زيارة المسجد النبوي الشريف
مسجد نبوی شریف کی زیارت اور زائرین کے لیے تنبیہات وہدایات تالیف ڈاکٹر عبداللہ بن ناجی المخلافی شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے تقدیم تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں، جس نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کی زیارت کو اللہ کی قربت کا ایک اہم ترین ذریعہ بنایا اور اس میں نماز پڑھنے کو بلندی درجات کا سبب بنایا۔ درود وسلام ہو سب سے پاک باز مخلوق ہمارے نبی محمدﷺ، آپ کے آل و اصحاب اور تا قیامت بھلائی کے ساتھ آپ کی پیروی کرنے والوں پر۔
مسجد نبوی شریف کی زیارت اور زائرین کے لیے تنبیہات وہدایات
تالیف
ڈاکٹر عبداللہ بن ناجی المخلافی
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے
تقدیم
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں، جس نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کی زیارت کو اللہ کی قربت کا ایک اہم ترین ذریعہ بنایا اور اس میں نماز پڑھنے کو بلندی درجات کا سبب بنایا۔ درود وسلام ہو سب سے پاک باز مخلوق ہمارے نبی محمدﷺ، آپ کے آل و اصحاب اور تا قیامت بھلائی کے ساتھ آپ کی پیروی کرنے والوں پر۔
اما بعد:
یہ میرے لیے سعادت کا باعث ہے کہ میں ڈاکٹر عبد اللہ بن ناجی المخلافی کے مرتب کردہ کتابچہ "زيارة المسجد النبوي الشريف مع تنبيهات وارشادات للزائر"کا مقدمہ لکھ رہا ہوں۔۔ موصوف نے آسان اسلوب میں موضوع کا احاطہ کیا ہے اور ایک زائر کو دورانِ زیارت جن اہم پہلؤوں کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے، ان پر بھر پور روشنی ڈالی ہے۔
انھوں نے شرعی زیارت، نبی ﷺ اور آپ کے دونوں ساتھیوں (ابو بکر وعمر) رضی اللہ عنھما پر سلام بھیجنے کے صحیح طریقے اور مسجدِ نبوی کے باہر مدینہ منورہ کے جن مقامات کی زیارت مشروع ہے، ان کی وضاحت فرما دی ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی بعض ایسی اہم تنبیہات وہدایات بھی فراہم کی ہيں، جو صحیح عقیدہ، سلف صالحین کے منہج اور کتاب و سنت کی تعلیمات کے عین مطابق ہونے کے ساتھ ساتھ ایک زائر کے لیے ضروری بھی ہیں۔ اس کتاب اور اس کے مشمولات کی اہمیت کے پیشِ نظر، میں اس کی طباعت واشاعت کی وصیت کرتا ہوں اور قدرت والے اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اس کتاب کو ہر پڑھنے والے کے لیے نفع بخش بنائے۔ بڑی خوشی ومسرت کے ساتھ میں شکر گزار اور بھر پور ثناخواں ہوں خادم الحرمین الشریفین ملک سلمان بن عبد العزیز آل سعود حفظہ اللہ اور آپ کے ولی عہد امیر محمد بن سلمان آل سعود حفظہ اللہ کا، جنہوں نے حرمین شریفین کی جانب خصوصی توجہ عنایت فرمائی اور زائرین کو لاحق ہونے والی تمام تر صعوبتوں کو دور کرتے ہوئے ہر طرح کی سہولیات وخدمات فراہم کیں۔ اور اسی طرح صدر عمومی برائے امور مسجد حرام و مسجد نبوی، عزت مآب پروفیسر شیخ عبد الرحمن بن عبد العزیز السدیس کا بھی میں شکر گزار ہوں، جنہوں نے حرمین کی خدمت کے باب میں قابل قدر کوششیں کیں اور امور مسجد نبوی کی جنرل پریزیڈنسی کی وکالت کے ماتحت ادارہ امر بالمعروف والنہی عن المنکر کے لیے مسلسل تعاون پیش کیا۔
اللہ انھیں جزائے خیر عطا فرمائے اور ہم تمام لوگوں کو اسلام ومسلمانوں کی خدمت کی توفیق بخشے۔ درود وسلام ہو ہمارے نبی محمدﷺ اور آپ کی جملہ آل و اصحاب پر۔
علی بن صالح المحیسنی
ڈائرکٹر ادارہ امر بالمعروف والنھی عن المنکر، وکالت جنرل پریزیڈنسی برائے امور مسجدِ نبوی
مقدّمہ
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے، جو بڑا مہربان، نہایت رحم کرنے والا ہے
ہر قسم کی تعریف اللہ تعالی کے لیے ہے، جو تمام جہان کا رب ہے۔ درود وسلام ہو ہمارے نبی محمد امینﷺ اور آپ کی روشن و پاک باز آل و اصحاب پر۔
اما بعد: اے میرے پیارے زائر بھائی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ شھرِ رسول ﷺ میں آپ کا خیر مقدم ہے۔
میرے زائر بھائی! تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں، جس نے آپ کو صحت و تونگری عطا کی اور شہرِ رسول میں حاضری دینے کی توفیق عطا فرمائی۔ یہ اللہ کی توفیق ہی سے ممکن ہے۔ کیونکہ بہتیرے لوگ رغبت اور چاہت کے باوجود پہنچ نہیں پاتے۔ جب آپ مدینہ منورہ پہنچ چکے ہيں، تو آپ ان شرعی آداب کا خاص لحاظ رکھیں، جن کی نبی اکرم ﷺ نے ترغیب دلائی ہے۔ ویسے تو ایک مسلمان کو ہر جگہ ان آداب کا خیال رکھنا چاہیے، لیکن شہرِ رسول میں ان کا اہتمام کچھ زیادہ ہی ہونا چاہیے۔ اللہ کا شکر ادا کریں، جس نے آپ کو مسجدِ رسولﷺ کی زیارت کی توفیق بخشی، جو ان تین خاص فضیلت والی مساجد میں سے ایک ہے، جن کے متعلق آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’تین مساجد؛ مسجدِ حرام (بیت اللہ)، میری یہ مسجد (مسجدِ نبوی) اور مسجد اقصیٰ کے علاوہ کسی کی طرف (ثواب کی نیت سے) رختِ سفر نہ باندھا جائے۔‘‘ [اس حدیث کو امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ نے روایت کیا ہے۔]
اور اللہ کی حمد و ثنا کریں، جس نے آپ کو مسجدِ نبوی کی زیارت کے ساتھ قبرِ رسول کی زیارت کا موقع عنایت فرمایا۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ آپ زیارت کے اس طریقے کی پابندی کریں، جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا ہے اور جس پر ہمارے سلف صالحین کاربند رہے ہیں۔
