Skip to content

رسول اللہ ﷺ ہمیں ہر حال میں قرآن پڑھایا کرتے تھے، سوائے اس کے کہ آپ جنبی ہوتے۔

علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:

رسول اللہ ﷺ ہمیں ہر حال میں قرآن پڑھایا کرتے تھے، سوائے اس کے کہ آپ جنبی ہوتے۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْرِئُنَا القُرْآنَ عَلَى كُلِّ حَالٍ مَا لَمْ يَكُنْ جُنُبًا.

اسے ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے
حديث حسن
شرح

نبی ﷺ اپنے صحابہ کو ہر حال میں قرآن کی تعلیم دیتے اور پڑھاتے تھے، سوائے اس کے کہ آپ اپنی اہلیہ سے جماع کی وجہ سے حالتِ جنابت میں ہوتے۔

حدیث کے بعض فوائد

جنبی کے لیے غسل کیے بغیر قرآن پڑھنا جائز نہیں ہے۔

عمل کے ذریعہ تعلیم۔

حوالہ جات
مزید (6)

سننِ ترمذی (1/ 214) (146).

سننِ ابو داود (1/ 164) (229).

سننِ نسائی (1/ 144) (265).

سننِ ابن ماجہ (1/ 375) (594).

مُسنَد احمد (2/ 61) (627).

النهاية في غريب الحديث والأثر (917-167).