Skip to content
سورتوں کی فہرست /

المؤمنُون

المؤمنُون is chapter ٢٣ of the Quran and has ١١٨ verses. This page presents it in full in the Uthmani script, with a verse-by-verse translation of its meaning.

118 آیات سورت نمبر ٢٣
آیت پر جائیں
الترجمة الأردية - محمد جوناكرهي
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

قَدۡ أَفۡلَحَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ

یقیناً ایمان والوں نے فلاح حاصل کرلی.

Explanation & meanings · ١
  1. فَلَاح کے لغوی معنی ہیں چیرنا، کاٹنا، کاشت کار کو فَلَاح کہا جاتا ہے کہ وہ زمین کو چیر پھاڑ کر اس میں بیج بوتا ہے، مفلح (کامیاب) بھی وہ ہوتا ہے جو صعوبتوں کو قطع کرتے ہوئے مطلب تک پہنچ جاتا ہے، یا کامیابی کی راہیں اس کے لئے کھل جاتی ہیں، اس پر بند نہیں ہوتیں۔ شریعت کی نظر میں کامیاب وہ ہے جو دنیا میں رہ کر اپنے رب کو راضی کر لے اور اس کے بدلے میں آخرت میں اللہ کی رحمت و مغفرت کا مستحق قرار پا جائے۔ اس کے ساتھ دنیا کی سعادت و کامرانی بھی میسر آ جائے تو سبحان اللہ۔ ورنہ اصل کامیابی تو آخرت ہی کی کامیابی ہے۔ گو دنیا والے اس کے برعکس دنیاوی آسائشوں سے بہرہ ور کو ہی کامیاب سمجھتے ہیں۔ آیت میں ان مومنوں کو کامیابی کی نوید سنائی گئی ہے جن میں ذیل کی صفات ہوں گی۔ مثلًا اگلی آیات ملاحظہ ہوں۔

ٱلَّذِينَ هُمۡ فِي صَلَاتِهِمۡ خَٰشِعُونَ

جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں.

Explanation & meanings · ١
  1. خُشُوع سے مراد، قلب کی یکسوئی اور مصروفیت ہے۔ قلبی یکسوئی یہ ہے کہ نماز کی حالت میں بہ قصد خیالات اور وسوسوں کے ہجوم سے دل کو محفوظ رکھے اور اللہ کی عظمت و جلالت کا نقش اپنے دل پر بٹھا نے کی سعی کرے۔ اعضا و دل کی یکسوئی یہ ہے کہ ادھر ادھر نہ دیکھے، کھیل کود نہ کرے، بالوں اور کپڑوں کو سنوارنے میں نہ لگا رہے بلکہ خوف و خشیت اور عاجزی کی ایسی کیفیت طاری ہو، جیسے عام طور پر بادشاہ یا کسی بڑے شخص کے سامنے ہوتی ہے۔

وَٱلَّذِينَ هُمۡ عَنِ ٱللَّغۡوِ مُعۡرِضُونَ

جو لغویات سے منھ موڑ لیتے ہیں.

Explanation & meanings · ١
  1. لَغْو ہر وہ کام اور ہر وہ بات جس کا کوئی فائدہ نہ ہو یا اس میں دینی یا دنیاوی نقصانات ہوں، ان سے پرہیز مطلب ہے ان کی طرف خیال بھی نہ کیا جائے۔ چہ جائیکہ انہیں اختیار یا ان کا ارتکاب کیا جائے۔

وَٱلَّذِينَ هُمۡ لِلزَّكَوٰةِ فَٰعِلُونَ

جو زکوٰة ادا کرنے والے ہیں.

Explanation & meanings · ١
  1. اس سے مراد بعض کے نزدیک زکوۃ مفروضہ ہے، (جس کی تفصیلات یعنی اس کا نصاب اور زکوۃ کی شرع مدینہ میں بتلائی گئی تاہم) اس کا حکم مکے میں ہی دے دیا گیا تھا اور بعض کے نزدیک ایسے افعال کا اختیار کرنا ہے، جس سے نفس اور اخلاق و کردار کی پاکیزگی ہو۔

وَٱلَّذِينَ هُمۡ لِفُرُوجِهِمۡ حَٰفِظُونَ

جو اپنی شرمگاہوں کی حفاﻇت کرنے والے ہیں.