عنوان: نصاب تعلیم، کتاب التوحید، مرحلہ (ششم)
مختصر تعارف: اس علمی مواد کو مملکت سعودی عرب میں طلبہ کے لیے پیش کردہ تعلیمی نصاب کی تہذیب اور خلاصہ کہا جا سکتا ہے۔ اسے کئی مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس مواد کے ضمن میں علم توحید کے مطالعے سے متعلق حصہ بھی شامل ہے، جسے بارہ (12) مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ چھٹے مرحلے میں شامل اہم ترین موضوعات یہ ہیں: ان چار قواعد کا بیان جن کے ذریعے طالبِ علم یہ جان لیتا ہے کہ صرف توحیدِ ربوبیت کا اقرار کسی کو اسلام میں داخل نہیں کرتا، بلکہ توحیدِ الوہیت ضروری ہے۔ اور توحید الوہیت عبادت میں اللہ تعالیٰ کو یکتا ماننے کا نام ہے۔ شرک کی تعریف، اس کی قسموں کا بیان، اور اس کی ہر قسم کی دلیل۔ کفر کی تعریف، اس…
This PDF is generated automatically from the book's text; its layout may differ from the printed edition.
عنوان: نصاب تعلیم، کتاب التوحید، مرحلہ (ششم)
مختصر تعارف: اس علمی مواد کو مملکت سعودی عرب میں طلبہ کے لیے پیش کردہ تعلیمی نصاب کی تہذیب اور خلاصہ کہا جا سکتا ہے۔ اسے کئی مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس مواد کے ضمن میں علم توحید کے مطالعے سے متعلق حصہ بھی شامل ہے، جسے بارہ (12) مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ چھٹے مرحلے میں شامل اہم ترین موضوعات یہ ہیں:
ان چار قواعد کا بیان جن کے ذریعے طالبِ علم یہ جان لیتا ہے کہ صرف توحیدِ ربوبیت کا اقرار کسی کو اسلام میں داخل نہیں کرتا، بلکہ توحیدِ الوہیت ضروری ہے۔ اور توحید الوہیت عبادت میں اللہ تعالیٰ کو یکتا ماننے کا نام ہے۔
شرک کی تعریف، اس کی قسموں کا بیان، اور اس کی ہر قسم کی دلیل۔
کفر کی تعریف، اس کی اقسام کا بیان، اس کی ہر قسم کی دلیل اور ہر قسم کی مثالوں کا ذکر۔
نفاق کی تعریف، اس کی اقسام اور ہر قسم کے دلائل کا بیان مثالوں کے ساتھ۔
نواقضِ اسلام کا بیان: نواقض اسلام سے مراد: وہ امور ہیں کہ جب کوئی انسان ان کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کا اسلام باطل ہو جاتا ہے اور وہ ملت سے خارج ہو کر کافر ہو جاتا ہے (والعیاذ باللہ)۔
عقیدہ کا ایک مختصر تعارف، جس میں ان حقوق کا بیان شامل ہے، جو ہر مسلمان پر رسول ﷺ، آپ کی ازواجِ مطہرات، آپ کے صحابہ کرام، آپ کے خلفائے راشدین، ائمۂ مسلمین وغیرہ کے تئیں واجب ہوتے ہیں۔
چھٹا مرحلہ
مقدمہ
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں، جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا۔ جس نے انسان کو وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا۔ درود وسلام نازل ہو نبی امی پر جن کو اللہ نے اس لیے مبعوث فرمایا کہ لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں۔ حمد وصلاۃ کے بعد:
اللہ عز وجل کی توحید کو اختیار کرنا سب سے بڑا واجب ہے، اس کا علم حاصل کرنا سب سے معزز اور افضل علم ہے اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر اعمال کی صحت اور مقبولیت کا دار ومدار ہے۔ بندوں کو تمام ضرورتوں سے بڑھ کر اس کی ضرورت ہے، کیوں کہ پروردگار، معبود اور خالق کو اس کے اسما و صفات اور افعال کے ذریعے جانے بغیر نہ دلوں کو زندگی ملتی ہے، نہ نعمت وخوش حالی حاصل ہوسکتی ہے اور نہ اطمینان وسکون۔ اسی طرح دین میں تفقہ (سمجھ) حاصل کرنا اور عبادات جیسے طہارت اور نماز وغیرہ کی ادائیگی کا طریقہ جاننا سعادت مندی کی علامت اور اس بات کی نشانی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: "اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے"۔[1] [1] صحیح بخاری، کتاب العلم، باب: من يرد الله به خيرًا يفقهه في الدين، حدیث نمبر (7)۔
اسی اہمیت کے پیش نظر مکتب توعیۃ الجالیات نے طلبہ کے دلوں میں صحیح عقیدہ کو راسخ کرنے کی غرض سے توحید کا مادہ پڑھانے کا خاص اہتمام کیا ہے، تاکہ طلبہ اپنے دینی احکام سے متعلق بصیرت و آگہی حاصل کرسکیں۔
مادہ توحید کا یہ چھٹا مرحلہ ان چار قواعد کے ذکر پر مشتمل ہے جن کے ذریعے شرک کی سنگینی اور توحید کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ اس میں شرک کی تعریف اور اس کی قسموں کی وضاحت، کفر کا معنی اور اس کی انواع، نفاق اور اس کے شعبوں کا بیان اور کتاب اور سنت صحیحہ سے ان سب کے دلائل بھی شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ان نواقضِ اسلام کو بھی بیان کیا گیا ہے جو انسان کو ملتِ اسلام سے خارج کر دیتے ہیں۔ اسی طرح عقیدے کے متعلق ایک مختصر خاکہ بھی پیش کیا گیا ہے۔
ہر سبق کے لیے کچھ خاص اہداف مقرر کیے گئے ہیں، جو مادہ کے مزاج سے ہم آہنگ ہیں۔ اختصار، واضح اسلوب، موضوعات میں ترتیب اور پہلے پڑھے گئے سبق سے اس کا ربط بحال رکھنے کا پورا اہتمام کیا گیا ہے۔ ہر سبق کے لیے کچھ سوالات بھی بنائے گئے ہیں اور استاد کے لیے اہم ہدایات بھی پیش کی گئی ہیں، تاکہ ان کی روشنی میں وہ مطلوبہ مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
معلم کی خدمت میں چند نصیحتیں:
1- اللہ تعالی کے لیے مخلص ہونا عمل کی قبولیت کے لیے شرط ہے۔ اس لیے اپنا عمل صرف اللہ پاک کے لیے خالص رکھیے، آپ دنیا و آخرت میں کامیاب رہیں گے۔
2- امانت کی حفاظت نجات کا ذریعہ ہے اور آپ -اے میرے معلم بھائی- اسلام کی ایک سرحد کے نگہبان اور مسلم بچوں کی عقل و فطرت کے امین ہیں؛ لہذا امانت کی حفاظت کریں، تاکہ آپ دنیا و آخرت میں کامیابی سے ہمکنار ہو سکیں۔
3- بلاشبہ مضمونِ توحید کی تعلیم دینا ایک عظیم ترین عمل ہے، کیونکہ بندوں کے لیے فلاح اور دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے نجات صرف توحید کی معرفت اور اس پر عمل کرنے میں مضمر ہے۔ لہٰذا طلبہ کے دلوں میں صحیح عقیدہ راسخ کرنے کی بھرپور کوشش کریں اور آپ جن اعلیٰ اصولوں اور اقدار کی دعوت دیتے ہیں، خود ان کے سچے ترجمان اور زندہ مثال بنیں۔
4- جب آسمان میں گھنگھور گھٹا چھا جائے، بجلی چمکنے لگے، بادل گرجنے لگے، بارش ہونے لگے اور اس طرح کے دیگر واقعات رونما ہوں، جن سے مسلمان کے اندر ایمان کے جذبات متحرک ہوجاتے ہیں، تو ان مواقع کو غنیمت جانتے ہوئے اللہ کی وحدانیت اور قدرت کے بارے میں گفتگو کریں۔
5- مثالوں کے ذریعہ مادہ کو آسان بناکر پیش کرنے اور سبق کو زمینی حقائق سے جوڑ کر سمجھانے سے مادہ کے تئیں طلبہ کے اندر محبت پیدا ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ اس مادہ کو سیکھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے آمادہ ہوتے ہیں۔
اخیر میں ہم آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بشارت سناتے ہیں: “مومن کو اس کے اعمال اور نیکیوں میں سے اس کے مرنے کے بعد جن چیزوں کا ثواب پہنچتا رہتا ہے، ان میں وہ علم بھی شامل ہے جو اس نے سکھایا اور پھیلایا ہو۔”[2] [2] سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: (242)۔
وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم (اللہ تعالیٰ ہمارے نبی محمد، آپ کی آل اور آپ کے تمام صحابہ پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے اور سلامتی عطا فرمائے)۔
پہلا سبق :
اول: توحید کی اہمیت
میں [3] عرش عظیم کے رب، اللہ کریم سے دعا گو ہوں کہ وہ دنیا وآخرت میں آپ کا حامی وناصر ہو۔ آپ جہاں کہیں رہیں اللہ آپ کو بابرکت بنائے اور اپنے ان بندوں میں شامل کردے جو نعمتوں کے ملنے پر شکر گذار ہوتے ہیں، آزمائشوں میں صبر کرتے ہیں اور گناہ سرزد ہونے پر استغفار کرتے ہیں۔ بلا شبہ یہ تینوں خصلتیں سعادت کی علامت ہیں۔ [3] اس کتابچے کا عنوان: "قواعد اربعہ (چار قاعدے)" ہے۔
یہ بات جان لیں — اللہ آپ کی رہنمائی اپنی اطاعت و فرماں برداری کی طرف فرمائے — کہ حنیفیت — یعنی ملتِ ابراہیمی — یہ ہے کہ آپ دین کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کریں۔ اسی کام کا اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کو حکم دیا ہے اور اسی غرض سے انھیں پیدا فرمایا ہے۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے واضح ہے: "میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں۔" [سورہ ذاریات : 56]۔
لہذا جب آپ نے یہ جان لیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے، تو یہ بھی جان لیں کہ کوئی بھی عبادت اسی وقت عبادت کہلائے گی جب وہ توحید کے ساتھ ہو، جیسے نماز اسی وقت نماز کہلائے گی جب وہ طہارت کے ساتھ ادا کی جائے۔ اسی لیے جب شرک عبادت میں داخل ہو جائے، تو عبادت فاسد ہو جاتی ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے حدث سے طہارت فاسد ہو جاتی ہے۔
سبق کی ہدایات :
* سعادت اور خوش بختی راضی بہ رضا رہنے اور امن و امان کے احساس کا نام ہے۔ اکثر لوگ مال و دولت، لباس، سواری اور تفریحی وسائل میں سعادت اور خوش بختی تلاش کرتے ہیں، لیکن محض ان چیزوں کے مل جانے سے سعادت اور خوش بختی حاصل نہیں ہو سکتی۔
* حقیقی سعادت اور خوش بختی صرف تین امور سے نصیب ہوتی ہے، جو اللہ پر ایمان اور اس کا قرب حاصل کرنے میں پنہاں ہیں۔ وہ تین امور یہ ہیں:
اول: اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا اعتراف اور اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرنا۔
دوم : اللہ کی قضا و قدر اور اس کی حکمت پر ایمان لانا اور اس کی طرف سے آنے والی آزمائشوں پر صبر کرنا۔
سوم : توبہ و استغفار کے ذریعے ہمیشہ اللہ کی طرف رجوع کرتے رہنا، خاص طور پر گناہ کے ارتکاب کے وقت۔
* ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام (دین) حنیفیت لے کر آئے تھے، جس سے مراد عبادت کو اللہ تعالی کے لیے خالص کر دینا ہے۔ محمد ﷺ بھی اسی کو لے کر تشریف لائے اور اسی سے انسانیت کو سعادت حاصل ہو سکتی ہے۔
* عبادت توحید کے بغیر درست نہیں ہوسکتی، جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمایا ہے : "آپ کہہ دیجیے! کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کروں کہ اسی کے لیے عبادت کو خالص کر لوں۔" [سورہ زمر : 11]۔
سوالات:
س1: درج ذیل جملے کا صحیح جواب چنیں:
حقیقی سعادت صرف ........................................ سے ہی حاصل ہوتی ہے۔
الف- مال۔ ب- وسائلِ تفریح۔ ج- استغفار کرنا، صبر سے کام لینا اور اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا۔
س2: اللہ نے انس و جن کو کیوں پیدا کیا؟
س3: حنیفیت کیا ہے؟
س4: اللہ تعالیٰ کے درج ذیل فرمان کا عنوان تحریر کریں: "میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں۔" [سورہ ذاریات : 56]۔
س5 : اگر آپ سے کوئی گناہ یا معصیت سرزد ہو جائے، تو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے آپ کیا کریں گے؟
دوسرا سبق
توحید کا اقرار
صرف توحید ربوبیت کا اقرار کرنا اسلام میں داخل نہیں کرتا۔
جب آپ نے یہ جان لیا کہ عبادت میں جب شرک کی آمیزش ہوجائے تو شرک عبادت کو فاسد اور عمل کو برباد کر دیتا ہے اور اس کا مرتکب ہمیشہ ہمیش کے لیے جہنم کا مستحق ہوجاتا ہے، تو آپ کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہوچکا ہوگا کہ آپ کے لیے سب سے اہم اور ضروری کام یہ جاننا ہے کہ شرک کیا ہے۔ شاید اللہ تعالیٰ آپ کو شرک کے جال سے نجات عطا کرے، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : "یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کیے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے اور جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک بنایا اس نے بہت بڑا گناه کیا اور بہتان باندھا۔" [سورہ نساء: 48]۔
شرک کیا ہے، یہ جاننے کے لیے ان چار قواعد کا جاننا ضروری ہے، جنہیں اللہ تعالی نے اپنی کتاب قرآن کریم میں ذکر فرمایا ہے:
پہلا قاعدہ :
یہ جان لیں کہ جن کفار و مشرکین سے اللہ کے رسول ﷺ نے جنگ کی، وہ اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق اور مدبر ہے۔
لیکن اس اقرار نے انہیں اسلام میں داخل نہیں کیا۔
اس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے: "آپ کہہ دیجیے کہ وه کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے یا وه کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے اور وه کون ہے جو زنده کو مرده سے نکالتا ہے اور مرده کو زنده سے نکالتا ہے اور وه کون ہے جو تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے؟ ضرور وه یہی کہیں گے کہ اللہ، تو ان سے کہہ دیجیے کہ تم پھر کیوں نہیں ڈرتے؟" [سورہ يونس: 31]۔
سبق کی ہدایات :
* توحید نجات کا راستہ ہے۔ جو شخص توحید کی حالت میں اللہ سے ملاقات کرے گا، وہ نجات پائے گا اور کامیاب ہوگا۔ جبکہ شرک ہلاکت کا راستہ ہے۔ جو شخص شرک کی حالت میں اللہ سے ملاقات کرے گا، وہ ناکام اور نامراد ہوگا۔
* شرک ایک نجاست ہے، جو عبادت میں داخل ہو جائے تو اسے فاسد کر دیتا ہے اور اس کے ثواب کو ضائع کر دیتا ہے۔ لہٰذا مسلمان پر واجب ہے کہ وہ خود کو اس سے آلودہ ہونے سے محفوظ رکھے۔
* جو شخص اللہ تعالیٰ کے وجود کا اقرار کرتا ہے، اور اس بات کا ایمان رکھتا ہے کہ وہ کائنات کا خالق ہے، وہی لوگوں کے معاملات کی تدبیر کرتا اور کائنات کے امور کو چلاتا ہے، تو اس کا یہ اقرار درست ہے، لیکن وہ اس بنا پر مسلمان نہیں ہو جاتا، جب تک کہ اس بات پر ایمان نہ لے آئے کہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور جب تک کہ تنہا اسی کی عبادت نہ کرنے لگے جس کا کوئی شریک نہیں ہے۔
سوالات:
س1 : وہ کیا چیز ہے جو عبادت میں شامل ہو جائے تو اسے فاسد کر دیتی ہے اور عمل کو ضائع کر دیتی ہے؟
س2 : انسان کی ہلاکت کا راستہ کیا ہے؟
س3: اللہ کے عذاب سے نجات کا راستہ کیا ہے؟
سوال 4 : اس بات کی دلیل ذکر کریں کہ اللہ شرک کو نہیں بخشتا۔
س5: توحیدِ ربوبیت کی تعریف کریں۔
س6: کیا توحید ربوبیت کا اقرار انسان کے مسلمان ہونے کے لیے کافی ہے؟
تیسرا سبق
بتوں سے قربت اور شفاعت طلب کرنا شرک ہے
دوسرا قاعدہ :
مشرکینِ عرب کہتے تھے کہ ہمارا غیر اللہ کو پکارنے اور ان کی طرف متوجہ ہونے کا مقصد صرف شفاعت اور تقربِ الٰہی کا حصول ہے۔
تقرب الٰہی کے حصول کی دلیل یہ فرمان الٰہی ہے: "اور جن لوگوں نے اس کے سوا اولیا بنا رکھے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ یہ (بزرگ) اللہ کی نزدیکی کے مرتبہ تک ہماری رسائی کرا دیں، یہ لوگ جس بارے میں اختلاف کر رہے ہیں اس کا (سچا) فیصلہ اللہ (خود) کرے گا۔ جھوٹے اور ناشکرے (لوگوں) کو اللہ تعالیٰ راه نہیں دکھاتا۔" [سورہ زمر: 3][4]۔ [4] قُربت: اس کے معنی مقام اور منزلت کے ہیں۔ 'لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللّٰهِ' کے معنی ہيں: تاکہ وہ اللہ کے یہاں ہمیں مقام و مرتبہ دلا دیں۔
جب کہ حصولِ شفاعت کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "اور یہ لوگ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو ضرر پہنچا سکیں اور نہ ان کو نفع پہنچا سکیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں۔" [سورہ يونس : 18]۔
سبق کی ہدایات :
* شفاعت: کسی دوسرے کو فائدہ پہنچانے یا اسے ضرر سے بچانے کے لیے واسطہ بننا ہے۔
* دور جاہلیت کے اکثر لوگ یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ ان کے معبود اللہ کے ہاں ان کا واسطہ بنتے ہیں۔ چنانچہ وہ ان کی عبادت اس لیے کرتے تھے کہ وہ ان کے رب کے پاس ان کی سفارش کردیں۔ یہ ایک باطل عقیدہ ہے؛ کیونکہ یہ اللٰہ پر افترا ہے اور کسی نبی نے اس کا حکم نہیں دیا۔
سوالات:
س1 : وہ کون لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ اولیا کو پکارنے اور ان کی طرف متوجہ ہونے کا ہمارا مقصد صرف شفاعت اور تقربِ الٰہی کا حصول ہے؟
س2 : اہل جاہلیت اپنے معبودوں کے بارے میں کیا عقیدہ رکھتے تھے؟
س 3 : کیا دور جاہلیت کے معبود اپنے پرستاروں کو نفع پہنچا سکتے تھے یا اللہ کے یہاں ان کی سفارش کر سکتے تھے؟ اور کیوں؟
س4: جو شخص اپنے اور اللہ کے درمیان کسی کو واسطہ بناتا ہے اسے کیا کہا جاتا ہے؟
س 5 : اس بات کی کیا دلیل ہے کہ دور جاہلیت کے لوگ اپنے معبودوں سے سفارش طلب کرتے تھے؟
چوتھا سبق
شفاعت کی اقسام
شفاعت کی دو قسمیں ہیں:
منفی شفاعت اور مثبت شفاعت:
الف- منفی شفاعت : وہ شفاعت جس کے ذریعے غیر اللہ سے ایسی چیز طلب کی جائے جس پر اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا قادر نہ ہو۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "اے ایمان والو! جو ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہو اس سے پہلے کہ وه دن آئے جس میں نہ تجارت ہوگی، نہ دوستی اور نہ شفاعت اور کافر ہی ﻇالم ہیں۔" [ سورہ بقرہ: 254]۔
ب- مثبت شفاعت: ایسی شفاعت، جو اللہ سے طلب کی جائے۔
شفاعت کرنے والے کی اسے شفاعت کا حق دے کر عزت افزائی کی جاتی ہے اور شفاعت اسی كى کی جاتی ہے جس کے قول و عمل سے اللہ تعالیٰ راضی ہو اور اس کے لیے شفاعت کی اجازت دے دے۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے...۔" [سورہ بقرہ : 255]۔
سبق کی ہدایات :
* اللہ کے یہاں شفاعت براہِ راست اسی سے مانگنی چاہیے؛ اس طرح کہ شفاعت کا طلب گار -مثال کے طور پر- یوں کہے: یا الٰہی! میرے سلسلہ میں اپنے نبی محمد ﷺ کو شفاعت کی اجازت مرحمت فرما۔
* شفاعت اللہ تعالیٰ کے یہاں صرف دو شرطوں کے ساتھ ہی حاصل ہوگی:
1- اللہ تعالیٰ کا اس شخص سے راضی ہونا جس کے لیے سفارش کی جائے۔ 2- اللہ تعالیٰ کا شافع (سفارش کرنے والے) کو شفاعت کی اجازت دینا۔
* بتوں یا قبر والوں کی طرف متوجہ ہو کر انہیں پکارنا اور ان سے سفارش طلب کرنا باطل اور اللہ کے ساتھ شرک ہے۔
* شفاعت کی قبولیت دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے شافع (سفارش کرنے والے) کے لیے عزت و اکرام اور اس کی فضیلت کا اظہار ہے اور مشفوع لہ (جس کی سفارش کی جائے اس) کے لیے نفع کا باعث ہے۔
سوالات:
س 1 : شفاعت کی اقسام بیان کریں۔
س2 : منفی شفاعت کی تعریف کریں اور اس کی دلیل ذکر کریں۔
س3 : ثابت شفاعت کی تعریف کریں اور اس کی دلیل ذکر کریں۔
س4 : خالی جگہوں کو پر کریں:
شفاعت درج ذیل دو شرطوں کے بغیر حاصل نہیں ہوگی:
- ......................................................... کے لیے اللہ تعالی کی اجازت۔
- اللہ تعالی کا ................................ سے راضی ہونا۔
س 5 : کیا قبر والوں سے سفارش طلب کرنا جائز ہے؟ اور کیوں؟
پانچواں سبق
غیر اللہ کے لیے انجام دی جانے والی ہر عبادت گمراہی ہے۔
تیسرا قاعدہ :
نبی ﷺ کا ظہور ایسے لوگوں میں ہوا تھا، جو عبادت و بندگی کے معاملے میں الگ الگ راہوں پر چل رہے تھے: ان میں کچھ لوگ فرشتوں کی پوجا کرتے تھے، کچھ لوگ انبیا و صالحین کو پوجتے تھے، کچھ لوگ درختوں اور پتھروں کی پوجا کرتے تھے اور کچھ لوگ سورج اور چاند کی عبادت کرتے تھے۔
ان تمام لوگوں سے رسول اللہ ﷺ نے جنگ کی اور ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کی۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "اور تم ان سے اس حد تک لڑو کہ ان میں فساد عقیده نہ رہے ۔ اور دین اللہ ہی کا ہو جائے..." [5] [ سورہ انفال: 39]۔ [5] یہاں فتنہ سے مراد: شرک اور کفر ہے۔
سورج اور چاند کی پرستش کی دلیل: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "اور دن، رات اور سورج چاند بھی (اسی کی) نشانیوں میں سے ہیں۔ تم سورج کو سجده نہ کرو، نہ چاند کو، بلکہ سجده اس اللہ کو کرو، جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے، اگر تمہیں اس کی عبادت کرنی ہے تو۔" [سورہ فصلت: 37]۔
اور فرشتوں کی عبادت کی دلیل: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "اور یہ نہیں (ہو سکتا) کہ وه تمہیں فرشتوں اور نبیوں کو رب بنا لینے کا حکم کرے۔" [سورہ آل عمران: 80]۔
سبق کی ہدایات :
* کائنات میں صرف ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔
* کفر ایک ہے اور معبودان مختلف ہیں۔ مثلا بتوں، سورج، چاند، فرشتوں، جنات اور ان جیسی دیگر چیزوں کی عبادت۔ ان معبودوں یا ان میں سے بعض کی عبادت کرنے والے کافر ہیں اور "کفر ایک ہی ملت ہے"۔ اسی لیے رسول ﷺ نے اپنی دعوت اور جہاد میں ان کے درمیان کسی طرح کا کوئی فرق نہیں کیا ہے۔
سوالات:
س1: ظہورِ اسلام سے قبل موجود بعض عبادتوں کا ذکر کریں۔
س۲: خالی جگہوں کو پر کریں:
أ - اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (لَا تَسۡجُدُواْ لِلشَّمۡسِ وَلَا لِلۡقَمَرِ وَٱسۡجُدُواْۤ لِلَّهِۤ...........................).
ب - اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (وَلَا يَأۡمُرَكُمۡ أَن تَتَّخِذُواْ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةَ وَٱلنَّبِيِّـۧنَ أَرۡبَابًاۚ.....................).
س 3 : اس شخص کی کیا سزا ہوگی جو کسی بھی طرح کی کوئی عبادت غیر اللہ کے لیے بجا لائے؟
چھٹا سبق
انبیا، صالحین، درختوں اور پتھروں کی عبادت شرک ہے۔
انبیائے کرام کی عبادت کی دلیل:
اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے : "اور وه وقت بھی قابل ذکر ہے جب کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تم نے ان لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ تم اللہ کے علاوہ مجھ کو اور میری ماں کو معبود قرار دے لو! عیسیٰ عرض کریں گے کہ میں تو تجھ کو منزہ سمجھتا ہوں۔ مجھ کو کسی طرح زیبا نہ تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کے کہنے کا مجھ کو کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے کہا ہوگا تو تجھ کو اس کا علم ہوگا۔ تو، تو میرے دل کے اندر کی بات بھی جانتا ہے اور میں تیرے نفس میں جو کچھ ہے اس کو نہیں جانتا۔ تمام غیبوں کا جاننے واﻻ تو ہی ہے۔" [سورہ مائدہ: 116]۔
نیک اور صالح لوگوں کی عبادت کی دلیل:
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں خود وه اپنے رب کے تقرب کی جستجو میں رہتے ہیں کہ ان میں سے کون زیاده نزدیک ہوجائے۔ وه خود اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے خوفزده رہتے ہیں۔" [سورہ اسراء: 57]۔
پتھروں اور درختوں کی عبادت کی دلیل:
اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : "کیا تم نے ﻻت اور عزیٰ کو دیکھا؟ اور تیسرے پچھلے منات کو؟" [6] [سورہ نجم: 19 -20]۔ [6] یہ ان معبودوں کے نام ہیں جن کی عبادت مشرکین اسلام سے قبل جزیرۂ عرب میں کیا کرتے تھے۔ لات: ایک شخص تھا جو حاجیوں کے لیے ستو گھولا کرتا تھا۔ جب وہ مر گیا تو لوگوں نے اس کی عبادت شروع کر دی۔ عُزیٰ : کہا جاتا ہے کہ یہ قبیلۂ غطفان کا بُت تھا۔ مناۃ : مذکورہ بالا دونوں بتوں کے بعد تیسرا بُت، جو قبیلۂ ہذیل اور خزاعہ کا معبود تھا۔
ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا ہے : "ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ (غزوۂ) حنین کے لیے نکلے۔ ہم نئے نئے مسلمان ہوئے تھے۔ مشرکین کا ایک بیری کا درخت تھا، جہاں وہ جا کر رُکتے تھے اور اس پر اپنا اسلحہ لٹکایا کرتے تھے۔ اسے ”ذات انواط“ کہا جاتا تھا۔ چنانچہ راستے میں ہم لوگ ایک بیری کے درخت سے گزرے، تو ہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! (ﷺ) ہمارے لیے بھی ایک ذات انواط مقرر فرما دیجیے، جیسا کہ ان کا ایک ذات انواط ہے۔ لہذا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اکبر! یہی تو سابقہ قوموں کے طریقے ہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم نے تو وہی بات کہہ دی جو بنی اسرائیل نے کہی تھی: ﴿اجْعَلْ لَنَا إِلٰھًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ﴾ (-کہ اے موسیٰ!- ہمارے لیے بھی ایک معبود ویسا ہی مقرر کر دیجیے، جیسے ان کے یہ معبود ہیں)۔ (موسیٰ علیہ السلام نے) فرمایا: ﴿إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ﴾ (واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے۔) دیکھو، تم بھی پہلی امتوں کے طریقوں پر چل پڑوگے۔"[7] [7] اس حدیث کو ترمذی نے اپنی سنن، کتاب الفتن، باب: ما جاء لتركبن سنن من كان قبلكم، حدیث نمبر (2180)، (4/475) میں روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے "حدیث حسن صحیح" کہا ہے۔ اسے احمد (5/218) اور طبرانی نے المعجم الکبیر (17/21) میں بھی روایت کیاہے۔ مذکورہ الفاظ طبرانی کے ہيں۔
سبق کی ہدایات :
* انبیاء کرام اور صالحین اس بات کو ہرگز گوارا نہیں کرتے کہ لوگ ان کی عبادت کریں، بلکہ وہ اس طرح کے لوگوں سے اپنی براءت و بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔
* جو لوگ عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام اور ان کی والدہ کی عبادت کرتے ہیں، یہ ان کا اپنا خود ساختہ عمل ہے۔ نہ تو اللہ نے انھیں اس کا حکم دیا ہے اور نہ ہی عیسیٰ علیہ السلام نے۔
* انبیاء و صالحین اللہ کے محتاج ہیں اور عملِ صالح کے ذریعے اس کا تقرب حاصل کرتے ہیں، تو پھر اللہ کو چھوڑ کر ان کی کیسے عبادت کی جا سکتی ہے بھلا؟!
