اللہ کے نبی ﷺ جب نماز پڑھتے تو اپنے دونوں بازوؤں کو اس قدر کشادہ کرتے کہ آپ ﷺ کی دونوں بغلوں کی سفیدی ظاہر ہونے لگتی۔
عبداللہ بن مالک بن بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
اللہ کے نبی ﷺ جب نماز پڑھتے تو اپنے دونوں بازوؤں کو اس قدر کشادہ کرتے کہ آپ ﷺ کی دونوں بغلوں کی سفیدی ظاہر ہونے لگتی۔
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى فَرَّجَ بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ.
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب سجدہ کرتے تو سجدے کے دوران دونوں ہاتھوں کو پہلوؤں سے اس قدر الگ رکھتے کہ دونوں بغلوں کی چمڑی کی سفیدی نظر آتی۔ یہ دراصل دونوں بازوؤں کو دونوں پہلوؤں سے الگ رکھنے میں مبالغہ ہے۔
سجدے کی حالت میں دونوں بازوؤں کو دونوں پہلوؤں سے الگ رکھنا مستحب ہے۔
جب مقتدی کے دونوں بازوؤں کو زیادہ کھولنے کی وجہ سے اس کے بغل والے انسان کو تکلیف ہونے لگے، تو یہ اس کے حق میں مشروع نہيں ہوگا۔
سجدے کی حالت میں بازوؤں کو پہلوؤں سے الگ رکھنے کے پیچھے بہت سی حکمتیں اور اس کے بہت سے فائدے ہیں۔ جیسے نماز میں رغبت اور چستی دکھانا اور یہ کہ جب انسان سجدے کے تمام اعضا کو زمین پر رکھ دیتا ہے، تو ہر عضو عبادت میں محو ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ اس کی حکمت یہ بتاتے ہیں کہ یہ کیفیت تواضع سے زیادہ مشابہ اور چہرے اور ناک کو اچھے سے زمین پر رکھنے میں زیادہ معاون ہے۔ اس سے ہر عضو الگ الگ بھی نظر آتا ہے۔
مزید (8)
صحیح بخاری (1/ 87) (390).
صحیح مسلم (1/ 356) (495).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام.
للبسام (ص162).
تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام.
لابن عثيمين (2/ 207).
الإلمام بشرح عمدة الأحكام.
لإسماعيل الأنصاري (1/ 134).