اے میرے پیارے زائر بھائی! جب آپ مسجدِ نبوی شریف آنا چاہیں، تو صفائی و پاکیزگی حاصل کر لیں اور خوشبو استعمال کر لیں۔ کسی ناپسندیدہ بو کے ساتھ مسجد میں آنے سے بچیں۔ اسی طرح جب آپ مسجدِ نبوی پہنچیں، تو داخل ہو تے وقت پہلے اپنا داہنا پیر داخل کریں اور داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھیں: "اللہ کے نام کے ساتھ اور درود وسلام ہو اللہ کے رسول پر۔ اے اللہ! میرے گناہ بخش دے اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔ میں عظمت والے اللہ، اس کے معزز چہرے اور اس کی قدیم سلطنت کی پناہ میں آتا ہوں شیطان مردود سے‘‘۔
پھر مسجد کے اس حصے میں جائیں، جسے حدیث میں جنت کی کیاری کہا گیا ہے اور (ہو سکے تو) وہاں دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھ لیں۔ اگر وہاں بھیڑ ہو تو مسجد نبوی کے کسی بھی حصے میں نماز پڑھ لیں اور مسلمان بھائیوں کو تکلیف دینے سے بچیں۔ کیوں کہ ایذا رسانی جائز نہیں ہے اور آپ وہاں اجر و ثواب حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوئے ہيں، گناہ کمانے کے لیے نہیں۔
پھر نبیﷺ کی قبر کی طرف ادب و وقار اور سکون کے ساتھ جائیں۔ اگر وہاں بھیڑ ہو تو لوگوں کوتکلیف دینے سے بچیں۔ بھیڑ کم ہونے تک تاخیر ہی سہی۔ کوشش یہ کریں کہ قبرِ نبی کی زیارت فرض نمازوں کے فوری بعد نہ ہو۔ اس لیے کہ اس وقت عموما بھیڑ زیادہ ہوتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی قبر کے پاس آوازیں بلند نہ کریں، کیوں کہ اللہ تعالی نے اپنے مؤمن بندوں کو اس سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے: ’’اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے اوپر نہ کرو اور نہ ان سے اونچی آواز میں بات کرو، جیسے آپس میں ایک دوسرے سے بات کرتے ہو۔ کہیں (ایسا نہ ہو کہ) تمھارے اعمال اکارت جائیں اور تمھیں خبر بھی نہ ہو۔ بے شک جو لوگ رسول اللہ(ﷺ) کے حضور میں اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پرہیزگاری کے لیے جانچ لیا ہے۔ ان کے لیے مغفرت اور بڑا ثواب ہے۔" [سورہ الحجرات: 2-3]. امام ابن کثیر رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں : ’’رسول اللہ ﷺ کی قبر کے پاس بھی بلند آواز سے بولنا مکروہ ہے۔ بالکل اسی طرح، جیسے کہ آپ کی حیات میں آپ کے سامنے مکروہ تھا۔ کیوں کہ آپ ﷺ جس طرح اپنی زندگی میں قابلِ احترام و باعزت تھے، اسی طرح اپنی قبر میں بھی ہمیشہ باعزت اور قابلِ احترام رہیں گے۔‘‘ اسی طرح عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجدِ نبویﷺ میں دو آدمیوں کو اونچی آواز میں بات کرتے ہوئے سنا، تو ان سے دریافت کیا کہ تم کون ہو یا کس جگہ کے رہنے والے ہو؟ انھوں نے جب جواب دیا کہ ہم طائف کے رہنے والے ہیں، تو فرمایا: اگر تم مدینہ منورہ کے رہنے والے ہوتے، تو میں تمھیں ضرور سزا دیتا۔ تم اللہ کے رسول ﷺ کی مسجد میں اپنی آوازیں اتنی اونچی کر رہے ہو؟ [اس حدیث کو امام بخاری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔] جب آپ نبیﷺ کی قبرِ کے پاس پہنچیں، تو بڑے سکون، اطمینان اور وقار کے ساتھ کھڑے ہو جائیں اور ان الفاظ میں سلام کا نذرانہ پیش کریں: اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو، اللہ کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں نازل ہوں۔ اے اللہ کے نبی! آپ پر سلامتی ہو۔ اے اللہ کی چنندہ و برگزیدہ مخلوق! آپ پر سلامتی ہو۔ اے رسولوں کے سردار اور پرہیز گار بندوں کے امام! آپ پر سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے پیغامِ رسالت پہنچادیا، امانت ادا کردی، امت کی بھر پور خیر خواہی فرمائی اور اللہ کی راہ میں جہاد کا حق ادا کیا۔ اللہ آپ کو وہ بہترین بدلہ عطا کرے، جو کسی بھی نبی کو اس کی امت کی جانب سے عطا کرے گا۔ اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد پر اور آل محمد پر، جیسے رحمت نازل کی تھی ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر۔ بے شک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔ ساتھ ہی برکت نازل فرما محمد پر اور آل محمد پر، جیسے برکت نازل کی تھی ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر۔ بے شک تو قابل تعریف اور بزرگی والا ہے۔
ویسے، آپ ان الفاظ کے علاوہ دیگر مشروع الفاظ کے ذریعے بھی سلام کا ہدیہ پیش کر سکتے ہیں۔
پھر تھوڑا دائیں طرف ہٹ کر خلیفۂ رسول ابو بکر صدیق رضي الله عنه کی خدمت میں ان الفاظ میں سلام پیش کریں: اے ابو بکر صدیق! آپ پر سلامتی ہو، اللہ کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں نازل ہوں۔ اے خلیفۂ رسول اور یار غار! آپ پر سلامتی ہو۔ اللہ آپ کو ہماری طرف سے اور اسی طرح اسلام اور مسلمانوں کی جانب سے بہتر سے بہتر بدلہ عطا فرمائے۔ ان کی جگہ پر اس طرح کے دیگر الفاظ بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ پھر کچھ اور دائیں جانب ہٹ کر امیر المؤمنين عمر فاروق رضي الله عنه کی خدمت میں ان الفاظ میں سلام پیش کریں: اے عمر فاروق! آپ پر سلامتی ہو، اللہ کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں نازل ہوں۔ اے دوسرے خلیفۂ راشد! آپ پر سلامتی ہو۔ اللہ آپ کو ہماری اور اسلام و مسلمانوں کی جانب سے بہتر سے بہتر بدلہ عطا فرمائے۔ ان کے سوا دوسرے مشروع الفاظ کے ذریعے بھی سلام پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح مسجدِ نبوی، قبر نبویﷺ اور قبرِ صاحبین رضي الله عنهما کی زیارت مکمل ہوگئی۔ اے میرے زائر بھائی! جب آپ اللہ تعالی سے دعا کرنا چاہیں، تو آپ مسجدِ نبوی کے کسی بھی حصے میں اور دن و رات میں کسی بھی وقت بھیڑ سے الگ ہوکر تنہائی اختیار کر لیں اور قبلے کی جانب منہ کر لیں۔ تنہائی اس لیے، کیوں کہ اس سے نفس کو سکون، دل کو اطمینان اور فکری یکسوئی حاصل ہوتی ہے۔ پھر اللہ تعالی سے اپنے لیے اور اپنے تمام مسلمان بھائیوں کے لیے دنیا وآخرت کی بھلائیاں مانگیں۔ اے زائرِ مکرم! آپ دعا کرتے وقت دعا کی حدود کو پار کرنے سے بچیں، جس کی بہت سی صورتیں ہیں۔ جیسے غیر اللہ کو پکارنا، ان سے حاجتیں طلب کرنا اور فریاد کرنا وغیرہ۔ یہ سارے کام اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے منافی ہیں اور شرک کے زمرے میں داخل ہیں۔ خود اللہ نے کسی اور کو پکارنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے: ’’پس اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو‘‘۔ [سورہ الجن : 18] اس کا مزید ارشاد ہے: ’’جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں، تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں۔ ہر پکارنے والے کی پکار کو، جب کبھی وه مجھے پکارے، قبول کرتا ہوں۔ اس لیے لوگوں کو بھی چاہیے کہ وه میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں۔ یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے‘‘۔ [سورہ البقرة: 186]. اس کا یہ بھی فرمان ہے: ’’اور اس سے بڑھ کر گمراه اور کون ہوگا، جو اللہ کے سوا ایسوں کو پکارتا ہے، جو قیامت تک اس کی دعا قبول نہ کر سکیں، بلکہ ان کے پکارنے سے محض بےخبر ہوں؟‘‘ [سورہ الأحقاف: 5]۔ اسی طرح ابن عباس رضي الله عنهما سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’جب تم مانگو تو صرف اللہ تعالی سے مانگو اور جب مدد چاہو تو صرف اللہ تعالی سے مدد چاہو‘‘۔ [اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔]
بلکہ کہیے: اے اللہ! میرے لیے اپنے نبی کو سفارشی بنا۔ اے اللہ! مجھے اپنے نبیﷺ کی شفاعت سے محروم نہ کر۔ اسی طرح اللہ سبحانہ کے پاس اس کے نبیﷺ کی محبت، آپ کی اتباع اور اپنے نیک اعمال کو وسیلے کے طور پر پیش کریں۔
اے میرے زائر بھائی! جان لیں کہ سلف صالحین رحمهم الله اسی طرح زیارت کیا کرتے تھے۔
مسجد کے باہر واقع مدینہ منورہ کے وہ مقامات
جن کی زیارت مشروع ہے
1- بقیع: یہ اہلِ مدینہ کا قبرستان ہے۔ اس میں بہت سے صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم، تابعین اور سلفِ صالحین رحمھم اللہ مدفون ہیں۔ خود نبیﷺ اہلِ بقیع کی زیارت کیا کرتے تھے اور ان پر سلام بھیجتے اور ان کے لیے دعا فرمایا کرتے تھے۔
لہذا جب آپ بقیع جائیں، تو وہاں مدفون لوگوں کو سلام کریں اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے یہ الفاظ کہیں: ”اس دیار کے مؤمنو اور مسلمانو! تم پر سلامتی ہو۔ اللہ نے چاہا تو ہم بھی تمہارے پاس یقیناً پہنچنے والے ہیں۔ ہم اپنے لیے اورتمہارے لیے اللہ سے عافیت مانگتے ہیں۔“ [اس حدیث کو امام مسلم رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔] اس کے بعد اہلِ بقیع کے لیے دعا اور استغفار کریں۔ یہی شرعی زیارت ہے۔ اے میرے مسلمان بھائی! آپ قبر کو روندنے اور اس پر بیٹھنے سے بچیں۔ کیوں کہ نبیﷺ نے اس سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے: ’’تم نہ قبروں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھو اور نہ ان پر بیٹھو‘‘۔ [اس حدیث کو امام مسلم رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔]
اسی طرح قبروں کو چھونے، چومنے، قبروں کی مٹی اٹھانے اور قبروں میں مدفون لوگوں کو پکارنے سے بچیں۔ کیوں کہ وہ تمھارے نفع ونقصان کے مالک نہیں ہیں۔
2- شہدائے جنگٓ احد: مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان ہونے والی اس جنگ میں ستر (70) صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہوئے تھے۔ نبیﷺ ان کی زیارت کیا کرتے تھے اور ان کے لیے دعا فرمایا کرتے تھے۔ آپ کو یہ علم ہونا چاہیے کہ یہ تمام شہدا دین کے دفاع میں شہید ہوئے تھے۔ اس لیے ان کا ہم پر یہ حق بنتا ہے کہ ہم ان کے لیے دعا کریں اور ان کے حق میں اللہ کی خوش نودی طلب کریں۔ جب آپ ان کی زیارت کے لیے جائیں، تو ان کو اسی طرح سلام کا ہدیہ پیش کریں، جس طرح اہل بقیع اور دوسرے اہلِ قبور کو سلام کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔
3- مسجدِ قبا: اس کی زیارت کرنا اور اس میں نماز پڑھنا مشروع ہے۔ نبیﷺ ہر ہفتہ اس کی طرف پیدل یا سوار ہو کر جایا کرتے اور وہاں نماز پڑھتے تھے۔ جو شخص مسجدِ قبا آئے اور نماز ادا کرے، اسے ایک عمرہ کے برابر ثواب ملے گا۔ آپ ﷺ نے فرمان ہے: ”جس نے اپنے گھر میں وضو کیا، پھر مسجدِ قبا میں آکر نماز ادا کی، اسے ایک عمرہ کے برابر ثواب ملے گا۔“ [اس حدیث کو امام ابنِ ماجہ رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔]
لہذا میرے مسلمان بھائی! آپ اس خیرِ عظیم سے اپنے آپ کو محروم نہ کریں۔
مسجدِ نبوی کی زیارت کر نے والے کے لیے تنبیہات و ہدایات
میرے معزز زائر بھائی!
