عنوان: نصاب تعلیم، علمِ فقہ، درجہ (چہارم)۔
مختصر تعارف: اس علمی مواد کو مملکت سعودی عرب میں طلبہ کے لیے مقرر کردہ تعلیمی نصاب کی تہذیب اور خلاصہ سمجھا جا سکتا ہے۔ اسے کئی درجات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس مواد میں علمِ فقہ کے مطالعہ سے متعلق حصہ بھی شامل ہے، جو بارہ (12) درجات میں منقسم ہے۔ چوتھے درجے میں شامل اہم ترین موضوعات اور مسائل درج ذیل ہیں: طہارت اور اس کی فضیلت، وضو کی شرائط، اس کے فرائض، اس کی سنتوں اور نواقض کا بیان۔ اذان اور اقامت کے طریقے کی وضاحت۔ نماز کی ان شرطوں کی وضاحت جن کے بغیر نماز صحیح نہیں ہوتی۔ فرض نمازوں کے اوقات، ارکان اور واجبات کا بیان۔
This PDF is generated automatically from the book's text; its layout may differ from the printed edition.
عنوان: نصاب تعلیم، علمِ فقہ، درجہ (چہارم)۔
مختصر تعارف: اس علمی مواد کو مملکت سعودی عرب میں طلبہ کے لیے مقرر کردہ تعلیمی نصاب کی تہذیب اور خلاصہ سمجھا جا سکتا ہے۔ اسے کئی درجات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس مواد میں علمِ فقہ کے مطالعہ سے متعلق حصہ بھی شامل ہے، جو بارہ (12) درجات میں منقسم ہے۔ چوتھے درجے میں شامل اہم ترین موضوعات اور مسائل درج ذیل ہیں:
طہارت اور اس کی فضیلت، وضو کی شرائط، اس کے فرائض، اس کی سنتوں اور نواقض کا بیان۔
اذان اور اقامت کے طریقے کی وضاحت۔
نماز کی ان شرطوں کی وضاحت جن کے بغیر نماز صحیح نہیں ہوتی۔
فرض نمازوں کے اوقات، ارکان اور واجبات کا بیان۔
سورہ فاتحہ کی تفسیر آسان اور سادہ انداز میں۔
چوتھا درجہ
مقدمہ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے قلم کے ذریعے سکھایا۔ انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ اس کے بعد درود وسلام ہو رسولِ کریم پر جنہوں نے وہ سب پہنچا دیا جو ان پر نازل کیا گیا تھا اور اپنی امت کے لیے دین کے احکام اور ہر وہ چیز واضح کر دی، جس کی انہیں دنیا اور آخرت کے معاملات میں ضرورت ہے۔ اما بعد:
آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے: "اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا کرتا ہے۔"
اسی بنیاد پر، وزارتِ تعلیم وتربیت نے اپنے قیام کے وقت سے ہی اس ذمہ داری کے احساس اور شرعی احکام جاننے کی عظیم ضرورت کے ادراک کے تحت تمام تعلیمی مراحل میں فقہ کی تدریس کا فیصلہ کیا۔ اس لیے کہ دین کی سمجھ، اس کے احکام کی معرفت اور ان کے تصور سے وابستہ ہے۔ اس کی اشد ضرورت اس لیے بھی ہے تاکہ مسلمان علم وبصیرت کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کر سکے۔
ہم استاد کو کچھ ایسے امور یاد دلانا چاہتے ہیں جن سے علمِ شرعی کی تبلیغ کا جو فریضہ ان پر عائد ہوتا ہے‘ اس کی ادائیگی میں اور طلبہ کے لیے اس کی تشریح کو آسانی سے سمجھانے میں مدد ملے گی، ان میں سے چند امور یہ ہیں :
1- اس بات کو ذہن نشیں رکھنا کہ شرعی علم دین ہے اور شرعی علم کے طلبہ کو اس کی تعلیم دینا اس تبلیغ کا حصہ ہے جس کی دعوت نبی ﷺ نے اپنے اس فرمان میں دی ہے: ’’میری طرف سے لوگوں کو پہنچا دو، اگرچہ ایک آیت ہی ہو۔‘‘ [1] یہ ایک ایسی عبادت ہے جسے اللہ عز وجل اس وقت تک قبول نہیں فرماتا، جب تک کہ وہ خالص اسی کی رضا کے لیے نہ ہو۔ [1] اسے بخاری نے کتاب احادیث الانبیاء، باب: ما ذُكِر عن بني إسرائيل، میں حدیث نمبر (3461) کے تحت روایت کیا ہے۔
2- اللہ عزوجل سے مدد طلب کرنا اور کثرت سے ذکر، دعا اور استغفار کرنا اور اس بات کا دھیان رکھنا کہ معلم کی گفتگو، اس کے ظاہری حلیے اور اس کے طرزِ عمل میں علم کی روش اور اس کا وقار ظاہر ہو۔
3- تعلیم کے عمومی مقاصد، ہر مرحلے کے مقاصد، اور اس مضمون کے مقاصد کا ادراک جو وہ پڑھاتا ہے؛ کیونکہ یہ سبق کو ان مقاصد سے مربوط کرنے، مناسب موضوع اور اسلوب کے انتخاب میں اور ان مقاصد کی روشنی میں طالب علم کا جائزہ لینے کی صلاحیت میں استاد کو مدد دیتا ہے۔
4- تدریس کے مختلف طریقوں کے استعمال میں تنوع لانا اور ہر سبق کے لیے مناسب طریقہ کا انتخاب کرنا۔
5- سبق کی تشریح سے قبل موضوع سے متعلق علمی مصادر کا جائزہ لینا۔
اللہ سے ہم دعا کرتے ہیں کہ وہ اس عمل کو اپنی رضا کے لیے خالص بنائے اور اس کے ذریعے فائدہ پہنچائے۔ وصلى الله وسلم على نبينا محمد وعلى آله وصحبه۔
پہلا سبق [2]
[2] استاد کے لیے: - استاد مذکورہ دونوں نصوص کی اس طرح تشریح کرے کہ وضو کی اہمیت اور اس کی فضیلت واضح ہو جائے۔- وضو اور دیگر کاموں میں اسراف حرام ہے، آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: «بے شک اس امت میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو طہارت اور دعا میں حد سے تجاوز کریں گے»۔ اسے ابو داود نے حدیث نمبر (96) کے تحت روایت کیا ہے، اسی لیے آپ علیہ الصلاۃ والسلام کا طریقہ تھا کہ آپ ایک مد (پانی) سے وضو کرتے تھے۔ طہارت کی مشروعیت میں اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اسلام صفائی ستھرائی کا کتنا اہتمام کرتا ہے۔ اسلام کا ظاہری طہارت کا اہتمام کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ باطن کو گناہوں، کینہ، حسد اور دل کی دیگر بیماریوں سے پاک رکھنے کا اہتمام کرنا بھی انتہائی اہم ہے۔
وضو
طہارت اور اس کی فضیلت:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "... بیشک اللہ توبہ کرنے والوں کو اور پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔" [البقرۃ: 222]، اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "کیا میں تمہیں وہ عمل نہ بتاؤں جس کے ذریعے اللہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور درجات بلند کرتا ہے؟" انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول۔ آپ نے فرمایا: "ناگواری کے باوجود مکمل وضو کرنا [3]، مسجدوں کی طرف زیادہ چل کر جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، یہی رباط ہے"۔ [4] [3] مكارِه: یہ مکروہ کی جمع ہے اور اس سے مراد وہ چیز ہے جسے انسان ناپسند کرے اور جو اس پر شاق گزرے، جیسے شدید سردی میں وضو کرنا۔ [4] اسے مسلم نے کتاب الطہارۃ، باب: فَضْل إسْباغِ الوُضوءِ على المكارِهِ (1/219)، حدیث نمبر (251) میں روایت کیا ہے۔
مسلمان کو طہارت دو چیزوں سے حاصل ہوتی ہے:
1- وضو سے۔ 2- نجاست دور کرنے سے۔
وہ اعمال جن کے لیے وضو شرط ہے:
مسلمان جب درج ذیل اعمال میں سے کوئی عمل کرنا چاہے، تو اس پر وضو واجب ہے:
( نماز - قرآن مجید کو چھونا - طواف ).
وضو میں کیا واجب ہے؟
- وضو میں ایک ہی عمل واجب ہے اور وہ ہے تسمیہ یعنی (بسم اللہ) کہنا۔
- بسم اللہ وضو کے شروع میں کہے۔
- جو شخص بسم اللہ پڑھنا بھول جائے یا اسے وضو کے دوران یاد آئے تو وہ بسم اللہ پڑھ لے اور اپنا وضو جاری رکھے۔
- جو شخص بسم اللہ پڑھنا بھول جائے یہاں تک کہ وضو مکمل کر لے، تو اس کا وضو صحیح ہے اور اس پر کچھ لازم نہیں ہے۔
سوالات:
س 1: وضو کا طریقہ بیان کریں۔
سوال 2: صحیح میں (صحیح)، یا غلط میں (غلط) لکھ کر جواب دیں اور غلطی کی تصحیح کریں:
ا- مسلمان پر واجب ہے کہ جب وہ نماز پڑھنا چاہے تو وضو کرے۔
ب- مسلمان پر واجب ہے کہ اگر وہ زبانی قرآن پڑھنا چاہے تو وضو کرے۔
ج- مسلمان پر واجب ہے کہ اگر وہ کعبہ کا طواف کرنا چاہے تو وضو کرے۔
د- جو شخص بسم اللہ کہنا بھول گیا اور وضو پورا کر لیا، اس پر دوبارہ وضو کرنا واجب ہے۔
هـ- تسمیہ (بسم اللہ پڑھنے) کا مقام: وضو کی ابتدا۔
س3: صحیح جواب کے نمبر کے گرد دائرہ لگائیں:
الف- اچھی طرح وضو کرنے کی بڑی فضیلت ہے، جو کہ یہ ہے:
1- اللہ اس کے ذریعے صرف گناہوں کو مٹاتا ہے۔ 2- اللہ اس کے ذریعے صرف درجات بلند کرتا ہے۔
3- اللہ اس کے ذریعے گناہوں کو مٹاتا ہے اور درجات بلند کرتا ہے۔
ب- کس عمل کے لیے وضو کرنا واجب ہے؟
1- قرآن مجید کو چھونے کے لیے ۔2- کھانے کے لیے ۔3- سونے کے لیے۔
ج- جو بسم اللہ کہنا بھول جائے پھر اسے وضو کے دوران یاد آ جائے تو اس پر واجب ہے کہ:
1- وہ شروع سے وضو کرے۔ 2- وہ بسم اللہ پڑھے اور اپنا وضو جاری رکھے۔
3- وہ اپنا وضو جاری رکھے اور بسم اللہ نہ پڑھے۔
دوسرا سبق [5]
[5] استاد کے لیے: - حدَث: یہ ایک ایسی کیفیت ہے جو جسم میں پیدا ہوتی ہے اور نماز یا اس جیسی دیگر عبادتوں کی ادائیگی سے روکتی ہے۔ اس کا سبب وہ نواقضِ وضو ہیں جن کا ذکر آگے آئے گا۔ - نیت : لغوی معنی: ارادہ کرنا۔ جب کہ عام استعمال میں اسے کسی کام کے لیے دل کے پختہ ارادے کے ساتھ خاص کیا گیا ہے۔ اصطلاح میں: اس سے مراد حدَث (ناپاکی) کو دور کرنے کا ارادہ کرنا یا اس کام کے لیے طہارت حاصل کرنے کا ارادہ کرنا ہے جس کے لیے طہارت واجب یا سنت ہے۔ چنانچہ اگر کوئی شخص مثلاً زبانی قرآن مجید پڑھنے کے لیے طہارت کی نیت سے وضو کرے (اور اس کے لیے وضو کرنا سنت ہے) تو اس وضو سے فرض نماز پڑھنا درست ہے؛ کیونکہ اس نیت سے اس کا حدَث دور ہو گیا۔ نیت کی جگہ دل ہے اور اسے زبان سے ادا کرنا بدعت ہے۔ - شرمگاہوں کو پاک کرنا (یعنی استنجا کرنا) وضو کا حصہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس شخص کے لیے ہے جس نے پیشاب یا پاخانہ کیا ہو اور یہ ہر وضو میں ضروری نہیں ہے۔ - استاد طلبہ کو اس بات پر متنبہ کرے کہ جس شخص نے پیشاب کیا ہو اس کے لیے استنجا کرنے سے پہلے کپڑے پہننا جائز نہیں ہے۔ جس نے پیشاب کیا اور پھر استنجا کے بغیر وضو کر لیا تو اس کا وضو درست نہیں ہے۔
وضو کی شرائط
وضو کی کچھ شرائط ہیں، جن میں سے چند یہ طرح ہیں:
1- نیت کرنا: نیت یہ ہے کہ وضو کے ذریعہ حدَث دور کرنے کا ارادہ کرے، یا وضو کے ذریعہ نماز یا قرآن کی تلاوت کے لیے یا اس جیسی کسی اور عمل کے لیے طہارت حاصل کرنے کا ارادہ کرے۔
2- وضو ایسے پانی سے کیا جائے جس میں پاک کرنے کی صلاحیت ہو۔ وضو نہ تو بغیر پانی کے درست ہوتا ہے اور نہ ناپاک پانی سے۔
3- پانی کا مباح ہونا۔ حرام پانی سے وضو صحیح نہیں ہوتا، جیسے غصب کیا ہوا پانی یا اس جیسا کوئی اور پانی۔
4- ہر اس چیز کو دور کرنا جو عضو تک پانی پہنچنے سے روکے، جیسے آٹا، مٹی، رنگ وغیرہ۔
5- پیشاب یا پاخانہ خارج ہونے کے بعد دونوں جگہ کو پاک کرنا۔
سوالات:
س1: وضو کی شرائط بیان کریں۔
سوال 2: صحیح میں (صحیح)، یا غلط میں (غلط) لکھ کر جواب دیں اور غلطی درست کریں:
أ- ناپاک پانی سے وضو کرنا درست نہیں ہے۔
ب- چوری کے پانی سے وضو کرنا صحیح ہے۔
ج- غصب کیے ہوئے پانی سے وضو صحیح نہیں ہوتا۔
د- چائے سے وضو درست ہے۔
س3: مناسب الفاظ سے خالی جگہ پُر کریں:
1- نیت یہ ہے کہ آدمی ..................... کا ارادہ کرے، یا ..................... کا ارادہ کرے۔
2- پانی سے وضو کرنے کے لیے شرط ہے کہ وہ ..................... ہو، اور یہ کہ وہ ..................... ہو۔
3- وضو کی شرائط میں سے ..................... کو دور کرنا بھی ہے تاکہ پانی ..................... تک پہنچ سکے، جیسے ..................... اور ..................... اور .....................