* درختوں، پتھروں اور صالحین کی قبروں سے برکت حاصل کرنا اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے۔
* مشرکین درختوں، پتھروں اور قبروں سے متعلق برکت کا جو عقیدہ رکھتے ہیں، وہ محض وہم ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، کیونکہ وہ تو محض عام درخت اور پتھر ہیں۔ اسی لیے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا ہے : "دراصل یہ صرف نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے ان کے رکھ لیے ہیں۔ اللہ نے ان کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔" [سورہ نجم : 23]۔
سوالات:
س 1 : بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے رسول ﷺ سے یہ درخواست کیوں کی کہ آپ ﷺ ان کے لیے ذات انواط مقرر فرما دیں؟
س2 : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے لیے مشرکین کی طرح ذاتِ انواط مقرر کرنے پر رضامندی ظاہر کی؟
س3 : صالحین کی عبادت شرک ہے، اس کی دلیل ذکر کریں۔
س4 : اس بات کی دلیل ذکر کیجیے کہ پتھروں کی عبادت شرک ہے۔
س5 : اس بات کی دلیل بیان کریں کہ انبیا کی عبادت شرک ہے۔
ساتواں سبق:
دور حاضر کے لوگوں کا سنگین شرک
چوتھا قاعدہ :
ہمارے زمانے کے مشرکین، شرک کے معاملے میں، پہلے زمانے کے مشرکین سے زیادہ سخت ہیں؛ کیوں کہ پہلے زمانے کے مشرکین خوش حالی کے وقت شرک کرتے تھے اور مصیبت کے وقت خالص اللہ ہی کو پکارتے تھے، جب کہ ہمارے زمانے کے مشرکین خوش حالی اور مصیبت دونوں حالتوں میں ہمیشہ شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "پس یہ لوگ جب کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں اس کے لئے عبادت کو خالص کر کے، پھر جب وه انہیں خشکی کی طرف بچا ﻻتا ہے، تو اسی وقت شرک کرنے لگتے ہیں۔" [سورہ عنکبوت: 65]۔
یہ رسالہ مکمل ہوا۔ درود و سلام نازل ہو محمدﷺ پر اور آپ کے خاندان اور آپ کے اصحاب پر۔ [8] [8] کتابچہ: "قواعد اربعہ" مکمل ہوا۔
سبق کی ہدایات :
* ان معبودوں کی عبادت کے باطل ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ جو لوگ ان کی عبادت کرتے ہیں، وہ مصیبت کے وقت انہیں چھوڑ دیتے ہیں اور صرف ایک اللہ کی پناہ لیتے ہیں۔
* جو شخص مصیبت کی حالت میں بھی اپنی گمراہی پر ڈٹا رہے، وہ شرک کے معاملے میں اس شخص سے زیادہ سخت ہے جو خوش حالی کے وقت تو شرک کرے مگر مصیبت کی حالت میں اس سے کنارہ کش ہو جائے۔
* اس زمانے میں جو لوگ قبروں کی عبادت کرتے ہیں، وہ خوش حالی اور پریشانی دونوں حالتوں میں قبر میں مدفون لوگوں کو پکارتے ہیں۔ یہ پہلے کے لوگوں کی نسبت زیادہ سنگین شرک ہے۔
سوالات:
س1: ہمارے زمانے کے مشرکین اور پہلے زمانے کے مشرکین میں کیا فرق ہے؟
س2: بتوں کی عبادت کے باطل ہونے کی کیا دلیل ہے؟
س 3: اس بات کی کیا دلیل ہے کہ مشرکین پریشانی کے وقت بس ایک اللہ کی عبادت کرتے تھے؟
س4: چاروں قواعد اجمالاً ذکر کریں۔
آٹھواں سبق
شرک اور اس کی قسمیں
جان لیجیے کہ توحید کی ضد شرک ہے، اور اس کی تین قسمیں ہیں:
شرک اکبر، شرک اصغر اور شرک خفی۔
شرک اکبر کی دلیل :
اللہ تعالیٰ یہ کا قول ہے : "یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کیے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے اور جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرایا اس نے بہت بڑا گناه کیا اور بہتان باندھا۔" [سورہ نساء: 48]۔
مزید ارشاد باری تعالی ہے : "...حاﻻں کہ خود مسیح نے ان سے کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل! اللہ ہی کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا رب ہے۔ یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے، اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے اور گنہگاروں کی مدد کرنے واﻻ کوئی نہیں ہوگا۔" [سورہ مائدہ: 72]۔
شرک اکبر کی چار قسمیں ہیں:
پہلی قسم: دعا میں شرک کرنا۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "پس یہ لوگ جب کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں اس کے لئے عبادت کو خالص کر کے۔ پھر جب وه انہیں خشکی کی طرف بچا ﻻتا ہے تو اسی وقت شرک کرنے لگتے ہیں۔ تاکہ ہماری دی ہوئی نعمتوں سے مکرتے رہیں اور ان سے مستفید ہوتے رہیں ۔ انھیں عن قریب پتہ چل جائے گا۔" [سورہ عنکبوت: 65-66]۔
دوسری قسم: نیت یعنی ارادہ اور قصد کا شرک :
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "جو شخص دنیا کی زندگی اور اس کی زینت پر فریفتہ ہوا چاہتا ہو ہم ایسوں کو ان کے کل اعمال (کا بدلہ) یہیں بھرپور پہنچا دیتے ہیں اور یہاں انہیں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ ہاں یہی وه لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں سوائے آگ کے اور کچھ نہیں اور جو کچھ انہوں نے یہاں کیا ہوگا وہاں سب اکارت ہے اور جو کچھ ان کےاعمال تھے سب برباد ہونے والے ہیں"۔ [9] [سورہ ہود: 15، 16]۔ [9] يُبْخَسُون کا مطلب ہے: ان میں کمی کی جائے گی۔
سبق کی ہدایات :
* شرک اکبر: یعنی عبادت کی کسی بھی قسم کو غیراللہ کے لیے صرف کرنا، جیسے غیر اللہ کو پکارنا اور غیر اللہ کے لیے ذبح کرنا۔ شرک اکبر ملت سے خارج کر دیتا ہے۔ اگر انسان مر جائے اور اس سے توبہ نہ کی ہو تو اس کا مرتکب ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔
* شِركُ الدَّعوةِ: اس سے مراد نقصان دور کرنے یا فائدہ حاصل کرنے کے لیے غیر اللہ کو پکارنا ہے، جیسا کہ خوش حالی کی حالت میں مشرکین عرب کیا کرتے تھے۔
* مشرکین کا ایک گروہ ایک کشتی میں سوار ہوا اور وہ اپنے معبودوں کو پکارنے اور ان سے دعائیں مانگنے لگے۔ پھر ہوائیں طوفانی ہو گئیں اور کشتی ہچکولے کھانے لگی تو کشتی والوں نے کہا : صرف اور صرف اپنے رب سے دعا کرو؛ کیونکہ یہاں اس کے سوا کوئی نجات دینے والا نہیں ہے۔ اس کشتی میں ایک ایسا شخص بھی سوار تھا جو رسول اللہ ﷺ کے مکہ میں داخل ہونے کے وقت آپ ﷺ سے بچ کر بھاگ نکلا تھا، تو اس نے کہا : اگر سمندر میں اس کے سوا کوئی اور نجات نہیں دے سکتا، تو خشکی میں بھی اس کے سوا کوئی نجات دینے والا نہیں ہے۔
چنانچہ وہ واپس آ گيا اور اسلام میں داخل ہو گیا۔ وہ شخص عکرمہ بن ابو جہل رضی اللہ عنہ تھے۔ [10] [10] دیکھیں: الاصابۃ فی تمييز الصحابة (2/496)۔
* غیر اللہ کو پکارنا، چاہے وہ آسانی کی حالت میں ہو یا تنگی کی حالت میں، شرکِ اکبر ہے۔
* نیت کا شرک ان لوگوں سے سرزد ہوتا ہے جو آخرت کو بھول گئے ہوں اور اس کے لیے کوئی عمل نہیں کیا ہو، بلکہ انہوں نے اپنی تمام تر فکر، کوشش اور یہاں تک کہ اپنی عبادت کو بھی صرف دنیا تک محدود کر لیا، اس شخص کی طرح جو فقط مالِ غنیمت کے لیے جہاد کرے۔
* ایک مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اپنی نیت، ارادے اور دعا کو اللہ رب العالمین کے لیے خالص کرے جس کا کوئی شریک نہیں۔
سوالات:
س1: شرک کی قسمیں بیان کریں۔
س2: شرکِ اکبر کی تعریف کریں۔
سوال 3 : دعا میں شرک کا معنی بیان کریں۔
س4: مندرجہ ذیل میں سے صحیح جواب چنیں:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "پس یہ لوگ جب کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں اس کے لئے عبادت کو خالص کر کے۔ پھر جب وه انہیں خشکی کی طرف بچا ﻻتا ہے، تو اسی وقت شرک کرنے لگتے ہیں۔" [سورہ عنکبوت: 65]۔
اس سے مراد ہیں: الف- مشرکین۔ ب- منافقین۔ ج- مسلمان۔
س5 : شرکِ اکبر کی مثال بیان کریں۔
س6: نیت میں شرک کی دلیل ذکر کریں۔
نواں سبق
اطاعت اور محبت میں شرک۔
تیسری قسم : اطاعت میں شرک :
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنایا ہے اور مریم کے بیٹے مسیح کو، حاﻻں کہ انہیں صرف ایک اکیلے اللہ ہی کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا، جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وه پاک ہے ان کے شریک ٹھہرانے سے۔" [11] [سورہ توبۃ: 31]۔ [11] احبار یہود کے علما کو کہتے ہیں، اور رہبان نصاریٰ کے عبادت گزاروں کو۔
اس کی وہ تفسیر جس میں کوئی اشکال نہیں: اس سے مراد اللہ سبحانہ کی نافرمانی میں علماء و مشائخ کی اطاعت کرنا ہے، نہ کہ ان سے دعا کرنا، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کے سوال کے جواب میں اس کی وضاحت فرمائی۔ جب انہوں نے عرض کیا: ’’ہم ان کی عبادت تو نہیں کرتے۔‘‘ تو آپ ﷺ نے ان سے بیان فرمایا کہ ان کی عبادت دراصل اللہ کی نافرمانی کے کاموں میں ان کی اطاعت کرنا ہے۔
چوتھی قسم: محبت میں شرک :
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے شریک اوروں کو ٹھہرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں، جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہیے، جب کہ ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں۔ کاش کہ مشرک لوگ جانتے جب کہ اللہ کے عذاب کو دیکھ کر (جان لیں گے) کہ تمام طاقت اللہ ہی کو ہے اور اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے واﻻ ہے (تو ہرگز شرک نہ کرتے)۔" [12] [سورہ بقرہ: 165]۔ [12] أندادًا کا معنی ہے: امثال، نظیر اور اشباہ۔
سبق کی ہدایات :
* عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نبی ﷺکے پاس اس حالت میں آیا کہ میری گردن میں سونے کی صلیب لٹک رہی تھی، تو آپ نے فرمایا : ’’اے عدی! اپنی گردن سے یہ بت نکال پھینکو۔" لہذا میں نے اسے نکال پھینکا۔ پھر میں آپ ﷺ کے پاس اس حال میں پہنچا کہ آپ سورہ براءت پڑھ رہے تھے۔ جب آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: (ٱتَّخَذُوٓاْ أَحۡبَارَهُمۡ وَرُهۡبَٰنَهُمۡ أَرۡبَابٗا مِّن دُونِ ٱللَّهِ) (ترجمہ: انہوں نے اپنےعلما اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا ہے۔) یہاں تک کہ آپ اس سے فارغ ہوگئے، تو میں نے کہا : ہم ان کی عبادت تو نہیں کرتے تھے۔ لہذا آپ ﷺ نے فرمایا : ’’کیا ایسا نہیں ہوتا تھا کہ اللہ نے جو کچھ حلال قرار دیا ہے اسے وہ حرام ٹھہرا دیتے اور تم اسے حرام سمجھنے لگتے تھے؟ اور جو کچھ اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے وہ حلال ٹھہرا دیتے تھے اور تم اسے حلال سمجھنے لگتے تھے؟‘‘ میں نے جواب دیا: ہاں، ایسا تو ہوتا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’یہی ان کی عبادت کرنا ہے‘‘۔ [13] [13] ترمذی، کتاب تفسیر القرآن باب: «ومن سورۃ التوبۃ» نمبر (3095)۔ اسے امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں بھی روایت کیا ہے اور یہ الفاظ انہی کے ہیں (1/92) (218)۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے : "یہ حدیث حسن ہے" جیسا کہ مجموع الفتاویٰ، کتاب الایمان (7/67) میں ہے۔
اللہ کے نبی ﷺ نے یہاں یہ واضح کر دیا ہے کہ اہل کتاب جس شرک میں مبتلا ہوئے وہ یہ تھا کہ ان کے احبار و رہبان نے انھیں معصیت کا حکم دیا تو انھوں نے اس پر عمل کیا اور انھیں اطاعت سے روکا تو انھوں نے اسے چھوڑ دیا۔
* جس نے حلال کو حرام یا حرام کو حلال کرنے میں غیر اللہ کی اطاعت کی، اس بات کا اعتقاد رکھتے ہوئے کہ انہیں اس کا حق حاصل ہے، تو وہ مشرک ہے جو شرکِ اکبر میں گرفتار ہے۔
٭ اللہ کے ساتھ کسی اور سے محبت: اس سے مراد مشرکین کی اپنے معبودوں اور شریکوں جیسے درخت، پتھر، فرشتہ وغیرہ سے محبت ہے اور یہی شرک کی اصل اور اس کی بنیاد ہے۔
* محبت عبادت کی اصل ہے، اس لیے مسلمان پر واجب ہے کہ وہ کسی سے اللہ تعالیٰ کی محبت سے زیادہ محبت نہ کرے اور نہ ہی اس کے برابر محبت کرے، ورنہ وہ شرک میں مبتلا ہو جائے گا۔
سوالات:
س1: اطاعت میں شرک سے کیا مراد ہے؟ ساتھ ہی دلیل بھی ذکر کریں۔
س2 : محبت میں شرک سے کیا مراد ہے؟ اس کی دلیل بھی ذکر کریں۔
س3 : وہ کون سا گروہ ہے جو عیسیٰ بن مریم علیہ الصلاۃ والسلام کی عبادت کرتا ہے اور اس کی اس عبادت کا کیا حکم ہے؟
س4 : اس شخص کا کیا حکم ہے جو حلال کو حرام یا حرام کو حلال کرنے میں غیر اللہ کی اطاعت کرے؟
دسواں سبق:
شرکِ اصغر اور شرکِ خفی۔
دوسری قسم: شرکِ اصغر (اس سے مراد ریاکاری ہے)۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "تو جسے بھی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہیے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے۔" [سورہ کھف: 110]۔
تیسری قسم: شرک خفی:
اس کی دلیل آپ ﷺ کا یہ فرمان ہے: "اس امت میں شرک رات کی تاریکی میں سیاہ پتھر پر چیونٹی کی سرسراہٹ سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے۔"[14] ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس شرک کی تفسیر اس طرح کی ہے کہ جیسے کوئی شخص اپنے ساتھی سے کہے: ’’ہوگا وہی جو اللہ چاہے اور فلاں چاہے!‘‘[15] [14] اسے امام احمد نے ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ میں روایت کیا ہے: "اے لوگو، اس شرک سے بچو؛ کیونکہ یہ چیونٹی کی آہٹ سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے۔" (4/403) البتہ یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ [15] اسے ابن ابی حاتم نے روایت کیا ہے۔
اس شرک کا کفارہ رسول اللہ ﷺ کی اس حدیث میں بیان ہوا ہے: ’’اے اللہ! بے شک تیری پناہ میں آتا ہوں اس بات سے کہ میں جان بوجھ کر کسی چیز کو تیرا شریک ٹھہراؤں اور میں تجھ سے اس گناہ کی مغفرت طلب کرتا ہوں جسے میں نہیں جانتا۔‘‘[16] [16] اسے امام احمد نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ میں روایت کیا ہے: ’’اے اللہ! بے شک ہم اس بات سے تیری پناہ میں آتے ہیں کہ ہم جانتے ہوئے کسی چیز کو تیرا شریک ٹھہرائیں اور ہم تجھ سے ان غلطیوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں جنھیں ہم نہیں جانتے۔‘‘ (4/403)۔
سبق کی ہدایات :
* توحید: اللہ کو عبادت میں ایک ماننے کا نام ہے جب کہ شرک: اللہ کے حق یعنی تعظیم اور عبادت میں کسی دوسرے کو اس کے ساتھ شریک ٹھہرانا ہے۔
* "ما شاء الله وشئت" (جو اللہ اور آپ چاہیں) اور "لولا اللہ وفلان" (اگر اللہ اور فلاں نہ ہوتا) کہنا دراصل شرک ہے؛ کیوں کہ یہ کہنا دراصل اللہ کی مخلوق کو اس کی برابری پر لاکر کھڑا کرنا ہے۔ جب کہ اللہ اس سے پاک و برتر ہے۔
* مسلمان پر واجب ہے کہ اوپر مذکور جملوں کی بجائے اس طرح کے جملے استعمال کرے : "ہوگا وہی جو اللہ چاہے اور پھر آپ چاہیں"، اور "اگر اللہ اور پھر فلاں نہ ہوتا"۔ اگر اس کی زبان پھسل جائے اور اس سے غلطی سرزد ہو جائے تو اسے چاہیے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے منقول دعا کے ذریعے اس کا کفارہ ادا کرے۔
* شرکِ اصغر: وہ تمام اقوال و افعال جو شرک تک لے جانے کا وسیلہ بنتے ہوں، جیسے غیر اللہ کی قسم کھانا اور تھوڑی سی ریاکاری وغیرہ۔
* شرک اصغر بہت بڑا گناہ ہے، البتہ انسان کو اسلام سے نکال باہر نہیں کرتا۔
سوالات:
س1 : شرک خفی کی مثال دیں اور اس کا کفارہ ذکر کریں۔
سوال 2 : انسان کا کون سا قول زیادہ صحیح ہے: "جو اللہ اور آپ چاہیں" یا "جو اللہ چاہے اور پھر آپ چاہیں"؟ وجہ بھی بیان کریں۔
س 3 : شرک اکبر اور شرک اصغر کے درمیان کیا فرق ہے؟
س4: شرک اصغر کی دلیل ذکر کریں۔
گیارہواں سبق
کفر اور اس کی اقسام
کفر کی دو قسمیں ہیں: کفر اکبر اور کفر اصغر۔
کفرِ اکبر : یہ مسلمان کو ملتِ اسلام سے خارج کردیتا ہے۔ اس کی پانچ قسمیں ہیں:
پہلی قسم: کفرِ تکذیب:
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا، جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے یا جب حق اس کے پاس آجائے تو وه اسے جھٹلائے؟ کیا ایسے کافروں کا ٹھکانا جہنم میں نہ ہوگا؟" [سورہ عنکبوت: 68]۔
دوسری قسم : تصدیق کے باوجود انکار اور تکبر پر مبنی کفر:
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجده کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجده کیا۔ اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور وه کافروں میں ہوگیا۔" [سورہ بقرہ: 34]۔
تیسری قسم : کفرِ شک اور یہی کفرِ ظن (گمان) ہے :
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "اور وہ اپنے باغ میں گیا اور وہ خود اپنے آپ پر ظلم کر رہا تھا۔ کہنے لگا کہ میں خیال نہیں کرسکتا کہ کسی وقت بھی یہ برباد ہوجائے. اور نہ میں قیامت کو قائم ہونے والی خیال کرتا ہوں اور اگر (بالفرض) میں اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو یقیناً میں (اس لوٹنے کی جگہ) اس سے بھی زیاده بہتر پاؤں گا. اس کے ساتھی نے اس سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ کیا تو اس (معبود) سے کفر کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے پیدا کیا۔ پھر نطفے سے پھر تجھے پورا آدمی بنا دیا؟ لیکن میں تو عقیده رکھتا ہوں کہ وہی اللہ میرا پروردگار ہے، میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کروں گا۔" [سورہ كهف: 35 - 38 ]۔
سبق کی ہدایات :
* کفر، ایمان کی ضد ہے۔ یعنی اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان نہ لانے کو کفر کہا جاتا ہے، چاہے اس میں تکذیب (جھٹلانا) پائی جائے یا نہ پائی جائے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، بلکہ شک و شبہ، اعراض و حسد، کبر و نخوت اور اتباعِ رسالت کی راہ میں حائل خواہشاتِ نفس کی پیروی وغیرہ سے بھی اس حکم میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
* کفر اکبر انسان کو دائرۂ اسلام سے نکال دیتا ہے۔
* کفرِ تکذیب کئی چیزوں کے ذریعہ واقع ہوتا ہے، جن میں سے کچھ یہ ہیں:
1- اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا انکار۔
2- محمد ﷺ کی رسالت کو جھٹلانا۔
3- قرآن کو جھٹلانا اور اللہ کی شریعت کو ٹھکرانا۔
* اگر کوئی شخص نبی محمد ﷺ کی صداقت کو جان لے، لیکن وہ آپ کی رسالت پر ایمان لانے سے انکار کر دے؛ تو وہ نبی ﷺ کے چچا ابو طالب کی طرح کافر ہے، جس نے کہا تھا :
بلاشبہ میں جانتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین * * تمام مخلوقات کے دینوں میں سب سے بہترین دین ہے۔
لیکن وہ اس حالت میں مرا کہ بتوں کی عبادت پر قائم تھا۔ چنانچہ وہ کافر ہو کر مرا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اللہ کی اطاعت سے سرکشی اختیار کرے تو وہ کافر ہے، جیسا کہ ابلیس نے کیا۔
* مسلمان کو چاہیے کہ وہ شبہات اور فاسد افکار سے بچے، جو اس کے ایمان کو خراب کر سکتے ہیں اور اس کے دل میں شکوک اور وساوس پیدا کر سکتے ہیں۔
سوالات:
س1 : کفر کی کتنی اقسام ہیں؟
سوال 2 : کفر تکذیب کس چیز کے ذریعہ واقع ہوتا ہے؟
س 3: کفر اکبر کی تینوں قسمیں دلیل کے ساتھ بیان کریں۔
س4 : آیت کریمہ میں کفر کی قسم پر دلالت کرنے والے لفظ کے نیچے خط کشید کریں:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "اور اس سے بڑا ﻇالم کون ہوگا، جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے یا جب حق اس کے پاس آجائے تو اسے جھٹلائے؟" [سورہ عنکبوت: 68]۔
بارہواں سبق
کفرِ اکبر کی بقیہ اقسام
چوتھی قسم : کفرِ اعراض۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "اور کافر لوگ جس چیز سے ڈرائے جاتے ہیں اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔" [سورہ احقاف: 3]۔
پانچویں قسم: کفرِ نفاق۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "یہ اس سبب سے ہے کہ یہ ایمان ﻻکر پھر کافر ہوگئے۔ پس ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی۔ اب یہ نہیں سمجھتے۔" [17] [سوره منافقون: 3]۔ [17] طُبِعَ: یعنی ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی۔ لہذا وہ اپنے کفر اور دین کے ساتھ کھلواڑ کی وجہ سے حق سے محجوب ہو گئے۔
سبق کی ہدایات :
* کفرِ اعراض کا معنی دینِ اسلام سے اعراض کرنا ہے، بایں طور کہ نہ تو اسے سیکھے اور نہ اس پر عمل کرے۔
* رسول اللہ ﷺ نے اپنے آس پاس کے قریش کے لوگوں کو جمع کیا اور انھیں اللہ کی توحید کی دعوت دی، تو ابولہب نے کہا : تیری ہلاکت ہو، کیا تو نے ہمیں اسی لیے جمع کیا تھا؟ اور اس نے آپ ﷺ کی دعوت کو قبول نہیں کیا[18]۔ ابولہب کا یہ رویہ ’’حق سے اعراض‘‘ کہلاتا ہے، جو کفر کی ایک قسم ہے۔ [18] دیکھیں: صحیح بخاری، کتاب التفسیر، باب: سورة «تبَّت يدا أبي لهب»، حدیث نمبر: (4971)۔
* مسلمان پر واجب ہے کہ جب اسے کوئی حق کی طرف بلائے تو اس کی دعوت قبول کرے اور غرور اسے گناہ پر آمادہ نہ کرے، جس سے وہ اپنے لیے بدبختی مول لے۔ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے: "تو آپ نصیحت کرتے رہیں، اگر نصیحت کچھ فائده دے۔ ڈرنے واﻻ تو نصیحت لے گا۔ (ہاں) بد بخت اس سے گریز کرے گا۔ جو بڑی آگ میں جائے گا۔" [سورہ اعلیٰ: 9- 12]۔
* نفاق نام ہے بظاہر مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنے اور اندر کفر چھپائے رکھنے کا، جیسے کہ کوئی شخص اپنی زبان سے اسلام کا اظہار کرے اور لوگوں کے ساتھ نماز پڑھے، لیکن اس کا دل اللہ پر ایمان نہ رکھتا ہو اور اس کی شریعت سے بغض رکھتا ہو۔ ایسے شخص کو نہ اس کی نماز فائدہ دے گی اور نہ اس حق میں اس کے مسلمان ہونے کا اعلان کچھ مفید ہوگا۔ یہی (کفرِ نفاق) ہے۔
سوالات:
س 1: کفرِ اعراض کا معنی بیان کریں اور اس کی دلیل ذکر کریں۔
س2: نفاق کی تعریف کریں اور اس کی مثال پیش کریں۔
س 3 : جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے قریش کو توحید کی دعوت دی تو ابو لہب کس نوع کے کفر کا مرتکب ہوا؟
س4 : ایک مسلمان کو جب کوئی حق کی طرف بلائے، تو اس پر کیا کرنا واجب ہے؟
سوال 5: منافق کا انجام کیا ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کی نماز اور روزہ اسے فائدہ دیں گے؟
س6 : ایسا انسان جو زبان سے تو اسلام کا دعویٰ کرے، لیکن اس کا دل اللہ پر ایمان نہ رکھتا ہو، اسے کیا کہا جاتا ہے؟
س7 : کفر نفاق کی دلیل بیان کریں۔
تیرہواں سبق
کفرِ اصغر
کفرِ اصغر انسان کو دائرۂ اسلام سے خارج نہیں کرتا۔ یہ دراصل کفرانِ نعمت ہے۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "اللہ تعالیٰ اس بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جو پورے امن واطمینان سے تھی، اس کی روزی اس کے پاس بافراغت ہر جگہ سے چلی آرہی تھی، پھر اس نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا کفر کیا، تو اللہ تعالیٰ نے اسے بھوک اور ڈر کا مزه چکھایا، جو بدلہ تھا ان کے کرتوتوں کا۔" [سورہ نحل: 112]۔
اللہ تعالیٰ کا مزید فرمان ہے : "...یقیناً انسان بڑا ہی بے انصاف اور ناشکرا ہے۔" [سورہ ابراھیم: 34]۔
سبق کی ہدایات :
* کفرِ اصغر: یہ وہ گناہ ہیں، جنہیں قرآن و سنت میں کفر سے موسوم کیا گیا ہے، تاہم وہ کفرِ اکبر کی حد تک نہیں پہنچتے ہیں، جیسے: ناشکری کرنا اور غیر اللہ کی قسم کھانا۔
* کفرانِ نعمت ایک بہت بڑا گناہ ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے مرتکب کے اندر ایمان کی کمی ہے، لیکن اس سے انسان دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔
سوالات:
س1: کفر اصغر کی تعریف بیان کریں۔
س2: کیا کفر اصغر انسان کو دین اسلام سے خارج کرتا ہے؟
س 3: جس شخص نے محمد ﷺ کی رسالت کو جھٹلایا، کیا اس نے کفر اکبر کیا یا کفر اصغر؟
چودہواں سبق
نفاق اور اس کی اقسام
نفاق کی دو قسمیں ہیں: اعتقادی نفاق اور عملی نفاق:
پہلی قسم : اعتقادی نفاق۔ اس کی بھی چھ اقسام ہیں :
1- رسول اللہ ﷺ کو جھٹلانا۔
2- رسول ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کے بعض حصہ کو جھٹلانا۔
3- رسول ﷺ سے بُغض رکھنا۔
4- رسول ﷺ کی لائی ہوئی شریعت سے بُغض رکھنا۔
5- رسول ﷺ کے لائے ہوئے دین کے کمزور ہونے پر خوش ہونا۔
6- رسول ﷺ کے دین کے غلبہ و بالادستی سے تکلیف اور رنج و غم میں مبتلا ہونا۔
ان چھ قسموں کا مرتکب آدمی جہنم کے سب سے نچلے درجے والوں میں سے ہے۔ ہم شقاق (مخالفت) اور نفاق (منافقت) سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔
دوسری قسم : عملی نفاق۔ اس کی بھی پانچ قسمیں ہیں:
1- جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔
2- جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ کرے۔
3- جب کوئی معاہدہ کرے، تو دھوکہ دے۔
4- جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔
5- جب کوئی وعدہ کرے، تو توڑ ڈالے۔
اس کی دلیل آپ ﷺ کا یہ فرمان ہے: "منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کہے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے"۔ [19] [19] اسے امام بخاری نے کتاب الایمان، باب: علامات المنافق، حدیث نمبر: (33) میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
ایک دوسری حدیث میں ہے: "”جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ کرے اور جب عہد کرے تو بدعہدی کرے۔“ [20]" [20] اسے بخاری نے کتاب الایمان، باب: علامۃ المنافق میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے اور مسلم نے کتاب الایمان، باب: بیان خصال المنافق میں روایت کیا ہے۔ فَجَر: یعنی اس نے بغیر کسی پروا کے اپنی زبان کو فحش اور بری باتوں کے لیے بے لگام چھوڑ دیا۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی زیادہ بہتر جانتا ہے۔ بہ کثرت درود و سلام ہو سیدنا محمد ﷺ پر اور آپ کی آل اور تمام صحابہ پر۔
سبق کی ہدایات :
* نفاق میں کفر اور مومنوں کو دھوکہ دینا، دونوں باتیں جمع ہو جاتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے لیے سخت سزا مقرر فرمائی ہے۔ اللہ سبحانہ نے فرمایا ہے : "منافق تو یقیناً جہنم کے سب سے نیچے کے طبقہ میں جائیں گے ، ناممکن ہے کہ تو ان کا کوئی مددگار پالے۔" [سورہ نساء: 145]۔
* نفاق کی کچھ صورتیں :
- رسول ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کو جھٹلانا۔ جیسے: اس بات کی تصدیق نہ کرنا کہ آدم علیہ السلام مٹی سے پیدا کیے گئے ہیں یا پھر یہ کہ محمد ﷺ خاتم الانبیاء ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ایسا شخص کافر اور منافق ہے۔
- رسول ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کے کسی حصے سے بُغض رکھنا، جیسے شراب پینے کی حرمت سے کراہیت رکھنا یا نماز سے بُغض رکھنا اور اسے برا بھلا کہنا۔
- شریعت کے نافذ نہ ہونے پر خوش ہونا اور اسلام و اہل اسلام کی فتح و نصرت کو ناپسند کرنا۔
* اگر مسلمان عملی نفاق کے اعمال میں سے کسی عمل جیسے جھوٹ اور عہد شکنی وغیرہ میں ملوث ہو جائے، تو اسلام کے دائرے سے باہر تو نہیں نکلتا، لیکن ایک گناہِ عظیم میں ملوث ہو جاتا ہے، جس سے اندیشہ ہے کہ یہ چیز اسے اعتقادی نفاق کی طرف لے کر چلی جائے۔
* اعتقادی نفاق انسان کو دائرۂ اسلام سے باہر نکال دیتا ہے، جب کہ عملی نفاق دائرۂ اسلام سے باہر نہیں نکالتا۔
سوالات:
س1: اللہ تعالیٰ نے اہل نفاق کے لیے سخت سزا کیوں مقرر کی ہے؟
سوال 2 : اعتقادی نفاق کی اقسام بیان کریں۔
س 3 : قرآن سے ایسی دلیل پیش کریں جو منافقین کا انجام واضح کرے۔
س4 : نفاق کی چند شکلیں ذکر کریں۔
س5 : حدیث شریف سے نفاق کی علامتیں بیان کریں۔
سوال 6 : اعتقادی نفاق اور عملی نفاق کے درمیان فرق بیان کریں۔
پندرھواں سبق
نواقضِ اسلام
جان لیجیے [21] کہ اسلام کے دس نواقض ہیں: [21] یہ رسالہ ”نواقضِ اسلام“ کے عنوان سے ہے۔
پہلا : اللہ کی عبادت میں شرک کرنا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کیے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے اور جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرایا، اس نے بہت بڑا گناه کیا اور بہتان باندھا۔" [سورہ نساء: 48]۔
مزید ارشاد ربانی ہے : "...یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے، اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے اور گنہگاروں کی مدد کرنے واﻻ کوئی نہیں ہوگا۔" [سورہ مائدہ : 72]۔
غیر اللہ جیسے جنات یا کسی قبر کے لیے ذبح کرنا بھی اسی کے ضمن میں داخل ہے۔
دوسرا : جو شخص اپنے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان غیر اللہ کو واسطہ و وسیلہ بناتا ہے، ان کو پکارتا ہے، ان سے شفاعت کا طلب گار ہوتا ہے اور ان پر توکل کرتا ہے، وہ بالاجماع کافر ہو جاتا ہے۔
تیسرا : جو شخص مشرکوں کو کافر نہیں سمجھتا، یا ان کے کفر میں شک کرتا ہے یا ان کے مذہب کو صحیح سمجھتا ہے تو وہ بھی کافر ہو جاتا ہے۔
سبق کی ہدایات :
* نواقضِ اسلام: یہ وہ امور ہیں جن کا ارتکاب کوئی شخص کرے تو اس کا اسلام باطل ہو جاتا ہے اور وہ کافر ہو کر ملت (دائرۂ اسلام) سے خارج ہو جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ۔
* شرک یہ ہے کہ اللہ کی خصوصیات میں غیر اللہ کو اللہ کے مساوی اور برابر قرار دیا جائے۔ یہ اللہ کی نافرمانی میں کیا جانے والا سب سے بڑا گناہ ہے اور ربوبیت کی حق تلفی و الوہیت کی تنقیص ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ انسان اللہ کے ساتھ کسی غیر کی عبادت کرے، جیسے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی یا کسی فرشتے کی، یا پھر وہ عبادت کی کوئی قسم غیر اللہ کے لیے انجام دے، جیسے کسی جن یا قبر (والے) کے لیے جانور ذبح کرے، یا غیراللہ کے لیے نذر مانے۔
* دوسرے ناقض کی مثال: قبر والوں کو پکارنا، ان سے استغاثہ کرنا اور ان سے شفاعت طلب کرنا تاکہ وہ اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان واسطہ بنیں۔ یہ ناقض سب سے زیادہ واقع ہونے والے اور سب سے زیادہ خطرناک نواقض میں سے ایک ہے۔ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ ( نیکی کرنے کی قوت اور برائی سے بچنے کی ہمت اللہ تعالی کے بغیر ممکن نہیں)۔
* جو شخص مشرکین کو کافر قرار نہیں دیتا، ان کے کفر میں شک کرتا ہے یا پھر ان کے مذہب کو صحیح قرار دیتا ہے، وہ کافر ہے؛ کیونکہ وہ قرآن اور سنت کو جھٹلاتا ہے۔
* کسی شخص کا یہ عقیدہ رکھنا کہ اہل کفر کے اسلام مخالف مذاہب بھی درست ہیں، یہ بھی ایک ناقض ہے۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام ایک باطل مذہب ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس سے انسان کافر ہو جاتا ہے۔
سوالات:
س1 : نواقضِ اسلام کتنے ہیں اور ان کے معنی کیا ہیں؟
س 2 : اس شخص کا کیا حکم ہے جو اپنے اور اللہ کے درمیان واسطہ بنائے؟
س3 : کیا اللہ تعالیٰ اس شخص کو معاف کرے گا جو شرک کی حالت میں مر جائے؟ اس کی دلیل ذکر کریں۔
سولھواں سبق
کچھ نواقض اسلام
چوتھا : جس شخص کا یہ اعتقاد ہو کہ نبی ﷺ کے علاوہ کسی اور کا طریقہ زیادہ کامل ہے یا پھر آپﷺ کے فیصلے کی بجائے کسی اور کا فیصلہ زیادہ بہتر ہے، جیسے وہ لوگ جو طاغوتوں کے فیصلے کو آپ ﷺ کے فیصلے پر ترجیح دیتے ہیں، تو اس طرح کے لوگ کافر ہيں۔
پانچواں : جس نے رسول اکرم ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کے کسی بھی حکم کو ناپسند کیا، اگرچہ بظاہر وہ اس پر عمل بھی کرے، تو وہ کافر ہو گیا۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "یہ اس لیے کہ وه اللہ کی نازل کرده چیز سے ناخوش ہوئے، پس اللہ تعالیٰ نے (بھی) ان کے اعمال ضائع کر دیے۔ [سورہ محمد : 9]۔
چھٹا : جس نے رسول اللہ ﷺ کے دین کے کسی بھی حکم، اللہ تعالیٰ کے ثواب یا اس کی سزا کا مذاق اڑایا، وہ کافر ہو گیا۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "کہہ دیجیے کہ اللہ، اس کی آیتیں اور اس کا رسول ہی تمہارے ہنسی مذاق کے لیے ره گئے ہیں؟ تم بہانے نہ بناؤ۔ یقیناً تم اپنے ایمان کے بعد بے ایمان ہوگئے...۔" [سورہ توبہ : 65 -66].
