’’عنقریب تم میں سے ہر شخص سے اس کا رب اس حال میں کلام فرمائے گا کہ آدمی اور اس کے رب کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’عنقریب تم میں سے ہر شخص سے اس کا رب اس حال میں کلام فرمائے گا کہ آدمی اور اس کے رب کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا۔ آدمی اپنی دائیں جانب دیکھے گا تو اسے آگے بھیجے ہوئے عمل ہی نظر آئیں گے، اپنی بائیں جانب دیکھے گا تو ادھر بھی اپنے آگے بھیجے ہوئے عمل ہی دیکھے گا اور اپنے سامنے دیکھے گا تو سامنے اسے جہنم کی آگ کے سوا کچھ نظر نہیں آئے گا۔ چنانچہ تم آگ سے بچو، اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا (صدقے کرنے) کے ذریعے ہی سے ہو۔‘‘
«مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ اللهُ، لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ، فَيَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ، وَيَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ، وَيَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ، فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ».
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ قیامت کے دن ہر مومن اللہ تعالی کے سامنے اکیلا کھڑا ہوگا اور اللہ اس سے بلاواسطہ بات کرے گا۔ دونوں کے درمیان بات کا ترجمہ کرنے کے لیے کوئی ترجمان نہيں ہوگا۔ وہ گھبراہٹ کے عالم میں دائيں بائيں دیکھے گا کہ شاید جہنم سے، جو اس کے سامنے موجود ہے، بھاگنے کا کوئی راستہ مل جائے۔ لیکن دائیں دیکھے گا تو اسے اپنے آگے بھیجے ہوئے اچھے اعمال کے سوا کچھ نظر نہيں آئے گا۔ بائیں دیکھے گا تو اسے اپنے آگے بھیجے ہوئے برے اعمال کے سوا کچھ نظر نہيں آئے گا۔ جب کہ آگے دیکھے گا، تو جہنم نظر آئے گی، جس سے وہ بچ کر نکل نہيں سکے گا، کیوں کہ اسے صراط سے گزرنا ہی پڑے گا۔ بعد ازاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اپنے اور جہنم کے بیچ صدقہ اور نیکی کے کام کو آڑ بنا لو۔ یہ چاہے کسی معمولی چيز، جیسے آدھی کھجور کا صدقہ کرکے ہی کیوں نہ ہو۔
صدقہ کرنے خواہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، اچھے اخلاق و عادات اختیار کرنے، لطف آمیز معاملہ کرنے اور نرمی سے بات کرنے کی ترغیب۔
اللہ تعالی قیامت کے دن اپنے بندے سے اتنا قریب ہوگا کہ ان دونوں کے درمیان کوئی پردہ، کوئی واسطہ اور کوئی ترجمان نہ ہوگا۔ لہذا مومن کو اپنے رب کے حکم کی خلاف ورزی سے بچنا چاہیے۔
انسان کو کسی بھی صدقے کو کم تر نہیں جاننا چاہیے۔ چاہے وہ معمولی ہی کیوں نہ ہو۔ کیوں کہ صدقہ آگ سے حفاظت کا ذریعہ ہے۔
مزید (12)
صحیح بخاری (9/ 148) (7512).
صحیح مسلم (2/ 703) (1016).
كنوز رياض الصالحين.
لمجموعة من الباحثين.
بهجة الناظرين.
لسليم الهلالي (1/ 476).
نزهة المتقين.
مجموعة من الباحثين (1/ 370).
شرح رياض الصالحين.
لابن عثيمين (2/ 201).
بهجة قلوب الأبرار.
عبد الرحمن آل سعدي (ص181).
کتابوں میں مذکور
11 کتابیںمزید (10)
- العلم الواجب بدون فقه وبدون زيادات1((اِتقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِ تَمْرَة)).
- ترجمة المقاطع المرئية - مشروع هدايات 1(اتقوا النار ولو بشق تمرة)
- رياض الصالحينرياض الصالحين مع فوائد وهدايات - 1 «اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشقِّ تَمْرَةٍ».
- رياض الصالحينرياض الصالحين مع فوائد وهدايات - 3«مَا مِنْكُم مِنْ أَحَدٍ إلاَ سيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ، لَيْس بَيْنَهُ وبَينَهُ تَرْجُمَانٌ، فَيَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلا يَرَىٰ إلَّا مَا قَدَّمَ، ويَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلا يَرَىٰ إلَّا ما قَدَّمَ، وَيَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلا يَرَى
- رياض الصالحينرياض الصالحين مع فوائد وهدايات - 3«اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمرَةٍ».
- مجموعة زاد الحديث(2)1«مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ الله، لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ، فَيَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ، وَيَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ، وَيَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَ
- مجموعة زاد الحديث(2)1(ما منكم من أحدٍ)
- مجموعة زاد الحديث(2)1(فاتقوا النَّار ولو بشقِّ تمرة)
- مجموعة زاد الحديث(2)1(مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ اللهُ...)
- مجموعة زاد العقيدة (2)1«مَا مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ، فَيَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ مِنْ عَمَلِهِ، وَيَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ، وَيَنْظُرُ بَيْنَ