Skip to content

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم خوش بو کو ٹھکراتے نہیں تھے۔

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم خوش بو کو ٹھکراتے نہیں تھے۔

أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرُدُّ الطِّيبَ.

اسے بخاری نے روایت کیا ہے
حديث صحيح
شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی عادت تھی کہ آپ خوش بو ٹھکراتے نہیں تھے۔ کوئی خوش بو ہدیہ کرے، تو قبول کر لیا کرتے تھے۔ کیوں کہ ایک تو اسے ساتھ رکھنا آسان ہوتا ہے اور دوسرا اس کی بو بھی اچھی ہوتی ہے۔

حدیث کے بعض فوائد

خوش بو کا ہدیہ قبول کرنا مستحب ہے۔ کیوں کہ اسے ساتھ رکھنا مشکل نہیں ہے اور اسے قبول کرنے سے کسی کے احسان تلے دبنا نہيں پڑتا۔

یہاں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے حسن اخلاق کا مظاہرہ ہو رہا ہے کہ آپ خوش بو ٹھکراتے نہیں تھے اور ہدیہ کرنے والے کا ہدیہ قبول کر لیتے تھے۔

خوش بو استعمال کرنے کی ترغیب۔

حوالہ جات
مزید (7)

صحیح بخاری (3/ 157) (2582).

شرح رياض الصالحين.

لابن عثيمين (6/ 560).

منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري.

لحمزة قاسم (4/ 9).

نزهة المتقين شرح رياض الصالحين.

لمصطفى الخن وغيره (2/ 1213).