رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی قوم سے قتال نہیں کیا، جب تک کہ انہیں دعوت نہ دے دیتے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:
رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی قوم سے قتال نہیں کیا، جب تک کہ انہیں دعوت نہ دے دیتے۔
مَا قَاتَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا قَطُّ حَتَّى يَدْعُوَهُمْ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی ﷺ کسی قوم سے اس وقت تک قتال نہیں کرتے تھے، جب تک کہ پہلے انہیں اسلام کی دعوت نہ دے دیتے۔ پھر اگر وہ دعوت قبول نہ کرتے تو آپ ان سے قتال کرتے۔
قتال سے پہلے اسلام کی دعوت دینا اس صورت میں مشروط ہے جب ان تک اسلام نہ پہنچا ہو۔
نبی ﷺ انہیں اسلام کی دعوت دیا کرتے تھے۔ اگر وہ انکار کر دیتے، تو آپ ان کے سامنے جزیہ کی پیش کش رکھتے۔ اگر وہ اس سے بھی انکار کرتے، تو آپ ان سے جنگ کرتے، جیسا کہ دیگر احادیث میں آیا ہے۔
جہاد کی حکمت لوگوں کا اسلام میں داخل ہونا ہے، نہ کہ ان کی جانوں، مالوں اور ملکوں کو تباہ کرنا۔
مزید (3)
مُسنَد احمد (4/ 16) (2105).
بیہقی کی سننِ کبریٰ (9/ 181) (18232).
تحفة الأحوذي (5/ 130).