اس کی امامت نہ کرے، اور نہ اس کے گھر میں اس کی مخصوص جگہ پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھے۔‘‘ ایک روایت میں «سِلْمًا» کی جگہ «سِنًّا» ہے۔ [24] [24] صحیح مسلم (1/465)، حدیث نمبر : 673، اور سِلْمًا کا معنی ہے: اسلام۔ اور (تَكْرِمَتِه) کا معنی ہے: اس کے بیٹھنے کی وہ جگہ جو اس کی عزت واکرام کے لیے تیار کی گئی ہو۔
امام کے چند احکام یہ ہیں:
- اگر امام بے وضو ہونے کی حالت میں نماز پڑھا دے اور اسے نماز مکمل ہونے کے بعد ہی اس کا علم ہو، تو مقتدیوں کی نماز درست ہوگی، البتہ امام پر اس نماز کو دہرانا واجب ہوگا۔
اُمّی کی امامت صحیح نہیں‘ اس سے مراد وہ شخص ہے جسے سورۃ الفاتحہ صحیح طریقے سے پڑھنی نہ آتی ہو، الا یہ کہ سارے مقتدی اسی کی طرح ہوں۔
- فرض نماز پڑھنے والے کے لیے نفل نماز پڑھنے والے کی اقتداء کرنا درست ہے، جیسے تراویح کی نماز پڑھانے والے امام کے پیچھے عشاء کی نماز پڑھنا، اس کی دلیل حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے کہ وہ نبی ﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھتے، پھر اپنی قوم کے پاس آکر انہیں نماز پڑھاتے تھے [25]۔ [25] اس حدیث کو امام بخاری نے کتاب الأذان، باب: إذا صَلَّى ثمَّ أَمَّ قَوْمًا، حدیث نمبر: (711) میں روایت کیا ہے۔
- مسنون طریقہ یہ ہے کہ پہلی رکعت دوسری رکعت سے زیادہ لمبی کی جائے۔
سوالات:
س1: امامت کے سب سے زیادہ حق دار بالترتیب کون ہیں؟
س2: خالی جگہ کو پر کریں:
الف- کتاب اللہ کو سب سے بہتر پڑھنے والا وہ ہے: ............................ ............................ ............................
ب- سنت کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا وہ ہے: ............................ ............................ ............................
س۳: صحیح جملہ میں (صحیح) یا غلط جملہ میں (غلط) لکھ کر جواب دیں:
الف- گھر کا مالک اپنے گھر میں دوسروں سے زیادہ امامت کا حق دار ہے۔
ب- امی وہ شخص ہے جسے سورۃ الفاتحہ صحیح طریقے سے پڑھنی نہ آتی ہو۔
ج- پہلی رکعت کو دوسری رکعت سے زیادہ لمبا کرنا مکروہ ہے۔
د- ایسے امام کے پیچھے عشاء کی نماز پڑھنا درست ہے جو تراویح پڑھا رہا ہو۔
س۴: نیچے ذکر کردہ مسائل کا حکم بیان کریں:
1- امی کا اپنے جیسے امی کی امامت کرنا: ............................ ............................ ............................
2- اگر امام نماز پڑھائے اور وہ بے وضو ہو، لیکن اسے نماز مکمل ہونے کے بعد ہی اس کا علم ہو ........................................................ ............................ ............................ ............................
س5: امامت میں اولویت کے مطابق انہیں ترتیب دیں:
ایک شخص جس کی عمر بیس سال ہے، مکمل قرآنِ مجید کا حافظ ہے، دوسرا شخص جس کی عمر چالیس سال ہے، اسے پانچ پارے حفظ ہیں، اور تیسرا شخص جس کی عمر تیس سال ہے، اسے دس پارے حفظ ہیں۔
گیارھواں سبق [26]
[26] استاد کے لیے ہدایات: - اگر مقتدی بغیر کسی عذر کے امام سے آگے کھڑا ہو جائے تو اس کی نماز درست نہیں ہوتی، البتہ اگر اس کے لیے امام سے آگے کھڑے ہوئے بغیر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا ممکن نہ ہو، جیسا کہ شدید ہجوم کی صورت میں ہوتا ہے، تو پھر نماز درست ہے۔ - صفوں کا متصل ہونا: ان کے درمیان اتنا زیادہ فاصلہ نہ ہو جو خلافِ معمول ہو۔ - صفوں کے متصل ہونے کے تربیتی پہلوؤں کو بیان کریں اور طلبہ کو صفیں سیدھی کرنے کی ترغیب دیں۔
امام اور مقتدی کے کھڑے ہونے کی جگہ
- اگر مقتدی ایک ہی ہو، تو سنت یہ ہے کہ وہ امام کے دائیں جانب کھڑا ہو۔
- اگر مقتدی دو یا اس سے زیادہ ہوں، تو سنت یہ ہے کہ وہ امام کے پیچھے کھڑے ہوں، اور امام صف کے بیچ میں کھڑا ہو؛ اس کی دلیل جابر اور جبار بن صخر رضی اللہ عنہما کا واقعہ ہے کہ ان میں سے ایک نبی ﷺ کے دائیں کھڑے ہوگئے اور دوسرا بائیں، جابر فرماتے ہیں: تو رسول اللہ ﷺ نے ہم دونوں کے ہاتھ پکڑ کر ہمیں اپنے پیچھے کر دیا [27]۔ [27] صحیح مسلم، کتاب الزہد والرقاق، باب: حدیث جابر الطویل، وقصۃ ابی الیسر، 4/ 2305، حدیث نمبر : 3010۔
- اگر کوئی شخص اکیلا امام کے پیچھے، یا صف کے پیچھے کھڑا ہو کر نماز پڑھے، تو اس کی نماز درست نہیں ہوگی، اِلّا یہ کہ وہ صف میں شامل ہونے سے عاجز ہو۔
- اگر مقتدی مسجد کے اندر ہو تو اس کا امام کی اقتدا کرنا درست ہے، اگرچہ وہ اس سے دور ہو، یا اسے نہ دیکھ سکے، بشرطیکہ وہ تکبیر سنے۔
- اگر مقتدی مسجد سے باہر ہو، تو اس کے لیے تین شرائط کے ساتھ امام کی اقتدا کرنا درست ہے:
1- امام کو دیکھے، یا مقتدیوں کو دیکھے۔
2- تکبیر سنے۔
3- صفیں متصل ہوں۔
- یہ مکروہ ہے کہ امام مقتدیوں سے بلند جگہ پر کھڑا ہو۔
- مقتدیوں کے لیے امام سے بلند جگہ، جیسے مسجد کی چھت پر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
- اگر عورتوں کی جماعت مردوں کے ساتھ نماز پڑھے، تو وہ مردوں کے پیچھے صفیں بنا کر نماز پڑھیں، اور ان کے پیچھے رہیں۔
سوالات:
سوال 1: اگر مقتدی دو یا اس سے زیادہ ہوں، تو سنت یہ ہے کہ وہ امام کے پیچھے کھڑے ہوں۔ اس کی دلیل بیان کریں۔
س2: کالم (الف) کی عبارتوں کا نمبر کالم (ب) میں موجود مناسب عبارتوں کے سامنے لکھیں۔
کالم (الف)
1- جب مقتدی ایک ہو۔
2- جب مقتدی چار مرد ہوں۔
کالم (ب)
وہ امام کے پیچھے کھڑے ہوں۔
وہ امام کے بائیں جانب کھڑا ہو۔
امام کے دائیں جانب کھڑا ہو۔
س3: اگر مقتدی مسجد سے باہر ہو، تو اس کے لیے تین شرائط کے ساتھ امام کی اقتدا کرنا درست ہے، انہیں ذکر کریں۔
س۴: صحیح جملہ میں (صحیح)، یا غلط جملہ میں (غلط) لکھ کر جواب دیں اور غلطی کو درست کریں:
أ- مردوں کے پیچھے عورتوں کی نماز درست نہیں ہے۔
ب- امام سے بلند جگہ پر مقتدیوں کی نماز درست ہے۔
ج- جب مقتدی مسجد کے اندر ہو تو اس کے لیے امام کی اقتدا کرنا درست ہے، بشرطیکہ وہ اسے دیکھے۔
بارہواں سبق
مقتدی کا امام کی اقتدا کرنا
امام کے ساتھ مقتدی کی چار حالتیں ہیں، اور وہ یہ ہیں:
پہلی حالت:
یہ واجب حالت ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ امام کے فعل کے فوراً بعد فعل انجام دے، چنانچہ جب وہ تکبیر کہے تو اس کے فوراً بعد تکبیر کہے، جب وہ رکوع کرے تو اس کے فوراً بعد رکوع کرے، اور اسی طرح (دیگر اعمال انجام دے)۔۔ اس کی دلیل ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ جب وہ تکبیر کہے تو تکبیر کہو، جب وہ رکوع کرے تو رکوع کرو، جب وہ "سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" کہے تو تم "رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ" کہو، جب وہ سجدہ کرے تو تم سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو سب بیٹھ کر نماز پڑھو۔‘‘ [28] [28] اس حدیث کو بخاری نے کتاب الأذان، باب: إيجاب التَّكبِير وافْتِتاح الصَّلاة، حدیث نمبر: (734) میں، اور امام مسلم نے (1/308)، حدیث نمبر: (411) میں روایت کیا ہے۔
دوسری حالت: موافقت:
یہ مکروہ ہے، مثلاً: امام کے ساتھ ایک ہی وقت میں رکوع کرنا، اور اگر تکبیر تحریمہ میں موافقت ہو جائے تو اس کی نماز صحیح نہیں ہوگی۔
تیسری حالت: مسابقت:
یہ حرام ہے، جیسے کہ اپنے امام سے پہلے تکبیر کہنا، یا رکوع کرنا، یا سلام پھیرنا؛ کیوں کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: ’’کیا تم میں سے وہ شخص جو امام سے پہلے اپنا سر اٹھاتا ہے، اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ اس کے سر کو گدھے کا سر بنا دے یا اس کی صورت گدھے کی صورت جیسی بنا دے؟‘‘ [29] [29] اس حدیث کو بخاری نے كتاب الأذان، باب: إثم مَن رَفَع رأسَه قبل الإمام، حدیث نمبر (691) میں، اور مسلم نے (1/320)، حدیث نمبر (427) میں روایت کیا ہے۔
چوتھی حالت: امام سے پیچھے رہ جانا:
اس کی کئی صورتیں ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
1- اگر امام رکوع کرے اور مقتدی کھڑا رہے اور فوراً رکوع نہ کرے، پھر امام کے رکوع سے سر اٹھانے سے پہلے رکوع کر لے، تو اس کی نماز درست ہے، لیکن فوراً رکوع نہ کر کے اس نے سنت کی مخالفت کی۔
2- اگر امام رکوع کرے اور مقتدی کے رکوع کرنے سے پہلے ہی رکوع سے سر اٹھا لے، تو اگر مقتدی کسی عذر مثلاً اونگھ یا امام کی جلدی کے سبب رکوع کرنے میں پیچھے رہ گیا ہو، تو وہ اس رکن کو ادا کرے جو اس سے چھوٹ گیا ہے اور اپنے امام کے ساتھ جا ملے۔ اور اگر اس کی یہ تاخیر بغیر کسی عذر کے ہو، تو اس کی نماز باطل ہو جائے گی۔
سوالات:
س1: نمازی پر واجب ہے کہ وہ نماز کے افعال میں اپنے امام کی پیروی کرے، اس کی کیا دلیل ہے؟
س2: آنے والے جملوں کو مکمل کریں:
ا- نماز کے افعال میں امام کی موافقت کرنا ........................... اور اگر یہ تکبیر تحریمہ میں ہو ............................
ب- نماز کے افعال میں امام پر سبقت کرنا...... ............................ آپ ﷺ کی اس حدیث کے مطابق: ............................ ........................................
س3: نماز کے افعال میں مقتدی کے امام سے پیچھے رہ جانے کی دو صورتیں بتائیں۔
س4: قوسین میں سے صحیح جواب چنیں اور اس کے نیچے لکیر کھینچیں:
أ- نماز کے افعال میں امام کی اقتدا:
(مکروہ ہے - واجب ہے - حرام ہے)
ب- اگر مقتدی کسی عذر کی وجہ سے رکوع سے پیچھے رہ جائے اور رکوع نہ کرے یہاں تک کہ امام سر اٹھا لے، تو وہ:
(امام کی اقتدا کرے اور جو حصہ چھوٹ گیا ہے اسے ادا نہ کرے - اس کی نماز باطل ہو جاتی ہے - جو حصہ چھوٹ گیا ہے اسے ادا کرے اور امام کے ساتھ مل جائے)۔
تیرھواں سبق [30]
[30] ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "سات لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنے (عرش کے) سائے میں اس دن جگہ دے گا، جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا، اور آپ نے ان میں (ان کا بھی) ذکر فرمایا: اللہ کی عبادت میں پروان چڑھنے والا جوان، اور ایسا شخص جس کا دل مسجدوں میں اٹکا ہوا ہو۔" اسے بخاری (3/292) حدیث نمبر: (1423)، اور مسلم (2/715)، حدیث نمبر: (1031) نے روایت کیا ہے۔ چنانچہ مسلمان کو چاہیے کہ وہ نماز کے لیے مسجد جلد پہنچنے کا اہتمام کرے، تاکہ وہ اپنے وقت کو قرآن مجید کی تلاوت اور اللہ تعالیٰ کے ذکر میں صرف کر کے اس سے مستفید ہو سکے، یہاں تک کہ وہ خشوع وخضوع اور حضوریِ قلب کے ساتھ اپنی نماز کی طرف متوجہ ہو، تاکہ اس کی نماز کا کوئی حصہ چھوٹ نہ جائے جس کے سبب وہ امام کے ساتھ تکبیر تحریمہ پانے کے اجر سے محروم رہ جائے۔
مسبوق کے احکام
مسبوق سے مراد وہ شخص ہے جس کی امام کے ساتھ نماز کی ایک یا اس سے زیادہ رکعتیں فوت ہو گئی ہوں۔
- جو شخص نماز کے لیے آئے اور امام رکوع کی حالت میں ہو، تو وہ کھڑے کھڑے تکبیرِ تحریمہ کہے، پھر رکوع کے لیے تکبیر کہے اور رکوع میں چلا جائے، اس طرح اس نے رکعت اور جماعت پا لی۔
- لیکن اگر شک ہو کہ امام کے ساتھ رکوع ملا یا نہیں؟ تو اس رکعت کا اعتبار نہیں کرے، اور سجدۂ سہو کرے۔
- جو شخص مسجد میں آئے اور امام سجدے میں ہو یا بیٹھا ہو، تو اس کے لیے مسنون ہے کہ وہ امام کے ساتھ نماز میں داخل ہو جائے، چنانچہ وہ کھڑے کھڑے تکبیرِ تحریمہ پڑھے، پھر بغیر تکبیر کے، اگر امام سجدے میں ہو تو سجدے میں چلا جائے، یا اگر امام بیٹھا ہو تو بیٹھ جائے، اور امام کے کھڑے ہونے کا انتظار نہ کرے۔
- امام جب دوسرا سلام پھیر لے تو مسبوق شخص اپنی چھوٹی ہوئی نماز پوری کرنے کے لیے تکبیر کہتے ہوئے کھڑا ہو۔
- جس شخص کی باجماعت نماز چھوٹ جائے، اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ دوسری جماعت کے ساتھ نماز پڑھے۔
- اگر اسے کوئی دوسری جماعت نہ ملے تو مسجد میں موجود بعض لوگوں کے لیے مستحب ہے کہ وہ اس کے ساتھ نماز پڑھیں، کیوں کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: ’’کون ہے جو اس شخص پر صدقہ کرے اور اس کے ساتھ نماز پڑھے۔‘‘ [31] [31] مسند احمد (3/45) : 11426، اور صحیح ابن حبان (6/157) : 2397۔
سوالات:
س1: مسبوق سے کیا مراد ہے؟
س2: آنے والے جملوں کو مکمل کریں:
جس شخص کی جماعت فوت ہو جائے اس کے لیے ............................ ہے کہ وہ دوسری جماعت میں نماز پڑھے، اگر اسے کوئی نہ ملے تو مسجد میں موجود بعض لوگوں کے لیے ............................ ہے کہ وہ اس کے ساتھ نماز پڑھیں، نبی ﷺ کے اس فرمان کے مطابق: (............................ ............................ ............................ ............................ ............................ ............................)۔
سوال 3 : ان میں سے ہر ایک کیا کرے :
الف- جو شخص نماز کے لیے آئے اور امام رکوع میں ہو: ........................................................