* آپ مسجدِ نبویﷺ اور دیگر مساجد میں داخل ہو تے اور نکلتے ہوئے منقول دعا کا اہتمام کریں۔
* رسول اللہﷺ کو سلام کرتے ہوئے نہ جھکیں، بلکہ سکون و اطمینان، ادب واحترام اور وقار کے ساتھ کھڑے رہیں۔
* مسجدِ نبوی کی دیواروں، ستونوں، دروازوں، منبر و محراب اور حجرۂ نبوی میں لگی ہوئی کھڑکی کو برکت کی نیت سے نہ چھوئیں۔ کیوں کہ ایسا کرنا ناجائز ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ «المجموع» (8/257) میں قبر پر ہاتھ پھیرنے سے متعلق فرماتے ہیں: ’’جس کے دل میں یہ بات آئے کہ ہاتھ پھیرنے وغیرہ سے زیادہ برکت حاصل ہوتی ہے، تو یہ اس کی نادانی اور غفلت کا آئینہ دار ہے؛ اس لیے کہ برکت تو صرف اس چیز کے اندر ہے جو شریعت کے موافق ہو، صحیح اور درست چیز کی مخالفت میں فضیلت تلاش کرنا کہاں کی عقل مندی ہے؟!"
*میرے زائر بھائی! یہ بات بخوبی جان لیں کہ زیارتِ مدینہ منورہ کا نہ کوئی وقت محدود ہے اور نہ نمازیں متعین ہیں۔ مسجدِ نبوی شریف کے زائرین سے یہ غلطی ہوجاتی ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو وہاں معین نمازیں مثال کے طور چالیس وقت کی نماز ادا کرنا ضروری ہے۔ بعض حضرات اس کے لیے خود کو مشقت میں ڈال لیتے ہیں اور اپنے ساتھیوں کو بھی اس کا مکلف بناتےہیں۔ یہ غلط ہے۔ کیوں کہ نبیﷺ سے کہیں کچھ ثابت نہیں ہے کہ زائرین کو مسجد نبوی میں اتنے وقت کی نماز پڑھنی ہے۔ لہذا آپ کو جو میسر ہو، پڑھ لیں۔ خواہ کم ہو یا زیادہ۔
مسجدِ نبوی میں چالیس وقت کی نمازوں کی تحدید کے بارے میں جو حدیث آئی ہے، جسے امام احمد نے اپنی مسند میں انس بن مالک رضي الله عنه سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے میری مسجد میں چالیس وقت کی نمازیں اس طرح پڑھیں کہ اس کی کوئی نماز فوت نہیں ہوئی، اس کے لیے جہنم سے براءت اور عذاب سے نجات لکھ دی جاتی ہے اور وہ نفاق سے بری ہو جاتا ہے۔“ تو یہ حدیث ضعیف ہے۔ رہی بات ایک اور حدیث کی، جسے امام ترمذی رحمہ اللہ نے نبی ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے خالص اللہ تعالی کے لیے چالیس دن تک جماعت کے ساتھ تکبیرِ تحریمہ پاتے ہوئے نماز ادا کی، اس کے لیے دو چیزوں؛ آگ اور نفاق سے براءت لکھ دی جاتی ہے‘‘۔ تو یہ حدیث آپ ﷺ سے صحیح سند سے ثابت ہے۔
لہذا اے میرے زائر بھائی! میں آپ کو اس بات کی وصیت کرتا ہوں کہ آپ اس حدیث پر عمل کر کے ان دونوں چیزوں سے براءت حاصل کريں۔ چاہے آپ مدینے میں رہیں یا اپنے شہر میں۔
*اصل یہ ہے کہ دعا کرنے والا دعا کے وقت قبلہ رخ ہو، لیکن بعض لوگ مسجدِ نبوی کے کسی گوشے میں کھڑے ہو کر اپنے ہاتھوں کو اٹھائے اللہ سے اس طرح دعا کرتے ہیں کہ ان کا رخ قبرِ رسول کی طرف ہوتا ہے۔ یہ عمل اس امت کے سلف، اس کے ائمہ اور عالی مرتبت علما سے ثابت نہیں ہے۔ لہذا میرے زائر بھائی! اس طرح کے کاموں سے پرہیز کریں۔ آپ کے لیے صحابۂ رسول، تابعین اور سلفِ صالحین کا عمل کافی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دعا کا قبلہ کعبہ ہے۔
*ایسے خطوط تحریر کرنا، جن میں نبی ﷺ کے لیے دعا لکھی گئی ہو، پھر ان کو حجرۂ رسول کی جالیوں، روضے کے اندر یا مسجدِ نبوی میں کسی بھی جگہ رکھنا جائز نہیں ہے۔ کیوں کہ یہ ایک منکر اور ناپسندیدہ عمل ہے۔ ساتھ ہی اس طرح کے خطوط کو مختلف ممالک سے لاکر مسجدِ نبوی تک پہنچانا بھی جائز نہیں ہے۔
* رسولﷺ کی قبر کا طواف جائز نہیں ہے۔ اس لیے کہ طواف عبادت ہے اور وہ اللہ کی تعظیم اور اس کے حکم کی پیروی کے طور صرف کعبۃ مشرًفہ کا جائز ہے۔
*میرے زائر بھائی! آپ مدینہ منورہ میں قیام کے دوران نیکیاں اور بھلائی کے کام خوب کرتے رہیں۔ فرض نمازوں کو مسجدِ نبوی میں باجماعت ادا کرنے کی کوشش کریں۔ ہو سکے تو مسجد کے اس حصے میں جسے حدیث کے اندر جنت کی کیاری کہا گيا ہے، کثرت سے نوافل کا اہتمام کریں۔ اس لیے کہ یہ چیز رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہے:
”میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کا حصہ جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے۔“
[اس حدیث کو بخاری اورمسلم رحمہما اللہ نے روایت کیا ہے۔]
