بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
تَبَّتۡ يَدَآ أَبِي لَهَبٖ وَتَبَّ مَآ أَغۡنَىٰ عَنۡهُ مَالُهُۥ وَمَا كَسَبَ سَيَصۡلَىٰ نَارٗا ذَاتَ لَهَبٖ وَٱمۡرَأَتُهُۥ حَمَّالَةَ ٱلۡحَطَبِ فِي جِيدِهَا حَبۡلٞ مِّن مَّسَدِۭ
Ayah 1
تَبَّتۡ يَدَآ أَبِي لَهَبٖ وَتَبَّ
اردو
ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وه (خود) ہلاک ہو گیا.[1]
[1] يَدَا، يَدٌ( ہاتھ ) کا تثنیہ ہے، مراد اس سے اس کا نفس ہے، جزبول کر کل مراد لیا گیا ہے یعنی ہلاک وبرباد ہوجائے۔ یہ بددعا ان الفاظ کے جواب میں ہے جو اس نے نبی (صلى الله عليه وسلم) کے متعلق غصے اور عداوت میں بولے تھے۔ وَتَبَّ ( اور وہ ہلاک ہوگیا ) یہ خبر ہے یعنی بد دعا کے ساتھ ہی اللہ نے اس کی ہلاکت اور بربادی کی خبر بھی دے دی۔ چنانچہ جنگ بدر کے چند روز بعد یہ عدسیہ بیماری میں مبتلا ہوا، جس میں طاعون کی طرح گلٹی سی نکلتی ہے، اسی میں اس کی موت واقع ہوگئی۔ تین دن تک اس کی لاش یوں ہی پڑی رہی، حتیٰ کہ سخت بدبو دار ہوگئی۔ بالآخر اس کے لڑکوں نے بیماری کے پھیلنے اور عار کے خوف سے، اس کے جسم پر دور سے ہی پتھر اور مٹی ڈال کر اسے دفنا دیا۔ ( ایسر التفاسیر ) ۔
Available languages
العربية Qafár af Shqip አማርኛ أنكو Akan অসমীয়া Azərbaycanca Bisaya Bosanski 中文 Hrvatski Nederlands English Français Deutsch ગુજરાતી Hausa हिन्दी Ikirundi Indonesia 日本語 ಕನ್ನಡ ភាសាខ្មែរ Ikinyarwanda كوردی سۆرانی Kyrgyz Lingala lietuvių Македонски Maguindanaon മലയാളം Mõõré oromoo پښتو فارسی Portuguese ਪੰਜਾਬੀ Română Српски සිංහල Soomaaliga Español Kiswahili Tagalog Тоҷикӣ தமிழ் తెలుగు Türkçe اردو ئۇيغۇرچە Ўзбек Việt Nam Yorùbá