ب- جو شخص نماز کے لیے آئے اور امام سجدے میں ہو یا بیٹھا ہو ............................ ............................
ج- امام کے دوسرا سلام پھیرنے کے بعد مسبوق شخص: ............................ ............................
س 4: مسجد جلدی پہنچنے سے آپ کو جو فوائد حاصل ہوتے ہیں‘ انہیں بیان کریں۔
چودھواں سبق [32]
[32] لہسن اور پیاز کھانے کی وجہ سے مسجد میں آنے کی ممانعت اس لیے نہیں ہے کہ ایسا شخص معذور ہے، بلکہ اس کی اذیت کو دور کرنے کے لیے ہے، اسی لیے جس شخص کے پاس جمعہ یا جماعت ترک کرنے کا عذر ہو، اسے جماعت کا اجر حاصل ہوتا ہے، کیوں کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: ’’جو شخص بیمار ہو جائے یا سفر کرے تو اس کے لیے وہی اعمال لکھے جاتے ہیں جو وہ تندرست اور مقیم ہونے کی حالت میں کیا کرتا تھا۔‘‘ البتہ لہسن اور پیاز کھانے والے کو - جب وہ مسجد میں حاضر نہ ہو - جماعت کا اجر حاصل نہیں ہوتا۔
وہ اعذار جن کی وجہ سے جمعہ اور جماعت چھوڑنا جائز ہے
مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا واجب ہے، لیکن جمعہ اور جماعت ترک کرنے کے معاملے میں وہ شخص معذور سمجھا جائے گا جس کے پاس اسے جائز قرار دینے والا کوئی عذر ہو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ""جس نے اذان سن لی، پھر بھی بلا عذر اس پر لبیک نہ کہا، تو اس کی نماز نہیں ہوگی۔" [33]" [33] سنن بیہقی (3/185)، حدیث نمبر : 5432، سنن ابن ماجہ (1/260)، حدیث نمبر : 793۔
ان اعذار میں سے چند یہ ہیں:
1- بیماری۔
2- جب جان یا مال یا اہل و عیال وغیرہ کے بارے میں خوف لاحق ہو۔
3- بارش، کیچڑ، یا ٹھنڈی ہوا سے تکلیف پہنچتی ہو۔
4- ایسا کھانا حاضر ہو جس کی اسے اشتہا ہو، لیکن شرط یہ ہے کہ اسے عادت یا جماعت چھوڑنے کا بہانا نہ بنا لے۔
5- پیشاب، پاخانہ یا ہوا (ریاح) کو روکنا؛ کیوں کہ یہ نماز کے دوران خشوع وخضوع میں رکاوٹ ہے۔
6- وہ شخص جسے کسی چیز کی حفاظت سپرد کی گئی ہو، اور اگر وہ اسے چھوڑ کر چلا جائے تو اسے اس چیز کے ضائع ہونے کا خوف ہو۔
7- مریض کی تیمار داری کرنے والا، جب اس کے پاس کوئی اس کی جگہ لینے والا نہ ہو۔
* جس شخص نے لہسن یا پیاز کھایا ہو، اُس کے لیے مسجد میں آنا مکروہ ہے؛ کیوں کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: "’’جس نے لہسن یا پیاز کھایا ہو، وہ ہماری مسجد سے دور رہے اور اپنے گھر میں بیٹھا رہے۔‘‘ [34]،" تاکہ لوگوں اور فرشتوں کو تکلیف نہ دے۔ [34] اس حدیث کو بخاری نے کتاب الأذان، باب: ما جاء في الثّوم النَّيِّئ والبَصَل والكُرّاث میں، حدیث نمبر (855) کے تحت روایت کیا ہے۔
لیکن وہ ایسا جماعت کو ساقط کرنے کے ارادے سے نہ کرے، کیوں کہ یہ حرام ہے، اور جو شخص بدبو زائل کرنے پر قادر ہو، اس پر ایسا کرنا لازم ہے۔
سوالات:
س1: مسجد میں نمازِ با جماعت کا کیا حکم ہے؟ دلیل ذکر کریں۔
سوال 2: ایسے تین اعذار بیان کریں جن کی وجہ سے جمعہ اور جماعت چھوڑنا جائز ہے۔
سوال 3 : آنے والے مسائل کا سبب بیان کریں :
1- پیشاب یا پاخانہ کی حاجت روکنے والے کے لیے جمعہ اور جماعت چھوڑنے کا جواز: ............................
2- جس شخص نے لہسن یا پیاز کھایا ہو اس کے لیے مسجد میں آنا مکروہ ہے: ............................
پندرھواں سبق [35]
[35] استاد کے لیے: - عدمِ استطاعت سے مراد یہ ہے کہ وہ کھڑے ہو کر، بیٹھ کر یا پہلو کے بل نماز ادا کرنے سے عاجز ہو، یا اسے اس سے مشقت لاحق ہو، یا یہ اس کی بیماری میں اضافے یا شفا یابی میں تاخیر کا سبب بنے۔ - استاد کو چاہئے کہ نماز کی اہمیت اور اس کی عظمتِ شان پر روشنی ڈالے اور بتائے کہ شریعت نے مریض اور مسافر کو بھی تمام حالات میں نماز ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ - تمہید کے طور پر اسلام کی آسانی اور اس کی نرمی ورواداری کو بیان کرے، اور اسے موضوع کے ساتھ مربوط کرے۔
شرعی عذر والوں کی نماز
ا: بیماری شخص:
اللہ تعالیٰ نے ایسے مریض کو جو نماز کے بعض افعال ادا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو، اجازت دی ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق نماز ادا کرے، اور اس کا طریقہ درج ذیل ہے:
1- اگر مریض قیام کرنے پر قادر ہو تو اس پر واجب ہے کہ وہ فرض نماز کھڑے ہو کر ادا کرے۔
2- اگر کھڑا ہوکر نماز پڑھنے سے قاصر ہو تو بیٹھ کر نماز ادا کرے، اور رکوع کے لیے اپنی پیٹھ جھکائے، رہا سجدہ، تو اگر زمین پر سجدہ کرنا ممکن ہو تو ایسا کرے، اور اگر ممکن نہ ہو تو سجدے کے لیے اپنی پیٹھ جھکائے اور رکوع کے بہ نسبت زیادہ جھک کر سجدہ کرے۔
3- اگر بیٹھ کر نماز پڑھنے سے قاصر ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر نماز ادا کرے، اور چہرہ قبلہ کی طرف رکھے۔
4- اگر پہلو کے بل بھی نماز ادا کرنا ممکن نہ ہو تو پیٹھ کے بل لیٹ کر نماز ادا کرے اور پیر قبلہ کی طرف رکھے۔ اس کی دلیل عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھ لو اور اگر بیٹھ کر بھی پڑھنے کی طاقت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھ لو"۔ [36] [36] اس حدیث کو بخاری نے كتاب تَقصِير الصَّلاة، باب: إذا لم يُطِق قاعِدًا صلَّى على جَنْبِ میں، حدیث نمبر (1117) کے تحت روایت کیا ہے۔
* اگر مریض پہلو کے بل یا پیٹھ کے بل نماز ادا کرے تو وہ اپنے سر یا آنکھوں سے اشارہ کرے۔
* مریض کے لیے جائز ہے کہ وہ ظہر اور عصر، اور مغرب اور عشاء کو ان میں سے کسی ایک کے وقت میں جمع کرکے ادا کرے، اگر ہر نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا اس کے لیے مشقت کا باعث ہو، البتہ اس کے لیے قصر کرنا جائز نہیں۔
۲: مسافر:
سفر ایک ایسا عذر ہے جس کی وجہ سے مسافر کے لیے نماز قصر کرنا جائز ہو جاتا ہے، نماز قصر کرنا سنت ہے، اور جس نے سفر میں نماز پوری (چار رکعت) پڑھی اس نے نبی کریم ﷺ کی سنت کی مخالفت کی، کیوں کہ آپ ﷺ سفر میں نماز قصر کیا کرتے تھے، اور آپ علیہ الصلاۃ والسلام ہر مسلمان کے لیے نمونہ ہیں۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے، تو آپ ﷺ دو دو رکعت پڑھتے رہے، یہاں تک کہ ہم واپس مدینہ لوٹ آئے [37]۔ [37] اسے بخاری نے کتاب تقصير الصلاة، باب ما جاء في التقصير وكم يقيم حتى يقصر، حدیث نمبر: (1081) میں روایت کیا ہے۔
مسافر کی نماز سے متعلق احکام:
1- چار رکعت والی نمازوں کو قصر کر کے دو رکعت پڑھے۔
چار رکعت والی نمازیں یہ ہیں: (ظہر، عصر اور عشاء)، لیکن مغرب اور فجر میں قصر نہیں کی جاتی۔
مسافر اگر اکیلے نماز پڑھے، یا مسافروں کی جماعت کے ساتھ، تو وہ چار رکعت والی نماز چار رکعت کے بجائے دو رکعت پڑھے۔
لیکن جب مسافر کسی مقیم شخص (یعنی غیر مسافر) کے پیچھے نماز پڑھے تو وہ پوری نماز پڑھے اور قصر نہیں کرے۔
2- جمع: مسافر کے لیے جائز ہے کہ وہ (ظہر اور عصر) کو جمع کرکے دونوں کو ایک ہی وقت میں پڑھے، یعنی: ظہر کے وقت میں، اور اسے جمع تقدیم کہتے ہیں، یا عصر کے وقت میں، اور اسے جمع تاخیر کہتے ہیں، اسی طرح یہ بھی جائز ہے کہ وہ (مغرب اور عشاء) کو ایک ہی وقت میں جمع کر کے پڑھے، چاہے جمع تقدیم ہو یا جمع تاخیر۔
سوالات:
س1: اہلِ اعذار کون ہیں؟
سوال 2: مریض کیسے نماز ادا کرے گا؟ دلیل بیان کریں۔
س3: سفر میں نماز قصر کرنے کا کیا حکم ہے؟ دلیل ذکر کریں۔
س4: بیان کریں کہ بیٹھ کر نماز پڑھنے والا کس طرح رکوع اور سجدہ کرے؟
س5: نیچے دیے گئے مسائل کا حکم بیان کریں:
1- مریض کے لیے عصر اور مغرب کو جمع کرنا۔
2- جب مسافر کسی مقیم شخص کے پیچھے نماز پڑھے۔
سولہواں سبق
نفلی نماز
- نفل نماز سے مراد وہ نماز ہے جسے مسلمان اپنی خوشی سے ادا کرتا ہے، اور یہ اس پر فرض نہیں ہوتی۔
اسلام نے مسلمانوں کو کثرت سے نماز پڑھنے کی ترغیب دی ہے؛ کیوں کہ اس سے بندے کو اللہ کی محبت حاصل ہوتی ہے اور اسے دنیا و آخرت میں توفیق نصیب ہوتی ہے۔ نفلی نماز کی بہت سی قسمیں ہیں، جیسے:
۱: سننِ رواتب :
- سنن رواتب فرض نمازوں کے ساتھ پڑھی جانے والی سنتیں ہیں، اور وہ درج ذیل ہیں:
(2) فجر سے پہلے دو رکعتیں
(4) ظہر سے پہلے چار رکعتیں
(2) ظہر کے بعد دو رکعتیں
(2) مغرب کے بعد دو رکعتیں
(2) عشا کے بعد دو رکعتیں
جہاں تک عصر کا تعلق ہے، تو اس کی کوئی سنتِ راتبہ نہیں ہے۔
اس کی دلیل ام حبيبة رضي الله عنہا کی حدیث ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ كو یہ فرماتے ہوئے سنا : "”جو مسلمان بھی ہر دن بارہ رکعتیں اللہ کے لئے فرض کے علاوہ نفل پڑھے تو اس کے لئے اللہ تعالی جنت میں ایک گھر تعمیر فرماتا ہے“۔ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: چنانچہ اس کے بعد میں ہمیشہ انہیں پڑھتی رہی۔ [38]" [38] صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب: فضل السنن الراتبة قبل الفرائض وبعدهن، وبيان عددهن، حدیث نمبر: (728)
۲: وتر:
حکم: یہ سنتِ مؤکدہ ہے۔ دلیل: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: "میرے خلیل (نبی کریم ﷺ) نے مجھے تین چیزوں کی وصیت کی؛ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے، چاشت کی دو ركعت نماز پڑھنے اور سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی"۔[39] [39] صحیح بخاری، کتاب الصوم، باب صيام أيام البيض، حدیث نمبر: (1981)، اور صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافر وقصرها، باب استحباب صلاة الضحى، حدیث نمبر: (721)۔
اس کا وقت:
نماز عشا کے بعد سے لے کر طلوع فجر تک، البتہ اسے رات کے آخری تہائی حصہ میں ادا کرنا افضل ہے، اور جسے ڈر ہو کہ وہ بیدار نہیں ہوسکے گا تو اسے چاہیے کہ سونے سے پہلے وتر پڑھ لے۔
اس کی رکعات کی تعداد:
اسے کم سے کم ایک رکعت اور زیادہ سے زیادہ گیارہ رکعت پڑھا جا سکتا ہے۔ کمال کا سب سے کمتر درجہ تین رکعت ہے۔
اس کا طریقہ:
دو رکعت پڑھے اور سلام پھیرے، پھر دو رکعت پڑھے اور سلام پھیرے، اور اسی طرح کرتا رہے، پھر ایک رکعت پڑھ کر ختم کرے اور سلام پھیرے۔ سنت یہ ہے کہ آخری رکعت میں رکوع سے اٹھنے کے بعد دنیا اور آخرت کی بھلائیوں میں سے جو چاہے دعا کرے، اور اس بات کا اہتمام کرے کہ نبی ﷺ سے جو دعا ثابت ہے وہی پڑھے، اور انہی میں سے یہ دعا بھی ہے جسے (قنوت) کہا جاتا ہے۔
دعائے قنوت:
حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے چند کلمات سکھائے جنہیں میں وتر میں پڑھا کروں: "’’اے اللہ! تو مجھے ہدایت دے کر ان میں (داخل کر) جنھیں تو نے ہدایت دی اور مجھے عافیت دے کر ان میں (شامل کر) جنھیں تو نے عافیت دی اور میری سرپرستی فرما ان لوگوں میں جن کی تو نے سرپرستی فرمائی اور میرے لیے ان چیزوں میں برکت فرما جو تونے عطا کیں اور مجھے ان فیصلوں کے شر سے بچا جو تو نے کیے، اس لیے کہ تو ہی فیصلے کرتا ہے اور تیرے (فیصلے کے) خلاف کوئی فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ذلیل نہیں ہو سکتا جس کا تو دوست بن جائے، اے ہمارے رب ! تو بہت بابرکت اور نہایت بلند ہے۔‘‘ [40]" [40] اس حدیث کو ترمذی نے اپنی جامع (2/328) حدیث نمبر: (464) میں روایت کیا ہے اور فرمایا: "یہ حدیث حسن ہے"، اور اسے نسائی نے (3/248) حدیث نمبر: (1745) میں روایت کیا ہے۔
سوالات:
س1: نفلی نماز کا کیا مطلب ہے؟ اور اسے ادا کرنے کا بندے پر کیا اثر ہوتا ہے؟
س2: سننِ رواتب یہ ہیں:
1- ............................ ............................ ظہر سے پہلے۔
2- ............................ ............................ فجر سے پہلے۔
3- ............................ ............................ عشاء کے بعد۔
4- ظہر کے بعد ............................ ............................۔
5- ............................ ............................ مغرب کے بعد۔
س3: درست جواب کے نیچے لکیر کھینچ کر اس کا انتخاب کریں۔
ا- وتر کا وقت: (عشا کی نماز کے بعد - عشا کی نماز سے پہلے - فجر کی نماز کے بعد)۔
ب- وتر کا حکم: (سنت مؤکدہ - واجب - فرض)۔
ج- وتر کم سے کم: (ایک رکعت ہے - گیارہ رکعت ہے - تین رکعت ہے)۔
د- سنن رواتب کتنے ہیں: (آٹھ رکعت ہے - گیارہ رکعت ہے - بارہ رکعت ہے)۔
س4: درج ذیل مسائل کی دلیل ذکر کریں:
1- سننِ رواتب کی مشروعیت۔
2- وتر کی مشروعیت۔
س5: دعاے قنوت ذکر کریں۔
سترہواں سبق [41]
[41] سورج کا بقدرِ نیزہ بلند ہونا محض دیکھنے میں ہے، جبکہ حقیقت میں زمین اور سورج کے درمیان بہت وسیع فاصلے ہیں۔ سورج جب مشرق کی جانب سے طلوع ہوتا ہے تو ہر کھڑی چیز کا ایک لمبا سایہ ہوتا ہے۔ جیسے جیسے سورج بلند ہوتا جاتا ہے سایہ کم ہوتا جاتا ہے، یہاں تک کہ جب سورج بیچ آسمان میں آجاتا ہے تو سائے کا کم ہونا ختم ہو جاتا ہے، اور اس وقت ممانعت کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔ پھر جب سورج مغرب کی جانب تھوڑا سا ڈھل جاتا ہے تو سایہ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے، اس وقت ممانعت کا وقت ختم ہو جاتا ہے، اور یہ ایک مختصر وقت ہوتا ہے۔
نماز کے ممنوعہ اوقات
مسلمان کے لیے مستحب ہے کہ وہ کثرت سے نوافل پڑھے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے اجر و ثواب تیار کر رکھا ہے جو عبادات کے ذریعے اس کا قرب حاصل کرتے ہیں۔ لیکن تین اوقات ایسے ہیں جن میں نماز پڑھنا منع ہے‘ اور وہ یہ ہیں:
پہلا: فجر کی نماز کے بعد سے لے کر اس وقت تک جب سورج طلوع ہو جائے اور ایک نیزہ کے برابر بلند ہو جائے۔ یعنی: طلوعِ آفتاب کے تقریباً پندرہ منٹ بعد تک.
