Skip to content

”بے شک اللہ تعالیٰ کو غیرت آتی ہے اور بے شک مؤمن کو بھی غیرت آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو غیرت اس بات پر آتی ہے کہ بندہ وہ کام کرے، جسے اللہ نے اس پر حرام کیا ہے“۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :

”بے شک اللہ تعالیٰ کو غیرت آتی ہے اور بے شک مؤمن کو بھی غیرت آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو غیرت اس بات پر آتی ہے کہ بندہ وہ کام کرے، جسے اللہ نے اس پر حرام کیا ہے“۔

«إِنَّ اللهَ يَغَارُ، وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَغَارُ، وَغَيْرَةُ اللهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ مَا حَرَّمَ عَلَيْهِ».

متفق علیہ
حديث صحيح
شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ بے شک اللہ کو غیرت آتی ہے اور وہ نفرت اور ناپسند کرتا ہے۔ اللہ کو غیرت اس بات پر آتی ہے کہ مؤمن زنا، لواطت، چوری اور شراب نوشی جیسے گناہ کے کام کرے، جن کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔

حدیث کے بعض فوائد

جب اللہ کے محارم کو پامال کیا جائے، تو اس کے غضب اور اس کی سزا کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

حوالہ جات
مزید (10)

صحیح بخاری (7/ 35) (5223).

صحیح مسلم (4/ 2114) (2761).

تطريز رياض الصالحين.

لفيصل المبارك (ص62).

شرح رياض الصالحين.

لابن عثيمين (1/ 496).

نزهة المتقين شرح رياض الصالحين.

لمجموعة من الباحثين (1/ 96).

صفات الله عز وجل الواردة في الكتاب والسنة.

لعلوي السَّقَّاف (ص267).