بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
أَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَكَ صَدۡرَكَ وَوَضَعۡنَا عَنكَ وِزۡرَكَ ٱلَّذِيٓ أَنقَضَ ظَهۡرَكَ وَرَفَعۡنَا لَكَ ذِكۡرَكَ فَإِنَّ مَعَ ٱلۡعُسۡرِ يُسۡرًا إِنَّ مَعَ ٱلۡعُسۡرِ يُسۡرٗا فَإِذَا فَرَغۡتَ فَٱنصَبۡ وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَٱرۡغَب
Ayah 1
أَلَمۡ نَشۡرَحۡ لَكَ صَدۡرَكَ
اردو
کیا ہم نے تیرا سینہ نہیں کھول دیا.[1]
[1] گزشتہ سورت میں تین انعامات کا ذکر تھا، اس سورت میں مزید تین احسانات جتلائے جا رہے ہیں۔ سینہ کھول دینا، ان میں پہلا ہے۔ اس کا مطلب ہے سینے کا منور اور فراخ ہو جانا، تاکہ حق واضح بھی ہو جائے اور دل میں سما بھی جائے۔ اسی مفہوم میں قرآن کریم کی یہ آیت فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلإِسْلامِ (سورة الأنعام: 125 ) ”جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت سے نوازنے کا ارادہ کرے۔ اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے“۔ یعنی وہ اسلام کو دین حق کے طور پرپہچان بھی لیتا ہے اور اسے قبول بھی کر لیتا ہے۔ اس شرح صدر میں وہ شق صدر بھی آجاتا ہے جو معتبر روایات کی رو سے دو مرتبہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کا کیا گیا۔ ایک مرتبہ بچپن میں، جب کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) عمر کے چوتھے سال میں تھے۔ حضرت جبرائیل (عليه السلام) آئے اور انہوں نے آپ (صلى الله عليه وسلم) کا دل چیرا اور اس سے وہ حصہ شیطانی نکال دیا جو ہر انسان کے اندر ہے، پھر اسے دھوکر بند کر دیا، ( صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب الإسراء) دوسری مرتبہ معراج کے موقعے پر۔ اس موقعے پر آپ (صلى الله عليه وسلم) کا سینہ مبارک چاک کرکے دل نکالا گیا، اسے آپ زمزم سے دھوکر اپنی جگہ رکھ دیا گیااور اسےایمان وحکمت سے بھر دیا گیا۔ (صحيحين، أبواب المعراج وكتاب الصلاة) ۔
Available languages
العربية Qafár af Shqip አማርኛ أنكو Akan অসমীয়া Azərbaycanca Bisaya Bosanski 中文 Hrvatski Nederlands English Français Deutsch ગુજરાતી Hausa हिन्दी Ikirundi Indonesia 日本語 ಕನ್ನಡ ភាសាខ្មែរ Ikinyarwanda كوردی سۆرانی Kyrgyz Lingala lietuvių Македонски Maguindanaon മലയാളം Mõõré oromoo پښتو فارسی Portuguese ਪੰਜਾਬੀ Română Српски සිංහල Soomaaliga Español Kiswahili Tagalog Тоҷикӣ தமிழ் తెలుగు Türkçe اردو ئۇيغۇرچە Ўзбек Việt Nam Yorùbá