دوسرا: جب سورج آسمان کے بیچوں بیچ ہو یہاں تک کہ ڈھل جائے، اور ڈھلنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ مغرب کی جانب مائل ہو جائے۔
تیسرا: عصر کی نماز کے بعد سے سورج غروب ہونے تک۔
- ان تین اوقات میں کسی کے لیے بھی نفلی نماز پڑھنا جائز نہیں جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے، لیکن اسباب والی کچھ نمازیں ایسی ہیں جو ان اوقات میں پڑھی جا سکتی ہیں، جیسے:
1- فوت شدہ نمازوں کی قضا۔
2- تحیۃ المسجد۔
3- نماز جنازہ۔
سوالات:
س1: نماز کے ممنوعہ اوقات تین ہیں۔ انہیں بیان کریں۔
س2: ان نمازوں کے نیچے خط کشید کریں جنہیں ممنوعہ اوقات میں ادا کرنا جائز ہے:
أ- چھوٹی ہوئی نمازوں کی قضا۔
ب- نفل نماز۔
ج- تحیۃ المسجد۔
د- نمازِ جنازہ۔
س ۳: آسمان کے وسط سے سورج کے ڈھلنے کو کیا کہا جاتا ہے؟
عنوان: نصاب تعلیم، کتاب التوحید، درجہ (پنجم)
مختصر تعارف: یہ علمی مواد سعودی عرب کے اس نصاب تعلیم کی تہذیب واختصار ہے جسے طلبہ کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ نصابِ تعلیم مختلف مراحل پر مشتمل ہے۔ اس نصاب میں علمِ توحید سے متعلق خاص مواد بھی شامل ہیں، جو 12 درجات میں منقسم ہیں۔ درجہ پنجم میں جو موضوعات شاملِ نصاب ہیں ان میں چند اہم ترین موضوعات یہ ہیں:
- سورہ عصر میں ایک ساتھ ذکر کیے گئے کامیابی کے اسباب کا بیان، اور وہ یہ ہیں: علم، اس پر عمل، اس کی دعوت، اور اس راہ میں آنے والی اذیتوں پر صبر۔
- رسول ﷺ کی اطاعت کا وجوب، اور شرک سے دوری۔
- ان تین اصولوں کا بیان جن کا جاننا اور ان پر عمل کرنا واجب ہے، اور وہ یہ ہیں: بندے کا اپنے رب کو اس کی نشانیوں اور مخلوقات کے ذریعے جاننا، اور یہ کہ صرف وہی تن تنہا عبادت کا مستحق ہے اور دینِ اسلام کی معرفت اس کے تین مراتب کے ساتھ، یعنی: اسلام، ایمان اور احسان، نیز یہ جاننا کہ ان میں سے ہر مرتبے کے اپنے ارکان ہیں، اور ہر ایک کے شرعی دلائل موجود ہیں۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جاننا، اور یہ واضح کرنا کہ آپ ﷺ کی رسالت ہر اعتبار سے کامل اور تمام انسانوں کے لیے عام و شامل ہے۔
پانچواں درجہ
مقدمہ
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا۔ جس نے انسان کو وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا۔ درود وسلام نازل ہو نبی امی پر جن کو اللہ نے اس لیے مبعوث فرمایا کہ لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں۔ حمد وصلاۃ کے بعد:
اللہ عز وجل کی توحید پر قائم رہنا سب سے بڑا واجب ہے، اس کا علم حاصل کرنا سب سے معزز اور افضل علم ہے اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر اعمال کی صحت اور مقبولیت کا دار ومدار ہے۔ بندوں کو تمام ضرورتوں سے زیادہ اسی کی ضرورت ہے، کیوں کہ یہی دلوں کی زندگی ہے۔ پروردگار، معبود اور خالق کو اس کے اسما وصفات اور افعال کے ذریعہ جانے بغیر نہ دلوں کو زندگی ملتی ہے، نہ نعمت وخوش حالی حاصل ہوسکتی ہے اور نہ اطمینان وسکون۔ اسی طرح دین کی سمجھ حاصل کرنا اور طہارت اور نماز جیسی عبادتوں کی ادائیگی کا طریقہ جاننا سعادت مندی کی علامت اور اس بات کی نشانی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ رکھتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: "اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔"[1]۔ [1] صحیح بخاری، کتاب العلم، باب: من يرد الله به خيرًا يفقهه في الدين، حدیث نمبر 7۔
اسی مقصد کے پیشِ نظر مکتب توعیۃ الجالیات نے عقیدۂ توحید کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی ہے، تاکہ طلبہ کے دلوں میں صحیح عقیدہ راسخ کیا جائے، اور وہ اپنے دینی احکام سے متعلق بصیرت وآگہی حاصل کر سکیں۔
نصابِ توحید کے اس پانچویں درجے میں تین بنیادی اصولوں اور ان کے دلائل کو کسی قدر تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، تاکہ طالبِ علم انہیں مرحلہ وار اور تدریج کے ساتھ سیکھے، اور بلند عزم وہمت کے ساتھ علم کی منازل طے کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی جنتوں کی کامیابی حاصل کرے۔
ہر سبق کے لیے اس کی نوعیت کے مطابق مخصوص تعلیمی اہداف مقرر کیے گئے ہیں، جن کی ترتیب میں اختصار، عبارت کی وضاحت، موضوعات میں تدریج، اور سابقہ اسباق کے ساتھ ان کا ربط و تسلسل پیشِ نظر رکھا گیا ہے۔ اسی طرح ہر سبق کے آخر میں سوالات بھی شامل کیے گئے ہیں، اور اساتذہ کے لیے ایسی رہنما ہدایات فراہم کی گئی ہیں جو مطلوبہ تعلیمی اہداف کے حصول میں ان کے لیے معاون ثابت ہوں۔
استاد کے لیے ہدایات:
1- اللہ تعالیٰ کے لیے مخلص ہونا عمل کی قبولیت کے لیے شرط ہے۔ لہٰذا اپنے عمل کو اسی پاک ذات کی رضا کے لیے خالص کر لیں، آپ اپنی دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو جائیں گے۔
2- امانت کی حفاظت نجات کا ذریعہ ہے اور آپ -اے میرے استاد بھائی- اسلام کی ایک سرحد کے نگہبان اور مسلم بچوں کی عقل وفطرت کے امین ہیں۔ لہٰذا امانت کی حفاظت کریں، تاکہ آپ دونوں جہان میں فلاح پا سکیں۔
3- بلاشبہ مادۂ توحید کی تعلیم ایک عظیم ترین عمل ہے، کیوں کہ توحید کی معرفت اور اس پر عمل کے بغیر بندوں کو نہ تو بھلائی حاصل ہو سکتی ہے اور نہ دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے نجات مل سکتی ہے۔ لہٰذا طلبہ کے دلوں میں صحیح عقیدہ راسخ کرنے کی بھرپور کوشش کریں اور آپ جن اعلیٰ اصول واقدار کی دعوت دیتے ہیں، ان کے سچے ترجمان اور زندہ مثال بن کر رہیں۔
4- جب آسمان میں گھنگھور گھٹا چھا جائے، بجلی چمکنے لگے، بادل گرجنے لگے، بارش ہونے لگے اور اس طرح کے ایسے واقعات رونما ہوں، جن سے مسلمان کے اندر ایمانی جذبات متحرک ہوجاتے ہیں، تو ان مواقع کو غنیمت جانتے ہوئے اللہ کی وحدانیت اور قدرت کے بارے میں گفتگو کریں۔
5- مثالوں کے ذریعے سبق کو آسان بنانا، اور اس کے مضامین کو عملی زندگی سے جوڑ کر پیش کرنا، طلبہ کے دلوں میں اس مضمون کی رغبت اور دلچسپی پیدا کرنے میں نہایت مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ یہی دلچسپی انہیں اس کے سیکھنے اور اس پر عمل کرنے کی طرف آمادہ کرتی ہے۔ اخیر میں ہم آپ کو نبی ﷺ کے اس فرمان کی خوش خبری سناتے ہیں: "مومن کو اس کے اعمال اور نیکیوں میں سے اس کے مرنے کے بعد جن چیزوں کا ثواب پہنچتا رہتا ہے، ان میں سے وہ علم بھی ہے جو اس نے سکھایا اور پھیلایا" [2]۔ [2] سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: 242۔
وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم۔
پہلا سبق
کامیابی کے اسباب
اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے، یہ بات اچھی طرح جان لیں کہ ہم پر درج ذیل چار مسائل کا علم حاصل کرنا واجب ہے۔
پہلا مسئلہ: اللہ تعالیٰ، اس کے نبی ﷺ اور اس کے دین یعنی اسلام کو دلائل کے ساتھ جاننا۔
دوسرا مسئلہ: علم پر عمل کرنا۔
تیسرا مسئلہ: اس دین کی طرف دعوت دینا۔
چوتھا مسئلہ: دعوتِ دین میں پیش آنے والے مشکلات پر صبر کرنا۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: زمانے کی قسم۔ بے شک (بالیقین) انسان سرتا سر نقصان میں ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان ﻻئے اور نیک عمل کیے اور (جنہوں نے) آپس میں حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔ [العصر: 1-3]
امام شافعی [3] رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اگر اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر بطور حجت صرف اسی ایک سورت کو نازل فرماتا، تو یہ ان کی ہدایت کے لیے کافی ہوتی۔“ [3] آپ محمد بن ادریس القرشی الشافعی ہیں، آپ (150 ھ) میں پیدا ہوئے، فقہ اور حدیث کے عالم تھے، آپ کی متعدد تصانیف ہیں جن میں سے مشہور ترین کتاب "الأم" اور "الرسالہ" ہیں، آپ نے (204 ھ) میں وفات پائی۔
سب سے ماخوذ رہنما ہدایات:
* اللہ نے قسم کھائی ہے کہ سارے لوگ خسارے میں ہیں، سوائے اس کے جو نجات اور کامیابی کے اسباب اختیار کرے۔
* مسلمان پر واجب ہے کہ وہ خسارے سے نجات کے اسباب جانے، اور وہ چار ہیں:
1- اللہ تعالیٰ، اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے دین کا ایسا نفع بخش علم حاصل کرنا جو عمل کا باعث بنے۔
2- جس دین پر ایمان لایا ہے اس پر عمل کرنا، یعنی نیک کاموں کو بجا لانا، اور حرام کاموں کو ترک کرنا۔
3- دین اسلام کی طرف دعوت دینا اور اسے لوگوں میں پھیلانا۔
4- اطاعت کے کام پر صبر کرنا اور لوگوں کو دعوت دینے کے سبب پیش آنے والی مشکلات پر استقامت اختیار کرنا۔
* یہ چاروں اسباب ایک دوسرے سے مربوط اور باہم وابستہ ہیں۔ کیوں کہ عمل کی بنیاد علم پر ہے، اور لوگوں کو دین کی دعوت دینے سے پہلے داعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود دین کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو۔
* مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ان مسائل کو یاد کرے اور دوسروں کو سکھائے؛ کیوں کہ یہ علم پھیلانے اور لوگوں کو خیر کی طرف دعوت دینے میں داخل ہے۔
سوالات:
س1: وہ مسائل بیان کریں جن کا سیکھنا آپ پر واجب ہے۔
س2: اللہ نے کس چیز پر زمانے کی قسم کھائی ہے؟
سوال ۳: سورہ عصر میں مذکور کامیابی کے اسباب کیا ہیں؟
س4: ان امور کو ان کی اولویت کے مطابق ترتیب دیں:
صبر - علم - دعوت الی اللہ - عمل۔
س5: شافعی رحمہ اللہ نے سورۃ العصر کے بارے میں کیا فرمایا؟ اور یہ کس بات پر دلالت کرتا ہے؟
دوسرا سبق
علم عمل پر مقدم ہے۔
امام بخاری [4] - رحمہ اللہ تعالیٰ - نے فرمایا: باب: قول اور عمل سے قبل حصول علم کا بیان۔ [4] ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بخاری، آپ کی ولادت سنہ (194ھ) میں ہوئی، آپ علمِ حدیث کے ماہر تھے، آپ کی متعدد تصانیف ہیں جن میں سب سے مشہور صحیح بخاری ہے جو "الجامع المسند الصحيح المختصر مِن أمور رسول الله ﷺ وسُنَنه وأيّامِه" کے نام سے موسوم ہے، آپ کی وفات سنہ (256ھ) میں ہوئی۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: سو (اے نبی!) آپ یقین کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں... [محمد : 19]۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قول وعمل سے پہلے علم کا ذکر کیا ۔
سبق سے ماخوذ رہنما ہدایات:
* علمِ حق وہ ہے جو رسول اللہ ﷺ قرآن اور سنت کل شکل میں لے کر آئے۔
* ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ اس کے اعمال اور عبادات شریعت کے صحیح علم پر مبنی ہوں تاکہ اس کی عبادت درست اور قابل قبول ہو۔
* لوگوں کی بہت سی غلطیاں اور بدعتیں جن میں وہ مبتلا ہوتے ہیں، ان کا سبب یہ ہے کہ وہ دینِ حق سے ناواقف ہیں اور علمِ شرعی حاصل نہیں کرتے۔
سوالات:
س1: حقیقی علم کیا ہے؟
س2: بدعات اور غلطیوں میں لوگوں کے مبتلا ہونے کا کیا سبب ہے؟
س3: اللہ تعالی نے آیت کریمہ میں کس بات کا حکم دیا ہے؟
س4: علم عمل سے پہلے کیوں ضروری ہے؟
تیسرا سبق
رسول ﷺ کی اطاعت کرنا اور شرک سے بچنا واجب ہے۔
اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے، یہ بات اچھی طرح جان لیں کہ درج ذیل تین مسائل کا علم حاصل کرنا اور ان پر عمل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر واجب ہے:
پہلا: اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا، رزق عطا فرمایا اور یوں ہی ہمیں بے کار نہیں چھوڑ دیا، بلکہ ہماری طرف اپنا رسول بھیجا، چنانچہ جس نے آپ ﷺ کی اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے آپ ﷺ کی نافرمانی کی وہ جہنم میں داخل ہو گا۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: بے شک ہم نے تمہاری طرف بھی تم پر گواہی دینے واﻻ رسول بھیج دیا ہے جیسے کہ ہم نے فرعون کے پاس رسول بھیجا تھا۔ تو فرعون نے اس رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے اسے سخت (وبال کی) پکڑ میں پکڑ لیا۔ [المزمل: 15-16]۔
دوسرا مسئلہ: اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ اس کی عبادت میں اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے، نہ کسی مقرب فرشتہ کو اور نہ کسی نبی مرسل کو۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: اور یہ کہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لئے خاص ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔ [الجن: 18]۔
سبق سے ماخوذ رہنما ہدایات:
* ہمارے اوپر اللہ کی یہ نعمت ہے کہ اس نے ہمیں اپنی عبادت کے لیے وجود بخشا جبکہ ہم کچھ بھی نہیں تھے‘ اور ہمیں نعمتیں عطا کیں تاکہ ہم ان کے ذریعے اس مقصد میں مدد حاصل کریں جس کے لیے ہمیں پیدا کیا گیا ہے۔
