Skip to content

"تم میں سے کوئی شخص پیشاب کرتے وقت دائیں ہاتھ سے اپنے عضوِ مخصوص کو نہ پکڑے اور نہ قضائے حاجت کے بعد اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرے اور نہ (پانی پیتے وقت) برتن میں سانس لے۔"

ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :

"تم میں سے کوئی شخص پیشاب کرتے وقت دائیں ہاتھ سے اپنے عضوِ مخصوص کو نہ پکڑے اور نہ قضائے حاجت کے بعد اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرے اور نہ (پانی پیتے وقت) برتن میں سانس لے۔"

«لَا يُمْسِكَنَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ وَهُوَ يَبُولُ، وَلَا يَتَمَسَّحْ مِنَ الْخَلَاءِ بِيَمِينِهِ، وَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الْإِنَاءِ».

متفق علیہ
حديث صحيح
شرح

یہاں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کجھ آداب بیان کیے ہيں۔ پیشاب کرتے وقت دائيں ہاتھ سے شرمگاہ کو پکڑنے اور دائيں ہاتھ سے قبل یا دبر کی نجاست کو صاف کرنے سے منع فرمایا ہے، کیوں کہ دایاں ہاتھ اچھے کاموں کے لیے عطا ہوا ہے۔ اسی طرح جس برتن سے کچھ پیا جا رہا ہو، اس میں سانس لینے سے منع فرمایا ہے۔

حدیث کے بعض فوائد

آداب اور نظافت میں اسلام کو سبقت حاصل ہے۔

گندی چيزوں سے اجتناب ضروری ہے۔ اگر ہاتھ لگانا ضروری ہو جائے، تو بایاں ہاتھ لگایا جائے۔

دائیں ہاتھ کو بائيں ہاتھ پر شرف اور فضیلت حاصل ہے۔

اسلامی شريعت ایک مکمل شریعت ہے اور اس کی تعلیمات شمولیت کی حامل ہيں۔

حوالہ جات
مزید (6)

صحیح بخاری (1/ 42) (154).

صحیح مسلم (1/ 225) (267).

تيسير العلام شرح عمدة الأحكام.

للبسام (ص41).

تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام.

لابن عثيمين (1/ 45).