المناهج التعليمية - الصف الثالث
عنوان: نصاب تعلیم، کتاب التوحید، درجہ (سوم)
عنوان: نصاب تعلیم، کتاب التوحید، درجہ (سوم)
مختصر تعارف: اس علمی مواد کو مملکت سعودی عرب میں طلبہ کے لیے پیش کردہ تعلیمی نصاب کی تہذیب اور خلاصہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اسے کئی درجات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس مواد کے ضمن میں علم توحید کے مطالعے سے متعلق حصہ بھی شامل ہے، جسے بارہ (12) درجات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ تیسرے درجے میں شامل اہم ترین موضوعات میں دین کے تین مراتب کا بیان شامل ہے، جو درج ذیل ہیں: اسلام، ایمان اور احسان۔ ان کی توضیح و تشریح کے لیے درج ذیل طریقۂ کار اختیار کیا گیا ہے :
1- ان کی تعریف اور معانی کا بیان۔
2- اسلام کے پانچ ارکان کا ذکر، ان میں سے ہر رکن کے معنی، اس کی تشریح اور کتاب و سنت کے نصوص سے اس پر استدلال۔
3- ایمان کے چھ ارکان کا ذکر، ان میں سے ہر رکن کے معنی اور اس کی تشریح کا بیان اور قرآن و سنت کے نصوص سے اس پر استدلال۔
4- اسلام اور ایمان کے ارکان میں سے کسی رکن کا انکار کرنے والے کے حکم کا بیان۔
5- مرتبۂ احسان کی فضیلت اور اس کے مقام کی بلندی کا بیان۔
تیسرا درجہ
مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جس نے قلم کے ذریعے سکھایا۔ انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ درود و سلام ہو نبی اُمی پر، جنہیں اللہ نے اس لیے بھیجا تاکہ لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لائیں۔ اما بعد:
بلاشبہ اللہ عزوجل کی توحید تمام فرائض میں سب سے اہم فریضہ ہے، اس کا علم تمام علوم میں سب سے زیادہ معزز اور افضل ہے اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر اعمال کی درستگی اور ان کی قبولیت کا دارومدار ہے۔ بندوں کو اس کی ضرورت ہر ضرورت سے بڑھ کر ہے؛ کیونکہ دلوں کے لیے کوئی زندگی، کوئی راحت، اور کوئی اطمینان نہیں ہے، سوائے اپنے رب، اپنے معبود اور اپنے پیدا کرنے والے کو اس کے ناموں، اس کی صفات اور اس کے افعال کے ساتھ پہچاننے کے۔ اسی طرح دین میں سمجھ بوجھ حاصل کرنا اور عبادتوں جیسے طہارت، نماز وغیرہ کی ادائیگی کا طریقہ جاننا خوش بختی کی علامت اور اس بات کی نشانی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے : "اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔" [1]۔ [1] صحیح بخاری، کتاب العلم، باب: من يرد الله به خيرًا يفقهه في الدين، حدیث نمبر 7۔
اسی بات کے مدنظر مکتب توعیۃ الجالیات نے طلبہ کے دلوں میں صحیح عقیدہ راسخ کرنے کے لیے توحید کا مضمون پڑھانے کا اہتمام کیا ہے، تاکہ وہ اپنے دین کے معاملات میں نور اور بصیرت پر قائم رہیں۔
توحید کے نصاب کے دوسرے درجے میں ان تین بنیادی اصولوں کو سیکھ لینے کے بعد، جن کا جاننا انسان پر واجب ہے، طالب علم کے لیے بہتر ہوگا کہ اس نصاب کے اس تیسرے درجے میں دین کے تینوں مراتب کو کچھ تفصیل کے ساتھ سیکھ لے؛ تاکہ بلند ہمتی کے ساتھ ان میں ایک کے بعد دوسرے مرتبے کی طرف بتدریج آگے بڑھے اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی جنتوں میں کامیابی حاصل کر سکے۔
ہر سبق میں ایسے خاص مقاصد مقرر کیے گئے ہیں جو مضمون کی نوعیت کے مناسب ہوں، جس میں اختصار اور عبارت کی وضاحت، موضوعات میں تدریج اور ان کے اور گزشتہ پڑھے گئے اسباق کے درمیان ربط کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ اسی طرح ہر سبق کے لیے سوالات اور معلم کے لیے ہدایات بھی رکھی گئی ہیں، تاکہ مطلوبہ مقاصد کے حصول میں ان سے رہنمائی حاصل کر سکے۔
معلم کی خدمت میں چند گزارشات :
1- اللہ تعالیٰ کے لیے مخلص ہونا عمل کی قبولیت کی شرط ہے۔ لہٰذا اپنے عمل کو اسی ذاتِ سبحانہ کی رضا کے لیے خالص کر لیں، آپ اپنی دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو جائیں گے۔
2- امانت کی حفاظت نجات کا راستہ ہے اور آپ -میرے معلم بھائی- اسلام کے محاذوں میں سے ایک محاذ پر کھڑے ہیں اور مسلمانوں کے بچوں کی عقلوں اور فطرتوں کے امین ہیں۔ لہذا امانت کی حفاظت کریں، تاکہ آپ دونوں جہانوں میں فلاح پا سکیں۔
3- بلاشبہ مضمونِ توحید کی تعلیم دینا ایک عظیم ترین عمل ہے، کیونکہ توحید کی معرفت اور اس پر عمل آوری کے بغیر بندے نہ صالح بن سکتے ہيں اور نہ دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے نجات پا سکتے ہيں۔ لہٰذا طلبہ کے دلوں میں صحیح عقیدہ راسخ کرنے کی بھرپور کوشش کریں اور جن اعلیٰ اصولوں اور اقدار کی آپ دعوت دیتے ہیں، ان کے سچے ترجمان اور زندہ مثال بنیں۔
4- آسمان کے بیچ میں بادلوں کے چھا جانے، بجلی کے چمکنے، بادلوں کی گرج، بارش کے نزول اور اس طرح کے دیگر واقعات کے وقت اللہ کی وحدانیت اور اس کی قدرت کا تذکرہ کرنے کے لیے مواقع سے فائدہ اٹھانا، جو مسلمان کے اندر ایمانی جذبات کو بیدار کرتے ہیں۔
5- مثالیں دے کر مضمون کو آسان بنانا اور سبق کو عملی زندگی سے جوڑنا، طلبہ کی مضمون سے محبت اور پھر اسے سیکھنے اور اس پر عمل کرنے میں بہت گہرا اثر رکھتا ہے۔ آخر میں ہم آپ کو آپ ﷺ کے اس فرمان کی خوش خبری سناتے ہیں: "بے شک مومن کو اس کی موت کے بعد اس کے اعمال اور نیکیوں میں سے جو کچھ پہنچتا ہے، ان میں وہ علم ہے جو اس نے سکھایا اور پھیلایا"۔ [2]. [2] سنن ابن ماجہ : 242
لہذا جلدی کریں اور تیزی سے آگے بڑھیں، تاکہ اپنے علم اور عمل کے ثمرات حاصل کر سکیں۔
نصابِ توحید:
موضوع
صفحہ
پہلا سبق:
دوسرے درجے میں پہلے پڑھے گئے اسباق کا مراجعہ۔
دوسرا سبق:
دین کے مراتب (پہلا مرتبہ: اسلام)۔
تیسرا سبق:
ارکانِ اسلام
چوتھا سبق:
پہلا رکن: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں (الف) اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔
پانچواں سبق: چھٹا سبق: ساتواں سبق:
(ب) اس بات کی گواہی دینا کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
آٹھواں سبق:
دین کے مراتب (دوسرا مرتبہ: ایمان)۔
نواں سبق:
ایمان کے ارکان (پہلا رکن: اللہ تعالیٰ پر ایمان)۔
دسواں سبق:
دوسرا رکن: فرشتوں پر ایمان۔
گیارہواں سبق:
تیسرا اور چوتھا رکن: کتابوں اور رسولوں پر ایمان۔
بارھواں سبق:
پانچواں رکن: یوم آخرت پر ایمان۔
تیرھواں سبق:
چھٹا رکن: تقدیر کے خیر و شر پر ایمان لانا۔
چودھواں سبق:
دین کے مراتب: (تیسرا مرتبہ: احسان)
پہلا سبق
دوسرے درجے میں پہلے پڑھے گئے اسباق کا مراجعہ
سوال 1: وہ تین اصول لکھیں جن کا جاننا اور ان پر عمل کرنا انسان پر واجب ہے۔
بندے کا ........... کو جاننا ، اور بندے کا اپنے دین کو جاننا .......... ، اور بندے کا ............... کو جاننا
س2: ایمان کے ارکان مکمل کریں:
یہ کہ تم اللہ پر ایمان لاؤ، اور ............... ، اور اس کی کتابوں پر، اور ............... ، اور آخرت کے دن پر، اور ...............
س3: درج ذیل کے جواب دیں :
ا - اسلام کے ارکان میں سے پہلا رکن کیا ہے؟
ب - خاتم النبیین کون ہیں؟
ج - احسان کیا ہے؟
دوسرا سبق [3]
[3] سبق کے مقاصد: - طالب علم دین کے تین مراتب بیان کرے۔ - طالب علم اسلام کا معنی واضح کرے۔ - طالب علم مشرکین سے براءت کی بعض صورتیں ذکر کرے۔
دین کے مراتب [4]
[4] استاد کے لیے: - اس بات کی طرف اشارہ کرنا کہ یہ وہی تین درجات ہیں جن کے بارے میں جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تھا، جیسا کہ اسے امام مسلم نے اپنی صحیح میں حدیث نمبر (8) کے تحت روایت کیا ہے۔ - اس بات کا بیان کہ اسلام لغوی اعتبار سے: مسالمت (صلح جوئی) سے مشتق ہے اور مسالمت کا مطلب ہے: جھگڑا ترک کرنا۔ اسی طرح مسلمان اللہ تعالیٰ کے احکامات کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والا، اس کی اطاعت کا فرماں بردار اور شرک اور اہل شرک سے بری ہوتا ہے۔ - اس بات کا بیان کہ اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنے اور اس کی اطاعت و فرماں برداری کے ثمرات میں سے دنیا میں پاکیزہ زندگی، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی رضا کا حصول، جنت میں داخلہ اور جہنم کی آگ سے نجات ہے۔ - ابراہیم علیہ السلام کا اپنی قوم کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ، ان کا شرک اور اہل شرک سے براءت کا اعلان، ان سے دشمنی کا اظہار اور ان کی پیروی کرنے کی ترغیب کا ذکر کرنا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿تمہارے لیے ابراہیم اور ان کے ساتھیوں میں ایک بہترین نمونہ ہے، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ہم تم سے اور ان چیزوں سے جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو، بالکل بیزار ہیں۔ ہم نے تمہارا انکار کیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بغض ظاہر ہو چکا ہے، یہاں تک کہ تم ایک اکیلے اللہ پر ایمان لے آؤ...﴾ [سورہ ممتحنہ : 4]۔ 4- اس بات کا بیان کہ شرک اور اہل شرک سے بغض رکھنے کا مطلب ان پر ظلم کرنا اور ان پر زیادتی کرنا نہیں ہے، بلکہ ان کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آنا چاہیے۔ 5- مشرکین سے براءت (بیزاری) کی کچھ صورتوں کا ذکر کرنا، جن میں شامل ہیں: ان سے بغض رکھنا، ان کے علاقوں سے ہجرت کرنا، ان کی مشابہت اختیار نہ کرنا، ان کے باطل پر ہونے کو بیان کرنا اور یہ بتانا کہ اسلام ہی سچا دین ہے۔
دین کے درج ذیل تین مراتب ہیں : اسلام، ایمان اور احسان۔ پہلا مرتبہ: اسلام۔
اسلام کا معنی: توحید کے ساتھ اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنا، اطاعت کے ساتھ اس کی فرماں برداری کرنا اور شرک اور اہل شرک سے بیزاری اختیار کرنا ہے۔
اسلام کے معنی کی تشریح:
اللہ کے آگے توحید کے ساتھ سرِ تسلیم خم کرنا: یعنی عبادت کو صرف اللہ کے لیے خاص کرنا۔
اطاعت کے ساتھ اس کی فرماں برداری کرنا: یعنی ان کاموں کو کرنا جن کا اللہ نے حکم دیا ہے اور ان کاموں کو چھوڑ دینا جن سے اس نے منع کیا ہے۔ اطاعت کے ذریعے اس کے آگے سرِ تسلیم خم کرنا (فرماں برداری کرنا): یعنی جن امور کا اللہ نے حکم دیا ہے ان پر عمل کرنا اور جن چیزوں سے منع فرمایا ہے انہیں ترک کر دینا۔
شرک اور اہل شرک سے براءت: یعنی شرک سے بغض رکھنا، اس کے باطل ہونے کا اعتقاد رکھنا اور مشرکین سے محبت نہ کرنا۔
* جو نیک اعمال کرے گا وہ دنیا میں خوش حالی اور اچھی زندگی سے بہرہ ور ہوگا اور آخرت میں ہمیشگی کی جنت میں داخل ہوگا۔
سوالات:
س1: (دین کے مراتب تین ہیں)، انہیں ترتیب وار لکھ کر مکمل کریں:
1-............... 2- ............... 3- احسان۔
س2: اسلام کے معنی ترتیب دیں اور اسے خالی جگہ میں لکھیں:
اور فرماں برداری، اور براءت، اور اس کے اہل، شرک سے، اللہ کے لیے توحید کے ساتھ، اس کے لیے اطاعت کے ساتھ۔
اسلام کے معنی ہیں : . . . . . . . . . . . سر تسلیم خم کرنا، . . . . . . . . . . .، . . . . . . . . . . .۔
س 3: درج ذیل الفاظ کو مناسب کالم میں لکھیں:
اللہ کو سجدہ - اللہ سے دعا - غیر اللہ سے دعا - غیر اللہ کو سجدہ - والدین کے ساتھ حسن سلوک - والدین کی نافرمانی۔
کچھ ایسے امور جن کا اللہ نے حکم دیا ہے
اللہ سے دعا
. . . . . . . . . . .
