وصيتي
میری وصیت
میری وصیت
تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لیے سزاوار ہیں۔ درود وسلام ہو اللہ کے رسول ﷺ پر۔ امّابعد:
میں (................................................) اور میرا شناختی نمبر:
میں نے شرعی طور پر اپنی معتبر حالت میں، جب میری عقل سلامت اور میرا ادراک درست تھا، وصیت کی کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حقیقی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی ساجھی اور شریک نہیں، اور بے شک محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، بے شک عیسٰی علیہ السلام اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور اس کے کلمہ (کن سے پیدا شدہ) ہیں جسے مریم (علیہا السلام) کی طرف ڈال دیا تھا اور اس کے پاس کی روح ہیں، اور جنت اور دوزخ بر حق ہیں، اور قیامت کا دن آنے والا ہے جس میں کوئی شک نہیں، اور اللہ تعالیٰ قبروں میں موجود لوگوں کو دوبارہ زندہ کرے گا۔
میں اپنے اہل خانہ کو وصیت کرتا ہوں کہ جب میری موت کا حادثہ پیش آئے تو صبر، رضا اور تسلیم سے کام لیں۔
میں ان کو وصیت کرتا ہوں کہ وہ ماتم اور خاص تعزیتی محافل منعقد نہ کریں اور سنت کی پیروی کا اہتمام کریں۔
اور انہیں وہی وصیت کرتا ہوں جو ابراہیم (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو کی تھی۔ "ہمارے بچو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے اس دین کو پسند فرمالیا ہے، خبردار! تم مسلمان ہی مرنا"۔
میں انہیں خلوت وجلوت میں اللہ تعالیٰ کے تقویٰ اور اس کی نگرانی کی وصیت کرتا ہوں، اور یہ کہ وہ اللہ کی حدود کا خیال رکھیں، اس کے احکام کی پیروی کریں اور اس کی ممنوعات سے اجتناب کریں، اور نماز کی پابندی کریں کیونکہ یہ دین کا ستون ہے۔
میں ان کو وصیت کرتا ہوں کہ وہ تفرقہ اور اختلاف سے بچیں، آپس میں رحم کریں، قطع تعلق نہ کریں، اپنے رشتہ داروں سے تعلقات قائم رکھیں، اپنے اموال کی حفاظت کریں، ان میں اللہ کے حدود کو ادا کریں، صرف حلال اور پاکیزہ تجارت کریں، سود سے، چاہے وہ کم ہو یا زیادہ، دور رہیں، اور اپنے دین و دنیا کی اصلاح کے لیے آپس میں تعاون کریں۔
میں انہیں مندرجہ ذیل باتوں کی بھی وصیت کرتا ہوں:
۱- میرے ذمہ جو قرض ہیں انہیں جلد از جلد ادا کردیں، کیونکہ: ”مومن کی روح اس کے قرض کے سبب معلق رہتی ہے یہاں تک کہ اس کی طرف سے (قرض) ادا کردیا جائے۔“
یہ مواقیت درج ذیل (پانچ) ہیں:
] اللہ عز و جل کے حقوق [ جیسے (زکاۃ، روزہ، کفارات اور نذریں) جوکہ یہ ہیں: ...........................................
........................................................................................................
] لوگوں کے حقوق [ یعنی (قرض، ودیعتیں اور امانتیں) جوکہ یہ ہیں:
رقم/ امانت ----- قرض دار / امانت ----- پتہ ----- موبائل ----- تاریخ ادائیگی / ادائيگی
۲- دوسروں کے پاس موجود میرے مال اور حقوق کی وصولی، جو کہ درج ذیل ہیں:
رقم ----- مقروض کا نام ----- اس کا پتہ ----- اس کا موبائل نمبر ----- تاریخ ادائیگی
۳- میرے اموال کا شمار جو کہ درج ذیل ہیں :
ا- میرے اکاؤنٹ میں جمع شدہ نقدی اموال اور ان کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
بینک ----- شاخ ----- اس کا نمبر ----- اکاؤنٹ نمبر آئی بان ----- اکاؤنٹ اس نام درج ہے ----- جو خاص ہے ....
ب- عینی جائيداد :
نیچے دیے گئے ڈیٹا میں واضح کردہ ملکیت:
جائیداد کی قسم ----- صک کا نمبر ----- اس کی تاریخ ----- جاری کنندہ ----- شہر ----- محلہ
۴- میں نے اپنے مال میں سے وصیت کی:
نقد کی مقدار: ( )۔
جائیداد کی ملکیت، جو کہ میرے واقعہ ملکیت میں ہے، محلہ ......... شہر ......... میں، صک نمبر ............. اور اس کی تاریخ .......