تیسرا سبق [6]
[6] استاد کے لیے:- فرائض: یہ فرض کی جمع ہے اور یہ واجب سے اعلیٰ ہے؛ کیونکہ یہ جان بوجھ کر یا بھول چوک میں؛ کسی بھی صورت میں ساقط نہیں ہوتا، برخلاف واجب کے کہ وہ بھولنے کی صورت میں ساقط ہو جاتا ہے۔ استاد طلبہ کو اس بات سے آگاہ کرے کہ چہرہ کو مکمل دھونا واجب ہے، لمبائی میں پیشانی کے بالوں کے اگنے کی جگہ سے لے کر ٹھوڑی کے نیچے تک اور چوڑائی میں ایک کان سے دوسرے کان تک۔ لہٰذا صرف چہرے کا اگلا حصہ دھونا کافی نہیں ہے۔ دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت انگلیوں کے پوروں سے دھونا، نہ کہ کلائی کے جوڑ سے۔ کانوں سمیت سر کا مسح : مسح یہ ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو پانی سے تر کرے، پھر ان سے اپنے سر کے اگلے حصے سے گدی تک مسح کرے، پھر انہیں ایک بار واپس سر کے اگلے حصے تک لائے، پھر سر کے پانی سے اپنے کانوں کا مسح کرے، اپنی شہادت کی انگلیوں سے کانوں کے سوراخوں کا مسح کرے اور اپنے انگوٹھوں سے ان کے بیرونی حصے کا ایک بار مسح کرے۔
وضو کے فرائض
وضو کے چھ فرائض ہیں، جو کہ یہ ہیں:
1- چہرہ دھونا۔ اس میں مضمضہ بھی شامل ہے۔ مضمضہ نام ہے منہ میں پانی کو حرکت دینے کا۔ نیز اس میں استنشاق بھی شامل ہے۔ استنشاق نام ہے سانس کے ذریعہ ناک میں پانی کھینچنے کا۔
2- دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا۔
3- سر کا مسح کرنا۔ دونوں کان اسی میں شامل ہیں۔
4- دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھونا۔
5- ترتیب کا خیال رکھنا۔
6- موالات یعنی کسی عضو کو دھونے میں اتنی تاخیر نہ کرے کہ اس سے پہلے والا عضو خشک ہو جائے۔
سوالات:
س1: وضو کے فرائض بیان کریں۔
سوال 2: صحیح میں (صحیح) یا غلط میں (غلط) لکھ کر جواب دیں اور غلطی کو درست کریں:
الف- سر کے مسح کے بعد کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا وضو کے فرائض میں سے ہے۔
ب- پیشانی چہرے کا حصہ نہیں ہے۔ لہذا وضو میں اسے دھونا واجب نہیں ہے۔
ج- سر کے ساتھ دونوں کانوں کا مسح کرنا وضو کے فرائض میں سے ہے۔
د- وضو میں ٹخنوں کو دھونا واجب نہیں ہے۔
ہ- سر دھونا وضو کے فرائض میں سے ہے۔
س 3: صحیح جواب کے نمبر کے گرد دائرہ لگائیں:
الف- موالات کا مطلب ہے:
1- وضو میں اسراف کرنا ۔
2- اطمینان سے وضو کرنا ۔
3- ہر عضو کو دھونا اس سے پہلے کہ اس سے پہلا عضو خشک ہو جائے۔
ب- وضو کی ترتیب یہ ہے:
1- پہلے دونوں پاؤں، پھر دونوں ہاتھ، پھر چہرہ دھونا۔
2- چہرہ دھونا، پھر کہنیوں تک دونوں ہاتھ دھونا، پھر سر کا مسح کرنا، پھر دونوں پاؤں دھونا۔
3- چہرہ دھونے سے پہلے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دھونا۔
چوتھا سبق [7]
[7] معلم کے لیے: - کلی کرنے میں مبالغہ کرنے سے مراد ہے: منہ میں پانی کو اچھی طرح گھمانا- استنشاق میں مبالغہ کرنے سے مراد ہے: سانس کے ذریعہ پانی کو ناک کے آخری حصے تک کھینچنا۔ انگلیوں میں خلال کرنے سے مراد ہے: اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو پیروں کی انگلیوں کے درمیان داخل کرنا اور ہاتھ کی انگلیوں کو پاؤں کی انگلیوں میں داخل کرکے خلال کرنا۔ چہرہ، دونوں ہاتھوں اور دونوں پیروں کو دوسری اور تیسری بار دھونا سنت ہے، جب کہ ایک بار دھونا واجب ہے۔ البتہ سر کا مسح ایک سے زیادہ بار کرنا جائز نہیں ہے۔
وضو کی سنتیں
وضو کی بعض سنتیں یہ ہیں:
1- وضو کے شروع میں دونوں ہاتھوں کو تین بار دھونا۔
2- مسواک کرنا۔ مسواک کلی کرتے وقت کی جائے گی۔
3- غیر روزہ دار کے لیے کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرنا۔
4- ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کا خلال کرنا۔
5- تیامُن: یعنی بائیں ہاتھ سے پہلے دایاں ہاتھ دھونا اور بائیں پاؤں سے پہلے دایاں پاؤں دھونا ہے۔
6- چہرے، دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کو دوسری اور تیسری بار دھونا۔
7- وضو سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا پڑھنا: "میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔"[8] اور یہ دعا پڑھنا: "اے اللہ! مجھے توبہ کرنے والوں میں اور مجھے پاک صاف رہنے والوں میں شامل فرما۔" [9]۔ [8] دیکھیے: صحیح مسلم : 1/209، حدیث : 234، سنن ابی داود : 1/43، حدیث : 169۔ [9] جامع ترمذی: 1/ 78، حدیث : 55۔
سوالات:
س1: وضو کی سنتیں شمار کریں۔
س2: کالم (ا) میں موجود الفاظ کا نمبر کالم (ب) کے مناسب الفاظ کے سامنے لکھیں:
کالم (ا)
میں مبالغے سے کام لینا
خلال کرنا
کے وقت مسواک کرنا
دھونا
کالم (ب)
( ) کلی کرنے
( ) کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے
( ) دوسری اور تیسری بار
( ) انگلیوں کا
( ) تین مرتبہ۔
س3 : خالی جگہ کو پر کریں:
1- وضو کے ..................... میں ہتھیلیوں کو ..................... دھونا سنت ہے۔
2- تیامن کا مطلب ہے .....................
3- وضو سے فارغ ہونے کے بعد پڑھی جانے والی دعا یہ ہے: .....................
پانچواں سبق [10]
[10] معلم کے لیے:- اگر پیشاب یا پاخانہ؛ پیشاب اور پاخانے کے راستوں کے علاوہ کسی اور جگہ سے خارج ہو تو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ جیسے وہ شخص جس کے لیے ایسا سوراخ بنا دیا جائے جس سے پیشاب خارج ہوتا ہو۔ - وہ نیند جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اس سے مراد گہری نیند ہے، اس طور پر کہ اگر اس کا وضو ٹوٹ جائے تو اسے اس کا احساس نہ ہو۔ البتہ وہ نیند جو گہری نہ ہو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ - شک سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ چنانچہ جس شخص نے وضو کیا پھر اسے شک ہو کہ آیا اس کے بعد اس کا وضو ٹوٹا ہے یا نہیں؟ تو وہ اپنی طہارت پر باقی رہے گا۔ اسی طرح جس کا وضو ٹوٹ گیا ہو پھر اسے شک ہو کہ آیا اس نے اس کے بعد وضو کیا ہے یا نہیں؟ تو وہ اپنے حدَث پر باقی رہے گا اور اس کے لیے وضو کرنا لازم ہوگا۔ اس لیے کہ یقین شک سے ختم نہیں ہوتا۔
وضو کے نواقِض
وضو توڑنے والی بعض چیزیں یہ ہیں:
1- پیشاب یا پاخانہ کے راستے سے نکلنے والی کوئی بھی چیز، جیسے پیشاب، پاخانہ، ہوا یا کوئی اور چیز۔
2- بے ہوشی۔
3- گہری نیند۔
4- آگے یا پیچھے کی کسی بھی شرم گاہ کو ہاتھ سے براہ راست بغیر حائل کے چھونا۔
5- اونٹ کا گوشت کھانا۔
سوالات:
س2 : وضو توڑنے والی تین چیزیں ذکر کریں۔
سوال 2 : صحیح جواب کے نمبر پر دائرہ بنائیں:
ا- نواقضِ وضو میں سے ہے:
1- اونٹ کا گوشت کھانا 2- بکری کا گوشت کھانا۔ 3- گائے کا گوشت کھانا۔
ب- وضو کے نواقِض میں سے یہ بھی ہے:
1- اونگھ۔ 2- نیند۔ 3- پینا۔
ج- اگر نماز کے دوران آپ کا وضو ٹوٹ جائے تو آپ پر واجب ہے کہ:
۱- نماز توڑ دیں، پھر وضو کریں اور اسے دہرائیں۔
2- نماز جاری رکھیں، پھر وضو کریں اور اسے دہرائیں۔
3- نماز جاری رکھیں اور اسے نہ دہرائیں۔
چھٹا سبق [11]
[11] استاد کے لیے: - استاد اذان کی مشروعیت کا سبب بیان کرتے ہوئے سبق کی تمہید باندھے، جیسا کہ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے۔ دیکھیے: سنن ابی داود (1/337)، حدیث نمبر: (449)، اور مسند امام احمد (4/43)، حدیث نمبر: (16524)۔استاد طلبہ کے سامنے اذان کی فضیلت بیان کرے جیسا کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: "مؤذن کی آواز کی پہنچ تک جو جن، انسان یا کوئی چیز بھی اسے سنتی ہے وہ قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دے گی"۔ اسے بخاری نے اپنی صحیح میں حدیث نمبر: (609) کے تحت روایت کیا ہے، اور آپ ﷺ کا فرمان ہے: "قیامت کے دن مؤذنوں کی گردنیں سب لوگوں سے لمبی ہوں گی"۔ اسے مسلم نے اپنی صحیح (1/29) میں حدیث نمبر: (387) کے تحت روایت کیا ہے۔
اذان اور اقامت
اذان اور اقامت کی تعریف:
اذان: نماز کے وقت کے داخل ہونے کی خبر دینا۔
اقامت: نماز کے لیے کھڑے ہونے کی اطلاع دینا۔
اذان کے جملے پندرہ ہیں، جوکہ یہ ہیں:
اللہ سب سے بڑا ہے (2) اللہ سب سے بڑا ہے
اللہ سب سے بڑا ہے (2) اللہ سب سے بڑا ہے
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں (2) میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں (2) میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
آؤ نماز کی طرف (2) آؤ نماز کی طرف۔
آؤ کامیابی کی طرف (2) آؤ کامیابی کی طرف۔
اللہ سب سے بڑا ہے (2) اللہ سب سے بڑا ہے
(۱) اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔
فجر کی اذان میں "حَيَّ على الصَّلاةِ" کہنے کے بعد ان الفاظ کا اضافہ کرے:
نماز نیند سے بہتر ہے (2) نماز نیند سے بہتر ہے۔
اقامت کے جملے بارہ ہیں، جوکہ اس طرح ہیں:
اللہ سب سے بڑا ہے (2) اللہ سب سے بڑا ہے
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں (2) میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
آؤ نماز کی طرف (2) آؤ کامیابی کی طرف۔
نماز کھڑی ہو گئی (2) نماز کھڑی ہو گئی۔
اللہ سب سے بڑا ہے (2) اللہ سب سے بڑا ہے۔
(۱) اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں
* اذان صرف عاقل اور مرد مسلمان کی درست ہے۔ عورتوں پر نہ تو اذان ہے اور نہ اقامت۔
سوالات:
س۱: خالی جگہ کو پر کریں:
1- اذان کا مطلب ہے: ..................... .....................
2- اقامت کا مطلب ہے: ..................... .....................
س۲: اذان اور اقامت کے کلمات ذکر کریں۔
س۳: صحیح میں (صحیح) یا غلط میں (غلط) لکھ کر جواب دیں اور اگر غلطی ہو تو درست کریں:
1- اذان کے جملے پندرہ ہیں۔
2- اقامت کے جملے دس ہیں۔
3- مؤذن (حَيّ على الصَّلاة) کہنے کے بعد (الصَّلاةُ خَيْرٌ مِن النَّومِ) کہے۔
4- مؤذن صرف فجر کی اذان میں (الصَّلاة خَيْرٌ مِن النَّوم) کہے۔
ساتواں سبق [12]
[12] استاد کے لیے ہدایات: استاد اپنے طلبہ کو فجر وغیرہ کی نماز کے لیے عملی طور پر اذان دے کر اور اقامت کہہ کر دکھائیں۔ استاد طلبہ سے کہے کہ وہ سنتوں کی پابندی کرتے ہوئے اذان اور اقامت کی عملی مشق کریں- طلبہ کو یہ بتا دیں کہ عورت کے لیے مسجد میں نماز پڑھنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ گھر سے نکلنے کے شرعی ضابطوں (مکمل پردہ کرنا - خوشبو نہ لگانا) کی رعایت کرے، لیکن اس کا اپنے گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے-
اذان کی سنتیں
مؤذن کے لیے سنت ہے:
1- قبلہ کی طرف رخ کرے۔
2- دونوں انگلیوں کو دونوں کانوں میں ڈالے۔
3- بلند آواز سے اذان کہے۔
4- ٹھہر ٹھہر کر اذان دے۔ اس طرح کہ اس کے ہر جملہ کے بعد تھوڑی دیر خاموش رہے۔
5- (حَيَّ على الصَّلاةِ) کہتے وقت دائیں طرف رخ کرے، اور (حَيَّ على الفَلاحِ) کہتے وقت بائیں طرف رخ کرے۔
مؤذن کی اذان سننے والے کے لیے سنت ہے کہ :
1- وہ وہی الفاظ کہے جو مؤذن کہتا ہے۔ البتہ (حَيَّ على الصَّلاةِ، حَيَّ على الفَلاحِ) کے جواب میں (لا حَوْلَ ولا قُوَّةَ إلّا بِاللهِ) کہے۔
2- مؤذن اور اذان سننے والے کے لیے اذان ختم ہونے کے بعد مسنون ہے:
أ- نبی ﷺ پر درود بھیجے۔
2- وہ دعا پڑھے جس کے بارے میں جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «جس نے اذان سنتے وقت یہ دعا پڑھی: (اے اللہ! اس کامل دعوت اور قائم ہونے والی نماز کے رب! محمدﷺ کو قربت اور فضیلت عطا فرما اور انہیں مقام محمود پر فائز کر جس کا تو نے وعدہ کیا ہے)۔ اس کے لیے قیامت کے دن میری شفاعت واجب ہو جائے گی۔» [13] [13] اس حدیث کو بخاری نے کتاب الأذان، باب: الدُّعاء عند النِّداء، حدیث نمبر: (614) میں روایت کیا ہے۔
- مسلمان کو چاہیے کہ جب اذان سنے تو مسجد کا رخ کرے اور کسی بھی دوسرے کام میں مشغول نہ ہو۔
مسلمان عورت اپنے گھر میں نماز ادا کرنے میں جلدی کرے؛ کیوں کہ یہ افضل ہے، جیسا کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام کا ارشاد ہے: "ان کے گھر ان کے لیے زیادہ بہتر ہیں۔"[14]۔ [14] اسے امام احمد نے حدیث نمبر (5471) کے تحت روایت کیا ہے اور مسند کے محققین نے کہا: "یہ حدیث صحیح ہے"۔
سوالات:
س۱: اذان کی سنتیں ذکر کریں۔
س۲: خالی جگہ کو پر کریں:
1- مؤذن اور اذان سننے والے کے لیے سنت ہے کہ اذان ختم ہونے کے بعد یہ دعا پڑھے:.....................