مسجد کے دیگر حصوں کو چھوڑ کر صرف اسی جگہ (ریاض الجنۃ) کو اس صفت سے مخصوص کرنا اس جگہ کی فضیلت اور امتیاز پر دلالت کرتا ہے۔ لہذا اس حصے میں نوافل ادا کرنے، اللہ تعالی کے ذکر اور قرآنِ مجید کی تلاوت کا کثرت سے اہتمام کریں، بشرطے کہ (ان اعمال کو ریاض الجنۃ میں بجا لانے پر) کسی مصلی کو تکلیف نہ پہنچے۔ کیوں کہ جو بندہ اللہ کے لیے کسی جائز کام کو چھوڑ دیتا ہے، اللہ اسے اس سے بہتر بدلہ عطا فرماتا ہے۔
البتہ فرض نمازوں کو اگلی صفوں میں پڑھنا افضل ہے۔ جیساکہ فرمانِ نبی ﷺ ہے: ’’مردوں کی بہترین صف پہلی صف ہے اور بری صف آخری صف ہے‘‘۔ [اس حدیث کو امام مسلم رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔]
نیز نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
”اگر لوگوں کو اذان دینے اور پہلی صف میں نماز پڑھنے کے اجر وثواب کا علم ہو جائے اور اس کے حصول کے لیے انھیں قرعہ اندازی بھی کرنی پڑے، تو وہ اس کا بھی سہارا لیں گے۔“
[اس حدیث کو بخاری اورمسلم رحمہما اللہ نے روایت کیا ہے۔]
«يَسْتَهِمُوا» : وہ قرعہ اندازی کریں گے۔
اس بات کو بخوبی جان لیں کہ مسجدِ نبوی میں ایک نماز پڑھنا دوسری مساجد میں ایک ہزار نمازیں پڑھنے سے افضل ہے۔ سوائے مسجدِ حرام کے۔ کیوں کہ مسجدِ حرام میں ایک نماز پڑھنا دوسری مساجد میں ایک لاکھ نمازیں پڑھنے سے افضل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’میری مسجد میں پڑھی گئی ایک نماز مسجدِ حرام کے سوا کسی بھی مسجد کی ہزار نمازوں سے افضل ہے اور مسجدِ حرام میں پڑھی گئی ایک نماز کسی دوسری مسجد کی ایک لاکھ نمازوں سے افضل ہے‘‘۔ [اس حدیث کو امام ابن ماجہ اور امام احمد رحمہما اللہ نے روایت کیا ہے۔]
مسجدِ نبوی میں کثرت سے دعا و استغفار، صدقہ وخیرات، تلاوتِ قرآن، ذکرِ الہی، حمد وثنا اور شکر ادا کریں۔ اگر ممکن ہو تو اعتکاف کا بھی اہتمام کریں۔
* جب آپ کو دینی امور کو سمجھنے میں دشواری ہو، تو اہل علم مثال کے طور پر مسجدِ نبوی شریف میں تدریس کا فریضہ انجام دینے والے فاضل علما ومشائخ سے پوچھ لیا کریں۔ کیوں کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ’’پس اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے دریافت کر لو‘‘۔ [سورہ الأنبياء: 7].
* اسی طرح مسجدِ نبوی کے دروازوں اور اس کے مختلف مقامات پر ’’ادارہ ارشاد السائلین‘‘ کے فون رکھے گئے ہیں۔ ان کے ذریعہ رابطہ کریں۔ ان شاء اللہ آپ کو حج، عمرہ اور زیارت سے متعلق سوالوں کے تشفی بخش جواب ملیں گے۔
* مسجدِ نبوی کے فاضل مدرسین کے علمی دروس میں حاضر رہیں۔ تاکہ آپ دین کی صحیح سمجھ حاصل کر سکیں اور اللہ کے رسول ﷺ کے اس قول کے ضمن داخل ہونے کا بھی شرف حاصل کر سکیں: ’’جو شخص ہماری اس مسجد میں صرف خیر سیکھنے یا سکھانے کے لیے داخل ہو، وہ مجاہد فی سبیل اللہ کے درجے میں ہے۔ جب کہ جو کسی دوسرے مقصد کے لیے آئے، وہ اس شخص کی طرح ہے، جو کسی دوسرے کے سامان کو دیکھ رہا ہو‘‘۔ [اس حدیث کو امام ابن ماجہ، امام احمد اور امام حاکم نے اپنی مستدرک میں رواہت کیا ہے۔ اللہ ان تمام حضرات پر رحم فرمائے۔]
اسی طرح میرے طالبِ علم بھائی مسجدِ نبوی کی لائبریری کی زیارت کرنا نہ بھولیں۔ یہ لائبریری خادمِ حرمین شریفین ملک فہد رحمہ اللہ کی توسیع کردہ مسجد نبوی کی شمال مغربی جہت کے بالائی حصے میں ایک وسیع وعریض ہال میں ہے۔۔ لائبریری تک براہ راست رسائی کے لیے برقی سیڑھی نمبر 10 مختص ہے۔ اس لائبریری میں آپ کو بہت سی مفید کتابیں ملیں گی۔
میرے زائر بھائی! اگر آپ کو مخطوطات سے دل چسپی ہو، تو عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ گیٹ کے پاس شعبۂ مخطوطات کی زیارت کریں، جو مسجدِ نبوی کے درمیانی حصے میں پہلی سعودی توسیع کے آخر میں واقع ہے۔
اسی طرح یہاں ادارہ برائے فراہمی رہنما آڈیوز و ویڈیوز بھی موجود ہے، جو خادم الحرمین ملک فہد کی توسیع کے مطابق دروازہ نمبر 17 یعنی باب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس واقع ہے۔ یہ ادارہ مسجدِ نبوی میں ہونے والے دروس، خطبات اور نماز کی ریکارڈنگ زائرین کے لیے مفت فراہم کرتا ہے۔ البتہ ان کو خالی کیسیٹ، سی ڈی یا ہارڈ ڈسک دینا ہوتا ہے۔ اسی طرح یہاں خواتین کے لیے مخصوص لائبریری بھی موجود ہے، جو خواتین کے مشرقی مصلی کے پاس دروازہ نمبر 24 اور خواتین کے مغربی مصلی کے پاس دروازہ نمبر 16 پر واقع ہے۔ ساتھ ہی خواتین کے لیے آڈیو لائبریری بھی موجود ہے، جو دروازہ نمبر 28 پر واقع ہے۔