* یہ انسان پر اللہ کا انعام ہے کہ اس نے اسے شتر بے مہار کی طرح نہیں چھوڑ دیا کہ وہ جانوروں کی مانند زندگی گزارے؛ بلکہ اس کی طرف حق کے ساتھ رسولوں کو مبعوث فرمایا۔
* اللہ کے رسول ﷺ نے لوگوں کے لیے جنت کا راستہ واضح کیا اور انہیں اس کی طرف بلایا، انہیں جہنم کے راستے سے آگاہ کیا اور اس سے خبردار کیا، لہٰذا آپ ﷺ کی اطاعت کرنا واجب ہے، جیسا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "میری امت کے سب لوگ جنت میں داخل ہوں گے، ما سوا ان کے جنھوں نے انکار کیا۔ پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول! انکار کرنے والے کون ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی، وہ جنت میں داخل ہو گا اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے انکار کیا۔" [5]۔ [5] اس حدیث کو بخاری نے كتاب الاعتصام والسُّنَّة، باب: الاقتداء بِسُنَن رسولِ الله ﷺ میں، حدیث نمبر (7280) کے تحت روایت کیا ہے۔
* اللہ تعالیٰ کی بادشاہت میں اس کا کوئی شریک نہیں، حتیٰ کہ فرشتے اور انبیاء بھی اللہ کے محتاج بندے ہیں، لہٰذا کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کی عبادت کرے۔
سوالات:
س1: رسولوں کو لوگوں کی جانب مبعوث کرنے کی کیا حکمت ہے؟
س2: انبیاء اور صالحین میں سے کسی غیر اللہ کو پکارنے اور اس سے دعا مانگنے کا کیا حکم ہے؟ دلیل کے ساتھ بیان کریں۔
س3: اس شخص کی کیا جزا ہے جو اللہ اور رسول محمد ﷺ کی اطاعت کرتا ہے؟
س4: اس شخص کی کیا سزا ہے جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول محمد ﷺ کی نافرمانی کی؟
سوال 5: جب فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کی نافرمانی کی تو اس کا کیا انجام ہوا؟
چوتھا سبق
ایسے لوگوں سے دوستی رکھنا جائز نہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ دشمنی رکھتے ہوں۔
تیسرا مسئلہ: جس نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت وفرماں برداری کی اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ویکتائی کو تسلیم کیا، اس کے لیے یہ ہرگز جائز نہیں کہ وہ ایسے لوگوں سے دوستی رکھے، جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ دشمنی رکھتے ہوں؛ خواہ وہ کتنے ہی قریبی رشتے دار کیوں نہ ہوں۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو آپ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوئے ہرگز نہ پائیں گے گو وه ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے کنبہ (قبیلے) کے (عزیز) ہی کیوں نہ ہوں۔ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کو لکھ دیا ہے اور جن کی تائید اپنی روح سے کی ہے اور جنہیں ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہے اور یہ اللہ سے خوش ہیں۔ یہی لوگ اللہ کا گروہ ہیں،آگاه رہو! بے شک الله کا گروہ ہی کامیاب ہونے والا ہے۔ [المجادلۃ: 22]۔
سبق سے ماخوذ رہنما ہدایات:
* موالات کا مطلب ہے: اللہ، اس کے رسول اور مومنوں سے قولی وعملی طور پر محبت رکھنا اور ان کی مدد کرنا، اور یہ دین کے عظیم ترین شعائر میں سے ہے۔
* موحد مومن کی دوستی اللہ، اس کے رسول اور مومنوں کے لیے ہوتی ہے۔
* مسلمان پر حرام ہے کہ وہ ایسے لوگوں سے دوستی رکھے، جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان نہ رکھتے ہوں، یا دینِ اسلام کے خلاف برسرپیکار ہوں۔
* مسلمان اگرچہ دور دراز کا رہنے والا ہو، وہ دین میں تمہارا بھائی ہے، اور اللہ کی مخالفت کرنے والا اگرچہ نسب میں تمہارا بھائی ہو، وہ دین میں تمہارا دشمن ہے۔
* بلاشبہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اللہ اور اس کے دین سے سچی وفاداری کی بہترین مثالیں قائم کیں، جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف جنگ کرنے والے اپنے رشتہ داروں سے جنگ کی، تو اللہ نے اس پر ان کی تعریف کی۔[6] [6] دیکھیں: کتاب "الوَلاء والبَراء في الإسلام"، از محمَّد بن سعيد القحطاني - حفظہ اللہ -۔
سوالات:
س1: کیا یہود و نصاریٰ سے محبت کرنا جائز ہے، دلیل کے ساتھ ذکر کریں؟
س2: اللہ کے دشمنوں سے بغض رکھنے والے کا بدلہ کیا ہے؟
س3: ولاء (دوستی) کا معنی ذکر کریں۔
س4: وہ تین مسائل ذکر کریں جن کا علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے۔
پانچواں سبق
حنیفیت (ملتِ ابراہیمی)
آپ یہ بات جان لیں — اللہ اپنی اطاعت وفرماں برداری کی طرف آپ کی رہنمائی فرمائے — کہ حنیفیت — یعنی ملتِ ابراہیمی — یہ ہے کہ آپ دین کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کریں، اسی کام کا اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کو حکم دیا اور اسی مقصد سے انھیں پیدا فرمایا؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: میں نے جنات اورانسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں۔ [الذاریات: 56]۔ اس آیت میں ﴿يَعْبُدُوْنِ﴾ کا معنی ہے يُوَحِّدُوْنِ، یعنی خالص ایک اللہ کی عبادت کرنا اور اس کو ایک جاننا، اللہ تعالیٰ نے جن امور کا حکم دیا ہے، ان میں سب سے ارفع واعلٰی ”توحید“ ہے، جو ہر قسم کی عبادات صرف اللہ کے لیے بجا لانے کا دوسرا نام ہے، جن امور سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے، ان میں سب سے بڑی برائی ”شرک“ ہے، جو اللہ کے ساتھ کسی غیر کو پکارنے کا نام ہے۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو... [النساء: 36]۔
سبق سے ماخوذ رہنما ہدایات:
* الحنيف: اس سے مراد وہ شخص ہے جو توحید پر ثابت قدم رہے اور شرک و گمراہی کو ترک کردے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی اسی بنا پر مدح فرمائی ہے کہ وہ (حنیف) تھے، کیوں کہ آپ نے اپنی مشرک قوم کی مخالفت کی اور اللہ تعالیٰ کو یکتا مانا۔
* اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد ﷺ اور آپ کے صحابہ کو حکم دیا کہ جب دوسرے ادیان والے انھیں دعوت دیں تو وہ ان سے کہہ دیں: بے شک ہم دینِ حق یعنی دینِ ابراہیم پر ہیں، اور وہی (حنیفیت) ہے، اللہ سبحانہ کا فرمان ہے: یہ کہتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ بن جاؤ تو ہدایت پاؤ گے۔ تم کہو بلکہ صحیح راه پر ملت ابراہیمی والے ہیں، اور ابراہیم خالص اللہ کے پرستار تھے اور مشرک نہ تھے۔ [البقرۃ: 135]۔
* ہمارا دین اسلام جس کے ساتھ محمد ﷺ مبعوث ہوئے، وہی دینِ حنیف ہے جو موحد مسلمانوں کے سوا کسی اور کے پاس موجود نہیں، لہٰذا ہم پر واجب ہے کہ ہم اس پر کاربند رہیں، اور تمام قوموں کو اس کی دعوت دیں۔
* سب سے اہم فریضہ توحید کا حکم دینا اور شرک سے منع کرنا ہے؛ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے دس بنیادی حقوق والی آیت میں سب سے پہلے توحید کا حکم دیا ہے‘ چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں۔ [الذاریات: 56]۔
سوالات:
سوال 1 : مندرجہ ذیل میں سے صحیح جواب کا انتخاب کریں :
- سب سے عظیم چیز جس سے اللہ نے منع فرمایا ہے:
ا- جھوٹ۔
ب۔ شرک۔
ج- دھوکہ دینا۔
سب سے عظیم چیز جس کا اللہ نے حکم دیا ہے:
الف- صِدق گوئی۔
ب- امانت داری۔
ج- توحید۔
س2: جب یہود و نصاریٰ نے انہیں اپنے ادیان کی طرف دعوت دی تو اللہ نے اپنے نبی محمد ﷺ اور آپ کے صحابہ کو کیا حکم دیا؟
س3: ابراہیم علیہ السلام کی ملت کیا ہے؟
چھٹا سبق:
تین اصول
اگر آپ سے پوچھا جائے کہ وہ کون سے تین اصول ہیں، جن کی معرفت حاصل کرنا ہر انسان پر واجب ہے؟
تو آپ کہہ دیجیے: بندے کا اپنے رب، اپنے دین اور اپنے نبی محمد ﷺ کی معرفت حاصل کرنا۔
پہلا بنیادی اصول: بندے کا اپنے رب کی معرفت حاصل کرنا:
اگر آپ سے پوچھا جائے کہ آپ کا رب کون ہے؟
تو آپ کہہ دیجیے کہ میرا رب اللہ ہے، جس نے اپنے فضل وکرم سے میری اور تمام جہانوں کی پرورش وپرداخت کی، وہی میرا معبود ہے، اس کے سوا میرا کوئی دوسرا معبود نہیں ہے۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے واﻻ ہے۔ [الفاتحہ: 2]۔
اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا ہر چیز عالَم (جہاں) ہے اور میں اس عالَم کا ایک فرد ہوں۔
سبق سے ماخوذ رہنما ہدایات:
* اصول: یہ اصل کی جمع ہے، اور اس سے مراد وہ بنیاد ہے جس پر کوئی دوسری چیز کھڑی ہوتی ہے، اسی سے ہے: دیوار کی اصل، یعنی: اس کی بنیاد۔ مؤلف - رحمہ اللہ - نے یہاں ان تین اصولوں کو آغاز میں مجمل طور پر ذکر کیا ہے، پھر اس کے بعد تکمیلِ فائدہ اور طالب علم کی دلچسپی برقرار رکھنے کے لیے ایک ایک اصول کی تفصیل بیان کی ہے۔
* یہ تین بنیادی اصول ان اصولوں کی طرف اشارہ ہیں جن کے بارے میں انسان سے اس کی قبر میں سوال کیا جائے گا، جو اس طرح ہیں: تمہارا رب کون ہے؟، تمہارا دین کیا ہے؟، اور تمہارے نبی کون ہیں؟
* صرف اللہ ہی سارے عالَم کا خالق ہے: یعنی انسانوں، جمادات، نباتات، حیوانات وغیرہ کا، اور انہیں عالَم اس لیے کہا جاتا ہے کیوں کہ یہ اپنے خالق اور مالک کی نشانی ہیں، اور وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے۔
* اللہ پاک ہی ہے جس نے لوگوں کو زندگی کے اسباب مہیا کیے ہیں، جیسے کھانا پینا، صحت اور اس جیسی دیگر چیزیں۔
* اللہ ہی خالق و رازق ہے؛ لہٰذا ضروری ہے کہ اس کے سوا کسی اور کے بجائے وہ اکیلا ہی معبود ہو۔
سوالات:
سوال 1: وہ تین اصول کیا ہیں جن کا جاننا بندے پر واجب ہے؟
س2: رب کا معنی کیا ہے؟
س3: تمام جہانوں پر اللہ کی ربوبیت کی دلیل بیان کریں۔
ساتواں سبق:
اللہ کی نشانیاں اور اس کی مخلوقات
اگر آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ آپ نے اپنے رب کو کس چیز کے ذریعے پہچانا؟
تو کہہ دیجیے کہ اس کی نشانیوں اور اس کی مخلوقات کے ذریعے سے۔
اس کی نشانیوں میں رات، دن، سورج اور چاند بھی شامل ہیں۔
اور اس کی مخلوقات میں ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں، اور جو کچھ ان کے اندر ہے، اور ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے‘ سب شامل ہیں۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: اور دن رات اور سورج چاند بھی (اسی کی) نشانیوں میں سے ہیں ، تم سورج کو سجده نہ کرو نہ چاند کو بلکہ سجده اس اللہ کے لیے کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے، اگر تمہیں اس کی عبادت کرنی ہے تو۔ [فصلت: 37]۔
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: بے شک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کیا ہے ، پھر عرش پر قائم ہوا۔ وه شب سے دن کو ایسے طور پر چھپا دیتا ہے کہ وه شب اس دن کو جلدی سے آ لیتی ہے اور سورج اور چاند اور دوسرے ستاروں کو پیدا کیا ایسے طور پر کہ سب اس کے حکم کے تابع ہیں۔ یاد رکھو اللہ ہی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا، بڑی خوبیوں سے بھرا ہوا ہے اللہ جو تمام عالم کا پروردگار ہے۔ [الاعراف : ۵۴]۔
سبق سے ماخوذ رہنما ہدایات:
عقل مند انسان کائنات کو بے توجہی اور غفلت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا، بلکہ ان عظیم مخلوقات میں غور و فکر کرتا ہے اور ان سے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور قدرت کی نشانیاں اخذ کرتا ہے۔ چنانچہ وہ ان کے خالق سبحانہ وتعالیٰ کی عظمت و جلال کے سامنے جھک جاتا ہے۔ شاعر نے اپنے گرد و پیش کی کائنات میں غور کرتے ہوئے کہا:
تعجب کی بات ہے کہ کس طرح اللہ کی نافرمانی کی جاتی ہے یا کیوں کر منکر اللہ کا انکار کرتا ہے۔
جب کہ ہر حرکت وسکون میں اللہ تعالیٰ کی ہمیشہ کوئی نہ کوئی دلیل موجود ہے۔
ہر چیز میں اس کی کوئی نہ کوئی نشانی ہے جو دلالت کرتی ہے کہ وہ تنہا و یکتا ہے۔
* اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابِ کریم میں اپنے بندوں کو اپنی نشانیوں اور مخلوقات کی طرف متوجہ فرمایا اور ان میں غور و فکر کرنے کا حکم دیا۔ لہٰذا مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے وقت اور اپنے اردگرد کائنات میں غور کرتے ہوئے اس سے غافل نہ ہو۔
سوالات:
س1: ہم اپنے رب کو کس چیز کے ذریعہ جانتے ہیں؟
س2: اللہ کی بعض آیات اور چند مخلوقات کا ذکر کریں۔
س3: آیاتِ کریمہ میں سے وہ نشانیاں نکالیے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرتی ہیں۔
س4: درج ذیل مخلوقات میں غور وفکر کریں، پھر ان میں سے ہر ایک کے سامنے اس میں پوشیدہ عظمت کے جو پہلو آپ جانتے ہیں‘ انہیں ذکر کریں، اور بتائیں کہ یہ کس بات کی دلیل ہیں:
سورج، زمین، رات، چاند۔
س5: درج ذیل مخلوقات اور نشانیوں پر غور کریں، پھر ان میں سے ہر ایک میں نعمت کے جو پہلو ہیں‘ انہیں گنائیں:
انسان کا جسم، دن، بارش، ستارے۔
آٹھواں سبق
خالق اور منعم ہی عبادت کا مستحق ہے۔