2- اذان ختم ہونے کے بعد پڑھی جانے والی دعا یہ ہے: ..........................................
س3: اذان سنتے وقت مسلمان کو چاہیے کہ ..........................................
آٹھواں سبق [15]
[15] استاد کے لیے ہدایات: ممیَّز: ممیَّز اسے کہتے ہیں جو سامنے والے کی بات سمجھ جائے اور اس کا جواب دے سکے۔ مشہور قول کے مطابق تمییز کی عمر سات سال ہے۔ جگہ کی نجاست سے مراد یہ ہے کہ نجاست نمازی کے نیچے اس طرح ہو کہ اس کے جسم کے کسی حصے میں نجاست لگ جائے۔ البتہ اگر نجاست مثلاً جائے نماز کے کنارے پر ہو اور نمازی اسے چھو نہیں رہا ہو تو کوئی حرج نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نماز کے وقت زینت اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: (اے اولادِ آدم! تم مسجد کی ہر حاضری کے وقت اپنا لباس پہن لیا کرو۔) [الاعراف: 31] یعنی: ہر نماز کے وقت۔ اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ وہ نماز میں اپنا اچھا سے اچھا اور خوب صورت لباس پہنے اور نا مناسب لباس میں نماز کے لیے نہ آئے۔
نماز کی شرطیں
نماز کی نَو (۹) شرطیں ہیں جن کے بغیر نماز درست نہیں ہوتی، جوکہ یہ ہیں:
1- اسلام : کافر کی نماز درست نہیں ہوتی، کیونکہ عمل کی قبولیت کی ایک شرط اللہ پر ایمان رکھنا بھی ہے، جبکہ کافر اللہ پر ایمان نہيں رکھتا، لہٰذا اس کے اعمال قبول نہیں ہوتے۔
2- عقل : جس کی عقل زائل ہوگئی ہو، اس کی نماز درست نہیں ہوتی، جیسے پاگل۔
3- تمیز : بچے کی نماز درست نہیں ہوتی جب تک کہ وہ سن تمیز یعنی سات سال کی عمر کو نہ پہنچ جائے۔
4- حدَث سے طہارت: لہٰذا ناپاکی کی حالت میں نماز درست نہیں ہوتی، جب تک کہ انسان وضو نہ کرلے۔ اس کی دلیل آپ ﷺ کا یہ فرمان ہے: "جب تم میں سے کسی کا وضو ٹوٹ جائے، تو جب تک وہ وضو نہ کر لے، اللہ اس کی نماز قبول نہيں کرتا۔" [16]. محدِث: وہ شخص، جس کا وضو پیشاب، یا پاخانہ سے یا کسی اور ناقضِ وضو کی وجہ سے ٹوٹ جائے۔ [16] اس حدیث کو بخاری نے كتاب الحيل في الصَّلاة میں، حدیث نمبر (6954) کے تحت روایت کیا ہے۔
5- نجاست سے طہارت: وہ اس طرح کہ پانی کے ذریعہ (جسم، کپڑے اور نماز کی جگہ) سے نجاست دور کر دی جائے۔
6- وقت کا داخل ہونا: وقت داخل ہونے سے پہلے نماز درست نہیں ہوتی۔ نماز کو بلا عذر کے وقت سے مؤخر کرنا حرام ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: "۔۔۔یقیناً نماز مومنوں پر مقرره وقتوں پر فرض ہے"۔ [النساء : 103]۔ یعنی وقت پر نماز فرض ہے۔
7- سترِ عورت: جس شخص نے اپنا ستر کھول دیا اس کی نماز درست نہیں ہوتی۔ مرد کا ستر ناف اور گھٹنے کے مابین کا حصہ ہے، جبکہ عورت کا پورا جسم ستر ہے۔ البتہ نماز کی حالت میں چہرہ اور ہتھیلیاں اس سے مستثنی ہیں، جب تک کہ وہ اجنبی مردوں کے سامنے نہ ہو؛ اگر اجنبی مرد موجود ہو تو چہرہ اور ہتھیلیوں کا پردہ بھی واجب ہے۔
۸- قبلہ رخ ہونا: ہمارا قبلہ کعبہ ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: "۔۔۔اپنا منہ مسجد کی طرف پھیر لیں۔" [البقرة : 144]
- اگر نمازی مسجد حرام میں ہو تو وہ کعبہ کی طرف رخ کرے۔
- اور اگر کعبہ سے دور ہو تو اس سمت کی طرف رخ کرے جس سمت میں کعبہ ہے۔
۹- نیت : یعنی آدمی اس نماز کی نیت کرے جسے وہ پڑھنا چاہتا ہے، جیسے ظہر یا عصر وغیرہ۔
اس کی دلیل نبی ﷺ کی یہ حدیث ہے: ’’اعمال (کی قبولیت) کا دار ومدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔‘‘ [17]۔ [17] اسے امام بخاری نے کتاب بدء الوحی، باب: كيف كان بدء الوَحْي إلى رسول الله ﷺ میں، حدیث نمبر: 1 کے تحت اور امام مسلم نے کتاب الإمارة، باب: قول النَّبيِّ ﷺ:«إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ» میں، حدیث نمبر: (1907) کے تحت روایت کیا ہے۔
نیت کی جگہ دل ہے۔ اسے الفاظ میں ادا کرنا بدعت ہے۔
سوالات:
س1: نماز کی شرائط بیان کریں۔
سوال 2 : نیچے دی گئی شرطوں کی دلیل ذکر کریں:
ا- حدَث سے پاک ہونا۔
ب۔ قبلہ کی جانب رخ کرنا۔
ج- نیت کرنا۔
سوال 3 : مندرجہ ذیل امور کو واضح کریں:
ا- وہ چیزیں جن سے نجاست دور کی جاتی ہے۔
ب- نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرنے کا حکم۔
ج- مرد کے سَتر کی حد کیا ہے؟
د- جب نمازی مسجد حرام میں ہو تو اس کا رخ کس طرف ہونا چاہیے؟
هـ- نماز میں عورت کے سَتر کی حد کیا ہے؟
نواں سبق [18]
[18] معلم کے لیے: سورج جب مشرق کی جانب سے طلوع ہوتا ہے تو ہر کھڑی چیز کا ایک لمبا سایہ ہوتا ہے۔ جیسے جیسے سورج بلند ہوتا جاتا ہے وہ سایہ کم ہوتا جاتا ہے۔ سورج کے بلند ہونے کے ساتھ ساتھ وہ سایہ مسلسل کم ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب سورج بیچ آسمان میں آجاتا ہے تو سائے کا کم ہونا ختم ہو جاتا ہے۔ پھر جب سایہ بڑھنا شروع ہو جائے تو سورج ڈھل جاتا ہے اور اس وقت ظہر کا وقت شروع ہو جاتا ہے اور اس وقت تک رہتا ہے جب تک کسی چیز کا سایہ زوال کے بعد اس کے ہم مثل نہ ہو جائے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ زوال کے وقت جو سایہ ہوتا ہے اسے شمار نہیں کیا جاتا۔ لہذا جب سائے کا کم ہونا ختم ہو جائے اور وہ بڑھنا شروع کر دے تو اس کے بڑھنے کے آغاز پر ایک نشان لگا دیں۔ پھر جب اس نشان سے سایہ اس چیز کی لمبائی (قد) کے برابر بڑھ جائے تو ظہر کا وقت ختم ہو جاتا ہے اور عصر کا وقت داخل ہو جاتا ہے۔ عصر کا وقت ختم ہونے کے حوالے سے بھی یہی طریقہ ملحوظ رہے گا۔ فجر دو ہیں: پہلی فجر (فجرِ کاذب) اس سے مراد وہ لمبی سفیدی ہے جو آسمان میں مشرق سے مغرب تک پھیلی ہوتی ہے۔ اس پر کوئی حکم مرتب نہیں ہوتا۔ دوسری فجر (صبح صادق) یعنی وہ سفیدی جو افق پر شمال سے جنوب تک چوڑائی میں پھیلی ہوتی ہے۔ یہی وہ فجر ہے جس پر فجر کا وقت شروع ہونے، روزے دار کا روزہ شروع کرنے اور اس جیسے دیگر احکام مرتب ہوتے ہیں۔ - شفق: اس سے مراد وہ سرخی ہے جو غروبِ آفتاب کے کچھ ہی دیر بعد افق پر ظاہر ہوتی ہے اور عشا تک رہتی ہے۔
فرض نمازوں کے اوقات [19]
[19] استاد طلبہ کو درج ذیل امور پر متنبہ کرے: - مسجد میں باجماعت وقت پر نماز ادا کرنے کا اہتمام، جب کہ عورت اپنے گھر میں نماز پڑھے گی- - جلدی سونا تاکہ طالبِ علم کو مناسب آرام مل سکے اور فجر کی نماز کے لیے چستی کے ساتھ بیدار ہو سکے- - بلا ضرورت دیر تک جاگنے کے نقصانات-
فرض نماز کے اوقات یہ ہیں:
1۔ فجر کا وقت: فجرِ صادق سے طلوعِ شمس تک
2. ظہر کا وقت: سورج کے ڈھلنے سے لے کر اس وقت تک جب کہ ہر چیز کا سایہ اس کے ہم مثل ہوجائے۔
3. عصر کا وقت: ظہر کا وقت ختم ہونے سے لے کر اس وقت تک جب کہ ہر چیز کا سایہ اس کے دوگنا ہو جائے۔
4. مغرب کا وقت: سورج ڈوبنے سے لے کر اس وقت تک جب شفق کی لالی غائب ہوجائے
5. عشا کا وقت: شفق کی لالی غائب ہونے سے لے کر آدھی رات تک
نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرنے کا حکم:
نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرنا جائز نہيں۔ جس نے ایسا کیا، اس نے بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "ان نمازیوں کے لئے افسوس (اور ویل نامی جہنم کی جگہ) ہے۔ جو اپنی نماز سے غافل ہیں"۔ [الماعون : 4-5]
یعنی: وقت پر نماز پڑھنے کی بجائے تاخیر سے پڑھتے ہیں۔
چھوٹی ہوئی نماز کی قضا:
جو شخص نماز کے وقت سوجائے یا نماز پڑھنا بھول جائے یہاں تک کہ اس کا وقت نکل جائے، تو اس پر واجب ہے کہ جب وہ بیدار ہو یا اسے یاد آئے تو نماز پڑھ لے۔ اس میں تاخیر جائز نہیں ہے۔ اس کی دلیل انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے، جس میں وہ کہتے ہيں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا نماز کے وقت سوجائے، تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب یاد آئے تو اسے پڑھ لے“۔ ایک دوسری روایت میں ہے: ’’اس کے سوا اس کا کوئی کفارہ نہیں ہے۔‘‘ [20]۔ [20] صحیح مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب: قضاء الفائتة واستحباب تعجيل قضائها (1/477)، حدیث نمبر: 684۔
نمازِ عشا سے پہلے سونے اور اس کے بعد گفتگو کرنے کا حکم:
نمازِ عشا سے پہلے سونا اور اس کے بعد بات چیت کرنا مکروہ ہے۔ ہاں، کوئی ضرورت ہو تو بات الگ ہے۔ مقصد یہ ہے کہ رات کا قیام کرنے میں سستی نہ ہو یا فجر کی نماز فوت نہ ہو جائے۔ اس کی دلیل ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث ہے، جس میں وہ کہتے ہیں: ’’رسول اللہ ﷺ عشا سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔‘‘ [21] [21] اس حدیث کو امام بخاری نے كتاب مواقيت الصلاة، باب: ما يكره من النوم قبل العشاء میں، حدیث نمبر: (568) کے تحت روایت کیا ہے۔
سوالات:
س1: خالی جگہ کو پر کریں:
1- نمازِ فجر کا وقت ..................... 2- نمازِ ظہر کا وقت .....................
3- نمازِ عصر کا وقت ..................... 4- نمازِ مغرب کا وقت .....................
5- نمازِ عشا کا وقت ..................... .....................
س2: خالی جگہ کو پر کریں:
1- نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرنا .....................، جس نے ایسا کیا اس نے ..................... ، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿ﭐ.................... سَاهُونَ٥﴾ یعنی: .....................
2- جو شخص نماز کے وقت سو جائے یا نماز بھول جائے یہاں تک کہ اس کا وقت نکل جائے، تو اس پر واجب ہے کہ جب .......................تو ...................، اس کے لیے اس میں ..................... جائز نہيں ہے۔
سوال 3 : درج امور کا سبب بتائیں:
1- عشا سے پہلے سونا مکروہ ہے ..................... .....................
2- عشا کے بعد گفتگو کرنا مکروہ ہے ..................... .....................
