Skip to content
سورتوں کی فہرست /

التغَابُن

التغَابُن is chapter ٦٤ of the Quran and has ١٨ verses. This page presents it in full in the Uthmani script, with a verse-by-verse translation of its meaning.

18 آیات سورت نمبر ٦٤
آیت پر جائیں
الترجمة الأردية - محمد جوناكرهي
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۖ لَهُ ٱلۡمُلۡكُ وَلَهُ ٱلۡحَمۡدُۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٌ

(تمام چیزیں) جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں اسی کی سلطنت ہے اور اسی کی تعریف ہے، اور وه ہر چیز پر قادر ہے.

Explanation & meanings · ٢
  1. یعنی آسمان وزمین کی ہر مخلوق اللہ تعالیٰ کی ہر نقص وعیب سے تنزیہ وتقدیس بیان کرتی ہے۔ زبان حال سے بھی اور زبان مقال سے بھی۔ جیسا کہ پہلے گزرا۔
  2. یعنی یہ دونوں خوبیاں بھی اسی کے ساتھ خاص ہیں۔ اگر کسی کو کوئی اختیار حاصل ہے تو وہ اسی کا عطا کردہ ہے جو عارضی ہے، کسی کے پاس کچھ حسن وکمال ہے تو اسی مبدا فیض کی کرم گستری کا نتیجہ ہے، اس لیے اصل تعریف کا مستحق بھی صرف وہی ہے۔

هُوَ ٱلَّذِي خَلَقَكُمۡ فَمِنكُمۡ كَافِرٞ وَمِنكُم مُّؤۡمِنٞۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٌ

اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے سو تم میں سے بعضے تو کافر ہیں اور بعض ایمان والے ہیں، اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ خوب دیکھ رہا ہے.

Explanation & meanings · ١
  1. یعنی انسان کے لیے خیر وشر، نیکی اور بدی اور کفر وایمان کے راستوں کی وضاحت کے بعد اللہ نے انسان کو ارادہ واختیار کی جو آزادی دی ہے۔ اس کی رو سے کسی نے کفر کا اور کسی نے ایمان کا راستہ اپنایا ہے۔ اس نے کسی پر جبر نہیں کیا۔ اگر وہ جبر کرتا تو کوئی شخص بھی کفر ومعصیت کا راستہ اختیار کرنے پر قادر ہی نہ ہوتا۔ لیکن اس طرح انسان کی آزمائش ممکن نہیں تھی، جب کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت انسان کو آزمانا تھا۔ الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلا (سورة الملك:2) بنا بریں جس طرح کافر کا خالق اللہ ہے، کفر کا خالق بھی اللہ ہے لیکن یہ کفر اس کافر کا عمل وکسب ہے جس نے اسے اپنے ارادے سے اختیار کیا ہے۔ اسی طرح مومن اور ایمان کا خالق بھی اللہ ہے لیکن ایمان اس مومن کا کسب وعمل ہے جس نے اسے اختیار کیا ہے اور اس کسب وعمل پر دونوں کو ان کے عملوں کے مطابق جزا ملے گی، کیونکہ وہ سب کے عمل دیکھ رہا ہے۔

خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ بِٱلۡحَقِّ وَصَوَّرَكُمۡ فَأَحۡسَنَ صُوَرَكُمۡۖ وَإِلَيۡهِ ٱلۡمَصِيرُ

اسی نے آسمانوں کو اور زمین کو عدل وحکمت سے پیدا کیا ، اسی نے تمہاری صورتیں بنائیں اور بہت اچھی بنائیں اور اسی کی طرف لوٹنا ہے.

Explanation & meanings · ٣
  1. اور وہ عدل وحکمت یہی ہے کہ محسن کو اس کے احسان کی اور بدکار کو اس کی بدی کی جزا دے، چنانچہ وہ اس عدل کا مکمل اہتمام قیامت والے دن فرمائے گا۔
  2. تمہاری شکل وصورت، قد وقامت اور خد وخال نہایت خوب صورت بنائے، جس سے اللہ کی دوسری مخلوق محروم ہے۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا، «يَا أَيُّهَا الإِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ ، الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ، فِي أَيِّ صُورَةٍ مَا شَاءَ رَكَّبَكَ» (سورة الانفطار:6- 8) «وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ» (سورۂ مومن: 64)۔
  3. کسی اور کی طرف نہیں، کہ اللہ کے محاسبے اور مواخذے سے بچاؤ ہو جائے۔

يَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَيَعۡلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعۡلِنُونَۚ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ

وه آسمان وزمین کی ہر ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور جو کچھ تم چھپاؤ اور جو ﻇاہر کرو وه (سب کو) جانتا ہے۔ اللہ تو سینوں کی باتوں تک کو جاننے واﻻ ہے.

Explanation & meanings · ١
  1. یعنی اس کا علم کائنات ارضی وسماوی سب پر محیط ہے بلکہ تمہارے سینوں کے رازوں تک سے وہ واقف ہے۔ اس سے قبل جو وعدے اور وعیدیں بیان ہوئی ہیں، یہ ان کی تاکید ہے۔

أَلَمۡ يَأۡتِكُمۡ نَبَؤُاْ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قَبۡلُ فَذَاقُواْ وَبَالَ أَمۡرِهِمۡ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ

کیا تمہارے پاس اس سے پہلے کے کافروں کی خبر نہیں پہنچی؟ جنہوں نے اپنے اعمال کا وبال چکھ لیا اور جن کے لیے دردناک عذاب ہے.

Explanation & meanings · ٢
  1. یہ اہل مکہ سے بالخصوص اور کفار عرب سے بالعموم خطاب ہے۔ اور ماقبل کافروں سے مراد قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود وغیرہ ہیں۔ جنہیں ان کے کفر ومعصیت کی وجہ سے دنیا میں عذاب سے دو چار کرکے تباہ وبرباد کر دیا گیا۔
  2. یعنی دنیوی عذاب کے علاوہ آخرت میں۔