ساتواں : جادو۔ یاد رہے کہ ”صَرف“ (دلوں کو پھیرنا) اور ”عَطف“ (دل میں جھکاؤ اور میلان پیدا کرنا)[22] بھی جادو ہی کی قسمیں ہيں۔ جو شخص جادو کرتا ہے یا پھر اسے اچھا خیال کرتا ہے وہ کافر ہو جاتا ہے۔ [22] ’صرف‘: اس سے مراد کسی شخص کو نیکی کے کام سے روکنے یا اسے اس کی بیوی سے پھیر دینے کا سبب بننا ہے۔ جب کہ ’عطف‘ سے مراد جادو کے ذریعے مرد یا عورت کو اپنے شریکِ حیات کا محبوب بنانے کا سبب بننا ہے۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "...وه دونوں بھی کسی شخص کو اس وقت تک نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو ایک آزمائش ہیں تو کفر نہ کر،..." [سورہ بقرہ: 102]۔
سبق کی ہدایات :
* جو شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ انسانوں کے وضع کردہ قوانین اور نظریات اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے عطا کردہ شریعت سے زیادہ بہتر اور افضل ہیں، تو ایسا شخص کافر شمار ہوتا ہے؛ کیونکہ اس نے شہادتِ لا الہ الا اللہ کے تقاضے کی پیروی نہیں کی، بلکہ اس کے منافی امر کا مرتکب ہوا۔ ولا حول ولا قوة الا بالله۔
* پانچویں ناقض کی مثال: نماز کی فرضیت کو ناپسند کرنا اگرچہ بظاہر وہ نماز بھی پڑھے، یا شراب کی حرمت کو ناپسند کرنا اگرچہ بظاہر وہ اس کے قریب بھی نہ جائے، یا رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کے کسی بھی حکم کو ناپسند کرنا، چاہے اس کا تعلق اقوال سے ہو یا افعال سے۔
* چھٹے ناقض کی مثال : قرآن، رسول ﷺ، اسلام کے بعض شعائر جیسے نماز، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر یا سود ترک کرنے والے کا سود ترک کرنے کی بنا پر کا مذاق اڑانا۔ اس میں سنجیدہ اور ہنسی مذاق کرنے والے کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔
* جادوگر کافر ہیں؛ کیوں کہ وہ کفر کر کے شیطانوں کا تقرب حاصل کرنے کے بعد ان سے مدد حاصل کرتے ہیں۔ اسی بنا پر ان کے پاس جانا، ان سے معلومات لینا اور ان کے پاس علاج کرانا حرام ہے۔
سوالات:
س1: اس شخص کا کیا حکم ہے جو یہ عقیدہ رکھے کہ اس کی رائے رسول ﷺ کی ہدایت سے زیادہ کامل ہے؟
س2 : اس شخص کا کیا حکم ہے جو طاغوت کے حکم کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ترجیح دے؟
س3 : دین کے کسی بھی گوشے کا مذاق اڑانے والے کا کیا حکم ہے، اگرچہ وہ ہنسی مذاق ہی کر رہا ہو؟ دلیل بھی ذکر کریں۔
س 4 : جادو کفر کیوں ہے؟
س 5: اگر آپ کو کوئی بیماری لاحق ہو جائے، تو کیا آپ کے لیے جادوگروں سے علاج کروانا جائز ہے؟ اور کیوں؟
سترھواں سبق:
بقیہ نواقضِ اسلام
آٹھواں : مسلمانوں کے خلاف مشرکین کی پشت پناہی اور مدد کرنا۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "...تم میں سے جو بھی ان میں کسی سے دوستی کرے وه بےشک انہی میں سے ہے۔ ظالموں کو اللہ تعالیٰ ہرگز راه راست نہیں دکھاتا۔" [سورہ مائدہ: 51]۔
نواں : جو یہ اعتقاد رکھے کہ بعض لوگوں کے لیے محمد ﷺ کی شریعت کی پابندی سے نکل جانا جائز ہے، وہ کافر ہے۔
دسواں : اللہ تعالیٰ کے دین سے اعراض کرنا، بایں طور کہ نہ تو اسے سیکھے اور نہ ہی اس پر عمل کرے۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جسے اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے وعظ کیا گیا، پھر بھی اس نے ان سے منہ پھیر لیا؟ (یقین مانو) کہ ہم بھی گناه گاروں سے انتقام لینے والے ہیں۔" [سورہ سجدہ: 22]۔
(مذکورہ نواقضِ اسلام کا مرتکب مرتد کہلائے گا،) چاہے اس کا ارتکاب مذاق و استہزا میں ہوا ہو یا سنجیدگی میں یا خوف کی حالت میں۔ البتہ مُکرہ (مجبور) شخص مرتد نہیں ہوگا۔ [23]۔ [23] یہاں مُکرہ (مجبور) سے مراد وہ شخص ہے جو کافروں کے قبضے میں آ جائے اور وہ اسے کفر کا کلمہ زبان سے نکالنے پر مجبور کریں۔ چنانچہ وہ اسے زبان سے نکال لے، لیکن اس کا دل ایمان پر برقرار ہو۔ جبر کی صورت میں قابلِ معافی ہونے کی دلیل فرمانِ الہٰی ہے : (جو شخص اپنے ایمان کے بعد اللہ سے کفر کرے، بجز اس کے جس پر جبر کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر برقرار ہو، مگر جو لوگ کھلے دل سے کفر کریں تو ان پر اللہ کا غضب ہے اور انہی کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔) [سورہ نحل: 106]۔
یہ تمام امور انتہائی خطرناک ہونے کے ساتھ ساتھ کثرت سے وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ چنانچہ مسلمان کو چاہیے کہ وہ ان سے بچے اور اس بات سے ڈرتا رہے کہ کہیں وہ ان کی زد میں نہ آ جائے۔
ہم اللہ کے غضب کا باعث بننے والی اشیا اور اس کے دردناک عذاب سے اس کی پناہ مانگتے ہیں۔
درود و سلام نازل ہو اللہ کی بہترین مخلوق محمد ﷺ پر اور آپ ﷺ کی آل واصحاب پر۔ [24] [24] رسالہ: "نواقضِ اسلام" مکمل ہوا۔
سبق کی ہدایات :
* آٹھویں ناقض کی مثال : کفار سے محبت کرنا اور مسلمانوں کے خلاف ان کی مدد اور ان کا تعاون کرنا۔ جو شخص ایسا کرے گا، وہ بھی انہی کی طرح اللہ اور اس کے دین کا دشمن ہو گا، الا یہ کہ ایسا کرنے والا جاہل، تاویل کرنے والا یا مجبور ہو۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "اے ایمان والو! تم یہود ونصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ تم میں سے جو بھی ان میں کسی سے دوستی کرے وه بےشک انہی میں سے ہے۔ ﻇالموں کو اللہ تعالیٰ ہرگز راه راست نہیں دکھاتا۔" [سوره مائده: 51]۔
* نویں ناقض کی مثال : یہ اعتقاد رکھنا کہ اس کے لیے بعض شرعی واجبات جیسے نماز کو چھوڑنا یا بعض محرمات جیسے شراب پینا جائز ہے۔
* دسویں ناقض سے مراد: اصلِ دین سیکھنے سے کلی اعراض کرنا ہے، جس کے ذریعے انسان مسلمان ہوتا ہے۔
* ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ان نواقضِ اسلام سے بچتا رہے اور لوگوں کو ان سے خبردار کرے، تاکہ شیطان انہیں راہ راست سے بھٹکا کر ان میں سے کسی چیز میں مبتلا نہ کر دے؛ کیونکہ بسا اوقات وہ ان میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور انہیں احساس تک نہیں ہوتا، جیسا کہ اسلام کا دعویٰ کرنے والے بہت سے لوگوں میں یہ مشاہدہ کیا گیا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ اللہ کی توفیق کے بغیر نہ برائیوں سے پھرنے کى طاقت ہے اور نہ ہی نیکیوں کے کرنے کى کوئی قوت۔
سوالات:
س1 : صحیح جواب کے نیچے لکیر کھینچیں:
- مسلمانوں کے خلاف مشرکین کی پشت پناہی اور مدد کرنا:
الف- مکروہ۔ ب- کفر۔ ج- جائز۔
- یہ اعتقاد رکھنا کہ بعض لوگ محمد ﷺ کی شریعت کی پابندی سے نکل سکتے ہیں:
الف- جائز۔ ب- حرام۔ ج- کفر۔
- جس نے اللہ تعالیٰ کے دین سے اعراض کیا، یعنی نہ اسے سیکھا اور نہ ہی اس پر عمل کیا، تو وہ :
ا- کافر ہے۔ ب- مشرک ہے۔ ج- اس پر کچھ نہیں ہے۔
س 2: اگر آپ اپنے ساتھی کو نمازیوں یا اہل تقویٰ اور نیک لوگوں کا مذاق اڑاتے ہوئے سنیں تو اس کے اس فعل کا کیا حکم ہے؟
س3: نواقضِ اسلام کا اجمالاً ذکر کریں۔
عقیدے کا مختصر تعارف
اس میں شامل ہے:
* رسول ﷺ کے سلسلے میں ایک مسلمان پر عائد واجبات۔
* رسول ﷺ کے صحابہ کے سلسلے میں ایک مسلمان پر عائد واجبات۔
* خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے سلسلے میں ایک مسلمان پر عائد واجبات۔
* ہمارے نبی ﷺ کی ازواج مطہرات کے سلسلے میں ایک مسلمان پر عائد واجبات۔
* مسلم رہنماؤں کے سلسلے میں ایک مسلمان پر عائد واجبات۔
* سنت میں وارد صحیح احادیث پر ایمان لانا واجب ہے۔
* قبر کی نعمت اور اس کا عذاب۔
* قیامت کے دن کے کچھ حالات۔
* کسی اہل قبلہ کے جنتی یا جہنمی ہونے کا حکم نہ لگانا۔
اٹھارہواں سبق
اللہ کے نبی ﷺ کے تئیں ایک مسلمان پر عائد واجبات۔
اہل سنت والجماعت کے اصول میں سے ہے [25]: [25] اہلِ سنت و جماعت: یہ وہ لوگ ہیں جو نبیﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی راہ پر قائم ہیں۔ انھیں نبی ﷺ کی سنت کو مضبوطی سے پکڑے رہنے اور اس کا اتباع کرنے کی وجہ سے 'اہلِ سنت' کہا گیا، جب کہ 'جماعت' اس لیے کہا گیا کیوں کہ وہ حق پر متفق رہے، دین کے معاملے میں افتراق کا شکار نہیں ہوئے اور ان باتوں کا اتباع کیا جن پر سلف صالحین کا اجماع رہا ہے۔
اللہ کے رسول ﷺ کے حقوق کی ادائیگی واجب ہے۔ آپ کے چند حقوق اس طرح ہيں :
1- اس بات پر ایمان کہ وہ اللہ کے برحق رسول ہیں اور ان کی رسالت تمام لوگوں کے لیے عام ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "آپ کہہ دیجیے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہوں..." [سورہ اعراف : 158]۔
2- اس بات پر یقین رکھنا کہ آپ ﷺ رسولوں کے سردار و خاتم النبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "(لوگو) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ نہیں ہيں، لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے سلسلے کی آخری کڑی ہيں۔" [سورہ احزاب: 40]۔
3- آپ سے محبت کرنا، آپ کے حکموں کی تعمیل کرنا اور آپ کی منع کی ہوئی چیزوں سے اجتناب کرنا۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "...اور تمہیں جو کچھ رسول دے لے لو، اور جس سے روکے رک جاؤ..." [سورہ حشر: 7]۔
4۔ اس بات پر اعتقاد رکھنا کہ روز قیامت آپ ﷺ کی شفاعت کے بغیر لوگوں کے درمیان فیصلہ صادر نہیں کیا جائے گا، اور یہی وہ شفاعت عظمیٰ ہے جس سے اولو العزم رُسُل [26] معذرت کر لیں گے، یہاں تک کہ وہ شفاعت آپ ﷺ تک پہنچے گی۔ چنانچہ آپ ﷺ عرش کے نیچے سجدہ ریز ہوں گے اور شفاعت کی اجازت طلب کریں گے، تو رب جل وعلا آپ ﷺ سے فرمائے گا: "اپنا سر اٹھائیے، مانگیے، آپ کو دیا جائے گا۔ شفاعت کیجیے، آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی"۔ [26] اولو العزم رسل یہ ہیں: حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ علیہم السلام اور حضرت محمّد ﷺ۔
سوالات:
س1: رسول اللہ محمد ﷺ کے بارے میں ایک مسلمان پر عائد واجبات کیا ہیں؟
س2 : رسول ﷺ کو کس کی طرف مبعوث کیا گیا تھا؟ دلیل ذکر کریں۔
س3: خاتم النبیین کا کیا مطلب ہے؟
سوال 4 : اللہ کے نبی ﷺ سے آپ کی محبت کی کیا علامت ہے؟
س5 : وہ کون سی سفارش ہے جس سے پیغمبرانِ اولوالعزم دستبردار ہو جائیں گے؟
انیسواں سبق
صحابہ کے تئیں ہمارے اوپر عائد واجبات
اہل سنت و الجماعت کے کچھ اصول یہ ہیں :
1- تمام صحابۂ کرام عادل (قابل اعتماد) ہیں۔
2- رسول اللہ ﷺ کے صحابہ سے محبت رکھنی چاہیے؛ کیونکہ ان سے محبت رکھنا دین و ایمان ہے اور ان سے بغض رکھنا کفر و نفاق ہے۔
3- ان کا نام آنے پر ان سے رضا مندى کا اظہار کرنا یعنی رضی اللہ عنہم کہنا اور ان کے لیے استغفار کرنا۔
4- یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ اس امت کے سب سے افضل اور سب سے اچھے لوگ ہیں، جس کی گواہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے دی ہے، جیسا کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا ہے: "سب سے اچھے لوگ میرے زمانے کے لوگ ہیں"۔[27] آپ ﷺ نے انہیں سب و شتم کرنے اور ایذا پہنچانے سے منع فرمایا ہے۔ [27] اسے بخاری نے ’كتاب الشهادات‘ باب: لا يشهد على شهادة جور إذا أُشهد، حدیث نمبر (2652)، اور مسلم نے ’كتاب فضائل الصحابة‘ باب: فضل الصحابة ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم، حدیث نمبر (2533) میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ مومنوں کی اپنے سے پہلے گزر جانے والے بھائیوں سے محبت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: "(اور (ان کے لیے) جو ان کے بعد آئیں، جو کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی، جو ہم سے پہلے ایمان ﻻچکے ہیں اور ایمان داروں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (اور دشمنی) نہ ڈال۔ اے ہمارے رب! بے شک تو شفقت ومہربانی کرنے واﻻ ہے۔" [سورہ حشر: 10]۔
رسول اللہ ﷺ نے مزید فرمایا ہے : ’’میرے صحابہ میں سے کسی کو گالی نہ دو، اس لیے کہ اگر تم میں سے کوئی احد (پہاڑ) کے برابر بھی سونا خرچ کر دے، تو بھی ان کے ایک مد یا آدھا مد کو نہیں پہنچ سکتا۔‘‘[28] [28] صحیح بخاری، ’كتاب فضائل أصحاب النبي ﷺ‘ باب قول النبي ﷺ: «لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا»، حدیث نمبر (3673)، اور صحیح مسلم، ’كتاب فضائل الصحابة‘ باب تحريم سب الصحابة رضي الله عنهم، حدیث نمبر (2541)۔ مذکورہ الفاظ انہی کے ہیں۔
5- دین کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں ان کے طریقے کی پیروی کرنا۔
سوالات:
س1: رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے بارے میں ایک مسلمان کی کیا ذمہ داری ہے؟
سوال 2 : درج ذیل میں صحیح جواب کا انتخاب کریں :
- اصحابِ رسول ﷺ سے محبت۔
أ- اہل سنت و جماعت کے اصولوں میں سے ایک اصول ہے۔
ب- ایک مستحب کام ہے۔
ج- ایک مکروہ کام ہے۔
- مسلمان یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ صحابہ:
أ- فقط سب سے افضل عرب ہیں۔
ب- صرف اہلِ مکہ میں سب سے افضل ہيں۔
ج- اس امت کے افضل ترین لوگ ہيں۔
سوال 3 : اگر آپ سنیں کہ کوئی رسول اللہ ﷺ کے کسی صحابی کو گالی دے رہا ہے، تو اس کے اس فعل کا کیا حکم ہے؟ اور آپ اسے کیا نصیحت کریں گے؟
س4 : صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو بُرا بھلا کہنے کی ممانعت پر کتاب و سنت سے دلیل پیش کریں۔
بیسواں سبق
خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے سلسلے میں ہماری ذمے داریاں
اہل سنت وال جماعت کے کچھ اصول اس طرح ہيں:
خلفائے راشدین وہ چار صحابہ ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد مسند خلافت پر فائز ہوئے۔ یعنی ابوبکر صدیق، ابو حفص فاروق عمر بن خطاب، عثمان بن عفان اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم اجمعین۔ امت پر ان کے بہت سے حقوق ہیں۔ مثلا :
1- ان سے محبت اور ان سے راضی ہونا۔
2- افضلیت اور خلافت کے اعتبار سے ان کی ترتیب وہی ہے، جو سلف نے بیان کیا ہے۔ یعنی ابو بکر، پھر عمر، پھر عثمان، پھر علی رضی اللہ عنہم اجمعین کو مقدم رکھنا۔
ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مقدم اس لیے رکھا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز کی امامت کے لیے تمام صحابہ میں سے انہی کا انتخاب کیا تھا۔ ساتھ ہی آپ نے فرمایا تھا : "اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابو بکر کو خلیل بناتا، لیکن وہ میرا بھائی اور ساتھی ہے۔"[29] [29] اسے بخاری نے کتاب فضائل أصحاب النبی ﷺ، باب: قول النبی ﷺ: «لو کنت متخذا خلیلا» حدیث نمبر (3656) کے تحت روایت کیا ہے۔
عمر رضی اللہ عنہ کو مقدم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے انہیں مقدم رکھنے کی وجہ سے رکھا گیا ہے۔ عثمان رضی اللہ عنہ کو مقدم اہل شوریٰ کے انہیں مقدم رکھنے کی وجہ سے رکھا گیا ہے۔ جب کہ علی رضی اللہ عنہ کو مقدم ان کی فضیلت اور ان کے زمانے کے لوگوں کے ان پر اجماع کی وجہ سے رکھا گیا ہے۔
3- آپ ﷺ کے طریقے کے ساتھ ان کے طریقے کو بھی اختیار کرنا، جیساکہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اس فرمان میں اس کا حکم دیا ہے : "تم میری سنت کو اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو لازم پکڑنا، اسے داڑھوں سے مضبوطی سے پکڑ لینا"۔ [30] [30] سنن ابو داود، کتاب السنۃ، حدیث نمبر: (4607)، جامع الترمذي، کتاب العلم، باب : ما جاء في الأخذ بِالسُّنَّة واجتِناب البدع، حدیث نمبر : (2676)۔ امام ابو عیسیٰ نے فرمایا ہے: "یہ حدیث حسن صحیح ہے"۔ یہاں حدیث کے نقل کیے گئے الفاظ سنن ترمذی کے ہيں۔ سنن ابن ماجہ، المقدمۃ، باب : اتِّباع سنَّة الخلفاء الرّاشدين المهديين، حدیث نمبر : (42)، مسند احمد (4/ 126-127)۔ النَّواجِذ: یہ ناجِذ کی جمع ہے۔ یعنی وہ داڑھیں ہیں جو ناب کے بعد ہوتی ہیں۔ یہ دراصل کسی چیز کو انتہائی مضبوطی سے تھام لینے کی ایک مثال ہے۔
سوالات:
سوال 1: خلفائے راشدین کے نام بتائیں؟ اور افضلیت کے اعتبار سے ان کی ترتیب کیا ہے؟
س2 : عبارت مکمل کریں:
آپ ﷺ نے فرمایا ہے : "تم میری سنت کو اور ہدایت یافتہ ............................... کے طریقے کو لازم پکڑنا .................................."۔
س3- خلفائے راشدین کے تئیں ہمارا فرض کیا ہے؟
سوال 4: ابو بکر صحابہ رضی اللہ عنہم میں سب سے افضل کیوں تھے؟
س 5: خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے طریقے کو اختیار کرنے کا کیا حکم ہے؟ دلیل کے ساتھ بیان کریں۔
س6: اگر آپ کسی شخص کو خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم میں سے کسی ایک کو گالی دیتے ہوئے سنیں، تو اس کے اس فعل کا کیا حکم ہے؟ اور آپ اسے کیا نصیحت کریں گے؟
اکیسواں سبق
نبی ﷺ کی ازواج مطہرات کے سلسلے میں ہماری ذمے داریاں
اہل سنت والجماعت کے کچھ اصول اس طرح ہیں :
ہمارے رسول ﷺ کی بیویاں تمام مومنوں کی مائیں ہیں [31]۔ ارشاد باری تعالی ہے : "...اور پیغمبر کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں..." [سورہ احزاب: 6]۔ [31] ابن قیم جوزیہ رحمہ اللہ زاد المعاد (1/ 114) میں فرماتے ہیں: "اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ آپ ﷺ کی وفات کے وقت آپ کی نو بیویاں با حیات تھیں، یا آپ ﷺ ان میں سے آٹھ کے لیے باری مقرر فرماتے تھے: عائشہ بنت صدیق، حفصہ بنت عمر، زینب بنت جحش، ام سلمہ ہند بنت ابو امیہ، صفیہ بنت حیی بن اخطب، ام حبیبہ رملہ بنت ابو سفیان، میمونہ بنت حارث، سودہ بنت زمعہ اور جویریہ بنت حارث مصطلقیہ رضی اللہ عنہن اجمعین۔"
ان کے امت پر کچھ حقوق واجب ہیں۔ مثلا :
1- ان سے محبت کرنا اور ان سے راضی ہونا۔
2- یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ ہر طرح کی برائی سے پاک اور مبرا ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کی گھر والیو! تم سے وه (ہر قسم کی) گندگی کو دور کردے اور تمہیں خوب پاک کردے۔" [سورہ احزاب: 33]۔
ان میں سب سے افضل خدیجہ بنت خویلد اور عائشہ بنت صدیق رضی اللہ عنہن اجمعین ہیں۔
خدیجہ بنت خویلد رسول اللہ ﷺ کی پہلی بیوی تھیں اور آپ ﷺ کی رسالت پر سب سے پہلے ایمان وہی لائی تھیں۔ انھوں نے آپ ﷺ کی مدد کی، آپ ﷺ کا ساتھ دیا اور ابراہیم کے علاوہ آپ ﷺ کی تمام اولاد ان ہی کے بطن سے پیدا ہوئی۔ بس ابراہیم ماریہ قبطیہ سے تھے۔
جہاں تک عائشہ صدیقہ بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما کی بات ہے، تو وہ سات آسمانوں کے اوپر سے بری قرار دی گئی ہیں اور رسول اللہ ﷺ پر ان کے علاوہ کسی اور عورت کے لحاف میں وحی نازل نہیں ہوئی ہے۔ وہ سب سے زیادہ دین کا علم اور سمجھ رکھنے والے صحابۂ کرام میں سے تھیں۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ان سے شریعت کے امور اور احکام دریافت کرتے تھے۔
سوالات:
س1 : رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے بارے میں ہماری کیا ذمے داری ہے؟
سوال 2 : رسول ﷺ کی بیویوں کو گالی دینے یا انھیں کسی بھی قسم کی اذیت پہنچانے والے کا کیا حکم ہے؟
س 3: خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کی بعض صفات بیان کریں۔
س4 : عائشہ بنت صدیق رضی اللہ عنہا وعن ابیہا کی بعض صفات بیان کریں۔
س 5 : اگر آپ کسی شخص کو نبی ﷺ کی کسی بیوی کو گالی دیتے ہوئے سنیں، تو اس کے اس فعل کا کیا حکم ہے؟ آپ اسے کیا نصیحت کریں گے؟ اس کے متعلق آپ کا کیا موقف ہوگا؟
بائیسواں سبق
مسلم ائمہ کے سلسلے میں ہماری ذمے داری
اہل سنت و الجماعت کے کچھ اصول اس طرح ہيں :
1- مسلم حکمرانوں کی بات سننا اور ماننا ضروری ہے، خواہ وہ نیک ہوں یا گناہ گار، جب تک کہ وہ اللہ کی معصیت کا حکم نہ دیں، کیوں کہ خالق کی معصیت میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "اے ایمان والو! فرماں برداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرماں برداری کرو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی۔" [سورہ نساء : 59]۔
جب کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : ”مسلم بندہ پر (حکمران کی بات) سننا اور ماننا لازم ہے خواہ وہ بات اسے پسند ہو یا نا پسند۔ چنانچہ اگر اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو پھر نہ سنے اور نہ ہی اطاعت کرے۔“[32] [32] اس حدیث کو بخاری نے كتاب الاحكام، باب: السَّمع والطّاعة للامام ما لم تكن معصية ميں، حدیث نمبر: (7144) کے تحت روایت کیا ہے، جب کہ مسلم نے اسے كتاب الامارة، باب: وجوب طاعة الامراء في غير معصية وتحريمها في المعصية میں، حدیث نمبر: (1839) کے تحت روایت کیا ہے۔ مذکورہ الفاظ مسلم کے روایت کردہ ہیں۔ حدیث حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔
2- ان کے ساتھ حج، جمعہ اور اللہ کے راستے میں جہاد قائم کرنا۔
3- ان کے خلاف بغاوت نہ کرنا، کیونکہ اس سے مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور فتنے پیدا ہوتے ہیں۔
سوالات:
س1: مسلمانوں پر اپنے حاکم کے تئیں کیا فرض ہے؟
س2 : مسلم حکمران کے خلاف بغاوت کرنا کیوں جائز نہیں ہے، اگرچہ وہ فاجر ہی کیوں نہ ہو؟
س3 : اگر ولی الامر کسی گناہ کا حکم دے تو کیا تب بھی اس کی اطاعت کرنا جائز ہے؟ دلیل بھی ذکر کریں۔
تئیسواں سبق
سنت میں وارد صحیح احادیث پر ایمان لانا واجب ہے۔
اہل سنت والجماعت کے کچھ اصول اس طرح ہیں :
سنت میں وارد رسول ﷺ سے منقول تمام صحیح احادیث پر ایمان لانا ضروری ہے؛ جیسے اسراء اور معراج، قیامت کی نشانیاں، قبر کی نعمت اور اس کے عذاب اور قیامت کے احوال کے بارے میں وارد احادیث۔
اسراء و معراج :
اسراء: رسول ﷺ کا رات میں مکہ سے بیت المقدِس کی طرف براق پر جانا۔
معراج : نبی ﷺ کا جبریل علیہ الصلاۃ والسلام کی معیت میں ساتویں آسمان تک جانا، پھر اسی رات آپ ﷺ کا مکہ واپس آنا۔
اس کی تفصیل انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں وارد ہوئی ہے، جس میں ہے کہ: "رسول اللہ ﷺ کے پاس براق لایا گیا تو آپﷺ اس پر سوار ہوگئے۔ جب بیت المقدِس پہنچے تو مسجد میں داخل ہوئے اور اس میں دو رکعت نماز ادا کی۔ پھر آپﷺ کو آسمان کی طرف لے جایا گیا۔ پس جبریل نے دروازہ کھلوایا تو دونوں کے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ اور جبریل ساتوں آسمانوں پر چڑھے، رسول اللہ ﷺ سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے اور آپﷺ پر پانچ نمازیں فرض کی گئیں، پھر اسی رات آپﷺ واپس لوٹ آئے۔" [33] [33] صحیح بخاری: كتاب بدء الوحي، باب: ذكر الملائكة صلوات الله عليهم، حدیث نمبر: (3207)، صحیح مسلم: كتاب الايمان، باب: الاسراء برسول الله ﷺ الى السموات، وفرض الصلوات، حدیث نمبر: (162)، ایک طویل حدیث کا یہ ایک ٹکڑا ہے۔ براق: ایک سفید اور لمبا جانور، جو گدھے سے اونچا اور خچر سے چھوٹا ہوتا ہے، وہ اپنا کھر وہاں رکھتا ہے جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ: ساتویں آسمان پر لگا ہوا ایک عظیم درخت ہے۔ اگلوں اور پچھلوں کا علم یہیں آ کر ختم ہو جاتا ہے اور اس سے آگے نہیں بڑھتا۔
* اسراء و معراج آپ ﷺ کے معجزات اور آپ کی نبوت کی صداقت کے دلائل میں سے ہیں۔
سوالات:
س1 : درج ذیل بیانوں کا جواب (صحیح) یا (غلط) کے ذریعہ دیں اور غلطی کی اصلاح کریں:
- معراج : یہ رسول اللہ ﷺ کا مکہ سے بیت المقدس تک کا سفر ہے۔
- اہلِ سنت والجماعت کا ایک اصول یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ سے مروی تمام صحیح احادیث پر ایمان لانا ضروری ہے۔
- اسراء : نبی کریم ﷺ کا جبریل علیہ الصلاۃ والسلام کی معیت میں ساتویں آسمان تک جانا۔
س2 : اسراء و معراج کے کیا معنی و مطلب ہیں؟
س3 : اسراء و معراج کا واقعہ رسول ﷺ کی نبوت کی دلیل ہے۔ اس کی وضاحت کریں۔
س4 : نماز کب فرض کی گئی اور یہ کس بات پر دلالت کرتا ہے؟
چوبیسواں سبق
قبر کی نعمت اور اس کا عذاب
* فتنۂ قبر پر ایمان : یعنی جب میت کو اس کی قبر میں دفن کر دیا جائے تو اس سے اس کے رب، اس کے دین اور اس کے نبی ﷺ کے متعلق سوال کیا جانا۔
* قبر کی نعمتوں اور اس کے عذاب پر ایمان۔ قبر یا تو جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔
* قبر کے احوال کی تفصیل انس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں وارد ہوئی ہے، جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : "بلا شبہ آدمی جب اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے اور جنازہ میں شریک ہونے والے لوگ اس سے رخصت ہوتے ہیں تو ابھی وہ ان کے جوتوں کی آواز سن رہا ہوتا ہے کہ دو فرشتے (منکر نکیر) اس کے پاس آتے ہیں اور اسے بٹھا کر پوچھتے ہیں کہ اس شخص یعنی محمد ﷺ کے بارے میں تو کیا اعتقاد رکھتا تھا؟ مومن تو یہ کہتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اس جواب پر اس سے کہا جاتا ہے کہ تو یہ دیکھ اپنا جہنم کا ٹھکانا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلہ میں تمہارے لیے جنت میں ٹھکانا دے دیا ہے۔ اس وقت اسے جہنم اور جنت دونوں ٹھکانے دکھائے جائیں گے۔ اورجب منافق وکافر سے کہا جاتا ہے کہ اس شخص کے بارے میں تو کیا کہتا تھا تو وہ جواب دے گا کہ مجھے کچھ معلوم نہیں، میں بھی وہی کہتا تھا جو دوسرے لوگ کہتے تھے۔ پھر اس سے کہا جائے گا نہ تونے جاننے کی کوشش کی اور نہ سمجھنے والوں کی رائے پر چلا۔ پھر اسے لوہے کے گرزوں سے اتنی زور سے مارا جاتا ہے کہ وہ چیخ پڑتا ہے اور اس کی چیخ کو جن اور انسانوں کے سوا اس کے آس پاس کی تمام مخلوق سنتى ہے"۔ [35] [34] دونوں فرشتے منکر اور نکیر ہیں، جیسا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ”جب میت کو دفنایا جاتا ہے، تو اس کے پاس سیاہ رنگ کے، نیلی آنکھوں والے دو فرشتے آتے ہیں۔ ان میں سے ایک کو منکر اور دوسرے کو نکیر کہا جاتا ہے۔“ اسے ترمذی نے کتاب الجنائز، باب: ما جاء في عذاب القبر میں حدیث نمبر (71) کے تحت روایت کیا ہے۔ ابو عیسیٰ (ترمذی) نے کہا ہے : ”یہ حدیث حسن غریب ہے۔“ [35] صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب: ما جاء في عذاب القبر، حدیث نمبر: (1374)۔ الفاظ صحیح بخاری کے ہیں۔ صحیح مسلم، کتاب الجنة ونعيمها، باب: عرض مقعد الميت من الجنة والنار عليه، حدیث نمبر: (2870)۔
لہذا ہر مسلمان کے لیے قبر کے عذاب اور اس کی نعمتوں پر ایمان لانا اور موت کے بعد کے لیے تیاری کرنا ضروری ہے، جب وہ اپنی قبر میں تنہا رہ جائے گا، اس کے اہلِ خانہ اور دوست احباب اسے چھوڑ چکے ہوں گے، اور اس کے نیک اعمال کے سوا اسے کوئی چیز نفع نہیں دے گی۔
سوالات:
س1 : قبر کی آزمائش سے کیا مراد ہے؟
س2 : جب انسان کو اس کی قبر میں رکھا جاتا ہے تو کس چیز کے ذریعے اس کا امتحان لیا جاتا ہے؟
س3 : مومن سے جب اس کی قبر میں سوال ہو گا تو اس کا جواب کیا ہو گا؟
س 4 : کافر یا منافق سے جب اس کی قبر میں سوال ہو گا تو اس کا جواب کیا ہو گا؟
س5 : عذابِ قبر سے نجات پانے کے لیے مومن کو کیا کرنا چاہیے؟
س6 : اللہ تعالی نے فرمایا ہے : "ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ پکی بات کے ساتھ مضبوط رکھتا ہے، دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی۔ ہاں، ناانصاف لوگوں کو اللہ بہکا دیتا ہے اور اللہ جو چاہے کر گزرے۔" [سورہ ابراھیم: 27]۔ اس آیت کے چند فوائد اور عبرتیں بتائیں۔
پچیسواں سبق
قیامت کے دن کے کچھ حالات
قیامت قائم ہونے سے پہلے بہت سی نشانیاں ظاہر ہوں گی۔ ان میں سے ایک نشانی کا ذکر حذیفہ بن اسید الغفاری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے سے کسی بات پر چرچا کر رہے تھے کہ نبی ﷺ ہمارے پاس آئے اور فرمایا : ”تم سب کس بات کے بارے میں گفتگو کررہے ہو؟“ ان سب نے کہا : ہم سب قیامت کا ذکر کررہے تھے۔ تو آپ نے فرمایا: ”وہ -یعنی قیامت- ہر گز قائم نہیں ہوگی، یہاں تک کہ تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو“۔ پھر آپ نے ذکر کیا : ”دھوئیں کا، دجال کا، دابہ (چوپایہ) کا، آفتاب کے مغرب سے نکلنے کا، عیسٰی ابن مریم علیہ السلام کے اترنے کا، یاجوج وماجوج (کے نکلنے) کا اور تین (مقامات میں) زمین دھنسنے کا: ایک مشرق میں، دوسرا مغرب میں اور تیسرا جزیرۂ عرب میں اور ان سب کے بعد ایک آگ پیدا ہو گی جو یمن سے نکلے گی اور لوگوں کو محشر کی طرف ہانک لے جائے گی“۔[36] "[36] اسے مسلم نے کتاب الفتن و اشراط الساعۃ، باب: فی الآیات التی تکون قبل الساعۃ میں حدیث نمبر (2901) کے تحت روایت کیا ہے۔ ”دخان“ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ: یہ ایسا دھواں ہے جو کافروں کی سانسیں جکڑ لے گا اور مومن کو اس سے زکام جیسی کیفیت لاحق ہوگی اور یہ قیامت قائم ہونے کے قریب ظاہر ہوگا۔ ”دجال“: یہ ایک جھوٹا اور کافر شخص ہے جو آخری زمانے میں نکلے گا اور ربوبیت کا دعویٰ کرے گا۔ اس کے ہاتھوں بہت سے خوارق (عادت امور) ظاہر ہوں گے۔ چنانچہ بہت سے لوگ اس کے فریب میں آکر اس کی پیروی کرلیں گے۔ وہ ساری زمین کا چکر لگائے گا۔ پھر عیسیٰ ابن مریم علیہ الصلوۃ والسلام اسے ہلاک کر دیں گے۔ ”دابّۃ“: یہ ایک جانور ہے جسے اللہ تعالیٰ قیامت قائم ہونے کے قریب نکالے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا ہے: (وَإِذَا وَقَعَ ٱلۡقَوۡلُ عَلَيۡهِمۡ أَخۡرَجۡنَا لَهُمۡ دَآبَّةٗ مِّنَ ٱلۡأَرۡضِ تُكَلِّمُهُمۡ أَنَّ ٱلنَّاسَ كَانُواْ بِـَٔايَٰتِنَا لَا يُوقِنُونَ۔) (اور جب ان پر بات پوری ہو جائے گی تو ہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے کلام کرے گا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں کرتے تھے۔) [النمل:82]۔
پس جب قیامت قائم ہوگی تو اللہ تعالیٰ تمام مُردوں، یعنی اگلے اور پچھلے سب لوگوں کو دوبارہ اٹھائے گا۔
پھر اللہ تعالیٰ بندوں کو جمع کرے گا اور ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا، جیسا کہ عبداللہ بن اُنیس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آیا ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ”قیامت کے دن لوگ برہنہ، غیرمختون اور بہم اٹھائے جائیں گے“۔ ہم نے پوچھا: ”بُهْم“ کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ان کے پاس کچھ نہیں ہوگا“۔ پھر ان کو ایسی آواز میں پکارے گا جسے دور والا بالکل اسی طرح سنے گا جیسے قریب والا سنتا ہے: ”میں بادشاہ ہوں، میں بدلہ دینے والا ہوں، کسی جہنمی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جہنم میں جائے اور اس کا کسی جنتی پر حق ہو یہاں تک کہ میں اس سے اس کا بدلہ دلادوں، اور کسی جنتی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جنت میں داخل ہو اور اس کا کسی جہنمی پر حق ہو یہاں تک کہ میں اس سے اس کا بدلہ دلادوں، یہاں تک کہ تھپڑ کا بدلہ بھی۔“ راوی کہتے ہیں: ہم نے پوچھا: یہ کیسے ہوگا جب کہ ہم اللہ عزوجل کے پاس برہنہ، غیرمختون اور بہم آئیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”نیکی اور بدی کے ذریعہ“[37]۔ [37] اسے امام احمد (3/495) اور حاکم نے المستدرک : کتاب التفسير، باب: تفسير سورة حم المؤمن (2/438) میں روایت کیا ہے۔ غُرلاً: جن کا ختنہ نہ ہوا ہو۔ الديان: قاضی، حاکم اور لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دینے والا۔ أقصه: میں اسے قصاص اور اپنا حق لینے کا اختیار دوں گا۔ اللطمة: چہرے پر ضرب۔
بندوں کے درمیان قصاص اس طرح ہوگا کہ مظلوم کو ظالم کی نیکیاں دے دی جائیں گی، اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تو مظلوم کی بُرائیاں ظالم کے کھاتے میں ڈال دی جائیں گی۔
سوالات:
س1 : خالی جگہوں کو پر کریں:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : ’’وہ - یعنی قیامت - ہر گز قائم نہیں ہو گی، یہاں تک کہ اس کے پہلے تم سب دس نشانیاں نہ دیکھ لو، پھر آپ نے ذکر کیا: دھوئیں کا، دجال کا اور ....................................... ..................................... .................................. .......................................... ...................................... ................................ ‘‘۔
س2 : بیان کریں کہ قیامت کے دن لوگوں کو کس طرح جمع کیا جائے گا؟
س3 : اللہ مُردوں کو کب اٹھائے گا؟
سوال 4 : جس شخص پر کسی کا کوئی حق یا قرض ہو، وہ جنت میں کب داخل ہوگا؟
س5 : جس شخص پر کسی کا کوئی حق یا قرض باقی ہو، وہ کب جہنم میں داخل ہوگا؟
س 6 : رسول ﷺ نے دجال سے کیوں خبردار کیا؟
سولھواں سبق
کسی اہل قبلہ کے جنتی یا جہنمی ہونے کا حکم نہ لگانا۔
اہلِ سنت والجماعت کے کچھ اصول یہ ہیں :
* کسی اہل قبلہ کے جنتی یا جہنمی ہونے کا قطعی فیصلہ نہ کرنا، سوائے ان لوگوں کے جن کے بارے میں نبی ﷺ نے اس کی گواہی دی ہو؛ بلکہ وہ نیکوکار کے لیے ثواب کی امید رکھتے ہیں اور گناہ گار کے لیے عذاب سے ڈرتے ہیں۔
* رسول اللہ ﷺ نے جس کے اہلِ جنّت ہونے کی گواہی دی ہے، ہم یقین رکھتے ہیں کہ وہ ضرور جنّت میں داخل ہوگا؛ کیوں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی خواہش سے نہیں بولتے، اور جن کے لیے رسول اللہ ﷺ نے اس کی گواہی دی ہے ان میں عشرہ مبشّرہ شامل ہیں، جو درج ذیل حضرات ہیں: ابو بکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ بن عبد اللہ، زبیر بن عوّام، سعد بن ابی وقاص، سعید بن زید بن عمرو بن نُفیل، عبد الرحمٰن بن عوف اور ابو عبیدہ عامر بن الجرّاح رضی اللہ عنہم۔
* رسول اللہ ﷺ نے ان کے علاوہ دیگر لوگوں کے لیے بھی جنت کی گواہی دی ہے، جیسے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما۔ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے : "حسن اور حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔"[38]۔ اور عکاشہ بن محصن جن کے بارے میں نبی ﷺ نے بتایا ہے کہ وہ ان ستر ہزار لوگوں میں سے ہوں گے جو بغیر حساب و عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے [39]۔ [38] اس حدیث کو ترمذی نے کتاب المناقب، باب: مناقب الحسن والحسین میں، حدیث نمبر (3768) کے تحت روایت کیا ہے اور ابو عیسیٰ ترمذی نے اسے ’حسن صحیح‘ کہا ہے۔ [39] صحیح بخاری، کتاب الرقاق، باب: يدخل الجنة سبعون ألفًا بغير حساب، حدیث نمبر: 6541، اور صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب: الدَّليل على دخول طَوائف مِن المسلمين الجنَّة بغير حسابٍ ولا عَذاب، حدیث نمبر: 216۔
* وہ کافر جو اسلام کے بارے میں سننے کے بعد بھی کفر کی حالت میں مر جائے، اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ جہنمی ہے۔
سوالات:
س1 : کیا کسی مسلمان کے لیے جائز ہے کہ وہ کسی کے جنتی یا جہنمی ہونے کا حکم لگائے، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے اس بات کی گواہی نہ دی ہو؟
س 2 : کیا کسی کافر کے اسلام کے بارے میں سننے کے بعد اس کے جہنمی ہونے کا حکم لگانا جائز ہے، جب کہ وہ ابھی مرا نہ ہو؟
س3 : اگر اللہ کے رسول ﷺ کسی کے حق میں گواہی دیں کہ وہ جنتی ہے، تو اس کے بارے میں ہماری کیا ذمہ داری ہے؟
س4: جنت کی بشارت پانے والے دس صحابہ کرام کے نام ذکر کریں۔
عنوان: نصاب تعلیم، علم فقہ، مرحلہ (ششم)
مختصر تعارف: یہ علمی مواد مملکت سعودی عرب میں طلبہ کے لیے مقرر کردہ تعلیمی نصاب کی تہذیب اور خلاصہ شمار کیا جاتا ہے اور یہ کئی درجات میں منقسم ہے۔ اس مواد کے ضمن میں علم فقہ کے مطالعہ سے متعلق حصہ بھی شامل ہے، جو بارہ (12) درجات میں منقسم ہے۔ چھٹے درجے میں شامل اہم ترین موضوعات اور مسائل درج ذیل ہیں:
نماز جمعہ، عیدین، کسوف اور استسقا سے متعلق احکام کا بیان
فرض زکوۃ کے احکام، اس کے وجوب کی شرائط، جن مالوں میں زکوۃ واجب ہے اور جو اصناف (مستحقین) اس کے مستحق ہیں، ان کا بیان۔
روزے کی تعریف، اس کا حکم، اس کی شرطیں، مفسدات، آداب اور دیگر امور کا بیان۔
حج اور عمرہ کے طریقہ، مواقیت کی اقسام، احرام کے محظورات اور ان کے فدیہ نیز اس طرح کے دیگر امور کا بیان۔
چھٹا درجہ
پہلا سبق [1]
[1] استیطان کا معنی ہے: کسی جگہ مستقل طور پر سکونت اختیار کرنا۔ یہ جمعہ کے واجب اور صحیح ہونے کے لیے شرط ہے۔ چنانچہ مسافر اس سے خارج ہو جاتا ہے۔ اسی طرح وہ خانہ بدوش بھی جو خیموں اور بالوں سے بنے گھروں میں رہتے ہیں، اور بارش اور گھاس والے مقامات کی تلاش میں منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ فقہ کی کتابوں میں ان کے تفصیلی احکام موجود ہیں۔
نمازِ جمعہ
اس کا حکم:
نماز جمعہ ہر عاقل، بالغ اور مسلمان مرد پر فرض ہے جو مقیم ہو۔
لہذا چھوٹے بچے، پاگل، عورت اور مسافر پر واجب نہیں ہے۔
اس کے واجب ہونے کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے : "اے وه لوگو جو ایمان ﻻئے ہو! جمعہ کے دن نماز کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید وفروخت چھوڑ دو ۔ یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔" [سورہ جمعہ: 9]۔
نماز جمعہ کے صحیح ہونے کی شرائط:
نماز جمعہ کے صحیح ہونے کے لیے مندرجہ ذیل چار شرائط ہیں :
1- وقت کا ہونا، مثلا ظہر کا وقت سورج ڈھلنے (یعنی سورج کے بیچ آسمان سے مغرب کی جانب مائل ہونے) سے شروع ہوتا ہے، اور اس وقت ختم ہوتا ہے جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو جائے۔
2- جماعت کے ساتھ ادا کرنا۔ اکیلے شخص کی جمعہ صحیح نہیں ہوگی۔
3- استیطان: یعنی کسی جگہ مستقل طور پر رہائش اختیار کرنا۔
4- اس سے پہلے دو خطبے ہوں۔
نماز جمعہ کا طریقہ :
نماز جمعہ فجر کی نماز کی طرح دو رکعت ہے، جس میں امام جہری تلاوت کرتا ہے۔ اس کی پہلی رکعت میں - سورہ فاتحہ کے بعد - سورہ اعلی اور دوسری رکعت میں سورہ غاشیہ پڑھنا سنت ہے۔
جمعہ کے مستحب اعمال:
ایک مسلمان کے لیے جمعہ کے دن چند امور مستحب ہیں، مثلا :
1- غسل کرنا، صاف ستھرا ہونا، خوشبو لگانا اور نماز کے لیے نکلتے وقت سب سے اچھے دستیاب کپڑے پہننا۔
2- نماز کے لیے جلدی جانا اور امام کے قریب ہونا۔
3- سورۂ کہف کی تلاوت کرنا۔
4- بکثرت دعا کرنا اور نبی ﷺ پر درود بھیجنا۔
5- جمعہ کی نماز کے بعد دو رکعت یا چار رکعت نماز پڑھنا۔
جمعہ کے دن کی ممنوع چیزیں:
- خطبہ کے دوران بات کرنا حرام ہے؛ کیونکہ خطبہ کو خاموشی کے ساتھ سننا واجب ہے۔ اس کی دلیل نبی ﷺ کا یہ فرمان ہے: ”جب جمعہ کے دن امام خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے پاس بیٹھے ہوئے آدمی سے کہو کہ "خاموش ہو جاؤ" تو (ایسا کہہ کر) تم نے خود ایک لغو حرکت کی“۔ [2] [2] صحیح بخاری: كتاب الجمعة، باب: الانصات يَوْم الجمُعَة والامام يخطُب، حدیث نمبر: (934)۔ ’لَغَوْت‘ کے معنی ہیں: یعنی تم نے لغو بات کہی۔ اور لغو سے مراد گناہ ہے۔
- مسلمان کے لیے لوگوں کی گردنوں کو پھلانگ کر آگے جانا مکروہ ہے، لیکن اگر اسے کوئی خالی جگہ نظر آئے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
نماز جمعہ کا خطبہ :
جمعہ کی نماز کے صحیح ہونے کے لیے شرط ہے کہ امام نماز سے پہلے دو خطبے دے اور ہر ایک درج ذیل امور پر مشتمل ہو:
1- اللہ عز وجل کی حمد و ثنا۔
2- قرآن کریم کی چند آیتیں تلاوت کرنا۔
3- وعظ و نصیحت کرنا۔
4- نبی ﷺ پر درود بھیجنا۔
5- اللہ عزوجل کا تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرنا۔
خطیب کے لیے جن امور کا کرنا مسنون ہے:
1- خطیب کے لیے سنت ہے کہ وہ منبر پر یا کسی اونچی جگہ پر خطبہ دے۔
2- مسجد میں داخل ہوتے اور منبر پر چڑھتے وقت لوگوں کو سلام کرے۔
3- دونوں خطبوں کے درمیان تھوڑی دیر بیٹھے۔
4- مسلمانوں کے لیے دعا کرے۔
5- دونوں خطبوں کو مختصر رکھے۔
سوالات:
س1: نماز جمعہ کا حکم کیا ہے؟ اور یہ کن لوگوں پر واجب ہے؟ اور اس کے وجوب کی دلیل کیا ہے؟
س2 : آنے والے جملوں کو مکمل کریں:
الف- نمازِ جمعہ کا وقت ................................... سے شروع ہوتا ہے اور اس وقت ختم ہوتا ہے جب ...........................................