دسواں سبق [22]
[22] استاد کے لیے ہدایات:- طمانینت، واجب ذکر کی ادائیگی کے بقدر سکون اور ٹھہراؤ کو کہتے ہیں۔ یہ خشوع وخضوع سے مختلف ہے جو کہ دل کی حاضری کا نام ہے۔ خشوع نماز کا ایک مشروع امر بلکہ نماز کا مغز اور اس کی روح ہے۔ کیونکہ انسان کے حصے میں نماز کا صرف اتنا ہی حصہ آتا ہے، جو اس نے سمجھ کر ادا کیا ہو۔ اسی لیے استاد طلبہ کو نماز میں خشوع کی اہمیت سے آگاہ کرے اور ان کے سامنے اس کے اسباب بیان کرے۔ چونکہ حدیث المسیء صلاتہ میں نماز کے متعدد ارکان یک جا طور پر بیان ہوئے ہیں، لہذا استاد اسے سب سے پہلے اس مقام پر ذکر کرے جہاں "تکبیر تحریمہ" کا بیان آیا ہے۔ پھر اس حدیث کی روشنی میں ان ارکان کو واضح کرے اور ان کے درمیان ربط پیدا کرے۔
نماز کے ارکان
نماز کے چودہ ارکان ہیں، جو کہ یہ ہیں:
1- استطاعت ہونے کی صورت میں فرض نماز کھڑے ہو کر پڑھنا۔ اس کی دلیل عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، جس میں وہ فرماتے ہیں کہ مجھے بواسیر کا مرض تھا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے نماز کے بارے میں پوچھا کہ کیسے پڑھوں، تو آپﷺ نے فرمایا: "کھڑے ہو کر نماز پڑھو۔ اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھ لو اور اگر بیٹھ کر بھی پڑھنے کی طاقت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھ لو"۔ [23] [23] اس حدیث کو امام بخاری نے كتاب التهجد، باب: إذا لم يُطِق صَلَّى قاعِدًا على جَنْب میں، حدیث نمبر (1117) کے تحت روایت کیا ہے۔
2- نماز کے آغاز میں تکبیر تحریمہ یعنی "اللہ اکبر" کہنا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو تکبیر (اللہ اکبر) کہو۔“ [24] [24] امام بخاری نے کتاب الأذان، باب وجوب القراءة للإمام والمأموم في الصلوات كلها میں، حدیث نمبر (757) کے تحت اور امام مسلم نے اسے كتاب الصلاة، باب وجوب قراءة الفاتحة في كل ركعة میں، حدیث نمبر (397) کے تحت روایت کیا ہے۔
3- ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنا، کیونکہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: "اس شخص کی نماز نہیں جس نے سورہ فاتحہ نہیں پڑھی"۔ [25] [25]اس حدیث کو امام بخاری نے کتاب الأذان، باب: وجوب القِراءَة لِلإمامِ والمأمومِ في الصَّلواتِ كلِّها میں، حدیث نمبر (756) کے تحت روایت کیا ہے۔
۴- رکوع کرنا، کیوں کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: "اطمینان سے رکوع کرو۔"
۵- رکوع سے سر اٹھانا اور اس سے اٹھنے کے بعد سیدھے کھڑے ہو جانا، کیوں کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: ''پھر (اپنا سر) اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ''۔
۶- سات اعضا پر سجدہ کرنا۔ اس کی دلیل ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث ہے، جس میں وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "مجھے سات اعضا پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے: پیشانی پر -اور آپ نے اپنے ہاتھ سے ناک کی طرف اشارہ کیا -، دونوں ہاتھوں، دونوں گھٹنوں اور دونوں قدموں کی انگلیوں پر"۔ [26] [26] اس حدیث کو بخاری نے كتاب الأذان، باب: السُّجود على الأَنْفِ میں، حدیث نمبر (812) کے تحت، اور مسلم نے كتاب الصَّلاةِ، باب: أعضاء السُّجودِ والنَّهْي عن كَفّ الشَّعْرِ والثَّوْبِ وعَقْصِ الرَّأسِ في الصَّلاةِ میں، حدیث نمبر (490) کے تحت روایت کیا ہے۔
سات اعضا یہ ہیں:
1- پیشانی، ناک کے ساتھ
2-3 دونوں ہتھیلیاں
4-5 دونوں گھٹنے
6-7 دونوں پاؤں کے کنارے
۷- سجدہ سے سر اٹھانا۔
8- دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا۔ سجدہ سے سر اٹھانے اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کی دلیل آپ ﷺ کا یہ فرمان ہے: "پھر سر اٹھاؤ اور اطمینان کے ساتھ بیٹھو"۔ [27] [27] امام بخاری نے اسے کتاب الأذان، باب: وُجوب القِراءَة لِلإمامِ والمأموم في الصَّلَوات كلِّها میں، حدیث نمبر (757) کے تحت روایت کیا ہے۔ یہ الفاظ انہی کے ہیں۔ امام مسلم نے اسے کتاب الصَّلاة، باب: وجوب قِراءَة الفاتحة في كلِّ ركعَة میں، حدیث نمبر (397) کے تحت روایت کیا ہے۔
۹- آخری تشہد۔ یعنی تشہد پڑھنا۔
10- آخری تشہد کے لیے بیٹھنا۔ اس کی دلیل ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ قول ہے: تشہد فرض ہونے سے پہلے ہم نماز میں اس طرح کہتے تھے: السَّلام على اللهِ، السَّلامُ على جِبْرِيلَ ومِيكائِيلَ۔ (سلام ہو اللہ پر اور سلام ہو جبریل اور میکائیل پر۔) چنانچہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کہو؛ کیوں کہ اللہ عزوجل تو خود ہی سلامتی دینے والا ہے، بلکہ تم یہ کہو: تمام قولی، فعلی اور مالی عبادات اللہ کے لیے خاص ہیں۔ اے نبی! آپ پر اللہ کی رحمت، سلامتی اور برکتیں ہوں، نیز ہم پر اور اللہ کے (دوسرے) نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ [28] [28] سنن نسائی: کتاب السهو، باب: إيجاب التشہد، حدیث نمبر: 1277۔ یہ الفاظ نسائی کے ہیں۔ اسے بیہقی نے کتاب الصلاۃ، باب: وجوب التشہد الأخیر (2/378) میں روایت کیا ہے۔ اس حدیث کے شواہد صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہیں۔ البتہ ان میں " قَبْلَ أن يُفْرَضَ " کا ذکر نہیں ہے۔
11- آخری تشہد پڑھنے کے بعد نبی ﷺ پر درود بھیجنا۔
نبیﷺ پر درود بھیجنے کی دلیل:
آپ علیہ الصلاۃ والسلام کا فرمان ہے: "کہو: (اے اللہ! محمد اور آل محمد پر تو اسی طرح درود بھیج جیسے تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر درود بھیجا۔ یقیناً تو تعریف اور بزرگی کے لائق ہے۔ اے اللہ! محمد اور آل محمد پر اسی طرح برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر نازل فرمائی ہیں۔ یقیناً تو تعریف اور بزرگی کے لائق ہے)"۔ [29] [29] صحیح بخاری، كتاب أحاديث الأنبياء۔ مذکورہ الفاظ صحیح بخاری کے ہیں۔ دیکھیے حدیث نمبر (3370)۔ صحیح مسلم، كتاب الصلاة، باب الصلاة على النبي ﷺ۔
12- دونوں سلام پھیرنا، کیونکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: ”نماز سے حلال ہونے کا ذریعہ سلام پھیرنا ہے۔“ [30] [30] سنن ابو داود (1/16)، حدیث نمبر: 61 اور جامع الترمذی (1/8)، حدیث نمبر: 3۔
13- تمام ارکان میں اطمینان سے کام لینا۔ اس کی دلیل حدیث مسيىء الصلاة (نماز بگاڑ کر پڑھنے والے صحابی کا قصہ) ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ مسجد میں تشريف لے گئے، تو ایک شخص مسجد ميں داخل ہوا، اس نے نماز پڑھی، پھر نبی ﷺ کو سلام کیا، تو آپ ﷺ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ”لوٹ جاؤ، پھر نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی“۔ چنانچہ اس نے لوٹ کر (دوبارہ) اسی طرح نماز پڑھی جیسے پہلے پڑھی تھی۔ پھر آیا اور نبی ﷺ کو سلام کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوٹ جاؤ، پھر نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی“.. (اسی طرح) تین مرتبہ ہوا، تو اس شخص نے کہا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں اس سے بہتر نماز نہیں پڑھ سکتا ہوں۔ لہٰذا آپ مجھے سکھا دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو تکبیر کہو، پھر جتنا قرآن تم آسانی سے پڑھ سکتے ہو پڑھو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ رکوع میں تمہیں اطمینان حاصل ہو جائے، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ ميں تمہیں اطمینان حاصل ہو جائے، پھر سر اٹھاؤ، یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ اور اپنی پوری نماز میں اسی طرح کرو“۔ [31] [31] امام بخاری نے کتاب الأذان، باب وُجوب القِراءَةِ لِلإمامِ والمأموم في الصَّلوات كلِّها میں، حدیث نمبر (757) کے تحت روایت کیا ہے۔ یہ الفاظ انہی کے ہیں۔ جب کہ امام مسلم نے اسے كتاب الصلاة، باب وُجوب قِراءَة الفاتحةِ في كلِّ رَكْعَةٍ میں، حدیث نمبر (397) کے تحت روایت کیا ہے۔
14- ارکان کے درمیان ترتیب؛ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ترتیب کے ساتھ نماز ادا کی اور فرمایا: ”تم اسی طرح نماز پڑھو، جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔“ [32] [32] اس حدیث کو امام بخاری نے کتاب الأذان، باب: الأذان لِلمُسافِرِينَ إذا كانوا جَماعَةً والإقامَة میں، حدیث نمبر: (631) کے تحت روایت کیا ہے۔
سوالات:
س۱: نماز کے ارکان گنائیں۔
س2 : اس کی دلیل ذکر کیجیے کہ نیچے دیا گیا ہر عمل نماز کے ارکان میں سے ایک رکن ہے:
1- قیام کرنا۔ 2- سورہ فاتحہ پڑھنا۔ 3- سجدہ کرنا۔ 4- دونوں سلام پھیرنا۔
س3: مندرجہ ذیل ارکان کو نماز میں ان کے مقام کے مطابق ترتیب دیں:
آخری تشہد میں بیٹھنا - سورہ فاتحہ پڑھنا - دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا - رکوع کرنا
سوال 4 : سات اعضا کون کون سے ہیں؟
..................... ..................... ..................... ..................... .....................
س5: آخری تشہد تحریر کریں۔
..................... ..................... ..................... ..................... .....................
س6: درود شریف لکھیں۔
..................... ..................... ..................... ..................... .....................