مقدار کی نسبت: ( % )۔
پنجم: مال کے سرپرست کا نام: ( ......................... ) اور اس کا شناختی نمبر: (..................... ) اور باقی ترکہ کے سرپرست کا نام: (........................ ) اور اس کا شناختی نمبر: ( ................... )
میرے نابالغ بچوں کی اچھی تربیت کرنے، ان کے مال کی حفاظت کرنے اور اس کی سرمایہ کاری کرنے کا سرپرست ہے: (................) اور اس کا شناختی نمبر ( ................. ) اور میری بیٹیوں کے نکاح کا سرپست ہے: (.................... ) اور اس کا شناختی نمبر ( ......................)
اور ان کے بعد وہ لوگ جو ان شرائط پر پورے اترتے ہوں: اسلام، رشد، امانت وقوت، عدل و صالحیت جہاں تک ممکن ہو، اور سرپرست کو اختیار ہے کہ وہ اپنے بعد آنے والے سرپرست کا انتخاب کرے، اور اسی طرح ہر سرپرست اپنے بعد آنے والے کے ساتھ۔
۶۔ وصیت کردہ مال کی آمدنی کو نیکی اور احسان کے کاموں میں خرچ کیا جائے:
خاص خیراتی مصارف : .....................................................................
اگر آمدنی میں سے کچھ بچ جائے تو اسے نیکی کے عام کاموں میں خرچ کیا جائے (تعلیمی میدان - سماجی اور امدادی میدان - دعوتی میدان - مساجد کا میدان - صحت کا میدان - با مقصد میڈیا کا میدان) اور قریبی رشتہ دار نیکی کے زیادہ حقدار ہیں، اور اگر کوئی ضرورت ہو تو قریبی رشتہ دار کو ترجیح دی جائے۔
اس وصیت کے اختتام پر میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ جو بھی مجھ سے خطا یا کوتاہی ہوئی ہو، اس کے لیے مجھے معاف کر دیں، اور کوئی بھی اس سے محفوظ نہیں ہے، اور اللہ ہی مددگار ہے۔ اور میں آپ کو یہ وصیت کرتا ہوں کہ میرے لیے کثرت سے دعا کریں، اور اللہ سے دعا ہے کہ وہ میرے اقرباء میں برکت عطا فرمائے، مجھے حسن خاتمہ سے نوارزے، مجھے اور میرے والدین کو معاف فرمائے، اور آخرت میں میرے اور میرے والدین اور تمام مسلمانوں کے درجات بلند فرمائے۔ اور میں نے اس پر گواہی دینے والوں کو اجازت دی، اور اللہ بہترین گواہ ہے۔
یہ وصیت ...................... کے دن تحرير کی گئی، مطابق / / 143 ھ، اور یہ اس سے پہلے کی وصیت کو منسوخ کرتی ہے۔
وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم۔
صفت ----- اسم ----- تاریخ ----- شناختی نمبر ----- دستخط
وصیت کرنے والا
پہلا گواہ
دوسرا گواہ
تنبیہ: یہ ایک مختصر وصیت ہے جو عام مسلمانوں کے لئے مناسب ہے، مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں، نیز آپ اپنی وصیتیں لکھ سکتے ہیں اور وصیت واوقاف کے ماہرین کے مرکز سے مفت مشورے حاصل کر سکتے ہیں، وصیت ایپ کے ذریعے۔
"جس مسلمان کے پاس کوئی ایسی شے ہو، جس کے بارے میں وصیت کرنا چاہے، اسے یہ زیب نہیں کہ دو راتیں بھی گزارے، مگر اس حال میں کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی موجود ہو"۔ بخاری - غلاف پر لکھا جائے
جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا، تب سے کوئی رات ایسی نہیں گزری کہ میرے پاس میری وصیت لکھی ہوئی موجود نہ ہو۔ عبداللہ بن عمر – غلاف پر رکھا جائے
خوش نصیب وہ ہے کہ جب اس کی سانسیں منقطع ہو جائیں تو اس کے اعمال منقطع نہ ہوں۔ ابن قدامہ – وصیت کے اخیر میں رکھا جائے
عام مسلمانوں کے لیے آسان وصیت- سرورق پر درج کریں