Skip to content
سورتوں کی فہرست /

العَنكبُوت

العَنكبُوت is chapter ٢٩ of the Quran and has ٦٩ verses. This page presents it in full in the Uthmani script, with a verse-by-verse translation of its meaning.

69 آیات سورت نمبر ٢٩
آیت پر جائیں
الترجمة الأردية - محمد جوناكرهي
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

أَحَسِبَ ٱلنَّاسُ أَن يُتۡرَكُوٓاْ أَن يَقُولُوٓاْ ءَامَنَّا وَهُمۡ لَا يُفۡتَنُونَ

کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان ﻻئے ہیں ہم انہیں بغیر آزمائے ہوئے ہی چھوڑ دیں گے؟.

Explanation & meanings · ١
  1. یعنی یہ گمان کہ صرف زبان سے ایمان لانے کے بعد، بغیر امتحان لیے، انہیں چھوڑ دیا جائے گا، صحیح نہیں۔ بلکہ انہیں جان ومال کی تکالیف اور دیگر آزمائشوں کے ذریعے سے جانچا پر کھا جائے گا تاکہ کھرے کھوٹے کا، سچے جھوٹے کا اور مومن ومنافق کا پتہ چل جائے۔

وَلَقَدۡ فَتَنَّا ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۖ فَلَيَعۡلَمَنَّ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ صَدَقُواْ وَلَيَعۡلَمَنَّ ٱلۡكَٰذِبِينَ

ان سے اگلوں کو بھی ہم نے خوب جانچا ۔ یقیناً اللہ تعالیٰ انہیں بھی جان لے گا جو سچ کہتے ہیں اور انہیں بھی معلوم کرلے گا جو جھوٹے ہیں.

Explanation & meanings · ١
  1. یعنی یہ سنت الٰہی ہے جو پہلے سے چلی آرہی ہے۔ اس لیے وہ اس امت کے مومنوں کی بھی آزمائش کرے گا، جس طرح پہلی امتوں کی آزمائش کی گئی۔ ان آیات کی شان نزول کی روایات میں آتا ہے کہ صحابہ کرام (رضي الله عنهم) نے اس ظلم وستم کی شکایت کی جس کا نشانہ وہ کفار مکہ کی طرف سے بنے ہوئے تھے اور رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) سے دعا کی درخواست کی تاکہ اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرمائے۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا کہ یہ تشدد وایذا تو اہل ایمان کی تاریخ کا حصہ ہے۔ تم سے پہلے بعض مومنوں کا یہ حال کیا گیا کہ انہیں ایک گڑھا کھود کر اس میں کھڑا کر دیا گیا اور پھر ان کے سروں پر آرا چلا دیا گیا، جس سے ان کے جسم دو حصوں میں تقسیم ہوگئے، اسی طرح لوہے کی کنگھیاں ان کے گوشت پر ہڈیوں تک پھیری گئیں۔ لیکن یہ ایذائیں انہیں دین حق سے پھیرنے میں کامیاب نہیں ہوئیں۔ (صحيح بخاري، كتاب أحاديث الأنبياء، باب علامات النبوة في الإسلام) حضرت عمار، ان کی والدہ حضرت سمیہ اور والد حضرت یاسر، حضرت صہیب، بلال ومقداد وغیرہم رضوان اللہ علیہم اجمعین پر اسلام کے ابتدائی دور میں جو ظلم وستم کے پہاڑ توڑے گئے، وہ صفحات تاریخ میں محفوظ ہیں۔ یہ واقعات ہی ان آیات کے نزول کا سبب بنے۔ تاہم عموم الفاظ کے اعتبار سے قیامت تک کے اہل ایمان اس میں داخل ہیں۔

أَمۡ حَسِبَ ٱلَّذِينَ يَعۡمَلُونَ ٱلسَّيِّـَٔاتِ أَن يَسۡبِقُونَاۚ سَآءَ مَا يَحۡكُمُونَ

کیا جو لوگ برائیاں کر رہے ہیں انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وه ہمارے قابو سے باہر ہو جائیں گے ، یہ لوگ کیسی بری تجویزیں کر رہے ہیں.

Explanation & meanings · ٢
  1. یعنی ہم سے بھاگ جائیں گے اور ہماری گرفت میں نہ آسکیں گے۔
  2. یعنی اللہ کے بارے میں کس ظن فاسد میں یہ مبتلا ہیں، جب کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے اور ہر بات سے باخبر بھی . پھر اس کی نافرمانی کرکے اس کے مواخذہ وعذاب سے بچنا کیوں کر ممکن ہے؟

مَن كَانَ يَرۡجُواْ لِقَآءَ ٱللَّهِ فَإِنَّ أَجَلَ ٱللَّهِ لَأٓتٖۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ

جسے اللہ کی ملاقات کی امید ہو پس اللہ کا ٹھہرایا ہوا وقت یقیناً آنے واﻻ ہے ، وه سب کچھ سننے واﻻ، سب کچھ جاننے واﻻ ہے.

Explanation & meanings · ٢
  1. یعنی جسے آخرت پر یقین ہے اور وہ اجر وثواب کی امید پر اعمال صالحہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی امیدیں برلائے گا اور اسے اس کے عملوں کی مکمل جزا عطا فرمائے گا، کیونکہ قیامت یقیناً برپا ہوکر رہے گی اور اللہ کی عدالت ضرور قائم ہوگی۔
  2. وہ بندوں کی باتوں اور دعاوں کا سننے والا اور ان کے چھپے اور ظاہر سب عملوں کو جاننے والا ہے۔ اس کے مطابق وہ جزا وسزا بھی یقیناً دے گا۔