ب- جمعہ کی نماز کی پہلی رکعت میں سورہ ........................................... اور دوسری رکعت میں سورہ ........................................... پڑھنا سنت ہے۔
س3 : گروپ (الف) میں دی گئی ہر عبارت کے سامنے گروپ (ب) میں دی گئی مناسب عبارت کا نمبر لکھیں:
مجموعہ (الف)
مجموعہ (ب)
1- جمعہ کی صحت کی شرطوں میں سے ہے
خطبہ کے دوران بات کرنا
2- ایک مسلمان کے لیے جمعہ کے دن مستحب ہے
خطبہ کسی اونچی جگہ پر دیا جائے
3- مسلمان کے لیے مکروہ ہے
اللہ عزوجل کی حمد
4- مسلمان پر حرام ہے
لوگوں کی گردنیں پھلانگنا
5- خطبہ کی سنتوں میں سے ہے
سورۂ کہف کی تلاوت کرنا
جماعت میں حاضر ہونا
س4: نماز جمعہ کے صحیح ہونے کے لیے شرط ہے کہ اس سے پہلے دو خطبے ہوں، جن میں سے ہر خطبہ پانچ امور پر مشتمل ہو، ان کا ذکر کریں۔
ا-...................................................................................... ب-......................................................................................
ج-...................................................................................... د-......................................................................................
ہ-.............................................................................
دوسرا سبق [3]
[3] معلم عید کی نماز کے طریقے کی عملی تطبیق کرے اور طلبہ سے بھی ایسا کرنے کے لئے کہے۔ اسی طرح تکبیر کہنے کے طریقے کی بھی۔
عیدین کی نماز
مسلمانوں کی سال میں دو عیدیں ہیں: عید الفطر اور عید الاضحی۔ ان میں مسلمان رمضان کے بعد اور ماہ ذی الحجہ کے پہلے عشرے کے آخر میں ایک جگہ جمع ہوتے ہیں، اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر بجا لاتے ہیں کہ اس نے ان کے لیے رمضان کے روزے رکھنا آسان کیا اور انہیں نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائی۔ نیز وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ان کے ان اعمال کو قبول فرمائے۔ عید کے دنوں میں لوگ ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں، صلہ رحمی کرتے ہیں، خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہیں اور سب مل کر عید کی نماز ادا کرنے کے لیے نکلتے ہیں۔
اسلام میں ایک تیسری عید بھی ہے۔ یعنی جمعہ کا دن۔ ان تین عیدوں کے سوا دیگر عیدیں بدعت اور دین میں نئی ایجاد ہیں۔
عیدین کی نماز کا حکم:
یہ فرضِ کفایہ (اگر معتد بہ تعداد میں لوگ اسے ادا کر لیں، تو باقی لوگ گنہگار نہیں ہوں گے) ہیں۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: (پس تو اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر۔) [سورہ كوثر : 2]۔
عیدین کی نماز کا وقت:
سورج کے (نظر آنے کی حد تک) ایک نیزہ کے بقدر چڑھنے (یعنی: طلوع کے تقریباً پندرہ منٹ بعد) سے لے کر اس کے زائل ہونے (یعنی: مغرب کی جانب تھوڑا سا ڈھل جانے) تک ہے۔
عیدین کی نماز کا طریقہ:
1- عید کی نماز دو رکعت ہے، جس میں امام جہری تلاوت کرے گا۔
2- پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ اور دعائے ثنا کے بعد چھ تکبیریں کہے گا۔
3- دوسری رکعت میں تکبیرِ انتقال کے بعد ہر تکبیر کے ساتھ دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے ہوئے پانچ تکبیریں کہے گا۔
4- پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ اعلیٰ اور دوسری رکعت میں (سورۂ فاتحہ کے بعد) سورۂ غاشیہ پڑھنا سنت ہے۔
خطبۂ عیدین:
نماز سے فارغ ہونے کے بعد امام دو خطبے دے گا، جن میں اللہ سے ڈرنے، حرام کاموں سے بچنے، مظالم ترک کرنے اور اللہ کی کتاب اور اس کے نبی ﷺ کی سنت کو مضبوطی سے تھامنے کی ترغیب دے گا۔ عید الاضحیٰ کے خطبے میں قربانی کی ترغیب دے گا اور بتائے گا کہ کون سا جانور قربانی کے لیے درست ہے اور کون سا درست نہیں۔
عید کی سنتیں:
1- شہر کے قریب کسی صحرا میں نماز ادا کرنا۔ ضرورت کے وقت جامع مسجد میں ادا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
2- نماز کے لیے صبح جلدی پیدل جانا۔
3- ایک راستے سے جانا اور دوسرے راستے سے واپس آنا۔
4- عید الفطر کی نماز کے لیے نکلنے سے پہلے چند کھجوریں کھانا۔ افضل یہ ہے کہ کھجوریئ طاق عدد میں کھائے۔ (مثلا تین یا پانچ کھجوریں...)۔
5- نماز کے لیے زینت اختیار کر کے نکلنا، اس طرح کہ عمدہ سے عمدہ لباس زیب تن کرے، البتہ عورتیں نماز کے لیے نکلتے وقت زینت کا اظہار نہ کریں اور خوشبو نہ لگائیں۔
عید کی نماز کے کچھ احکام و مسائل:
پہلا مسئلہ: عید کی نماز کے لیے اذان و اقامت نہیں ہے۔
ثانیاً: اگر عید کی نماز عید گاہ میں ادا کی جائے، تو اس سے پہلے اور اس کے بعد نفل پڑھنا مکروہ ہے۔ البتہ اگر عید کی نماز مسجد میں ہو، تو داخل ہونے کے بعد تحیۃ المسجد ادا کی جائے گی۔
تیسرا مسئلہ : جس کی عید کی نماز فوت ہو گئی یا اس کا کچھ حصہ فوت ہو گیا، اس کے لیے سنت ہے کہ وہ اسی انداز میں اس کی قضا کرے اور زائد تکبیرات کے ساتھ دو رکعت پڑھے۔
عید کے دن تکبیر کہنا:
دونوں عید کی راتوں، ذی الحجہ کے دس دنوں اور ایام تشریق میں تکبیر کہنا اور بلند آواز میں کہنا سنت ہے۔ ایام تشریق سے مراد ذی الحجہ مہینے کی گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں تاریخ ہے۔
تکبیر کے الفاظ :
اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر، اللہ اکبر، وللہ الحمد۔ (اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔)
سوالات:
س1 : نمازِ عید کے بارے میں درج ذیل کے حوالے سے گفتگو کریں:
أ- اس کا حکم۔ ب- اس کی دلیل۔ ج- اس کا وقت۔ د- اس کا طریقہ۔
س2 : (صحیح) یا (غلط) کے ذریعہ جواب دیں اور غلطی درست کریں:
1- عید کی نماز شہر کے قریب کسی کھلے میدان میں ادا کرنا مسنون ہے۔
2- عید کی نماز اذان و اقامت کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔
3- عید کی نماز سے پہلے اور اس کے بعد نفل پڑھنا مستحب ہے۔
4- ایام تشریق ذی الحجہ مہینے کے (10، 11 اور 12) تاریخ ہیں۔
س3 : عید کی چار سنتیں بیان کریں۔
سوال 4 : نماز جمعہ کے طریقے اور نماز عید کے طریقے میں فرق بیان کریں۔
تیسرا سبق [4]
[4] معلم نمازِ کسوف کا طریقہ عملی طور پر بتائے اور طلبہ سے بھی عملی طور پر پڑھ کر کے دکھانے کو کہے۔
سورج یا چاند گرہن کی نماز
سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، جو اللہ سبحانہ کی عظیم قدرت پر دلالت کرتی ہیں۔ سورج اور چاند گرہن اس بات کی بھی نشانی ہے کہ اس کائنات کا نظام اللہ ہی کے اختیار میں ہے، وہ جیسے چاہتا ہے اس میں تصرف کرتا ہے۔
کسوف کے واقع ہونے میں اللہ کی حکمت:
بندوں کو خوف دلانا؛ تاکہ وہ گھبرا کر دعا، استغفار اور نماز کے ذریعے اللہ کی طرف رجوع کریں۔ چنانچہ کسوف کے سبب ان سے اللہ تعالیٰ کی مختلف عبادتیں انجام پائیں، جن پر اللہ تعالیٰ انھیں اجرِ عظیم اور فضلِ کبیر سے نوازے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے کسوف کے وقت نماز کو مشروع کیا ہے۔
کسوف کا معنی: سورج یا چاند کی پوری یا کچھ روشنی کا ختم ہو جانا۔
نماز کسوف کا حکم: یہ سنت مؤکدہ ہے۔ اس کی دلیل عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی یہ حدیث ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے : "یقینًا سورج اور چاند دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں۔ کسی کی موت وحیات سے ان میں گرہن نہیں لگتا۔ جب تم گرہن لگا ہوا دیکھو، تو اللہ سے دعا کرو، تکبیر کہو، نماز پڑھو اور صدقہ کرو۔‘‘ [5] [5] اسے بخاری نے كتاب الكسوف، باب: الصَّدَقَة فی الكسوف میں، حدیث نمبر (1044) کے تحت اور مسلم نے كتاب الكسوف، باب: صلاة الكُسوف میں، حدیث نمبر (901) کے تحت روایت کیا ہے۔
نماز کسوف کا وقت: گرہن لگنے سے لے کر گرہن دور ہونے تک۔
جب گرہن لگے تو نماز کے لیے (الصلاۃ جامعۃ) کہہ کر ندا لگائی جائے اور لوگ اس وقت تک نماز پڑھتے رہیں جب تک کہ گرہن ختم نہ ہو جائے۔
اگر کسوف ختم ہونے سے پہلے نماز مکمل ہو جائے، تو اللہ سے دعا کریں اور ذکر و اذکار میں مشغول رہیں۔ نماز نہ دہرائیں۔ اگر حالتِ نماز میں کسوف زائل ہو جائے، تو امام مختصر کر کے نماز مکمل کرلے۔
صلاۃ کسوف کا طریقہ:
گرہن کی نماز دو رکعت ہے، جو چار رکوع اور چار سجدوں پر مشتمل ہے۔ امام دونوں رکعتوں میں جہری قراءت کرے اور انہیں درج ذیل طریقے کے مطابق پڑھے:
1- تکبیر تحریمہ کہے، دعائے ثنا اور اعوذ باللہ پڑھے، سورہ فاتحہ اور ایک طویل سورت کی تلاوت کرے، پھر طویل رکوع کرے، پھر ’’سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ‘‘ کہتے ہوئے سر اٹھائے اور اٹھنے کے بعد ’’رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ‘‘ کہے اور سجدہ نہ کرے۔
2- پھر سورۂ فاتحہ اور ایک طویل سورت پڑھے، پھر طویل رکوع کرے، پھر (سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ) کہتے ہوئے سر اٹھائے اور سر اٹھانے کے بعد (رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ) کہے۔
3- پھر دو لمبے سجدے کرے اور ان دونوں کے درمیان لمبا نہ بیٹھے۔ اس کے ساتھ ہی پہلی رکعت پوری ہو گئی۔
4- پھر دوسری رکعت بھی پہلی رکعت ہی کی طرح دو طویل رکوع اور دو طویل سجدوں کے ساتھ ادا کرے، پھر تشہد پڑھے اور سلام پھیر دے۔
اس کی سنتیں:
کسوف کے وقت درج ذیل امور مسنون ہیں:
1- نمازِ کسوف جماعت کے ساتھ ادا کرنا۔
2- زیادہ سے زیادہ دعا، استغفار، صدقہ اور دیگر نیک اعمال کرنا۔
3- نماز کے بعد وعظ و نصیحت کرنا اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے تقویٰ پر ابھارنا اور برائیوں سے روکنا۔
سوالات:
س1: کسوف کے واقع ہونے کی کیا حکمت ہے؟
س2 : آنے والے جملوں کو مکمل کریں:
الف- کسوف: اس سے مراد ہے : ........................................................................................................................
ب- نماز کسوف کا حکم: ........................................................................................................................
ج- نمازِ کسوف کا وقت: ........................................ سے لے کر ........................................ تک ہے۔
س3 : (صحیح) یا (غلط) (×) کے ذریعہ جواب دیں اور غلطی کی تصحیح کریں :
ا- اگر نماز مکمل ہونے سے پہلے کسوف ختم ہو جائے تو امام اسے تخفیف کے ساتھ پوری کر لے۔
ب- سورج یا چاند گرہن کی نماز چار رکعتیں ہیں جن میں امام بلند آواز سے قراءت کرتا ہے۔
ج- نمازِ کسوف کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ ہے کہ اسے جماعت کے ساتھ ادا کیا جائے۔
س4 : نماز کسوف کا طریقہ بیان کریں۔
چوتھا سبق [6]
[6] معلم کے لیے ہدایات: - نماز استسقا اپنے وقت، طریقے اور احکام میں نماز عید کی طرح ہے۔ لہٰذا معلم یہاں طلبہ کے ساتھ ان موضوعات کا اعادہ کرے۔ - معلم اس بات کی وضاحت کرے کہ گناہوں اور نافرمانیوں کی کثرت اور بالخصوص زکاۃ کا روکنا، آسمان سے بارش روکے جانے کے سب سے بڑے اسباب میں سے ہے۔ - معلم نماز استسقا کے طریقے کا عملی مظاہرہ کرے اور طلبہ سے بھی ایسا ہی کرنے کو کہے۔
نمازِ استستقا
بارش اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لیے ایک نعمت اور رحمت ہے۔ اس سے گھاس اگتی ہے، زمین سیراب ہوتی ہے اور پانی مہیا ہوتا ہے جو انسانوں، جانوروں اور نباتات کی زندگی کا سبب ہے۔ لہذا جب بارش نہ ہو یا کم ہو جائے، تو لوگوں کو بڑی تکلیف اور شدید مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی لیے لوگ اپنے اور بارش کے خالق کی طرف رجوع کرتے ہیں، جو غنی و کریم ہے۔ لوگ ہمیشہ اللہ سے دعا کرتے رہتے ہیں کہ ان پر بارش برسائے اور بعض اوقات ایک جگہ جمع ہو کر نماز پڑھتے اور دعا کرتے ہیں۔ اسی نماز کو 'نماز استسقا' کہا جاتا ہے۔
استسقا کی تعریف: اللہ تعالیٰ سے بارش طلب کرنا۔
نماز استسقا کب مشروع ہوتی ہے:
جب سوکھا پڑ جائے اور بارش رک جائے تو نماز استسقا پڑھنا مشروع ہے۔
اس کا حکم:
یہ سنتِ مؤکدہ ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ نبی ﷺ نے بارش طلب کرنے کے لیے نمازِ استسقاء ادا فرمائی، تو دو رکعت نماز ادا کی اور چادر پلٹی [7]۔ [7] صحیح بخاری ’كتاب الاستسقاء‘ باب: صلاة الاستسقاء ركعتين، حدیث نمبر (1026)۔
اس کا طریقہ:
نماز استسقا: رکعتوں کی تعداد، تکبیرات اور مسنون امور کے اعتبار سے نماز عید ہی کی طرح ہے۔
خطبۂ استسقا :
نماز سے فارغ ہونے کے بعد امام ایک خطبہ دے، جس کا آغاز عید کے خطبے کی طرح تکبیر سے کرے۔ اس میں کثرت سے استغفار کرے، ان آیات کی تلاوت کرے جن میں اس کا حکم دیا گیا ہے، اور ہاتھ اٹھا کر نبی ﷺ کی سکھائی ہوئی دعا مانگے، جن میں سے ایک دعا درج ذیل ہے: "اے اللہ! تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو غنی ہے اور ہم محتاج ہیں، ہمارے اوپر بارش نازل فرما اور جو کچھ تو نے نازل کیا ہے اسے ہمارے لیے قوت اور ایک مدت تک کے لیے زادِ راہ بنا دے۔"[8] [8] سنن ابو داود، کتاب الصلاة، باب: رفع الیدین فی الاستسقاء، حدیث نمبر: (1173)۔
پھر قبلہ رخ ہو جائے اور اپنی چادر یا عبا کو پلٹ دے، بایں طور کہ دائیں حصے کو بائیں طرف اور بائیں حصے کو دائیں طرف کر دے۔ دیگر نمازی بھی ایسا ہی کریں اور سری طور پر دعا کریں۔
جب بارش نازل ہو تو یہ دعا پڑھنا سنت ہے: "اللَّهمَّ صَيِّبًا نافِعًا" (اے اللہ! اسے نفع دینے والی بارش بنادے۔)
سوالات:
س1 : صحیح جواب کے نیچے خط کھینچیں:
الف- استسقا کا معنی ہے: (بارش روکنے کی دعا - اللہ تعالیٰ سے بارش طلب کرنا - سورج کی روشنی ختم ہو جانا)۔
ب- نماز استسقا ہے: (واجب - سنت مؤکدہ - فرض کفایہ)۔
س3 : آنے والے جملوں کو مکمل کریں:
الف- جب بارش ہو تو یہ دعا پڑھنا سنت ہے: ................................................................................
ب- نبی ﷺ کی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ ہے : اللَّهمَّ أنت ("اے اللہ! تو ہی) .................................................................................................................................................................................................. وبَلاغًا إلى حِين (اور ایک مدت تک کے لیے زادِ راہ بنا دے)۔
س4: نماز استسقا کی ادائیگی کا طریقہ کیا ہے؟
پانچواں سبق
جنازہ
میت کو غسل دینے، اسے کفن پہنانے، اس کی نماز جنازہ پڑھنے اور اسے دفن کرنے کا حکم:
میت کو غسل دینا، کفن پہنانا، اس کی نماز جنازہ پڑھنا اور دفنانا فرض کفایہ ہے۔ (اگر کچھ لوگ اسے انجام دے دیں تو باقی لوگوں سے گناہ ساقط ہو جاتا ہے)۔
میت کی نماز جنازہ کا طریقہ:
میت کی نماز جنازہ میں چار تکبیریں ہیں اور اس کا طریقہ درج ذیل ہے:
1- پہلی تکبیر کہے، اعوذ باللہ اور بسم اللہ پڑھے (دعائے استفتاح نہ پڑھے)، پھر سورۂ فاتحہ پڑھے۔
2- پھر دوسری تکبیر کہے اور نبی ﷺ پر درود بھیجے۔
3- پھر تیسری تکبیر کہے اور میت کے حق میں، اپنے لیے اور مسلمانوں کے لیے دعا کرے۔
4. پھر چوتھی تکبیر کہے، اس کے بعد تھوڑی دیر خاموش رہے، پھر اپنے دائیں جانب ایک سلام پھیرے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے کے کلمات:
(اللَّهمَّ صَلّ على محمَّد، وعلى آل محمَّد، كما صَلَّيْتَ على إبراهِيم، وعلى آل إبراهِيم، إنَّك حَمِيدٌ مجيدٌ، وبارِك على محمَّد، وعلى آل محمَّد، كما باركْتَ على إبراهِيم، وعلى آل إبراهِيمَ، إنَّك حَمِيدٌ مَجِيدٌ)۔ ”اے اللہ محمد پر اور آلِ محمد پر درود بھیج جیسے تو نے درود بھیجا ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر۔ بے شک تو لائق تعریف اور بزرگی والا ہے۔ اور برکت نازل فرما محمد اور آل محمد پر جیسے تونے برکت نازل فرمائی ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر۔ بے شک تو لائق تعریف اور بزرگ ہے۔“
میت کے لیے کی جانے والی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ ہے :
"اے اللہ! اسے بخش دے، اس پر رحم فرما، اسے عافیت دے، اس سے درگزر فرما، اس کی مہمان نوازی اچھی کر، اس کی قبر کو فراخ کر دے، اسے (اس کے گناہ) دھودے پانی، برف اور اولوں سے، اسے گناہوں سے اس طرح صاف کردے جیسے سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے، اسے بدلے میں ایسا گھر دے جو اس کے گھر سے زیادہ بہتر ہو، ایسے گھر والے دے جو اس کے گھر والوں سے زیادہ بہتر ہوں، ایسی بیوی دے جو اس کی بیوی سے زیادہ بہتر ہو، اسے جنت میں داخل فرما، قبر کے فتنہ سے بچا اور آگ کے عذاب سے پناہ دے۔"
جنازے کی سنتیں:
1- قبر میں دفن ہونے تک جنازے کے ساتھ چلنا۔
2- جنازے کو قبر تک لے جانے میں جلدی کرنا۔
3- اہلِ میت کی کسی بھی (مناسب) الفاظ کے ذریعہ تعزیت کرنا، جیسے: ’’اللہ تعالی تمھارا اجر بڑھائے اور تمھیں اچھے طریقے سے تسلی دے اور تمھارے فوت شدہ کى مغفرت فرمائے۔‘‘
4- قبروں کی زیارت کرنا مردوں کے لیے (مشروع ہے) اور قبرستان کی زیارت کے وقت وہ یہ الفاظ کہے : "السَّلام عليكُم دارَ قَوْمٍ مُؤمِنِينَ، وإنّا إن شاءَ اللهُ بِكُم لاحِقُونَ، يَرْحَم اللهُ المستَقْدِمِينَ مِنْكُم والمسْتَأخِرِينَ۔" (اے مومن قوم کے گھرانے! تم پر سلامتی ہو اور ہم اگر اللہ نے چاہا تو تم سے ملنے والے ہیں۔ تم میں سے پہلے جانے والوں پر اور بعد میں جانے والوں پر اللہ رحم فرمائے۔)
5- جسے کوئی مصیبت پہنچے وہ کہے: (إنّا للهِ وإنّا إليه راجعون)۔
جنازے کے دوران ممنوع کام:
1- مصیبت کے وقت ناراض ہونا، اونچی آواز سے رونا، کپڑے پھاڑنا، رخساروں پر تھپڑ مارنا اور اس طرح کے دیگر کام کرنا حرام ہے۔
2- قبروں پر بیٹھنا اور ان پر چلنا حرام ہے۔
3- قبروں کے پاس نماز پڑھنا حرام ہے۔ البتہ جنازے کی نماز اس سے مستثنیٰ ہے۔
4- جنازے کے وقت آواز بلند کرنا مکروہ ہے۔ خواہ وہ آواز ذِکر اور تلاوتِ قرآن ہی کی کیوں نہ ہو۔
5- قبروں پر مسجد بنانا حرام ہے۔
سوالات:
س۱: نمازِ جنازہ کی پہلی، دوسری، تیسری اور چوتھی (ہر ایک) تکبیر کے بعد نمازی کیا کرے؟
سوال 2 : نیچے دی گئی باتوں کا حکم بیان کریں :
الف- میت کو غسل دینا۔
ب- تعزیت کرنا۔
ج- قبر کے پاس نماز پڑھنا۔
د- جنازے کے وقت آواز بلند کرنا۔
ہ- میت کی تکفین۔
سوال 3 : نیچے دیے گئے حالات میں کیا کہنا مشروع ہے :
الف- قبرستان کی زیارت کرتے وقت: ........................................................................................................................
ب- اہلِ میت سے تعزیت کرتے وقت: ........................................................................................................................
ج- مصیبت کے وقت: ................................................................................................................................................................
س4 : مصیبت نازل ہونے کے وقت بے صبری و ناراضگی کے چند مظاہر ذکر کریں:
چھٹا سبق
زکوٰۃ
اس کا حکم:
زکوٰۃ اسلام کا تیسرا رکن اور ان فرائض میں سے ایک فریضہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "اور نمازوں کو قائم کرو اور زکوٰة دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔" [سورہ بقرہ : 43]۔ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : "اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور اگر استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کرو۔"[9] [9] صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب: بيان الايمان والاسلام والاحسان، حدیث نمبر: 8۔
اس کے واجب ہونے کی شرطیں:
1- مسلمان ہونا۔
2- نصاب کا مالک ہونا (نصاب کا معنی ہے: شرعی طور پر مال کی متعینہ مقدار کہ انسان جب اس کا مالک ہو جائے تو اس میں زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے)۔
3- ایک مکمل سال کا گزر جانا۔ البتہ زمین سے نکلنے والی پیداوار اس سے مستثنیٰ ہے۔ اس کی زکوٰۃ دانہ سخت ہونے اور پھلوں کا پکنا ظاہر ہونے پر واجب ہوتی ہے۔
وہ اموال جن میں زکوٰۃ واجب ہے :
1- بھیمۃ الانعام: (اونٹ، گائے اور بھیڑ/ بکریاں)۔
2- زمینی پیداوار (اناج اور پھل)۔
3- سونا اور چاندی۔
4- سامانِ تجارت۔
زکوٰۃ کے آداب:
زکوٰۃ کے کچھ آداب اس طرح ہیں :
1- زکوٰۃ اللہ کی رضا کے حصول کے لیے ادا کی جائے۔
2- زکوٰۃ خوش دلی سے ادا کی جائے۔
3- زکوٰۃ اس کے مستحقین کو ادا کی جائے۔
4- زکوٰۃ دینے کے بعد احسان نہ جتایا جائے۔
سوالات:
س1 : زکوٰۃ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ کتاب و سنت سے اس کے وجوب کی دلیل بیان کریں۔
س2 : زکوٰۃ کے تین آداب بیان کریں۔
س3 : زکوٰۃ کے وجوب کی شرطیں بیان کریں۔
س4: نصاب سے کیا مراد ہے؟
ساتواں سبق [10]
[10] معلم اس بات پر متنبہ کرے کہ بہیمۃ الانعام (مویشی چوپائے) اگر تجارت کے لیے رکھے گئے ہوں، تو ان کی زکوٰۃ تجارتی سامان کے اعتبار سے ادا کی جائے گی، اگرچہ انہیں چارہ کھلایا جاتا ہو۔
اولاً: چوپایوں کی زکوٰۃ
چوپایوں (اونٹ، گائے اور بھیڑ/ بکری) میں زکوٰۃ تین شرطوں کے ساتھ واجب ہے:
1- انہیں دودھ یا بچے حاصل کرنے یا فربہ کرنے کے لیے پالا جاتا ہو۔ اگر انہیں کام لینے کے لیے، مثلاً ہل چلانے کے لیے رکھا گیا ہو، تو ان میں زکوٰۃ نہیں ہے۔
2- یہ جانور ’سائمہ‘ ہوں۔ اور اس سے مراد وہ جانور ہیں جو سال میں زیادہ تر چر کر گزارا کرتے ہیں۔ اگر انہیں چارہ کھلایا جاتا ہو، تو ان میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔
3- نصاب کو پہنچ جائیں۔
چوپایوں کے کم از کم نصاب کی تفصیل درج ذیل جدول (ٹیبل) میں ہے:
چوپایے کی قسم
نصاب کی کم از کم مقدار
وہ مقدار جس کا نکالنا واجب ہے
اونٹ
5
ایک بھیڑ یا بکری
گائے
30
ایک گائے (نر یا مادہ) جس کا ایک سال پورا ہو گیا ہو
بکری
40
ایک بھیڑ یا بکری
آٹھواں درس [11]
[12] - دانے کا سخت ہونا: اس سے مراد اس کا مضبوط اور سخت ہونا ہے۔الگ الگ پھلوں کے پختہ ہونے کی الگ الگ شکلیں ہیں۔ مثلا کھجور کا پختہ ہونا اس کا سرخ یا زرد ہو جانا ہے اور انگور کا پختہ ہونا اس کے اندر میٹھا پانی (مٹھاس) بھر جانا ہے۔ - جب اناجوں اور پھلوں کو سال کے کچھ حصے میں خرچ کے ساتھ اور باقی حصے میں بغیر خرچ کے سیراب کیا جائے، تو ان میں عشر کا تین چوتھائی (7.5 %) واجب ہے۔
زمینی پیدوار کی زکوٰۃ
زمینی پیداوار کی کئی قسمیں ہیں۔ مثلا :
1- اناج، جیسے: گیہوں، جو، چاول اور مکئی۔
2- ایسے پھل، جن کی طویل مدت تک خراب ہوئے بغیر ذخیرہ اندوزی کی جا سکتی ہو، جیسے کھجور، کشمش، بادام اور پستہ۔
اناجوں اور پھلوں میں زکوٰۃ چند شرائط کے ساتھ واجب ہوتی ہے۔ مثلا :
1- نصاب کو پہنچنا۔
2- اناج کا سخت ہونا اور پھلوں میں پختگی کا ظاہر ہونا۔
3- ان کی ذخیرہ اندوزی کی جا سکتی ہو۔ اگر ان کی ذخیرہ اندوزی نہ کی جا سکے، تو ان میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔
اناجوں اور پھلوں کا نصاب:
اناجوں اور پھلوں کا نصاب پانچ وسق ہے۔ ایک وسق کی مقدار ساٹھ صاع ہے۔ لہٰذا نصاب تین سو نبوی صاع ہوگا۔ اور موجودہ پیمانوں کے حساب سے تقریباً 612 کیلو گرام ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: "پانچ وسَقْ (غلہ) سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔" [11] [11] صحیح بخاری، کتاب الزکاۃ، باب: زکاۃ الورق، حدیث نمبر: (1447)۔
اناجوں اور پھلوں میں واجب مقدار:
اناجوں اور پھلوں کی سیرابی کے طریقے کے اعتبار سے ان کی دو قسمیں ہیں:
پہلی قسم: وہ اناج اور پھل جن کی سینچائی بغیر کسی خرچ کے ہوتی ہو۔ مثلا انھیں بارش یا چشمہ کے پانی سے سینچا گیا ہو۔
اس طرح کے پھلوں اور اناجوں میں عشر یعنی: (۱۰ %) واجب ہے۔
دوسری قسم: ایسے اناج اور پھل جو خرچ اور مشقت کے ساتھ سیراب کیے جاتے ہوں۔ مثلا جن کی سینچائی کنوے کے پانی سے مشینوں اور فواروں وغیرہ کے ذریعہ کی گئی ہو۔
اس طرح کے اناجوں اور پھلوں میں واجب مقدار: نصف عشر، یعنی: (5 %) ہے۔
سوالات:
س1: بہیمۃ الانعام کی زکوٰۃ کے وجوب کی شرائط بیان کریں۔
س2 : آنے والے جملوں کو مکمل کریں:
الف- بھیڑ اور بکری کا کم از کم نصاب .............................................. اور اس میں واجب زکوۃ کی مقدار ..............................................
ب- اناجوں اور پھلوں کا نصاب .............................................. وسق ہے، کیونکہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: (.............................................. سے کم میں کوئی صدقہ نہیں ہے)۔
س3 : زمین سے پیدا ہونے والی اشیاء کی اقسام بیان کریں، اور ہر قسم کی مثال بھی دیں۔
س4 : قوسین میں دیے گئے جوابات میں سے صحیح جواب کا انتخاب کرتے ہوئے اس کے نیچے خط کھینچیں۔
الف- غلہ اور پھلوں کا نصاب (300 صاع - 350 صاع - 60 صاع)۔
ب- جس اناج کی سینچائی بلا مشقت ہوئی ہو اس میں (دسواں حصہ - بیسواں حصہ - چالیسواں حصہ) واجب ہوگا۔
س5 : صحیح یا غلط (×) کے ذریعہ جواب دیں اور غلطی درست کریں:
الف- اونٹ کا کم از کم نصاب 'پانچ' ہے اور اس میں ایک بکری واجب ہے۔
ب- جس فصل کی سینچائی مشقت سے ہوئی ہو اس کی مثال ہے (وہ فصل) : جسے بارش یا چشمہ کے پانی سے سینچا گیا ہو۔
ج- پھلوں میں زکوٰۃ کے وجوب کی شرطوں میں سے ہے: ایک مکمل سال کا گزرنا۔
د- اگر چوپایوں کو چارہ (خرید کر) کھلایا جاتا ہو تو ان میں کوئی زکوٰۃ نہیں ہے۔
س 6: ایک شخص سو بکریوں کا مالک ہے، جن پر اس کی ملکیت میں ایک مکمل سال گزر چکا ہے۔ ان میں سے 40 بکریاں جنگل میں چرتی ہیں اور 60 بکریاں اس کے کھیت میں جَو اور برسیم کھاتی ہیں۔ بتائيں کہ اس کے اوپر زکوٰۃ کے طور پر کتنی بکریاں نکالنا واجب ہیں؟ اور کیوں؟
س7: ایک شخص بھیڑ/ بکریوں کے ایک ریوڑ کا مالک ہے اور اس نے آپ سے ان میں واجب ہونے والی زکوٰۃ کے بارے میں پوچھا ہے۔ تو آپ اس سے کیا سوالات کریں گے تاکہ آپ اس کے سوال کا جواب دے سکیں؟
نواں سبق
تیسرا مسئلہ: سونے اور چاندی کی زکوٰۃ
سونے اور چاندی میں زکوٰۃ دو شرطوں کے ساتھ واجب ہوتی ہے:
1- ان دونوں میں سے ہر ایک نصاب کو پہنچ جائے۔
2- ایک مکمل سال کا گزر جائے۔
ادا کی جانے والی واجب مقدار:
اگر گزشتہ دونوں شرطیں پائی جائیں تو سونے اور چاندی میں سے چالیسواں حصہ نکالنا واجب ہے اور یہ ڈھائی فی صد (2.5 %) کے برابر ہے۔
سونے اور چاندی کا نصاب اور موجودہ پیمانوں کے اعتبار سے اس کے مساوی مقدار
زمرہ
نصاب
وہ مقدار جس کا نکالنا واجب ہے
چالیسواں حصہ = 2.5%
سونا
20 مثقال = 85 گرام
0.5 مثقال = 2.125 گرام
چاندی
200 دِرہم = 595 گرام
5 درہم = 14.875 گرام
دسواں سبق [12]
[12] چالیسواں حصہ (2.5%) چالیس میں تقسیم کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے۔ جب آپ 100 کو 40 پر تقسیم کریں گے، تو نتیجہ چالیسواں حصہ ہوگا، جو کہ 2.5% ہے۔
چوتھا مسئلہ: سامانِ تجارت کی زکوٰۃ
سامان تجارت: وہ اشیا جو منافع حاصل کرنے کے مقصد سے خرید و فروخت کے لیے خاص ہوں، جیسے کپڑے، گاڑیاں، فرنیچر، لوہا اور اس طرح کی دیگر اشیا جنھیں ان کے مالک نے خرید و فروخت کے لیے خاص کر رکھا ہو۔
سامان تجارت میں زکوٰۃ تین شرطوں کے ساتھ واجب ہوتی ہے:
1- سامانِ تجارت کی قیمت نصاب کو پہنچ جائے۔
2- اس کے ذریعے تجارت کی نیت ہو۔
3- ایک مکمل سال گزر جائے۔
سامان تجارت کا نصاب سونے یا چاندی کے نصاب کی قیمت ہے۔
سامانِ تجارت میں واجب زکوۃ کی مقدار: چالیسواں حصہ، یعنی: (2.5%)۔
مِثال :
* اگر کسی شخص کے پاس کپڑے ہوں جن کی قیمت تین ہزار ریال ہو اور وہ یہ جاننا چاہتا ہو کہ ان میں زکوٰۃ ہے یا نہیں؟ تو وہ بازار جائے اور چاندی کے نصاب کی قیمت دریافت کرے؛ کیونکہ نصاب کی قیمت وقتاً فوقتاً تبدیل ہوتی رہتی ہے اور یہ بات معلوم ہے کہ چاندی کا نصاب پانچ سو پچانوے (595) گرام ہے۔ چنانچہ اگر اسے بتایا جائے کہ 595 گرام کی قیمت 3000 ریال یا اس سے کم ہے، تو اس پر کپڑوں کی زکوٰۃ واجب ہو جائے گی؛ کیونکہ ان کی قیمت چاندی کے نصاب کی قیمت تک پہنچ گئی ہے۔ اور اگر اسے بتایا جائے کہ چاندی کے نصاب کی قیمت 4000 ریال ہے تو اس پر کپڑوں کی زکوٰۃ واجب نہیں ہو گی؛ کیونکہ ان کی قیمت چاندی کے نصاب کی قیمت کو نہیں پہنچتی۔
* کپڑے، گاڑیاں اور گھریلو ساز و سامان وغیرہ۔ اگر ان کے مالک نے انہیں استعمال کے لیے رکھا ہو اور ان سے تجارت کی نیت نہ کی ہو، تو ان پر زکوٰۃ نہیں ہے۔
* مکانات اور گاڑیاں وغیرہ۔ اگر ان کے مالک نے انھیں کرایہ پر دینے کے لیے رکھا ہو اور اس نے ان کی خرید و فروخت کے ذریعے تجارت کی نیت نہ کی ہو، تو ان پر زکوٰۃ نہیں ہے۔
سوالات:
س1: خالی جگہ کو پر کریں:
1- سونے اور چاندی میں زکوٰۃ دو شرطوں کے ساتھ واجب ہوتی ہے:
الف- .............................................. .............................................. ..............................................
ب- .............................................. .............................................. ..............................................
2- سونے کا نصاب .............................................. مثقال ہے، اور یہ .............................................. گرام کے برابر ہے۔
3- چاندی کا نصاب .............................................. درہم ہے، اور یہ .............................................. گرام کے برابر ہے۔
4- سامانِ تجارت کا نصاب: ......................................................کی قیمت ہے۔ اور اس میں واجب زکوۃ کی مقدار: ............................................................................................