. . . . . . . . . . .
کچھ ایسے امور جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے غیر اللہ سے دعا . . . . . . . . . ..
. . . . . . . . . ..
تیسرا سبق [5]
[5] سبق کے مقاصد: - طالب علم ارکانِ اسلام کی دلیل بیان کرے۔ - طالب علم اسلام کے پانچ ارکان گنوائے۔ - طالب علم ان پانچ ارکان کی اہمیت واضح کرے۔
ارکان اسلام [6]
[6] استاد کے لیے: - اس بات کی وضاحت کہ یہ ارکان وہ بنیادیں ہیں جن کے بغیر دین قائم نہیں ہو سکتا، جیسا کہ کوئی بھی عمارت بنیادوں اور ستونوں کے بغیر کھڑی نہیں ہو سکتی۔ - اس بات کی وضاحت کہ اسلام کو مضبوطی سے تھامنے کا ایک ثمرہ مسلمان کی جان اور مال کی حفاظت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: "مجھے لوگوں سے اس وقت تک جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک کہ وہ لا إله إلا الله نہ کہہ دیں۔ پس جس نے لا إله إلا الله کہہ دیا اس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کر لی سوائے اس کے حق کے، اور اس کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔" اسے بخاری نے حدیث نمبر (2946) کے تحت روایت کیا ہے۔ - اس بات کی وضاحت کہ جنت میں داخلے اور جہنم سے نجات کا واحد سبب اسلام ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کے سوا کوئی اور دین قبول نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿اور جو کوئی اسلام کے سوا کوئی اور دین چاہے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔ [آل عمران: 85]۔ - ماضی اور حال میں اسلام قبول کرنے والے بعض افراد کے واقعات کا ذکر اور اس عظیم دین پر ان کی خوشی اور فخر کی حد کو بیان کرنا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا ہے : "ہم وہ قوم ہیں جسے اللہ نے اسلام کے ذریعے عزت بخشی۔ پس اگر ہم نے اس کے علاوہ کسی اور چیز میں عزت تلاش کی تو اللہ ہمیں ذلیل کر دے گا"۔
اسلام کے ارکان پانچ ہیں:
1- اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
2- نماز قائم کرنا۔
3- زکوٰۃ ادا کرنا۔
4- رمضان کے روزے رکھنا۔
5- بیت اللہ الحرام کا حج کرنا، اس شخص کے لیے جو وہاں تک جانے کی استطاعت رکھتا ہو۔
اس کی دلیل آپ ﷺ کا یہ فرمان ہے: "اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا"۔ [7]۔ [7] صحیح بخاری، کتاب الایمان حدیث نمبر:8 اور صحیح مسلم، کتاب الایمان (1/45)۔
* اسلام ہی جنت میں داخل ہونے اور جہنم سے نجات کا واحد ذریعہ ہے۔
سوالات:
س1: ارکانِ اسلام لکھ کر مکمل کریں:
1- اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
2- ................... 3- زکوٰۃ ادا کرنا ۔
4- ................... 5- ...............
س2: خالی جگہوں کو دیے گئے مناسب کلمات سے پر کریں:
(پانچ - اسلام - اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے - مسلم)۔
- اللہ کوئی دین قبول نہیں کرتا سوائے . . . . . . . . . . . .
- میں دن اور رات میں . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . نمازیں پڑھتا ہوں۔
- اسلام کا پہلا رکن . . . . . . . . . . . . . . . . اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
س 3: ارکانِ اسلام پر سنت سے دلیل بیان کریں۔
چوتھا سبق [8]
[8] سبق کے مقاصد: - طالب علم اسلام کے ارکان میں سے پہلا رکن بیان کرسکے۔ - طالب علم کلمۂ شہادت (لا الہ الا اللہ کی گواہی) پر دلیل پیش کرسکے۔ - طالب علم لا الہ الا اللہ کا معنی واضح کرسکے۔
پہلا رکن [9]
[9] استاد کے لیے: - اس بات کا بیان کہ جس نے لا إله إلّا الله کہا اور اس کے تقاضے پر عمل کیا، وہ جنت میں داخل ہوگا۔ - اس بات کا بیان کہ جس نے کوئی بھی عبادت جیسے دعا وغیرہ غیراللہ کی رضاجوئی کےلیے کی، وہ مشرک ہے، اگرچہ اس نے لا إله إلّا الله زبان سے ادا کیا ہو؛ کیونکہ توحید کا اصل مفہوم ہی ہے: بس ایک اللہ کی عبادت کرنا۔ - اس بات کا بیان کہ جنت کی چابی لا إله إلّا الله ہے۔ چوں کہ چابی کے لیے دندانوں کا ہونا ضروری ہے، لہذا جنت کی چابی کے دندانے احکامات کی پیروی کرنا اور منع کردہ چیزوں سے بچنا ہے۔ - اس بات کا بیان کہ کلمہ توحید (لا إله إلّا الله) سب سے افضل ذکر ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «أَفْضَلُ الذِّكْرِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ» (سب سے افضل ذکر لا إله إلّا الله ہے)۔ اسے ترمذی نے (3383) نمبر سے روایت کیا ہے۔ - اس بات کا بیان کہ سب سے پہلی چیز جس کی طرف کفار کو بلایا جائے گا، وہ اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث میں ہے کہ جب آپ نے معاذ - رضی اللہ عنہ - کو یمن کی طرف قاضی اور معلم بنا کر بھیجا تو ان سے فرمایا : «إِنَّكَ سَتَأْتِي قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الكِتَابِ فَإِذَا جِئْتَهُمْ فَادْعُهُمْ إِلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ» (بے شک تم اہل کتاب کی ایک قوم کے پاس جا رہے ہو۔ پس جب تم ان کے پاس پہنچو تو انہیں اس بات کی گواہی دینے کی دعوت دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے)۔ اسے بخاری نے حدیث نمبر(4347) کے تحت روایت کیا ہے۔ - اللہ کی طرف دعوت دینے کی فضیلت کا بیان۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: «لَئِنْ يَهْدِي اللهُ بِكَ رَجُلًا واحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمْ» (اگر اللہ تمہارے ذریعے ایک آدمی کو بھی ہدایت دے دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے)۔ اسے بخاری نے حدیث نمبر (3701) اور مسلم نے حدیث نمبر (2406) کے تحت روایت کیا ہے۔
( اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں )
1- اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔
کلمۂ توحید کی دلیل: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "اللہ تعالیٰ، فرشتے اور اہل علم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وه عدل کو قائم رکھنے واﻻ ہے، اس غالب اور حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے ﻻئق نہیں۔" [آل عمران: 18]۔
لا الہ الا اللہ کا معنی: اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے ۔
* سب سے افضل ذکر: لا الہ الا اللہ ہے۔
سوالات:
س1: ارکانِ اسلام میں پہلے رکن کے نیچے لکیر کھینچیں:
- نماز قائم کرنا۔
- رمضان کا روزہ۔
- زکوٰۃ ادا کرنا۔
- اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
- بیت اللہ الحرام کا حج کرنا، اس شخص کے لیے جو وہاں تک جانے کی استطاعت رکھتا ہو۔
سوال 2 : کلمۂ توحید کی گواہی کی دلیل پیش کریں۔
س3: لا الہ الا اللہ کا کیا معنی ہے؟
س 4: درج ذیل خالی جگہیں پُر کریں:
سب سے پہلے کفار کو جس چیز کی دعوت دی جائے گی . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
جنت کی کنجی . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
سوال 5: اپنی کلاس کے کچھ طلبہ کے ساتھ مل کر (لا إله إلّا الله) کہنے کی فضیلت پر ایک موضوع تیار کریں اور اسے اپنے ہم جماعتوں کے سامنے پیش کریں۔
پانچواں سبق: پہلے رکن کا تتمہ [10]
[10] سبق کے مقاصد: - طالب علم اس گواہی کی دلیل بیان کرے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ - طالب علم اس گواہی کا معنی واضح کرے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ - طالب علم رسول اللہ ﷺ کی مخالفت سے بچے۔
اس بات کی گواہی دینا کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں [11]
[11] استاد کے لیے: - رسول اللہ ﷺ کے احکامات کی اطاعت کا وجوب۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿...اور رسول جو کچھ تمہیں دیں اسے لے لو اور جس چیز سے تمہیں روکیں اس سے رک جاؤ...﴾ [الحشر: 7]۔ - رسول اللہ ﷺ کے ذریعے فراہم کی گئی اطلاعات اور ان غیبی امور کی تصدیق جن کے بارے میں آپ ﷺ نے بتایا ہے جیسے قیامت کا قیام، جنت اور جہنم وغیرہ۔ - رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی سے ڈرانا۔ چنانچہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے جہنمیوں کے بارے میں بتایا ہے کہ وہ اس معاملے میں اپنی کوتاہی پر نادم ہوں گے۔ ارشاد باری تعالی ہے : ﴿جس دن ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کیے جائیں گے، وہ کہیں گے: اے کاش! ہم نے اللہ کی اطاعت کی ہوتی اور ہم نے رسول کی اطاعت کی ہوتی۔﴾ [الأحزاب: 66]۔ - اللہ کی عبادت اسی طریقے پر کرنے کے وجوب کی تاکید جو اس نے مقرر کیا ہے۔ لہٰذا دین میں کوئی ایسی نئی چیز (بدعت) ایجاد نہ کی جائے جس کی اللہ نے اجازت نہ دی ہو۔ جیسے اسراء و معراج کا جشن منانے کی بدعت، عید میلاد النبی، یومِ مادر، اور اس جیسی دوسری بدعات۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: "اور ہر بدعت گمراہی ہے۔" اسے امام مسلم نے حدیث نمبر (867) کے تحت روایت کیا ہے۔ - اس بات کا بیان کہ رسول اللہ ﷺ سے سچی محبت آپ ﷺ کی اطاعت اور پیروی کا تقاضا کرتی ہے۔ - رسول اللہ ﷺ کی سیرت کے بعض مصادر، جیسے شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کی کتاب (مختصر سيرة الرسول ﷺ)، کا ذکر۔
اس گواہی کا مطلب کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں: آپ کے حکموں کی تعمیل کرنا، آپ کی دی ہوئی اطلاعات کی تصدیق کرنا، آپ کی منع کی ہوئی چيزوں سے دور رہنا[12] اور اللہ کی عبادت بس آپ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کرنا۔ [12] ڈانٹنا منع کرنے سے زیادہ موثر ہے۔
اس بات کی گواہی کی دلیل کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "(لوگو) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد ﷺ نہیں لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے، اور اللہ تعالی ہر چیز کا (بخوبی) جاننے واﻻ ہے۔" [الاحزاب: 40]۔
* رسول ﷺ سے سچی محبت آپ ﷺ کی اطاعت اور پیروی کا تقاضا کرتی ہے۔
سوالات:
س1: اس گواہی کا کیا مطلب ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں؟
