Skip to content
سورتوں کی فہرست /

الفُرقَان

الفُرقَان is chapter ٢٥ of the Quran and has ٧٧ verses. This page presents it in full in the Uthmani script, with a verse-by-verse translation of its meaning.

77 آیات سورت نمبر ٢٥
آیت پر جائیں
الترجمة الأردية - محمد جوناكرهي
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تَبَارَكَ ٱلَّذِي نَزَّلَ ٱلۡفُرۡقَانَ عَلَىٰ عَبۡدِهِۦ لِيَكُونَ لِلۡعَٰلَمِينَ نَذِيرًا

بہت بابرکت ہے وه اللہ تعالیٰ جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تاکہ وه تمام لوگوں کے لئے آگاه کرنے واﻻ بن جائے.

Explanation & meanings · ٢
  1. فرقان کے معنی ہیں حق وباطل، توحید وشرک اور عدل وظلم کے درمیان فرق کرنے والا، اس قرآن نے کھول کر ان امور کی وضاحت کردی ہے، اس لئے اسے فرقان سے تعبیر کیا۔
  2. اس سے بھی معلوم ہوا کہ نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کی نبوت عالم گیر ہے اور آپ تمام انسانوں اور جنوں کے لئے ہادی ورہنما بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا «قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا» (الأعراف - 158) اور حدیث میں بھی فرمایا «بُعِثْتُ إِلَى الأَحْمَرِ وَالأَسْوَدِ» (صحيح مسلم، كتاب المساجد) «كَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً، وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً» (صحيح بخاري، كتاب التيمم ومسلم كتاب المساجد) ”مجھے احمر واسود سب کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہے۔ پہلے نبی کسی ایک قوم کی طرف معبوث ہوتا تھا اور میں تمام لوگوں کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں“۔ رسالت ونبوت کے بعد، توحید کا بیان کیا جا رہا ہے۔ یہاں اللہ کی چار صفات بیان کی گئی ہیں۔

ٱلَّذِي لَهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَلَمۡ يَتَّخِذۡ وَلَدٗا وَلَمۡ يَكُن لَّهُۥ شَرِيكٞ فِي ٱلۡمُلۡكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَيۡءٖ فَقَدَّرَهُۥ تَقۡدِيرٗا

اسی اللہ کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین کی اور وه کوئی اوﻻد نہیں رکھتا، نہ اس کی سلطنت میں کوئی اس کا ساجھی ہے اور ہر چیز کو اس نے پیدا کرکے ایک مناسب اندازه ٹھہرا دیا ہے.

Explanation & meanings · ٤
  1. یہ پہلی صفت ہے یعنی کائنات میں متصرف صرف وہی ہے، کوئی اور نہیں۔
  2. اس میں نصاریٰ، یہود اور بعض ان عرب قبائل کا رد ہے جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔
  3. اس میں صنم پرست مشرکین اور ثنویت (دو خداؤں شر اور خیر، ظلمت اور نور کے خالق) کے قائلین کا رد ہے۔
  4. ہر چیز کا خالق صرف وہی ہے اور اپنی حکمت ومشیت کے مطابق اس نے اپنی مخلوقات کو ہر وہ چیز بھی مہیا کی ہے جواس کے مناسب حال ہے یا ہر چیز کی موت اور روزی اس نے پہلے سے ہی مقرر کردی ہے۔

وَٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ ءَالِهَةٗ لَّا يَخۡلُقُونَ شَيۡـٔٗا وَهُمۡ يُخۡلَقُونَ وَلَا يَمۡلِكُونَ لِأَنفُسِهِمۡ ضَرّٗا وَلَا نَفۡعٗا وَلَا يَمۡلِكُونَ مَوۡتٗا وَلَا حَيَوٰةٗ وَلَا نُشُورٗا

ان لوگوں نے اللہ کے سوا جنہیں اپنے معبود ٹھہرا رکھے ہیں وه کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے بلکہ وه خود پیدا کئے جاتے ہیں، یہ تو اپنی جان کے نقصان نفع کا بھی اختیارنہیں رکھتے اور نہ موت وحیات کے اور نہ دوباره جی اٹھنے کے وه مالک ہیں.

Explanation & meanings · ١
  1. لیکن ظالموں نے ایسے ہمہ صفات موصوف رب کو چھوڑ کر ایسے لوگوں کو رب بنا لیا ہے جو اپنے بارے میں بھی کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتے چہ جائیکہ وہ کسی اور کے لئے کچھ کرسکنے کے اختیارات سے بہرہ ور ہوں۔ اس کے بعد منکرین ثبوت کے شہبات کا ازالہ کیا جا رہا ہے۔

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّآ إِفۡكٌ ٱفۡتَرَىٰهُ وَأَعَانَهُۥ عَلَيۡهِ قَوۡمٌ ءَاخَرُونَۖ فَقَدۡ جَآءُو ظُلۡمٗا وَزُورٗا

اور کافروں نے کہا یہ تو بس خود اسی کا گھڑا گھڑایا جھوٹ ہے جس پر اور لوگوں نے بھی اس کی مدد کی ہے، دراصل یہ کافر بڑے ہی ﻇلم اور سرتاسر جھوٹ کے مرتکب ہوئے ہیں.

Explanation & meanings · ١
  1. مشرکین کہتے تھے کہ محمد ( (صلى الله عليه وسلم) ) نے یہ کتاب گھڑنے میں یہود سے یا ان کے بعض موالی (مثلاً ابوفکیہہ یسار، عداس اور جبروغیرہم) سے مدد لی ہے۔ جیسا کہ سورۃ النحل، آیت 103 میں اس کی ضروری تفصیل گزرچکی ہے۔ یہاں قرآن نے اس الزام کو ظلم اور جھوٹ سے تعبیر کیا ہے، بھلا ایک امی شخص دوسروں کی مدد سے ایسی کتاب پیش کر سکتا ہے جو فصاحت و بلاغت اور اعجاز کلام میں بےمثال ہو، حقائق ومعارف بیانی میں بھی معجزنگار ہو، انسانی زندگی کے لئے احکام وقوانین کی تفصیلات میں بھی لاجواب ہو اور اخبار ماضیہ اور مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات کی نشاندہی اور وضاحت میں بھی اس کی صداقت مسلم ہو۔

وَقَالُوٓاْ أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ ٱكۡتَتَبَهَا فَهِيَ تُمۡلَىٰ عَلَيۡهِ بُكۡرَةٗ وَأَصِيلٗا

اور یہ بھی کہا کہ یہ تو اگلوں کے افسانے ہیں جو اس نے لکھا رکھے ہیں بس وہی صبح وشام اس کے سامنے پڑھے جاتے ہیں.