”اللہ ایسے شخص پر رحم کرے، جو بیچتے، خریدتے اور مطالبہ کرتے وقت فیاضی اور نرمی سے کام لیتا ہے“۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
”اللہ ایسے شخص پر رحم کرے، جو بیچتے، خریدتے اور مطالبہ کرتے وقت فیاضی اور نرمی سے کام لیتا ہے“۔
«رَحِمَ اللهُ رَجُلًا سَمْحًا إِذَا بَاعَ، وَإِذَا اشْتَرَى، وَإِذَا اقْتَضَى».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہر اس شخص کے لیے رحمت کی دعا کی ہے، جو کچھ خریدتے بیچتے وقت نرمی اور فراخی سے کام لے چنانچہ خریدنے والے کے ساتھ سامان کی قیمت کے سلسلے میں سختی سے کام نہ لے اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ اور اسى طرح خریدتے وقت بھی نرمی‘ سخاوت اور فراخی سے کام لے اور سامان کا بھاؤ کم نہ دے۔ اسی طرح قرض کا مطالبہ کرتے وقت بھی نرمی‘ سخاوت اور فراخی سے کام لے اور کسی تنگ دست اور محتاج کے ساتھ سختی سے کام لینے کی بجائے نرمی سے قرض کا مطالبہ کرے اور نادار ہونے پر مہلت بھی دے۔
...:
اسلامی شریعت کا ایک مقصد ایسی باتوں کی حفاظت کرنا ہے جو مسلمانوں کے آپسی تعلقات کو خوش گوار رکھتی ہیں۔
خرید و فروخت وغیرہ جیسے معاملات میں لوگوں کے ساتھ اعلی اخلاق کا مظاہرہ کرنے کی ترغیب۔
مزید (8)
صحیح بخاری (3/ 57) (2076).
نزهة المتقين (2/ 944).
كنوز رياض الصالحين.
لمجموعة من الباحثين (16/ 386).
منار القاري.
لحمزة محمد قاسم (3/ 258).
شرح رياض الصالحين.
لابن عثيمين (5/ 405).
کتابوں میں مذکور
4 کتابیںمزید (3)
- رياض الصالحينرياض الصالحين مع فوائد وهدايات - 6«رَحمَ اللهُ رَجُلاً سَمْحاً إذَا باع، وإذا اشْتَرَىٰ، وإذَا اقْتَضَىٰ».
- مجموعة زاد التربية الإسلامية (3)، والسيرة النبوية (3)التربية الإٍسلامية -3- «رَحِمَ اﷲُ رَجُلًا سَمْحًا إِذَا بَاعَ، وَإِذَا اشْتَرَى، وَإِذَا اقْتَضَى»
- نبراس طالب (1)1«رَحِمَ اللهُ رَجُلًا سَمْحًا إِذَا بَاعَ، وَإِذَا اشْتَرَى، وَإِذَا اقْتَضَى»