Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 18 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

حدیث کا درجہ

’’شیطان تم میں سے ہر آدمی کے سر کے پیچھے رات میں سوتے وقت تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر یہ پھونک مارتا ہے کہ سوجا، ابھی رات بہت باقی ہے۔ پھر اگر کوئی بیدار ہو کر اللہ کو یاد کرنے لگے تو ایک گرہ کھُل جاتی ہے۔ پھر اگر وضو کر لے تو ایک اور گرہ کھل جاتی ہے۔ پھر اگر نماز پڑھے تو ایک اور گرہ بھی کھل جاتی ہے۔ اس طرح صبح کے وقت آدمی چاق وچو بند اور خوش مزاج رہتا ہے۔ ورنہ غمگین اور سست رہتا ہے۔"
صحیح متفق علیہ
"جب تم میں سے کسی کو اپنے پیٹ میں کچھ محسوس ہو اور اسے شبہ ہو جائے کہ اس میں سے کچھ نکلا ہے یا نہیں، تو ہرگز مسجد سے نہ نکلے یہاں تک کہ آواز سنے یا بو محسوس کر لے"۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
"جب تم میں سے کسی کا وضو ٹوٹ جائے، تو جب تک وضو نہ کر لے، اللہ اس کی نماز قبول نہيں فرماتا۔"
صحیح متفق علیہ
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہر نماز کے وقت وضو کیا کرتے تھے۔ میں نے پوچھا کہ آپ لوگ کیا کرتھے تھے، تو انھوں نے جواب دیا : ہمارے لیے وضو اس وقت تک کافی ہو جاتا تھا، جب تک وضو ٹوٹ نہ جائے۔
صحیح اسے بخاری نے روایت کیا ہے
"پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ الحمد لله ترازو کو بھر دیتا ہے، سبحان الله اور الحمد لله آسمانوں سے زمین تک کی وسعت کو بھر دیتے ہیں۔ نماز نور ہے، صدقہ دلیل ہے، صبر روشنی ہے۔ قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے، ہر انسان دن کا آغاز کرتا ہے، تو (کچھ اعمال کے عوض) اپنا سودا کرتا ہے، پھر یا تو خود كو آزاد کرنے والا ہوتا ہے يا خود کو تباہ کرنے والا"۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک ایک بار وضو کیا۔
صحیح اسے بخاری نے روایت کیا ہے
"جب تم میں سے کوئی وضو کرے، تو اپنی ناک میں پانی ڈال کر ناک جھاڑے، اور جو ڈھیلوں سے اسنتجا کرے، وہ طاق عدد میں ڈھیلے استعمال کرے۔ اور جب تم میں سے کوئی نیند سے جاگے، تو اپنے ہاتھوں کو وضو کے پانی میں ڈالنے سے پہلے دھو لے، کیوں کہ تم میں سے کسی کو نہیں پتہ کہ رات کے وقت اس کا ہاتھ کہاں کہاں گیا ہے؟" صحیح مسلم کے الفاظ ہيں : "جب تم میں سے کوئی نیند سے جاگے، تو اپنے ہاتھ کو برتن میں اس وقت تک نہ ڈبوئے، جب تک اسے تین بار نہ دھو لے۔ کیوں کہ اسے نہیں پتہ کہ رات کے وقت اس کا ہاتھ کہاں کہاں گیا ہے۔"
صحیح متفق علیہ
اللہ کے رسول ﷺ ایک صاع پانی سے غسل جنابت اور ایک مد سے وضو کیا کرتے تھے۔
صحیح اسے مسلم نے روایت کیا ہے