سوال 2: مندرجہ ذیل خالی جگہیں پر کریں جیسا کہ پہلی سطر میں ہے:
الف - رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اللہ کی اطاعت کا حکم دیا اور ہمیں اس کی نافرمانی سے منع فرمایا۔
ب - رسول اللہ ﷺ نے ہمیں توحید کا حکم دیا اور ہمیں . . . . . . . . . . . سے منع فرمایا۔
ج - رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سچ بولنے کا حکم دیا اور ہمیں . . . . . . . . . . . سے منع فرمایا۔
س 3: اس گواہی کی دلیل بیان کریں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
س4: کالم (الف) کے ہر فقرے کو کالم (ب) میں اس کے مناسب حصے سے ملائیں:
اس گواہی کا مطلب کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں:
کالم (الف)
کالم (ب)
آپ ﷺ کی اطاعت
جس سے آپ نے نے منع کیا اور باز رکھا
اور اس کی تصدیق
جو آپ نے بتایا
اور اجتناب
اس کے مطابق جو اس نے مقرر کیا
اور یہ کہ اللہ کی عبادت نہ کی جائے مگر
جس کا حکم دیا۔
سوال 5: نبی محمد ﷺ کی سیرت پر کسی ایسی کتاب کا نام بتائیں جسے آپ اپنے ساتھیوں کو پڑھنے کا مشورہ دیں۔
چھٹا سبق [13]
[13] سبق کے مقاصد: - طالب علم اسلام کے دوسرے اور تیسرے رکن کو بیان کرے۔ - طالب علم وقت پر نماز ادا کرنے کی پابندی کرے۔ - طالب علم نماز اور زکوٰۃ کے وجوب کی دلیل بیان کرے۔
دوسرا اور تیسرا رکن [14]
[14] استاد کے لیے ضروری ہدایات: - وقت پر نماز کی پابندی کرنے کی ترغیب دی جائے اور نماز ترک کرنے والے کے کفر کو بیان کیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’ہمارے اور منافقین کے درمیان نماز کا معاہدہ ہے، تو جس نے نماز چھوڑدی اس نے کفر کیا‘‘۔ [مسند احمد: 5/346] - اس بات کی وضاحت کی جائے کہ زکاۃ مال میں برکت، اور فقرا و محتاجوں کے ساتھ ہمدردی کا سبب ہے اور یہ کہ زکاۃ کا روکنا آسمان سے بارش روکے جانے کے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔
دوسرا رکن: نماز قائم کرنا۔
تیسرا رکن: زکاۃ ادا کرنا
نماز قائم کرنے کا مطلب:
اللہ کی عبادت کے طور پر پانچ فرض نمازوں کو ان کے مقررہ اوقات میں نبی محمد ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ادا کرنا۔
زکوٰۃ ادا کرنے کا معنی:
مال کا ایک حصہ نکال کر اور اسے مستحقین کو دے کر اللہ کی عبادت کرنا۔
نماز اور زکوٰۃ کی دلیل۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "اور نمازوں کو قائم کرو اور زکوٰة دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔" [البقرہ: 43]۔
نماز یا زکوٰۃ کی فرضیت کا انکار کرنے والے کا حکم: وہ اللہ تعالیٰ کا کافر ہے۔
* میں وقت پر نماز ادا کرنے کی پابندی کرتا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ زکوٰۃ روکنا آسمان سے بارش رکنے کے اسباب میں سے ہے۔
سوالات:
سوال 1: کالم (الف) کے ہر فقرے کو کالم (ب) میں اس کے مناسب فقرے سے ملائیں:
کالم (الف)
کالم (ب)
نماز قائم کرنا
ارکانِ اسلام میں سے پہلا رکن
زکوٰۃ ادا کرنا
چوتھا رکن
اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں
دوسرا رکن
رمضان کے روزے
تیسرا رکن
سوال 2: نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کے وجوب کی دلیل بیان کریں۔
س۳: مندرجہ ذیل آیت میں وارد اسلام کے ارکان کے نیچے خط کشید کریں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا ہے کہ صرف اللہ کی عبادت کریں، اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں، ابراہیم حنیف کے دین پر اور نماز کو قائم رکھیں اور زکوٰة دیتے رہیں۔ یہی ہے دین سیدھی ملت کا۔" [البینة: 5]۔
س 4: اپنے بھائی کو دو سطور میں ایک خط لکھیں جس میں اسے نماز کی پابندی کی تلقین کریں۔
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
برادرم!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
ساتواں سبق [15]
[15] سبق کے مقاصد: - طالب علم ارکانِ اسلام میں سے چوتھا اور پانچواں رکن ذکر کرے۔ - طالب علم ماہِ رمضان کے روزوں کی فضیلت واضح کرے۔ - طالب علم روزے اور حج کے وجوب کی دلیل بیان کرے۔
چوتھا اور پانچواں رکن [16]
[16] استاد کے لیے: - ماہ رمضان کے روزے رکھنے کی ترغیب دے اور رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان سے حاصل ہونے والی اس کی فضیلت بیان کرے : "جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے گئے"۔ صحیح بخاری : 38 و صحیح مسلم : 760. - اس بات کی طرف اشارہ کرے کہ استطاعت ہونے پر زندگی میں ایک بار حج فرض ہے۔ - مسلمانوں کے دلوں میں موجود بیت اللہ الحرام کے مقام و مرتبہ کو بیان کرے۔
( رمضان کے روزے – بیت اللہ کا حج اس شخص کے لیے جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو )
روزے کا معنی:
طلوعِ فجر سے لے کر غروبِ آفتاب تک کھانے، پینے اور ان کے علاوہ دیگر چیزوں کو ترک کر کے اللہ کی عبادت کرنا۔
روزے کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔" [البقرة: 183]۔
حجِّ بیت اللہ کا معنی و مطلب:
اللہ تعالیٰ کی بندگی کے طور پر ایک مخصوص وقت میں مخصوص اعمال ادا کرنے کے لیے بیت الحرام کا قصد کر کے اللہ کی عبادت کرنا۔
حج کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر جو اس کی طرف راه پا سکتے ہوں اس گھر کا حج فرض کر دیا ہے۔" [آل عمران: 97]۔
روزے یا حج کی فرضیت کا انکار کرنے والے کا حکم: ایسا کرنے والا شخص اللہ تعالیٰ کا کافر ہے۔
* رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کو رمضان کے مہینے کی آمد کی خوش خبری دیا کرتے تھے اور انہیں بتاتے تھے کہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔
سوالات:
س 1: خالی جگہوں کو مناسب الفاظ سے پُر کریں۔
ارکانِ اسلام:
- پہلا رکن: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
- ............... : زکوٰۃ ادا کرنا۔
- دوسرا رکن: ...............
- چوتھا رکن: ...............
- ............... بیت اللہ الحرام کا حج۔
سوال 2: کالم (الف) کی عبارتوں کو کالم (ب) میں ان کے مناسب حصوں سے ملائیں:
کالم (الف)
کالم (ب)
مسلمان کس مہینے میں روزے کا فریضہ ادا کرتے ہیں؟
ذو القعدہ
مسلمان کس مہینے میں فریضہ حج ادا کرتے ہیں؟
رمضان
....................................
ذو الحجہ
س3: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے. اس (میں ہر کام) کے سر انجام دینے کو اپنے رب کے حکم سے فرشتے اور روح (جبرائیل) اترتے ہیں. یہ رات سراسر سلامتی کی ہوتی ہے اور فجر کے طلوع ہونے تک (رہتی ہے)۔" [القدر: 3-5]۔
أ- لیلۃ القدر کس مہینے میں ہوتی ہے؟
ب- لیلۃ القدر کی فضیلت بیان کریں۔
س 4: حج کی فرضیت پر کوئی دلیل بیان کریں۔
س5: کیا آپ نے رمضان میں روزہ داروں کے افطار میں حصہ لیا؟ آپ نے ایسا کیوں کیا؟
س 6: مسلمان پر کتنی مرتبہ حج کرنا فرض ہے؟
آٹھواں سبق [17]
[17] سبق کے مقاصد: - طالب علم ایمان کا مفہوم واضح کرے۔ - طالب علم ایمان کے چھ ارکان بیان کرے۔ - طالب علم ایمان کے ارکان میں سے کسی رکن کا انکار کرنے والے کا حکم بیان کرے۔
مراتبِ دین (دوسرا درجہ : ایمان) [18]
[18] استاد کے لیے: - دین کے مراتب کا ذکر کر کے موضوع کی تمہید باندھے۔ - ایمان کے چھ ارکان میں سے کسی ایک رکن کا انکار کرنے والے کا کفر بیان کرے۔ - کثرت سے نیک اعمال کرنے کی ترغیب دے؛ کیونکہ یہ ایمان میں اضافے اور اس کی مضبوطی کا سبب ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿مومن تو بس وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان پر اس کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ ان کے ایمان کو بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں 2﴾ [الأنفال: 2]۔ - گناہوں اور نافرمانیوں سے خبردار کرے؛ کیونکہ یہ ایمان میں کمی اور اس کی کمزوری کا سبب ہیں جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: "... اور چور جب چوری کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا"۔ صحیح بخاری : 5578۔ - اس بات پر کہ ایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے، ہمارے کسی سلف کے اس قول سے استدلال کرے : "جب ہم اپنے رب کا ذکر کرتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں تو یہ ایمان کا بڑھنا ہے اور جب ہم غفلت برتتے ہیں، بھول جاتے ہیں اور ضائع کرتے ہیں تو یہ اس کا گھٹنا ہے"۔
ایمان کا معنی:
دل میں عقیدہ رکھنا، زبان سے اقرار کرنا اور اعضا و جوارح سے عمل کرنا۔
ارکانِ ایمان:
1- یہ کہ آپ اللہ پر ایمان لائیں۔ 2- اس کے فرشتوں پر ایمان لائیں۔ 3- اس کی کتابوں پر ایمان لائیں۔
4- اس کے رسولوں پر ایمان لائیں۔ 5- آخرت کے دن پر ایمان لائیں۔ 6- تقدیر کے خیر وشر پر ایمان لائیں۔
* جس نے ان چھ ارکان میں سے کسی ایک رکن کا انکار کیا، اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا۔
* ایمان اطاعت سے بڑھتا ہے اور نافرمانی سے گھٹتا ہے۔
* میں ان نیک اعمال کو کرنے میں جلدی کرتا ہوں جو میرے ایمان کو بڑھاتے ہیں اور ان گناہوں کے کرنے سے بچتا ہوں جو میرے ایمان کو گھٹاتے ہیں۔
سوالات:
س1: ایمان کے کیا معنی ہیں؟
س 2: مناسب نمبر لگا کر ارکانِ ایمان کو ترتیب دیں۔
( ) یہ کہ تم اللہ پر ایمان لاؤ۔ ( ) اور اس کی کتابوں پر پر ایمان لاؤ۔ ( ) آخرت کے دن پر ایمان لاؤ۔
( ) اس کے فرشتوں پر ایمان لاؤ۔ ( ) اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ ( ) اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لاؤ۔
سوال 3: درج ذیل جدول میں تین ایسی نیکیاں لکھیں جو ایمان کو بڑھاتی ہیں اور تین ایسے گناہ لکھیں جو اسے گھٹاتے ہیں:
ایمان بڑھانے والی نیکیاں
ایمان کو گھٹانے والے گناہ
استغفار
جھوٹ
س4: درج ذیل خالی جگہیں پُر کریں:
ایمان دل سے اعتقاد، . . . . . . . . . . سے اقرار اور . . . . . . . . . . عمل کرنے کا نام ہے۔
- جس نے ایمان کے چھ ارکان میں سے کسی رکن کا انکار کیا، اس نے . . . . . . . . . . . . . . . . . .