رب سے مراد معبود ہے۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے کے لوگوں کو پیدا کیا، یہی تمہارا بچاؤ ہے۔ جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتار کر اس سے پھل پیدا کرکے تمہیں روزی دی، خبردار باوجود جاننے کے اللہ کے شریک مقرر نہ کرو۔ [7] [البقرۃ: 21-22]۔ [7] فِراشًا: یعنی ایسا بچھونا جسے وہ بچھاتے ہیں اور اس پر قرار پکڑتے ہیں۔ بِناءً: یعنی اس نے آسمان کو زمین کے لیے گنبد اور چھت کی طرح بنایا۔
ابن کثیر [8] رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ان تمام مذکورہ اشیا کا خالق ہی ہر قسم کی عبادت کا صحیح حق دار ہے۔“ [8] وہ ابو الفداء اسماعيل بن عمر بن كثير القرشي ہیں، سنہ (701ھ) میں پیدا ہوئے، تفسیر اور حدیث کے ماہر تھے، ان کی بہت سی تصانیف ہیں جن میں سب سے مشہور "تفسير القرآن العظيم" اور "البداية والنهاية" ہیں، آپ رحمہ اللہ نے سنہ (774ھ) میں وفات پائی۔
سبق سے ماخوذ رہنما ہدایات:
* رب اللہ تعالی ہی ہے؛ کیوں کہ وہ تمام موجودات کا خالق اور پوری کائنات کا مدبر ہے، اسی لیے وہ پاک پروردگار اکیلا ہی عبادت کے لائق ہے، چنانچہ وہی معبودِ برحق ہے، اور اس کے سوا ہر معبود باطل ہے۔
نواں سبق
عبادت کی اقسام، اور جو شخص ان میں سے کسی بھی عبادت کو غیر اللہ کے لیے بجا لائے، اس کا حکم۔
اللہ تعالیٰ نے جن عبادات کا حکم دیا ہے، ان کی مختلف قسمیں ہیں، مثلاً: اسلام، ایمان، احسان، اور ان میں دعا، خوف، امید، توکل، رغبت، رہبت، خشوع، خشیت، انابت، استعانت، استعاذت، استغاثہ، ذبح اور نذر وغیرہ شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جن عبادات کا حکم دیا ہے، وہ صرف اللہ ہی کے لیے ہیں۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: اور یہ کہ مسجدیں صرف اللہ ہی کے لئے خاص ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو. [الجن: 18]۔
چنانچہ جس نے ان میں سے کوئی بھی عبادت غیر اللہ کے لیے کی، وہ مشرک وکافر ہے۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: جو شخص اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے جس کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں، پس اس کا حساب تو اس کے رب کے اوپر ہی ہے۔ بے شک کافر لوگ نجات سے محروم ہیں۔ [المؤمنون : 117]۔
حدیث رسول ﷺ ہے: ”دعا ہی عبادت ہے۔“ [9]۔ [9] اسے ابوداود نے کتاب الصلاة، باب الدعاء، حدیث نمبر (1479) میں، اور ترمذی نے أبواب التفسير، باب تفسير سورة المؤمن (غافر)، حدیث نمبر (3247) میں روایت کیا ہے۔ ابو عیسیٰ (ترمذی) نے فرمایا: "یہ حدیث حسن صحیح ہے"، اور اسے ابن ماجہ نے کتاب الدعاء، باب فضل الدعاء، حدیث نمبر (3828) میں، اور احمد نے ج4 ص267، 276 میں روایت کیا ہے، اور اس کی سند صحیح ہے۔ البتہ انس بن مالک کی حدیث ( الدُّعاء مُخُّ العِبادَةِ ) سند کے اعتبار سے ضعیف ہے، اسے ترمذی نے الدعوات میں حدیث نمبر (3371) کے تحت روایت کیا ہے، اور فرمایا: "یہ حدیث اس طریق سے غریب ہے، ہم اسے صرف ابن لہیعہ کی حدیث سے جانتے ہیں"۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: اور تمہارے رب کا فرمان (سرزد ہوچکا ہے) کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا۔ یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں وه عنقريب ذلیل ہوکر جہنم میں پہنچ جائیں گے۔ [10] [غافر: 60] [10] داخِرین: یعنی ذلیل ہو کر۔
سبق سے ماخوذ رہنما ہدایات:
* حقیقی مسلمان وہ ہے جو عبادت کو صرف اللہ وحدہ کے لیے خالص رکھتا ہے، جبکہ جو شخص عبادت کی بعض اقسام غیر اللہ کے لیے انجام دیتا ہے، وہ مشرک اور کافر ہے - اللہ کی پناہ -۔
* دعا میں شامل ہے:
أ- اللہ کی تعظیم اور اس کی تقدیس۔
ب- دعا کرنے والے کی عاجزی اور انکساری۔
ج- اللہ سے امید رکھنا اور اس سے طلب کرنا، اسی لیے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ یہی عبادت ہے۔
* اللہ سبحانہ نے بتایا کہ جو شخص غیر اللہ کو پکارے گا، یا اللہ تعالیٰ کو پکارنے سے خود سری کرے گا اور اس سے دعا نہیں کرے گا، تو بے شک وہ:
- کافر ہے، جیسا کہ پہلی آیت میں ہے۔
- اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے، جیسا کہ دوسری آیت میں ہے۔
* عبادت کی کئی اقسام ہیں، اور عبادت اس وقت تک درست اور قابل قبول نہیں ہوتی جب تک کہ اس میں دو شرطیں نہ پائی جائیں:
1- اس سے اللہ تعالی کی رضا مقصود ہو۔
2- وہ شریعت سے ثابت ہو، نہ کہ لوگوں کی ایجاد کردہ بدعت۔
سوالات:
س1: اس شخص کا کیا حکم ہے جس نے کسی بھی قسم کی کوئی عبادت غیر اللہ کے لیے انجام دیا؟
س2: اس شخص کا کیا انجام ہے جس نے اللہ کی عبادت سے روگردانی کی؟
س3: اس بات کی کیا دلیل ہے کہ دعا عبادت ہے؟
س4: اگر آپ کسی شخص کو کسی قبر کے پاس یہ کہتے ہوئے سنیں کہ اے صاحبِ قبر! میری مدد کر، یا میری مصیبت دور کر، تو اس کے اس فعل کا کیا حکم ہے؟ اور آپ اسے کیا نصیحت کریں گے؟
س5: عبادت کی بعض قسمیں ذکر کریں۔
س6: نیک عمل کی قبولیت کی شرطیں ذکر کریں۔
دسواں سبق:
عبادت کی بعض قسموں کے دلائل
خوف کے عبادت ہونے کی دلیل:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے : ... تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو، اگر تم مومن ہو. [آل عمران: 175]
اور امید کے عبادت ہونے کی دلیل:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے : ... تو جسے بھی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہئے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے۔ [الکھف: ۱۱۰]
توکل کے عبادت ہونے کی دلیل :
اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے: ... اور تم اگر مومن ہو تو تمہیں اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے۔ [الکھف: ۱۱۰] نیز یہ فرمان الہی: ... اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا... [الطلاق: ۳]
رغبت و رہبت اور خشوع وخضوع کے عبادت ہونے کی دلیل:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے : ... یہ بزرگ لوگ نیک کاموں کی طرف جلدی کرتے تھے اور ہمیں ﻻلچ طمع اور ڈر خوف سے پکارتے تھے۔ اور ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے۔ [الانبیاء: ۹۰]
خشیت کے عبادت ہونے کی دلیل:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے : ... تم ان سے نہ ڈرو مجھ ہی سے ڈرو... [البقرۃ: ۱۵۰]
استعانت کے عبادت ہونے کی دلیل:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے : ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔ [الفاتحۃ: 5]۔
سبق سے ماخوذ رہنما ہدایات:
* خوف، خشیت اور ڈر قریب المعنی عبادات ہیں جنہیں صرف اللہ وحدہ کے لیے خاص کرنا واجب ہے، کیوں کہ مومن جس کے ذریعے اپنے نفس کو اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے باز رکھتا ہے، وہ اللہ تعالی کا خوف، اس کی خشیت اور اس کی وعید سے بچنا ہے۔
* رجاء اور رغبت دونوں عبادت کی ایسی صورتیں ہیں جن کا تقاضا یہ ہے کہ مؤمن اللہ تعالیٰ کے فضل و رضا سے امید وابستہ رکھے، اور اسے حاصل کرنے کے لیے پوری جانفشانی سے کوشش کرے؛ اطاعت و فرمانبرداری کے کام بجا لا کر اور ان تمام امور سے اجتناب کرتے ہوئے جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔
* توکل : اس سے مراد دل کا اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا، اور اس سے اچھا گمان رکھنا ہے، چنانچہ جو شخص ایسا کرتا ہے؛ اللہ اس کی پریشانیوں کے لیے کافی ہوجاتا ہے، اس کے معاملات سنبھال لیتا ہے، اور اسے وہاں سے رزق عطا کرتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔
* انابت کا معنی: اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہوئے توبہ اور خشوع وخضوع کے ساتھ اس کی طرف لوٹنا۔
* ان عبادات کو ان کے عظیم معانی کے ساتھ صرف ایک اللہ کے لیے انجام دینا ضروری ہے، اس کے سوا مخلوق میں سے کسی اور کے لیے نہیں۔
سوالات:
س1: درج ذیل خالی جگہوں کو پر کریں:
- عبادت کی مختلف قسمیں ہیں جیسے: خوف ........................... ، ........................... اور ...........................
س2: کالم (الف) کے ہر لفظ کو کالم (ب) میں اس کے معنی سے ملائیں:
کالم (الف)
خوف ورہبت
توکل
انابت
کالم (ب)
اللہ پر دل سے بھروسہ کرنا
اللہ کی طرف لوٹنا
مومن کا اپنے آپ کو اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے روکے رکھنا ہی اللہ کی وعید کا خوف ہے۔
سوال 3 : نیچے دی گئی باتوں پر قرآن سے دلیل پیش کریں :
ا- امید۔
ب- توکل۔
ج- خشیت۔
د- انابت۔
هـ- رغبت۔
گیارہواں سبق
عبادت کی بعض قسموں کے دلائل
استعانت کے عبادت ہونے کی دلیل:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے: ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔ [الفاتحۃ: 5]۔
اور حدیث رسول ﷺ ہے: "’’جب تم مدد طلب کرو، تو اللہ تعالیٰ سے طلب کرو‘‘[11]۔" [11] یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کا ایک حصہ ہے، اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور کہا : ”حدیث حسن صحیح“، کتاب صفۃ القیامۃ، باب 59، حدیث نمبر (2516)، اور مسند احمد: ج1، ص293، 303، 307۔ مفہوم یہ ہے کہ جب تم دنیا و آخرت سے متعلق کسی معاملے میں مدد و اعانت کے طلب گار ہو تو اللہ تعالیٰ ہی سے مدد مانگو؛ کیوں کہ اس کے سوا کوئی مددگار نہیں، نہ کوئی بند دروازہ کھولنے والا ہے، اور نہ اس کے سوا کوئی عطا کرنے والا ہے۔ لہٰذا اس کے قرب کے مقام میں ضروری ہے کہ تمام واسطوں اور ظاہری سہاروں سے دل کا تعلق منقطع کرکے صرف اسی پر اعتماد کیا جائے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان اس کی طرف اشارہ کرتا ہے: {إِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَإِيَّاكَ نَسۡتَعِينُ} یعنی: ہم تیرے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے، اور تیرے سوا کسی اور سے مدد طلب نہیں کرتے۔
استعاذہ (پناہ طلبی) کے عبادت ہونے کی دلیل:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے : آپ کہہ دیجئے! کہ میں صبح کے رب کی پناه میں آتا ہوں۔ [12] [سورۃ الفلق:1] اور دعا کریں کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناه چاہتا ہوں۔ [الناس: ۱] [12] الفَلَق: صبح، اور اسی سے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَالِقُ ٱلۡإِصۡبَاحِ...﴾ (وہ صبح کا نکالنے والا ہے...) [الانعام: 96]۔
استغاثہ کے عبادت ہونے کی دلیل:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے : اس وقت کو یاد کرو جب کہ تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے تمہاری سن لی کہ میں تم کو ایک ہزار فرشتوں سے مدد دوں گا جو لگاتار چلے آئیں گے۔ [الانفال: ۹]
ذبح وقربانی کے عبادت ہونے کی دلیل:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے : آپ فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں میں سے پہلا ہوں۔ [الانعام:162 - 163]۔
اور حدیث سے اس کی دلیل یہ ارشاد نبوی ﷺ ہے: ’’جس نے غیر اللہ کے لیے ذبح کیا اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔‘‘ [13]۔ [13] اسے مسلم نے تفصیلاً كتاب الأضاحي، باب تحريم الذبح لغير الله ولعن فاعله (3/1567) حدیث نمبر: (1678) میں روایت کیا ہے۔ لعنت: رحمت سے دور کرنا ہے، لعین اور ملعون: وہ شخص ہے جس پر لعنت ثابت ہو جائے۔
نذر کے عبادت ہونے کی دلیل:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے : جو نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی چاروں طرف پھیل جانے والی ہے۔ [الانسان: 7] [14]۔ [14] مُسْتَطِيرًا: یعنی لوگوں میں عام اور ہر طرف پھیلا ہوا ہو۔
سبق سے ماخوذ رہنما ہدایات:
* استعانت: اللہ عز وجل سے مدد طلب کرنے کو کہتے ہیں، اور اس میں بندے کی طرف سے اپنے رب کے سامنے کامل عاجزی و فروتنی اختیار کرنا اور اپنا معاملہ اسی کے سپرد کر دینا شامل ہے۔
* استعاذت: اللہ تعالیٰ کی پناہ اختیار کرنے اور اسی سے مضبوط سہارا لینے کو کہتے ہیں، اور اس میں اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی کامل محتاجی کا اظہار پوشیدہ ہے۔
* استغاثت: اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے ہوئے مدد طلب کرنے کو کہتے ہیں، خواہ کسی خیر وبھلائی کے حصول کے لیے ہو یا کسی شر وبرائی کو دور کرنے کے لیے۔
* اگر آپ کسی زندہ اور حاضر شخص سے فریاد کریں، اور اس سے کسی ایسے کام میں مدد طلب کریں جس پر وہ قدرت رکھتا ہو، جیسے کہ اپنا سامان گاڑی پر رکھوانے میں، یا خود کو ڈوبنے سے بچانے میں؛ تو یہ جائز ہے، اور یہ شرک میں شامل نہیں ہے۔
* مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اپنے ذبح کو اللہ کے لیے عبادت بنائے اور اسی کے نام سے ذبح کرے، جیسا کہ اللہ پاک کا ارشاد ہے: پس تو اپنے رب کے لئے نماز پڑھ اور قربانی کر۔ [الكوثر: 2].
