محمد ﷺ کے اہل خانہ ، جب سے وہ مدینہ آئے، مسلسل تین راتیں گندم کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی، یہاں تک کہ آپ کی روح قبض کرلی گئی۔
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں:
محمد ﷺ کے اہل خانہ ، جب سے وہ مدینہ آئے، مسلسل تین راتیں گندم کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی، یہاں تک کہ آپ کی روح قبض کرلی گئی۔
مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ قَدِمَ المَدِينَةَ مِنْ طَعَامِ البُرِّ ثَلاَثَ لَيَالٍ تِبَاعًا، حَتَّى قُبِضَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ نبی ﷺ کے گھر والوں نے، جب سے وہ مدینہ آئے، مسلسل تین راتیں گندم کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی، یہاں تک کہ آپ ﷺ کی وفات ہوگئی۔
نبی ﷺ اور آپ کے اہل خانہ کی تنگ دستی کا بیان، کیونکہ اصل زندگی تو آخرت ہی کی زندگی ہے۔
ابن حجر کہتے ہیں: بظاہر ان کے اکثر شکم سیر نہ ہونے کی وجہ ان کے پاس چیزوں کی قلت تھی۔ حالانکہ کبھی انہیں کچھ مل بھی جاتا تھا، لیکن وہ خود پر دوسروں کو ترجیح دیتے تھے۔
مزید (4)
صحیح بخاری (7/ 75) (5416).
صحیح مسلم (4/ 2282) (2970).
المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم (7/ 129).
البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج (45/ 129).