نواں سبق [19]
[19] سبق کے مقاصد: - طالب علم اللہ پر ایمان کا مفہوم واضح کرے۔ - طالب علم عبادت کی کسی بھی قسم کو غیر اللہ کے لیے انجام دینے سے بچے۔ - طالب علم اللہ کے چند اسما اور صفات بیان کرے۔
پہلا رکن (اللہ تعالیٰ پر ایمان) [20]
[20] استاد کے لیے: - یہ واضح کرے کہ اللہ کو صرف ربوبیت میں اکیلا ماننا بندے کے اسلام میں داخل ہونے کے لیے کافی نہیں ہے، بلکہ اسے الوہیت میں بھی اکیلا ماننا ضروری ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے مشرکین ربوبیت کا اقرار کرتے تھے، لیکن اس اقرار نے انہیں اسلام میں داخل نہیں کیا، باوجود اس کے کہ وہ حج، عمرہ، حاجیوں کو پانی پلانے اور بیت اللہ کے طواف جیسی کئی عبادتیں کرتے تھے؛ کیونکہ وہ اللہ کے ساتھ شرک کرتے تھے، جس کی وجہ سے ان کے اعمال برباد ہو گئے تھے۔ - اس بات پر تنبیہ کرنا کہ جس نے اللہ کو الوہیت میں اکیلا نہیں مانا، وہ شرکِ اکبر میں مبتلا ہو گیا، جس پر اللہ تعالیٰ نے ایسی سزائیں مقرر کی ہیں جو کسی اور گناہ پر مقرر نہیں کیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿...بے شک جو اللہ کے ساتھ شرک کرے گا، یقیناً اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے اور اس کا ٹھکانا آگ ہے، اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔﴾ [المائدة: 72]۔ - مومن کی زندگی کی عظمت و شرافت اور کافر کی زندگی کی حقارت اور اس کا جانوروں کی زندگی کے مشابہ ہونا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿...اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ فائدے اٹھاتے ہیں اور اس طرح کھاتے ہیں جیسے چوپائے کھاتے ہیں، اور آگ ان کا ٹھکانا ہے﴾ [محمد: 12]۔ - اللہ کے ناموں اور اس کی صفات پر ایمان لانا ایمان میں اضافے کا سبب ہے۔ چنانچہ جو شخص یہ ایمان رکھتا ہے کہ اللہ خوب جاننے والا اور نگہبان ہے، اس کا دل اپنی تمام حرکات و سکنات میں اللہ کی نگرانی کے احساس سے بھر جاتا ہے۔ - یہ واضح کرے کہ اللہ کے کسی بھی نام اور صفت کا انکار کرنا کفر ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿...اور وہ رحمٰن کا انکار کرتے ہیں...﴾ [الرعد: 30]۔
اللہ پر ایمان کا معنی:
اللہ کو ربوبیت، الوہیت، اور اسما و صفات میں یکتا ماننا۔
اللہ کو ربوبیت میں اکیلا ماننے کا معنی:
یعنی: اس بات کا اقرار کرنا کہ اللہ ہی اکیلا خالق، رزاق اور مدبر ہے۔ ان تمام باتوں میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔
میں ایک مسلمان ہوں، میرا ایمان ہے کہ اللہ نے مجھے پیدا کیا ہے۔ اسی نے آسمانوں اور زمین کو اور انسانوں اور جنوں کو پیدا کیا ہے۔ کسی اور نے نہیں۔
میرا ایمان ہے کہ صرف اللہ ہی ہے جو لوگوں، پرندوں اور جانوروں کو رزق دیتا ہے۔ یہ سارے کام کوئی اور نہیں کر سکتا۔
میرا ایمان ہے کہ اللہ لوگوں کو ان کی موت کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا جیسا کہ اس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔ اس کے سوا کوئی ایسا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔
اللہ کو الوہیت میں یکتا ماننے کا معنی:
یعنی: عبادت کی تمام اقسام کو اکیلے اللہ کے لیے خاص کرنا۔ مثلا اللہ کے سوا کسی کو نہ پکارا جائے اور اللہ کے سوا کسی کے لیے ذبح نہ کیا جائے۔
میں مسلمان ہوں، میں اللہ کے لیے نماز پڑھتا ہوں۔ اس کے سوا کسی اور کے لیے نماز نہیں پڑھتا۔
میں اللہ کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی اور کو نہیں پکارتا۔
میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں اور اس کے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کرتا۔
اللہ کو اس کے اسما اور صفات میں یکتا ماننے کا معنی:
یعنی: اللہ کے اسما و صفات کو اسی طرح ثابت کرنا جس طرح قرآن وسنت میں وارد ہیں اور یہ ایمان رکھنا کہ اللہ کی مخلوقات میں کوئی بھی اس جیسا نہیں ہے۔
میں ایک مسلمان ہوں، اللہ کے تمام ناموں جیسے الرحمٰن، السمیع، القوی، اور العلیم وغیرہ پر ایمان رکھتا ہوں۔
میں اللہ کی تمام صفات رحمت، سماعت، قدرت، اور علم پر ایمان رکھتا ہوں۔
* میں ایک مومن ہوں۔ میں صرف اللہ کی عبادت کرتا ہوں۔
سوالات:
س 1: اللہ پر ایمان کا کیا مطلب ہے؟
س 2: اللہ کو الوہیت میں یکتا ماننے کا معنی واضح کریں؟
سوال 3: درج ذیل الفاظ کو ترتیب دیں، تاکہ اللہ کو ربوبیت میں یکتا ماننے کا معنی بن جائے:
( ) اکیلا، اس کے سوا کوئی نہیں ( ) تدبیر کرنے والا ( ) رزق دینے والا ( ) کہ اللہ ہی خالق ہے
اللہ کو ربوبیت میں یکتا ماننے کا معنی ہے: اس بات کا اقرار کرنا ہے کہ . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
سوال 4: درج ذیل آیات میں اللہ تعالیٰ کے اسما اور صفات کے نیچے لکیر کھینچیں:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "کیا وہی نہ جانے جس نے پیدا کیا ؟ جب کہ وه باریک بین اور باخبر بھی ہو؟" [الملک: 14]۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "بے شک اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک کام کرنے والوں کے نزدیک ہے۔" [الاعراف: 56]۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "آپ کہہ دیجیے کہ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے۔ میں تو صرف کھلے طور پر آگاه کر دینے واﻻ ہوں۔" [الملک: 26]۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "آپ کہہ دیجیے کہ وه اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے۔" [الاخلاص: 1]۔
سوال 5: سورۃ (الحشر) کا آخری حصہ پڑھیں اور اس سے اللہ تعالیٰ کے پانچ نام نکالیں:
. . . . . . .، . . . . . . . .، . . . . . . . .، . . . .. . .، . . . .. . .
س6: درج ذیل خالی جگہیں پُر کریں:
- میرا ایمان ہے کہ البصیر، اور الحی، اور . . . . . . . . . . ، اور العلیم وغیرہ اللہ تعالیٰ کے نام ہیں۔
یہاں اللہ کا ایک نام، جس کی صفت اگلی سطر میں بیان کی گئی ہے، وہ کیا ہے؟
- میرا ایمان ہے کہ بصارت، . . . . . . . . . . ، عزت اور علم وغیرہ اللہ تعالی کی صفات ہیں۔
یہاں پچھلی سطر میں اللہ کی ایک صفت کا ذکر کیا گیا ہے، وہ کیا ہے؟
دسواں سبق [21]
[21] سبق کے مقاصد: - طالب علم فرشتوں پر ایمان لانے کا معنی بیان کرے۔ - طالب علم فرشتوں پر ایمان لانے کی دلیل ذکر کرے۔ - طالب علم فرشتوں کے چند نام ذکر کرے۔ - طالب علم فرشتوں کا انکار کرنے والے کا حکم بیان کرے۔
دوسرا رکن (فرشتوں پر ایمان) [22]
[22] معلم کے لیے: - اس بات کا بیان کہ سب سے افضل فرشتہ (جبرائیل علیہ السلام) ہیں اور وہ اس وحی پر مقرر ہیں جو دلوں کو جلا بخشتی ہے، جب کہ (اسرافیل) صور پھونکنے پر مقرر ہیں اور (میکائیل) بارش پر مقرر ہیں۔ - فرشتوں کے بعض کاموں کا بیان اور ان پر ایمان لانے کے اثرات: 1- اعمال لکھنے پر مقرر فرشتے۔ ان کا یہ کام بندے پر لازم کرتا ہے کہ وہ کوئی ایسی بات نہ کہے یا ایسا کام نہ کرے جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو ناراض کرے۔ 2- بندے کی تمام حالتوں میں حفاظت پر مقرر فرشتے۔ ان فرشتوں کا یہ کام بنی آدم پر اللہ تعالیٰ کی عنایت پر اس کا شکر ادا کرنا لازم کرتا ہے۔ 3- بنی آدم کی روحیں قبض کرنے پر مقرر فرشتے۔ ان فرشتوں کا یہ کام نیک اعمال کے ذریعے آخرت کے دن کے لیے تیاری کو لازم کرتا ہے۔
فرشتوں پر ایمان کا معنی:
فرشتوں کے وجود اور اس بات پر پختہ یقین رکھنا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے انہیں اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ فرشتے اللہ کی حکم عدولی نہيں کرتے اور وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔
دلیل: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "رسول ایمان ﻻیا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان ﻻئے، یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے...۔" [سورۃ البقرة : 285]۔
فرشتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ان میں سے چند اہم نام یہ ہيں :
1- جبریل علیہ السلام۔
۲- میکائیل علیہ السلام
3- اور اسرافیل علیہ السلام۔
فرشتوں کا انکار کرنے والے کا حکم: ایسا کرنے والا اللہ تعالیٰ کا کافر ہے۔
* میرا ایمان ہے کہ کچھ فرشتے بندوں کے اچھے یا برے اعمال لکھتے ہیں۔
سوالات:
س1: ایمان کا ایک رکن (فرشتوں پر ایمان) ہے، تو اس کا کیا مطلب ہے؟
س 2: فرشتوں کے ناموں کے نیچے لکیر کھینچیں:
ابراہیم – جبریل – میکائیل – محمد – اسرافیل۔
س 3: کالم (الف) کے ہر فقرے کو کالم (ب) میں اس کے مناسب فقرے سے ملائیں۔
کالم (الف)
کالم (ب)
پختہ تصدیق
فرشتوں کی موجودگی میں
اور یہ کہ اللہ سبحانہ
اور وہ وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔
اور یہ کہ وہ اللہ کی حکم عدولی نہيں کرتے۔
اس نے انہیں اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔
س4: فرشتوں کی صفات میں سے دو صفات بیان کریں۔
س5: سب سے افضل فرشتہ کون ہے؟
گیارھواں سبق [23]
[23] سبق کے مقاصد: - طالب علم کتابوں اور رسولوں پر ایمان لانے کا مفہوم واضح کرے۔ - طالب علم یہ واضح کرے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ - طالب علم کتابوں اور رسولوں کا انکار کرنے والے کا حکم بیان کرے۔ - طالب علم یہ واضح کرے کہ قرآن اللہ نے محمد ﷺ پر نازل کیا ہے۔
تیسرا اور چوتھا رکن (کتابوں اور رسولوں پر ایمان) [24]
[24] استاد کے لیے: - لوگوں پر اللہ کی رحمت کا بیان کہ اس نے ان کی طرف رسول بھیجے اور ان کی ہدایت کے لیے کتابیں نازل کیں۔ - بعض کتابوں کا ذکر جو اللہ نے اپنے رسولوں پر نازل کیں، جیسے تورات اور انجیل، جن میں تحریف ہو چکی ہے، برخلاف قرآن کریم کے جس کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے لیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿إِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا ٱلذِّكۡرَ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ﴾ یعنی بلا شبہ ہم نے ہی اس ذکر کو نازل کیا ہے، اور ہم ہی اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ [الحجر: 9]۔ - قرآن کریم کی فضیلت کا بیان، اس کی تلاوت اور اسے حفظ کرنے کی ترغیب اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنے کا وجوب۔ - اس بات کا بیان کہ تمام رسولوں اور نبیوں پر ایمان لانا واجب ہے اور یہ کہ سب سے پہلے رسول نوح علیہ السلام ہیں، جب کہ سب سے آخری رسول محمد ﷺ ہیں۔ آپ ﷺ سب سے افضل رسول ہیں۔ نوح علیہ السلام اور محمد ﷺ کے درمیان انبیا کی ایک بڑی تعداد ہے، جن میں سے بعض کو ہم جانتے ہیں اور بعض کو ہم نہیں جانتے۔ - اس بات کا بیان کہ تمام رسول بشر اور مخلوق ہیں۔ ان کے پاس ربوبیت اور الوہیت کی کوئی خصوصیت موجود نہيں ہے۔ لہذا وہ غیب نہیں جانتے اور نہ ہی کائنات میں تصرف کا اختیار رکھتے ہیں۔ - اس بات کا بیان کہ جس نے نبوت کا دعویٰ کیا وہ کافر ہے، اور جس نے اس کی اس بات کی تصدیق کی وہ بھی کافر ہے۔ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ﴿مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَآ أَحَدٖ مِّن رِّجَالِكُمۡ وَلَٰكِن رَّسُولَ ٱللَّهِ وَخَاتَمَ ٱلنَّبِيِّـۧنَۗ وَكَانَ ٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٗا﴾ یعنی (لوگو) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد ﷺ نہیں لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے، اور اللہ تعالی ہر چیز کا (بخوبی) جاننے واﻻ ہے. [الأحزاب: 40]۔ - بعض انبیا اور ان کی قوموں کے قصوں کا ذکر۔ جیسے نوح اور ابراہیم علیہما السلام کا قصہ۔
کتابوں پر ایمان کا مطلب:
اس بات پر پختہ یقین کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت کے لیے اپنے رسولوں پر کتابیں نازل فرمائی ہیں۔
* سب سے عظیم کتاب: قرآن کریم ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔
رسولوں پر ایمان لانے کا معنی و مطلب:
اس بات کا پختہ یقین رکھنا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی طرف رسول بھیجے ہیں، جو اپنی بتائی ہوئی تمام باتوں میں سچے ہیں۔
* انبیا کی دعوت ایک ہے۔ وہ ہے : توحید کا حکم دینا اور شرک سے روکنا۔
* پہلے رسول نوح علیہ السلام ہیں اور آخری محمد ﷺ ہیں۔ ان دونوں کے درمیان انبیاء اور رسولوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔
ان میں سب سے افضل اولو العزم (عزیمت والے) رسول ہیں، جو کہ پانچ ہیں:
1- نوح علیہ السلام۔
2- ابراہیم علیہ السلام۔
3- موسیٰ علیہ السلام۔
4- عیسیٰ علیہ السلام۔
5- محمد ﷺ۔
کتابوں اور رسولوں پر ایمان لانے کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "رسول ایمان ﻻیا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان ﻻئے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے..." [سورۃ البقرة : 285]۔
* میں ایک مسلمان ہوں۔ قرآن سے محبت کرتا ہوں اور اسے پڑھتا ہوں، اس کی تعلیمات پر عمل کرتا ہوں اور تمام رسولوں سے محبت رکھتا ہوں؛ کیونکہ انہوں نے لوگوں کی ہدایت کے لیے کوشش کی۔
سوالات:
س1: خالی جگہوں کو مناسب الفاظ سے پر کریں:
عظیم ترین کتابیں: ............... ............... ...............
پہلے رسول: ............... ............... ...............
آخری رسول: ............... ............... ...............
