Skip to content
576 احادیث

احادیثِ نبویہ کا انسائیکلوپیڈیا

نتائج فلٹر کریں

576 میں سے 104 کارڈ

فلٹر ہٹائیں

راوی

تمام راوی دکھائیں (52)
”نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے، اور گناہ وہ ہے جو تمھارے دل میں کھٹکے اور اس پر لوگوں کا مطلع ہونا تمھیں ناگوار ہو۔“
صحیح پہلی حدیث کو مسلم نے اور دوسری حدیث کو احمد اور دارمی نے روایت کیا ہے۔
”چار خصلتیں جس شخص میں ہوں گی وہ (مکمل) منافق ہو گا۔ جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو گی، اس میں نفاق کی ایک خصلت ہو گی، جب تک وہ اسے چھوڑ نہیں دیتا: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، جب جھگڑا کرے تو گالی گلوج کرے اور جب عہد کرے تو بد عہدی کرے۔“
صحیح اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے
"جب اللہ تعالیٰ نے جنت اور جہنم کو پیدا کیا، تو جبریل علیہ السلام کو جنت کی طرف بھیجا اور فرمایا: جاؤ، جنت اور اس میں جنتیوں کے لیے بنائی ہوئی چیزوں کو دیکھو۔ انہوں نے جا کر دیکھا، پھر واپس آئے اور کہنے لگے: تیری عزت کی قسم! جو شخص بھی جنت کے بارے میں سنے گا، ضرور اس میں داخل ہوگا۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا، تو جنت کو ناگوار چیزوں سے گھیر دیا گیا۔ بعد ازاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اب پھر جاؤ، جنت اور اس میں جنتیوں کے لیے بنائی ہوئی چیزوں کو دیکھو۔ انہوں نے جا کر دیکھا تو پایا کہ جنت کو ناگوار چیزوں سے گھیر دیا گيا ہے۔ چناں چہ واپس آکر کہا : تیری عزت کی قسم! مجھے خطرہ ہے کہ کوئی بھی شخص اس میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے فرمایا: ”جاؤ جہنم اور اس کے اندر میں نے اہل جہنم کے لیے جو کچھ تیار کیا ہے، اسے دیکھو۔ انہوں نے جاکر دیکھا تو آگ کے شعلے ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے۔ چناں چہ واپس آکر کہنے لگے: تیری عزت کی قسم! کوئی اس میں داخل نہیں ہوگا۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا، تو اسے خواہشات سے گھیر دیا گیا۔ پھر فرمایا: اب جا کر دیکھو۔ انہوں نے جاکر دیکھا تو پایا کہ اسے خواہشات سے گھیر دیا گیا ہے۔ لہذا واپس آکر کہنے لگے: تیری عزت کی قسم! مجھے خطرہ ہے کہ کوئی بھی شخص اس سے بچ نہیں سکے گا۔ ہر شخص اس میں داخل ہوگا"۔
حَسَنْ اسے ابو داود‘ ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے
’’شیطان تم میں سے ہر آدمی کے سر کے پیچھے رات میں سوتے وقت تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر یہ پھونک مارتا ہے کہ سوجا، ابھی رات بہت باقی ہے۔ پھر اگر کوئی بیدار ہو کر اللہ کو یاد کرنے لگے تو ایک گرہ کھُل جاتی ہے۔ پھر اگر وضو کر لے تو ایک اور گرہ کھل جاتی ہے۔ پھر اگر نماز پڑھے تو ایک اور گرہ بھی کھل جاتی ہے۔ اس طرح صبح کے وقت آدمی چاق وچو بند اور خوش مزاج رہتا ہے۔ ورنہ غمگین اور سست رہتا ہے۔"
صحیح متفق علیہ
"شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے اور اس سے کہتا ہے: یہ کس نے پیدا کیا؟ وہ کس نے پیدا کیا؟ حتی کہ سوال کرنے لگتا ہے کہ تیرے رب کو کس نے پیدا کیا؟ لہٰذا جب نوبت یہاں تک آپہنچے تو اسے اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرنا چاہیے اور اس شیطانی خیال کو ترک کر دینا چاہیے"۔
صحیح متفق علیہ
”دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر بڑے ہلکے ہیں، میزان میں بڑے وزنی ہیں، رحمٰن کو بڑے محبوب ہیں۔ وہ دونوں کلمے ہيں : ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ“۔
صحیح متفق علیہ
«کیا میں تمہیں روزہ، نماز اور صدقہ سے بھی افضل چیز نہ بتاؤں؟» صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں!، آپ ﷺ نے فرمایا: «لوگوں کے درمیان صلح کروانا، کیونکہ آپسی بگاڑ ہلاک کر دینے والی چیز ہے۔»
صحیح اسے ابوداود اور ترمذی نے روایت کیا ہے
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دو قبروں کے پاس سے گزرے، تو فرمایا : "ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور وہ بھی عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں دیا جا رہا ہے۔ دونوں میں سے ایک شخص پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا شخص لگائی بجھائی کرتا پھرتا تھا۔" پھر ایک تازہ شاخ لی، اسے آدھا آدھا پھاڑا اور ایک ایک حصہ دونوں قبروں پر گاڑ دیا۔ صحابہ نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو آپ نے جواب دیا: "شاید ان دونوں کا عذاب اس وقت تک کے لیے ہلکا کر دیا جائے، جب تک یہ دونوں شاخیں سوکھ نہ جائیں۔"
صحیح متفق علیہ