تناقش المطوية موضوع عالمية رسالة الإسلام، مؤكدة أنها خاتمة الرسالات السماوية وأن محمدًا ﷺ هو خاتم الأنبياء المبعوث لكل البشر. تبرز المطوية أن القرآن الكريم هو الكتاب الخاتم، وأن رسالة الإسلام موجهة لكل الأجناس البشرية في كل زمان ومكان.
تستعرض المطوية نماذج من السيرة النبوية تظهر رفض الإسلام للعنصرية، مشيرة إلى خطبة النبي ﷺ في حجة الوداع وكيف دعا إلى المساواة بين الناس بغض النظر عن العرق أو اللون. توضح أيضًا أن الإسلام يدعو إلى التعارف والتعاون بين الناس لتحقيق الخير والمصلحة العامة.
وتؤكد المطوية على أن الإسلام صالح لكل زمان ومكان، شامل لجميع جوانب الحياة من عقيدة وعبادة وأحكام ومعاملات، وأنه دين مرن يتكيف مع الظروف والأحوال المختلفة.
في الختام، تشدد المطوية على أهمية نشر رسالة الإسلام وتعاليمه للعالم أجمع، داعية الناس إلى اكتشاف الإسلام وقيمه العالمية.
إن رسالة الإسلام هي خاتمة الرسالات السماوية، فالإسلام هو الدين الذي ارتضاه الله للناس، قال تعالى:﴿ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَٰمَ دِينٗاۚ﴾المائدة [3].
ومحمد رسول الله ﷺ هو خاتم الأنبياء، فلذلك هو مبعوث لكل البشر، قَالَ تَعَالَى:(قُلۡ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنِّي رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيۡكُمۡ جَمِيعًا)الأعراف [158]،وقال رسول الله ﷺ :(أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي، كَانَ كُلُّ نَبِيٍّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً، وَبُعِثْتُ إِلَى كُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ...)
فرسالة الإسلام لكل البشر بكل أجناسهم، العربي والبربري والمنغولي والقوقازي والإفريقي والأميركي وكل الأجناس البشرية.
ولقد ضرب الإسلام أروع الأمثلة في محاربة التنمر والعنصرية، فقد خطب رسول الله ﷺ في حجة الوداع، فقال:(يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَلَا إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ، وَإِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ، أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى أَعْجَمِيٍّ، وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ، وَلَا لِأَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ، وَلَا أَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ إِلَّا بِالتَّقْوَى).
ولما حصلت خصومة بين أبي ذرٍّ وبلال الحبشي، قال أبو ذرٍّ لبلال:يا ابن السوداء فاشتكاه بلال إلى رسول الله، فقال رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأبي ذر: (يَا أَبَا ذَرٍّ أَعَيَّرْتَهُ بِأُمِّهِ؟! إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ).أي: تعييرك بلالًا بلون أمه إنما هو من أخلاق الجاهلية، وليس من أخلاق الإسلام.
وليس في الإسلام أي حكم يُبْنَى على أساس لون البشرة.
إن بلالًا الحبشي يُعد من سادات الصحابة رغم أنه عبد حبشِيٌّ أسود؛ ولذلك قال عُمَرُ بن الخطاب رضي الله عنه:"أَبُو بَكْرٍ سَيِّدُنَا، وَأَعْتَقَ سَيِّدَنَا "يَعْنِي بِلاَلًا.
وأبو لهب مع أنه من أشرف الناس حسبًا، فهو عمُّ النبي ﷺ، وهو من أجمل الناس، لكنه في النار؛ لأنه لم يؤمن بالله ورسوله.
رسالة الإسلام عامة للبشر بكل لغاتهم من يتكلم العربية، أو الإنجليزية، أو الفرنسية، أو الأوردو، أو أي لغة في العالم سواء كانت عالمية أم محلية.
رسالة الإسلام عامة للبشر في كل زمان، فليست قاصرة على من كانوا في عصر البعثة، بل هي رسالة باقية لآخر الزمان.
رسالة الإسلام عامة للبشر في كل مكان،فالإسلام انتشر في كل قارات العالم، وصل إلى ناطحات السحاب، وإلى الكهوف في الجبال، وإلى الغابات في البراري، وإلى الساكنين في الصحاري، قَالَ تَعَالَى:﴿وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانُ لِأُنذِرَكُم بِهِۦ وَمَنۢ بَلَغَۚ﴾الأنعام [19]أي: كل من بلغه القرآن في كل زمان ومكان.
إن الصحابة والتابعين رغم أن وسائل المواصلات كانت بدائية في عصرهم، فلم تكن إلا الخيل والإبل، ومع ذلك نشروا الإسلام في الهند والسند والصين وشرق آسيا وأقصى إفريقيا، وأطراف أوروبا.
ولن يبقى مكان على وجه الأرض إلا وسيصل الإسلام إليه، قال رسول الله ﷺ :(لَيَبْلُغَنَّ هَذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ، وَلَا يَتْرُكُ اللَّهُ بَيْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ هَذَا الدِّينَ بِعِزِّ عَزِيزٍ، أَوْ بِذُلِّ ذَلِيلٍ عِزًّا يُعِزُّ اللَّهُ بِهِ الْإِسْلَامَ، وَذُلًّا يُذِلُّ اللَّهُ بِهِ الْكُفْرَ).