س 2: انبیا کی دعوت ایک ہے۔ وہ کیا ہے؟
سوال 3: کتابوں اور رسولوں پر ایمان لانے کے وجوب کی دلیل بیان کریں۔
س4: کالم (الف) کو کالم (ب) کے مناسب حصے سے ملائیں:
اللہ کی جانب سے رسولوں پر اتاری گئی چند کتابیں:
کالم (الف)
کالم (ب)
قرآن کو اللہ نے ............ پر اتارا
عیسیٰ علیہ السلام
انجیل کو اللہ نے ........ پر نازل کیا
موسیٰ علیہ السلام
تورات کو اللہ نے ............. پر نازل کیا
محمد ﷺ۔
سوال 5: اپنے استاد کے ساتھ مل کر اولوالعزم رسولوں کے ناموں کو ان کی بعثت کی ترتیب کے مطابق ترتیب دیں۔
( ) عیسیٰ علیہ السلام۔ ( ) ابراہیم علیہ السلام۔ ( ) نوح علیہ السلام۔
( ) محمد ﷺ. ( ) موسیٰ علیہ السلام.
بارھواں سبق [25]
[25] سبق کے مقاصد: - طالب علم یومِ آخرت پر ایمان کا مفہوم واضح کرے۔ - طالب علم یومِ آخرت میں پیش آنے والے بعض واقعات کا ذکر کرے۔ - طالب علم یومِ آخرت کا انکار کرنے والے کا حکم بیان کرے۔
پانچواں رکن (یوم آخرت پر ایمان) [26]
[26] استاد کے لیے: - یہ بیان کرنا کہ آخرت کے دن کے بہت سے نام ہیں، جن میں سے کچھ یہ ہیں: (يوم القيامة - القارِعَة – الغاشِية - الواقِعة – الحاقَّة)۔ - قیامت کے دن کی تیاری کے لیے عبادتیں میں مصروف رہنے اور نوافل کا توشہ جمع کرنے کی ترغیب دینا۔ - یہ بیان کرنا کہ قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے۔ بندے سے اس کی قبر میں پوچھا جائے گا: تمہارا رب کون ہے؟ تمہارا دین کیا ہے؟ اور تمہارے نبی کون ہیں؟ پس جس نے ان کا جواب دیا اسے نعمتوں سے نوازا جائے گا اور جس نے جواب نہ دیا اسے دردناک عذاب دیا جائے گا۔ - حساب اور جزا کے لیے لوگوں کو ان کی قبروں سے نکالنے پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی عظمت اور اس کی قدرت کو بیان کرنا۔ - قیامت کے دن کی ہول ناکیوں میں سے کچھ کا ذکر کرنا: صور پھونکا جانا - سورج کا مخلوق کے قریب ہو جانا - اعمال ناموں کا اڑنا - کسی شخص کا اپنا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں لینا اور کسی کا بائیں ہاتھ میں لینا - پل صراط سے گزرنا۔ - جنت کی بعض نعمتوں اور اس میں داخلے کا سبب بننے والے اسباب کا ذکر کر کے جنت کی ترغیب دینا اور جہنم کے بعض عذابوں اور اس میں داخلے کا سبب بننے والے اسباب کا ذکر کر کے جہنم سے ڈرانا۔ - اللہ تعالیٰ سے جنت اور اس کے قریب کرنے والے ہر قول و عمل کا سوال کرنے اور جہنم اور اس کے قریب کرنے والے ہر قول و عمل سے اللہ کی پناہ مانگنے کی ترغیب دینا۔ - سورۃ التکویر، الانفطار اور الانشقاق کی تلاوت کرنا اور انہیں موضوع سے جوڑنا۔
یومِ آخرت پر ایمان کا معنی:
موت کے بعد پیش آنے والی ہر چیز پر پختہ یقین رکھنا جیسا کہ کتاب اور سنت میں آیا ہے۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "اور وه آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں۔" [البقرۃ: 4]۔
موت کے بعد جو کچھ واقع ہوتا ہے اس میں سے چند امور اس طرح ہیں :
1- بندے سے اس کی قبر میں تین بنیادی اصولوں کے بارے میں سوال، جو اس طرح ہیں:
(تمہارا رب کون ہے؟ تمہارا دین کیا ہے؟ تمہارے نبی کون ہیں؟)
2- قبر کی نعمتیں اور اس کا عذاب۔
3- بعث: یعنی لوگوں کو حساب اور جزا کے لیے ان کی قبروں سے نکالنا، یہاں تک کہ اہل جنت، جنت میں اور اہل جہنم، جہنم میں داخل ہو جائیں۔
4- اعمال کا حساب۔
یومِ آخرت کا انکار کرنے والے کا حکم: ایسا کرنے والا اللہ تعالیٰ کا کافر ہے۔
* میں ایک مسلمان ہوں۔ نیک اعمال کے ذریعے آخرت کے دن کی تیاری کرتا ہوں۔
سوالات:
س 1: درج ذیل عبارت کو مکمل کریں:
یومِ آخرت پر ایمان: ہر اس چیز کی پختہ تصدیق ہے جو واقع ہوگی . . . . . . . . . . . . . . .
س 2: موت کے بعد پیش آنے والی دو چیزوں کا ذکر کریں۔
س 3: مندرجہ ذیل کو ترتیب دیں تاکہ بعث کا معنی بن جائے:
حساب اور جزا کے لیے - یہاں تک کہ اہلِ جنت جنت میں داخل ہو جائیں - اپنی قبروں سے - اور اہلِ
جہنم جہنم میں۔
بعث یہ ہے: لوگوں کو نکالنا . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
س 4: خالی جگہوں کو مناسب الفاظ سے پُر کریں:
قیامت کے دن کے کچھ نام اس طرح ہیں : القارعۃ، . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
سوال 5: موت کے بعد پیش آنے والے واقعات میں سے ایک یہ ہے کہ بندے سے اس کی قبر میں تین چیزوں کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔ ان تین چیزوں کا ذکر کریں۔
تیرھواں سبق [27]
[27] سبق کے مقاصد: - طالب علم تقدیر پر ایمان کا مفہوم بیان کرے۔ - طالب علم تقدیر کا انکار کرنے والے کا حکم بیان کرے۔ - طالب علم اس بات کی دلیل بیان کرے کہ اللہ نے ہر چیز کو تقدیر کے مطابق پیدا کیا ہے۔
چھٹا رکن (تقدیر کے خیر و شر پر ایمان لانا) [28]
[28] معلم کے لیے: - اللہ کی قضا اور قدر کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا واجب ہے، کیونکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: "اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے ہی تقدیریں لکھ دی تھیں"۔ ترمذی : 2156۔ - مصیبتوں کے وقت صبر کرنا واجب ہے، جیسے کسی عزیز کی وفات، مال کا نقصان، جسمانی بیماری یا اس جیسی دیگر مصیبتیں۔ - اس بات کا بیان کہ صبر اللہ کی طرف سے اجر پانے کا سبب ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : "کسی بھی مسلمان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے، خواہ وہ ایک کانٹا چبھنے کی ہو یا اس سے زیادہ، تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے گناہ اس طرح جھاڑ دیتا ہے جیسے درخت اپنے پتے جھاڑتا ہے۔" صحیح بخاری : 5648 اور صحیح مسلم : 2571۔ - اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی ترغیب اور یہ کہ یہ نعمتوں میں اضافے کا سبب ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا ہے : ﴿...اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں ضرور زیادہ دوں گا...﴾ [ابراہیم: 7]۔
اچھی اور بری تقدیر پر ایمان کا مطلب:
اس بات پر پختہ یقین کہ جو کچھ بھی خیر و شر پیش آتا ہے وہ اللہ کی قضا اور قدر سے پیش آتا ہے۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک (مقرره) اندازے پر پیدا کیا ہے۔" [القمر: 49].
تقدیر کا انکار کرنے والا اللہ کے ساتھ کفر کا مرتکب ہے۔
* میں مصیبت کے وقت یہ دعا پڑھتا ہوں : "إنَّا للهِ وإنَّا إليه راجِعُون، اللَّهم أجِرْني في مُصِيبَتي، وأخلفني خَيْرًا مِنها"۔ یعنی: بے شک ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اے اللہ! مجھے میری مصیبت کا اجر دے اور مجھے اس کا بہتر بدل عطا فرما۔
سوالات:
س1: اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لانے کا کیا مطلب ہے؟
س2: تقدیر پر ایمان کی دلیل بیان کریں۔
س3: درج ذیل الفاظ میں سے مناسب الفاظ سے خالی جگہیں پر کریں:
(شکر - کافر - اجر - صبر - نعمتیں – بے صبری)..
1- مصیبت کے وقت میرا فرض . . . . . . . . . . . . . . . . .. . . . . . . . . . . .
2- نعمت کے وقت میرا فرض . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
3- جس نے ایمان کے چھ ارکان میں سے کسی رکن کا انکار کیا تو وہ . . . . . . . . . . . . . . . . .
4- صبر . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . حاصل کرنے کا سبب ہے۔
5- اللہ کا شکر . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . میں اضافے کا سبب ہے۔
چودھواں سبق [29]
[29] سبق کے مقاصد: - طالب علم احسان کا معنی واضح کرے۔ - طالب علم احسان کی دلیل بیان کرے۔ - طالب علم اخلاص کے ساتھ عبادت ادا کرے۔
تیسرا درجہ : احسان [30]
[30] معلم کے لیے: - یہ بیان کرنا کہ احسان عبادت کو ظاہری اور باطنی طور پر مکمل کرنے کا نام ہے اور یہ اخلاص کی انتہا ہے۔ - احسان پر دلالت کرنے والے کچھ قصوں کا ذکر: جیسے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قصہ جب انہوں نے ایک چرواہے کو آزمانا چاہا تو اس سے فرمایا : مجھے ایک بکری بیچ دو، تو اس نے کہا: میں ایک غلام ہوں۔ آپ نے فرمایا: اپنے آقا سے کہہ دینا: اسے بھیڑیا کھا گیا، اس نے کہا: تو پھر اللہ کہاں ہے؟ تو عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے، پھر اسے خریدا اور آزاد کر دیا اور فرمایا: تیری اس بات نے تجھے دنیا میں آزاد کر دیا اور مجھے امید ہے کہ یہ تجھے آخرت میں بھی آزاد کرائے گا۔ اس بارے میں مزید جاننے کے لیے دیکھیں: ذہبی رحمہ اللہ کی کتاب (سیر أعلام النبلاء)۔ اسی طرح غار والوں کا قصہ۔ دیکھیں: صحیح بخاری : 2272، اور صحیح مسلم :2743۔ - احسان کے درجے تک صرف وہی پہنچ سکتا ہے جو مسلم اور مومن ہو۔ - سیکھنے والوں کے دلوں میں اخلاص کے ساتھ عبادت ادا کرنے کے شوق کو پروان چڑھانا۔
احسان کے معنی:
تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو۔ پس اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو تو جان لو کہ وہ یقیناً تمہیں دیکھ رہا ہے۔
احسان دین کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں اور نیک کاروں کے ساتھ ہے۔" [النحل: 128]۔
* میں ایک مسلمان ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ اللہ مجھے سنتا اور دیکھتا ہے۔ لہذا میں گانے سن کر یا برائیوں کو دیکھ کر اس کی نافرمانی نہیں کرتا۔
سوالات:
س1: دین کے تین مراتب ہیں۔ ان میں سب سے اعلیٰ مرتبہ کون سا ہے؟
س 2: احسان کی تعریف کریں اور اس کی دلیل بھی ذکر کریں۔
س3: خالی جگہوں کو مناسب کلمات سے پر کریں:
( نگرانی ، وہ اسے دیکھتا ہے، پوشیدہ نہیں ).
- زید نے اچھے انداز میں نماز ادا کی کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ اللہ .....................................