گیارہواں سبق [33]
[33]استاد کے لیے ہدایات:- استاد طلبہ کے لیے امام، مقتدی اور منفرد کے درمیان فرق واضح کرے: امام: وہ شخص ہے جو نماز میں لوگوں کی امامت کرے۔ یعنی انہیں نماز پڑھائے۔ مقتدی: وہ شخص ہے جو امام کی اقتدا کرے۔ یعنی اس کے ساتھ نماز پڑھے۔ منفرد: وہ شخص ہے جو اکیلے نماز پڑھے۔ - رکوع کی تکبیر واجب ہے۔ الا یہ کہ کوئی شخص امام کو رکوع کی حالت میں پائے، تو وہ کھڑے ہو کر تکبیر تحریمہ کہے، پھر رکوع کی تکبیر کہتے ہوئے رکوع کرے، اس کے لیے ایسا کرنا ممکن ہو تو یہ مستحب ہے، ورنہ تکبیر تحریمہ ہی کافی ہوگی۔
نماز کے واجبات
نماز کے واجبات آٹھ ہیں، جو کہ یہ ہیں:
1- تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ تمام تکبیرات، کیونکہ تکبیر تحریمہ رکن ہے۔
2- امام اور منفرد کے لیے (سمعَ اللهُ لِمَن حَمِدَه) کہنا۔ مقتدی کے لیے نہیں۔
۳- امام، مقتدی اور منفرد کے لیے (رَبَّنا ولك الحمْدُ) کہنا۔
4- رکوع میں (سُبْحانَ رَبي العَظِيم) پڑھنا۔
5- سجدہ میں (سُبْحانَ ربي الأَعْلَى) پڑھنا۔
6- دونوں سجدوں کے درمیان (رَبّ اغْفِر لي) کہنا۔
7- پہلا تشہد۔
8- پہلے تشہد کے لیے بیٹھنا۔
سوالات:
س1: نماز کے واجبات شمار کریں۔
س2: صحیح جواب کے نمبر پر دائرہ بنائیں:
الف- سَمِعَ اللهُ لِمَن حَمِدَه کون کہے گا؟
1- امام، مقتدی اور منفرد۔ 2- صرف امام اور منفرد۔ 3- صرف امام اور مقتدی۔
ب- رَّبنا ولك الحمْد کون کہے گا:
1- امام، مقتدی اور منفرد۔ 2- صرف امام اور منفرد۔ 3- صرف امام اور مقتدی۔
ج- سُبْحانَ ربي العَظِيم پڑھا جاتا ہے:
1- سجدے میں 2- دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھ کر۔ 3- رکوع میں۔
س3: مناسب جگہ پر (رکن / واجب) لکھیں:
رکوع سے سر اٹھانا
تکبیر تحریمہ
(رَبِّ اغْفِرْ لي) کہنا۔
(سُبْحان ربي الأَعْلى) کہنا
سورہ فاتحہ پڑھنا
پہلا تشہد
نبی ﷺ پر درود بھیجنا
بارہواں سبق [34]
[34] معلم کے لیے تنبیہات: جو شخص نماز کا کوئی رکن، جیسے رکوع یا سجدہ، بھول کر یا لا علمی کی بنا پر چھوڑ دے، تو اس کی کئی صورتیں ہیں: 1- اسے دوسری رکعت کی قراءت شروع کرنے سے پہلے یاد آجائے، تو اس صورت میں اس پر واجب ہے کہ وہ واپس لوٹے اور اس رکن کو اور اس کے بعد دیگر ارکان کو ادا کرے، اپنی نماز مکمل کرے اور سجدۂ سہو کرے۔ 2- اسے دوسری رکعت کی قراءت شروع کرنے کے بعد یاد آئے، تو اس صورت میں وہ رکعت باطل ہو جائے گی جس کا رکن اس نے چھوڑا تھا، اور بعد والی رکعت اس کی جگہ لے لے گی اور اخیر میں سجدۂ سہو کرے گا۔ 3- اسے نماز ختم ہونے کے بعد یاد آئے، تو یہ پوری رکعت چھوڑنے کے مترادف ہوگا۔ اس صورت میں اگر زیادہ وقفہ نہ گزرا ہو تو وہ ایک رکعت پوری ادا کرے گا، تشہد پڑھے گا، سجدۂ سہو کرے گا اور سلام پھیرے گا۔ اگر زیادہ وقفہ گزر گیا ہو تو نئے سرے سے نماز پڑھے گا اور اس پر سجدۂ سہو نہیں ہوگا۔ 4- اگر چھوڑا گیا رکن آخری تشہد یا سلام ہو، تو اس صورت میں اس پر لازم ہے کہ جو اس نے چھوڑا ہے اسے ادا کرے، سجدۂ سہو کرے اور سلام پھیرے، اور یہ پوری رکعت چھوڑنے کے مترادف نہیں ہوگا۔
رکن اور واجب کے درمیان فرق
رکن اور واجب کے درمیان ایک چیز میں اتفاق پایا جاتا ہے اور دوسری چیز میں اختلاف پایا جاتا ہے:
ا- وہ امر جس میں رکن اور واجب متفق ہیں:
رکن اور واجب اس بات میں یکساں ہیں کہ جب نمازی ان دونوں میں سے کسی ایک کو بھی جان بوجھ کر چھوڑ دے تو اس کی نماز باطل ہو جاتی ہے۔
ب- رکن اور واجب میں فرق:
- رکن کو اگر نمازی بھول چوک میں یا لا علمی کی وجہ سے چھوڑ دے تو وہ ساقط نہیں ہوتا؛ بلکہ اس پر واجب ہے کہ وہ اسے ادا کرے اور سجدہ سہو کرے۔
- واجب کو اگر نمازی بھول چوک میں یا لا علمی کی وجہ سے چھوڑ دے تو وہ ساقط ہو جاتا ہے۔ اس کے بدلے سجدہ سہو کرنا ہوتا ہے۔
سوالات:
س۱: (صحیح) میں صحیح یا (غلط) میں غلط لکھ کر جواب دیں اور غلطی کو درست کریں:
1- رکن کو اگر نمازی جان بوجھ کر چھوڑ دے تو اس کی نماز باطل ہوجاتی ہے۔
2- اگر نمازی واجب کو جان بوجھ کر چھوڑ دے تو اس کی نماز باطل ہوجائے گی۔
3- جب نمازی بھول چوک میں رکن چھوڑ دے تو اس کی نماز باطل ہوجاتی ہے۔
سوال2: صحیح جواب کے نمبر پر دائرہ بنائیں:
أ- اگر نمازی واجب چھوڑ دے تو ساقط ہو جاتا ہے:
1- بھول کر 2- جان بوجھ کر 3- کبھی ساقط نہیں ہوتا۔
ب- رکن ساقط ہوجاتا ہے اگر نمازی اسے چھوڑ دے:
1- لا علمی کی بنا پر 2- بھول چوک میں 3- کبھی ساقط نہیں ہوتا۔
ج- اگر نمازی واجب عمل بھول چوک میں چھوڑ دے تو وہ:
1- اسے ادا کرے گا۔ 2- اس کے بدلے سجدۂ سہو کرے گا۔ 3- اس پر کچھ لازم نہیں۔
تیرہواں سبق
سورہ فاتحہ کی تفسیر
بِسۡمِ ٱللَّهِ یعنی: میں اللہ سے مدد طلب کرتے ہوئے آغاز کرتا ہوں۔
الرحمن یعنی: ساری مخلوقات کے لیے وسیع اور بے پناہ رحمتوں والا۔
ٱلرَّحِيمِ یعنی: اپنے مؤمن بندوں کے ساتھ خاص رحمت کا معاملہ کرنے والا۔
﴿ﭐٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ﴾ حمد: اللہ تعالی کے اوصافِ کمال اور عظیم انعامات کی بنا پر اس کی تعریف وستائش کرنا۔
{رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ} رب سے مراد ہے: وہ ذات جو مالک اور مدبر ہے۔ {العالَمِينَ} : یہ عالم کی جمع ہے۔ اللہ کے سوا ساری مخلوقات کو عالم (جہان) کہتے ہیں۔ (رَبّ العالَمِين) کا معنی ہے: ساری مخلوقات کا مالک، انہیں پالنے والا اور ان کے معاملات کی تدبیر کرنے والا۔
﴿الرحمن الرحیم﴾ یہ اللہ عز وجل کے دو نام ہیں جو صفتِ رحمت پر مشتمل ہیں۔
﴿مَٰلِكِ يَوۡمِ ٱلدِّينِ﴾ یعنی: اعمال کے حساب وکتاب اور جزا وسزا کے دن یعنی قیامت کے دن کا مالک۔
{إِيَّاكَ نَعۡبُدُ} : ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرتے۔ عبادت: کامل محبت اور کامل عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا نام ہے۔
{وَإِيَّاكَ نَسۡتَعِينُ} یعنی: ہم تجھ ہی سے مدد طلب کرتے ہیں اور تیرے سوا کسی اور سے مدد طلب نہیں کرتے۔ استعانت: اللہ عز وجل سے مدد طلب کرنا۔
﴿ٱهۡدِنَا﴾ یعنی: ہماری رہنمائی فرما اور ہمیں توفیق عطا فرما۔
﴿ٱلصِّرَٰطَ ٱلۡمُسۡتَقِيمَ﴾ یعنی: ایسا واضح راستہ جس میں کوئی کجی نہ ہو۔ دراصل یہ وہ دین ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر نازل فرمایا۔
{صِرَٰطَ ٱلَّذِينَ أَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِمۡ} یعنی: ان انبیا، صدیقین، شہدا اور صالحین کا راستہ، جنھیں تو نے ہدایت سے سرفراز کیا۔
{غَيۡرِ ٱلۡمَغۡضُوبِ عَلَيۡهِمۡ} (ان کا راستہ نہیں، جن پر تیرا غضب نازل ہوا ہے): یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے علم پر عمل نہیں کرتے، جیسے یہود اور ان جیسے دیگر لوگ۔
{وَلَا ٱلضَّآلِّينَ} (اور نہ ان کا راستہ جو گمراہ ہوئے): ان سے مراد وہ لوگ ہیں جو بغیر علم کے عمل کرتے ہیں، جیسے نصاریٰ اور ان جیسے دیگر لوگ۔
سوالات:
س1: (بِسْمِ اللهِ) کا کیا معنی ومطلب ہے؟
س2 : مندرجہ ذیل جملوں کے معانی بیان کیجیے: (الحمد للہ)، (رب العالمین)، (الصراط المستقیم)۔
س3: (عبادت) اور (استعانت) کی تعریف کریں۔
سوال 4 : وہ کون لوگ ہیں جن پر اللہ نے انعام فرمایا؟ اور انہیں کس چیز سے نوازا؟
س5: وه کون سی قوم ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا؟
س6: وہ کون لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے گمراہی سے متصف کیا ہے؟
چودھواں سبق:
تشہد کے معنی ومفہوم کی وضاحت
"تمام قولی، فعلی اور مالی عبادات اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلامتی، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔"
"التَّحيّاتُ لله":
تحیّات: تحیہ کی جمع ہے۔ تحیہ کے معنی تعظیم کے ہیں۔ مجموعی معنی یہ ہیں: تعظیم کی تمام قِسمیں اللہ تعالی کے لیے سزاوار ہیں۔
صلوات: یعنی نمازیں جنھیں ہم سب جانتے ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد دعائیں ہیں۔
لفظِ طیبات سے مراد وہ نیک اقوال وافعال ہیں، جنہیں اللہ تعالی قبول فرماتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ بے شک اللہ تعالی طیبات کے سوا کچھ قبول نہیں فرماتا؛ کیونکہ اللہ تعالی پاک ہے اور پاکیزہ چیز ہی قبول فرماتا ہے۔
السَّلامُ عليكُم أيُّها النَّبيُّ ورَحْمَة اللهِ وبَركاتُه: یہ نبی ﷺ کے لیے ایسی سلامتی کی دعا ہے، جس میں ناپسندیدہ چیزوں سے نجات ہے؛ ایسی رحمت کی دعا ہے، جس میں مقصد کا حصول ہے اور ایسی برکت کی دعا ہے، جس سے مراد ہر بھلائی میں اضافہ ہے۔
السَّلامُ عَلَيْنا وعلى عِبادِ اللهِ الصّالِحِينَ: یہ انبیا، فرشتے اور ایسے اہلِ ایمان ہیں جو اللہ کے اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرتے ہیں۔ یہ دراصل نمازی اور ہر نیک بندے کے لیے ناپسندیدہ چیزوں سے سلامتی کی دعا ہے۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں:
(أَشْهَد) یعنی میں اپنے دل سے اقرار کرتا ہوں، اپنی زبان سے ادا کرتا ہوں اور اپنے اعضا وجوارح سے عمل کرکے دکھاتا ہوں۔
(لا الہ الا اللہ) : یعنی اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہیں ہے۔
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں: یعنی میں اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے ہیں، لہذا آپ کی عبادت نہیں کی جا سکتی، اور اللہ کی طرف سے رسول ہیں، لہذا آپ کو جھٹلایا نہیں جا سکتا؛ بلکہ آپ کی اطاعت اور پیروی کی جائے گی۔
سوالات:
س1: درج ذیل کلمات کا معنی بیان کریں: (التَّحِيّات) ، (الصَّلَواتُ) ، (الطَّيِّباتُ)۔
س2: ہمارے قول: (السَّلامُ عَلَيْكَ أيُّها النَّبيُّ وَرَحْمَة اللهِ وبَركاتُه) میں نبی سے کیا مراد ہے؟
س3: (لا الہ الا اللہ) کا معنی ومطلب کیا ہے؟
س4: (میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں) کا معنی ومطلب کیا ہے؟
پندرھواں سبق [35]
[35] استاد کے لیے ہدایات: استاد اس سبق سے استفادہ کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے بعض پہلوؤں کا ذکر کرے اور طلبہ کے دلوں میں آپ کی محبت پیدا کرے، انہیں آپ کی اطاعت واتباع پر ابھارے اور آپ کی مخالفت سے خبر دار کرے، کیونکہ آپ کی اطاعت واتباع میں بڑی کامیابی ہے اور آپ کی نافرمانی ومخالفت میں ہلاکت اور کھلی گمراہی ہے۔ اسی طرح وہ طلبہ کو آپ پر کثرت سے درود وسلام پڑھنے کی ترغیب دے اور اس کی فضیلت بھی بیان کرے۔ دیکھیں: ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ کی کتاب (جلاء الأفهام في فضل الصلاة والسلام على محمد خير الأنام)۔
نبی ﷺ پر درود بھیجنے کا معنی ومطلب
"اے اللہ! محمد پر اور آل محمد پر رحمت نازل فرما، جیسے تو نے ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر رحمت نازل کی ہے۔ بے شک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔ اور محمد پر اور آل محمد پر برکت نازل فرما، جیسے تو نے ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر برکت نازل کی ہے۔ بے شک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔"
اللَّهُمَّ: یعنی: اے اللہ۔
صَلّ على محمَّد: یعنی: اے اللہ! مقرب فرشتوں کے سامنے محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی تعریف کر۔
آل محمد صلی اللہ علیہ و سلم: ان سے مراد آپ کے رشتے دار اور آپ کے دین کے پیروکار ہیں۔
وبارِك على محمَّد: یعنی: آپ (ﷺ) پر برکت نازل فرما۔ برکت سے مراد خیر کی کثرت ہے۔
حمید: یعنی محمود (قابلِ تعریف)، کیوں کہ اللہ صفاتِ کمال سے متصف اور عظیم انعامات سے نوازنے والا ہے۔
مجید: یعنی صاحبِ مجد۔ مجد کے معنی عظمت اور اقتدار کے ہیں۔
سوالات:
س1: درج ذیل الفاظ کے معانی بیان کریں: (اللہم) ، (حمید) ، (مجید)۔
س۲: خالی جگہ کو پر کریں:
1- اللہ کی طرف سے نبی ﷺ پر درود بھیجنے کا معنی: ..................... .....................
2- آل محمد یہ ہیں: ..................... ..................... .....................
3- برکت سے مراد ہے: ..................... .....................