* میرے زائر بھائی! آپ نماز کے وقت آگے بڑھیں اور پہلے اگلی صفیں مکمل کر لیں۔ دروازوں، گزرگاہوں اور سیڑھیوں کے پاس نہ بیٹھیں۔ کیوں کہ اس سے مسجد میں جانے کا راستہ بند ہوجاتا ہے اور لوگ اندرونی مسجد میں خالی جگہ ہونے کے باوجود مسجد کے باہر نماز پڑھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ آپ کی اور دیگر نمازیوں کی کوشش رہے کہ صفوں کو آپس میں ملا کر رکھیں، صفوں کے درمیان خالی جگہ نہ چھوڑیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کھڑے ہوں۔ تاکہ صفیں مکمل ہوجائیں اور تمام نمازی مسجد کے اندرونی حصہ میں سما سکیں۔
* جب آپ پہلی صفوں میں یا ریاض الجنہ میں نماز پڑھنا چاہیں، تو مسجد نبوی پہلے آ جائیں اور تاخیر نہ کریں۔ تاخیر سے پہنچ کر لوگوں کی گردنیں پھلانگنے، نمازیوں کے سامنے سے گزرنے اور ان سے مزاحمت کرنے کا کام ہرگز نہ کریں۔ کیوں کہ اس سے نمازیوں کو تکلیف ہوتی ہے اور مسلمان کو تکلیف پہنچانا جائز نہیں ہے۔
جمعہ کے دن رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور پہلی صفوں میں شامل ہو نے کی غرض سے لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے آگے بڑھنے لگا۔ چنانچہ خطبہ روک کر آپ ﷺ نے اس سے کہا: ’’بیٹھ جاؤ! تم نے لوگوں کو تکلیف پہنچائی ہے اور (آنے میں) تاخیر کردی ہے‘‘۔ [اس حدیث کو امام ابن ماجہ اور امام احمد رحمہما اللہ نے روایت کیا ہے۔]
یعنی تم نے لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر انھیں تکلیف پہنچائی ہے۔ ساتھ ہی تم نے آنے میں تاخیر کی ہے۔ اگر تم آگے (پہلی صفوں میں) بیٹھنے کی رغبت رکھتے ہو تو جلد آیا کرو اور دیر مت کیا کرو۔
* نمازیوں کے آگے سے نہ گزریں۔ کیوں کہ نبی ﷺ نے اس سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے: ’’اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کو پتہ چل جائے کہ اسے کتنا گناہ ہوگا، تو اس کا چالیس تک کھڑا رہ کر انتظار کرنا اس سے بہتر ہو گا کہ وہ اس کے سامنے سے گزرے‘‘۔ راویٔ حدیث ابو النضر کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں رہا کہ (بسر بن سعید) نے چالیس دن کہا یا مہینے یا سال۔ [اس حدیث کو امام بخاری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔] امام ابن حجر رحمه الله "فتح الباری" (1/585) میں فرماتے ہیں: آپﷺ کے فرمان: (لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ) کا مطلب یہ ہے کہ اگر مصلیوں کے سامنے سے گزرنے والے کو معلوم ہو جائے کہ مصلیوں کے سامنے سے گزرنے پر کتنی مقدار میں گناہ ہوگا، تو وہ حدیث میں مذکور مدت تک کھڑا رہ کر انتظار کرنا پسند کرے گا، تاکہ اس کو اس گناہ کا بوجھ نہ اٹھانا پڑے‘‘۔
* اے میرے زائر بھائی! آپ اپنے بدن اور کپڑوں کو پاک صاف رکھیں اور خوشبو کا استعمال کریں۔ کیوں کہ جس طرح انسانوں کو بدبو سے تکلیف ہوتی ہے، اسی فرشتوں کو بھی بدبو سے تکلیف ہوتی ہے۔
* مسجد اور اس کے صحن کی پاکی و صفائی کا خاص لحاظ رکھیں۔ مسجد کے اندر تھوک کر یا مسجد نبوی کے ٹائلس، کھمبوں یا اس کے صحنوں پر ناک کی رینٹ لگاکر اپنے نمازی بھائیوں کو تکلیف نہ پہنچائیں۔ یہ بات اچھی طرح جان لیں کہ مسجد ميں تھوکنا گناہ ہے۔ جیسا کہ آپﷺ کا ارشاد ہے: ’’مسجد ميں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے مٹی میں دبا دینا ہے‘‘۔ [اس حدیث کو امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ نے روایت کیا ہے۔]
* اپنے بچوں کو مسجد میں کھیلتے ہوئے اور شورشرابہ کرتے ہوئے نہ چھوڑیں۔ اس لیے کہ یہ مسجدِ رسول کے آداب کے منافی ہے۔
*بھیڑ بھاڑ والی جگہوں سے بچیں اور کشادہ جگہوں کا رخ کر لیں۔ یاد رکھیں کہ نماز کا اجر و ثواب مسجد کے کسی بھی حصے میں نماز ادا کرنے سے حاصل ہو جائے گا۔