- علی وہ چیز نہیں لیتا جو اس کی نہیں ہے، کیونکہ وہ اپنے لیے اللہ کی . . . . . . . . . . . . . . کو جانتا ہے۔
- عمر بات چیت میں سچ بولتا ہے اور جھوٹ نہیں بولتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ سے کوئی چیز . . . . . . . . ۔
یہ کتاب تیسرے درجے کے تیار شدہ فقہ کے مضمون کی تشریح کرتی ہے، جس میں بنیادی موضوعات کے ایک مجموعے، جیسے قضاے حاجت کے آداب، وضو، تیمم، نماز کی شرائط اور اس کے ارکان اور اس کے ساتھ ہی نجاست اور اس کے ازالے کی شرائط وغیرہ کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس کتاب کا مقصد طلبہ کو فقہ کے صحیح اصول سکھانا اور اسلامی شریعت کے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے ان کا درست طریقے سے اطلاق کرنا ہے۔
عنوان: تعلیمی نصاب، علم فقہ، درجہ (سوم)۔
مختصر تعارف: یہ علمی مواد مملکت سعودی عرب میں طلبہ کے لیے مقرر کردہ تعلیمی نصاب کی تہذیب اور خلاصہ سمجھا جاتا ہے، جو کئی درجات پر منقسم ہے۔ اس مواد کے ضمن میں علم فقہ کے مطالعہ سے متعلق حصہ بھی شامل ہے، جو بارہ (12) درجات میں منقسم ہے۔ تیسرے درجے میں شامل اہم ترین موضوعات اور مسائل درج ذیل ہیں:
1- قضائے حاجت کے آداب پر گفتگو، استنجا و استجمار کے معنی کا بیان اور نجاست زائل کرنے کے طریقے کی وضاحت۔
2- وضو کی شرائط اور اس کے فرائض کا بیان۔
3- تیمم کا طریقہ اور اسے باطل کر دینے والی چيزوں کا بیان۔
4- فرض نمازوں کے اوقات، شرائط، ارکان اور واجبات کا بیان۔
تیسرا درجہ
پہلا سبق [1]
[1] معلم کے لیے: - قبلہ کا مقام اور قرآن مجید کا احترام بیان کرنا۔ - راستوں اور عوامی سہولیات کا خیال رکھنے کا شعور بیدار کرنا۔ - قضائے حاجت کے وقت ستر چھپانے کی تاکید کرنا۔ - نفع بخش سائے کا مطلب واضح کرنا۔ یعنی وہ جگہ جہاں لوگ سایہ حاصل کرتے ہیں اور وہاں بیٹھنے کے عادی ہوتے ہیں۔ - لوگوں کے راستے کا مطلب واضح کرنا۔ یعنی وہ راستہ جس پر لوگ چلتے ہیں۔ - لوگوں کے راستوں میں قضائے حاجت کے حرام ہونے کی حکمت بیان کرنا؛ کیونکہ اس سے انہیں تکلیف ہوتی ہے۔ اسی طرح پھل دار درخت کے نیچے قضائے حاجت کی حرمت کی حکمت بیان کرنا؛ کیونکہ اس سے درخت گندا ہوتا ہے اور طبیعت اس سے کراہت محسوس کرتی ہے۔
قضائے حاجت کے آداب [2]
[2] سبق کے مقاصد: - طالب علم قضائے حاجت کے آداب بیان کرے۔ - طالب علم ان جگہوں کی نشان دہی کرے جہاں قضائے حاجت حرام ہے۔ - طالب علم بیت الخلاء میں داخل ہونے اور باہر نکلنے کی دعا بیان کرے۔
قضائے حاجت کے وقت مسلمان کو جن امور کی رعایت کرنی چاہیے، وہ یہ ہیں:
1- بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت اپنا بایاں پاؤں آگے رکھے اور داخل ہونے سے پہلے کہے: (اے اللہ! میں خبیث جنوں اور خبیث جنیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں)۔
اور نکلتے وقت اپنا دایاں پاؤں آگے رکھے اور کہے: (غُفْرانَك)۔
2- مصحف یا کسی ایسی چیز کے ساتھ داخل ہونے سے پرہیز کرے جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہو۔
3- لوگوں کی نگاہ سے اوجھل ہوکر قضائے حاجت کرے۔
4- قبلہ کی طرف رخ اور پشت کرنے سے اجتناب کرے۔
5- قضائے حاجت کے دوران بات نہ کرے۔
وہ جگہیں جہاں قضائے حاجت کرنا حرام ہے:
1- لوگوں کا راستہ۔
2- ٹھہرا ہوا پانی۔
3- فائدہ مند سایہ۔
4- پھل دار درخت کے نیچے۔
ان مقامات پر قضائے حاجت حرام ہونے کی حکمت:
1- یہ لوگوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔
2- یہ بیماریوں کے پھیلاؤ اور بدبو کا باعث بنتی ہے۔
سوالات:
س 1: درج ذیل عبارتوں مکمل کریں:
الف- جب میں بیت الخلاء میں داخل ہوتا ہوں تو اپنا .................................... پاؤں آگے رکھتا ہوں اور جب باہر نکلتا ہوں تو اپنا .................................... پاؤں آگے رکھتا ہوں۔
ب- میں بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت کہتا ہوں ..............................، اور باہر نکلنے کے بعد کہتا ہوں .........................
س 2: ان جگہوں کے نیچے (×) کا نشان لگائیں جہاں قضائے حاجت کرنا حرام ہے:
( ) لوگوں کا راستہ۔ ( ) درخت۔ ( ) صحرا۔
س3: درست جواب کا انتخاب کریں:
الف- میں قضائے حاجت کے وقت لوگوں کی نظروں سے پردہ کرتا ہوں۔
( ) کیونکہ لوگوں کے سامنے ستر کھولنا حرام ہے۔
( ) کپڑے کی صفائی کے لیے۔
( ) تاکہ کپڑے کو نجاست نہ لگے۔
ب- میں داخل ہوتے وقت بایاں پاؤں آگے رکھتا ہوں:
( ) گھر۔ ( ) غسل خانہ۔ ( ) مسجد۔
س4: میں قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف نہ رخ کرتا ہوں اور نہ پشت۔
وجہ .................................... ....................................
س 5: میں چند ایسے مقامات بیان کرتا ہوں جن میں قضائے حاجت کرنا جائز ہے:
1-.................................... 2-.................................... 3-....................................
دوسرا سبق [3]
[3] استاد کے لیے: - طلبہ کو بیت الخلاء میں داخل ہونے اور نکلنے کی دعا یاد دلائیں، اور انہیں اسے پڑھنے کی پابندی کی ترغیب دیں۔ - ہڈیوں اور گوبر سے استنجا کرنے کی ممانعت کی حکمت بیان کریں، کیونکہ ہڈیاں جنات کی خوراک ہیں اور گوبر ان کے جانوروں کی خوراک ہے۔ - طلبہ کو ان اوراق کے احترام کی ترغیب دیں جن میں اللہ کا ذکر ہو، جیسے کتابیں، مصاحف اور رسالے وغیرہ اور انہیں ہر قسم کی توہین سے بچنے کی تاکید کریں۔ - اس بات پر زور دیں کہ اگر ڈھیلے یا پتھر سے استنجا کی شرائط میں سے کوئی شرط پوری نہ ہو تو پانی سے استنجا کرنا واجب ہے۔ - یہ واضح کریں کہ بہترین صورت ڈھیلے یا پتھر اور پانی دونوں سے استنجا کر لینا ہے۔ - طلبہ کو استنجا یا استجمار کے وقت بایاں ہاتھ استعمال کرنے کی ترغیب دیں۔
استنجا اور استجمار [4]
[4] سبق کے مقاصد: - طالب علم استنجا اور استجمار کے درمیان فرق کر سکے۔ - طالب علم ان چیزوں کو بیان کر سکے جن سے استجمار کرنا جائز نہیں ہے۔ - طالب علم استجمار کے صحیح ہونے کی شرطیں بتا سکے۔ - طالب علم ہر اس چیز کا احترام کرے جس میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا ذکر ہو۔
انسان پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت یہ ہے کہ اس نے اس کے جسم کو ایسے اعضا عطا کیے ہیں جو جسم کو نقصان پہنچانے والے مادوں جیسے پیشاب اور پاخانہ کو خارج کرتے ہیں اور اس پر ان کو زائل کرنا اور ان کے نکلنے کی جگہ کو دو طریقوں میں سے کسی ایک طریقے سے صاف کرنا واجب قرار دیا ہے۔ دونوں طریقے یہ ہیں:
- استنجا : اس سے مراد پیشاب اور پاخانے کے راستے کو پاک پانی سے اس طرح دھو لینا ہے کہ نجاست دور ہو جائے۔
- استجمار: اس سے مراد پیشاب اور پاخانے کی جگہ کو پتھروں یا ٹشو پیپر سے اس طرح پونچھ لینا ہے کہ نجاست زائل ہو جائے۔
وہ چیزیں جن سے استجمار کرنا جائز ہے، یہ ہیں:
ہر صاف کرنے والی، پاک اور مباح چیز؛ جیسے پتھر، رومال اور کاغذ وغیرہ۔
وہ چیزیں جن سے استجمار کرنا حرام ہے، یہ ہیں:
1- وہ کاغذ جس میں اللہ کا ذکر ہو۔
2- ہڈیاں۔
3- کھانے کی چيزيں۔
4- گوبر (جانوروں کا فضلہ جیسے اونٹ، بھیڑ بکریاں، گائے، وغیرہ)۔
استجمار کے صحیح ہونے کی شرطیں :
1- جس چیز سے استجمار کیا جائے وہ صاف کرنے والی، پاک اور مباح ہو۔
2- مخرج (پیشاب اور پاخانے کی جگہ) کو تین بار اس طرح پونچھ لیا جائے کہ صفائی ہو جائے۔ اگر نجاست دور نہ ہو تو تین بار سے زائد پونچھا جائے۔
3- پیشاب یا پاخانہ اپنے نکلنے کی جگہ سے نہ پھیلے۔
سوالات:
س 1: درج ذیل عبارتوں کو مکمل کریں:
الف- استنجا : اسے مراد ہے .............................................................................................
ب- استجمار: اس سے مراد ہے .....................................................................................................
س2: ان چیزوں پر (×) کا نشان لگائیں جن سے استجمار جائز نہیں ہے:
( ) ہڈیاں- ( ) پتھر - ( ) کھانا - ( ) ٹشو - ( ) گوبر
س3: استجمار کی شرطیں بیان کریں:
1-....................................2- .................................... 3- .............................
س4: ایک نوجوان اپنے گھر والوں کے ساتھ صحرائی تفریح پر گیا اور قضائے حاجت کے بعد روزنامہ اخبار کے اوراق سے استجمار کیا۔ کیا نوجوان کا یہ عمل صحیح ہے یا غلط؟ اور کیوں؟
................................................................................................................................
س5: ان چیزوں کو بیان کریں جن سے استجمار جائز ہے۔
س6: درج ذیل میں (/) کا نشان اور (×) کا نشان لگائیں:
- میں پیشاب کی جگہ کو ٹشو سے صرف دو مرتبہ صاف کرتا ہوں ( )
- ہڈیوں سے استجمار جائز ہے ( )
س7: مناسب الفاظ سے خالی جگہ پر کریں:
- بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت میں کہتا ہوں .........................................................
- بیت الخلاء سے نکلتے وقت میں کہتا ہوں .....................................................
- میں استنجاء و استجمار کے وقت اپنا ............................... ہاتھ استعمال کرتا ہوں۔
س8: آپ بیت الخلاء میں داخل ہوئے اور قضائے حاجت کے بعد آپ کو معلوم ہوا کہ بیت الخلاء میں پانی نہیں ہے؛ تو آپ کیا کریں گے؟
.......................................................................................................................
تیسرا سبق [5]
[5] معلم کے لیے: - قضائے حاجت کے وقت جلد بازی نہ کرنے اور نجاست پھیلنے سے بچنے کی تاکید کرنا۔ - طلبہ کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے گھروں، نماز پڑھنے کی جگہوں اور ان فرشوں کا احترام پیدا کرنا جن پر نماز ادا کی جاتی ہے۔ - اس بات کو واضح کرنا کہ دینِ اسلام صفائی کا دین ہے۔
گندگی دور کرنا [6]
درج ذیل تین چیزوں سے پیشاب اور پاخانہ وغیرہ کو دور کرنا واجب ہے : [6] سبق کے مقاصد: - طالب علم ان چیزوں کا ذکر کرے جن سے نجاست دور کی جاتی ہے۔ - طالب علم اپنے جسم، اپنے کپڑوں اور نماز کی جگہ کی صفائی کا خیال رکھے۔
1- بدن۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "اور اللہ تعالیٰ خوب پاک ہونے والوں کو پسند کرتا ہے۔" [سورہ توبہ : 108].
2- کپڑے:
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "اپنے کپڑوں کو پاک رکھا کر." [سورہ مدثر: 4]۔
3- وہ جگہ جہاں نماز پڑھی جائے:
اس کی دلیل نبی ﷺ کا یہ فرمان ہے: "بے شک یہ مسجدیں پیشاب اور گندگی جیسی کسی چیز کے لیے مناسب نہیں ہیں"۔[7] [7] صحیح مسلم : 285۔
سوالات:
س1: نجاست تین چیزوں سے دور کی جاتی ہے۔ بتائيں کہ وہ کیا کیا ہیں؟
1-.................................... 2-................................ 3- ....................................
س 2: اگر آپ کے کپڑے پر نجاست لگ جائے تو آپ کیا کریں گے؟
..............................................................................................................................
س3: کالم (الف) کی عبارتوں کو کالم (ب) میں ان کے مناسب الفاظ سے ملائیں:
کالم (الف)
کالم (ب)
جگہ
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے: ﴿اور اللہ پاکیزگی اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے﴾
بدن
نبی ﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے: "بے شک یہ مسجدیں پیشاب اور گندگی جیسی کسی چیز کے لیے مناسب نہیں ہیں۔"
کپڑے
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے: ﴿اور اپنے کپڑے پاک رکھو۔﴾
س4: ناپاک جگہ پر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ ........................................................
س5: درست جواب کا انتخاب کریں:
- میں اپنے کپڑے سے نجاست دور کرنے کے لیے استعمال کرتا ہوں:
( ) مٹی. ( ) پانی. ( ) پتھر.