4- (حمید) اور (مجید) ..................... ..................... کے اسما میں سے دو اسم ہیں۔
عنوان: نصاب تعلیم، کتاب التوحید، درجہ (چہارم)
مختصر تعارف: یہ علمی مواد سعودی عرب کے اس نصاب تعلیم کی تہذیب وتلخیص ہے جسے طلبہ کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ نصاب تعلیم مختلف مراحل پر مشتمل ہے۔ اس نصاب میں علم توحید سے متعلق خاص مواد بھی شامل ہیں، جو 12 درجات میں منقسم ہیں۔ درجہ چہارم میں جو موضوعات شاملِ نصاب ہیں ان میں چند اہم ترین موضوعات یہ ہیں: مخلوق کی پیدائش کی حکمت کا بیان، عبادت کی تعریف اور اس کی بعض قسموں کا تذکرہ، توحید کی اقسام اور ان میں سے ہر قسم کی دلیل کا بیان، نیز طاغوت کے معنی کی وضاحت اور اس کی صورتوں اور قسموں کا بیان۔
درجہ چہارم
مقدمہ
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا۔ جس نے انسان کو وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا۔ درود وسلام نازل ہو نبی امی پر جن کو اللہ نے اس لیے مبعوث فرمایا کہ لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں۔ حمد وصلاۃ کے بعد:
اللہ عز وجل کی توحید پر قائم رہنا سب سے بڑا واجب ہے، اس کا علم حاصل کرنا سب سے معزز اور افضل علم ہے اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر اعمال کی صحت اور مقبولیت کا دار ومدار ہے۔ بندوں کو تمام ضرورتوں سے زیادہ اسی کی ضرورت ہے، کیوں کہ یہی دلوں کی زندگی ہے۔ پروردگار، معبود اور خالق کو اس کے اسما وصفات اور افعال کے ذریعہ جانے بغیر نہ دلوں کو زندگی ملتی ہے، نہ نعمت وخوش حالی حاصل ہوسکتی ہے اور نہ اطمینان وسکون۔ اسی طرح دین میں تفقہ حاصل کرنا اور طہارت اور نماز جیسی عبادتوں کی ادائیگی کا طریقہ جاننا سعادت مندی کی علامت اور اس بات کی نشانی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: "جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے"۔ [1] [1] اسے بخاری نے کتاب العلم باب من یرد اللہ به خيراً يفقهه في الدين‘ میں حدیث نمبر (7) کے تحت روایت کیا ہے۔
اسی اہمیت کے پیش نظر مکتب توعیۃ الجالیات نے طلبہ کے دلوں میں صحیح عقیدہ کو راسخ کرنے کی غرض سے توحید کا مادہ پڑھانے کا خاص اہتمام کیا ہے، تاکہ طلبہ اپنے دینی احکام سے متعلق بصیرت وآگہی حاصل کرسکیں۔
مادۂ توحید کے اس درجہ چہارم میں طلبہ مخلوق کی تخلیق کی حکمت، توحید اور اس کی اقسام، لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی سب سے پہلی فرض کردہ عبادت اور طواغیت کے سرداروں کے بارے میں تعلیم حاصل کریں گے۔
ہر سبق کے لیے کچھ خاص اہداف مقرر کیے گئے ہیں، جو مادہ کے مزاج سے ہم آہنگ ہیں۔ اختصار، واضح اسلوب، موضوعات میں ترتیب اور پہلے پڑھے گئے سبق سے اس کا ربط بحال رکھنے کا پورا اہتمام کیا گیا ہے۔ ہر سبق کے لیے کچھ سوالات بھی بنائے گئے ہیں اور استاد کے لیے اہم ہدایات بھی پیش کی گئی ہیں، تاکہ ان کی روشنی میں مطلوبہ مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔
معلم کی خدمت میں چند نصیحتیں:
1- اللہ تعالی کے لیے مخلص ہونا عمل کی قبولیت کے لیے شرط ہے۔ اس لیے اپنا عمل صرف اللہ پاک کے لیے خالص رکھیے، آپ دنیا وآخرت میں کامیاب رہیں گے۔
2- امانت کی حفاظت نجات کا ذریعہ ہے اور آپ -اے میرے معلم بھائی- اسلام کی ایک سرحد کے نگہبان اور مسلم بچوں کی عقل وفطرت کے امین ہیں۔ لہٰذا امانت کی حفاظت کریں، تاکہ آپ دونوں جہان میں فلاح پا سکیں۔
3- مادۂ توحید کی تعلیم ایک عظیم ترین عمل ہے، کیوں کہ توحید کی معرفت اور اس پر عمل کے بغیر بندوں کو نہ تو بھلائی حاصل ہو سکتی ہے اور نہ دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے نجات۔ اس لیے طلبہ کے دلوں میں صحیح عقیدہ کو راسخ کرنے کی پوری کوشش کریں اور آپ جن بلند اخلاق اور اعلیٰ اقدار کی دعوت دے رہے ہیں، ان کے سچے ترجمان اور زندہ مثال بن کر رہیں۔
4- جب آسمان میں گھنگھور گھٹا چھا جائے، بجلی چمکنے لگے، بادل گرجنے لگے، بارش ہونے لگے اور اس طرح کے ایسے واقعات رونما ہوں جن سے مسلمان کے اندر ایمان کے جذبات متحرک ہوتے ہیں، تو ان مواقع کو غنیمت جانتے ہوئے اللہ کی وحدانیت اور قدرت کے بارے میں گفتگو کریں۔
5- مثالوں کے ذریعہ مادہ کو آسان بناکر پیش کرنے اور سبق کو زمینی حقائق سے جوڑ کر سمجھانے سے مادہ کے تئیں طلبہ کے اندر محبت پیدا ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ اس مادہ کو سیکھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے آمادہ ہوتے ہیں۔ اخیر میں ہم آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بشارت سناتے ہیں: “مومن کو اس کے اعمال اور نیکیوں میں سے اس کے مرنے کے بعد جن چیزوں کا ثواب پہنچتا رہتا ہے، ان میں سے وہ علم بھی ہے جو اس نے سکھایا اور پھیلایا” [2]۔ [2] سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: 242۔
وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم۔
فہرستِ عناوین:
پہلا سبق: مخلوق کی تخلیق کی حکمت۔
دوسرا سبق: عبادت
تیسرا سبق: توحید اور اس کی قسمیں۔
چوتھا سبق: توحیدِ ربوبیت۔
پانچواں سبق: توحیدِ الوہیت۔
چھٹا سبق: توحید اسما وصفات۔
ساتواں سبق: مخلوق کی طرف بھیجے گئے اللہ کے رسول۔
آٹھواں سبق: لوگوں پر اللہ کی فرض کی گئی پہلی عبادت۔
نواں سبق: حقیقی ایمان
دسواں سبق: شیطان ہی سب سے بڑا طاغوت ہے۔
گیارہواں سبق: اللہ کی شریعت کی بجائے دوسرے قوانین کے مطابق فیصلہ دینا۔
بارہواں سبق: جس نے علم غیب کا دعویٰ کیا یا اس بات پر راضی ہوا کہ لوگ اس کی عبادت کریں، تو وہ طاغوت ہے۔
تیرھواں سبق: مومن کے لیے طاغوت کا انکار ضروری ہے۔
پہلا سبق:
مخلوق کی تخلیق کی حکمت
ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، جس کی ذات تنہا کافی ہے اور سلام ہو اس کے ان بندوں پر جنہیں اس نے چن لیا ہے۔ حمد وصلاۃ کے بعد:
جان لیجیے -اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے- کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو محض اس لیے پیدا کیا کہ وہ اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔
اس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے: "میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں۔" [الذاریات : 56]
سبق کی ہدایات:
- انس وجن کی تخلیق کا سب سے عظیم مقصد صرف ایک اللہ کی عبادت ہے۔
- انسان کو اس زندگی میں کسی مقصد کے بغیر نہیں پیدا کیا گیا، جس کے حصول کی وہ کوشش کرے۔
- جس نے غیر اللہ کے لیے کوئی عبادت جیسے دعا یا ذبح وغیرہ کی، تو اس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا۔ اگر وہ اسی حالت میں دنیا سے رخصت ہو جائے تو اس کا انجام جہنم ہے اور اس پر جنت حرام ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "...یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے، اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے اور گنہگاروں کی مدد کرنے واﻻ کوئی نہیں ہوگا۔" [المائدۃ: 72]۔
سوالات:
۱- مخلوق کی تخلیق کی کیا حکمت ہے اور اس کی دلیل کیا ہے؟
2- اس زندگی میں کھانا پینا ناگزیر ہے، تو کیا ہم کھانے پینے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں؟
۳- خالی جگہوں کو پر کریں:
جس نے غیر اللہ کی عبادت کی اسے ............... کہا جاتا ہے اور اس کی سزا ............... ہے۔
4- درج ذیل عبادتوں کو اگر غیر اللہ کے لیے انجام دیا جائے، تو ان کا کیا حکم ہے:
نماز - دعا - خوف - ذبح - طواف۔
دوسرا سبق
عبادت
عبادت: ایک جامع نام ہے، جس میں وہ تمام ظاہری وباطنی اقوال واعمال شامل ہیں، جو اللہ کو محبوب اور پسند ہیں۔
عبادت کی بجا آوری، اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور اس کی منع کی ہوئی باتوں سے اجتناب کے ذریعہ اللہ کی اطاعت کرنے سے ہوتی ہے۔
سبق کی ہدایات:
عبادت کی بہت سی قسمیں ہیں۔ ظاہری عبادتیں، جیسے نماز، دعا، ذبح وقربانی، والدین کی فرمانبرداری، صلہ رحمی، نیکی اور تقویٰ کے کام میں تعاون، اللہ کی راہ میں جہاد اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر۔ اور باطنی عبادتیں جیسے محبت، خوف، خشیت اور امید۔
یہ ضروری ہے کہ تمام عبادتیں صرف اللہ کے لیے کی جائیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں۔ ابراہیم حنیف کے دین پر اور نماز کو قائم رکھیں اور زکوٰة دیتے رہیں یہی ہے دین سیدھی ملت کا۔" [البینۃ: 5] حنفاء کے معنی ہیں: تمام ادیان سے اعراض کرکے دینِ اسلام کی طرف مائل ہونے والے لوگ۔
عابد وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور اس کی نواہی سے اجتناب کرے۔
سوالات:
س1 : ظاہری عبادتوں کے نیچے خط کشید کر کے ظاہری عبادتوں اور باطنی عبادتوں میں فرق کریں:
حج - توکل - دعا - نماز - خوف - اللہ کی راہ میں جہاد۔
س2 : خالی جگہوں کو پر کریں:
ا- عبادت ایک.............. نام ہے . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .. . . . . . . . .
ب- . . . . . . . . . . .. کی تعمیل اور . . . . . . . . .. . . سے اجتناب کے ذریعے اللہ کی اطاعت کی بجا آوری ہوتی ہے۔
تیسرا سبق
توحید اور اس کی قسمیں
توحید نام ہے صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے کا۔ یہ تمام رسولوں کا وہ دین ہے، جس کے ساتھ اللہ نے انہیں اپنے بندوں کی طرف بھیجا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو۔۔۔۔" [ النحل: 36]۔ طاغوت: ہر اس باطل معبود کو کہتے ہیں، جس کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جائے اور وہ اس سے راضی ہو۔
توحید کی تین قسمیں ہیں: توحیدِ ربوبیت، توحیدِ الوہیت اور توحیدِ اسما وصفات۔
سبق کی ہدایات:
- انسان اس وقت تک موحد نہیں ہو سکتا جب تک کہ تمام طرح کی عبادتوں کو صرف ایک اللہ کے لیے خاص نہ کر دے۔
- یہ بندوں پر اللہ کی ایک رحمت ہے کہ اس نے لوگوں کی رہنمائی کرنے اور انھیں سیدھا راستہ بتانے کے لیے رسولوں کو مبعوث فرمایا۔
- تمام رسولوں نے توحید کی دعوت دی اور شرک سے روکا۔
سوالات:
س1: توحید کی تعریف بتائیں۔
س2: توحید کی قسمیں ذکر کیجیے۔
س3: انسان اللہ تعالیٰ کا موحد بندہ کب بنتا ہے؟
چوتھا سبق
توحیدِ ربوبیت
پہلی قسم: توحیدِ ربوبیت:
یعنی: اللہ تعالی کو اس کے افعال میں اکیلا ماننا۔
رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں کفار نے اس بات کا اقرار کیا تھا، لیکن اس بات نے انہیں اسلام میں داخل نہیں کیا، بلکہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے جنگ کی اور ان کے خون اور مال کو حلال سمجھا۔
اس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے: "آپ کہیے کہ وه کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے یا وه کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے اور وه کون ہے جو زنده کو مرده سے نکالتا ہے اور مرده کو زنده سے نکالتا ہے اور وه کون ہے جو تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے؟ ضرور وه یہی کہیں گے کہ اللہ۔ تو ان سے کہیے کہ پھر کیوں نہیں ڈرتے۔" [ يونس: 31]
نیز اللہ تعالی کا ارشاد ہے: "دریافت کیجیے کہ ساتوں آسمان کا اور بہت باعظمت عرش کا رب کون ہے؟ وه لوگ جواب دیں گے کہ اللہ ہی ہے۔ کہہ دیجیے کہ پھر تم کیوں نہیں ڈرتے؟ پوچھیے کہ تمام چیزوں کا اختیار کس کے ہاتھ میں ہے؟ جو پناه دیتا ہے اور جس کے مقابلے میں کوئی پناه نہیں دیا جاتا، اگر تم جانتے ہو تو بتلا دو؟ وہ کہیں گے کہ اللہ کے لیے ہے۔ کہو پھر تم کیسے دھوکہ کھا جاتے ہو؟" [المؤمنون: 84- 89]۔[3]۔ [3]- مَلکوت کے معنی بادشاہت کے ہیں۔ - وهو يجِير: وہ اپنے بندوں کو شر سے پناہ دیتا ہے اور ان کی تکلیفوں کو دور کرتا ہے۔ - ولا يجارُ عليه: یعنی کوئی شخص اس بات پر قادر نہیں کہ اللہ کے مقابلے میں پناہ دے سکے اور نہ ہی اس شر کو ٹال سکتا ہے جسے اللہ نے مقدر کر دیا ہو۔ - أنَّى تُسْحَرون: تمہاری عقلیں کہاں جا رہی ہیں۔
سبق کی ہدایات:
- اللہ تعالیٰ کو اس کے افعال میں اکیلا ماننا؛ یعنی اس بات کا اعتقاد رکھنا کہ اللہ تعالیٰ ہی پیدا کرنے والا، روزی دینے والا اور موت وحیات دینے والا ہے اور اس طرح کے دوسرے تمام کام وہی کرتا ہے۔
- جب رسول اللہ ﷺ کافروں کے پاس تشریف لائے تو وہ توحیدِ ربوبیت کو تسلیم کرتے تھے، لیکن ان کا یہ ایمان ان کے کام نہ آیا؛ کیونکہ انہوں نے عبادت میں اللہ تعالیٰ کو یکتا نہیں مانا۔