س2: سامانِ تجارت سے کیا مراد ہے؟ اور اس میں زکوٰۃ کے وجوب کی کیا شرطیں ہیں؟
سوال 3 : کپڑے اور گاڑیوں کو اگر ان کے مالک نے ذاتی استعمال کے لیے رکھا ہو، تو کیا ان میں زکوٰۃ واجب ہے؟
س4: عبدالرحمن نے پانچ عمارتیں تعمیر کیں، جن میں سے ہر ایک کی قیمت اندازاً پانچ لاکھ ریال ہے۔ جب وہ ان کی تعمیر سے فارغ ہوا تو ان میں سے ایک کو اپنی رہائش کے لیے رکھ لیا، دوسری کو زمینی جائیداد کے ادارے کے دفاتر کا مرکز بنا لیا اور بقیہ تین کو فروخت کے لیے پیش کر دیا۔ کیا اس کی عمارتوں میں زکوٰۃ واجب ہے، جب کہ اسے ان کی تعمیر سے فارغ ہوئے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے؟
س 6: احمد کے پاس ایک سال سے 4000 ریال ہیں، اور بازار میں سونے کا نصاب 3500 ریال کے مساوی ہے، تو کیا اس پر زکوٰۃ واجب ہے؟ اور اس پر واجب مقدار کیا ہے؟
گیارہواں سبق
رمضان کا صدقۂ فطر
تشریع کی حکمت:
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے رمضان کے روزے مکمل کرنے کے بعد صدقۃ الفطر نکالنا مشروع کیا ہے۔ اس موقع پر اس کی مشروعیت کے پیچھے بہت سی حکمتیں کارفرما ہیں۔ مثلا :
1- اس کمی اور کوتاہی کی تلافی کرنا جس کے روزے دار سے سرزد ہونے کا امکان رہتا ہے۔
2- فقیروں اور مسکینوں کی ضرورت پوری کرنا، تاکہ وہ لوگوں کے ساتھ عید کی خوشی میں شریک ہو سکیں۔
3- روزے کا فریضہ مکمل کرنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا۔
صدقۃ الفطر کا حکم:
صدقۃ الفطر ہر مسلمان پر واجب ہے، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، بڑا ہو یا چھوٹا، بشرطیکہ اس کے پاس عید کے دن اور رات اپنے اور اپنے اہل خانہ کی خوراک سے زائد ایک صاع یا اس سے زیادہ کا انتظام موجود ہو۔ اس کی دلیل ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ قول ہے: ’’رسول اللہ ﷺ نے صدقۂ فطر مسلمان غلام اور آزاد، مرد اور عورت، چھوٹے اور بڑے (سب پر) ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو فرض قرار دیا ہے‘‘۔ [13] [13] صحیح بخاری، کتاب الزکاۃ، باب: فرض صدقۃ الفطر، حدیث نمبر : (1503)، اور صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب: زکاۃ الفطر علی المسلمین من التمر والشعیر، حدیث نمبر : (984)۔
اس کی مقدار :
ایک صاع کھجور، خشک انگور، پنیر، گیہوں، چاول یا ان کے علاوہ لوگوں کے عام کھانوں کی اشیا میں سے کوئی شے۔ صدقۂ فطر میں قیمت نکالنا کافی نہیں ہے۔
اس کے نکالنے کا وقت:
افضل یہ ہے کہ اسے عید کے دن نمازِ عید سے پہلے نکالا جائے۔ عید سے ایک یا دو دن پہلے نکالنا بھی جائز ہے۔
سوالات:
س1: صدقۂ فطر کی مشروعیت کی حکمت کیا ہے؟
سوال 2 : صحیح جواب کے نیچے خط کشید کریں :
الف- صدقۂ فطر (سنت - فرض کفایہ - واجب)۔
ب- صدقۂ فطر کی مقدار (ایک صاع - دو صاع - چار صاع)۔
ج- زکوٰۃ الفطر نکالنا افضل ہے (عید کی نماز کے بعد - عید کی نماز سے ایک دن پہلے - عید کے دن عید کی نماز سے پہلے)۔
س 3: زکوٰۃ الفطر کس پر واجب ہے؟ اور یہ کس چیز سے نکالی جائے؟
بارہواں سبق
زکوٰۃ نکالنا
زکوٰۃ کی ادائیگی سے متعلق بھی کچھ احکام ہیں، جیسے:
1- زکوٰۃ فوراً ادا کرنا واجب ہے۔ ہاں، اگر کوئی عذر ہو تو بات الگ ہے۔ زکوٰۃ ادا کرنے کا وقت یہ ہے:
ا- بہیمۃ الانعام، سونے و چاندی اور مالِ تجارت میں ایک سال گزرنے پر۔
2- اناجوں اور پھلوں کی بات کریں تو کھیتی کاٹنے اور پھل توڑنے کے وقت۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "...اور اس میں جو حق واجب ہے وه اس کے کاٹنے کے دن دیا کرو..."۔ [سورہ انعام: 141]۔
2- جو شخص زکوٰۃ کے وجوب کا انکار کرتے ہوئے زکوٰۃ ادا نہ کرے، وہ کافر ہے۔ اور اگر انکار نہ کرے، لیکن بخیلی کی وجہ سے ادا نہ کرے، تو اس سے زکوٰۃ وصول کی جائے گی اور اس کی سزا بھی دی جائے گی۔
3- افضل یہ ہے کہ زکوٰۃ اسی علاقے میں تقسیم کی جائے جہاں سے وصول کی گئی ہے۔ کسی شرعی مصلحت کی بنا پر، مثلا دوسرے علاقے کے فقیر اس علاقے کے فقیروں سے زیادہ حاجت مند ہوں، تو اسے دوسرے علاقے میں تقسیم کرنا جائز ہے۔
سوالات:
س1 : آنے والے جملوں کو پورا کریں:
1- زکوٰۃ ...............................نکالنا واجب ہے۔ ہاں کوئی ................................... تو بات الگ ہے۔
2- زکوٰۃ نکالنے کا وقت ہے:
الف- چوپایوں، .................................، ................................. اور ................................. پر ................................. گزرنے پر۔
2- ............................. اور ................................. کی بات کریں، تو ................................. اور پھل توڑنے کے وقت۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "................................................................."۔
سوال 2 : نیچے دی گئی باتوں کا حکم بیان کریں :
1- جو شخص زکوٰۃ کی فرضیت کا انکار کرتے ہوئے اسے ادا نہ کرے۔
2- جو شخص زکوٰۃ کے وجوب کا انکار تو نہ کرے، لیکن کنجوسی کی وجہ سے ادا نہ کرے۔
3- جس علاقے میں مال موجود ہو، وہاں سے لے جاکر کسی دوسرے شہر میں زکوٰۃ تقسیم کرنا۔
تیرہواں سبق
زکوٰۃ کے مستحقین
زکوٰۃ کے مستحق آٹھ قسم کے لوگ ہیں، جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے اس فرمان میں مذکور ہیں: "صدقے صرف فقیروں کے لیے ہیں اور مسکینوں کے لیے اور ان کے وصول کرنے والوں کے لیے اور ان کے لیے جن کے دل پرچائے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے لیے اور اللہ کی راه میں اور راہرو مسافروں کے لیے، فرض ہے اللہ کی طرف سے، اور اللہ علم وحکمت واﻻ ہے۔" [سورہ توبہ: 60]۔
اب مذکورہ اصناف کی تفصیل ملاحظہ ہو :
1- فقرا سے مراد وہ لوگ ہیں، جن کے پاس اتنی چیزیں نہ ہوں، جو ان کے لیے کافی ہوں۔
2- مساکین سے مراد بھی وہ لوگ ہیں، جن کے پاس اتنی چیزیں نہ ہوں جو ان کے لیے کافی ہوں، لیکن یہ لوگ فقرا سے زیادہ بہتر حالت میں ہوتے ہیں۔
3- کارکنانِ زکوٰۃ: یہ وہ کارکنان ہیں جو اصحابِ زکوٰۃ سے زکوٰۃ جمع کرنے، اس کی حفاظت کرنے اور اسے اس کے مستحقین کے درمیان تقسیم کرنے کا کام انجام دیتے ہیں، بشرطیکہ اس کام کے لیے ریاست کی طرف سے انہیں تنخواہیں نہ ملتی ہوں۔
4- مؤلفۃ القلوب : ان سے مراد اپنی قوم کے ایسے قابلِ اطاعت سردار ہیں، جن کی بات ان کی قوم کے لوگ سنتے ہوں اور جن کو کچھ دینے سے ان کے اسلام لانے یا ان کے شر سے محفوظ رہنے یا ان کے ایمان کی مضبوطی کی امید ہو۔
5- گردن آزاد کرانا : اس سے مراد مکاتب غلام ہیں۔ اور مکاتب اس غلام کو کہتے ہیں جس نے خود کو اپنے آقا سے خرید لیا ہو۔ اسی طرح مسلمان قیدی بھی اس کے دائرے میں آتے ہيں۔ لہذا اسے زکوٰۃ کے مال سے چھڑایا جا سکتا ہے۔
6- قرض دار : اس سے مراد وہ شخص ہے جس نے لوگوں کے درمیان صلح کرانے کی غرض سے اپنے ذمے قرض لے لیا ہو یا پھر اس کے اوپر اتنا قرض ہو کہ اس کی ادائیگی کی طاقت اس کے پاس نہ ہو۔
7- اللہ کے راستے میں : اس سے مراد وہ غازی لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوں اور جن کی تنخواہیں مقرر نہ ہوں۔
8- ابن السبیل (مسافر) : اس سے مراد وہ مسافر ہے، جس کا سفر کے دوران زادِ راہ ختم ہو گیا ہو۔
چودہواں سبق
نفلی صدقہ
مسلمان کے لیے مستحب ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ صدقہ کرے، مختلف نیک کاموں میں خرچ کرے اور اپنے نفس کو مال خرچ کرنے اور بخیلی سے بچنے کا عادی بنائے، کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے بہت بڑا اجر ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "ایسا بھی کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دے پس اللہ تعالیٰ اسے بہت بڑھا چڑھا کر عطا فرمائے،..."۔ [سورہ بقرہ : 254]۔
جب کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : "آگ سے بچو، خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا دے کر ہی سہی۔ جو یہ بھی نہ پائے وہ اچھی بات کے ذریعے سے بچے۔"[14] [14] صحیح مسلم، كتاب الزكاة، باب: الحثّ على الصَّدَقَة ولو بِشِقّ تمرَةٍ او كَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ، وانها حِجابٌ مِن النّارِ، حدیث نمبر: (1016)۔
آپ ﷺ نے مزید فرمایا ہے : "کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ جب بندے صبح کو اٹھتے ہوں تو دو فرشتے آسمان سے نہ اترتے ہوں۔ ایک فرشتہ تو یہ کہتا ہے کہ اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا بدلہ دے، اور دوسرا کہتا ہے کہ اے اللہ! روک کر رکھنے والے کے مال کو ہلاک کر دے۔"[15]۔ [15] صحیح مسلم، كتاب الزكاة، باب: في الـمُنْفِق والـمُمْسِك، حدیث نمبر: (1010)۔
ویسے تو سبھی اوقات میں صدقہ دینا مستحب ہے، لیکن درج ذیل حالات میں کثرت سے صدقہ دینا مستحب ہے:
1- فضیلت والے اوقات، جیسے ماہ رمضان میں۔
2- فضیلت والے مقامات، جیسے حرمین شریفین میں۔
3- ضرورت کے اوقات میں۔
4- ضرورت مند رشتے داروں پر۔
سوالات:
س1: وہ اصناف گنائیں جنہیں زکوٰۃ دی جاتی ہے۔
س2 : صحیح اور غلط (×) کے نشان کے ذریعہ جواب دیں اور غلطی درست کریں:
1- زکوٰۃ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کو دی جائے گی۔
2- زکوٰۃ اسے بھی دی جائے گی جو اسے جمع کرنے پر مامور ہو۔
3- مسلمان قیدی کو زکوٰۃ کا مال دے کر چھڑایا جائے گا۔
4- رشتہ داروں کو صدقہ دینا مستحب ہے۔
س3 : خالی جگہ کو پر کریں:
1- عاملینِ زکوٰۃ کو زکوٰۃ دینے کے لیے شرط ہے: ....................................... ...............................................
2- اپنی قوموں پر پکڑ رکھنے والے سرداروں کو زکات کا مال دینے کے پیچھے حکمت یہ ہے کہ ....................................... یا ....................................... یا ....................................... کی امید ہے۔
3- ابن السبیل سے مراد ہے: ..............................................................................
س4: صدقہ کی فضیلت پر ایک دلیل قرآن سے اور ایک سنت سے دیجیے۔
س5: بعض حالات میں زیادہ سے زیادہ صدقہ کرنا مستحب ہے، جن میں سے چند حالات یہ ہیں:
1-.....................................................................................................................
2- .....................................................................................................................
3-.....................................................................................................................
4-.....................................................................................................................
پندرھواں سبق
روزہ
روزے کی تعریف:
روزہ کا معنی ہے : طلوعِ فجر سے لے کر غروبِ آفتاب تک عبادتِ الہٰی کی نیت سے روزہ توڑنے والی تمام چیزوں سے دور رہنا۔
روزے کا حکم:
رمضان کے روزے اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے بندوں پر فرض کیا گیا ایک فریضہ ہے۔
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔" [سورہ بقرہ: 183]، یہاں 'كُتِب' کا معنی ہے: فرض کیا گیا۔ اسی طرح نبیﷺ کا ارشاد ہے: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور خانۂ کعبہ کا حج کرنا۔“ [16] [16] صحیح بخاری، كتاب الايمان، باب: دعاؤكم ايمانكم، حدیث نمبر: (8)، اور صحیح مسلم، كتاب الايمان، باب: بيان اركان الاسلام ودعائمه العِظام، حدیث نمبر: (16)۔ الفاظ مسلم کے ہیں۔
ماہ رمضان کا روزہ ہجرت کے دوسرے سال فرض ہوا اور رسول اللہ ﷺ نے نو (سال) رمضان کے روزے رکھے۔
اس کی شرطیں:
رمضان کے روزے کی مندرجہ ذیل چار شرطیں ہیں:
1- اسلام: چنانچہ کافر پر روزہ واجب نہیں ہے۔
2- بلوغت: چنانچہ نابالغ پر واجب نہیں ہے۔
3- عقل: چنانچہ پاگل پر واجب نہیں ہے۔
4- روزہ رکھنے کی قدرت: چنانچہ قدرت نہ رکھنے والے پر روزہ واجب نہیں ہے۔
ماہ رمضان کا آغاز کیسے ہوتا ہے :
ماہ رمضان کا آغاز دو میں سے کسی ایک چیز سے ہوتا ہے:
1- رمضان کے چاند کا نظر آنا، کیوں کہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے: ”چاند دیکھ کر روزہ رکھنا شروع کرو اور چاند دیکھ کر ہی روزہ رکھنا بند کرو۔“ [17] [17] صحیح بخاری، کتاب الصوم، باب: قول النبی ﷺ: «اذا رايتم الهلال فصوموا...»۔ الفاظ صحیح بخاری کے ہی ہیں۔ صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب: وجوب صوم رمضان لرؤية الهلال والفطر لرؤية الهلال، حدیث نمبر (1081)۔
2- اگر چاند نظر نہ آئے تو ماہ شعبان کے تیس دن پورے کرنا۔ اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے: ”اگر (بادل وغیرہ کی وجہ سے) چاند پوشیدہ ہو جائے تو شعبان کے تیس دنوں کی تعداد پوری کرو۔“
روزے کی نیت:
روزے کے صحیح ہونے کے لیے رات میں ہی روزے کی نیت کرنا شرط ہے، لیکن یہ بات فرض روزے کے لیے ہے، جیسے رمضان، قضا اور نذر کے روزے۔
غیر واجب روزے، جیسے سوموار، جمعرات اور ایام بیض کے روزے میں رات ہی میں نیت کرنا شرط نہیں ہے۔ لہٰذا اگر کوئی دن میں روزے کی نیت کر لے تو بھی اس کا روزہ صحیح ہوگا، بشرطیکہ طلوعِ فجر کے بعد اس نے روزہ توڑنے والی کوئی چیز استعمال نہ کی ہو۔
سوالات:
س1: روزے کی تعریف بتائیں۔
س2: رمضان کے روزے کی فرضیت کی دلیل بیان کریں۔
س3: نیچے دی گئی عبارتوں میں سے ہر فقرے کے صحیح جواب کا انتخاب کریں:
1- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (نو رمضان - دس رمضان - سات رمضان) کے روزے رکھے۔
ب- ماہ رمضان کا روزہ (ہجرت کے دوسرے سال - ہجرت کے چوتھے سال - ہجرت کے نویں سال) فرض ہوا۔
ج- رمضان کے روزے کی شرطوں میں سے ایک شرط (سال کا گزرنا - عقل - تمییز) ہے۔
د- ماہ رمضان کا آغاز ثابت ہوتا ہے (شوال کے تیس دن پورے کرنے - شعبان کے تیس دن پورے کرنے - شعبان کے انتیس دن پورے کرنے) سے۔
س 4: ماہ رمضان کا آغاز دو میں سے کسی ایک چیز سے ہوتا ہے، انہیں دلیل کے ساتھ بیان کریں۔
س5: درج ذیل کا حکم بیان کریں:
الف- رمضان کے روزے کی نیت رات میں کرنا۔
ب- نفل روزے کی نیت دن میں کرنا۔
س6: واجب اور غیر واجب روزے کی مثال دیں۔
سولھواں سبق
رمضان کے روزے کے بعض احکام
وہ لوگ جن کے لیے رمضان میں روزہ چھوڑنا جائز ہے:
اسلام چوں کہ ایک آسان اور کشادگی کا حامل مذہب ہے، اس لیے عذر شرعی رکھنے والے لوگوں کو روزہ چھوڑنے کی اجازت دی ہے۔ مثلا :
1- مریض۔
2- مسافر۔
جس مریض کے لیے روزہ رکھنا مشکل ہو اس کے لیے اور اسی طرح مسافر کے لیے رمضان میں روزہ چھوڑنا جائز ہے، لیکن دونوں پر قضا واجب ہے؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "...پس تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وه اور دنوں میں گنتی کو پورا کر لے...۔" [سورہ بقرہ: 184]۔
3- جو شخص بہت زیادہ عمر دراز ہونے یا ایسے مرض کی وجہ سے جس کے زائل ہونے کی امید نہ ہو، روزہ رکھنے سے عاجز ہو، وہ روزہ نہيں رکھے گا اور ہر دن کے بدلے میں ایک ایک مسکین کو کھانا کھلا دے گا۔ اس کی دلیل اللہ سبحانہ کا یہ فرمان ہے: "...اور اس کی طاقت رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا دیں..." [سورہ بقرہ: 184]۔
روزے کی قضا :
جس نے رمضان کے دن میں روزہ چھوڑ دیا، اس پر ان چھوڑے ہوئے روزوں کی قضا واجب ہے، الا یہ کہ وہ بڑھاپے کی وجہ سے یا ایسی بیماری کی وجہ سے جس کے ختم ہونے کی امید نہ ہو، روزہ رکھنے سے عاجز ہو، تو اس پر قضا واجب نہیں، بلکہ اس پر صرف کفارہ واجب ہے۔
روزوں کی قضا میں جلدی کرنا اور انہیں مسلسل رکھنا مستحب ہے، لیکن متفرق طور پر رکھنا بھی جائز ہے۔
روزہ چھوڑنے والے کے لیے قضا کو دوسرے رمضان سے پہلے تک مؤخر کرنا جائز ہے۔ اگر کسی عذر کی وجہ سے دوسرے رمضان تک مؤخر کرے تو گناہ گار نہیں ہوگا۔ صرف قضا واجب ہوگی۔ لیکن اگر بلا کسی عذر کے مؤخر کرے، تو ایسا کرنا حرام ہے۔ لہذا اس پر توبہ کرنا، چھوڑے ہوئے روزوں کی قضا کرنا اور ہر دن کے بدلے ایک ایک مسکین کو کھانا کھلانا واجب ہو گا۔
روزہ توڑ دینے والی چیزیں:
1- رمضان کے دن میں جان بوجھ کر کھانا اور پینا۔ جو شخص بھول کر یا مجبور کیے جانے پر کھا پی لے، اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
2۔ سینگی کے ذریعہ خون نکالنا [18] یا (علاج وغیرہ کے لیے) زیادہ مقدار میں کھینچ کر خون نکالنا۔ البتہ اگر خون تھوڑا ہو تو اس سے روزہ متاثر نہیں ہوتا۔ مثلاً نکسیر پھوٹنا، یا دانت نکالنے، زخم لگنے یا خون کی جانچ کروانے کے مقصد سے خون نکالنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [18] یعنی: کسی آلے اور خاص طریقے سے جسم سے خون نکالنا۔
3- عمداً قے کرنا۔ یعنی معدہ میں جو کچھ کھانا یا پانی ہے اسے منہ کے ذریعے باہر نکالنا۔ اگر کسی کو بلا اختیار قے آ جائے تو اس سے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
4- پیٹ کے اندر کسی چیز کو داخل کرنا، خواہ وہ منہ کے راستے سے ہو یا کسی اور راستے سے۔ جیسے غذائی انجکشن لگانا اور روزہ دار کو خون چڑھانا۔
جس نے روزہ توڑ دینے والے ان کاموں میں سے کوئی کام کیا، اس کا روزہ فاسد ہوجائے گا۔ اور اگر اس کا روزہ واجب تھا، تو اس پر قضا لازم ہوگی۔
* اگر آپ کسی کو رمضان میں دن کے وقت بھول کر کھاتے یا پیتے دیکھیں تو اسے یاد دلائیں اور کھانے یا پینے کا سلسلہ جاری نہ رکھنے دیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "...نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہو اور گناه اور ظلم و زیادتی میں مدد نہ کرو..." [سورہ مائدہ: 2]۔
* روزے دار کے لیے کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرنا مکروہ ہے، کہ پانی کہیں اس کے پیٹ میں نہ چلا جائے۔
سوالات:
س1 : ان لوگوں کا ذکر کریں جنہیں رمضان میں روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے۔
س2 : درج ذیل خالی جگہوں کو پر کریں:
ا- انسان کبھی کبھی ........................................... یا ........................................... کی وجہ سے روزہ رکھنے سے عاجز ہو جاتا ہے۔
ب- ایسے مریض کے لیے روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے......................................................................................
ج- جس نے کسی شرعی عذر کی وجہ سے روزہ چھوڑا اس پر ..................................................................................... واجب ہے۔
سوال 3 : روزہ توڑ دینے والی تین چیزیں بتائيں۔
س4: صحیح یا غلط (×) کے ذریعہ جواب دیں اور غلطی درست کریں:
الف- جو شخص بھول کر کھا پی لے، اس کا روزہ فاسد ہوجاتا ہے۔
ب۔ اگر روزے دار کے جسم سے زیادہ خون نکالا جائے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
ج- روزے دار کے لیے کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ سے کام لینا مستحب ہے۔
د- اگر آپ کو بلا اختیار قے آ جائے تو آپ کا روزہ فاسد ہو جائے گا۔
س5 : صحیح جواب کے گرد دائرہ بنائیں:
1- جب آپ کسی کو رمضان کے دن میں کھاتے یا پیتے دیکھیں:
1- میں اسے کھانے پینے دوں گا، کیونکہ اسے اللہ ہی نے کھلایا اور پلایا ہے۔
2- اسے یاد دلاؤں گا کہ وہ روزے سے ہے۔
3- میں اس پر توجہ نہیں دوں گا۔
ب- کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ سے کام لینا مکروہ ہے:
1- ہر وضو میں۔
2- غسل جنابت میں۔
3- روزے میں۔
سترھواں سبق:
روزے کے آداب
ماہ رمضان میں روزے دار کو کچھ آداب کا خیال رکھنا چاہیے۔ ان میں سے کچھ آداب واجب ہیں اور کچھ مستحب۔ آداب یہ ہیں:
1- روزے دار اور غیر روزے دار پر جھوٹ، غیبت، چغل خوری اور گالی گلوچ سے بچنا واجب ہے، کیونکہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: ’’جو شخص جھوٹ بولنے، اس پر عمل کرنے اور جہالت سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ کو اس بات کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ وہ اپنا کھانا اور پینا چھوڑدے۔‘‘[19] [19] اس حدیث کو بخاری نے کتاب الادب، باب: قول الله تعالى: (...وَٱجۡتَنِبُواْ قَوۡلَ ٱلزُّورِ)، حدیث نمبر (6057) کے تحت، ابو داود نے کتاب الصوم، باب: الغِيبَة لِلصّائم، حدیث نمبر (2362) کے تحت اور ترمذی نے کتاب الصَّوم، باب: ما جاء في التَّشدِيد في الغِيبَة لِلصّائم، حدیث نمبر (707) کے تحت روایت کیا ہے۔ الفاظ بخاری کے ہيں۔
2- روزے دار کے لیے درج ذیل امور مستحب ہیں:
أ- زیادہ سے زیادہ مختلف اقسام کی عبادتیں جیسے قرآن کی تلاوت، ذکرِ الٰہی، نیکی کے کاموں میں خرچ کرنے اور نمازِ تراویح ادا کرنے وغیرہ میں مشغول رہنا۔
ب- اگر کوئی برا بھلا کہے تو یہ کہہ دینا: ’’بھئی میں ایک روزے دار آدمی ہوں۔‘‘ [20] [20] اسے بخاری نے کتاب الصوم، باب: هل يقول: إنِّي صائِم إذا شُتِم (کیا کوئی برا بھلا کہے تو وہ یہ کہے کہ میں روزے سے ہوں)، میں حدیث نمبر (1904) کے تحت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ’’چنانچہ اگر کوئی اس کے ساتھ گالی گلوچ کرے یا اس سے لڑنے پر آمادہ ہو تو کہہ دے کہ میں تو روزے دار ہوں‘‘۔
ج- سحری میں تاخیر کرنا اور افطار میں جلدی کرنا۔
د- رُطَب (تر کھجور) سے روزہ افطار کرنا۔ اگر یہ نہ ملے تو خشک کھجور سے کرے۔ اگر یہ بھی نہ ملے تو پانی سے کرے۔
ہ۔ افطار کے وقت دعا کرنا، کیونکہ روزہ دار کے لیے ایک دعا ہے جو رد نہیں کی جاتی۔ ان دعاؤں میں سے ایک یہ ہے : ’’پیاس چلی گئی، رگیں تر ہوگئیں اور اگر اللہ نے چاہا تو اجر ثابت ہو گیا۔‘‘ [21] [21] سنن ابو داود، کتاب الصوم، باب: القول عند الإفطار، حدیث نمبر: (2357)، حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔
* مسلمان کو چاہیے کہ وہ ماہِ رمضان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نیکیوں کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرے، جن میں اس مہینے میں کثرت سے قرآن کی تلاوت کرنا، مسلمانوں کے ساتھ نمازِ تراویح کی ادائیگی کی پابندی کرنا اور عمرہ کرنا شامل ہیں۔نیک کاموں سے غافل ہو کر خود کو ایسے کاموں میں مشغول نہ کرلے جن سے اسے دین یا دنیا میں کوئی فائدہ حاصل نہ ہو۔
سوالات:
س1: غیبت اور چغل خوری کا کیا حکم ہے؟
س2: روزہ صرف کھانے اور پینے کو ترک کرنے کا نام نہیں ہے، اس کی دلیل بیان کریں۔
سوال 3: ایسے نیک اعمال کی تین مثالیں بیان کریں، جو روزے دار کو بہ کثرت کرنی چاہئيں۔
س4: روزے دار کیا کہے:
الف- اگر کوئی اسے گالی گلوچ کرے: .................................... .................................... ....................................
ب- افطار کرتے وقت: .................................... .................................... ....................................
س4: صحیح، یا غلط (×) کے ذریعہ جواب دیں اور غلطی درست کریں:
الف- سحری میں جلدی کرنا اور افطار میں تاخیر کرنا مستحب ہے۔
ب- رُطَب (تر کھجور) سے روزہ افطار کرنا مستحب ہے۔
اٹھارہواں سبق [22]
[22] ان ایام میں روزے کی فضیلت پر متعدد احادیث دلالت کرتی ہیں، جن میں سے چند حدیثیں یہاں ملاحظہ ہوں : عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : ”اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن بغیر روزے کے رہا کرتے تھے۔“ اسے بخاری نے حدیث نمبر (1979) اور مسلم نے حدیث نمبر (1159) کے تحت روایت کیا ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ: میرے خلیل ﷺ نے مجھے تین باتوں کی وصیت فرمائی ہے: ہر مہینے تین روزے رکھنے کی، چاشت کی دو رکعتیں پڑھنے کی اور سونے سے پہلے وتر ادا کرنے کی۔ اسے بخاری نے حدیث نمبر(1981) اور مسلم نے حدیث نمبر (721) کے تحت روایت کیا ہے۔ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! آپ اس قدر روزے رکھتے ہیں کہ لگتا ہے کبھی بغیر روزے کے نہیں رہیں گے، اور اس قدر بغیر روزے کے رہتے ہیں کہ لگتا ہے کبھی روزہ نہیں رکھیں گے، سوائے دو دنوں کے کہ اگر وہ آپ کے روزوں کے ایام میں آ جائیں (تو ٹھیک ہے) ورنہ آپ ان کا الگ سے روزہ رکھتے ہیں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”وہ کون سے دو دن ہیں؟“ میں نے عرض کیا: پیر کا دن اور جمعرات کا دن۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ دو دن ایسے ہیں جن میں رب العالمین کے سامنے اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔ لہٰذا میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرا عمل اس حال میں پیش کیا جائے کہ میں روزے سے ہوں۔“ اسے امام نسائی نے اپنی سنن میں حدیث نمبر (2358) کے تحت روایت کیا ہے۔ ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے رمضان کے روزے رکھے، پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے، تو یہ ہمیشہ روزہ رکھنے جیسا ہے۔“ اسے مسلم نے حدیث نمبر (1164) کے تحت روایت کیا ہے۔ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”عرفہ کے دن کے روزے کے متعلق مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ اسے پچھلے سال اور اگلے سال کے گناہوں کا کفارہ بنا دے گا، اور عاشورا کے دن کے روزے کے متعلق مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ اسے پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ بنا دے گا۔“ اسے مسلم نے حدیث نمبر (1162) کے تحت روایت کیا ہے۔
نفل روزے
نفل روزہ رکھنا اور زیادہ سے زیادہ رکھنا مسنون ہے، کیونکہ اس میں اجرِ عظیم اور بڑی فضیلت ہے۔ نبی ﷺ کی سنت میں کچھ مخصوص ایام کے روزے رکھنے کی ترغیب آئی ہے، جن میں سے چند ایام یہ ہیں:
1- ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ نہ رکھنا۔ یہ سب سے افضل نفل روزہ ہے۔
2۔ ہر مہینے میں تین روزے۔ افضل یہ ہے کہ یہ ایام بیض [23] میں رکھے جائیں۔ ایام بیض سے مراد (ہجری مہینے کی) تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخ ہے۔ [23] انہیں "بیض" اس لیے کہا گیا ہے کہ ان کی راتیں چاندنی سے روشن ہوتی ہیں۔
3- سوموار اور جمعرات کے روزے۔
4- شوال کے چھ روزے۔
5- یوم عاشورا کا روزہ۔ اس سے مراد ماہِ محرم کا دسواں دن ہے۔ اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کا بھی روزہ رکھنا مسنون ہے۔
6- غیر حجاج کے لیے یوم عرفہ کا روزہ۔
سوالات:
س1: ان دنوں کے نام بتائيں جن میں روزہ رکھنا مستحب ہے۔
س2: خالی جگہوں کو پر کریں:
1- افضل ترین روزہ .................................... .................................... ......................... ہے۔
2- ایام بیض یہ ہیں: .................................... .................................... ....................................
