Skip to content

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے وضو کے اعضا کو دو دو بار دھویا۔

عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے وضو کے اعضا کو دو دو بار دھویا۔

أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ.

اسے بخاری نے روایت کیا ہے
حديث صحيح
شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم وضو کرتے وقت کبھی کبھی وضو کے اعضا کو دو دو بار دھویا کرتے تھے۔ چنانچہ اپنے چہرے کو دو بار دھوتے (جس میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈال کر ناک جھاڑنا بھی شامل ہے) اور اپنے ہاتھوں اور پیروں کو بھی دو دو بار دھوتے۔

کلمات کے معانی

...:

حدیث کے بعض فوائد

اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھونا واجب اور ایک سے زیادہ بار دھونا مستحب ہے۔

وضو کے اعضا کو کبھی کبھی دو دو بار بھی دھونا مشروع ہے۔

سر کا مسح ایک ہی بار کرنا مشروع ہے۔

حوالہ جات
مزید (2)

صحیح بخاری (1/ 43) (158).

إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري (1/ 244).