- جو شخص اس بات پر ایمان رکھے کہ اللہ نے ہی اسے پیدا کیا اور اسے روزی دی ہے، لیکن وہ صرف ایک اللہ کی عبادت نہ کرے، تو وہ مشرک ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے گزشتہ آیتوں میں مشرکوں کی سرزنش کی ہے۔
سوالات:
س1: اللہ کو اس کے افعال میں ایک ماننے کا کیا معنی ومطلب ہے؟
سوال 2 : وہ کون سی توحید ہے جس کا اقرار نبی ﷺ کے زمانے میں کفار نے کیا تھا؟ کیا ان کا یہ اقرار ان کے لیے نفع بخش ثابت ہوا؟
س3: توحیدِ ربوبیت کی دلیل کیا ہے؟
سوال 4 : کیا وہ شخص مسلمان شمار ہوگا جو اس بات کا اعتراف کرے کہ اللہ ہی رزق دینے والا، زندہ کرنے والا اور موت دینے والا ہے، لیکن وہ اس کی عبادت نہ کرے؟ اور کیوں؟
پانچواں سبق
توحیدِ اُلوہیت
دوسری قسم: توحیدِ اُلوہیت:
یعنی اللہ تعالی کو بندوں کے افعال میں اکیلا ماننا جیسے دعا، نذر، قربانی، امید، خوف، رغبت ورہبت، انابت، استعانت، استعاذہ اور تعظیم۔
توحید کی یہی وہ قسم ہے جس میں زمانۂ قدیم اور جدید میں رسولوں اور ان کی امتوں کے درمیان اختلاف رہا ہے۔
دعا کے عبادت ہونے کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے: "یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں وه عنقريب ذلیل ہوکر جہنم میں پہنچ جائیں گے."[4] [غافر: 60] [4] داخِرین: یعنی ذلیل وخوار ہو کر۔
سبق کی ہدایات:
- ’توحیدِ اُلوہیت‘ جسے (توحیدِ عبادت) سے بھی موسوم کیا جاتا ہے، یہی وہ توحید ہے جس کے لیے رسول بھیجے گئے، کتابیں اتاری گئیں اور تمام رسولوں نے اپنی قوم کے درمیان اپنی دعوت کا آغاز اسی حکم سے کیا۔ جیسا کہ نوح، ہود، صالح اور شعیب علیہم الصلاۃ والسلام نے فرمایا: "۔۔۔اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں۔۔۔۔" [الأعراف: 59، 65، 73، 85]
- دعا؛ توحید اور عبادت کی ایک اہم ترین صورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ سبحانہ نے آیت میں فرمایا: ﴿...یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں...﴾، یعنی: مجھ سے دعا کرنے سے، اس کی دلیل آیت کے شروع میں اللہ کا یہ فرمان ہے: ﴿مجھ سے دعا کرو﴾۔
سوالات:
س1: توحیدِ الوہیت کی تعریف بتائیں۔
س2: وہ اولین چیز کیا ہے جس کی طرف رسولوں نے اپنی قوموں کو دعوت دی؟
س3: اللہ تعالی نے فرمایا: "اور تمہارے رب کا فرمان (سرزد ہوچکا ہے) کہ مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا، یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں، وه عنقريب ذلیل ہوکر جہنم میں پہنچ جائیں گے۔"
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ دعا عبادت ہے، اس کی وضاحت کریں۔
س4: بندوں کے افعال میں سے پانچ ایسی عبادتیں ذکر کریں جنہیں صرف ایک اللہ کے لیے کرنا ضروری ہے۔
س5: توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کے درمیان کیا فرق ہے؟ مثال کے ساتھ بیان کریں۔
چھٹا سبق:
توحيدِ اسما وصفات
تیسری قسم: توحید اسما وصفات:
اس سے مراد ہے قرآنِ کریم اور صحیح احادیث میں وارد اللہ کے ان تمام اسما وصفات پر ایمان لانا جن سے اُس نے اپنے آپ کو متصف کیا ہے، یا اُس کے رسول ﷺ نے اُسے حقیقی معنوں میں متصف کیا ہے اور یہ عقیدہ رکھنا کہ کائنات کی کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں ہے اور وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "آپ کہہ دیجیے کہ وه اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے۔ اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے۔ نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وه کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے." [5] [الإخلاص: 1-4] ارشاد باری تعالی ہے: "اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کے لیے ہیں، سو ان ناموں سے اللہ ہی کو موسوم کیا کرو اور ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو، جو اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں۔ ان لوگوں کو ان کے کئے کی ضرور سزا ملے گی۔" [الأعراف: 180] [5] الصمد (بے نیاز): وہ آقا جس کی ساری مخلوقات محتاج ہیں اور جس کی بارگاہ میں اپنی ضرورتیں پیش کرتی ہیں۔
ارشاد باری تعالی ہے: "اس جیسی کوئی چیز نہیں، وه سننے اور دیکھنے واﻻ ہے." [الشورى: 11]-
سبق کی ہدایات:
- اللہ کے اسما وصفات پر ایمان لانا واجب ہے۔
- اللہ تعالیٰ کے اسما وصفات قرآن کریم اور احادیثِ صحیحہ سے سلفِ صالحین کی فہم کے مطابق معلوم کیے جاتے ہیں۔
- اللہ کے تمام نام خوبصورت ہیں۔ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ کچھ نام یہ ہیں: الصمد، البارئ، السمیع، البصیر، الرحمن، اور الرحیم۔ اللہ کی بہت سی صفات ہیں، جیسے رحمت، قوت، حکمت، حیات، عزت، اور علم۔
- مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اللہ کی صفات کو مخلوق کی صفات سے تشبیہ دے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اعلیٰ وبرتر ہے۔ "اس جیسی کوئی چیز نہیں، وه سننے اور دیکھنے واﻻ ہے۔"
- ایک مسلمان کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے اسماے حسنیٰ کے واسطے سے دعا کرے۔ مثال کے طور پر یوں کہے: ”اے غفور! میرے گناہ بخش دے، اے رحمن! مجھ پر رحم فرما اور اے علیم! مجھے علم عطا فرما“۔ وغیرہ وغیرہ۔
سوالات:
س1: آپ اللہ کے اسما وصفات کا علم کہاں سے حاصل کرتے ہیں؟
س2: اللہ تعالی کے جو اسما آپ جانتے ہیں، انہیں بیان کریں۔
س3: اللہ تعالی کی وہ صفات ذکر کریں، جو آپ جانتے ہیں۔
س4: کیا مخلوق کو خالق سے تشبیہ دینا جائز ہے؟ اور اس کی کیا دلیل ہے؟
س5: ہم اللہ تعالی کو کس چیز کے ذریعہ پکاریں؟
ساتواں سبق:
مخلوق کی طرف بھیجے گئے اللہ کے رسول
رُسُل: وہ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی طرف مبعوث فرمایا، تاکہ وہ ان تک شریعتِ الہی پہنچائیں، اور انہیں ایک اللہ کی عبادت کرنے اور اللہ کے علاوہ تمام معبودوں کی عبادت کو ترک کرنے کی دعوت دیں۔
رسولوں کو مبعوث کرنے کی حکمت:
اللہ -تعالى- نے انہیں بندوں پر حجت تمام کرنے کے لیے بھیجا، تاکہ وہ لوگوں تک دین پہنچائیں، فرمانبردار کو جنت اور بیش بہا اجر وثواب کی خوش خبری سنائیں اور نافرمان کو جہنم اور سخت عذاب سے ڈرائیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "ہم نے انہیں رسول بنایا ہے، خوشخبریاں سنانے والے اور آگاه کرنے والے تاکہ لوگوں کی کوئی حجت اور الزام رسولوں کے بھیجنے کے بعد اللہ تعالیٰ پر ره نہ جائے..." [النساء: 165]
سب سے پہلے اور سب سے آخری رسول:
سب سے پہلے رسول حضرت نوح اور سب سے آخری رسول حضرت محمد علیہم الصلوٰۃ والسلام ہیں۔
سبق کی ہدایات:
- اللہ تعالیٰ نے ہر قوم میں ایک رسول بھیجا، یہاں تک کہ یہ سلسلہ ہمارے نبی محمد ﷺ کی رسالت پر ختم کر دیا۔ چنانچہ آپ قیامت تک آنے والے تمام جن وانس کے لیے اللہ کے رسول ہیں۔
- رسول اللہ ﷺ کا پیغام تین اہم باتوں پر مشتمل ہے:
1- لوگوں کو ان کے رب اور اس کے اسما وصفات سے متعارف کرانا۔
2- اللہ کی عبادت کا صحیح طریقہ بیان کرنا۔
3- قیامت کے دن لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ ملے گا، اس کا اعلان کرنا۔
سوالات:
س1: تمام رسولوں علیہم الصلاۃ والسلام نے اپنی قوموں کو کس چیز کی دعوت دی؟
س۲: خالی جگہوں کو پر کریں:
الف- سب سے پہلے رسول ...............................، اور سب سے آخری رسول ............................... ہیں۔
ب- رسول ﷺ کی رسالت چند اہم امور پر مشتمل ہے، جو کہ یہ ہیں:
1-. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .. . .
2- . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
آٹھواں سبق:
لوگوں پر اللہ کا فرض کردہ سب سے پہلا فریضہ
جان لیجیے [6] - اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے - کہ اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر سب سے پہلے اللہ پر ایمان لانے اور طاغوت کا انکار کرنے کو فرض قرار دیا ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو۔۔۔۔" [النحل: 36] [6] اس رسالہ کا عنوان ہے: (طاغوت کا معنی ومفہوم اور اس کی اہم قسمیں)۔
طاغوت کے انکار کا طریقہ:
طاغوت کے انکار کا طریقہ یہ ہے کہ غیر اللہ کی عبادت کے باطل ہونے کا عقیدہ رکھا جائے، اسے ترک کر دیا جائے اور اس سے بغض رکھا جائے۔
سبق کی ہدایات:
- طاغوت کا انکار کیے بغیر بندے کا ایمان مکمل نہیں ہوتا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے عبادت کے حکم کو طاغوت سے اجتناب کے حکم کے ساتھ جوڑتے ہوئے فرمایا: "صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو۔۔۔۔" [النحل: 36]
طاغوت کے انکار کے بہت سے طریقے ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
1- یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت باطل ہے، خواہ وہ کوئی فرشتہ ہو یا نبی۔
2- غیراللہ کی عبادت سے اجتناب کرے، چنانچہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پکارے، اللہ تعالی ہی پر بھروسہ رکھے، اللہ کے سوا کسی اور کے لیے جانور ذبح نہ کرے اور اللہ کے سوا کسی اور کے لیے نذر نہ مانے۔
3- شرک سے اور مسلمانوں سے دشمنی رکھنے والے مشرکوں سے بغض رکھے۔
4- یہ عقیدہ رکھے کہ جو لوگ اللہ کے ساتھ دیگر معبودوں کو شریک ٹھہراتے ہیں، وہ کافر ہیں۔
- محبت اور نفرت دین کا حصہ ہیں، لہٰذا مسلمان پر واجب ہے کہ وہ توحید اور نیکیوں سے محبت کرے اور شرک اور گناہوں سے نفرت کرے۔
سوالات:
س1: اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر سب سے پہلے کس چیز کو فرض قرار دیا؟ دلیل کے ساتھ ذکر کریں۔
س2: طاغوت کی نکیر کیسے ہے؟
س3: طاغوت کے انکار کا کیا طریقہ ہے؟
س 4: اس شخص کا کیا حکم ہے جس نے غیر اللہ کی عبادت کی؟
نواں سبق:
حقیقی ایمان
اللہ پر ایمان لانے کا معنی ومطلب:
یہ عقیدہ رکھا جائے کہ اللہ ہی اکیلا معبود برحق ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تمام طرح کی عبادتوں کو مکمل طور پر صرف اللہ کے لیے خالص کیا جائے اور اللہ کے علاوہ ہر معبود سے عبادت کی نفی کی جائے، اللہ کے لیے محبت کی جائے اور اللہ ہی کے لیے نفرت رکھی جائے۔
یہی ابراہیم علیہ السلام کی ملت [7] ہے، جس سے وہی بے رغبتی اختیار کرے گا، جو بے وقوف ہو اور یہی وہ اسوہ ہے جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان میں دی ہے: "(مسلمانو!) تمہارے لیے ابراہیم میں اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے، جب کہ ان سب نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان سب سے بالکل بیزار ہیں۔ ہم تمہارے (عقائد کے) منکر ہیں، جب تک تم اللہ کی وحدانیت پر ایمان نہ ﻻؤ، ہم میں تم میں ہمیشہ کے لیے بغض وعداوت ظاہر ہوگئی..." [ الممتحنة : 4] [7] الـمِلَّة: اس سے مراد دین ہے اور ملتِ ابراہیم سے مراد دینِ توحید ہے۔
سبق کی ہدایات:
1- ایمان محض ایسا کلمہ نہیں جسے انسان صرف اپنی زبان سے کہہ دے، بلکہ یہ قول، اعتقاد اور عمل کا نام ہے۔
2- حقیقی ایمان کی تعریف:
- یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور وہی تنہا عبادت کا مستحق ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہيں۔
- خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا۔
- مومنوں سے محبت کرنا اور ان کی مدد کرنا۔
- مسلمانوں سے دشمنی رکھنے والے کافروں سے بغض رکھنا اور ان پر ظلم نہ کرنا۔
3- جس نے اس دین کو چھوڑ دیا اور ملتِ ابراہیم علیہ السلام سے بے رغبتی اختیار کی، اس نے خود کو رسوا کیا اور اپنی جان کی تباہی اور ہلاکت کا سامان کیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "دینِ ابراہیمی سے وہی بے رغبتی کرے گا جو محض بے وقوف ہو..."۔ [البقرة : 130]
سوالات:
س1: ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام ابو الانبیاء ہیں۔ اللہ نے انہیں ان کی قوم کی طرف بھیجا تاکہ وہ انہیں ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دیں جو اللہ کو چھوڑ کو بتوں کی عبادت کرتے تھے۔ چنانچہ ابراہیم علیہ السلام نے انہیں ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی، لیکن انہوں نے ہٹ دھرمی اور تکبر سے کام لیا اور بتوں کی عبادت پر مصر رہے۔ ایک دن جب وہ اپنے تہوار کا جشن منانے کے لیے باہر نکلے تو ابراہیم علیہ السلام نے ان کے بتوں کو پاش پاش کردیا۔ جب انہیں اس بات کا علم ہوا، تو انہوں نے ایک بہت بڑی آگ بھڑکائی اور انہیں اس میں ڈال دیا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ کیا پیش آیا؟ آگ انہیں جلا نہ سکی؛ بلکہ اللہ نے اس آگ کو ان کے حق میں ٹھنڈک اور سلامتی (کا ذریعہ) بنا دیا۔