انیسواں سبق
حج و عمرہ
حج کا حکم :
حج اسلام کا ایک رکن اور اس کے فرائض میں سے ایک فریضہ ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر فرض کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "...اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر جو اس کی طرف راه پا سکتے ہوں اس گھر کا حج فرض کر دیا ہے۔..." [سورہ آل عمران : 97]۔ جب کہ سنت سے دلیل عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی وہ حدیث ہے، جسے حدیث جبریل کہا جاتا ہے۔ اس میں ہے کہ جبریل نے پوچھا : اے محمد! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے، تو رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا : "اسلام یہ ہے کہ آپ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا معبودِ برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کریں، زکوٰۃ دیں، رمضان کے روزے رکھیں اور اگر استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کریں۔" [24] [24] صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب: بيان الايمان والاسلام والاحسان، حدیث نمبر: (1)۔
* حج زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے۔
حج ہجرتِ نبوی (علیٰ صاحبہا افضل الصلاۃ والسلام) کے نویں سال فرض ہوا۔ نبی ﷺ نے ایک ہی حج کیا، جسے حجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔
عمرے کا حکم :
عمرہ زندگی میں ایک مرتبہ واجب ہے۔
حج و عمرے کے وجوب کی شرطیں:
1- اسلام، لہذا کافر پر واجب نہیں ہے۔
2- عقل، لہذا پاگل پر واجب نہیں ہوتا۔
3- بلوغت، لہذا نا بالغ پر واجب نہیں ہوتا۔
4- استطاعت، یعنی زادِ راہ اور سواری موجود ہو، مکہ تک کا راستہ محفوظ ہو اور عورت کے لیے ایک مزید شرط یہ ہے کہ اس کے ساتھ محرم [25] موجود ہو۔ [25] عورت کا محرم: اس کا خاوند یا ہر وہ شخص ہے جس پر اس سے نکاح قرابت کی وجہ سے حرام ہو، جیسے اس کا باپ، بیٹا، ماموں وغیرہ، یا رضاعت کی وجہ سے حرام ہو، جیسے اس کا رضاعی بھائی۔
سوالات:
س1: حج ایک فریضہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر فرض کیا ہے، اس پر کتاب و سنت سے دلیل بیان کریں۔
سوال 2 : صحیح جواب کے نیچے خط کھینچ کر اس کا انتخاب کریں :
الف- حج سن (9 - 10 - 2) ہجری میں فرض ہوا۔
ب- حج واجب ہے (ہر سال - عمر میں دو بار - عمر میں ایک بار)۔
ج- عمرہ فرض ہے (سال میں ایک بار - عمر میں دو بار - عمر میں ایک بار)۔
سوال 3 : حج و عمرہ کے وجوب کی شرطیں بیان کریں۔
بیسواں سبق
میقات حج و عمرہ
مواقیت کی دو قسمیں ہیں: مواقیتِ زمانیہ اور مواقیتِ مکانیہ۔
اول : زمانی مواقیت :
حج کے زمانی میقات سے مراد حج کے مہینے ہیں، جو یہ ہیں:
1- ماہِ شوال۔ 2- ماہِ ذوالقعدہ۔ 3- عشرۂ ذی الحجہ (ذی الحجہ کے دس دن)۔
جہاں تک عمرہ کی بات ہے، تو اس کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے، بلکہ اسے سال کے کسی بھی وقت ادا کیا جاسکتا ہے۔
دوم : میقاتِ مکانی :
یہ وہ مقامات ہیں جہاں سے مسلمان حج یا عمرہ کے لیے احرام باندھتے ہیں۔ یہ مواقیت درج ذیل ہیں:
1- ذو الحلیفہ، جسے اب (ابیار علی) کہا جاتا ہے۔ یہ اہل مدینہ کا میقات ہے۔
2- قرن المنازل، جسے اب (سیل کبیر) کہا جاتا ہے۔ یہ اہل نجد اور طائف کا میقات ہے۔
3- جحفہ، یہ اہلِ شام، مصر اور مغرب کا میقات ہے۔ اب لوگ (رابغ) سے احرام باندھتے ہیں۔
4- یلملم۔ اب اسے سعدیہ کہا جاتا ہے۔ یہ اہل یمن کا میقات ہے۔
5- ذات عرق، یہ اہل عراق کی میقات ہے۔ اب اسے ضریبہ کہا جاتا ہے۔
* جو شخص حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتا ہو، اس کے لیے بغیر احرام کے ان میقاتوں کو عبور کرنا جائز نہیں۔
* ان مقامات سےوہاں کے رہنے والے وہ لوگ احرام باندھتے ہیں جن کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے۔ اسی طرح جو شخص ان کا باشندہ نہ ہو اور ان مقامات سے گزرے اور حج یا عمرہ کرنا چاہے، وہ بھی وہیں سے احرام باندھے گا۔
* جس کا گھر مکہ اور ان میقاتوں کے درمیان ہو، وہ اپنے مقام سے احرام باندھے گا۔
* اہلِ مکہ حج کے لیے مکہ سے احرام باندھیں گے، لیکن عمرہ کے لیے وہ حِل، یعنی حدودِ حرم سے باہر جاکر احرام باندھیں گے، جیسے تنعیم اور جعرانہ وغیرہ سے ۔
* جس شخص کا راستہ ان میقاتوں میں سے کسی پر سے نہ گزرتا ہو، وہ اپنے قریب ترین میقات کے برابر آنے پر احرام باندھے۔ مذکورہ بالا تمام باتوں کی دلیل حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث ہے: نبی کریم ﷺ نے اہلِ مدینہ کے لیے "ذو الحُلیفہ"، اہلِ شام کے لیے "جُحفہ"، اہلِ نجد کے لیے "قرن المنازل" اور اہلِ یمن کے لیے "یَلَملَم" کو میقات مقرر فرمایا۔ یہ (میقات) خود ان مقامات والوں کے لیے اور ان کے علاوہ ان سب لوگوں کے لیے بھی ہیں، جو حج یا عمرہ کی نیت سے ان سے گزریں۔ جو شخص ان میقاتوں کے اندر ہو، وہ وہیں سے احرام باندھے جہاں سے روانہ ہو، یہاں تک کہ اہلِ مکہ بھی مکہ سے احرام باندھیں۔ [26] [26] صحیح بخاري، كتاب الحجّ، باب: مَهِلّ أهلِ اليَمَن، حدیث نمبر (1530)، اور صحیح مسلم، كتاب الحجّ، باب: مَواقِيت الحجّ، حدیث نمبر (1181)۔
سوالات:
س1: حج کے زمانی مواقیت بیان کریں۔
س2: نمبر نقل کر کے اسے مناسب جگہ پر لکھیں:
نمبر
میقات
نمبر
جو شخص اس سے احرام باندھے
1
قرن المنازل
اہلِ مصر اور شام
2
ذو الحلیفہ
اہلِ یمن
3
جُحْفہ
اہلِ نجد
4
یَلَمْلَم
اہلِ مدینہ
5
ذات عِرق
اہلِ عِراق
س3: اہل مکہ حج اور عمرہ کے لیے کہاں سے احرام باندھیں گے؟ دلیل بھی ذکر کریں۔
س 4: اہلِ جدّہ حج اور عمرہ کے لیے کہاں سے احرام باندھیں گے؟ دلیل بھی ذکر کیجیے۔
اکیسواں سبق [27]
[27] - احرام کا مطلب: نسک (حج یا عمرہ کے اعمال) میں داخل ہونے کی نیت کرنا ہے۔ اس سے لباسِ احرام زیب تن کرنا مراد نہیں ہے، جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں۔ لہذا نسک میں داخل ہونے کی نیت کے بغیر محض سلے ہوئے کپڑے اتار دینے اور لباسِ احرام زیب تن کر لینے سے کوئی شخص محرم نہیں بنتا۔ معلم ازار اور رداء سے مراد واضح کرے، اور عملی طور پر احرام کا طریقہ بتائے۔
احرام
احرام: حج یا عمرہ کے اعمال میں داخل ہونے کی نیت کرنا۔
النُّسُك: اس کا اطلاق حج یا عمرہ کے اعمال پر ہوتا ہے۔
احرام کا حکم:
یہ حج اور عمرہ کے ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ لہٰذا جو شخص حج یا عمرہ کرنا چاہے، اس پر میقات سے احرام باندھنا واجب ہے۔
احرام میں مستحب امور:
جو شخص حج یا عمرہ کے احرام کا ارادہ کرے اس کے لیے درج ذیل امور مستحب ہیں:
1- غسل اور صاف صفائی کرنا۔
2- جسم میں خوشبو لگانا۔ البتہ لباس میں خوشبو نہيں لگائے گا۔
3. مرد کے لیے سفید اور صاف ستھرے تہبند اور چادر پہننا۔ عورت کسی بھی لباس میں احرام باندھ سکتی ہے، بشرطیکہ اس میں مردوں سے مشابہت یا زیب و زینت نہ ہو۔
احرام باندھنے کا طریقہ:
سلے ہوئے کپڑے اتار دے اور احرام کے کپڑے پہنے، پھر حج یا عمرہ، جس کا ارادہ رکھتا ہو، اس میں داخل ہونے کی نیت کرے۔ اگر حج کا ارادہ رکھتا ہو تو (لَبَيْك حَجًّا) کہے۔ اور اگر عمرہ کا ارادہ رکھتا ہو تو (لَبَيْك عُمْرَة) کہے۔
پھر تلبیہ کہنا شروع کرے۔ تلبیہ یہ ہے: "لَبَّيْك اللَّهُمَّ لَبَّيْك، لَبَّيْك لا شَرِيكَ لك لَبَّيْك، إنَّ الحمدَ والنِّعمَة لك والـمُلْك، لا شَرِيك لك۔" (میں حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں۔ میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک وساجھی نہیں، میں حاضر ہوں، بے شک تمام تعریفیں، سبھی نعمتیں اور تمام بادشاہت تیری ہے، تیرا کوئی شریک وساجھی نہیں"۔ تلبیہ کثرت سے کہنا اور مردوں کے لیے بلند آواز سے تلبیہ کہنا مستحب ہے، جب کہ عورتوں کے لیے دھیمی آواز سے تلبیہ کہنا مستحب ہے۔
سوالات:
س1: احرام سے کیا مراد ہے؟
س2: میقات سے احرام باندھنے کا کیا حکم ہے؟
س3: حج یا عمرہ کا احرام باندھنے کا ارادہ رکھنے والے کے لیے چند امور مستحب ہیں، انہیں ذکر کریں۔
س4: جو شخص حج کرنا چاہے تو وہ کیسے احرام باندھے؟
س5: تلبیہ کے الفاظ کیا ہیں؟
س6: تلبیہ میں مستحب امور کیا ہیں، بیان کریں۔
بائیسواں سبق [28]
[28] - سلے ہوئے لباس سے یہ مراد نہیں ہے کہ اس میں سلائی کی گئی ہو، بلکہ اس سے مراد ایسا لباس ہے جو کسی عضو کے مطابق سلا گیا ہو، جیسے قمیص، اوورکوٹ (کوٹ)، پاجامہ وغیرہ۔ اسی لیے دھاگوں وغیرہ سے سلے ہوئے جوتے پہننا جائز ہے۔ - سر ڈھانپنا اور سلا ہوا لباس پہننا مردوں کے لیے ممنوع ہے، عورتوں کے لیے نہیں۔ - شکار سے مراد خشکی کا ایسا جانور ہے جس کا گوشت کھایا جاتا ہو۔ لہٰذا اس سے پالتو جانور جیسے اونٹ وغیرہ خارج ہو جاتے ہیں۔ یہاں یہ واضح رہے کہ سمندری شکار جائز ہے۔
ممنوعاتِ احرام اور ان کا فدیہ
جب مسلمان حج یا عمرہ کا احرام باندھ لیتا ہے، تو اس کے لیے بعض کام ممنوع ہو جاتے ہيں۔ ان کاموں کو (محظوراتِ احرام) کہا جاتا ہے۔ جو شخص ان میں سے کوئی کام جان بوجھ کر کرلے، اس پر فدیہ لازم ہے۔
بہاں بعض محظورات اور ان کا فدیہ بیان کیا جا رہا ہے:
ممنوع۔
فدیہ
1- بال منڈوانا
2- ناخن تراشنا
3- سر سے چپکی ہوئی کسی چیز سے سر ڈھانپنا
4- سلا ہوا لباس پہننا
5- بدن یا لباس پر خوشبو لگانا
ان پانچ ممنوعات میں سے کسی ایک کا ارتکاب کرنے والے کو درج ذیل تین امور میں کسی ایک کو چننے کا اختیار ہے:
1- تین دن کے روزے رکھے۔
2- چھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ ہر مسکین کو نصف صاع کھانا جیسے (گیہوں یا چاول) یا اس جیسی کوئی چیز۔
3- ایک بکری ذبح کرے۔
6- شکار کو قتل کرنا اور اس کا شکار کرنا
جس شخص نے شکار کو قتل کیا یا اس کا شکار کیا، اسے تین امور میں سے کسی ایک کو چننے کا اختیار ہے:
1- شکار کے مثل کسی چوپایے کو ذبح کرنا۔
2- (شکار کیے گئے جانور کے) مشابہ جانور کی قیمت درہموں میں مقرر کرکے اور اس سے کھانا خرید کر مساکین میں اس طرح تقسیم کر دینا کہ ہر مسکین کو ایک ایک مد دیا جائے۔
3- ہر مد کے بدلے ایک ایک دن کا روزہ رکھنا۔ (مد : صاع کا چوتھائی حصہ ہوتا ہے)۔
سوالات:
س1: احرام کے تین محظورات بیان کریں:
س2: اگر محرم اپنے بال مونڈ لے تو اس پر کیا فدیہ واجب ہے؟
س3: اگر محرم کوئی شکار کرے تو اس پر کیا فدیہ واجب ہے؟
تئیسواں سبق
حج و عمرہ کے ارکان
رقم
حج کے ارکان
رقم
حج کے واجبات
1
احرام
1
میقات سے احرام باندھنا
2
وقوفِ عرفہ
2
غروبِ شمس تک وقوفِ عرفہ
3
طواف افاضہ (طواف زیارت)
3
نحر کی رات مزدلفہ میں قیام کرنا
4
سعی
4
ایام تشریق کی راتوں کو منیٰ میں قیام کرنا
5
جمرات کو کنکریاں مارنا
6
سر کے بال منڈوانا یا چھوٹے کروانا
7
طوافِ وداع
رقم
عمرہ کے ارکان
رقم
عمرہ کے واجبات
1
احرام
1
میقات سے احرام باندھنا
2
طواف
2
سر کے بال منڈوانا یا کٹوانا
3
سعی
3
* جس نے حج یا عمرہ کے ارکان میں سے کوئی رکن ترک کردیا، تو اس کا حج اور عمرہ پورا نہیں ہوگا جب تک کہ اسے ادا نہ کر لے۔ اور جس نے کوئی واجب ترک کردیا، اس پر دم لازم ہے۔
سوالات:
س1: مناسب جگہ پر نشان لگائیں:
ارکان
صرف حج کا ایک رکن
صرف عُمرہ کا ایک رکن
حج و عمرہ کا ایک رکن
احرام
وقوفِ عرفہ
طواف افاضہ
سعی
واجبات
صرف حج میں واجب ہے
صرف عمرہ میں واجب
حج اور عمرہ میں واجب
میقات سے احرام باندھنا
غروبِ شمس تک وقوفِ عرفہ
قربانی کی شب مزدلفہ میں قیام کرنا
ایام تشریق کی راتوں میں منیٰ میں قیام کرنا
کنکر مارنا
سر کے بال منڈوانا یا چھوٹے کروانا
طوافِ وداع
سوال 2 : مندرجہ ذیل اعمال میں سے کوئی ایک عمل ترک کرنے والے کا کیا حکم ہے:
الف- وقوفِ عرفہ۔
ب- جمرات کو کنکری مارنا۔
ج- سعی۔
د- طواف افاضہ۔
ہ- طوافِ وداع۔
چوبیسواں سبق [29]
[29] استاد درج ذیل امور بیان کرے: 1- حجرِ اسود طواف کی ابتدا اور انتہا ہے۔ - حجرِ اسود کو بوسہ دینا سنت ہے۔ ہم نبی ﷺ کی اقتداء میں اسے بوسہ دیتے ہیں، جیسا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث میں ہے کہ وہ حجرِ اسود کے پاس آئے اور اسے بوسہ دیا اور پھر فرمایا: "بے شک میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے جو نہ نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع دے سکتا ہے۔ اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے ہرگز بوسہ نہ دیتا"۔ صحیح بخاری، کتاب الحج، باب: ما ذکر فی الحجر الاسود، حدیث نمبر (1597)۔ 2- ملتزم حجرِ اسود اور کعبہ مشرفہ کے دروازے کے درمیانی حصے کو کہتے ہیں۔ یہ تقریباً چار ہاتھ کی مقدار کے برابر ہے۔ 3- شاذَرْوان: یہ وہ حصہ ہے جو کعبہ مشرفہ کی دیوار سے باہر تقریباً دو تہائی ہاتھ کے برابر نکلا ہوا ہے اور اس پر طواف کرنا درست نہیں ہے؛ کیونکہ یہ کعبہ ہی کا حصہ ہے۔ 4- مقامِ ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی تعمیر کی تھی، جب کہ اسماعیل علیہ الصلاۃ والسلام انہیں پتھر پکڑا رہے تھے۔ - ہر طواف کے بعد مقامِ ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھنا سنت ہے۔ اس کی دلیل نبی ﷺ کے حج کے طریقے کے متعلق جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ہے: "پھر آپ مقامِ ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی طرف بڑھے اور یہ آیت تلاوت فرمائی: (وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّی)۔ پھر آپ نے مقامِ ابراہیم کو اپنے اور بیت اللہ کے درمیان رکھا۔ آپ ان دونوں رکعتوں میں (قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ) اور (قُلۡ يَٰٓأَيُّهَا ٱلۡكَٰفِرُونَ) پڑھتے تھے"۔ صحیح مسلم، کتاب الحج، باب: حجة النبي ﷺ، حدیث نمبر (1218)۔ 5- حطیم کے اندر سے طواف کرنا درست نہیں ہے؛ کیونکہ یہ کعبہ کا حصہ ہے اور نبی ﷺ نے حطیم کو شامل کر کے (اس کے باہر سے) طواف کیا تھا اور فرمایا تھا: "تم اپنے حج کے مناسک (طریقے) مجھ سے سیکھ لو"۔ صحیح مسلم، کتاب الحج، باب: استحباب رمي جمرة العقبة، حدیث نمبر (1297)۔ 6- رکنِ یمانی کا صرف استلام کرنا (چھونا) سنت ہے۔ نہ اسے بوسہ دیا جائے گا اور نہ ہی اس کی طرف اشارہ کیا جائے گا۔ 7- رکنِ یمانی اور حجرِ اسود کے درمیان یہ دعا پڑھے: "رَبَّنا آتِنا في الدُّنيا حَسَنَةً، وفي الآخِرَةِ حَسَنَةً، وقِنا عَذابَ النّارِ"۔
عمرہ کا طریقہ
جسے عمرہ ادا کرنا ہو، وہ درج ذیل کام کرے:
1- جب میقات پر پہنچے تو غسل کرے، صاف ستھرا ہو جائے، احرام کے کپڑے زیب تن کرے، پھر عمرہ کا احرام باندھے اور کہے: "لَبَّيْكَ عُمْرَةً"۔ پھر تلبیہ کہنا شروع کر دے اور اس وقت تک کہتا رہے، جب تک طواف شروع نہ کر دے۔
2- جب حرم پہنچے تو عمرہ کے طواف سے آغاز کرے اور خانۂ کعبہ کا سات مرتبہ طواف کرے۔
عمرہ کا طریقہ: آغاز حجر اسود سے کرے، ممکن ہو تو اس کا بوسہ لے یا استلام کرے یا اس کی طرف اشارہ کرے اور یہ کہے: "بسم اللهِ، والله أكبر (اللہ کے نام سے اور اللہ سب سے بڑا ہے)"۔ پھر کعبہ کو اپنی بائيں جانب کر کے اس کا طواف کرے، یہاں تک کہ دوبارہ حجر اسود کے پاس پہنچ جائے۔ اس طرح پہلا چکر مکمل ہو جائے گا۔ پھر اسی طرح سات چکر مکمل کر لے۔ اس دوران جب بھی حجر اسود کے سامنے آئے، تو اس کا بوسہ لے یا استلام کرے۔ اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو اپنے دائیں ہاتھ سے اس کی طرف اشارہ کرے اور کہے: "اللہ سب سے بڑا ہے"۔ جب کہ رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان یہ دعا پڑھے: "رَبَّنا آتِنا في الدُّنْيا حَسَنَةً وفي الآخِرَةِ حَسَنَةً وقِنا عَذابَ النّارِ (اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا)"۔
3- پھر اگر ممکن ہو تو مقام ابراہیم علیہ السلام کے پیچھے دو رکعت نماز ادا کرے۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو حرم کے کسی بھی حصہ میں نماز ادا کرلے۔
4- پھر مسعیٰ کی طرف بڑھے اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کے سات چکر لگائے۔ سعی کی ابتدا صفا سے کرے اور اختتام مروہ پر۔ (صفا سے مروہ جانا ایک چکر شمار ہوگا اور مروہ سے صفا واپس آنا دوسرا چکر شمار ہوگا)۔
5- پھر اپنے پورے سر کے بال منڈوائے یا چھوٹے کروائے۔ البتہ حلق کرانا (منڈوانا) افضل ہے۔
جب وہ یہ کام کر لے تو اس کا عمرہ مکمل ہو جائے گا اور اس کے لیے وہ تمام امور جائز ہو جائيں گے جو احرام کی وجہ سے اس پر حرام تھے، جیسے خوشبو لگانا، سلے ہوئے کپڑے پہننا، سر ڈھانپنا، ناخن کاٹنا، اور بال منڈوانا۔
سوالات:
س1: طوافِ بیت اللہ کا طریقہ بیان کریں۔
س2: خالی جگہوں کو پر کریں:
ا- محرم اس وقت تک تلبیہ کہتا رہتا ہے، جب تک ........................................ شروع کر دے۔
ب- طواف کرنے والا ....... ........................................ سے شروع کرے، اسے بوسہ دے یا اسے چھوئے ........................................ اور کہے: ........................................ پھر کعبہ کو ........................................رکھ اس کا طواف کرے، یہاں تک کہ دوبارہ ........................................ کے پاس پہنچ جائے۔ اس سے ایک چکر پورا ہوتا ہے۔
ج- عمرہ کرنے والا ........................................ اور ........................................ کے درمیان سعی کرے۔ سعی ........................................ سے شروع کرے اور ........................................ پر ختم۔
سوال 3 : سعی کا طریقہ بیان کریں۔
پچیسواں سبق
حج کا طریقہ
حج کی اقسام:
حج کی درج ذیل تین قسمیں ہیں:
1- تمتع: تمتع یہ ہے کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کا احرام باندھے اور اس سے فارغ ہو کر اپنے احرام سے حلال ہوجائے، پھر اسی سال حج کا احرام باندھے۔
2- قِران: قران یہ ہے کہ عمرہ اور حج دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھے۔
3- افراد: افراد یہ ہے کہ صرف حج کا احرام باندھے۔
حج کا ارادہ رکھنے والے کے لیے ان تینوں قسموں میں سے کسی کا بھی احرام باندھنا جائز ہے۔ ان تینوں میں سے افضل ترین قسم تمتع ہے۔
تمتع اور قران کی قربانی :
ہدی: ایک پوری بکری، اونٹ کا ساتواں حصہ [30] یا گائے کا ساتواں حصہ، جسے حرم میں ذبح کیا جائے۔ [30] البَدَنَة: اس کا اطلاق نر اور مادہ دونوں اونٹ پر ہوتا ہے۔
- متمتع اور قارن - اگر وہ اہلِ مکہ میں سے نہ ہوں - تو ان پر قربانی واجب ہے، جب کہ مفرد پر قربانی نہیں ہے۔
- جسے قربانی کا جانور نہ ملے وہ دس روزے رکھے: تین ایام حج میں اور سات جب اپنے گھر لوٹ جائے۔
حج تمتع کا طریقہ:
اولاً: عمرہ کی ادائیگی:
حج کے مہینوں میں عمرہ کا احرام باندھے اور اس سے فارغ ہو جائے۔ احرام سے متعلق امور اور عمرہ کے طریقہ کا بیان پہلے گزر چکا ہے۔)
ثانیاً: ذو الحجہ کے آٹھویں دن (یوم ترویہ) کے اعمال [31]۔ [31] اس دن کو یوم الترویہ کہا جاتا ہے؛ کیونکہ اس دن حجاج اتنا پانی بھر لیتے تھے جو ان کے لیے منیٰ اور عرفات میں کافی ہو جائے؛ کیوں کہ اس زمانے میں پانی میسر نہیں ہوتا تھا، لیکن اب اللہ کے فضل و کرم سے پانی بکثرت موجود ہے۔
حاجی آٹھویں ذی الحجہ کو حج کا احرام باندھے اور ’’لَبَيْك حَجًّا‘‘ کہے۔ نویں تاریخ کی رات منیٰ میں گزارے۔
تیسرا: ذو الحجہ کے نویں دن (یوم عرفہ) کے اعمال
نویں تاریخ کو سورج طلوع ہونے کے بعد حاجی منیٰ سے عرفات کے لیے روانہ ہو جائے اور وہاں باقی دن گزارے۔ اس دوران زیادہ سے زیادہ دعا، استغفار، اللہ تعالیٰ کے ذکر اور تلاوتِ قرآن میں مشغول رہے۔ جب سورج غروب ہو جائے تو مزدلفہ کی طرف روانہ ہو جائے اور وہاں رات گزارے، یہاں تک کہ فجر کی نماز ادا کر لے۔ بلا کسی عذر کے فجر سے قبل مزدلفہ سے نہ نکلے۔ عذر والے لوگوں جیسے کمزور عورتیں، بچے اور ان کے ہمراہ جانے والے افراد کی بات الگ ہے۔
رابعاً: ذو الحجہ کے دسویں دن (یوم عید) کے اعمال :
دسویں تاریخ کو، جب صبح خوب روشن ہو جائے تو سورج نکلنے سے پہلے حاجی مزدلفہ سے منیٰ کی طرف روانہ ہو اور جب منیٰ پہنچے تو درج ذیل امور انجام دے:
1- جمرۂ عقبہ کو سات کنکریاں مارے. ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہے۔
2- قربانی کا جانور ذبح کرے۔
3- بال منڈوائے یا کٹوائے۔ منڈوانا افضل ہے۔
4- طواف افاضہ کرے۔
5- صفا و مروہ کے مابین سعی کرے۔
* جمرۂ عقبہ کو کنکری مارنے اور بال منڈوانے یا کٹوانے کے بعد حاجی اپنے احرام سے حلال ہو جاتا ہے۔
پنجم : (ذو الحجہ کے) گیارہویں دن کے اعمال :
گیارہویں تاریخ کو حاجی زوال کے بعد بالترتیب تینوں جمرات کو کنکریاں مارے۔ ہر جمرہ کو سات سات کنکریاں مارے اور ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہے۔ تینوں جمرات یہ ہیں: جمرہ اولیٰ، پھر جمرۂ وسطی، پھر جمرۂ کبریٰ، جسے 'جمرۂ عقبہ' بھی کہا جاتا ہے۔
چھٹا: (ذو الحجہ کے) بارہویں اور تیرہویں دن کے اعمال :
بارہویں اور تیرہویں تاریخ کو حاجی وہی عمل کرے جو گیارہویں تاریخ کو کیا تھا۔ جلد بازی کرتے ہوئے بارہویں تاریخ کو غروبِ آفتاب سے پہلے منیٰ سے نکل جانا بھی جائز ہے۔
ساتواں: ایام تشریق کی راتوں میں منیٰ میں قیام کرنا:
حاجی پر ایام تشریق (یعنی گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں ذی الحجہ) کی راتیں منیٰ میں گزارنا واجب ہے۔
آٹھواں: طوافِ وداع:
جب حاجی مکہ سے نکلنے کا ارادہ کرے، تو اس پر بیت اللہ کا طواف وداع واجب ہے۔
سوالات:
س1: مناسک کی اقسام ذکر کریں اور بتائيں کہ ہدْی کیا ہے اور یہ کس پر واجب ہے؟
س2: متمتع حج کا احرام کس دن باندھے؟
س3: حجاج عرفہ میں کس دن وقوف کرتے ہیں؟ اور وہاں سے کب روانہ ہوتے ہیں؟
س 4: میدانِ عرفات سے نکلنے کے بعد حاجی حضرات کہاں جاتے ہیں؟
س 5: (ذو الحجہ کے) دسویں دن حاجی کون سے اعمال کرتے ہیں؟
س 6: ایام تشریق میں حجاج کون سے اعمال کرتے ہیں؟
عنوان: نصاب تعلیم، علمِ حدیث، درجہ (ہفتم)
مختصر تعارف: یہ تعلیمی مواد مملکتِ سعودی عرب میں طلبہ کے لیے تیار کردہ درسی نصاب کی تلخیص اور خلاصہ ہے۔ اسے مختلف درجات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس مواد میں علمِ فقہ کا بھی مطالعہ شامل ہے، جسے آٹھ (8) درجات میں منقسم کیا گیا ہے۔ (ساتواں درجہ) جن اہم موضوعات پر مشتمل ہے ان میں سے چند یہ ہيں : نبی کریم ﷺ کی چند احادیثِ مبارکہ کی تشریح، جو بہت سے شرعی احکام اور علمی و عملی فوائد پر مشتمل نہایت اہم احادیث میں شمار ہوتی ہیں۔ ان میں وہ احادیث بھی شامل ہیں جو ایمان اور استقامت کا مفہوم بیان کرنے، نماز کا مقام و مرتبہ اور اس کے تارک کا حکم واضح کرنے، نفاق کی علامتوں اور اس کی شاخوں سے خبردار کرنے اور قرآن مجید سیکھنے اور سکھانے کی فضیلت اور اس جیسے دیگر موضوعات سے متعلق ہیں۔ اس شرح کا امتیازی وصف یہ ہے کہ اس کا اسلوب آسان اور عبارت واضح ہے اور اسے ایک مخصوص طریقۂ کار کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔ ہر حدیث کا آغاز اس کے راوی صحابی کے تعارف سے ہوا ہے، پھر مشکل الفاظ اور کلمات کے معانی کی وضاحت کی گئی ہے، اس کے بعد حدیث میں شامل اہم احکام اور ہدایات کو بیان کیا گیا ہے اور آخر میں دلائل اور اہلِ علم کے اقوال ذکر کیے گئے ہیں۔ سبق کے اختتام پر کچھ سوالات بھی دیے گئے ہیں تاکہ سبق کو سمجھنے میں مدد ملے اور طلبہ کی فہم کی سطح جانچی جا سکے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
پہلی حدیث
ایمان اور استقامت:
سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں ایک بات بتا دیں، جس کے بارے میں آپ کے بعد کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے۔ آپ نے کہا : "کہو میں اللہ پر ایمان لایا اور اس پر ثابت قدم رہو۔" اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ [1] [1] صحیح مسلم (1/65)، کتاب الایمان، باب: جامع اوصاف الاسلام، حدیث نمبر: (62)۔
راوی کا تعارف:
یہ جلیل القدر صحابی سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ ہیں۔ انھوں نے نبی ﷺ سے کچھ احادیث روایت کی ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انھیں طائف کے صدقات کا عامل مقرر کیا تھا۔
الفاظ کے معانی:
معانی
الفاظ
اللہ تعالی پر ایمان : اس کی وحدانیت کا اعتقاد رکھنا، تنہا اسی کی عبادت کرنا اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرانا۔
میں اللہ پر ایمان لایا :
استقامت: اوامر کو بجا لانا اور نواہی سے بچنا۔
استقم (استقامت اختيار كرو۔) :
حدیث کی ہدایات :
ایک مسلمان کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ وہ اپنے دین کے ان امور کے بارے میں پوچھے جن سے وہ ناواقف ہے، تاکہ اللہ کی عبادت بصیرت کے ساتھ کر سکے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان باتوں کو سیکھنے کے حریص تھے، جو ان کے دینی امور میں نفع بخش ہوں۔
دین کی اساس اللہ عزوجل پر ایمان رکھنا ہے۔
مسلمان پر واجب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر قائم رہے، اس کے احکام کی تعمیل کرے اور اس کی منع کی ہوئی باتوں سے اجتناب کرے۔
اللہ تعالیٰ بندے کا عمل اس وقت تک قبول نہیں فرماتا، جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لائے اور اس کی اطاعت پر قائم نہ رہے۔
ایمان اور عملِ صالح کو ایک ساتھ جمع کرنے کا واجب ہونا۔
سوالات برائے مناقشہ :
س1- مسلمان کو اپنے دین کے امور سیکھنے کا اہتمام کیوں کرنا چاہیے؟
سوال 2 - استقامت سے کیا مراد ہے؟
س3 : دین کی بنیاد کیا ہے؟
س4- سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ جو کچھ جانتے ہیں بیان کریں۔
سوالات:
س1 : اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "بےشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے، پھر اس پر جمے رہے، تو ان پر نہ تو کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ یہ تو اہل جنت ہیں جو سدا اسی میں رہیں گے، ان اعمال کے بدلے جو وه کیا کرتے تھے۔" [سورہلاحقاف: 13-14]۔
یہ آیت ایمان اور استقامت کے وجوب پر دلالت کرتی ہے۔ اسے واضح کریں۔
آیت ان لوگوں کو ملنے والی جزا پر دلالت کرتی ہے جو ایمان لائے اور استقامت پر قائم رہے۔ بتائيں کہ وہ جزا کیا ہے؟
س2 : صحیح، یا غلط (×) کا نشان لگائیں اور غلطی درست کریں۔
ایک مسلمان پر اللہ کی شریعت پر استقامت اختیار کرنا واجب ہے۔ ( )
پانچ وقت کی نمازیں پابندی سے مسجد میں باجماعت ادا کرنا استقامت میں سے ہے۔ ( )
* والدین کی فرماں برداری کرنا استقامت میں سے ہے ( )۔
* برے الفاظ بولنا استقامت میں سے ہے۔ ( )
* راستے میں گزرنے والوں کو تکلیف دینا استقامت میں سے ہے ( )۔ [2] [2] استاد کے لیے ضروری ہدایات: * استاد کے لیے بہتر ہے کہ وہ استقامت کی بہت سی مثالیں پیش کرے، جیسے: نماز، والدین کی فرمانبرداری، اچھے اخلاق اختیار کرنا اور کتاب اللہ کی تلاوت اور اسے حفظ کرنا وغیرہ۔ * اسی طرح بہتر ہے کہ وہ ایسے افعال کی بھی مثالیں پیش کرے، جو استقامت میں خلل ڈالتے ہیں۔
دوسری حدیث:
بے نمازی کا کافر ہونا :
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو کہتے ہوئے سنا ہے : ''بے شک آدمی اور شرک و کفر کے درمیان (فاصلہ مٹانے والا عمل) نماز کا ترک کرنا ہے''۔ اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ [3] [3] صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب: بیان اطلاق اسم کفر على من ترک الصلاۃ، حدیث نمبر: (82)۔
راوی کا تعارف:
یہ جلیل القدر صحابی جابر بن عبداللہ بن عمرو بن حرام انصاری سُلَمِی ہیں۔ ان کے والدین بھی صحابی ہیں اور مشہور صحابہ رضی اللہ عنہم میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی احادیث کے حفاظ میں سے تھے۔ مسجد نبوی میں ان کا ایک حلقہ تھا، جس میں لوگ ان سے علم حاصل کرنے کے لیے جمع ہوتے تھے۔ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ 19 غزوات میں شرکت کی تھی۔ جابر کہتے ہیں: میں بدر اور احد میں شریک نہیں ہو سکا، مجھے میرے والد نے روک دیا تھا، پھر جب وہ شہید ہو گئے، تو میں پیچھے نہیں رہا۔ سنہ 78 ھ میں وفات پائی۔ رضی اللہ عنہ۔
حدیث کی ہدایات
نماز کی عظمت۔ نماز اسلام کا ستون ہے اور اس کے بغیر دین قائم نہیں رہ سکتا۔
نماز انسان کا سب سے اہم عمل ہے، جس کے ذریعہ وہ اپنے رب جل وعلا کا تقرب حاصل کرتا ہے۔
نماز ہی اسلام اور کفر کے درمیان عملی فرق ہے۔
مسلمان پر واجب ہے کہ نماز کی پابندی کرے اور کسی بھی عمل کو اس پر مقدم نہ رکھے۔
نماز کے دنیا میں بہت سے فوائد ہیں اور آخرت میں عظیم اجر و ثواب ہے۔
سوالات برائے مناقشہ :
س2 - اسلام میں نماز کا مقام کیا ہے؟
سوال 2 : حدیث کی مختصر تشریح کریں۔
س3 : وہ سب سے اہم عملی فریضہ کون سا ہے جس کے ذریعے بندہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا ہے؟
س4 : نماز کے بعض دنیوی فوائد بیان کریں۔
سوالات:
س1 : اگر مسلمان مؤذن کی اذان سنے تو اس پر کیا کرنا واجب ہے؟
س2 : نماز کی اہمیت پر دلالت کرنے والی قرآن کی ایک آیت بیان کریں۔
س3 : مندرجہ ذیل خالی جگہوں کو پر کریں:
دن و رات میں پانچ مرتبہ ادا کیا جانے والا واجب .................... ہے۔
جو شخص جان بوجھ کر ......................... ترک کر دے، وہ کافر ہو جاتا ہے۔
س4- جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے بارے میں آپ جو کچھ جانتے ہیں بیان کریں [4]۔ [4] استاد کے لیے: * سودمند یہ ہوگا کہ معلم نماز کے بہت سے فائدے بیان کرے۔
حدیث نمبر (3)
ذکر کی فضیلت:
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے : ”اس شخص کی مثال جو اپنے رب کا ذکر کرتا ہے اور (اس کی مثال) جو اپنے رب کا ذکر نہیں کرتا ایسے ہے جیسے زندہ اور مردہ شخص۔“ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے [5]۔ [5] صحیح بخاری، کتاب الدعوات، باب: فضل ذکر اللہ عز وجل، حدیث نمبر (6407)۔
راوی کا تعارف:
یہ جلیل القدر صحابی ابو موسیٰ عبد اللہ بن قیس اشعری ہیں۔ وہ مکہ مکرمہ میں مسلمان ہوئے اور حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ انہوں نے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بصرہ کی اور عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں کوفہ کی گورنری سنبھالی۔ انہوں نے وہاں کے لوگوں کو قرآنِ کریم پڑھایا اور فقہ کی تعلیم دی۔ قرآنِ مجید کی تلاوت بہت خوبصورت آواز میں کرتے تھے۔ وہ 32 ہجری میں وفات پا گئے۔ رضی اللہ عنہ۔
حدیث کی ہدایات :
اللہ کا ذکر تہلیل، تحمید، تسبیح، قرآن کی تلاوت اور اس طرح کے دیگر اعمال کے ذریعے ہوتا ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ذکر کی فضیلت۔
ذکر دلوں کی زندگی ہے؛ کیونکہ اس سے حاصل ہوتا ہے:
اللہ عز و جل سے لو لگانا
دل کا اطمینان اور اس کی راحت۔
شیاطین جن و انس سے حفاظت۔
مسلمان کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کی پابندی کرے، تاکہ اس کے فوائد حاصل کر سکے۔
اللہ کے ذکر سے اعراض کرنا دل کی موت کا سبب ہے۔
سوالات برائے مناقشہ:
س1- اپنے رب کا ذکر کرنے والے اور نہ کرنے والے کے درمیان کیا فرق ہے؟
س2 : اللہ تعالیٰ کے ذکر کے دو فوائد بتائیں۔
س3: ذکر کی چند اقسام بتائیں۔
سوالات:
سوال 1 : مندرجہ ذیل اقتباس میں موجود غلطیوں کی نشان دہی کریں :
ایک نوجوان اپنے گھر میں داخل ہوا تو اس نے کچھ ایسا دیکھا جو اسے ناگوار گزرا۔ اس پر اسے شدید غصہ آ گیا اور اس نے اپنے چھوٹے بھائی کو برا بھلا کہا، جس نے گھر کے کچھ برتن توڑ دیے تھے۔ پھر وہ غصے کی حالت میں باہر نکلا، اپنی گاڑی میں سوار ہوا اور تیزی سے چل پڑا۔ اسے کچھ معلوم نہیں تھا کہ وہ کس طرف جا رہا ہے۔ کرانا اسٹور کے پاس اس کی ملاقات اپنے ایک دوست سے ہوئی۔ دوست نے اس کے غصے کی وجہ پوچھی تو اس نے اسے سارا ماجرا بتا دیا۔
س2 : صحیح یا غلط (×) کا نشان لگائیں اور غلطی درست کریں۔
ذکر زبان پر بھاری ہے، میزان میں ہلکا ہے ( )۔
ذِکر شیاطین جن و انس سے انسان کی حفاظت کرتا ہے ( )۔
جو شخص اللہ کا ذکر نہیں کرتا وہ زندہ کی طرح ہے۔ ( )
س3 - اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "جو لوگ ایمان ﻻئے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ یاد رکھو، اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو سکون حاصل ہوتا ہے۔" [سورہ رعد : 28]۔
مذکورہ آیت کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کا فائدہ بیان کریں۔ [6]۔ [6] استاد کے لیے ہدایات: * بہتر ہے کہ ذکر کے فوائد کچھ تفصیل کے ساتھ بیان کیے جائیں۔ دیکھیں: امام ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ کی کتاب 'الوابل الصيب'۔ * یہ بھی بہتر ہے کہ استاد ذکر کی بعض اقسام بیان کرے۔ جیسے تسبیح، تحمید، تکبیر، اور دیگر تمام ادعیہ وغیرہ۔ * یہ مناسب ہے کہ طلبہ سے شرعی اذکار کا کچھ حصہ حفظ کرنے میں مقابلہ کرنے کا کہا جائے، نیز اس سلسلے میں اذکار کی کتابوں کی طرف رجوع کیا جائے۔ دیکھیں: امام نووی رحمہ اللہ کی 'كتاب الاذكار'، شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ کی 'تحفة الاخيار' اور شیخ سعید بن علی القحطانی کی 'حصن المسلم'۔
حدیث نمبر (4)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت :
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مومن نہیں ہو سکتا، جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں“۔ متفق علیہ [7]۔ [7] صحیح بخاری، کتاب الایمان، باب: حُبّ رسولِ اللهِ ﷺ من الايمان، حدیث نمبر (15)۔ یہ الفاظ انہی کے ہیں۔ صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب: وُجوب محبَّةِ رسولِ اللهِ ﷺ اكْثَر مِن الاصْلِ والوَلَد والنّاسِ اجمَعِين، حدیث نمبر (44)۔
راوی کا تعارف:
یہ جلیل القدر صحابی انس بن مالک انصاری خزرجی ہیں۔ جب وہ دس سال کے تھے تو ان کی والدہ اُمّ سُلیم انہیں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں لے کر آئیں اور عرض کیں: یا رسول اللہ، یہ میرا لڑکا انس ہے، جو آپ کی خدمت کرے گا، تو نبی ﷺ نے انہیں قبول کیا اور ان کے لیے دعا کی اور فرمایا: "اے اللہ! اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کردے اور اسے جنت میں داخلہ نصیب فرما۔" [8]، انہوں نے بہت سی حدیثیں روایت کی ہیں۔ وہ سنہ 93ھ میں بصرہ میں وفات پانے والے سب سے آخری صحابی تھے۔ اللہ ان سے خوش ہو اور انہیں خوش کر دے۔ [8] انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "میں نے اپنی صلبی اولاد میں سے پوتوں کے علاوہ 125 لوگوں کو دفن کیا ہے۔ میری زمین سال میں دو دفعہ اناج دیتی ہے"۔ دیکھیں: الاصابۃ لابن حجر (1/72)۔
حدیث کی ہدایات :
اللہ کے رسول ﷺ سے محبت رکھنا اور آپ کی محبت کو تمام لوگوں، یہاں تک کہ والد، اولاد اور اپنی جان کی محبت پر بھی مقدم رکھنا واجب ہے۔
رسول اللہ ﷺ سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔
رسول اللہ ﷺ سے محبت کی ایک علامت یہ ہے:
ہم آپ ﷺ کے احکام کی اطاعت کریں، آپ کی منع کی ہوئی باتوں سے اجتناب کریں اور آپ کی بتائی ہوئی باتوں کی تصدیق کریں۔
آپ کا ذِکر آجانے پر ہم آپ پر درود پڑھیں۔
ہم آپ کے اقوال اور افعال میں آپ کی اقتدا کریں اور آپ کی شریعت سے باہر نہیں نکلیں۔
رسول ﷺ کی محبت کو دیگر مخلوق کی محبت پر مقدم رکھیں۔
سوالات برائے مناقشہ:
س1 - رسول اللہ ﷺ سے محبت کا کیا حکم ہے؟
س2 - رسول اللہ ﷺ سے محبت کی بعض علامات ذکر کریں۔
س3 : جب آپ رسول اللہ ﷺ کا ذکر سنیں تو آپ پر کیا واجب ہے؟
سوالات:
س1 : اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "کہہ دیجیے! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابع داری کرو، خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناه معاف فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے واﻻ مہربان ہے۔" [سورہ آل عمران: 31]۔
یہ آیت کس بات پر دلالت کرتی ہے؟
س2- کیا آپ رسول اللہ ﷺ کی کچھ صفات کے بارے میں جانتے ہیں؟ ان میں سے تین بیان کریں۔
س3: ہم پر رسول اللہ ﷺ سے محبت کرنا کیوں واجب ہے؟[9] [9] استاد کے لیے: * رسول اللہ ﷺ تمام انسانوں کے لیے نمونہ ہیں، لہٰذا استاد کو چاہیے کہ وہ آپ ﷺ کی بعض صفات کا ذکر کرے، تاکہ طلبہ کو آپ کی پیروی کا شوق دلا سکے۔ اس سلسلے میں سیرتِ نبوی کی کتابوں کا مطالعہ معاون ثابت ہوگا، جیسے شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کی کتاب (مختصر سيرة الرسول ﷺ)۔
حدیث نمبر (5)
حسنِ اخلاق :
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : "نبی ﷺ نہ تو فحش گو تھے اور نہ بہ تکلف بد زبانی کرنے والے تھے۔ آپﷺ فرمایا کرتے تھے : ”تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے، جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں“۔ متفق علیہ [10]۔ [10] صحیح بخاری، ۔’كتاب المناقب، باب: صِفَة النَّبيِّ ﷺ، حدیث نمبر (3559)۔ الفاظ صحیح بخاری کے ہیں۔ صحیح مسلم، كتاب الفَضائل باب: كَثْرَة حَياتِه ﷺ، حدیث نمبر (2321)۔
راوی کا تعارف:
یہ جلیل القدر صحابی عبد اللہ بن عمرو بن عاص بن وائل سہمی قرشی ہیں۔ سابقینِ اسلام میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے نبی کریم ﷺ سے بہت سی احادیث روایت کی ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ کے اکثر غزوات میں شریک ہوئے۔ عبادت کے انتہائی شوق کے حوالے سے مشہور تھے۔ سنہ 65ھ میں وفات پائي۔ رضی اللہ عنہ و ارضاہ۔
الفاظ کے معانی:
الفاظ
معانی
فحش گو
الفاحِش: وہ شخص جو قبیح اقوال اور افعال کا ارتکاب کرے۔
قصداً فحش بکنے والا، بہ تکلف فحش گوئی کرنے والا۔
المتَفَحِّش: وہ جو جان بوجھ کر قبیح اقوال اور افعال کا ارتکاب کرے۔
تمھارے اندر سب سے اچھے لوگ
تمھارے اندر سب سے بہتر لوگ۔
حسنِ اخلاق
فضائل پر عمل اور رذائل سے دوری۔
حدیث کی ہدایات :
رسول اللہ ﷺ تمام لوگوں سے زیادہ اچھے اخلاق اور عمدہ سلوک سے متصف تھے۔
مسلمان پر لازم ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی اقتدا کرے اور حسنِ اخلاق سے آراستہ ہو۔
لوگوں میں سب سے افضل شخص وہ ہے جو حسنِ اخلاق کا مالک ہو۔ مثلاً: اچھا برتاؤ کرتا ہو، نرم گفتگو کرتا ہو، خندہ روئی کے ساتھ پیش آتا ہو، نیکی کرتا ہو، تکلیف پہنچانے سے باز رہتا ہو اور سلام کو عام کرتا ہو۔
حسن اخلاق سے اللہ تعالیٰ کی محبت اور لوگوں کی محبت حاصل ہوتی ہے۔
حسن اخلاق ایمان کا حصہ ہے۔
قیامت کے دن اللہ کے نبی ﷺ سے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہوں گے، جو سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے ہیں۔
سوالات برائے مناقشہ :
س1: فاحِشًا، مُتَفَحِّشًا اور حسن اخلاق کے معنی بیان کریں۔
س2 : اخلاق حسنہ کی تین مثالیں دیں؟
س3 : برے اخلاق کی تین مثالیں دیں۔
س4: حسن اخلاق کا ثمرہ بیان کریں۔
سوالات:
س1- عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے بارے میں آپ جو جانتے ہیں بیان کریں۔
س2 : اللہ تعالی کے اپنے نبی ﷺ سے اس فرمان کا کیا مطلب ہے: (اور بے شک تو بہت بڑے اخلاق پر ہے۔) (سورہ قلم: 41)۔
س3- اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے : "تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف ﻻئے ہیں، جو تمہاری جنس سے ہیں، جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے، جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں، ایمان والوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں۔" [سورہ توبہ : 128]۔
اس آیتِ کریمہ میں مذکور اخلاق اخذ کریں۔
س4 : آنے والے الفاظ کو مناسب جگہ پر لکھیں:
حیا - فیاضی - بدزبانی - فحش کلامی - گالی گلوچ - خندہ پیشانی۔
الفاظ
معانی
............................