أي: ليحصل التعارف بين الناس ومن خلاله يحصل التعاون على الخير والمصلحة.
إن شريعة الإسلام وأحكامه صالحة لكل البشر، فهي تشمل الجميع بما فيها من عدل، ورحمة، ومصلحة، وفيها من المرونة ما يجعلها تتكيف مع جميع الظروف والأحوال، فليس الإسلام دينًا جامدًا تتعطل مصالح الناس بسببه.
فرسالة الإسلام عالمية لكل زمان، وكل مكان، وكل الناس، فتخاطب العقول والقلوب، وتصلح الأرواح والأجسام، وتشمل مصالح الدنيا والآخرة.
اسلام کا مطلب ہے کہ اللہ جو پوری کائنات کا خالق اور مدبر ہے اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنا، محبت اور تعظیم کے ساتھ اس کی تابعداری کرنا۔ اسلام کی بنیاد ہی اس بات پر ہے کہ اللہ پر ایمان لایا جائے، یہ تسلیم کیا جائے کہ وہی تن تنہا خالق ہے اور اس کے سوا سب کے سب مخلوق ہیں، وہی تمام تر عبادتوں کا تنہا مستحق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کے بہت سے خوب صورت نام اور بلند وبالا صفات ہیں، اس کے لیے کمالِ مطلق ہے جس میں کوئی کمی نہیں، نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ کسی نے اس کو جنا، نہ کوئی اس کا ہم سر ہے اور نہ کوئی اس کا نظیر، وہ اپنی کسی مخلوق میں حلول اور سرایت نہیں کرتا۔…
اسلام کا مختصر تعارف قرآن کریم اور سنت نبوی کی روشنی میں
71 زبانیں
اسلام کا مختصر تعارف قرآن کریم اور سنت نبوی کی روشنی میں
اسلام یہ اسلام کے مختصر تعارف پر مشتمل ایک انتہائی اہم کتاب ہے جو اسلام کے اصول وتعلیمات اور محاسن کو اس کے اصلی مصادر یعنی قرآن کریم اور سنت نبوی کے سرچشمہ سے کشید کر کے واضح انداز میں پیش کرتی ہے،اس کتاب کے مخاطبین احوال و ظروف اور زبان و بولی کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود ہر مکلف مسلم و غیر مسلم افراد ہیں۔ یہ قرآن کریم اور سنت نبوی سے ماخوذ دلائل سے آراستہ نسحہ ہے۔ 1- اسلام دنیا کے تمام لوگوں کے نام اللہ کا آخری و ابدی پیغام ہے۔ اسلام دنیا کے تمام لوگوں کے نام اللہ تعالی کا پیغام ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبریاں سنانے واﻻ اور ڈرانے واﻻ…
مذہب اسلام کا ایک مختصر تعارف قرآن کریم اور سنت نبوی کی روشنی میں
59 زبانیں
مذہب اسلام کا ایک مختصر تعارف قرآن کریم اور سنت نبوی کی روشنی میں
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم واﻻ ہے۔ اسلام دلائل سے خالی نسخہ (1) (1) ہر مسئلے پر قرآن کریم اور سنت نبوی کے دلائل سے آراستہ و پیراستہ، اس رسالے کا ایک دوسرا نسخہ بھی درج ذیل سائٹ پر موجود ہے: http://islamhouse.com/ar/books/2830071 یہ اسلام کے مختصر تعارف پر مشتمل، ایک انتہائی اہم رسالہ ہے جو اسلام کے اصول و تعلیمات اور محاسن کو اس کے اصلی مصادر یعنی قرآن کریم اور سنت نبوی کے سرچشمہ سے کشید کر کے واضح انداز میں پیش کرتا ہے۔ اس رسالے کے مخاطبین، احوال و ظروف اور زبان و بولی کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود، ہر زمان و مکان کے تمام مکلف مسلم و غیر مسلم…
ہر ایک چیز خالق کے وجود پر دلالت کرتی ہے آسمان وزمین اور ان دونوں کے اندر جو نا قابل احاطہ عظیم مخلوقات ہیں، انہیں کس نے پیدا کیا؟ کس نے آسمان وزمین کے اس پختہ اور باریک نظام کو تخلیق کیا؟ کس نے انسان کو پیدا کیا، اسے کان، آنکھ اور عقل سے نوازا اور اسے اس قابل بنایا کہ وہ علوم ومعارف حاصل کر سکے اور حقائق کی تہہ تک پہنچ سکے؟ تمہارے جسم اور دیگر زندہ مخلوقات کے جسموں کے نظام میں جو باریک کاری گری ہے، اس کو تم کیا معنى دے سکتے ہو؟ کس نے اس انوکھے نظام کو وجود بخشا؟ یہ عظیم کائنات اپنے ان قوانین کے ساتھ کس طرح منظم اور مستحکم ہے جن قوانین نے سالہا سال سے اسے نہایت باریکی کے ساتھ منظم کر رکھا ہے۔