* نذر: انسان کا اپنے نفس پر ایسی چیز کو لازم کرنا ہے جو واجب نہ ہو، جیسے: اگر میں امتحان میں کامیاب ہو گیا تو مجھ پر تین دن کے روزے لازم ہیں۔
* نذر ایک عبادت ہے، انسان کے لئے اسے اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے لئے نذر ماننا جائز نہیں ہے، لہٰذا وہ یہ نہ کہے: میں نے قبر کے لئے فلاں فلاں چیز کی نذر مانی۔
سوالات:
س1: اللہ سبحانہ نے اپنے فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلۡفَلَقِ﴾ میں ہمیں کس بات کا حکم دیا ہے؟
س2: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث «إذا اسْتَعَنْتَ فاسْتَعِن بالله» میں ہمیں کس بات کا حکم دیا ہے؟
سوال 3 : درج ذیل کلمات کا معنی بیان کریں: استعانت، استغاثہ، اور استعاذہ؟
س4: نیچے دی گئی باتوں پر قرآن کریم سے دلیل پیش کریں:
- استعانت۔
- استغاثہ۔
- ذبح۔
- نذر۔
بارہواں سبق
دینِ اسلام
دوسری اصل: دلائل کے ساتھ دین اسلام کی معرفت حاصل کرنا۔
اور وہ یہ ہے: توحید کے ذریعہ اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنا، اطاعت کے ذریعہ اس کی پیروی کرنا اور شرک اور مشرکوں سے براءت کا اظہار کرنا۔
دین کے تین مراتب ہیں:
(اسلام)، (ایمان) اور (احسان)، اور ہر مرتبے کے مختلف ارکان ہیں۔
سبق سے ماخوذ رہنما ہدایات:
* روئے زمین پر ایسے بہت سے ادیان ہیں جن کی لوگ پیروی کرتے ہیں اور ان کے تابع ہیں، لیکن دین برحق ایک ہی ہے اور وہ (دین اسلام) ہے، جبکہ دیگر ادیان باطل ہیں، اللہ تعالی فرماتا ہے: جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وه آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا۔ [آل عمران: 85]۔
* دینِ اسلام کو ہم قرآن کریم اور احادیثِ رسول ﷺ سے جانتے ہیں۔
* تمام عالم پر، خواہ وہ جن ہوں یا انسان، واجب ہے کہ وہ اسلام میں داخل ہوں اور اپنے باطل ادیان کو چھوڑ دیں، ورنہ یقیناً ان کا ٹھکانہ جہنم ہے، فرمانِ نبوی ﷺ ہے: ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اس امت کا کوئی بھی شخص چاہے وہ یہودی ہو یا نصرانی، اسے میری بعثت کی خبر ملی ہو اور وہ اس دین پر ایمان لائے بغیر مرجائے جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہے، تو وہ یقینًا جہنمیوں میں سے ہوگا‘‘۔ [15] [15] صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب وجوب الإيمان برسالة نبینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم إلى جمیع الناس ونسخ الملل بملته (1/134)، حدیث نمبر: 153۔
* مسلمان پر واجب ہے کہ وہ لوگوں کو اسلام کی دعوت دے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اپنے رب کی راه کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلایئے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے... [النحل : 125]۔
سوالات:
س1: حقیقی دین کیا ہے، اور اس کی کیا دلیل ہے؟
س2: دین کے مراتب بیان کریں۔
س3: درج ذیل جملوں میں خالی جگہ کو پر کریں:
اسلام: توحید کے ذریعہ اللہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا، اطاعت کے ذریعہ ........................... اور ........................... اور ........................... سے براءت کا اظہار کرنا۔
س4: (ہاں) یا (نہیں) میں جواب دیجیے:
- دین اسلام جنت تک پہنچانے والا راستہ ہے۔
- دیگر ادیان اپنے ماننے والوں کے لیے ہلاکت کا باعث ہیں۔
- دینِ اسلام کو ہم قرآن و سنت سے جانتے ہیں۔
پہلا سبق
اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے
پہلا درجہ:
اسلام کے پانچ ارکان ہیں: اس بات کی شہادت دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان المبارک کے روزے رکھنا اور بیت اللہ شریف کا حج کرنا۔
شہادت کی دلیل:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے: اللہ تعالیٰ، فرشتے اور اہل علم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وه عدل کو قائم رکھنے واﻻ ہے، اس غالب اور حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے ﻻئق نہیں۔ [آل عمران: 18]۔
اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔
(لا الہ) : اللہ کے سوا ان چیزوں کی نفی ہے، جن کی عبادت ہوتی ہے۔
(الا اللہ) : عبادت صرف ایک اللہ ہی کے لیے ثابت ہے، اس کی عبادت میں اس کا کوئی شریک نہیں، جیسا کہ اس کی بادشاہت میں اس کا کوئی شریک نہیں، اور اس کی تفسیر جو اسے واضح کرتی ہے، اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے : اور جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ بجز اس ذات کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی مجھے ہدایت بھی کرے گا۔ اور (ابراہیم علیہ السلام) اسی کو اپنی اوﻻد میں بھی باقی رہنے والی بات قائم کر گئے تاکہ لوگ (شرک سے) باز آتے رہیں۔ [16] [الزخرف: 26- 28]۔ [16] فَطَرني: اس نے مجھے پیدا کیا اور مجھے وجود بخشا، اس کے بعد کہ میں کچھ بھی نہیں تھا۔
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب! ایسی انصاف والی بات کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں برابر ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنائیں، نہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو ہی رب بنائیں۔ پس اگر وه منھ پھیر لیں تو تم کہہ دو کہ گواه رہو ہم تو مسلمان ہیں۔ (آل عمران: 64)۔
سبق سے ماخوذ رہنما ہدایات:
* (لا الہ الا اللہ) کی شہادت وہ سب سے عظیم حقیقت ہے جس کی گواہی سب سے بڑے منصف ہمارے رب نے دی، فرشتوں نے دی، اور سچے اہل علم نے دی۔
* لا الہ الا اللہ دو باتوں پر مشتمل ہے:
پہلا: اللہ کے سوا ان تمام چیزوں کی نفی کرنا، جن کی عبادت ہوتی ہے۔
دوسرا: اس بات کو ثابت کرنا کہ معبود برحق صرف اللہ سبحانہ ہے۔
* چنانچہ جس طرح اللہ اکیلا خالق اور مدبر ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی طرح وہی اکیلا عبادت کے لائق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔
* (لا الہ الا اللہ) اسلام کی وہ دعوت ہے جو مسلمان تمام لوگوں کو دیتا ہے۔
* ”لا الہ الا اللہ“ کی شہادت شرک اور اہلِ شرک سے براءت کا تقاضا کرتی ہے، جیسا کہ ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنی قوم کے ساتھ کیا۔
* اہلِ کتاب سے مراد یہود اور نصاریٰ ہیں۔
* لوگوں کے اسلام قبول کرنے سے منہ موڑنے کی وجہ سے مسلمان نہ اپنے اسلام کا برملا اظہار کرنے سے باز آتا ہے اور نہ ہی اسلام کی دعوت دینے سے۔ ... پس اگر وه منھ پھیر لیں تو تم کہہ دو کہ گواه رہو ہم تو مسلمان ہیں۔ (آل عمران: 64)۔
سوالات:
سوال 1: ”لا الہ الا اللہ“ کی شہادت نفی اور اثبات پر مشتمل ہے۔ یہ کس چیز کی نفی کرتی ہے، اور کس چیز کو ثابت کرتی ہے؟
س۲: درج ذیل خالی جگہ کو پر کریں:
اللہ سبحانہ وتعالى ہی اس کائنات کا خالق اور مدبر ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ........................... صرف اسی کے لیے خاص کی جائے۔
س 3: کلمۂ توحید کی گواہی کی دلیل بیان کریں۔
س4: مسلمانوں پر اپنے دین کے حوالے سے کیا ضروری ہے؟
س5: مندرجہ ذیل آیتوں میں نفی کے نیچے ایک خط اور اثبات کے نیچے دو خط کشید کریں:
الف- فرمان باری تعالیٰ ہے: اور جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ بجز اس ذات کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی مجھے ہدایت بھی کرے گا۔ [الزخرف: 26- 27]۔
ب- اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے : اور ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو بھیجا ۔ انہوں نے فرمایا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں، سو کیا تم نہیں ڈرتے۔ [الاعراف: ۶۵]
دوسرا سبق
اس بات کی گواہی دینا کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں
اور اس بات کی شہادت کی دلیل کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے : تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف ﻻئے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں، ایمان والوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں۔ [17] [التوبة : 128]۔ [17] فرمانِ باری تعالیٰ: ﴿مِّنۡ أَنفُسِكُمۡ﴾ یعنی: وہ تمہاری جنس سے ہیں، تم ان کا نسب، حسب اور زبان پہچانتے ہو، اور فرمانِ الٰہی: ﴿عَزِيزٌ عَلَيۡهِ مَا عَنِتُّمۡ﴾ یعنی: ان کو وہ بات نہایت گراں گزرتی ہے جو تمہیں مشقت اور تھکاوٹ میں مبتلا کرے؛ کیوں کہ وہ تمہاری جنس سے ہیں اور تمہاری ہدایت کے لیے مبعوث کیے گئے ہیں۔ ﴿حَرِيصٌ عَلَيۡكُم﴾ یعنی: وہ تمہارے ایمان اور ہدایت کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں۔
محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دینے کا مطلب ہے: آپ کے حکم کی اطاعت کرنا، آپ کی بتائی ہوئی باتوں کی تصدیق کرنا، آپ کی منع کی ہوئی چیزوں سے دور رہنا اور آپ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہی اللہ کی عبادت کرنا۔
سبق سے ماخوذ رہنما ہدایات:
* اس بات کی شہادت کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، درج ذیل امور کو شامل ہے:
الف- اس بات پر ایمان کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا، اور آپ ﷺ کی طرف اپنے دینِ حق کی وحی فرمائی۔
ب- محمد ﷺ نے اللہ، فرشتوں، انبیاء، آخرت اور اس جیسی دیگر چیزوں کے بارے میں جن تمام باتوں کی خبر دی، ان میں آپ کی تصدیق کرنا؛ کیوں کہ آپ اپنی خواہشِ نفس سے کچھ نہیں بولتے۔
ج- تمام امور میں آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کی اتباع کرنا۔
د- دین میں زیادتی یا کمی کر کے بدعت ایجاد کرنے سے بچنا۔
سوالات:
س1: اس گواہی میں کیا شامل ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں؟
س2: خالی جگہوں کو مندرجہ ذیل مناسب کلمات سے پر کریں:
بھیجا- تصدیق - لوگ - اللہ - انبیاء - ہجرت۔
"محمد رسول اللہ کی گواہی میں یہ ایمان لانا شامل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے: محمد کو ........................... کی طرف رسول بنا کر ........................... ہے اور آپ کی طرف دینِ حق کی وحی فرمائی، نیز اس ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ...........................، فرشتوں، ...........................، اور آخرت وغیرہ کے بارے میں محمد ﷺ نے جن تمام باتوں کی خبر دی ہے ان میں آپ ﷺ کی .................. کی جائے ۔
س3: اس گواہی کا کیا مطلب ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں؟
س4: اس گواہی کی دلیل بیان کریں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
تیسرا سبق
بقیہ ارکانِ اسلام کے دلائل
نماز، زکٰوۃ اور توحید کی تفسیر کی دلیل:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں۔ ابراہیم حنیف کے دین پر اور نماز کو قائم رکھیں اور زکوٰة دیتے رہیں یہی ہے دین سیدھی ملت کا۔ [18] [البینۃ: 5] [18] الحنفاء: حق کو لازم پکڑنے اور شرک کو ترک کرنے والے لوگ۔ القیّمۃ: یعنی معتدل اور سیدھی ملت۔
اور روزے کی دلیل :
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔ [19] [البقرۃ: 183] [19] كُتِبَ: یعنی: فرض کیا گیا۔
اور حج کی دلیل :
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر جو اس کی طرف راه پا سکتے ہوں اس گھر کا حج فرض کر دیا ہے۔ اور جو کوئی کفر کرے تو اللہ تعالیٰ (اس سے بلکہ) تمام دنیا سے بے پرواه ہے۔ [آل عمران: 97]۔
سبق سے ماخوذ رہنما ہدایات:
* نماز اسلام کا ستون ہے، اور اسی کے ذریعے کلمۂ شہادتین کا تقاضا مکمل طور پر پورا ہوتا ہے۔ اسی لیے نماز ترک کرنے والا کافر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ المدثر میں فرمایا: تمہیں دوزخ میں کس چیز نے ڈاﻻ ۔ وه جواب دیں گے کہ ہم نمازی نہ تھے۔ [المدثر: 42-43]
* خوش دلی سے زکوٰۃ ادا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمان اپنے مال کے معاملے میں بھی اپنے رب کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتا ہے۔
* روزہ اور حج دین اسلام کے دو ارکان ہیں، اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ کو ان ارکان کا اسی طرح حکم دیا جس طرح سابقہ انبیا علیہم السلام کو ان کا حکم دیا تھا۔
* یہ چاروں ارکان انسان کی شخصیت کو حقیقی معنوں میں ایک مسلمان شخصیت بناتے ہیں۔ نماز ذکر، تلاوتِ قرآن اور اللہ تعالیٰ کی تقدیس و تعظیم پر مبنی عبادت کی بنیاد ہے، زکوٰۃ مالی زندگی کی بنیاد ہے، روزہ نفس کو حق تعالى کے حکم کا پابند بنانے کی بنیاد ہے، جبکہ حج اللہ کی راہ میں جسمانی محنت اور مال دونوں صرف کرنے کی بنیاد ہے۔ آپ اندازہ لگائیے کہ اسلام کس قدر عظیم دین ہے!
سوالات:
س1: اسلام کے ارکان گنائیں۔
س2: نماز اسلام کا ستون کیوں ہے؟
سوال 3 : اللہ تعالی کے فرمان ﴿كُتِبَ عَلَيۡكُمُ ٱلصِّيَامُ﴾ میں کسے مخاطب کیا گیا ہے؟
س4: درج ذیل جملوں میں (صحیح) یا (غلط) کا نشان لگائیں:
- زکاۃ اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر فرض کیا ہے۔
- نماز اسلام کا ستون ہے۔
- حج ہر اُس مسلمان پر واجب ہے جو استطاعت رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو۔
- روزہ انسان کو برداشت کرنے کا عادی بناتا ہے۔
سوال 5: زکوٰۃ، روزہ اور حج کے وجوب کے دلائل بیان کریں۔
چوتھا سبق
ایمان
دوسرا مرتبہ:
ایمان کی ستر سے بھی زیادہ شاخیں ہیں، جن میں سب سے افضل شاخ لا الہ الا اللہ کہنا ہے، اور سب سے ادنٰی شاخ راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے، اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے [20]۔ [20] یہ ابن حبان کی روایت ہے، اور مسلم کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”جن میں سے سب سے افضل شاخ لا الہ الا اللہ کہنا ہے“، اور صحیح بخاری میں یہ الفاظ ہیں: ”ایمان کی ساٹھ سے زیادہ شاخیں ہیں، اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے“۔
ایمان کے چھ ارکان ہیں: اللہ پر ایمان لانا، اس کے فرشتوں پر ایمان لانا، اس کی کتابوں پر ایمان لانا، اس کے رسولوں پر ایمان لانا، قیامت کے دن پر ایمان لانا اور اچھی وبُری تقدیر پر ایمان لانا۔
ایمان کے ان چھ ارکان کی دلیل:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے : ساری اچھائی مشرق ومغرب کی طرف منھ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقتاً اچھا وه شخص ہے جو اللہ تعالی پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب اللہ پر اور نبیوں پر ایمان رکھنے واﻻ ہو... [البقرۃ: ۱۷۷]۔
تقدیر پر ایمان کی دلیل:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک (مقرره) اندازے پر پیدا کیا ہے۔ [القمر: 49].
