Skip to content

”جو شخص اپنے بھائی کی عزت وناموس کا (اس کی غیر موجودگی میں) دفاع کرے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے چہرے کو جہنم کی آگ سے دور کردے گا“۔

ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :

”جو شخص اپنے بھائی کی عزت وناموس کا (اس کی غیر موجودگی میں) دفاع کرے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے چہرے کو جہنم کی آگ سے دور کردے گا“۔

«مَنْ رَدَّ عَنْ عِرْضِ أَخِيهِ رَدَّ اللهُ عَنْ وَجْهِهِ النَّارَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ».

اسے ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے
حديث صحيح
شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جو شخص اپنے بھائی کی غیر موجودگی میں کسی کو اس کی مذمت کرنے یا اس کے ساتھ برا سلوک کرنے سے روک کر اپنے مسلمان بھائی کا دفاع کرتا ہے، اللہ قیامت کے دن اس سے عذاب کو دور رکھے گا۔

کلمات کے معانی

عِرْضِ أَخِيهِ: العرض هو ما يُمْدَح به الإنسان أو يذم.

حدیث کے بعض فوائد

مسلمانوں کی عزت و آبرو پر کیچڑ اچھالنے کی ممانعت۔

انسان کو جزا اسی نوعیت کی دی جائے گی، جس نوعیت کا اس کا عمل رہے گا۔ چنانچہ جو اپنے بھائی کی عزت کا دفاع کرے گا، اللہ اس سے جہنم کی آگ کو دور رکھے گا۔

اسلام آپسی بھائی چارے اور باہمی تعاون کا مذہب ہے۔

حوالہ جات
مزید (10)

سننِ ترمذی (3/ 488) (1931).

مُسنَد احمد (45/ 528) (27543).

توضيح الأحكام من بلوغ المرام.

للبسام (7/ 499).

منحة العلام في شرح بلوغ المرام.

لعبد الله الفوزان (10/ 349).

فتح ذي الجلال والإكرام.

لابن عثيمين (6/ 437).

سبل السلام بشرح بلوغ المرام.

للصنعاني (2/ 692).