چوتھا سبق [8]
[8] معلم کے لیے: - یہ بیان کرنا کہ وضو اور نماز کے وقت زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنا بدعت ہے اور سے بچنا ضروری ہے، جیسے بعض لوگوں کا یہ کہنا: (میں نے فجر کی نماز کے لیے وضو کرنے کی نیت کی)، یا (میں نے فجر کی نماز پڑھنے کی نیت کی)۔ - پاک کرنے والے پانی (ماء طہور) کی اقسام کی مثالیں دینا؛ جیسے سمندر، چشمے اور دریا۔ - اس بات پر متنبہ کرنا کہ جلد تک پانی پہنچنے سے روکنے والی چیزوں جیسے مٹی، گوندھا ہوا آٹا، موم یا اس جیسی دیگر چیزوں کو ہٹانا واجب ہے۔ البتہ مہندی اور اس جیسی چیزوں کی کوئی ایسی تہہ نہیں ہوتی جو جلد تک پانی پہنچنے میں رکاوٹ بنے۔ - یہ بیان کرنا کہ شرط عبادت کی ادائیگی سے پہلے ہوتی ہے۔ - وضو کی فضیلت بیان کرنا، نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "بلاشبہ میری امت کو قیامت کے دن اس حال میں بلایا جائے گا کہ وضو کے اثرات کی وجہ سے ان کے چہرے اور ہاتھ پاؤں چمک رہے ہوں گے۔ لہٰذا تم میں سے جو کوئی اپنی چمک کو بڑھا سکتا ہے تو وہ ایسا کرے۔" صحیح بخاری : 136۔ (غُرًّا): غرہ کے اصل معنی گھوڑے کی پیشانی پر موجود سفید چمک کے ہيں۔ پھر اسے خوب صورتی، شہرت اور نیک نامی کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔ یہاں اس سے مراد وہ نور ہے جو امت محمدیہ کے چہروں پر ہوگا۔ (مُـحَجَّلِين): تحجیل: وہ سفیدی جو گھوڑے کی ٹانگوں میں سے تین ٹانگوں پر ہوتی ہے۔ یہاں اس سے مراد بھی نور ہے۔ - بدعت کا مفہوم بیان کرنا۔ بدعت سے مراد ہر وہ عبادت ہے جسے لوگوں نے ایجاد کر لی ہو اور اس کی کوئی اصل نہ تو کتاب (قرآن) میں ہو، نہ سنت میں، اور نہ ہی خلفائے راشدین کے عمل میں۔
وضو کے شرطیں [9]
[9] سبق کے مقاصد: - طالب علم وضو کے صحیح ہونے کی شرطیں گنوا سکے۔ - طالب علم نیت کی جگہ کا تعین کر سکے۔ - طالب علم وضو کے پانی کی شرط بیان کر سکے۔ - طالب علم ہر اس چیز سے بچے جو پانی کو جلد تک پہنچنے سے روکتی ہو۔
مندرجہ ذیل شرطوں کے بغیر وضو درست نہیں ہوتا:
1- نیت۔ نیت کی جگہ دل ہے۔ اسے زبان سے ادا کرنا بدعت ہے۔ اس کی دلیل آپ ﷺ کا یہ فرمان ہے: "اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔"
2- پانی پاک اور مباح ہو۔
3- چمڑی تک پانی پہنچنے میں جو چیز بھی مانع ہو اسے دور کرنا جیسے نیل پالش، گوند اور آٹا وغیرہ۔
سوالات:
س1: درج ذیل عبارتوں کو مکمل کریں:
الف- وضو کی ایک شرط نیت کرنا ہے اور اس کی جگہ ..................................................
ب- جس پانی سے ہم وضو کرتے ہیں ، اس کے لیے شرط ہے کہ وہ .............................. اور ......................... ہو۔
ج- ان چیزوں میں جو پانی کو جلد تک پہنچنے سے روکتی ہیں .............................. اور ......................... شامل ہیں۔
س2: کسی شاعر نے کہا ہے :
اے میرے بیٹے پاک پانی سے وضو کرو ***** کیونکہ وضو کا پانی تمہارے چہرے کے لیے نور ہے
اوپر بیان کیا گیا شعر پڑھیں اور مندرجہ ذیل سوالات کے جواب دیں:
الف- شعر میں وضو کے صحیح ہونے کی شرطوں میں سے ایک شرط بیان ہوئی ہے اور وہ ہے .....................................
ب- چہرے پر وضو کا کیا اثر ہوتا ہے؟
س3: مناسب کلمہ ( سے پہلے اور کے بعد) کے ذریعہ جواب دیں:
شرط عبادت کی ادائیگی ........................... ہوتی ہے۔
س4: درج ذیل پر (/) کا نشان اور (×) کا نشان لگائیں:
- گوندھا ہوا آٹا پانی کو جلد تک پہنچنے سے روکتا ہے ( )۔
- موم چمڑی تک پانی پہنچنے میں مانع نہیں ہوتا ہے ( )۔
س5: مناسب جواب کا انتخاب کریں:
الف- وضو کے پانی کے لیے شرط ہے کہ وہ :
( ) پاک ہو ( ) صاف ہو۔ ( ) میٹھا ہو۔
ب- وضو کی ایک شرط ہے:
( ) وقت کا داخل ہونا۔ ( ) قبلہ کی طرف رخ کرنا۔ ( ) نیت کرنا۔
پانچواں سبق [10]
[10] استاد کے لیے: - یہ واضح کرنا کہ وضو کے اعضا کو ایک ایک بار دھونا واجب ہے، جب کہ اس سے زیادہ سنت ہے۔ - یہ واضح کرنا کہ اللہ پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ - طلبہ کو پانی کے اسراف سے بچنے پر متنبہ کرنا؛ کیونکہ یہ ایک نعمت ہے جس کی حفاظت کرنا ضروری ہے۔ - یہ واضح کرنا کہ اعضا کو تین تین بار دھونا سنت ہے، جب کہ سر اور کانوں کا مسح ایک بار کرنا ہے۔ - مضمضہ، استنشاق اور استنثار کے معنی کی وضاحت کرنا۔ (مضمضہ): یعنی منہ میں پانی ڈال کر اسے حرکت دینا۔ (استنشاق): یعنی ناک میں پانی داخل کرنا اور اسے سانس کے ذریعے اوپر کھینچنا، تاکہ ناک کے اندر کی گندگی دور ہو جائے۔ (استنثار): یعنی استنشاق کے بعد سانس کے ذریعے ناک سے پانی باہر نکالنا یا ناک جھاڑنا۔ - یہ واضح کرنا کہ موالات کا مطلب یہ ہے کہ طہارت کے تمام افعال کو تسلسل کے ساتھ ایک متصل وقت میں بغیر کسی طویل وقفے کے ادا کیا جائے۔ - طلبہ کے سامنے عملی طور پر وضو کر کے دکھانا، تاکہ وہ استاد کو اچھی طرح دیکھ سکیں۔ - تمام طلبہ کو عملی طور پر وضو کرنے کا پابند کرنا تاکہ ان کی مہارت کا یقین ہو سکے اور طلبہ کو وضو اور نماز کا طریقہ سکھانے پر ملنے والے عظیم اجر کی خوش خبری دینا، کیونکہ جو شخص کوئی علم سکھاتا ہے اسے اس پر عمل کرنے والے کے برابر اجر ملتا ہے۔ - یہ واضح کرنا کہ جس نے وضو کے فرائض میں سے کوئی فرض جان بوجھ کر یا بھول کر چھوڑ دیا، اس کا وضو درست نہیں ہوگا۔ البتہ تسمیہ (بسم اللہ پڑھنا)، تو جس نے اسے بھول کر چھوڑ دیا، اس کا وضو درست ہے۔
وضو کے فرائض [11]
[11] سبق کے مقاصد: - طالب علم وضو کے صحیح طریقے پر عمل کرے۔ - طالب علم وضو کا واجب بیان کرے۔
وضو کی بڑی عظیم فضیلت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے گناہوں کو مٹاتا ہے اور اس سے درجات بلند فرماتا ہے۔ لہٰذا ہم پر لازم ہے کہ ہم اسے سیکھیں اور اس کے فرائض پر اسی طرح عمل کریں جیسا کہ نبی ﷺ سے ثابت ہے۔
وضو کے چھ فرائض یہ ہیں:
1- چہرہ دھونا: کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا اسی میں شامل ہے۔
2- دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا۔
3- سر کا مسح کرنا۔ دونوں کانوں کا مسح بھی اسی میں شامل ہیں۔
4- دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھونا۔
5- ان فرائض کے درمیان ترتیب کا خیال رکھنا۔
6- وضو کے اعضا کو پے در پے دھونا۔
* جس نے ان فرائض میں سے کوئی فرض چھوڑ دیا، اس کا وضو صحیح نہیں ہوگا۔
وضو میں (بسم اللہ) کہنا واجب ہے۔
سوالات:
س1: درج ذیل عبارتوں مکمل کریں:
1- وضو کی بڑی فضیلت ہے۔ اس کے ذریعے اللہ ............................ مٹاتا ہے اور ............................. بلند کرتا ہے۔
2- وضو کے فرائض میں سے کوئی فرض ترک کرنے والے کا حکم ................................
3- وضو کا ایک واجب ہے: ..................................
س2: وضو کے طریقہ کے مطابق ہر جملہ کے نیچے مناسب رقم لکھیں:
( ) سر کا مسح کرنا۔ دونوں کان اسی میں شامل ہیں۔ ( ) چہرہ دھونا: کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا اسی میں شامل ہے۔
( ) دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا۔ ( ) دونوں پیروں کو ٹخنوں سمیت دھونا
س3: مناسب جواب ملائیں:
وضو کی شرطیں۔ وضو کے دوران ہوتی ہیں۔
وضو کے فرائض۔ وضو شروع کرنے سے پہلے ہوتے ہیں۔
س4: صحیح جواب کے سامنے نشان لگائیں:
زید نے وضو میں بھول کر اپنے سر کا مسح چھوڑ دیا اور نماز پڑھ لی، تو اس پر واجب ہے کہ:
( ) دوبارہ وضو کرے۔ ( ) وضو اور نماز دونون دوہرائے۔ ( ) نماز دوہرائے۔
* ہمیشہ یاد رکھیں کہ پانی ضائع نہ کریں۔
چھٹا سبق [12]
[12] استاد کے لیے: - تیمم کی مشروعیت کی شکل میں شریعت کی جانب سے عطا کردہ آسانی کو واضح کرنا۔ - پانی نہ ملنے یا اس کے استعمال سے نقصان کے خوف کی مثالیں دینا۔ - تیمم کا طریقہ عملی طور پر بتانا اور تمام طلبہ کو اس میں حصہ لینے کا پابند کرنا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ انہوں نے اسے اچھی طرح سیکھ لیا ہے۔
تیمم
تیمم کا طریقہ:
1- دل ميں نیت کرے۔
2- بسم اللہ کہے۔
3- مٹی پر انگلیوں کو کھلی رکھ کر اپنے دونوں ہاتھ ایک مرتبہ مارے۔
4- اپنی دونوں ہتھیلیوں سے اپنے چہرے کا مسح کرے۔
5- اپنے دائیں ہاتھ کی پشت کا بائیں ہاتھ کی ہتھیلی سے مسح کرے اور اپنے بائیں ہاتھ کی پشت کا دائیں ہاتھ کی ہتھیلی سے مسح کرے۔
* وہ حالات جن میں تیمم پانی کا قائم مقام ہوتا ہے:
1- اگر پانی نہ مل سکے۔ 2- اگر پانی کے استعمال سے نقصان کا خوف ہو۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "تو جب تمھیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی کا قصد کرو۔" [سورہ نساء : 43]۔
تیمم کو توڑنے والی چیزیں:
1- جن چیزوں سے وضو ٹوٹتا ہے، ان سے تیمم بھی ٹوٹ جاتا ہے۔
2- پانی کا مل جانا، اگرچہ نماز کے دوران ہی کیوں نہ ہو۔
سوالات:
س1: مناسب نمبر لگا کر تیمم کو ترتیب دیں:
( ) بسم اللہ کہے۔
( ) ہتھیلیوں سے ہاتھ کے بالائی حصہ کا مسح کرے۔
( ) ہتھیلیوں سے اپنے چہرے کا مسح کرے۔
( ) دل میں نیت کرے۔
( ) دونوں ہاتھوں کو ایک بار مٹی پر مارے۔
س2: درج ذیل الفاظ میں سے مناسب الفاظ سے خالی جگہیں پر کریں:
(باطل کرنے والی اشیا، تیمم، فقدان، مسح)۔
- پانی کے ........................... کے وقت تیمم مشروع ہے۔
- اگر مسلمان کو پانی کے استعمال سے نقصان کا خوف ہو تو اس کے لیے ........................... جائز ہے۔
- وضو کو ........................... سے تیمم بھی باطل ہوجاتا ہے۔
س3: ایک شخص مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کے سفر پر تھا کہ راستے میں فجر کی نماز کا وقت آ گیا، لیکن اسے وضو کے لیے پانی نہ مل سکا اور اسے نماز کا وقت نکل جانے کا اندیشہ بھی ہے؛ تو اس حالت میں وہ کیا کرے؟
س4: مناسب جواب کا انتخاب کریں:
أ- تیمم کو باطل کرتا ہے: ( ) کھانا۔ ( ) پینا۔ ( ) سونا۔
ب- تیمم جائز ہے: ( ) پانی نہ ملنے پر۔ ( ) شدید گرمی پر۔ ( ) شدید بارش پر۔
ساتواں سبق [13]