سبق سے ماخوذ رہنما ہدایات:
* ایمان میں دل سے تصدیق کرنا، زبان سے اقرار کرنا اور اعضا وجوارح سے عمل کرنا شامل ہے۔
* اعمال کی صحت کے لیے ایمان شرط ہے، لہذا ایمان سے خالی اعمال کی کوئی حیثیت نہیں، اور اللہ پاک کے اس فرمان کا یہی مفہوم ہے : ساری اچھائی مشرق ومغرب کی طرف منھ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقتاً اچھا وه شخص ہے جو اللہ تعالی پر ایمان رکھنے واﻻ ہو... [البقرۃ: ۱۷۷]۔
* مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے ایمان کو مضبوط کرتا رہے تاکہ ایمان اس کے دل میں راسخ ہو جائے، اور یہ نیک اعمال کرنے اور حرام کاموں کو ترک کرنے سے ہی ممکن ہے۔
سوالات:
س1: ایمان کا سب سے اعلیٰ اور سب سے ادنیٰ شاخ کیا ہے؟
س2: خالی جگہوں کو پر کریں:
ایمان میں ........................... سے تصدیق کرنا، ........................... سے اقرار کرنا اور ........................... سے عمل کرنا شامل ہے۔
س3: ذیل میں دیے گئے جوابات میں سے صحیح جواب کا انتخاب کریں:
ایمان مندرجہ ذیل باتوں کو شامل ہے:
ا- دل سے تصدیق کرنا اور اعضا سے عمل کرنا۔
ب۔ زبان سے اقرار کرنا۔
ج- صرف عمل۔
د- (الف+ب) دونوں۔
سوال 4: ایمان کے تین ارکان ان کے دلائل کے ساتھ ذکر کریں۔
س5: تقدیر پر ایمان کی دلیل بیان کریں۔
پانچواں سبق
احسان
تیسرا مرتبہ:
احسان کا ایک ہی رکن ہے، اور وہ یہ ہے کہ آپ اللہ کی اس طرح عبادت کریں گویا آپ اسے دیکھ رہے ہیں، اگر آپ اسے نہیں دیکھ رہے ہیں تو بلاشبہ وہ آپ کو دیکھ رہا ہے [21]۔ [21] یہ اس حدیث کا ایک ہے جسے بخاری اور مسلم نے اپنی صحیحین میں روایت کیا ہے، اور یہ مشہور حدیثِ جبریل علیہ الصلوۃ والسلام ہے۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں اور نیک کاروں کے ساتھ ہے۔ [النحل: 128]۔
نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: اپنا پورا بھروسہ غالب مہربان اللہ پر رکھ۔ جو تجھے دیکھتا رہتا ہے جبکہ تو کھڑا ہوتا ہے۔ اور سجده کرنے والوں کے درمیان تیرا گھومنا پھرنا بھی۔ وه بڑا ہی سننے واﻻ اور خوب ہی جاننے واﻻ ہے۔ [الشعراء: ۱۱۷- ۱۲۰]
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور آپ کسی حال میں ہوں اور منجملہ ان احوال کے آپ کہیں سے قرآن پڑھتے ہوں اور جو کام بھی کرتے ہوں ہم کو سب کی خبر رہتی ہے جب تم اس کام میں مشغول ہوتے ہو۔ [یونس: 61] [22]۔ [22] تُفِيضُون: یعنی تم اسے انجام دیتے ہو۔
سبق سے ماخوذ رہنما ہدایات:
* احسان کا مقام اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب مسلمان اپنے رب کی عبادت اس یقین کے ساتھ کرے کہ اللہ تعالیٰ اس پر پوری طرح نگران ہے، اس کے ہر عمل کو دیکھ رہا ہے اور اس کے تمام اعمال کو شمار کر رہا ہے۔
* احسان دو چیزوں میں ہوتا ہے:
- نیت میں، بایں طور کہ اسے ریا اور نفاق سے پاک کرے۔
- اور عمل میں بایں طور کہ اس میں شریعت کی اتباع کرے، اور اسے عزم مصمم اور قوتِ ارادی کے ساتھ انجام دے۔
سوالات:
س1: دین کے تین مراتب بیان کریں۔
س2: احسان کی تعریف کریں۔
س3: احسان کس چیز میں ہوتا ہے؟
س4: احسان کی دلیل بیان کریں۔
س5: اگر تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جو گناہوں کے ارتکاب پر مُصر ہو، اور جب تم اسے نصیحت کرو تو وہ کہے: ’’لوگ مجھے نہیں دیکھتے اور نہ ہی میرے بارے میں کچھ جانتے ہیں۔‘‘ تو تم اسے کیا جواب دو گے؟
چھٹا سبق
دین کے مراتب پر حدیث سے دلیل
حدیث سے مراتبِ دین کی دلیل مشہور حدیث جبریل ہے، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: «ایک روز ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ اچانک ہمارے سامنے ایک شخص نمودار ہوا، جس کے کپڑے انتہائی سفید اور بال نہایت سیاہ تھے۔ اس پر سفر کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے تھے اور ہم میں سے کوئی اسے پہچانتا بھی نہیں تھا، یہاں تک کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ اس نے اپنے گھٹنے آپ ﷺ کے گھٹنوں سے ملا دیے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنی رانوں پر رکھ لیے[23]، اور عرض کیا: اے محمد! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو، اور اگر زادِ راہ کی استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کرو۔ اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔ (راوی کہتے ہیں) ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ وہ آپ سے سوال بھی کرتا ہے اور آپ کی تصدیق بھی کرتا ہے۔ اس نے کہا: تو مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور آخرت کے دن پر ایمان لاؤ، اور اچھی اور بری تقدیر پر ایمان رکھو۔ اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔ اس نے کہا: تو مجھے آپ احسان کے بارے میں بتائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ یقیناً تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اس نے کہا: تو آپ مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جس سے سوال کیا جا رہا ہے وہ اس بارے میں سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ اس نے کہا: تو مجھے اس کی نشانیاں ہی بتا دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ کہ لونڈی اپنی مالکن کو جنے، اور یہ کہ تم ننگے پاؤں، ننگے بدن، محتاج اور بکریاں چرانے والوں کو دیکھو کہ وہ بڑی بڑی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے پر فخر کریں [24]۔ (راوی کہتے ہیں) پھر وہ چلا گیا، تو ہم کچھ دیر ٹھہرے رہے [25]۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اے عمر! کیا تم جانتے ہو کہ سائل کون تھا؟ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ جبریل تھے، جو تمہارے پاس تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے»[26]۔ [23] یعنی داخل ہونے والے شخص نے اپنے دونوں ہاتھ اپنی ہی رانوں پر رکھے، اور طالب علم کی ہیئت میں بیٹھ گیا۔ [24] یعنی بادیہ نشیں اور ان جیسے حاجت مند اور فاقہ کش لوگوں پر دنیا کشادہ کر دی جائے گی یہاں تک کہ وہ عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے پر فخر کریں گے۔ [25] مَلِيًّا: کچھ دیر۔ [26] صحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب: بيان الإيمان والإسلام والإحسان، حدیث نمبر: 1۔
سبق سے ماخوذ رہنما ہدایات:
* حدیث جبریل ایک عظیم حدیث ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے دین کے تین مراتب (اسلام، ایمان اور احسان) کو کافی اور شافی انداز میں بیان فرمایا ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ اسے حفظ کرے اور اس کے معانی کو سمجھے۔
* مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت یہ ہے کہ ان کا دین بالکل واضح اور روشن ہے، برخلاف دوسرے ادیان اور مذاہب کے، جو اپنے پیروکاروں کے لیے اضطراب و بے چینی کا باعث بنتے ہیں اور انہیں تاریکی میں بھٹکنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
* جبریل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک عظیم فرشتہ ہیں، جو رسول ﷺ کے پاس وحی لاتے تھے، اور رسول ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم انھیں نہیں دیکھتے تھے، لیکن اس مرتبہ وہ ان کے پاس ایک انسان کی شکل میں آئے۔
* قیامت کا علم ان امورِ غیب میں سے ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے ساتھ خاص فرمایا ہے؛ نہ کوئی مقرب فرشتہ اس کا علم رکھتا ہے اور نہ کوئی مرسل نبی۔
سوالات:
س1: حدیث جبریل سے درج ذیل دلائل اخذ کریں:
ا- مرتبۂ اسلام کی دلیل۔ ب- مرتبۂ ایمان کی دلیل۔ ج- مرتبۂ احسان کی دلیل۔
سوال 2 : حدیثِ جبریل سے قیامت کی وہ نشانیاں اخذ کریں جو اس میں وارد ہوئی ہیں۔
س3: جبریل علیہ السلام اللہ کے رسول ﷺ سے سوال کرنے کیوں آئے تھے؟
س4: اس حدیث میں صحابہ کرام نے کس بات پر تعجب کیا؟
س5: یہ حدیث عظیم کیوں ہے؟
س6: جبریل علیہ الصلاۃ والسلام سے رسول ﷺ نے فرمایا: «اس کے بارے میں جس سے سوال کیا گیا ہے، وہ سوال کرنے والے سے زیادہ علم نہیں رکھتا» اس کا کیا مطلب ہے؟
ساتواں سبق:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت
تیسری اصل: اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جاننا
آپ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم ہیں۔ ہاشم قریش میں سے ہیں اور قریش عرب میں سے ہیں، اور عرب اسماعیل بن ابراہیم خلیل علیہ وعلی نبینا افضل الصلوٰۃ والسلام کی اولاد ہیں۔ آپ کی عمر مبارک تریسٹھ سال ہے، جن میں سے چالیس سال نبوت سے پہلے کے ہیں، اور تئیس سال بحیثیت نبی و رسول کے ہیں۔ آپ کو ﴿اقرأ﴾ کے ذریعے نبی بنایا گیا اور ﴿المدثر﴾ کے ذریعے رسول بنا کر بھیجا گیا، آپ کا شہر مکہ ہے، اور آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔
سبق سے ماخوذ رہنما ہدایات:
* امت اسلامیہ پر اللہ کا یہ فضل ہے کہ وہ اللہ کے نبی ﷺ کی حیات کی تفصیلات سے واقف ہے، یہ ایک ایسی واضح حیات ہے جس کی وجہ سے آپ کی امت کے لیے آپ کی ہدایت کی اتباع اور آپ کی اقتدا کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
* عربوں پر اللہ تعالیٰ کا یہ فضل ہے کہ اس نے سب سے آخری نبی محمد ﷺ کو انہی میں سے مبعوث فرمایا، چنانچہ اس فضل کی بنا پر وہ تمام قوموں میں اسلام پھیلانے کے ذمہ دار بن گئے۔
* محمد ﷺ کی نبوت کا آغاز جبریل علیہ السلام کے سورہ اقراء لے کر نازل ہونے سے ہوا، پھر جب جبریل علیہ السلام آپ پر سورہ مدثر لے کر نازل ہوئے تو اللہ عزوجل نے آپ کو رسالت کی تبلیغ کا حکم فرمایا۔
سوالات:
س1: رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نسب نامہ بیان کریں۔
س2: مندرجہ ذیل خالی جگہوں کو پر کریں:
- اللہ کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ........................... میں پیدا ہوئے اور ........................... کی طرف ہجرت کی۔
- رسول محمد ﷺ کو ........................... کی عمر ملی، جن میں سے ........................... نبوت سے پہلے، اور ........................... نبی ورسول بننے کے بعد، آپ کو ........................... کے ذریعہ نبی بنایا گیا اور ........................... کے ذریعہ رسول بنایا گیا۔
سوال 3 : اللہ نے عربوں کو کس چیز کے ذریعہ فضیلت بخشی؟
س4: محمد ﷺ کی حیات کی تفصیلات سے واقفیت کا کیا فائدہ ہے؟
آٹھواں سبق
رسول ﷺ کی دعوت
اللہ نے آپ کو شرک سے ڈرانے والا اور توحید کی جانب بلانے والا بناکر بھیجا۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: اے کپڑا اوڑھنے والے۔ کھڑا ہوجا اور آگاه کردے۔ اور اپنے رب ہی کی بڑائیاں بیان کر۔ اپنے کپڑوں کو پاک رکھا کر۔ ناپاکی کو چھوڑ دے۔ اور احسان کرکے زیاده لینے کی خواہش نہ کر۔ اور اپنے رب کی راه میں صبر کر۔ [27] [المدثر: 1 - 7]۔ [۲۷] المدثر کا معنی ہے: اے اپنے کپڑے اوڑھنے والے اٹھ کھڑے ہو، اس رعب کی وجہ سے جو نزولِ وحی کے وقت فرشتے کو دیکھنے کی وجہ سے آپ پر طاری ہوا تھا۔
اور ﴿قُمۡ فَأَنذِرۡ﴾ (کھڑا ہوجا اور آگاه کردے) کا معنی ہے: آپ شرک سے ڈرائیں اور توحید کی دعوت دیں۔ ﴿وَرَبَّكَ فَكَبِّرۡ﴾ یعنی: توحید کے ذریعے اس کی بڑائی بیان کریں۔ ﴿وَثِيَابَكَ فَطَهِّرۡ﴾ یعنی: اپنے اعمال کو شرک سے پاک کریں۔ ﴿وَٱلرُّجۡزَ فَٱهۡجُرۡ﴾ الرجز سے مراد بت ہیں، اور انہیں چھوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ بتوں اور ان کے پجاریوں کو ترک کر دیں، اور ان سے اور ان کے ماننے والوں سے براءت کا اظہار کریں۔ آپ ﷺ اسی کے مطابق دس سالوں تک لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے۔ دس سال کے بعد آپ ﷺ کو آسمانوں کی سیر (معراج) کرائی گئی اور آپ پر پانچ وقت کی نماز فرض کی گئی۔ آپ ﷺ تین سال تک مکہ مکرمہ میں نماز ادا کرتے رہے۔ اس کے بعد مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم ملا۔
سبق سے ماخوذ رہنما ہدایات:
* رسول ﷺ کی دعوت کا خلاصہ شرک کی قباحت کو بیان کرنا اور اس سے خبردار کرنا، اور توحید کی عظمت کو بیان کرنا اور اس کی دعوت دینا ہے۔
* آپ ﷺ نے ان باتوں پر عمل کیا جن کا آپ کو حکم دیا گیا؛ چنانچہ آپ نے اپنے دل اور اعمال کو شرک کی تمام اقسام سے پاک کیا، بتوں کے خلاف جنگ کی، اور اللہ تعالیٰ کی توحید اختیار کی۔
* توحید کی اہمیت کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ مکہ میں تیرہ سال تک لوگوں کو اس کی دعوت دیتے رہے اور اسے اپنے صحابہ کے دلوں میں راسخ کرتے رہے، دس سال معراج سے پہلے، اور تین سال اس کے بعد۔
* آپ ﷺ کی مدینہ ہجرت سے قبل، آپ کے رب نے آپ کو اس شرف سے نوازا کہ آپ راتوں ہی رات مسجدِ اقصیٰ لے جائے گئے، پھر آپ کو بلند آسمانوں کی سیر کرائی گئی، اور آپ کے رب نے آپ سے کلام فرمایا، اور یہ سب کچھ ایک ہی رات میں ہوا۔
سوالات:
س1: مذکورہ آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کو کیا حکم دیا گیا ہے؟
س2: رسول اللہ ﷺ کی دعوت کا خلاصہ کیا ہے؟
س3: اصنام کو ترک کرنے کا مطلب کیا ہے؟
س4: کیا رسول اللہ ﷺ نے اس پر عمل کیا جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا؟ اور وہ کس طرح؟
س5: پانچ نمازیں کہاں فرض ہوئیں، اور یہ کس بات پر دلالت کرتا ہے؟
نواں سبق
ہجرت
بلدِ شرک سے بلدِ اسلام کی طرف منتقل ہو جانے کا نام ”ہجرت“ ہے۔
بلدِ شرک سے بلدِ اسلام کی طرف ہجرت کرنا اس امت پر فرض ہے، اور ہجرت قیامت تک باقی رہے گی:
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں جب فرشتے ان کی روح قبض کرتے ہیں تو پوچھتے ہیں، تم کس حال میں تھے؟ یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم اپنی جگہ کمزور اور مغلوب تھے۔ فرشتے کہتے ہیں کیا اللہ تعالیٰ کی زمین کشاده نہ تھی کہ تم ہجرت کر جاتے؟ یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وه پہنچنے کی بری جگہ ہے۔ مگر جو مرد عورتیں اور بچے بے بس ہیں جنہیں نہ تو کسی چارہٴ کار کی طاقت اور نہ کسی راستے کا علم ہے۔ بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے درگزر کرے، اللہ تعالیٰ درگزر کرنے واﻻ اور معاف فرمانے واﻻ ہے۔ [النساء: ۹۷-۹۹]۔
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے میرے ایمان والے بندو! میری زمین بہت کشاده ہے سو تم میری ہی عبادت کرو۔ [العنکبوت: 56].