س1: ابراہیم علیہ السلام کا قصہ ایمان کے بعض معانی پر مشتمل ہے۔ ان معانی کو اخذ کریں۔
س2: حقیقی ایمان کس چیز سے حاصل ہوتا ہے؟
س3: ابراہیم علیہ السلام کی ملت کو چھوڑ دینے والے شخص کو کیا کہا جاتا ہے؟
س: ابراہیم علیہ السلام کی ملت کو چھوڑنے والا شخص خود کو کس نقصان میں مبتلا کرتا ہے؟
سوال : کیا نیچے دیے گئے حالات میں ایمان مکمل ہوتا ہے:
ا- ایسا شخص جو نماز پڑھتا ہے لیکن نیک لوگوں سے بغض رکھتا ہے۔
ب- ایسا شخص جو لا الہ الا اللہ کی گواہی دیتا ہے، لیکن وہ کافروں سے محبت رکھتا ہے۔
ج- ایسا شخص جو صرف ایک اللہ کی عبادت کرتا اور مومنوں سے محبت رکھتا ہے۔
دسواں سبق:
شیطان طاغوت ہے
الطاغوت:
طاغوت کا مفہوم عام ہے؛ ہر وہ چیز جس کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جائے اور وہ اس عبادت سے راضی ہو، خواہ وہ کوئی معبود ہو، یا متبوع ہو یا اللہ اور رسول کی معصیت میں اس کی اطاعت کی جائے، تو وہ طاغوت ہے۔
طاغوت کی تعداد بہت ہے۔ جن میں سے چند یہ ہیں:
اوّل: شیطان جو غیر اللہ کی عبادت کی دعوت دیتا ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "اے اوﻻد آدم! کیا میں نے تم سے قول قرار نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا، وه تو تمہارا کھلا دشمن ہے۔ اور میری ہی عبادت کرنا۔ سیدھی راه یہی ہے۔" [ یس: 60-61]
سبق کی ہدایات:
1- طغیان کے معنی حد سے تجاوز کرنے کے ہیں، اور طاغوت وہ ہے جو اپنی حد سے تجاوز کر جائے اور یہ دعویٰ کرے کہ وہ لوگوں کا معبود ہے، یا یہ کہ وہ علمِ غیب جانتا ہے، یا یہ کہ وہ کائنات میں تصرف کرتا ہے یا لوگوں کو ان کے رب کی شریعت کے علاوہ کسی اور چیز کی دعوت دے۔
2- جس کی لوگ عبادت کریں اور وہ ان کی اس عبادت سے راضی نہ ہو، اسے طاغوت نہیں کہا جا سکتا، جیسے فرشتے اور عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام۔
3: شیطان طاغوتوں کا سردار ہے؛ کیونکہ وہ لوگوں کو ان کے رب کی عبادت سے دور کرتا اور ان کے لیے شرک اور کفر کو مزین کر کے دکھاتا ہے۔
4: شیطان اولادِ آدم کا سخت دشمن ہے؛ کیونکہ اسی نے ان کے باپ کو جنت سے نکلوایا اور وہ اپنے گروہ کو صرف اس لیے بلاتا ہے کہ وہ سب جہنم واصل ہو جائیں۔
5- صراطِ مستقیم: اس سے مراد صرف ایک اللہ کی عبادت کرنا اور شیطان کی عبادت کو ترک کرنا ہے۔
سوالات:
س1: طاغوت کی تعریف بتائیں۔
س2: ابلیس طاغوتِ اکبر کیوں ہے؟
س3: صراطِ مستقیم سے کیا مراد ہے؟
س4: اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں کس چیز سے منع فرمایا ہے اور کس چیز کا حکم دیا ہے؟
گیارہواں سبق
اللہ کی اتاری ہوئی شریعت کی بجائے دوسرے قوانین کے مطابق فیصلہ کرنا
دوم: اللہ تعالیٰ کے احکام کو بدلنے والا حاکم۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا؟ جن کا دعویٰ تو یہ ہے کہ جو کچھ آپ پر اور جو کچھ آپ سے پہلے اتارا گیا ہے اس پر ان کا ایمان ہے، لیکن وه اپنے فیصلے غیر اللہ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں، حاﻻنکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ شیطان کا انکار کریں، شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ انہیں بہکا کر دور ڈال دے۔" [النساء: 60]۔
سبق کی ہدایات:
1- ایسا شخص جو اللہ کی شریعت میں تحریف کرے اور اس کے احکام کو بدل دے، چنانچہ حرام کو حلال کر دے یا حلال کو حرام کر دے تو وہ طاغوت ہے، خواہ وہ حاکم ہو یا کوئی اور۔
2- جو شخص اللہ کی شریعت کی بجائے کسی اور قانون کی رو سے فیصلہ کرے اور یہ عقیدہ رکھے کہ وہ جس کے مطابق فیصلہ کر رہا ہے وہ اللہ کی شریعت سے افضل ہے، تو وہ طاغوت ہے اور ملت سے خارج ہے۔
3- مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی حدود کی پاسداری کرتا ہے، اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور شریعت الہی میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا تحریف نہیں کرتا۔
سوالات:
س1: اللہ تعالیٰ کے احکام کو تبدیل کرنے والے شخص کو کیا کہا جاتا ہے؟
س2: اس شخص کو کیا کہا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کی بجائے کسی اور قانون کی روشنی میں فیصلہ کرے اور یہ عقیدہ رکھے کہ جس قانون کے مطابق وہ فیصلہ کر رہا ہے وہ اللہ کی شریعت سے افضل ہے؟
بارہواں سبق
جس نے علمِ غیب کا دعویٰ کیا یا اس بات پر راضی ہوا کہ لوگ اس کی عبادت کریں، وہ طاغوت ہے۔
سوم: وہ غیر اللہ جو علم غیب کا دعویٰ کرے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "وه غیب کا جاننے واﻻ ہے اور اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔ سوائے اس پیغمبر کے جسے وه پسند کرلے لیکن اس کے بھی آگے پیچھے پہرے دار مقرر کردیتا ہے." [ الجن : 26-27]۔
ارشادِ باری تعالی ہے: "اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں (خزانے)، ان کو کوئی نہیں جانتا بجز اللہ کے۔ اور وه تمام چیزوں کو جانتا ہے جو کچھ خشکی میں ہیں اور جو کچھ دریاؤں میں ہیں اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر وه اس کو بھی جانتا ہے اور کوئی دانہ زمین کے تاریک حصوں میں نہیں پڑتا اور نہ کوئی تر اور نہ کوئی خشک چیز گرتی ہے مگر یہ سب کتاب مبین میں ہیں۔" [ الأنعام: 59]
چہارم: وہ جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے اور وہ اس عبادت سے راضی ہو۔ اس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے: "ان میں سے اگر کوئی بھی کہہ دے کہ اللہ کے سوا میں ﻻئق عبادت ہوں تو ہم اسے دوزخ کی سزا دیں، ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں۔" [ الأنبیاء : 29]۔
سبق کی ہدایات:
۱۔ جو علم غیب کا دعوی کرتا ہے، جیسے کاہن، عراف، نجومی [8] اور ان جیسے دیگر لوگ، یہ سب طاغوت کے زمرے میں داخل ہیں؛ کیوں کہ انہوں نے علمِ غیب کا دعوی کر کے اللہ کے حق پر دست درازی کی ہے، جسے اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ [8] کاہن: وہ شخص جو ماضی کے غیبی امور کو جاننے کا دعویٰ کرتا ہے۔ عرّاف: وہ شخص جو مستقبل کے امور کو جاننے کا دعویٰ کرتا ہے۔ نجومی: وہ شخص جو ستاروں کو دیکھ کر کائنات کے احوال جاننے کا دعویٰ کرتا ہے۔
2- مسلمان پر واجب ہے کہ وہ کاہنوں، عرّافوں اور نجومیوں کے پاس جانے سے بچے اور ان کی باتوں کی تصدیق نہ کرے۔
ان کے بے تکے اندازے اور دروغ گوئیاں۔
3- طاغوتوں میں وہ شخص بھی داخل ہے جسے لوگ پکارتے ہیں اور ایسے مصائب کو دور کرنے کے لیے اس سے فریاد کرتے ہیں جن پر صرف اللہ تعالیٰ ہی قادر ہے اور وہ اپنے ساتھ لوگوں کے اس برتاؤ سے راضی بھی ہو۔
سوالات:
س1: کون ہے جس کے پاس غیب کا علم ہے؟ اس کی دلیل ذکر کریں۔
س2: تیسرا اور چوتھا طاغوت کیا ہے؟
س3: اس شخص کی کیا سزا ہے جو کہتا ہے: میں اللہ کے سوا معبود ہوں؟
س4: کیا اللہ کے سوا کسی کو غیب کا علم ہے؟
س5: آیت کریمہ میں مذکور ظالموں سے مراد کون ہیں؟
تیرھواں سبق
مومن کے لیے طاغوت کا انکار ضروری ہے۔
جان لیں کہ انسان طاغوت کا انکار کیے بغیر مومن نہیں بن سکتا۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: " دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں ہے، ہدایت ضلالت سے روشن ہوچکی ہے، اس لئے جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے معبودوں کا انکار کرکے اللہ تعالیٰ پر ایمان ﻻئے، اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا، جو کبھی نہ ٹوٹے گا اور اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے واﻻ اور جاننے واﻻ ہے۔" [البقرة : 156]
اس آیت میں رشد سے مراد محمد ﷺ کا دین ہے اور غیّ سے مراد ابوجہل کا دین ہے۔
مضبوط کڑا:
”لا الہ الا اللہ“ کی شہادت نفی اور اثبات پر مشتمل ہے۔ یہ اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کے لیے ہر قسم کی عبادت کی نفی کرتی ہے اور تمام کی تمام عبادتوں کو صرف ایک اللہ کے لیے ثابت کرتی ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ [9] [9] یہ رسالہ ختم ہوا جس کا عنوان ہے: (طاغوت کا معنی ومفہوم اور اس کی اہم قسمیں)
سبق کی ہدایات:
1- تکمیلِ توحید میں سب سے اہم چیز عبادت کو صرف ایک اللہ کے لیے خاص کرنا ہے۔
2- اللہ پر ایمان اُسی وقت مکمل ہوتا ہے جب طاغوتوں کا انکار اور ان کی عبادت کرنے والے ہر شخص سے براءت کا اظہار کیا جائے۔ لہٰذا سب سے پہلے طاغوت کا انکار ضروری ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہ نے فرمایا: ﴿...فَمَن يَكۡفُرۡ بِٱلطَّٰغُوتِ وَيُؤۡمِنۢ بِٱللَّهِ...﴾۔
3- العروۃ الوثقیٰ (مضبوط کڑے) سے مراد لا الہ الا اللہ کی گواہی ہے۔ جس نے اسے مضبوطی سے تھام لیا وہ فلاح پا گیا اور نامرادی، گمراہی اور خسارے سے نجات پا لیا۔
سوالات:
س1: آنے والے جملوں میں مناسب الفاظ سے خالی جگہ کو پُر کریں:
الف) مضبوط کڑے کو تھامنے والے پر لازم ہے کہ وہ . ... . . کا انکار کرے، اور . . . . . پر ایمان لائے۔
ب) لا الہ الا اللہ کی گواہی . . . . . . . . اور . . . . . . . . . . . . . . . پر مشتمل ہے۔
س2: العروة الوثقى (مضبوط کڑے) کو تھامنے والے کا بدلہ کیا ہے؟
س3: کیا طاغوت کا انکار واجب ہے؟ اور کیوں؟
Related books
All books
المناهج التعليمية - الصف الثالث7 زبانیںالمناهجالتعليميةالمناهج التعليمية - الصف الثالث
یہ کتاب تیسرے درجے کے لیے تیار شدہ توحید کے مضمون کی وضاحت کرتی ہے۔ یہ دین کے تین درجات یعنی اسلام، ایمان اور احسان کے مطالعے پر توجہ مرکوز کرتی ہے، ہر درجے کے مفہوم کو تفصیل سے بیان کرتی ہے، اسلام اور ایمان کے ارکان کی تشریح اور توحید کی گواہی کی اہمیت بیان کرتی ہے، اللہ، اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں پر ایمان کو مضبوط کرنے کی اہمیت بتاتی ہے اور آخر میں شرعی نصوص سے استدلال کے ساتھ دین کے اعلیٰ ترین درجے کے طور پر احسان کے مقام کو واضح کرتی ہے۔
عنوان: نصابِ تعلیم، علمِ فقہ، درجہ (پنجم)۔4 زبانیںعنوان: نصابِ تعلیم، علمِ فقہ، درجہ (پنجم)۔
مختصر تعارف: اس علمی مواد کو مملکت سعودی عرب میں طلبہ کے لیے مقرر کردہ تعلیمی نصاب کی تہذیب اور اختصار سمجھا جا سکتا ہے۔ اسے کئی درجات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس مواد میں علمِ فقہ کے مطالعہ سے متعلق حصہ بھی شامل ہے، جو بارہ (12) درجات میں منقسم ہے۔ پانچویں درجے میں شامل اہم ترین موضوعات اور مسائل درج ذیل ہیں: پانی کی قسمیں، ان کے احکام اور ہر قسم کی مثالیں۔ موزوں پر مسح کے احکام اور تیمم کے طریقے کا بیان۔ نماز کے تفصیلی طریقے، اس میں مکروہ افعال اور ان اوقات کا بیان جن میں نماز پڑھنا منع ہے۔ سجدۂ سہو کے احکام کا بیان۔
عنوان: نصاب تعلیم، کتاب التوحید، مرحلہ (ششم)2 زبانیںعنوان: نصاب تعلیم، کتاب التوحید، مرحلہ (ششم)
مختصر تعارف: اس علمی مواد کو مملکت سعودی عرب میں طلبہ کے لیے پیش کردہ تعلیمی نصاب کی تہذیب اور خلاصہ کہا جا سکتا ہے۔ اسے کئی مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس مواد کے ضمن میں علم توحید کے مطالعے سے متعلق حصہ بھی شامل ہے، جسے بارہ (12) مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ چھٹے مرحلے میں شامل اہم ترین موضوعات یہ ہیں: ان چار قواعد کا بیان جن کے ذریعے طالبِ علم یہ جان لیتا ہے کہ صرف توحیدِ ربوبیت کا اقرار کسی کو اسلام میں داخل نہیں کرتا، بلکہ توحیدِ الوہیت ضروری ہے۔ اور توحید الوہیت عبادت میں اللہ تعالیٰ کو یکتا ماننے کا نام ہے۔ شرک کی تعریف، اس کی قسموں کا بیان، اور اس کی ہر قسم کی دلیل۔ کفر کی تعریف، اس…
مشروع منهاج زادك5 زبانیںمشروع منهاج زادك
جمعیۃ الدعوہ والارشاد و توعیۃ الجالیات، روضہ دین سے آگاہی پہلا مرحلہ پیش لفظ سب تعریف اللہ تعالی کے لیے ہے، جس نے انسان کو پیدا کیا، اسے علم و بیان کے ذریعہ عزت بخشى اور قرآن و سنت کے ذریعے اس پر حجت قائم کر دی۔ درود و سلام ہو ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر، آپ کے اہل و عیال، صحابۂ کرام اور ہر اس شخص پر جو قیامت تک بحسن وخوبی ان کی اتباع کرے گا۔