[13] استاد کے لیے: - طالب علم کو وقت پر نماز ادا کرنے کی ترغیب دینا اور اس کی فضیلت اور اسے تاخیر سے پڑھنے کی سزا بیان کرنا۔ - نماز میں تاخیر کرنے سے خبردار کرنا اور یہ بتانا کہ یہ منافقوں کا وصف ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿بے شک منافق اللہ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں، جب کہ اللہ ہی انہیں دھوکے کی سزا دینے والا ہے، اور جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو سستی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، لوگوں کو دکھاتے ہیں اور اللہ کو بہت کم یاد کرتے ہیں۔﴾ [النساء : 142]۔ - ان اصطلاحات کے معنی بیان کرنا: زوال، ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو جانا اور سرخ شفق۔
اوقات نماز [14]
[14] سبق کے مقاصد: - طالب علم فرض نمازوں کے اوقات بیان کرے۔ - نماز کو اس کے مقررہ اوقات میں ادا کرے۔ - طالب علم نماز کو اس کے وقت سے تاخیر کرنے سے بچے۔
نماز اپنے وقت کے داخل ہونے سے پہلے جائز نہیں؛ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے: "یقیناً نماز مومنوں پر مقرره وقتوں پر فرض ہے۔" [النساء: 103]۔
پانچ نمازوں کے اوقات:
نماز
اس کا وقت
فجر
فجر ثانی کے طلوع سے لے کر طلوع آفتاب تک۔
ظہر
سورج ڈھلنے سے لے کر ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو جانے تک۔
عصر
ظہر کا وقت نکلنے سے لے کر ہر چیز کا سایہ اس کے دو مثل ہو جانے تک۔
مغرب
غروب آفتاب سے لے کر سرخ شفق کے غائب ہونے تک۔
عشا
سرخ شفق کے غائب ہونے سے آدھی رات تک۔
سوالات:
س1: کالم (الف) کی عبارتوں کو کالم (ب) میں ان کے مناسب جوابات سے ملائیں:
کالم (الف)
کالم (ب)
فجر
سرخ شفق کے غائب ہونے سے آدھی رات تک۔
ظہر
سورج ڈھلنے سے لے کر ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو جانے تک
عصر
طلوع فجر ثانی سے طلوع آفتاب تک
مغرب
ظہر کا وقت ختم ہونے سے لے کر ہر چیز کا سایہ اس کے دو مثل ہو جانے تک
عشا
س2: وقت داخل ہونے سے پہلے نماز کا کیا حکم ہے؟
آٹھواں سبق [15]
[15] استاد کے لیے ہدایات: - طالب علم کو وقت پر نماز ادا کرنے کی ترغیب دی جائے۔ - نماز و غیر نماز میں عورت کے لیے شرعی لباس کی تاکید۔ - یہ وضاحت کہ نماز ترک کرنے والا کافر ہے۔ اگر اس حالت میں کی موت ہو جائے تو نہ اسے غسل دیا جائے گا، نہ کفن پہنایا جائے گا، نہ اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی، نہ اس کے لیے رحمت کی دعا کی جائے گی، نہ اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا، اس کے لیے زندگی میں مکہ کے اندر داخل ہونا جائز نہیں ہے، نہ ہمارے لیے اس کا ذبیحہ جائز ہے اور آخرت میں وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔
نماز کی شرطیں [16]
[16] سبق کے مقاصد: - طالب علم نماز کی شرطیں بیان کرے۔ - طالب علم مرد اور عورت کے ستر کی نشان دہی کرے۔ - طالب علم مسلمانوں کے قبلہ کی نشان دہی کرے۔
نماز ارکانِ اسلام میں سے دوسرا رکن ہے۔ اس کی ادائیگی سے قبل کچھ شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے، جو یہ ہیں:
1- اسلام: کافر کی نماز اس وقت تک قبول نہیں ہوتی جب تک کہ وہ اسلام نہ لے آئے۔
2- عقل: مجنوں پر نماز واجب نہیں ہے، جب تک عقل واپس نہ آجائے۔
3- تمیز: چھوٹے بچے کو اس کا حکم دیا جائے جب وہ تمیز کی عمر کو پہنچ جائے۔ تمیز کی عمر سات سال ہے۔
4- وضو: وضو کے بغیر نماز درست نہیں ہوتی۔
5- سترِ عورت : مرد کا ستر ناف سے گھٹنے تک ہے، جب کہ عورت کا سارا بدن ستر ہے۔ البتہ نماز میں چہرہ اور دونوں ہتھیلیاں اس سے مستثنی ہیں۔ [17] [17] اگر وہاں نامحرم مرد موجود نہ ہوں۔
6- نجاست دور کرنا : بدن، کپڑوں اور اس جگہ سے جہاں نماز پڑھی جائے۔
7- وقت کا داخل ہونا: ہر نماز کا ایک مقررہ وقت ہے۔ اس سے پہلے نماز درست نہیں ہوتی۔
8- قبلہ رو ہونا : قبلہ مکہ مکرمہ میں مسجدِ حرام میں واقع کعبہ مشرفہ ہے۔
9- نیت: نیت کا مقام دل ہے اور اسے زبان سے ادا کرنا بدعت ہے۔
سوالات:
س1: درج ذیل الفاظ کے متضاد بتائیے:
لفظ
اس کی ضد
نجاست ...............................
عقل مند ...............................
کافر ...............................
س2: درج ذیل خالی جگہوں کو مناسب الفاظ سے پر کریں:
الف- کافر کی نماز قبول نہیں کی جاتی یہاں تک کہ ...........................
ب- سنِ تمیز ہے: ........................................................
ج- نماز ادا کرنے سے پہلے نجاست کو دور کرنا شرط ہے ........................... اور ........................... اور ...........................
د- نماز میں مرد کا ستر ........................... سے ...........................گھٹنہ تک ہے اور عورت مکمل ستر ہے سوائے ...........................
س3: صحیح جواب اختیار کریں:
الف- سن تمیز ہے: ( ) 9 سال۔ ( ) 6 سال۔ ( ) 7 سال۔
نواں سبق [18]
[18] استاد کے لیے: - طلبہ کے لیے طمانیت کا معنی اور اس کا وجوب واضح کرے، جیسا کہ مسیء صلاۃ کی حدیث میں ہے۔ - سجدہ سہو کا مفہوم آسان انداز میں واضح کرے۔ - سات اعضا سے مراد بیان کرے اور ان پر سجدہ کرنے کا طریقہ عملی طور پر کر کے دکھائے۔ - رکوع اور سجدے کے صحیح طریقے کی وضاحت کرے۔ - طلبہ کے لیے نماز کی شرطوں اور نماز کے ارکان کے درمیان فرق واضح کرے۔
نماز کے ارکان [19]
[19] سبق کے مقاصد: - طالب علم نماز کے صحیح طریقے پر عمل کرے۔- - طالب علم ان سات اعضا کی نشان دہی کرے جن پر نماز میں سجدہ کیا جاتا ہے۔ - طالب علم سورہ فاتحہ کو صحیح طریقے سے پڑھے۔ - طالب علم نماز کے ارکان میں سے کسی ایک کو چھوڑنے والے کا حکم بیان کرے۔ - طالب علم نماز کے ارکان کی نشان دہی کرے۔
نماز کے 14 ارکان ہیں جنہیں خشوع و خضوع کے ساتھ مکمل طور پر ادا کرنا واجب ہے، جوکہ یہ ہیں:
1- فرض نماز میں قدرت ہونے پر قیام کرنا۔
2- تکبیرِ تحریمہ۔
3- سورہ فاتحہ کی تلاوت
4- رکوع کرنا۔
5- رکوع سے اٹھنا۔
6- سات اعضا پر سجدہ کرنا۔
7- سجدے سے اٹھنا۔
8- دو سجدوں کے درمیان بیٹھنا۔
9- آخری تشہد کے لیے بیٹھنا۔
10- آخری جلسہ میں تشہد پڑھنا۔
11- آخری قعدے میں نبی ﷺ پر درود پڑھنا۔
12- سلام پھیرنا۔
13- تمام ارکان میں اطمینان۔
14- تمام ارکان میں ترتیب۔
ان ارکان میں سے کسی ایک کو ترک کرنے والے کی نماز کا حکم:
الف- اگر نمازی جان بوجھ کر نماز کے ارکان میں سے کوئی رکن چھوڑ دے تو اس کی نماز باطل ہو جاتی ہے۔
ب- اگر نمازی بھول کر نماز کے ارکان میں سے کوئی رکن چھوڑ دے، تو وہ اس رکن کو اور اس کے بعد والے افعال کو ادا کرے اور سجدۂ سہو کرے۔
سوالات:
س1: نماز کے ارکان کی تعداد کتنی ہے؟
س2: خالی جگہ میں مناسب نمبر لکھ کر نمبروں کو تسلسل کے ساتھ ترتیب دیں:
- آخری تشہد( )
- تکبیر تحریمہ( )
- سورہ فاتحہ پڑھنا ( )
- رکوع سے اٹھنا ( )
- قدرت ہونے پر قیام( )
س3: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "...اور اللہ تعالیٰ کے لئے باادب کھڑے رہا کرو۔" [البقرہ: 238]۔
آیت کریمہ میں نماز کے ارکان میں سے ایک رکن کا ذکر آیا ہے، اسے بیان کریں۔
س4: طالب نے نماز پڑھی اور دوسری رکعت میں رکوع کرنا بھول گیا تو اس پر کیا کرنا واجب ہے؟
س5: مندرجہ ذیل الفاظ میں سے مناسب الفاظ سے خالی جگہیں پر کریں:
(کے بعد - سے پہلے - کے دوران)۔
- شرط نماز ........................... ہوتی ہے۔
- رکن نماز ........................... ہوتا ہے۔
س6: درست جواب کا انتخاب کریں:
- نماز کے ارکان میں سے ہے :
( ) وقت کا داخل ہونا۔ ( ) قبلہ رخ ہونا. ( ) سورہ فاتحہ پڑھنا۔
دسواں سبق [20]
[20] معلم کے لیے: - رکن اور واجب کے درمیان فرق کا بیان۔ - امام اور متنفر کرنے والے کے مطلوبہ معنی کا بیان۔
نماز کے واجبات [21]
[21] سبق کے مقاصد: - طالب علم نماز کے واجبات گنوا سکے۔ - طالب علم ارکان اور واجبات کو پورا کرتے ہوئے نماز کے صحیح طریقے پر عمل کر سکے۔ - طالب علم نماز کے واجبات میں سے کوئی ایک واجب ترک کرنے والے کی نماز کا حکم بیان کر سکے۔
نماز کے واجبات آٹھ ہیں، جو یہ ہیں:
1- تکبیر تحریمہ کے علاوہ تمام تکبیرات
2- رکوع میں (سبحان ربی العظیم) کہنا۔
3- امام اور منفرد کا (سمع الله لمن حمدہ) کہنا۔
4- امام، مقتدی اور منفرد کے لیے (ربنا ولك الحمد) کہنا۔
5- سجدے میں (سبحان ربي الأعلى) کہنا۔
6- دونوں سجدوں کے درمیان (ربِّ اغْفِرْ لي) کہنا۔
7- پہلے تشہد کے لیے بیٹھنا۔
8- اس میں تشہد پڑھنا۔
ان واجبات میں سے کسی ایک کو چھوڑنے والے کی نماز کا حکم:
الف- اگر نمازی جان بوجھ کر نماز کے واجبات میں سے کوئی واجب ترک کر دے، تو اس کی نماز باطل ہو جائے گی۔
ب- اگر نمازی بھول کر یا لاعلمی میں نماز کے واجبات میں سے کوئی واجب چھوڑ دے، تو وہ سجدۂ سہو کرے۔
سوالات:
س1: نماز کے واجبات بیان کریں۔
.........................................................................................................................................
س2: مناسب لفظ منتخب کریں اور اسے خالی جگہ میں لکھیں:
(ارکان - واجبات)۔
- سورہ فاتحہ پڑھنا نماز کے ........................... میں سے ہے۔
- سُبْحانَ ربي العَظِيم پڑھنا نماز کے ........................... میں سے ہے۔
- پہلا تشہد نماز کے ........................... میں سے ہے۔
- آخری تشہد نماز کے ........................... میں سے ہے۔
س3: درست جواب کے نیچے لکیر کھینچیں:
ألف- میں رکوع میں کہتا ہوں:
(لا إله إلَّا الله -سُبْحان ربي الأَعْلى -سُبْحانَ ربي العَظِيم).
ب- میں دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھ کر کہتا ہوں:
(ربِّ اغْفِرْ لي -سَمِعَ اللهُ لِمَن حَمِدَه-ربَّنا ولك الحمد).
ج- رَبَّنا ولَك الـحَمْد کہنا:
(امام، مقتدی اور منفرد کے لیے - امام اور منفرد کے لیے - صرف امام کے لیے)۔
س4: جو شخص جان بوجھ کر پہلا تشہد پڑھنا چھوڑ دے، اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟
س5: طالب علم نے نماز پڑھی اور دو سجدوں کے درمیان (رَبِّ اغْفِرْ لي) کہنا بھول گیا، تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