............................
............................
............................
............................
............................[11]۔ [11] معلم کے لیے: - اللہ تعالیٰ اور لوگوں کے ساتھ حسنِ اخلاق اسلام کے مقاصد میں سے ایک مقصد ہے، لہٰذا یہ اہم ہے کہ طلبہ کو مکارمِ اخلاق کی ترغیب دے کر اور برے اخلاق سے ڈرا کر ان کے دلوں میں اس بات کو راسخ کیا جائے۔
حدیث نمبر (6)
حیا کی فضیلت :
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : "حیا تو بس خیر ہی لاتی ہے۔" متفق علیہ [12]۔ [12] اسے امام بخاری نے كتاب الادب، باب: الحياء میں، حدیث نمبر (6117) کے تحت اور امام مسلم نے كتاب الايمان، باب: بَيان عَدَد شُعَب الايمان واَفْضَلها واَدْناها، وفَضِيلَة الحياءِ وكَوْنه مِن الايمان میں، حدیث نمبر (37) کے تحت روایت کیا ہے۔
راوی کا تعارف:
یہ ایک بڑے صحابی عمران بن حُصَین خزاعی ہیں۔ وہ اور ان کے والد غزوۂ خیبر کے سال مسلمان ہوئے۔ فقہا اور علما صحابہ میں سے تھے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں بصرہ والوں کو تعلیم دینے کے لیے بصرہ بھیجا تھا۔ ان کا انتقال سنہ 52ھ میں ہوا۔ اللہ ان سے راضی ہو اور انہیں راضی رکھے۔
الفاظ کے معانی:
الفاظ
معانی
الحياء
ہر اس قول و فعل کو چھوڑ دینا جو انسان کی شخصیت کو عیب دار بنائے۔
حدیث کی ہدایات :
مذہب اسلام حیا کی صفت سے مزین ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔
حیا ہر خیر کی کنجی ہے؛ کیونکہ یہ فضائل پر عمل کرنے کی ترغیب دیتی اور رذائل کے ارتکاب سے روکتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کے اوصاف میں سے ایک وصف حیا ہے۔
فحش کلامی، برے الفاظ اور گالی گلوچ سے دور رہنا حیا میں شامل ہے۔
مناقشہ کے لیے سوالات:
س1- (حیا) سے کیا مراد ہے؟
س2 : حدیث سے مستنبط دو فوائد ذکر کریں؟
س3- حیا صرف بھلائی ہی کیوں لاتی ہے؟
س4 : چند ایسے اعمال کی مثالیں دیں جو حیا کے منافی ہوں۔
سوالات:
س1: درج ذیل خالی جگہوں کو پر کریں:
................... خیر کے تمام دروازوں کی کنجی ہے۔
حیا ................. کے اوصاف میں سے ہے۔
* والدین، معلمین اور ساتھیوں کو ............ سے مخاطب کرنا حیا میں سے ہے۔
استاذ کا عدم احترام ایک ایسی صفت ہے جو ................. کی صفت کے منافی ہے۔
س2 : کالم (الف) کو کالم (ب) کے مناسب جملوں سے ملائیں:
دوسروں سے مخاطب ہوتے وقت آواز میں اعتدال الف- حیا کے منافی ہے
حیا ب- حیا میں سے ہے
مدرسہ کی دیواروں پر فضول باتیں لکھنا ج- اسلام نے اس کی ترغیب دی ہے
د- برے الفاظ میں سے ہے
س3- عمران بن حُصَیْن رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟ [13] [13] استاد کے لیے: *معزز معلم کو چاہیے کہ وہ اپنی تشریح میں ممدوح (قابلِ تعریف) حیا - جس کا ذکر حدیث میں آیا ہے - اور مذموم حیا یعنی خجل شرمندگی، جو سوال کرنے، استفسار کرنے اور علم حاصل کرنے سے روکتی ہے، کے درمیان فرق واضح کرے۔
حدیث نمبر (7)
نفاق کی کچھ علامتیں :
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : "منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کہے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے"۔ متفق علیہ [14]۔ [14] صحیح بخاری، کتاب الایمان، باب: علامات المنافق، حدیث نمبر: (33)، اور صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب: بیان خصال المنافق، حدیث نمبر: (59)۔
راوی کا تعارف:
یہ جلیل القدر صحابی ابو ہریرہ عبد الرحمن بن صخر دوسی ہیں۔ سنہ 7 ہجری میں خیبر کے سال مسلمان ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں رہنے کی وجہ سے بہت بڑی تعداد میں حدیثیں حفظ کیں، سب سے زیادہ حدیثیں حفظ کرنے اور روایت کرنے والے صحابی شمار ہوئے۔ سنہ 57 ہجری میں فوت ہوئے۔ رضی اللہ عنہ وارضاہ۔
الفاظ کے معانی:
الفاظ
معانی
آیت
علامت
تین
اس سے مراد تین صفات ہیں۔
منافق
جو شخص اندر کچھ رکھے اور باہر کچھ اور دکھائے۔
بیان کیا
بات کرے۔
حدیث کی ہدایات :
مذہب اسلام کا بری عادات اور اخلاقِ رذیلہ سے خبردار کرنا۔
نفاق ان بری صفات میں سے ہے جن سے دور رہنا مسلمان کے لیے ضروری ہے۔
نفاق کی کچھ علامتیں ہیں، جن سے بچنا ضروری ہے۔ ان میں سے کچھ علامتیں یہ ہیں :
بات کرتے وقت جھوٹ بولنا۔
وعدہ خلافی کرنا۔
خیانت کرنا۔
جو شخص منافقین کی صفات میں سے کسی صفت سے متصف ہو، وہ اللہ تعالیٰ اور لوگوں کے نزدیک مبغوض ہے۔
سوالات برائے مناقشہ:
س1 : 'منافق' سے کیا مراد ہے؟
س2 - منافق کی علامتوں کی مثال دیں۔
سوال 3 : نفاق کا انجام کیا ہے؟
س4- نبی ﷺ کے اس ارشاد کی تشریح کریں: "منافق کی تین نشانیاں ہیں"۔
سوالات:
س1- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ جو کچھ جانتے ہیں، بیان کریں۔
س2 - مومن کی بعض ایسی صفات کی مثال دیں جو منافق کی صفات کے برخلاف ہوں۔
س3 : آنے والے جملوں میں جو جملہ غلط ہو، اسے درست کریں:
بات کرتے وقت جھوٹ بولنا منافقوں کی ایک صفت ہے۔
مومن وہ ہے جو اپنے قول و فعل میں سچا ہو۔
بعض نمازیں چھوڑنا منافق کی صفت نہیں ہے۔
جس نے اپنے ساتھی سے قلم مستعار (ادھار) لیا، پھر اس کا انکار کر دیا، وہ منافقوں کی صفات میں سے ایک صفت سے متصف ہو گیا۔ [15] [15] استاد کے لیے ہدایات: * نفاق ایک خطرناک چیز ہے اور اس کا انجام انتہائی سنگین ہے، لہٰذا طلبہ کو اس سے ڈرانا چاہیے۔ * استاد کو چاہیے کہ وہ دائرۂ اسلام سے خارج کرنے والے اعتقادی نفاق اور حدیث میں مذکور عملی نفاق کے درمیان فرق واضح کرے۔
حدیث نمبر (8)
عفو و درگزر :
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: "رسول اللہ ﷺ کو جب بھی دو چیزوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا، تو آپ ﷺ ہمیشہ دونوں میں آسان کا انتخاب کرتے، بشرطیکہ وہ آسان کام گناہ نہ ہو۔ اگر وہ گناہ ہوتا، تو آپ ﷺ اس سے سب سے زیادہ دور رہتے۔ رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی شے کے سلسلے میں اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیا، ما سوا اس کے کہ اللہ کی حرمات میں سے کسی حرمت کو پامال کیا جائے، اس صورت میں آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے لیے انتقام لیا کرتے تھے۔" متفق علیہ [16]۔ "[16] اسے امام بخاری نے كتاب الادب، باب: قول النبي ﷺ: «يسروا ولا تعسروا» میں حدیث نمبر: (6126) کے تحت روایت کیا ہے۔ الفاظ انہی کے ہیں۔ اسے امام مسلم نے بھی كتاب الفضائل، باب: مباعدته ﷺ للآثام، واختياره من المباح اسهله میں، حدیث نمبر: (2327) کے تحت روایت کیا ہے۔
راوی کا تعارف:
یہ ام المؤمنین صادقہ، صدیق کی بیٹی عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ کی بیوی تھیں۔ فقیہہ اور عالمہ تھیں۔ انھوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے بہت سی احادیث روایت کیں ہیں۔ سنہ 57ھ کو فوت ہوئیں۔ رضی اللہ عنہا۔
الفاظ کے معانی:
الفاظ
معانی
أَيْسَرهُما
ان دونوں میں سے زیادہ آسان
إثمًا
اثم : گناہ
قَطّ
کبھی بھی۔
تُنْتَهَك حُرْمَة اللهِ
وہ عمل انجام دیا جائے جسے اللہ تعالی نے حرام قرار دیا ہے۔
حدیث کی ہدایات:
اسلام آسانی، رواداری اور عفو و درگزر پر مبنی دین ہے۔
عفو و درگزر، رواداری اور تکلیف پر صبر کرنا اللہ کے رسول ﷺ کی صفات میں سے ہے۔ لہٰذا آپ ﷺ کی اقتدا کرنا واجب ہے۔
اللہ تعالیٰ کے حقوق میں درگزر سے کام نہيں لیا جائے گا۔ مثلا غلط کاموں سے مطمئن ہونا جائز نہيں ہے۔
اللہ کی حرمتوں، اس کی حدود اور اس کے احکامات کی تعظیم اور احترام کرنا واجب اور انہیں پامال کرنا حرام ہے۔
جو مسلمان عفو و درگزر سے کام لیتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے عظیم اجر و ثواب اور لوگوں کی محبت اور ان کی قدردانی حاصل کرتا ہے۔
سوالات برائے مناقشہ:
س1 : عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس قول کی تشریح کریں: "رسول اللہ ﷺ کو جب بھی دو چیزوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا، تو آپ ﷺ ہمیشہ دونوں میں آسان کا انتخاب کرتے۔"
س 2 : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور ان کے والد کے بارے میں آپ جو کچھ جانتے ہیں ذکر کریں۔
سوال 3 : درج ذیل جملوں کے سامنے صحیح یا غلط (×) کا نشان لگائیں اور غلطی کی اصلاح کریں۔
برائی پر خاموشی معاف کرنے اور درگزر کرنے میں شامل نہیں ہے ( )۔
عفو و درگزر کو کم زوری اور بے بسی سمجھا جاتا ہے۔ ( )
عفو و درگزر اللہ تعالیٰ کے حقوق میں ہوتا ہے۔ ()
سوالات:
س1: (اللہ کی حرمت پامال کی جائے) کا کیا معنی و مطلب ہے؟
س2 : بعض ایسی صفات کی مثال دیں جو عفو و درگزر کے منافی ہوں۔
س3- اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا ہے : "اللہ تعالیٰ کی رحمت کے باعث آپ ان پر نرم دل ہیں اور اگر آپ بد زبان اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے چھٹ جاتے۔ سو آپ ان سے درگزر کریں اور ان کے لیے استغفار کریں اور کام کا مشوره ان سے کیا کریں۔ پھر جب آپ کا پختہ اراده ہو جائے تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں۔ بے شک اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ [سورہ آل عمران : 159]۔
س4 : اس آیتِ کریمہ میں مذکور ایسے اخلاق کا ذکر کریں، جن کا تعلق اس حدیث سے ہو [17]۔ [۱۷] استاد کے لیے ہدایات: * اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کی صفات میں سے درج ذیل دو صفات کا بیان ہے : ۱- لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنے اور عفو و درگزر سے آپ کی محبت۔ ۲- اللہ تعالیٰ کی حرمتوں پر آپ کی غیرت۔ لہٰذا آپ ﷺ کی اقتدا کرتے ہوئے ان دونوں صفات کو اجاگر کرنا ایک اہم امر ہے۔ اس پر بعض مثالیں بھی پیش کی جا سکتی ہیں، جیسے: عفو و درگزر سے کام لینا، سختی اور درشتی سے گریز کرنا، اسی طرح دوسروں سے محبت کرنا اور برائی سے نفرت اور اس پر نکیر کرنا۔
حدیث نمبر (9)
ایک مسلمان کا اپنے مسلمان بھائی سے قطع تعلقی کرنے کی حرمت :
ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : ”کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دنوں سے زیادہ رشتہ منقطع رکھے۔ دونوں ایک دوسرے سے ملیں اور یہ بھی منہ پھیر لے اور وہ بھی منہ پھیر لے۔ ان دونوں میں بہتر وہ شخص ہے، جو سلام میں پہل کر لے“۔ متفق علیہ [18]۔ [18] صحیح بخاری، كتاب الادب، باب: الهجرة، حدیث نمبر : (6077) اور صحیح مسلم، كتاب البِرّ والصِّلَة والآداب، باب: تحرِيم الهَجْر فَوْقَ ثَلاث بِلا عُذْر شَرعِي، حدیث نمبر : (2560)۔ مذکورہ الفاظ انہی کے ہیں۔
راوی کا تعارف:
یہ جلیل القدر صحابی خالد بن زید انصاری ہیں۔ بیعت عقبہ، غزوۂ بدر اور اس کے بعد کی جنگوں میں شریک رہے۔ اللہ کے نبی ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے ان کے یہاں قیام فرمایا، یہاں تک کہ اپنے مکانات اور مسجد تعمیر کر لی۔ وہ کاتبین وحی میں سے تھے۔ اللہ کے نبی ﷺ کی وفات کے بعد انھوں نے اللہ کی راہ میں جہاد ترک نہیں کیا، یہاں تک کہ سنہ 50ھ میں قسطنطنیہ کی جنگ میں وفات پائی۔ اللہ تعالیٰ اُن سے راضی ہو اور انہیں خوش رکھے۔
الفاظ کے معانی:
الفاظ
معانی
حلال نہیں ہے
حرام ہے۔
اپنے بھائی سے قطع تعلق کرے
اپنے مسلمان بھائی کو چھوڑ دے اور اس سے بات نہ کرے۔
پس وہ اعراض کرے
منہ موڑے۔
شروع کرے
اپنے ساتھی کو سلام کرنے میں پہل کرے۔
حدیث کی ہدایات :
اسلام مسلمانوں کے درمیان باہمی الفت اور ربط کی دعوت دیتا ہے۔
کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے منہ موڑ لے اور تین دن سے زیادہ تک اسے سلام نہ کرے۔
ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر اُس چیز سے دور رہے جو مسلمانوں کے درمیان اختلاف اور تفرقے کا باعث بنتے ہوں۔
اگر آپ کا بھائی آپ سے قطع تعلق کر لے تو کوشش کریں کہ سلام میں پہل کر لیں، کیوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک آپ کے لیے بہتر ہے۔
جب بھائیوں اور دوستوں کے درمیان آپس میں لڑائی جھگڑا ہو جائے، تو ان کے درمیان صلح کرا دینی چاہیے۔
سوالات برائے مناقشہ:
س1 : مندرجہ ذیل الفاظ کے معنی کیا ہیں: يَهْجُر- أَخاه - فَيُعْرِض - يَبْدَأ؟
س2 : مسلمان کا اپنے مسلمان بھائی سے قطع تعلق کرنے کا کیا حکم ہے؟ دلیل بھی ذکر کریں۔
س3 : اگر آپ اپنے دو دوستوں کو ایک دوسرے سے قطع تعلق کیے ہوئے دیکھیں، تو آپ پر کیا لازم ہے؟
سوالات:
س1 : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی تشریح کریں: "اور ان دونوں میں سے بہتر وہ شخص ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔"
س2 - مسلمان کا اپنے اس بھائی کے بارے میں کیا موقف ہونا چاہیے جس نے اس سے قطع تعلق کر لیا ہو؟
س 3 : صحیح یا غلط (×) کا نشان لگائیں اور جسے تصحیح کی ضرورت ہو، اسے درست کریں:
گالی گلوچ اور طعن و تشنیع مسلمانوں کے مابین قطع تعلق کے اسباب میں سے ہیں ( )۔
سلام محبت، الفت اور دوستی پیدا کرتا ہے ( )۔
جو آپ کو سلام کرے اس کے سلام کا جواب دینا واجب نہیں ہے ( )۔
حسد اور دشمنی دوستوں کے درمیان قطع تعلق کا سبب بنتے ہیں ( )۔
س4 - ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ جو کچھ جانتے ہیں، بیان کریں۔[19] [19] استاد کے لیے: * اسلام میں تعلقات اور دوستیاں اللہ کی خاطر محبت پر قائم ہیں۔ لہٰذا اسی بنیاد پر انہیں پروان چڑھانا چاہیے۔ * اس حدیث قدسی کی تشریح کریں : "میری عظمت و جلال کی خاطر آپس میں محبت کرنے والوں کو میں اپنے سائے میں جگہ دوں گا، جس دن میرے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا"۔
حدیث نمبر (10)
قرآن سیکھنے اور سکھانے کی فضیلت :
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : ”تم میں سب سے بہتر شخص وہ ہے، جو قرآن سیکھے اور اسے سکھائے“۔ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے [20]۔ [20] صحیح بخاری، کتاب: فضائل القرآن، باب: خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ، حدیث نمبر (5027)۔
راوی کا تعارف:
یہ جلیل القدر صحابی عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں۔ تیسرے خلیفۂ راشد اور جنت کی خوش خبری پانے والے دس لوگوں میں سے ایک۔ غزوات و جہاد میں اپنا مال خوب خرچ کرتے تھے۔ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی دو بیٹیوں، رقیہ اور پھر ام کلثوم رضی اللہ عنہما سے نکاح کیا تھا۔ صفتِ حیا سے متصف تھے۔ 35 ہجری میں شہید ہوئے۔ رضی اللہ عنہ و ارضاہ۔
حدیث کی ہدایات :
قرآن کریم سیکھنا، یعنی اسے پڑھنا اور یاد کرنا، اللہ کے نزدیک افضل ترین اور بڑے اونچے درجے کی عبادتوں میں سے ہے، کیونکہ قرآن اللہ عز و جل کا کلام ہے۔
ہر مسلمان کو بچپن سے ہی مدرسے، گھر اور مساجد میں حفظِ قرآن کے حلقوں میں قرآن کریم سیکھنے اور اسے حفظ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
مسلمان قرآن کریم کا جو بھی حرف پڑھتا ہے، اس کے بدلے میں اسے دس نیکیاں ملتی ہیں۔
ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ قراءتِ قرآنِ کریم کے آداب کا لحاظ رکھنے، قراءت کے شروع میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگنے، پاکی حاصل کرنے اور اس جیسی دیگر باتوں کا اہتمام کرے۔
سوالات برائے مناقشہ:
س1 : لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے؟
س2 : قرآنِ کریم سیکھنا افضل ترین عبادتوں میں سے کیوں ہے؟
س 3 : قرآنِ کریم پڑھنے والے کو کتنا اجر و ثواب ملتا ہے؟
سوال 4 - قرآن کریم کی تلاوت کے چند آداب بیان کریں۔
سوالات:
س۱: صحیح یا غلط (×) کا نشان لگائیں اور غلط کو درست کریں:
بڑی عمر میں حفظ کرنا بچپن میں حفظ کرنے سے افضل ہے ( )۔
طالب علم کو قرآن پڑھنے اور اسے حفظ کرنے کے لیے روزانہ ایک وقت مختص کر لینا چاہیے۔ ( )
مصحف کا احترام اور تعظیم کرنا اور اس کی بے حرمتی نہ کرنا واجب ہے ( )۔
ایک شخص قرآن کریم پڑھنے کے لیے اچھی طرح وضو نہیں کرتا ہے ( )۔
سوال 2 : اگر آپ ہر روز قرآن کریم کی دو سطریں حفظ کریں، سوائے جمعہ کے دن کے جسے آپ ہفتے کے دوران یاد کیے ہوئے حصے کے کا اعادہ کرنے کے لیے مختص کر لیں، تو چار ہفتوں میں آپ کو قرآن کا کتنا حصہ یاد ہو جائے گا؟
س3 : مندرجہ ذیل خالی جگہوں میں مناسب الفاظ درج کریں:
............................................ سب سے عظیم اور سب سے افضل کتاب ہے۔
مسلمان کو ہر روز ............... کا کچھ حصہ پڑھنا چاہیے۔
کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ ............................ سے قطع تعلق کرے۔
......................... کے حافظ پر لازم ہے کہ وہ لوگوں کو اس کی تعلیم دے۔
س4- عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ جو جانتے ہیں بیان کریں [21]۔ [21] استاد کے لیے ہدایات: دلوں میں قرآن مجید کی تعظیم انتہائی اہمیت کا حامل امر ہے، لہذا معلم کو چاہیے کہ وہ متعدد وسائل کے ذریعے اس عظیم اصول کو راسخ کرے، جیسے: قرآن کریم کی فضیلت کا بیان، اسے حفظ کرنے، اس پر غور و فکر کرنے اور اس پر عمل کرنے کی ترغیب، اور اسی طرح قرآن کے کچھ حصے کے حفظ کے مقابلے منعقد کرانا وغیرہ۔
عنوان: تعلیمی نصاب، علمِ حدیث، درجہ (ہشتم)۔
مختصر تعارف: یہ تعلیمی مواد مملکتِ سعودی عرب میں طلبہ کے لیے تیار کردہ درسی نصاب کی تلخیص اور خلاصہ ہے۔ اسے مختلف درجات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس مواد میں علمِ فقہ کا مطالعہ بھی شامل ہے، جسے آٹھ (8) درجات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ آٹھواں درجہ جن اہم موضوعات پر مشتمل ہے ان میں سے ایک یہ ہے: نبی کریم ﷺ کی چند احادیثِ مبارکہ کی تشریح، جو بہت سے شرعی احکام اور علمی و عملی فوائد پر مشتمل نہایت اہم احادیث میں شمار ہوتی ہیں۔ ان میں وہ احادیث بھی شامل ہیں جو نیک یا بُرے دوست کی صحبت کے اثرات کے بیان، والدین کے حقوق، حصولِ علم کی فضیلت، زبان اور ہاتھ کی حفاظت اور اس جیسے دیگر موضوعات سے متعلق ہیں۔ اس شرح کا امتیازی وصف یہ ہے کہ اس کا اسلوب آسان اور عبارت واضح ہے اور اسے ایک مخصوص طریقۂ کار کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔ ہر حدیث کا آغاز اس کے راوی صحابی کے تعارف سے ہوا ہے، پھر مشکل الفاظ اور کلمات کے معانی کی وضاحت کی گئی ہے، اس کے بعد حدیث میں شامل اہم احکام اور ہدایات کو بیان کیا گیا ہے اور آخر میں دلائل اور اہلِ علم کے اقوال ذکر کیے گئے ہیں۔ سبق کے اختتام پر کچھ سوالات بھی دیے گئے ہیں تاکہ سبق کو سمجھنے میں مدد ملے اور طلبہ کی فہم کی سطح جانچی جا سکے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حدیث نمبر (11): دوست کا اثر
ابو موسى اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے : "اچھے ہم نشیں اور برے ہم نشیں کی مثال بعینہ ایسی ہی ہے جیسے کہ عطر فروش اور بھٹی پھونکنے والا۔ عطر فروش یا تو تمہیں عطر تحفے میں ديدے گا یا ( کم از کم ) تمہیں اس سے خوش بو تو آئے گی ہی۔ جب کہ بھٹی پھونکنے والا یا تو تمہارے کپڑے جلا ڈالے گا یا پھر تمہیں اس سے بدبو آئے گی۔" متفق علیہ [1] [1] صحیح بخاری، کتاب البيوع، باب : في العَطّار وبَيْع المِسْك، اور صحیح مسلم، کتاب البِرّ والصِّلَة والآداب، باب : استِحباب مُجالَسَة الصّالحين ومُجانَبَة قُرنَاء السَّوء، حدیث نمبر : (2628)۔ الفاظ مسلم کے ہیں۔
راوی کا تعارف:
یہ جلیل القدر صحابی ابو موسیٰ عبداللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ ہیں۔ مکہ مکرمہ میں مسلمان ہوئے اور حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بصرہ کی گورنری سنبھالی۔ اہلِ کوفہ کو قرآن پڑھایا اور فقہ کی تعلیم دی۔بڑی خوب صورت آواز میں قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تھے۔ 42 ہجری میں وفات پائی۔ رضی اللہ عنہ و ارضاہ۔
الفاظ کے معانی:
الفاظ
معانی
المسْك
یہ ایک قسم کی خوشبو ہے جس کی مہک پاکیزہ ہوتی ہے۔ مشک۔
الکِیر
لوہار کی بھٹی، دھونکنی
يُحذِيك
وہ تم کو بلا قیمت دے گا۔
تَبْتاع
تو خریدتا ہے، تو خریدے گا۔
رِيحًا خَبِيثَةً
بدبو
حدیث کی ہدایات :
بچوں کی اس بات کی طرف رہنمائی کرنے پر اسلام کی توجہ جس میں ان کے لیے دنیا اور آخرت کی بھلائی ہو۔
صالح ہم نشیں اور اچھا دوست نیکی کے کاموں میں انسان کی مدد کرتا ہے اور اسے برائی سے دور رکھتا ہے۔
برے دوست کے برے کاموں، جیسے نماز ترک کرنا یا والدین کی نافرمانی کرنا اور لوگوں کو تکلیف دینا وغیرہ کا اثر اس کے دوست پر پڑتا ہے۔
مسلمان کو چاہیے کہ وہ نیک اور اچھے کردار والے لوگوں سے دوستی کرنے میں دل چسپی لے اور برے اعمال والے لوگوں سے بچے۔
سوالات برائے مناقشہ:
س1 : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی تشریح کریں: "اچھے ہم نشیں کی مثال بعینہ ایسی ہی ہے جیسے کہ عطر فروش۔"
س2 - نیک لوگوں کی ہم نشینی سے آپ کو کیا فائدہ ہوگا؟
س3 : جو شخص گفتگو میں بد زبانی، دوسروں کو تکلیف دینے یا سگریٹ نوشی اور رات گئے تک جاگنے جیسے اوصاف کا حامل ہو، کیا وہ نیک دوست ہے یا برا دوست؟ سبب ذکر کریں۔
س 4 : اسلام نے نیک لوگوں سے دوستی کرنے کی ترغیب کیوں دی ہے؟
سوالات:
س1 : ان صالحین کی تین صفات بیان کریں جن سے دوستی کرنا مستحب ہے۔
سوال 2 - عبداللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ جو جانتے ہیں بیان کریں۔
س3- اللہ تعالی نے فرمایا ہے : "اے ایمان والو! مرد دوسرے مردوں کا مذاق نہ اڑائیں، ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہو اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں، ممکن ہے یہ ان سے بہتر ہوں۔ اور آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ اور نہ کسی کو برے لقب دو۔ ایمان کے بعد فسق برا نام ہے، اور جو توبہ نہ کریں وہی ﻇالم لوگ ہیں۔" (سورہ حجرات: 11)۔
بعض ایسی صفات بیان کریں جن سے اللہ تعالیٰ نے ڈرایا ہے۔
کیا یہ اچھے دوست کی صفات ہیں یا برے دوست کی صفات؟ [2] [2] معلم کے لیے ہدایات: * صالح دوستوں کی خوبیاں بیان کی جائیں، جیسے: نیکی کے کاموں کا شوق یا کام میں سنجیدگی۔ * برے دوستوں کے نقصانات بیان کیے جائیں، جیسے: ان کی بری عادات اور برے اخلاق سے متاثر ہونا یا سستی کو پسند کرنا اور حرام کاموں میں مبتلا ہونا۔ * یہ بات بیان کی جائے کہ انسان کی پہچان اس کے ہم نشیں سے ہوتی ہے۔ دیکھیے: کتاب الآداب الشرعیہ، از محمد بن مفلح رحمہ اللہ (3/527) اور اس کے بعد۔
بارہویں حدیث: والدین کے حقوق
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: "ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ فرمایا: تیری ماں۔ پوچھا: پھر کون؟ فرمایا: پھر تیری ماں۔ پوچھا: پھر کون؟ فرمایا: پھر تیری ماں۔ پوچھا: پھر کون؟ فرمایا: پھر تیرا باپ۔" متفق علیہ [3] [3] اسے بخاری نے کتاب الأدب، باب: من احق الناس بحسن الصحبۃ میں، حدیث نمبر: (5971) کے تحت اور مسلم نے کتاب البر والصلة والآداب، باب: بر الوالدین وایہما احق بہ میں، حدیث نمبر: (2548) کے تحت روایت کیا ہے۔ یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔
راوی کا تعارف
یہ جلیل القدر صحابی حضرت ابو ہریرہ عبد الرحمٰن بن صخر دوسی ہیں۔ عامِ خیبر (سنہ ۷ ہجری) میں مسلمان ہوئے۔ ہمیشہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہنے کے باعث انہوں نے کثرت سے احادیث حفظ کیں۔ سب سے زیادہ احادیث روایت کرنے اور حفظ کرنے والے صحابی شمار ہوتے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال سنہ ۵۷ ہجری میں ہوا۔ اللہ ان سے راضی ہو اور انہیں راضی کر دے۔
حدیث کی ہدایات:
والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، ان کی فرماں برداری کرنا اور ان کی نافرمانی سے بچنا ضروری ہے۔
والدین انسان کے سب سے قریبی لوگ ہیں اور اس کی صحبت اور حسنِ سلوک کے سب سے زیادہ حق دار ہیں۔
ماں کا غیر معمولی حق، کیوں کہ اس کے ساتھ حسن سلوک کی بات تین بار کہی گئی ہے۔
والدین کے ساتھ حسن سلوک میں: ان کی اطاعت اور احترام کرنا، ان کی نافرمانی سے باز رہنا، ان کی بات نہ کاٹنا، انہیں تکلیف دینے سے بچنا، ان کی زندگی میں اور وفات کے بعد ان کے لیے دعا کرنا اور ان کے دوست احباب کی زیارت کرنا وغیرہ شامل ہيں۔
والدین کی اطاعت دخول جنت کا سبب ہے اور ان کی نافرمانی دخول جہنم کا سبب ہے۔
سوالات برائے مناقشہ:
س1: لوگوں میں انسان کے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟
س2 : والدہ کے حق کو والد کے حق سے زیادہ عظیم کیوں قرار دیا گیا ہے؟
س3- ایسے تین مذموم کاموں کا ذکر کریں جن کے ذریعے اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کے ساتھ پیش آنا مسلمان پر حرام ہے۔
سوالات:
س1 : اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا یہ دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات کرنا۔ اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار! ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے۔" [سورہ اسراء: 23-24]۔
مذکورہ آیتوں سے والدین کے ساتھ حسن سلوک کے تین امور اخذ کریں۔
یہ آیت والدین کے حقوق کی اہمیت پر دلالت کرتی ہے۔ اس کی وضاحت کریں۔
س2 : آنے والے جملوں کو درست کریں:
والدین کی نافرمانی اور انہیں تکلیف دینا جنت میں داخلے کا سبب ہے۔
والدین کے ساتھ حسنِ سلوک ان کی حیات میں انھی تک محدود ہے۔
والدین کے دوست کا اکرام کرنا ان کے ساتھ حسنِ سلوک میں شامل نہیں ہے۔
س3 - ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ جو کچھ جانتے ہیں بیان کریں۔[4] [4] معلم کے لیے ہدایات : * والدین کی اطاعت کے وجوب اور ان کی نافرمانی کی حرمت کو بیان کرنے والی بعض دلیلوں کو بیان کریں۔ * والدین کی اطاعت کی مختلف صورتوں کو بیان کریں۔ * ان کی نافرمانی کی مختلف صورتوں کو بیان کریں۔ * اس سلسلے میں بعض شواہد اور قصوں کا ذکر کرنا مناسب ہے، جیسے اصحابِ غار کا قصہ۔ دیکھیں: صحیح بخاری، كتاب البيوع، باب: اذا اشتَرى شيئًا لِغَيْرِهِ بغيرِ اذنِه فَرَضِي، حدیث نمبر (2215)، اور صحیح مسلم، كتاب الذِّكر والدُّعاء والتَّوبة والاستِغفار، باب: قِصَّة اصحاب الغارِ الثّلاثَة، والتَّوسُّل بِصالِحِ الاعمال، حدیث نمبر (2743)۔
تیرہویں حدیث: زبان اور ہاتھ کی حفاظت
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: "لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کون سا اسلام سب سے افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔‘‘ متفق علیہ [5]۔ [5] صحیح بخاری، کتاب الایمان، باب: ايّ الاسلامِ افْضَل، حدیث نمبر: (11)، اور صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب: بَيان تَفاضُل الاسلامِ وايّ امورِه افْضَل، حدیث نمبر: (42)۔
راوی کا تعارف:
اس راوی کا تعارف گیارہویں حدیث میں گزر چکا ہے۔
حدیث کی ہدایات :
اسلام نے انسان کے تمام اعضا کی استقامت اور انہیں انحراف سے محفوظ رکھنے پر خاص توجہ دی ہے۔
زبان اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے، لہذا مسلمان کو چاہیے کہ وہ اسے بھلائی کے کاموں، جیسے ذکر، تلاوت اور حصولِ علم وغیرہ میں استعمال کرے۔
زبان کو دروغ گوئی، غیبت، چغلی، سب و شتم اور ان جیسے دیگر گناہوں میں استعمال کرنے سے بچنا واجب ہے۔
ہاتھ اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے، لہٰذا اسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں استعمال کرنے سے بچنا واجب ہے۔
دوسروں پر زیادتی کرنا اور ان کا حق مارنا حرام ہے، چاہے وہ کوئی ادنیٰ سی چیز ہی کیوں نہ ہو۔
سوالات برائے مناقشہ:
س1 - اسلام کے ذریعے سکھایا گیا سب سے بہتر کام کیا ہے؟
س 2: زبان اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے، اسے کس طرح استعمال کیا جائے؟
س3 : اسلام اس بات کی تاکید کرتا ہے کہ مسلمان اپنے قول و فعل میں مستقیم (سیدھا و درست) رہے، آپ نے یہ فائدہ حدیث سے کیسے حاصل کیا؟
س 4: کیا دوسروں کی خامیوں کا ذکر کرنا ان پر زیادتی کرنے میں شمار ہوتا ہے؟
سوالات:
س1 : اپنے ساتھی کی اجازت کے بغیر اس کا قلم اور اسکیل لینے کا کیا حکم ہے؟
س2 : نیک کاموں میں زبان اور ہاتھ کے استعمال کی کچھ مثالیں ذکر کریں۔
س3 - ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ جو جانتے ہیں بیان کریں۔
س4 : کیا دوستوں کے درمیان دشمنی اور پھوٹ پیدا کرنے والی باتیں پہنچانا جائز ہے؟[6] [6] معلم کے لیے ہدایات : * اسلام کا مقصد اپنے پیروکاروں کی عقلوں اور اعضا میں استقامت پیدا کرنا ہے۔ * معلم کے لیے مناسب ہے کہ وہ ہاتھ اور زبان کی استقامت میں مددگار بعض وسائل کا ذکر کرے۔ مثلاً: زبان کو تلاوتِ قرآن، ذکر اور مباح گفتگو کا عادی بنانا، اور ہاتھ کو دوسروں پر زیادتی نہ کرنے کا عادی بنانا اور اسی طرح دنیا اور آخرت میں دوسروں پر زیادتی کرنے کے انجام سے ڈرانا۔
چودہویں حدیث: شرعی علم حاصل کرنے کی ترغیب
معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : "جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے۔" متفق علیہ [7]۔ [7] صحیح بخاری، کتاب العلم، باب: مَن يُرِدِ اللهُ بِه خَيْرًا يُفَقِّه في الدِّين، حدیث نمبر (71)، اور صحیح مسلم، کتاب الزَّكاة، باب: النَّهْي عن المَسئلَة، حدیث نمبر (1037)۔
راوی کا تعارف:
امیر المؤمنین معاویہ بن ابو سفیان صخر بن حرب قرشی اموی ایک جلیل القدر صحابی ہیں۔ بعثت سے پانچ سال قبل پیدا ہوئے۔ فتح مکہ کے سال اسلام قبول کیا۔ اللہ کے رسول ﷺ کے کاتبین میں شامل تھے۔ عمر -رضی اللہ عنہ- نے ان کو شام کا گورنر بنایا تھا۔ رجب سنہ 60ھ میں وفات پائی۔ رضی اللہ عنہ وعن ابیہ۔
الفاظ کے معانی:
الفاظ
معانی
يُفَقِّهْه
وہ اسے سمجھ بوجھ عطا فرماتا ہے۔
حدیث کی ہدایات
دیگر تمام علوم پر دین کی سمجھ کی فضیلت۔
جس نے دین میں تفقہ حاصل نہیں کیا، وہ خیر کثیر سے محروم رہا۔
علم دلوں کی زندگی اور بصیرتوں کا نور ہے۔ اسی کے ذریعے مسلمان بصیرت کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کرتا ہے اور دنیا اور آخرت میں اس کا مرتبہ بلند ہوتا ہے۔
طلب علم میں خلوص نیت اسے ایسی عبادت بنا دیتا ہے، جس پر انسان اجر و ثواب کا مستحق قرار پاتا ہے۔
سوالات برائے مناقشہ:
س1- معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہما کے بارے میں آپ جو جانتے ہیں بیان کریں۔
س2 : اس حدیث میں کس بات کی طرف رہنمائی کی گئی ہے؟