*میرے زائر بھائی! نمازوں کی ادائیگی کے بعد کچھ دیر رکیں اور نماز کے بعد پڑھے جانے والے مسنون اذکار کا اہتمام کریں۔ فرض نماز کے فورا بعد سیدھے نفل پڑھنا شروع نہ کریں۔ بالخصوص بھیڑ بھاڑ کی جگہوں اور اوقات میں تو بالکل نہیں، تاکہ معذور افراد اور سلام کے بعد فورا نکلنے کا ارادہ رکھنے والے لوگوں کو موقع مل جائے اور انھیں نمازیوں کے سامنے سے گزرنے کے گناہ کا ارتکاب نہ کرنا پڑے۔
* جنت کی کیاری والے حصے میں خواتین کی نماز کے لیے لگائے گئے پردے کو اٹھاتے وقت سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور دوڑنے و دھکا دینے سے گریز کریں۔
* مسجدِ نبوی میں رکھے ہوئے مصحفوں کو باہر نہ لائيں۔ کیوں کہ وہ مسجد کے لیے وقف شدہ ہیں۔
* کتاب اللہ کا احترام کرتے ہوئے قرآنِ مجید کی الماریوں پر ٹیک نہ لگائیں، ان الماریوں کے پاس جوتے نہ رکھیں اور انھیں پھلانگ کر آگے بھی نہ بڑھیں۔
* جب آپ کسی جگہ پر اپنےجوتے رکھیں، تو اس جگہ کی پہچان رکھ لیں۔ جن خانوں میں جوتے رکھے جاتے ہیں، ان پر نمبر لکھے ہوتے ہیں۔ ان نمبروں کو یاد رکھیں، تاکہ جوتے لینے میں آسانی وسہولت ہو۔
*میرے زائر بھائی! مسجدِ نبوی اور دوسری مسجدیں عبادت کے لیے بنائی گئی ہیں۔ لہذا انھیں سونے، بھیک مانگنے یا گمشدہ چیزوں کا اعلان کرنے کی جگہ نہ بنائیں۔
* مسجدِ نبوی میں کئی مقامات پر پینے کے لیے زمزم کی ٹونٹیاں نصب کی گئی ہیں۔ ان سے وضو نہ کریں۔ اسی طرح مسجد کے فرش کوتکیہ کے طور پر یا اوڑھنےکے لیے استعمال نہ کریں۔
* مسجدِ نبوی کے صحن کو استراحت کی جگہ نہ بنائیں۔
* مسجدِ نبوی کے صحن وغیرہ میں سگریٹ اور تمباکو نوشی منع ہے۔ اگر کوئی سگریٹ نوشی میں مبتلا ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ رسولﷺ کی مسجد میں گریہ و زاری کرے اور اللہ سبحانہ وتعالی سے اسے چھوڑنے کی توفیق طلب کرے۔ یہ بات اچھی طرح ذہن نشیں کر لیں کہ اہلِ علم نے سگریٹ نوشی اور اس کی خرید و فروخت کو حرام کہا ہے اور سگریٹ نوشی کرنے والا گنہ گار ہے۔ میرے زائر بھائی! آپ نیکیوں میں اضافے کے لیے آئے ہیں۔ لہذا برے کاموں سے بچیں۔
* مسجدِ نبوی کے تمام دروازوں کے نام رکھے گئے ہیں اور ہر دروازے پر نمبر لکھ دیے گئے ہیں۔ جس دروازے سے آپ داخل ہو رہے ہوں، اس کا نام اور نمبر یاد رکھیں، تاکہ مسجد سے نکلنے میں آسانی ہو۔
* جب آپ کو دروازوں پر بھیڑ نظر آئے، تو کچھ دیر مسجد ہی میں انتظار کریں، تاکہ بھیڑ کم ہو جائے۔
* مسجد سے نکلتے وقت اپنا بایاں پیر آگے بڑھاتے ہوئے یہ دعا پڑھنا نہ بھولیں: ’’اللہ کے نام کے ساتھ۔ اے اللہ! درود وسلام نازل فرما رسولﷺ پر۔ اے اللہ! میرے گناہوں کو بخش دے اور میرے لیے اپنے فضل کے دروازے کھول دے‘‘۔ [اس حدیث کو امام ترمذی، امام ابن ماجہ اور امام احمد رحمہم اللہ أجمعین نے روایت کیا ہے اور صحیح مسلم میں اس کی ایک شاہد بھی موجود ہے۔]
*ہم اس بات کی نصیحت کرتے ہیں کہ جہاں آپ کا قیام ہے، اس قیام گاہ کا ایڈریس کارڈ ضرور رکھ لیں، تاکہ جگہ کی شناخت نہ ہو پانے کی صورت میں کام آ سکے۔
* مسجدِ نبوی میں اگر کوئی ایسا مریض ہو، جسے ایمبولینس کی ضرورت ہو، تو فورا مسجد کے دروازوں پر موجود نگراں کو خبر کر دیں یا کسی بھی ایسے خدمت گزار کو بتا دیں، جو وائرلیس فون لیے ہوئے گھومتے ہیں۔
* مسجدِ نبوی کا بالائی حصہ سال بھر صلاۃ جمعہ کے لیے اور حج کے موسم میں پانچوں نمازوں کے لیے کھلا رہتا ہے۔ اگر آپ مسجد کے نچلے حصے میں بھیڑ بھاڑ محسوس کریں، تو بالائی حصے میں چلے جائیں۔ وہاں ان شاء اللہ جگہ مل جائے گی۔
* مسجدِ نبوی میں معذور اور بوڑھے افراد کے لیے وہیل چیئر کا انتظام ہے، جو ضرورت مندوں کو، مدینہ میں قیام کی مدت تک کے لیے، ان کی رہائش گاہوں اور سواریوں سے مسجد نبوی تک پہنچنے کے واسطے، مسجد نبوی کے مغربی جہت میں واقع دروازہ نمبر 8 کے پاس ’’ادارۃ الأبواب بالمسجد النبوي الشریف‘‘ میں فراہم کیے جاتے ہیں۔
* اگر آپ مسجد کے اگلے صحنوں میں نماز پڑھ رہے ہیں، تو بھیڑ بھاڑ کے اوقات میں امام سے آگے نہ بڑھیں، تاکہ فقہی اختلاف سے بچا جا سکے۔
* مسجدِ نبوی میں متعین نگراں حضرات کی رہنمائیوں سے فائدہ اٹھائیں۔ کیوں کہ انھیں زائرین کی خدمت اور ان کے لیے آسانیاں فراہم کرنے کے مقصد سے رکھا گیا ہے۔
