Skip to content

”نماز کے بعد کی کچھ ایسی دعائیں ہیں کہ انھیں ہر فرض نماز کے بعد پڑھنے والا یا انہیں بجا لانے والا (ثواب سے یا بلند درجوں سے) محروم نہیں ہوتا۔ (اور وہ یہ ہیں) تینتیس بار سبحان اللہ اور تینتیس بار الحمدللہ اور چونتیس بار اللہ اکبر کہنا۔“

كعب بن عجرة رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

”نماز کے بعد کی کچھ ایسی دعائیں ہیں کہ انھیں ہر فرض نماز کے بعد پڑھنے والا یا انہیں بجا لانے والا (ثواب سے یا بلند درجوں سے) محروم نہیں ہوتا۔ (اور وہ یہ ہیں) تینتیس بار سبحان اللہ اور تینتیس بار الحمدللہ اور چونتیس بار اللہ اکبر کہنا۔“

«مُعَقِّبَاتٌ لَا يَخِيبُ قَائِلُهُنَّ -أَوْ فَاعِلُهُنَّ- دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ، ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَسْبِيحَةً، وَثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَحْمِيدَةً، وَأَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ تَكْبِيرَةً».

اسے مسلم نے روایت کیا ہے
حديث صحيح
شرح

اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کچھ اذکار کے بارے میں بات کی ہے، جنھیں پڑھنے والا گھاٹے میں نہيں رہتا اور شرمندہ نہيں ہوتا۔ بلکہ اسے ان کا ثواب ضرور ملتا ہے۔ یہ ایسے کلمات ہيں، جو ایک دوسرے کے بعد آتے اور فرض نمازوں کے بعد پڑھے جاتے ہيں۔ یہ کلمات کچھ اس طرح ہیں : "سبحان الله" تینتیس مرتبہ۔ اس کے معنی یہ ہيں کہ اللہ تعالی ہر نقص اور کمی سے پاک ہے۔ "الحمد لله" تینتیس مرتبہ۔ یعنی اللہ کو ہر قسم کے کمال سے متصف کرنا اور ساتھ میں اس سے محبت بھی رکھنا اور اس کی تعظیم بھی کرنا۔ "الله أكبر" چونتیس مرتبہ۔ یعنی اللہ ہر چيز سے بڑا، عظیم اور م‏عزز ہے۔

کلمات کے معانی

...:

حدیث کے بعض فوائد

تسبیح، تحمید اور تکبیر کی فضیلت۔ انھیں باقی رہنے والے نیک اعمال کہا گیا ہے۔

حوالہ جات
مزید (11)

صحیح مسلم (1/ 418) (596).

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين.

لسليم الهلالي (2/ 501).

نزهة المتقين شرح رياض الصالحين.

لمجموعة من الباحثين (2/ 976).

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح.

لعلي القاري (2/ 766).

تيسير العلام.

للبسام (ص227).

فيض القدير شرح الجامع الصغير.

لزين الدين المناوي (5/ 525).