س3 - امام بخاری رحمہ اللہ اپنی صحیح میں فرماتے ہیں: باب: التناوب فی العلم، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ، انہوں نے فرمایا ہے : "میں اور میرا ایک انصاری پڑوسی بنو امیہ بن زید میں رہتے تھے، جو مدینہ کے عوالی میں پڑتا ہے۔ ہم باری باری رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ ایک دن وہ حاضر ہوتا اور ایک دن میں حاضر ہوتا تھا۔ پس جب میں حاضر ہوتا تو اس دن کی وحی اور دیگر خبریں اس کے پاس لے آتا اور جب وہ حاضر ہوتا تو وہ بھی ایسا ہی کرتا تھا۔"[8] اس قصے کے فوائد بیان کریں۔ [8] صحیح بخاری، کتاب العلم، باب: التَّناوب في العلم، حدیث نمبر (89)۔
سوالات:
س1 : اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا ہے: "بھلا جو شخص راتوں کے اوقات سجدے اور قیام کی حالت میں (عبادت میں) گزارتا ہو، آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہو ، (اور جو اس کے برعکس ہو برابر ہو سکتے ہیں) بتاؤ تو علم والے اور بے علم کیا برابر کے ہیں؟ یقیناً نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقلمند ہوں۔" [سورہ زُمَر: 9]، یہ آیت کس بات پر دلالت کرتی ہے؟
س2 : درج ذیل خالی جگہ کو پر کریں:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : "اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ ............................." [9]۔ [9] معلم کے لیے ہدایات: * علم کی فضیلت اور اس سلسلے میں بعض دلائل بیان کریں، جیسے فرمانِ باری تعالیٰ ہے: (...يَرۡفَعِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمۡ وَٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ دَرَجَٰتٖۚ...) [سورہ مجادلۃ: 11]۔ ایک اور مقام پر فرمایا ہے : (شَهِدَ ٱللَّهُ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ وَأُوْلُواْ ٱلۡعِلۡمِ قَآئِمَۢا بِٱلۡقِسۡطِۚ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ18) [سورہ آل عمران: 18]۔ ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "مفتاح دار السعادۃ" میں اس آیت سے علم کی فضیلت کے دس پہلو مستنبط کیے ہیں، اور اس کے بعد علم کی فضیلت پر ایک سو ترپن وجوہ ذکر کی ہیں۔ * طلبِ علم میں معاون بعض ذرائع بیان کریں، جیسے پڑھائی میں محنت، مفید مطالعہ، مساجد میں حفظِ قرآن کے حلقوں اور اہلِ علم کے دروس وغیرہ میں شرکت۔ * علم کا مقصد بیان کریں۔ علم کامقصد اس پر عمل کرنا اور پھر اس کی طرف دعوت دینا ہے۔ * طالبِ علم کے آداب بیان کریں، جیسے استاد کا احترام، تواضع اور انکساری اور اچھے اخلاق سے آراستہ ہونا۔ ملاحظہ فرمائیں: کتاب الآداب الشرعیۃ، از محمد بن مفلح رحمہ اللہ (2/33) اور اس کے بعد کے صفحات، نیز کتاب حلیۃ طالب العلم، از شیخ بکر ابو زید رحمہ اللہ۔
حدیث نمبر (15): راستے کا حق:
ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : ’’تم راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہماری ان نشستوں کے بغیر چارہ نہیں۔ ہم وہاں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اگر تمھیں وہاں بیٹھنا ہی ہے، تو تم راستے کو اس کا حق دیا کرو۔‘‘ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! راستے کا حق کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’نگاہیں نیچی رکھنا، کسی کو اذیت نہ دینا، سلام کا جواب دینا، نیکی کی تلقین کرنا اور برائی سے روکنا۔‘‘ متفق علیہ [10]۔ [10] اسے بخاری نے کتاب الاستئذان، باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان: (يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَدۡخُلُواْ بُيُوتًا غَيۡرَ بُيُوتِكُمۡ...) (6229) میں روایت کیا ہے۔ الفاظ انہی کے ہیں۔ جب کہ مسلم نے اسے کتاب اللباس والزینۃ، باب: راستوں میں بیٹھنے کی ممانعت اور راستے کو اس کا حق دینے کے بیان میں، حدیث نمبر (2121) کے تحت روایت کیا ہے۔
راوی کا تعارف:
یہ صحابیٔ جلیل سعد بن مالک بن سنان خدری انصاری ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنگ خندق اور بیعت رضوان میں شرکت کی اور 12 غزوات میں شریک رہے۔ مجتہد فقہا میں سے تھے اور اللہ کے نبی ﷺ سے بڑی تعداد میں حدیث روایت کرنے والے صحابہ میں شامل تھے۔ سنہ 74 ہجری میں مدینہ میں وفات پائی۔ رضی اللہ عنہ و ارضاہ۔
الفاظ کے معانی:
الفاظ
معانی
إيّاكُم
تم بچو
مَالَنا مِن مجالِسِنا بُدّ
یعنی: ہم ان جگہوں پر بیٹھنے سے بے نیاز نہیں ہو سکتے۔
فإذا أَبَيْتُم
پس جب تم انکار کرو۔
غَضُّ البَصَرِ
نظر کو اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو دیکھنے سے بچانا۔
المعروف
یہ ایک جامع اسم ہے، جس میں ہر طرح کی خیر شامل ہے۔
الـمُنْكَرُ
یہ ایک جامع اسم ہے، جس میں ہر طرح کا شر شامل ہے۔
حدیث کی ہدایات :
اسلام کا مقصد مسلم معاشرے کو اعلیٰ اقدار (اور بلندیوں) تک پہنچانا ہے، اسی لیے اس نے ہر چیز کے لیے کچھ آداب مقرر کیے ہیں جن پر عمل کرنا ضروری ہے۔
راستہ بیٹھنے کی جگہ نہیں ہے، کیونکہ اس سے کئی نقصانات جنم لیتے ہیں، جیسے گالی گلوچ، اشاروں کنایوں سے دوسروں کو تکلیف پہنچانا، اور لوگوں کی نجی زندگی میں جھانکنا وغیرہ۔
اگر راستے میں بیٹھے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو بیٹھنے والے پر لازم ہے کہ وہ سلام کا جواب دے، راستہ بھولنے والے کی رہنمائی کرے، لوگوں کی رہنمائی بھلائی کی طرف کرے، انہیں برائی سے خبردار کرے اور جسے مدد کی ضرورت ہو اس کی مدد کرے۔
کسی عوامی پارک، سڑک یا اس جیسی کسی جگہ پر بیٹھنے والے شخص پر واجب ہے کہ وہ اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے اپنی نگاہوں کو محفوظ رکھے۔
اپنے قول یا فعل سے دوسروں کو تکلیف دینا حرام ہے۔
سوالات برائے مناقشہ:
س 1: نبی ﷺ نے فرمایا ہے : ’’راستوں میں بیٹھنے سے پرہیز کرو...‘‘۔ اپنی یاد سے حدیث مکمل کریں۔
س2 : اسلام نے راستے کا حق کیوں مقرر کیا ہے؟
س3: راستے کے حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ تکلیف نہ دی جائے۔ اسے واضح کریں، اور لوگوں کو پہنچنے والی تکلیف کی دو مثالیں بیان کریں۔
سوالات:
س1- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ جو کچھ جانتے ہیں بیان کریں۔
س2: راستے کے تین حقوق بیان کریں۔
س3 : مندرجہ ذیل میں سے درست اور غلط افعال واضح کریں:
نماز کی ادائیگی کے دوران راستوں میں بیٹھنا۔
پڑوسیوں کے گھروں کے سامنے گیند کھیلنا۔
اللہ کی حرام کردہ چيزوں سے نگاہ نیچی رکھنا۔
س4- خالی جگہوں کو مناسب کلمات سے پر کریں:
ادب - گھر – سلام - خیر - مخصوص - سڑک۔
راستے کا ایک حق یہ ہے کہ .................................. کا جواب دیا جائے اور ................ کی رہنمائی کی جائے۔
دوستوں کے ساتھ ............. میں بیٹھنا ............... پر کھڑے ہونے سے بہتر ہے۔
راستے میں ........................ کے ساتھ پیدل چلنا اس میں کھیلنے سے بہتر ہے۔
کھیل کود ان جگہوں میں ہوتا ہے جو اس کے لیے ............................................... ہوں۔[11] [11] معلم کے لیے ہدایات : * اسلام کی اس جامعیت کو بیان کریں کہ اس نے ہر حق دار کو اس کا حق دیا ہے۔ ایک مسلمان پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حقوق ہیں، خود اس کے نفس کے حقوق ہيں، والدین کے حقوق ہيں، اولاد کے حقوق ہیں، پڑوسیوں اور دیگر لوگوں کے حقوق ہیں۔ * اس بات کو واضح کریں کہ مسلمان ہر جگہ آداب کی پابندی کرتا ہے۔
سولہویں حدیث: طاقت ور مومن کمزور مومن سے زیادہ بہتر ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : ”طاقت ور مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور محبوب ہے۔ تاہم خیر تو دونوں ہی میں ہے۔ جو چیز تمہارے لیے فائدے مند ہو، اس کی حرص رکھو اور اللہ سے مدد مانگو اور عاجز نہ بنو۔ اگر تم پر کوئی مصیبت آ جائے، تو یہ نہ کہو کہ اگر میں ایسا کر لیتا، تو ایسا ہوجاتا۔ بلکہ یہ کہو کہ یہ اللہ کی تقدیر ہے اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ کیوں کہ ”اگر“ شیطان کے عمل دخل کا دروازہ کھول دیتا ہے۔“ اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ [12] [12] صحیح مسلم، كتاب القدر، باب: في الامر بالقوة وترك العجز، والاستعانة بالله وتفويض المقادير لله، حدیث نمبر: (2664)، سنن ابن ماجہ، المقدمۃ، باب: في القدر، حدیث نمبر: (79) اور بیہقی کی السنن الكبرى، كتاب آداب القاضي، باب: فضل المؤمن القوي الذي يقوم بأمر الناس ويصبر على أذاهم۔
راوی کا تعارف:
راوی کا تعارف بارہویں حدیث میں گزر چکا ہے۔
الفاظ کے معانی:
معانی
الفاظ
یعنی: ایمان، علم، عزیمت اور جسم وغیرہ میں۔
القَوِيّ
دینی اور دنیوی امور میں (قوی ہونا)۔
اس چیز پر جو تمہیں نفع پہنچائے
اسی پر توکل کرو اور اسی کی پناہ لو۔
اور اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرو
عمل کے بارے میں
اور عاجز نہ ہو
اللہ تعالیٰ کے تکلیف دہ فیصلوں سے۔
اور اگر تم کو کوئی پریشانی لاحق ہو
جیسے وسوسے لاحق ہوں اور ماضی پر افسوس ہو۔
شیطانی عمل
حدیث کی ہدایات :
اسلام مسلمان کی رہنمائی کرتا ہے کہ وہ اپنے ایمان، علم، ارادے اور جسم میں مضبوط ہو۔
قوی مومن کو چاہیے کہ وہ اپنی طاقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور دوسروں کی مدد کرنے میں استعمال کرے۔
ہر مومن میں خیر ہے اگرچہ وہ کمزور ہی کیوں نہ ہو۔
مسلمان کو چاہیے کہ وہ سست وکاہل نہ ہو اور خیر وبھلائی کے کام کرنے سے عاجز نہ رہے۔
مسلمان پر واجب ہے کہ اپنے تمام افعال میں اللہ سے مدد طلب کرے اور راحت اور تکلیف میں اسی کی طرف رجوع کرے۔
قضا وقدر پر ایمان لانا اور مصائب پر صبر کرنا واجب ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے گزری ہوئی باتوں پر ندامت کے طور پر لفظ "اگر" کہنے سے منع فرمایا ہے؛ کیونکہ یہ شیطان کے وسوسوں کی چابی ہے اور اس کا استعمال ایک طرح سے اللہ کے لکھے پر ناراضگی کا اظہار ہے۔
سوالات برائے مناقشہ :
س1: نبیﷺ کے اس ارشاد کا کیا مطلب ہے: "جو چیز تمہیں نفع پہنچانے والی ہو، اس کی حرص رکھو، اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرو اور عاجز نہ بنو؟"
س2 : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : "طاقت ور مومن ۔۔۔۔۔۔۔ سے بہتر ہے"۔ اپنی یاد سے حدیث مکمل کریں۔
سوال 3 - قضا و قدر پر ایمان رکھنا واجب ہے، یہ بات آپ کو اس حدیث سے کیسے معلوم ہوئی؟
س 4 : جس شخص کو بیماری یا کسی قریبی رشتہ دار کی موت جیسی مصیبت پہنچے، اس پر کیا واجب ہے؟
س5: اس حدیث سے دو فوائد مستنبط کریں۔
سوالات:
س1 : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی تشریح کریں: "کیوں کہ لفظ 'اگر' شیطان کے عمل کے راستے کھول دیتا ہے۔"
سوال 2 : حدیث سے حاصل ہونے والے فوائد کی روشنی میں نیچے دیے گئے الفاظ کو مفید جملوں میں استعمال کریں :
مدد طلب کرنا - قوت - مفید - حریص۔
س 3 : نیچے دی گئی عبارتوں کو درست کریں:
مضبوط مومن وہ ہے جو نماز کے لیے تاخیر سے آتا ہے۔
والدین کے حکم کی تعمیل میں کوتاہی کرنا اس عجز میں داخل ہے جس سے منع کیا گیا ہے۔
مصیبتیں اللہ کی تقدیر کا حصہ نہیں ہیں۔
قوت سے مراد صرف جسمانی قوت ہے۔
س4- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ جو کچھ جانتے ہیں بیان کریں [13]۔ [13] معلم کے لیے ہدایات : * حدیث میں مذکور قوت کی قسمیں بیان کریں۔ یہ قوت جس طرح ایمان میں ہوتی ہے، اسی طرح علم میں بھی ہوتی ہے، اور جس طرح ارادے اور عزم و حوصلے میں ہوتی ہے، اسی طرح جسم میں بھی ہوتی ہے۔ * اس قوت کا مقصد اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر قوت حاصل کرنا ہے۔ * یہ واضح کریں کہ جو کچھ بھی پیش آتا ہے وہ اللہ کی قضا و قدر کا حصہ ہے۔ اس سلسلے میں 'فتح المجید شرح کتاب التوحید' از شیخ عبد الرحمن بن حسن رحمہ اللہ کی جانب رجوع کیا جائے۔
سترہویں حدیث : اجازت طلب کرنے کے کچھ آداب
ابو موسى اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے : ’’اجازت تین بار طلب کی جائے گی۔ پھر اگر تم کو اجازت ملتی ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ تم واپس ہو جاؤ۔‘‘ متفق علیہ [14] [14] اس حدیث کو مسلم نے كتاب الآداب، باب: الاستئذان میں، حدیث نمبر : (2154) کے تحت روایت کیا ہے۔ مذکورہ الفاظ مسلم کے روایت کردہ ہیں۔ بخاری نے بھی اسے ذرا مختلف الفاظ کے ساتھ كتاب الاستئذان، باب: التسليم والاستئذان ثلاثا میں حدیث نمبر : (6245) کے تحت روایت کیا ہے۔
راوی کا تعارف:
اس راوی کا تعارف گیارہویں حدیث میں گزر چکا ہے۔
الفاظ کے معانی:
الفاظ
معانی
الاستِئْذانُ
اندر آنے کی اجازت طلب کرنا
ثَلاث
تین مرتبہ
حدیث کی ہدایات :
اجازت طلبی کے کچھ آداب ہیں، جنہیں سیکھنا ضروری ہے، تاکہ مسلمان اپنی زندگی میں ان پر عمل کر سکے۔
اجازت طلب کرنے کے آداب میں سے ایک یہ ہے کہ تین دفعہ دروازہ کھٹکھٹائے اور ہر دفعہ کے درمیان کچھ وقفہ ہو؛ تاکہ سننے والے کو جواب دینے کا موقع مل سکے۔ پھر اگر اس کا غالب گمان ہو کہ گھر والے نے اس کے کھٹکھٹانے کی آواز نہیں سنی، تو تین دفعہ سے زیادہ کھٹکھٹانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
اگر اجازت مل جائے تو ٹھیک ہے۔ اور اگر نہ ملے، تو اس بات کا برا مانے بغیر واپس لوٹ جائے۔
اجازت طلب کرنے کے لیے اس طرح دستک دی جائے کہ اندر موجود شخص سن لے اور یہ باعثِ تکلیف نہ ہو۔ گاڑی کا ہارن یا سائیکل کی گھنٹی نہ بجائی جائے، بلند آواز سے پکارا نہ جائے اور گھر کی گھنٹی دیر تک نہ بجائی جائے۔
گھر میں داخل ہونے، کلاس روم میں داخل ہونے اور نجی مقامات کے لیے اجازت طلب کی جاتی ہے۔
مسلمان کسی دوسرے شخص کے خاص کمرے میں اس کی اجازت کے بغیر داخل نہیں ہوتا۔
سوالات برائے مناقشہ :
س1 : اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لے لو اور وہاں کے رہنے والوں کو سلام نہ کرلو۔ یہی تمہارے لیے سراسر بہتر ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو. اگر وہاں تمہیں کوئی بھی نہ مل سکے تو پھر اجازت ملے بغیر اندر نہ جاؤ۔ اگر تم سے لوٹ جانے کو کہا جائے تو تم لوٹ ہی جاؤ۔ یہی بات تمہارے لیے پاکیزه ہے۔ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔" [15] [سورہ نور : 27-28]، دونوں آیات سے اجازت طلب کرنے کے آداب اخذ کریں۔ [15] تَسْتَأنِسُوا کا معنی ہے: تم اجازت طلب کرو۔
س2: اجازت طلب کرنے سے کیا مراد ہے؟ اور یہ کس طرح ہوتا ہے؟
س3 : حدیث سے دو فائدے مستنبط کریں؟
سوالات:
س1 - جسے داخل ہونے کی اجازت نہ ملے وہ کیا کرے؟
س2 : صحیح یا غلط (×) کا نشان لگائیں اور غلطی درست کریں:
دروازے کے سوراخ سے دیکھنا جائز ہے ( )۔
اگر گھر والے نہ سنیں تو تین مرتبہ سے زیادہ دستک دینے میں کوئی حرج نہيں ہے ( )۔
س 3 : اجازت طلب کرنے کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟
س4- ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ جو کچھ جانتے ہیں بیان کریں[16]۔ [16] معلم کے لیے ہدایات : * طلبہ کے دلوں میں عام آداب کا شعور بیدار کریں، جن میں سے ایک اجازت طلب کرنے کا ادب ہے۔ * یہ واضح کریں کہ اسلام نے اجازت لینے کو مشروع کر کے، گھروں کے اندر چھپانے کے قابل باتوں اور گھر والوں کی پوشیدہ باتوں پر پردہ ڈالنے کا، کتنا زیادہ اہتمام کیا ہے۔ * یہ بتائيں کہ اجازت طلب کرنے کے بہت سے آداب ہیں۔ مثلا : - دروازے کو نرمی سے کھٹکھٹانا۔ - اجازت طلب کرنے والے کا دروازے کے بالکل سامنے کھڑا نہ ہونا، بلکہ اس کے دائیں یا بائیں طرف ہٹ جانا۔ - جب پوچھا جائے کہ دروازے پر کون ہے، تو فلاں بن فلاں کہنا، اور 'میں' نہ کہنا؛ کیونکہ یہ ہر کسی پر صادق آتا ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کا دروازہ کھٹکھٹایا، تو آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: "کون ہے"؟ میں نے عرض کیا: میں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: "میں، میں"۔ گویا آپ ﷺ نے اسے ناپسند فرمایا۔
اٹھارہویں حدیث: ایمان کی حلاوت
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے : "تین باتیں ایسی ہیں کہ جس بندہ کے اندر پائی گئیں، اس نے ان کے ذریعہ ایمان کی حلاوت اور مٹھاس کو پالیا۔ پہلی بات یہ ہے کہ اس کے نزدیک اللہ اور اس کے رسول ساری دنیا سے بڑھ کر محبوب ہوں۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ جس آدمی سے محبت کرتا ہو، اس سے صرف اللہ کی رضا کی خاطر محبت کرتا ہو اور تیسری بات یہ ہے کہ اسے دوبارہ کفر میں لوٹ جانا، جب کہ اللہ تعالی نے اسے اس کفر سے نکال لیا ہے، ایسے ہی ناپسند ہو، جیسے وہ یہ ناپسند کرتا ہو کہ اسے آگ میں ڈالا جائے۔" متفق علیہ [17]۔ [17] صحیح بخاری، كتاب الايمان، باب: حَلاوَة الايمان، حدیث نمبر: (16)، اور صحیح مسلم، كتاب الايمان، باب: بَيان خِصالٍ مَن اتَّصَف بِهِنّ وَجَدَ حَلاوَةَ الايمان، حدیث نمبر: (43)۔ الفاظ مسلم کے ہیں۔
راوی کا تعارف:
جلیل القدر صحابی ابو حمزہ انس بن مالک انصاری خزرجی۔ جب دس سال کے تھے تو ان کی والدہ اُمّ سُلیم انہیں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں لے کر آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ، یہ میرا لڑکا انس ہے جو آپ کی خدمت کرے گا۔ چنانچہ نبی ﷺ نے انہیں قبول کر لیا اور ان کے لیے دعا کرتے ہوئے فرمایا : "اے اللہ! اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کردے اور اسے جنت میں داخلہ نصیب فرما"۔ [18]، رسول اللہ ﷺ سے کثرت سے احادیث روایت کرنے والے صحابہ میں شامل ہیں۔ بصرہ میں وفات پانے والے سب سے آخری صحابی ہیں۔ ان کی وفات 93ھ میں ہوئی۔ اللہ ان سے خوش ہو اور انہیں خوش کردے۔ [18] انس کہتے ہیں: "میں نے اپنی صلبی اولاد میں سے، اپنے پوتوں اور نواسوں کے علاوہ، ایک سو پچیس (125) بچوں کو خود اپنے ہاتھوں سے دفن کیا ہے اور میری زمین سال میں دو مرتبہ پھل دیتی ہے"۔ دیکھیں: الاصابۃ لابن حجر (1/72)۔
الفاظ کے معانی:
الفاظ
معانی
ثَلاث
تین خصلتیں یا صفات۔
حَلاوَة الإيمانِ
ایمان کی لذت: اس سے مراد دل کا اطمینان، نفس کی راحت اور اطاعت بجا لانے کی محبت ہے۔
وہ اس سے صرف اللہ کے لیے محبت کرے۔
وہ اس سے محبت نہ کرے۔
حدیث کی ہدایات :
ایمان کی ایک چاشنی ہوتی ہے، جس سے صرف وہی شخص محظوظ ہو سکتا ہے جو سچے مومنین کی صفات سے متصف ہو۔
مومن کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کو تمام مخلوق کی محبت پر مقدم رکھے، یہاں تک کہ اپنے والد، اپنی اولاد اور اپنی جان پر بھی۔
جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کی، وہ ان کے حکموں کی تعمیل اور ان کی منع کردہ باتوں سے اجتناب کے سلسلے میں ان کی اطاعت کرے گا۔
مسلمان کی صفات میں یہ بات بھی داخل ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت کرے، جس کی علامت یہ ہے کہ وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہو۔
ایک مسلمان پر واجب ہے کہ وہ کفر کو اسی طرح ناپسند کرے جس طرح وہ آگ میں ڈالے جانے کو ناپسند کرتا ہے۔
سوالات برائے مناقشہ :
س1 : نبی ﷺ نے فرمایا ہے : ”تین باتیں جس شخص میں ہوں اس نے ............ پا لی“۔ اپنی یاد سے حدیث مکمل کریں۔
س2- انسان کی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کی دلیل بیان کیجیے۔
س4: وہ علامت بیان کریں جس سے آپ اپنے مسلمان بھائی سے اپنی محبت کو پہچان سکیں۔
سوالات:
س1 : جس میں یہ تین صفات پائی جائیں اسے کیا حاصل ہوتا ہے؟
س2 - اللہ تعالیٰ نے سورۂ حشر میں اپنے نبی اور صحابہ کرام کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے : "اور (ان کے لیے) جنہوں نے اس گھر (یعنی مدینہ) میں اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنالی ہے اور اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ دے دیا جائے اس سے وه اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہیں رکھتے، بلکہ خود اپنے اوپر انہیں ترجیح دیتے ہیں، گو خود کو کتنی ہی سخت حاجت ہو۔ (بات یہ ہے) کہ جو بھی اپنے نفس کے بخل سے بچایا گیا وہی کامیاب (اور بامراد) ہے۔" [سورہ حشر : 9]۔
اس آیت کریمہ میں مذکور نبی ﷺ کی صفات بیان کریں۔
س3: کفر اور اہل کفر کے بارے میں آپ پر کیا واجب ہے؟
س4- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ جو جانتے ہیں بیان کریں [19]۔ [19] معلم کے لیے ہدایات : * اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "کہہ دیجیے! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناه معاف فرما دے گا..." [سورہ آل عمران: 31]۔ معلم کو چاہیے کہ: * اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے جو کچھ آیا ہے اس کی تابعداری کا معنی بیان کرے اور اس کی ترغیب دے۔ * اللہ کی خاطر محبت کی فضیلت بیان کرے اور دنیا اور آخرت میں اس کے اثرات سے آگاہ کرے۔
انیسویں حدیث: لوگوں پر رحم کرنا
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : ”جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اس پر اللہ بھی رحم نہیں کرتا“۔ اسے امام مسلم اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔[20] [20] صحیح بخاری : کتاب الادب، باب : رحمۃ الناس والبہائم، حدیث : (6013)، اور صحیح مسلم : کتاب الفضائل، باب : رحمتہ ﷺ الصبیان والعیال وتواضعہ وفضل ذلک، حدیث نمبر : (2319)۔ الفاظ انہی کے ہیں۔ سنن ترمذی : کتاب البر والصلۃ، باب : ما جاء فی رحمۃ المسلمین، حدیث : (1922)۔ ابو عیسیٰ ترمذی نے کہا ہے : "یہ حدیث صحیح ہے"۔
راوی کا تعارف:
آپ صحابی جلیل جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ ہیں۔ نبی ﷺ کے بعد مختلف معرکوں میں شرکت کی اور فتح قادسیہ میں آپ کا عظیم کردار رہا۔ نبی ﷺ سے متعدد احادیث روایت کی ہیں۔ جریر فرماتے ہیں: "جب سے میں اسلام لایا ہوں، نبی ﷺ نے مجھے کبھی (اپنے پاس آنے سے) نہیں روکا، اور جب بھی مجھے دیکھا مسکرا دیے۔" سنہ 51 ہجری میں وفات پائی، رضی اللہ عنہ۔
حدیث کی ہدایات :
مسلمان کا لوگوں پر رحم کرنا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر رحم کیے جانے کا سبب بنتا ہے۔
لوگوں پر رحم کرنا سچے مومنوں کا ایک وصف ہے۔
لوگوں کا احترام کرنا، ان کی مدد کرنا، ان پر شفقت کرنا اور یتیم کی دیکھ بھال کرنا ان پر رحم کرنے میں شامل ہے۔
خادموں، ڈرائیوروں اور مزدوروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور انہیں اذیت نہ دینا ان پر رحمت ومہربانی میں شامل ہے۔
جو درشتی، جفا اور سنگ دلی کی صفت سے متصف ہو، اس کے اندر لوگوں پر رحم کرنے کا جذبہ نہیں ہوتا۔
سوالات برائے مناقشہ :
س1 : مومن کی بعض ایسی صفات ذکر کریں جنہیں اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے۔
س2 - لوگوں پر رحم کرنے والے کے عمل کا کیا نتیجہ ہے؟
س3 : اپنی معلومات سے ایک ایسا قصہ ذکر کریں جس میں رحم کا بیان ہو؟
سوالات:
س1 : اللہ تعالی نے اپنے رسول ﷺ سے فرمایا ہے : "اللہ تعالیٰ کی رحمت کے باعث آپ ان پر نرم دل ہیں اور اگر آپ بد زبان اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے چھٹ جاتے، سو آپ ان سے درگزر کریں اور ان کے لیے استغفار کریں اور کام کا مشوره ان سے کیا کریں...۔" الآية [سورہ آل عمران : 159]۔
اس آیتِ کریمہ میں وہ کون سی صفات ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ نے ڈرایا ہے؟
س2 : آنے والے جملوں میں موجود غلطیوں کو درست کریں:
لوگوں کو تکلیف دینا اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سبب ہے۔
سختی مومنوں کا ایک وصف ہے۔
والدین کے ساتھ درشتی سے پیش آنا ان کے ساتھ حسن سلوک میں داخل ہے۔
س3 : معذوروں کے تئیں آپ پر کیا واجب ہوتا ہے؟
س4- جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ جو کچھ جانتے ہیں بیان کریں[21]۔ [21] معلم کے لیے ہدایات: * رحمت ہر اس مخلوق کو شامل ہے جس پر رحم کیا جانا چاہیے، لہٰذا رحمت کے بعض مظاہر اور شواہد کا ذکر کرنا مناسب ہے۔ دیکھیے: صحیح بخاری، کتاب الادب، باب: رَحْمَة الوَلَد وتَقْبِيله ومُعانَقَته (اولاد پر رحم کرنا، انہیں چومنا اور گلے لگانا)، باب نمبر (18)، اور باب: رَحْمَة النّاس والبَهائِم (لوگوں اور چوپایوں پر رحم کرنا)، باب نمبر (27)۔
بیسویں حدیث: ایک مسلمان کی دوسرے مسلمان بھائی سے محبت
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے : "تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا، جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہ کرے، جو اپنے لیے پسند کرتا ہو"۔ متفق علیہ [22]۔ [22] اسے بخاری نے كتاب الايمان، باب: مِن الايمان أن يُحِبَّ لاخِيهِ ما يُحِبّ لِنَفْسِه، حدیث نمبر (13) کے تحت اور مسلم نے كتاب الايمان، باب: الدَّليِل على اَنَّ مِن خِصال الايمان أن يُحِبّ لاَخِيهِ المُسلِم ما يُحِبُّه لِنَفْسِه مِن الخَيْرِ، حدیث نمبر (45) کے تحت روایت کیا ہے۔
راوی کا تعارف:
اٹھارہویں حدیث میں راوی کا تعارف گزر چکا ہے۔
حدیث کی ہدایات :
محبت سچے مومنوں کا ایک وصف ہے۔
کمال ایمان میں یہ بات بھی داخل ہے کہ مسلمان اپنے مسلمان بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہو، اور اس کے لیے وہی ناپسند کرے جو اپنے لیے ناپسند کرتا ہو۔
حسد، کینہ اور بغض ایسی بیماریاں ہیں جو ایمان کو گھٹاتی ہیں۔
اپنے مسلمان بھائی سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ اس کی غلطی کی اصلاح کریں، خیر کی طرف اس کی راہنمائی کریں اور اس پر ظلم کرنے سے باز رہیں۔
ایک مسلمان کو ان تمام چیزوں سے خبردار رہنا چاہیے جو محبت کو متاثر کرتی ہیں جیسے خود غرضی [23] وغیرہ۔ [23] انانیت یہ ہے کہ آپ دوسروں کو چھوڑ کر ہر چیز اپنے لیے پسند کریں۔
سوالات برائے مناقشہ :
س1- محبت اور بغض دو متضاد الفاظ ہیں۔ ان کے درمیان چند فرق بیان کریں۔
س2 : اپنے مسلمان بھائی سے آپ کی محبت کی کیا علامت ہے؟
س3 : ایمان کی کمی پر دلالت کرنے والے امور میں سے ایک آپ کا اپنے مسلمان بھائی سے حسد کرنا بھی ہے۔ اس کی وضاحت کریں۔
سوالات:
س1 : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : "سات لوگوں کو اللہ اپنے (عرش کے) سائے میں اس دن جگہ دے گا، جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا..."۔ پھر آپ نے ان ساتوں میں سے ایک کا ذکر ان الفاظ میں کیا : "دو ایسے اشخاص جو اللہ کے لیے آپس میں محبت رکھتے ہوں، اسی کی بنیاد پر یک جا ہوتے ہوں اور اسی کی بنیاد پر علاحدہ ہوتے ہوں"۔ متفق علیہ [24]۔ [24] اس حدیث کو امام بخاری نے کتاب الآذان، باب: مَن جَلَس فِي المَسْجِد يَنْتَظِر الصَّلاةَ وفَضْل المَساجِد میں، حدیث نمبر: (660) کے تحت اور مسلم نے کتاب الزكاة، باب: فَضْل إخفاء الصَّدَقَة میں، حدیث نمبر: (1031) کے تحت روایت کیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی خاطر باہم محبت کرنے والوں کی کیا جزا بیان فرمائی ہے؟
س2 : محبت پیدا کرنے والی چيزيں کیا کیا ہیں؟
س3 : حدیث سے حاصل کیے گئے فوائد کی روشنی میں نیچے دیے گئے الفاظ کو مفید جملوں میں استعمال کریں:
گمراہ کی رہ نمائی، حقد و کینہ، محتاج کی مدد، والدین سے محبت، معلم۔
س4- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ جو کچھ جانتے ہیں بیان کریں [25]۔ [25] معلم کے لیے ہدایات: * معلم کو چاہیے کہ وہ حدیث کے اسباق مکمل کرتے وقت دلوں کی صفائی اور طلبہ کی آپسی محبت پر توجہ مرکوز کرے، اور انہیں نفرت، حسد اور کینہ وغیرہ جیسی بری صفات سے متنفر کرے۔ * بہتر ہوگا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بعض صفات کا ذکر کیا جائے۔ خاص طور سے انہیں بتائيں کہ کس طرح رسول اللہ ﷺ کی مدینہ ہجرت کے موقع پر آپ ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخات قائم فرمائی اور اپنے دینی بھائیوں کو اپنے گھروں تک دینے کے مناظر دیکھنے کو ملے۔
Related books
All books
المناهج التعليمية - الصف الثالث7 زبانیںالمناهجالتعليميةالمناهج التعليمية - الصف الثالث
یہ کتاب تیسرے درجے کے لیے تیار شدہ توحید کے مضمون کی وضاحت کرتی ہے۔ یہ دین کے تین درجات یعنی اسلام، ایمان اور احسان کے مطالعے پر توجہ مرکوز کرتی ہے، ہر درجے کے مفہوم کو تفصیل سے بیان کرتی ہے، اسلام اور ایمان کے ارکان کی تشریح اور توحید کی گواہی کی اہمیت بیان کرتی ہے، اللہ، اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں پر ایمان کو مضبوط کرنے کی اہمیت بتاتی ہے اور آخر میں شرعی نصوص سے استدلال کے ساتھ دین کے اعلیٰ ترین درجے کے طور پر احسان کے مقام کو واضح کرتی ہے۔
عنوان: نصاب تعلیم، علمِ فقہ، درجہ (چہارم)۔7 زبانیںعنوان: نصاب تعلیم، علمِ فقہ، درجہ (چہارم)۔
مختصر تعارف: اس علمی مواد کو مملکت سعودی عرب میں طلبہ کے لیے مقرر کردہ تعلیمی نصاب کی تہذیب اور خلاصہ سمجھا جا سکتا ہے۔ اسے کئی درجات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس مواد میں علمِ فقہ کے مطالعہ سے متعلق حصہ بھی شامل ہے، جو بارہ (12) درجات میں منقسم ہے۔ چوتھے درجے میں شامل اہم ترین موضوعات اور مسائل درج ذیل ہیں: طہارت اور اس کی فضیلت، وضو کی شرائط، اس کے فرائض، اس کی سنتوں اور نواقض کا بیان۔ اذان اور اقامت کے طریقے کی وضاحت۔ نماز کی ان شرطوں کی وضاحت جن کے بغیر نماز صحیح نہیں ہوتی۔ فرض نمازوں کے اوقات، ارکان اور واجبات کا بیان۔
عنوان: نصابِ تعلیم، علمِ فقہ، درجہ (پنجم)۔4 زبانیںعنوان: نصابِ تعلیم، علمِ فقہ، درجہ (پنجم)۔
مختصر تعارف: اس علمی مواد کو مملکت سعودی عرب میں طلبہ کے لیے مقرر کردہ تعلیمی نصاب کی تہذیب اور اختصار سمجھا جا سکتا ہے۔ اسے کئی درجات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس مواد میں علمِ فقہ کے مطالعہ سے متعلق حصہ بھی شامل ہے، جو بارہ (12) درجات میں منقسم ہے۔ پانچویں درجے میں شامل اہم ترین موضوعات اور مسائل درج ذیل ہیں: پانی کی قسمیں، ان کے احکام اور ہر قسم کی مثالیں۔ موزوں پر مسح کے احکام اور تیمم کے طریقے کا بیان۔ نماز کے تفصیلی طریقے، اس میں مکروہ افعال اور ان اوقات کا بیان جن میں نماز پڑھنا منع ہے۔ سجدۂ سہو کے احکام کا بیان۔
مشروع منهاج زادك5 زبانیںمشروع منهاج زادك
جمعیۃ الدعوہ والارشاد و توعیۃ الجالیات، روضہ دین سے آگاہی پہلا مرحلہ پیش لفظ سب تعریف اللہ تعالی کے لیے ہے، جس نے انسان کو پیدا کیا، اسے علم و بیان کے ذریعہ عزت بخشى اور قرآن و سنت کے ذریعے اس پر حجت قائم کر دی۔ درود و سلام ہو ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر، آپ کے اہل و عیال، صحابۂ کرام اور ہر اس شخص پر جو قیامت تک بحسن وخوبی ان کی اتباع کرے گا۔