”جب آدمی اپنے اہل و عیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے، تو یہ اس کے لیے صدقہ شمار ہوتا ہے“۔
ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
”جب آدمی اپنے اہل و عیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے، تو یہ اس کے لیے صدقہ شمار ہوتا ہے“۔
«إِذَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ يَحْتَسِبُهَا فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنے گھر کے لوگوں، جیسے بیوی، والدین اور بچوں وغیرہ پر، جن پر خرچ کرنا لازم ہے، اللہ کا تقرب حاصل کرنے اور ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے، تو اسے صدقے کا ثواب ملے گا۔
...:
پریوار پر خرچ کرنے کا بھی اجر و ثواب ملتا ہے۔
مؤمن اپنا ہر کام اللہ کی خوش نودی اور اس کے یہاں ملنے والے اجر وثواب حاصل کرنے کے لیے کرتا ہے۔
ہر کام کرتے وقت، جس میں خرچ کرنا بھی شامل ہے، دل میں اچھی نیت رکھنی چاہیے۔
مزید (10)
صحیح بخاری (1/ 20) (55).
صحیح مسلم (2/ 695) (1002).
كنوز رياض الصالحين.
لمجموعة من الباحثين (5/ 334).
شرح رياض الصالحين.
لابن عثيمين (3/ 157).
نزهة المتقين بشرح رياض الصالحين.
لمصطفى الخن وغيره (1/ 293).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين.
سليم الهلالي (1/ 375).