"اس قافلے کے ساتھ فرشتے نہیں ہوتے جس میں کتا اور گھنٹی ہو"۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اس قافلے کے ساتھ فرشتے نہیں ہوتے جس میں کتا اور گھنٹی ہو"۔
«لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ وَلَا جَرَسٌ».
نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ فرشتے اس قافلے کے ساتھ نہیں رہتے، جس کے ساتھ کتا ہو، یا گھنٹی ہو جسے جانوروں کے گلوں میں باندھا جاتا ہے اور جو ہلنے پر بجتی ہو۔
...:
کتا پالنے اور اسے ساتھ رکھنے کی ممانعت۔ لیکن شکاری کتا اور نگرانی کرنے والا کتا اس سے مستثنی ہے۔
جو فرشتے ان کے ساتھ جانے سے گریز کرتے ہیں وہ رحمت کے فرشتے ہوتے ہیں۔ البتہ اعمال لکھنے کے کام پر مامور فرشتے سفر اور حضر میں ہمیشہ ساتھ رہتے ہيں۔ کبھی جدا نہیں ہوتے۔
گھنٹی سے ممانعت۔ کیوں کہ گھنٹی شیطان کی بانسری اور نصاری کے ناقوس جیسی چيز ہے۔
مسلمان کو ان تمام چیزون سے دور رہنے کا حریص ہونا چاہیے، جو فرشتوں کو اس سے دور کرنے کا کام کرتی ہيں۔
مزید (12)
صحیح مسلم (3/ 1672) (2113).
نزهة المتقين.
لمجموعة من الباحثين (2/ 1156).
كنوز رياض الصالحين.
لمجموعة من الباحثين (20/ 67).
بهجة الناظرين.
لسليم الهلالي (3/ 188).
كشف المشكل من حديث الصحيحين.
لابن عثيمين (3/ 564).
شرح رياض الصالحين.
لابن عثيمين (6/ 431).
شرح النووي على مسلم (14/ 95).
کتابوں میں مذکور
4 کتابیںمزید (3)
- آداب السفر وأحكامهآداب السفر وأحكامه (للحرمين)«لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ وَلَا جَرَسٌ» [14].
- المختصر في آداب السفر وصفة الحج والعمرة وآداب الزيارة والأدعية الجامعة مع ملحق بالفتاوى والمخالفات1- آداب السفر وأحكامه (للحرمين)«لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ وَلَا جَرَسٌ» [14].
- رياض الصالحينرياض الصالحين مع فوائد وهدايات - 8«لا تصحبُ الملائكةُ رُفْقَةً فيهَا كلبُ أوْ جرسٌ».