امام بغوی[28] رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ آیت ان مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی، جو مکہ میں رہ گئے اور جنھوں نے ہجرت نہیں کی، اللہ تعالیٰ نے انھیں ایمان کے وصف سے متصف کر کے پکارا ہے“۔ [28] حسین بن مسعود بغوی تفسیر، حدیث اور فقہ کے عالم تھے، ان کی متعدد تصانیف ہیں جن میں سے "معالم التنزیل" اور "شرح السنۃ" مشہور ہیں، آپ - رحمہ اللہ - کی وفات سنہ (516ھ) میں ہوئی۔
اور حدیث سے ہجرت کی دلیل:
اللہ کے نبی ﷺ کا ارشاد ہے: ”ہجرت ختم نہیں ہوگی یہاں تک کہ توبہ کا سلسلہ ختم ہوجائے، اور توبہ ختم نہیں ہوگی یہاں تک کہ سورج پچھم سے نکل آئے۔“ [29] [29] اسے احمد (5/ 65) حدیث : 16463، اور ابو داود نے کتاب الجہاد کے شروع میں، باب: في الهجرة هل انقطعت (3/ 1)، حدیث : 2479 کے تحت روایت کیا ہے، الفاظ ابو داود کے ہیں۔
سبق سے ماخوذ رہنما ہدایات:
* اس دنیا میں مسلمان کے وجود کا مقصد یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے اور کسی بھی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہرائے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمان پر، اگر وہ اس کی استطاعت رکھتا ہو، یہ فرض قرار دیا ہے کہ وہ ایسے ملکِ شرک سے ہجرت کرکے ملکِ اسلام کی طرف چلا جائے جہاں وہ اللہ تعالیٰ کی دینی شعائر کو ظاہر کرنے اور ان پر عمل کرنے سے قاصر ہو۔
* شرعی ہجرت کا مقصد محض جسمانی منتقلی نہیں ہے، بلکہ اللہ کے احکامات کی پابندی اور اس کی منہیات سے اجتناب کرنا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مہاجر وہ ہے جو ان کاموں کو چھوڑ دے جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے“ [30]۔ [30] اسے بخاری نے كتاب الإيمان، باب: المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده میں، حدیث نمبر: 10 کے تحت روایت کیا ہے۔
سوالات:
س1: ہجرت کی تعریف بتائیں۔
سوال 2 : درج ذیل کلمات میں صحیح جواب کا انتخاب کریں :
ہجرت کا حکم:
- سنت۔
- جائز۔
- فرض۔
س 3: ہجرت کی دلیل حدیث سے بیان کریں۔
س4: ہجرت کا مقصد بیان کریں۔
دسواں سبق:
ہمارے نبی محمد ﷺ کی رسالت کا کمال اور اس کی عالمگیریت
پھر جب آپ ﷺ مدینہ منورہ میں سکونت پذیر ہوگئے تو اسلام کی باقی شریعتیں بھی آپ ﷺ کو عطا کی گئیں، مثلاً زکوٰۃ، روزہ، حج، اذان، جہاد، نیکی کا حکم دینا، برائی سے روکنا اور دیگر اسلامی احکام و شعائر۔ اس کے مطابق آپ ﷺ نے دس برس گزارے۔ اس کے بعد آپ ﷺ کی وفات ہو گئی، لیکن آپ ﷺ کا دین باقی ہے۔ یہ آپ ﷺ کے دین کی شان ہے کہ بھلائی کا کوئی ایسا کام نہیں جس کی طرف آپ ﷺ نے امت کی رہنمائی نہ کی ہو اور برائی کا کوئی ایسا کام نہیں جس سے آپ ﷺ نے اسے آگاہ نہ کیا ہو۔
جس خیر کی طرف آپ نے امت کی رہنمائی کی، اس میں سرِفہرست توحید ہے اور اس میں اللہ کی پسند و رضا کے سارے کام شامل ہیں۔ اور جس شر اور برائی سے آپ نے ڈرایا، اس میں سر فہرست شرک ہے، ساتھ ہی اس میں تمام وہ کام شامل ہیں جو اللہ کو ناپسند اور ناگوار ہیں۔
اللہ نے آپ کو تمام لوگوں کے لیے نبی بناکر بھیجا اور سارے جنوں اور انسانوں پر آپ کی اطاعت کو فرض کیا۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہوں... [الاعراف: 158]۔
اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے ذریعے دین اسلام کو مکمل کر دیا۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا... [المائدۃ: ۳]۔
اور آپ ﷺ کی وفات کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: یقیناً خود آپ کو بھی موت آئے گی اور یہ سب بھی مرنے والے ہیں۔ پھر تم سب کے سب قیامت والے دن اپنے رب کے سامنے جھگڑو گے۔ [الزمر: 30-31]
سبق سے ماخوذ رہنما ہدایات:
* مسلمانوں کے دلوں میں توحید اور ایمان راسخ ہو جانے کے بعد مدینہ نبویہ میں عملی احکام نازل ہوئے، جیسے روزہ رکھنا، زکاۃ دینا اور حج کرنا۔
* محمد ﷺ اپنی امت کے نہایت خیر خواہ اور اس پر بے حد شفیق ومہربان تھے، اسی لیے آپ ﷺ نے اسے ہر بھلائی کا راستہ دکھایا اور ہر برائی سے منع فرمایا۔
* محمد ﷺ کی رسالت وپیغامبری تمام جنوں اور انسانوں کے لیے عام ہے، اسی لیے ان سب سے ان کی قبروں میں آپ ﷺ کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔
* ہمارے نبی محمد ﷺ کی رسالت ایک مکمل رسالت ہے، اور اس کے کمال کی چند علامتیں یہ ہیں:
ا- وہ دین ودنیا کے معاملات درست کرنے والی تمام چیزوں پر مشتمل ہے۔
ب- وہ ہر قسم کے نقص سے پاک ہے، اور اس میں کسی اضافے کی حاجت نہیں۔
* ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم دیگر انسانوں کی طرح وفات پاگئے، اور وفات کے وقت آپ کی عمر (63) سال تھی، آپ پر اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو۔
سوالات:
س 1: عملی احکامات کب نازل ہوئیں، اور کہاں نازل ہوئیں؟
س2: وہ خیر کیا ہے جس کی طرف رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کی رہنمائی کی؟
س3: رسول ﷺ کو کن کی جانب مبعوث کیا گیا تھا؟ اس کی دلیل بیان کریں۔
س4: ہمارے نبی محمد ﷺ کی کمالِ رسالت کی کچھ علامتیں بیان کریں۔
س5: کیا رسول محمد ﷺ وفات پا گئے جیسا کہ انسان وفات پاتے ہیں؟ اس کی دلیل بیان کریں۔
گیارہواں سبق
موت کے بعد دوبارہ اٹھایا جانا
سارے لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوکر اٹھیں گے۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: اسی زمین میں سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں پھر واپس لوٹائیں گے اور اسی سے پھر دوباره تم سب کو نکال کھڑا کریں گے۔ [طه: 55].
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور تم کو زمین سے ایک (خاص اہتمام سے) اگایا ہے (اور پیدا کیا ہے)۔ پھر تمہیں اسی میں لوٹا لے جائے گا اور (ایک خاص طریقہ) سے پھر نکالے گا۔ [نوح: 17-18]
اٹھائے جانے کے بعد ان کا حساب وکتاب ہوگا اور انھیں ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے تاکہ اللہ تعالیٰ برے عمل کرنے والوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے اور نیک کام کرنے والوں کو اچھا بدلہ عنایت فرمائے۔ [النجم: 31]۔
موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کو جھٹلانے والا کافر ہے۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ان کافروں نے خیال کیا ہے کہ دوباره زنده نہ کیے جائیں گے ۔ آپ کہہ دیجئے کہ کیوں نہیں اللہ کی قسم! تم ضرور دوباره اٹھائے جاؤ گے، پھر جو تم نے کیا ہے اس کی خبر دیئے جاؤ گے اور اللہ پر یہ بالکل ہی آسان ہے۔ [التغابن: 7]۔
سبق سے ماخوذ رہنما ہدایات:
* اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں پر موت لکھ دی ہے، یہاں تک کہ نبیوں پر بھی، صرف اللہ سبحانہ کی ذات باقی بچے گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: زمین پر جو ہیں سب فنا ہونے والے ہیں۔ صرف تیرے رب کی ذات جو عظمت اور عزت والی ہے باقی ره جائے گی۔ [الرحمن: ۲۶- ۲۷]
* موت کا مطلب ہمیشہ کے لیے فنا ہو جانا نہیں ہے، بلکہ یہ دو زندگیوں کے درمیان ایک درمیانی مرحلہ ہے، جس کے بعد قیامت کے دن مخلوق کو ان کی قبروں سے دوبارہ اٹھایا جائے گا۔
* اٹھائے جانے کے بعد اللہ تعالیٰ لوگوں سے ان کے اعمال کا حساب لے گا جو انہوں نے دنیا میں کئے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: پس جس نے ذره برابر نیکی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا۔ اور جس نے ذره برابر برائی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا۔ [الزلزلۃ: 7 - 8]۔
سوالات:
س1: قیامت کے دن لوگوں کو دوبارہ اٹھائے جائے گا‘ اس کی کیا دلیل ہے؟
س2: اعمال پر جزا کی کیا دلیل ہے؟
س3: جو شخص موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کرتا ہے‘ اس کا کیا حکم ہے؟
س 4: دوبارہ جی اٹھنے کے بارے میں کافروں کا کیا عقیدہ ہے، اور آپ انہیں کیا جواب دیں گے؟
بارہواں سبق
سب سے پہلے اور سب سے آخری رسول
اللہ نے تمام رسولوں کو خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بناکر بھیجا تھا۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ہم نے انہیں رسول بنایا ہے، خوشخبریاں سنانے والے اور آگاه کرنے والے تاکہ لوگوں کی کوئی حجت اور الزام رسولوں کے بھیجنے کے بعد اللہ تعالیٰ پر ره نہ جائے۔ [النساء: 165]
سب سے پہلے رسول نوح علیہ السلام، اور آخری رسول محمد ﷺ ہیں، اور آپ خاتم النبیین ہیں۔
نوح علیہ السلام کے پہلے رسول ہونے کی دلیل یہ ارشاد الٰہی ہے: یقیناً ہم نے آپ کی طرف اسی طرح وحی کی ہے جیسے کہ نوح (علیہ السلام) اور ان کے بعد والے نبیوں کی طرف کی... [النساء: 163]
اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام سے لے کر محمد ﷺ تک ہر امت کی طرف رسول بھیجے، جو اپنی امت کے لوگوں کو صرف اللہ کی عبادت کا حکم دیتے اور طاغوت کی عبادت سے منع کرتے تھے۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو... [النحل: 36]۔
اللہ تعالیٰ نے تمام بندوں (جن وانس) پر طاغوت کا انکار کرنا اور اللہ پر ایمان لانا فرض قرار دیا ہے [31]۔ [31] رسالہ: "تین اصول اور ان کے دلائل" ختم ہوا۔
سبق سے ماخوذ رہنما ہدایات:
* رسولوں کا مشن یہ ہے: اہلِ طاعت و ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں تیار کر رکھی ہیں ان کی خوشخبری دینا، اور اہلِ شرک و معصیت کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو عذاب تیار کر رکھا ہے اس سے ڈرانا، اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کو بیان کرنا۔
* اللہ کے سب سے پہلے رسول (نوح) علیہ السلام اور آخری رسول (محمد) ﷺ ہیں، اور ان دونوں کے درمیان اللہ نے بہت سے رسول مبعوث فرمائے، ان میں ابراہیم، موسی، عیسی اور دیگر انبیاء ورسل شامل ہیں، ان سب پر اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو۔
* محمد ﷺ خاتم الانبیاء ہیں، چنانچہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں، اور جو شخص بھی یہ دعویٰ کرے کہ اس پر وحی نازل ہوتی ہے اور آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے، تو وہ دجال اور کذاب ہے، جیسے مسیلمہ کذاب، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (لوگو) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ نہیں لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے... [الاحزاب: 40]۔
سوالات:
س1: تمام رسولوں علیہم الصلاۃ والسلام کی ذمہ داری کیا ہے؟ دلیل کے ساتھ بیان کریں۔
س2: سب سے پہلے رسول علیہ الصلاۃ والسلام کون ہیں؟ اس کی دلیل ذکر کریں۔
س3: سب سے آخری رسول علیہ الصلوۃ والسلام کون ہیں؟ اس کی دلیل ذکر کریں۔
س4: رسول محمد ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والے کو آپ کیا جواب دیں گے؟
س5: وہ دعوت کیا ہے جو سارے رسول علیہم الصلاۃ والسلام اپنی قوموں کے پاس لے کر آئے؟
Related books
All books
المناهج التعليمية - الصف الثالث7 زبانیںالمناهجالتعليميةالمناهج التعليمية - الصف الثالث
یہ کتاب تیسرے درجے کے لیے تیار شدہ توحید کے مضمون کی وضاحت کرتی ہے۔ یہ دین کے تین درجات یعنی اسلام، ایمان اور احسان کے مطالعے پر توجہ مرکوز کرتی ہے، ہر درجے کے مفہوم کو تفصیل سے بیان کرتی ہے، اسلام اور ایمان کے ارکان کی تشریح اور توحید کی گواہی کی اہمیت بیان کرتی ہے، اللہ، اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں پر ایمان کو مضبوط کرنے کی اہمیت بتاتی ہے اور آخر میں شرعی نصوص سے استدلال کے ساتھ دین کے اعلیٰ ترین درجے کے طور پر احسان کے مقام کو واضح کرتی ہے۔
عنوان: نصاب تعلیم، علمِ فقہ، درجہ (چہارم)۔7 زبانیںعنوان: نصاب تعلیم، علمِ فقہ، درجہ (چہارم)۔
مختصر تعارف: اس علمی مواد کو مملکت سعودی عرب میں طلبہ کے لیے مقرر کردہ تعلیمی نصاب کی تہذیب اور خلاصہ سمجھا جا سکتا ہے۔ اسے کئی درجات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس مواد میں علمِ فقہ کے مطالعہ سے متعلق حصہ بھی شامل ہے، جو بارہ (12) درجات میں منقسم ہے۔ چوتھے درجے میں شامل اہم ترین موضوعات اور مسائل درج ذیل ہیں: طہارت اور اس کی فضیلت، وضو کی شرائط، اس کے فرائض، اس کی سنتوں اور نواقض کا بیان۔ اذان اور اقامت کے طریقے کی وضاحت۔ نماز کی ان شرطوں کی وضاحت جن کے بغیر نماز صحیح نہیں ہوتی۔ فرض نمازوں کے اوقات، ارکان اور واجبات کا بیان۔
عنوان: نصاب تعلیم، کتاب التوحید، مرحلہ (ششم)2 زبانیںعنوان: نصاب تعلیم، کتاب التوحید، مرحلہ (ششم)
مختصر تعارف: اس علمی مواد کو مملکت سعودی عرب میں طلبہ کے لیے پیش کردہ تعلیمی نصاب کی تہذیب اور خلاصہ کہا جا سکتا ہے۔ اسے کئی مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس مواد کے ضمن میں علم توحید کے مطالعے سے متعلق حصہ بھی شامل ہے، جسے بارہ (12) مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ چھٹے مرحلے میں شامل اہم ترین موضوعات یہ ہیں: ان چار قواعد کا بیان جن کے ذریعے طالبِ علم یہ جان لیتا ہے کہ صرف توحیدِ ربوبیت کا اقرار کسی کو اسلام میں داخل نہیں کرتا، بلکہ توحیدِ الوہیت ضروری ہے۔ اور توحید الوہیت عبادت میں اللہ تعالیٰ کو یکتا ماننے کا نام ہے۔ شرک کی تعریف، اس کی قسموں کا بیان، اور اس کی ہر قسم کی دلیل۔ کفر کی تعریف، اس…
مشروع منهاج زادك5 زبانیںمشروع منهاج زادك
جمعیۃ الدعوہ والارشاد و توعیۃ الجالیات، روضہ دین سے آگاہی پہلا مرحلہ پیش لفظ سب تعریف اللہ تعالی کے لیے ہے، جس نے انسان کو پیدا کیا، اسے علم و بیان کے ذریعہ عزت بخشى اور قرآن و سنت کے ذریعے اس پر حجت قائم کر دی۔ درود و سلام ہو ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر، آپ کے اہل و عیال، صحابۂ کرام اور ہر اس شخص پر جو قیامت تک بحسن وخوبی ان کی اتباع کرے گا۔