* گریہ و زاری اور کثرت سے دعا کیا کریں۔ اسی طرح اللہ سے سچی توبہ کا پختہ عہد کریں۔ ساتھ ہی اس بات کو اچھی طرح ذہن نشیں کر لیں کہ اللہ بلند و برتر کے ساتھ حقیقی ادب اللہ سبحانہ و تعالی سے محبت، اس کی تعظیم اوراس کے لیے دین کو خالص کرنا ہے۔ جب کہ نبی ﷺ کے ساتھ حقیقی ادب آپ کے سنت کی پیروی، آپ کے بتائے ہوئے طریقے پر چلنا، آپ کے بعد آپ کے صحابہ کی پیروی کرنا اور آپ کی وفات کے بعد آپ کے ساتھ ادب کا معاملہ کرنا ہے۔
میرے زائر بھائی! اخیر میں میں آپ کو ہمارے نبی وسردار محمدﷺ پر کثرت سے درود و سلام بھیجنے کی وصیت کرتا ہوں۔ چنانجہ عمرو بن العاص رضي الله عنه سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود پڑھتا ہے، اس کے بدلے اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے‘‘۔ [اس حدیث کو امام مسلم وغیرہ نے روایت کیا ہے۔]
* اسی طرح کثرت سے ماثور اذکار کا اہتمام کریں، اللہ سے گریہ زاری کریں اور اسی سے لو لگائیں۔ کیوں کہ آپ ایک ایسی جگہ پر آئے ہوئے ہیں، جہاں دعا قبول ہونے کی امید ہوتی ہے۔ ساتھ ہی اپنی دعاؤں میں اپنے والدین، اہل و عیال اور دنیا کے مسلمانوں کو بھی نہ بھولیں۔
درود و سلام ہو ہمارے سردار محمد ﷺ اور آپ کے جملہ آل و اصحاب پر۔
Related books
All books
مسجدِ نبوی کے فضائل وآداب اور نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے دونوں صحابہ رضی اللہ عنہما کی قبروں کی زیارت کے احکام52 زبانیںمسجدِ نبوی کے فضائل وآداب اور نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے دونوں صحابہ رضی اللہ عنہما کی قبروں کی زیارت کے احکام
یہ کتاب مسجدِ نبوی کے فضائل اور اس کی زیارت کے آداب بیان کرتی ہے، نبی ﷺ کی قبرِ مبارک اور آپ کے صاحبین رضی اللہ عنہما کی قبروں کی زیارت کے آداب پیش کرتی ہے، نیز زیارت کے دوران وقار وطہارت کو ملحوظ رکھنے اور ہر قسم کی بدعات سے دور رہنے کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔
حج و عمرہ اور زیارت کے بیش تر مسائل کی تحقیق و وضاحت کتاب وسنت کی روشنی میں46 زبانیںحج و عمرہ اور زیارت کے بیش تر مسائل کی تحقیق و وضاحت کتاب وسنت کی روشنی میں
یہ کتاب، کتاب وسنت کی روشنی میں حج، عمرہ اور زیارت کے احکام کی شرح پیش کرتی ہے، واجباتِ حج و عمرہ، محظوراتِ احرام اور مسجدِ نبوی کی زیارت کے آداب کو بیان کرتی ہے، نیز ان عبادات میں پائی جانے والی بدعات سے خبردار کرتی ہے۔
(کتاب: نماز کی طرف چل کر جانے کے آداب)11 زبانیں(کتاب: نماز کی طرف چل کر جانے کے آداب)
تالیف: شیخ الاسلام، فريد عصر, امام ومجدد، شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمه الله تعالىٰ سعودی لائبریری میں موجود قلمی نسخہ نمبر 269 /86 اور دیگر مطبوعہ نسخوں سے تقابل وتصحیح کاکام شیخ عبد الكريم بن محمد اللاحم، شیخ ناصر بن عبد الله الطريم اور شیخ سعود بن محمد البشر نے انجام دیا ہے . بسم اللہ الرّحمن الرّحیم (باب: نماز کی طرف جانے کے آداب) نماز کے لیے باوضو ہوکر خشوع کے ساتھ نکلنا مسنون ہے۔ کیوں کہ نبی صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے : "جب تم میں سے کوئی اچھی طرح وضو کرکے مسجد کے ارادے سے نکلے، تو وہ اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل نہ کرے، کیونکہ وہ حالت نماز میں ہے۔" جب وہ گھر سے نکلے-اگرچہ نماز…
اسلام، اللہ کے تمام رسولوں کا دین ہے85 زبانیںاسلام، اللہ کے تمام رسولوں کا دین ہے
اسلام کا مطلب ہے کہ اللہ جو پوری کائنات کا خالق اور مدبر ہے اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنا، محبت اور تعظیم کے ساتھ اس کی تابعداری کرنا۔ اسلام کی بنیاد ہی اس بات پر ہے کہ اللہ پر ایمان لایا جائے، یہ تسلیم کیا جائے کہ وہی تن تنہا خالق ہے اور اس کے سوا سب کے سب مخلوق ہیں، وہی تمام تر عبادتوں کا تنہا مستحق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کے بہت سے خوب صورت نام اور بلند وبالا صفات ہیں، اس کے لیے کمالِ مطلق ہے جس میں کوئی کمی نہیں، نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ کسی نے اس کو جنا، نہ کوئی اس کا ہم سر ہے اور نہ کوئی اس کا نظیر، وہ اپنی کسی مخلوق میں حلول اور سرایت نہیں کرتا۔…